ہمیشہ کی نسبت کچھ جلدی جاگ کر میں تڑکے ہی اخبار پھینکنے والے لڑکے کے انتظار میں بیٹھا تھا۔۔۔
‘تُکارام’ کل ہی ہمارے نئے ‘پربھات’ تھئیٹر، پُونا میں ریلیز ہو چکی تھی۔ اس دن کمپنی میں کچھ غیر ملکی مہمان آنے والے تھے۔ اس لیے ‘تُکارام’ کے پہلے شو میں مَیں تھئیٹر جا نہیں پایا تھا۔ مہمانوں کے چلے جانے تک تو پہلا شو ختم ہو چکا تھا۔ میں اپنے آفس سے نیچے آ گیا۔
سامنے والی بینچ پر داملے جی اور فتے لال مایوس ہو کر بیٹھے تھے۔ میرا کلیجہ کانپ اٹھا۔ جلدی جلدی ان کے پاس پہنچ کر میں نے پوچھا، “کیا حال ہیں ‘تُکارام’ کے؟”
“کچھ مت پوچھیے!” فتے لال جی نے کہا۔
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہی کہ ‘تُکارام’ کے لیے لوگوں میں قطعی کوئی جوش نظر نہیں آرہا ہے۔ ہماری پربھات کی نئی فلم کے پہلے شو کے لیے آج تک جو بے شمار بھیڑ اُمڈ آیا کرتی تھی، وہ اس سمے نہ جانےکہاں غائب ہو گئی تھی۔ تھئیٹر آدھے سے زیادہ خالی پڑا تھا۔”
“کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہونا نہیں چاہیئے۔ آج رات کا شو میں خود لوگوں میں بیٹھ کر دیکھتا ہوں۔ آپ بھی چلیے ساتھ میں۔”
رات کے تیسرے شو کے لیے ہم لوگ تھئیٹر پر پہنچے۔ تھئیٹر میں بہت ہی کم لوگ تھے۔ فلم شروع ہو گئی۔ جو اِکّا دُکّا ناظرین بیٹھے تھے، وہ میری توقع کے مطابق جگہ جگہ پر فلم کے سبھی حصوں کی برابر داد دے رہے تھے۔ چونکہ ناظرین کی تعداد ہی بہت کم تھی، ناظرین کی یہ داد بھی کافی کمزور لگتی تھی، لیکن تھی ضرور۔ میرا من اُتھل پُتھل ہونے لگا۔
پچھلے مہینے لوناؤلا میں بابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ ہوئی وہ بات یاد آئی۔
‘تُکارام’ فلم نہ چلی تو ڈائریکٹ کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا عہد میں نے کیا تھا۔ میرا وہ عہد سن کر بابوراؤ پینڈھارکر کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ میرے ضدی سوبھاؤ سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ مجھے سمجھانے بُجھانے کی انہوں نے کافی کوشش کی، “اجی شانتارام بابو، ایک آدھ فلم کبھی کبھار نہیں چلتی۔ لیکن اس کے لیے اپنی ساری ڈائریکشن ہی داؤ پر لگانے کا کھیل بے کار ہی کیوں کھیل رہے ہیں آپ؟”
اپنے غصے پر قابو پاتے ہوے میں نے کہا، “بابوراؤ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کبھی جُوا نہیں کھیلتا! میں ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں ہوں، جو ہاتھ کے پانسے زمین پر پھینک کر اپنے لیے مناسب دان کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ صرف شرط لگانے یا مقابلے میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے جذبہ سے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں۔ اس فلم کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے اور اس کے باوجود اگر یہ نہیں چلتی، تو اس کا سیدھا مطلب تو یہی ہونا چاہیے کہ اس موضوع پر اب مجھے کوئی گیان ویان نہیں رہا ہے۔ تب تو یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ فلم میکنگ اور ڈائریکشن کرنا میرے بس کے باہر کی بات ہے!”
“آپ کی ان باتوں سے میں قطعی متفق نہیں ہوں۔ آپ پہلے اپنا وہ خوفناک عہد واپس لیجیے بھلا!” بابوراؤ نے کافی مِنت بھری التجا کی۔
“نہیں، یہ ایک دم ناممکن ہے۔ میں نے محض عہد برائے عہد نہیں کیا ہے، اس کے پیچھے خیالات کی ایک یقینی سمت ہے۔” میں انہیں وِچاروں میں کھویا تھا کہ ناظرین نے دل سے داد دی۔ سامنے پردے پر تُکارام اور جِجاؤ کا وہ برگد کے پیڑ کی چھایا والا سین آیا تھا۔ جو چند ناظرین اس سمے فلم دیکھ رہے تھے، انہیں وہ سین بہت پسند آیا۔ اس کے بعد تو فلم میں زیادہ سے زیادہ رنگ بھرتا گیا۔ ناظرین اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے گئے۔
فلم ختم ہوئی۔ میں لمبے لمبے ڈاگ بھرتا ہوا اپنی کار میں جا بیٹھا۔ داملے جی اور فتے لال بھی ساتھ ہو لیے۔ میں نے انہیں بتایا، “پکچر بہت اچھی چلنے والی ہے۔ لوگ چمتکاروں سے بھرپور سنت فلموں سے اوب گئے ہیں۔ شاید یہی سوچ کر کہ ‘تُکارام’ بھی اسی کیٹیگری کی ایک فلم ہو گی، انہوں نے شروع میں بھیڑ نہیں کی۔ ایک بار انہیں معلوم ہو گیا کہ ‘تُکارام’ کچھ نرالی ہی سنت فلم ہے، آپ دیکھیں گے لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔”
بولتے بولتے میں چپ ہو گیا۔ من میں سوال اٹھا تھا لوگوں کو کس طرح متوجہ کیا جائے؟ فلم کا گراف کم ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا!
ہم لوگ گھر پہنچے، میں نے ڈرائیور کو ہدایت دی کہ ہماری فلموں کے پرچارک اور ایڈورٹائزنگ کا کام دیکھنے والے داتار جی کو فوراً لے آؤ۔
بیچارے داتار صاحب، اس تذبذب میں کہ اتنی رات بیتے انہیں کیوں بلایا گیا ہے، آنکھیں ملتے ملتے آ پہنچے۔ انہوں نے گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ میں نے ان سے کہا، “داتار، کل سویرے کے ‘گیان پرکاش’ میں پہلے صفحے پر اشتہار چھپ کر آنا چاہیئے اور اس اشتہار پر بولڈ عنوان چاہیئے: ‘تُکارام اور جِجاؤ کا برگد کے نیچے ‘لَوسین’ سمجھے؟”
“کیا؟” داتار حیرت کے کارن لگ بھگ چیخ پڑے۔ ان کی نیند رفو چکر ہو گئی۔ بیچارے مجھے ہی سمجھانے لگے، “لیکن شانتارام بابو، اس طرح کے اشتہار میں ایک بہت بڑا خطرہ بھی ہے۔”
“وہ خطرہ اٹھانے کے لیے میں تیار ہوں! آپ فوراً ہی اشتہار چھپوانے کا انتظام کریں!”
داتار ‘گیان پرکاش’ نامی مقبول روزنامے کے منتظم تھے اور اسی لیے میں یہ کام کرانے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہا تھا۔
میں دروازے پر کھڑا تھا۔ سامنے سے اخبار ڈالنے والا چھوکرا آتا دکھائی دیا۔ میں نے اس کے ہاتھوں سے ‘گیان پرکاش’ کا تازہ شمارہ لگ بھگ چھین ہی لیا۔ پہلے ہی صفحے پر اشتہار تُکارام جِجاؤ کے لَو سین والے عنوان کے ساتھ چھپا تھا۔ یہ سوچ کر کہ پُونا کے مذہب پرست لوگوں میں اس اشتہار کےکارن کیا ہی سنسنی مچ جائےگی، میں من ہی من خوش ہو رہا تھا۔
شام کے چھ بجے میرے آفس میں فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون پر فتے لال جی بات کر رہے تھے۔ بڑے جوش سے کہہ رہے تھے، “تُکارام کا دوپہر والا شو کل کی نسبت کافی اچھا رہا۔ ابھی چھ بجے والے شو میں تو اس سے بھی زیادہ لوگ آئے ہیں۔”
میں نے پُرجوش ہو کر پوچھا، “تُکارام دیکھ کر لوٹتے سمے لوگ کیا کیا باتیں کرتے ہیں؟”
“فلم کے بارے میں تو لوگ اچھا بول رہے ہیں۔ آپ کے اس اشتہار نے کافی مدد کر دی ہے!”
“ہیلو، لوگ اس اشتہار کے بارے میں کیا بولتے ہیں؟” میں نے پُرامیدی سے پوچھا۔
“کئی لوگ تو اشتہار میں ‘لَوسین’ لفظ پر اعتراض اٹھا رہے تھے۔ لیکن اب کھیل ختم ہونے پر لوگ اس اشتہار کی سوجھ بوجھ کے لیے داتار کی تعریف کر رہے ہیں!”
تو اس کا مطلب یہ رہا کہ میرا تیر ٹھیک نشانے پر جا لگا تھا!
روز بہ روز’ تُکارام’ دیکھنے کے لیے آنے والوں کی بھیڑ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
پُونا میں ‘تُکارام’ کو ریلیز ہوے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ بمبئی کے ‘سینٹرل’ سینما کے مالک کے۔کے۔ مودی اور عبدل علی مجھ سے ملنے پُونا میں میرے گھر پر آ پہنچے۔ چُھوٹتے ہی انہوں نے مجھ سے پوچھا، “شانتارام، ‘تُکارام’ کے لیے سینٹرل سینما میں کتنے ہفتے رکھ چھوڑوں؟”
“آپ ایسا سوال کیوں کر رہے ہیں؟”
وہ گول مول جواب دینے لگے، “نہیں نہیں، ویسی تو کوئی بات نہیں ہے، لیکن بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں بتایا کہ پہلے آپ سے پوچھ لینے کے بعد ہی فائنل کیا جائے۔”
“یعنی بابوراؤ پینڈھارکر کو بھی ‘تُکارام’ کی کامیابی پر شُبہ ہے۔ تو ویسا صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟ میں آپ سے کہتا ہوں، ‘پربھات’ کی کسی بھی کامیاب فلم کے لیے آپ جتنے ہفتے رکھتے ہیں، اتنے ہی ہفتے اس فلم کے لیے بھی بِنا کسی اگر مگر کے آپ رکھ چھوڑیں۔” یہ بات میں نے تھوڑا ڈپٹ کر سختی سے کہی۔
دونوں انہی قدم واپس لوٹ گئے۔ آخر بات میری ہی سچ نکلی۔ بمبئی، پُونا میں ‘تُکارام’ کو چلے پچیس ہفتے پورے ہو رہے تھے۔ تب ‘تُکارام’ کے سلور جوبلی فیسٹول اشتہار میں بطور ڈائریکٹر کے داملے جی اور فتے لال جی کے فوٹو چھپوانے کا انتظام میں نے کرا دیا۔ میری پکی رائےتھی کہ فلم کے اشتہار میں ڈائریکٹر کا صرف نام اور کلاکاروں کے فوٹو ہونے چاہیئں۔ اسی لیے میری ڈائریکٹ کی گئی کسی بھی فلم کے اشتہار میں اپنی فوٹو بطور ڈائریکٹر کے دینا میں برابر ٹالتا آیا تھا۔ لیکن اس سمے میں نے اپنی رائےکو چُھپایا۔ کارن یہ تھا کہ داملے جی، فتے لال جی کو ‘تُکارام’ بنانے کی inspiration میں نے دی تھی۔ اس میں میرا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ان کے ناموں کا بھی اچھا پرچار ہو اور میرے لیے ان کے دل میں کہیں حسد یا جلن ہو، تو دور ہو جائے۔
بمبئی کے سینٹرل سینما میں ‘تُکارام’ فلم نے آج تک کی ریلیز ہوئی سبھی فلموں کے ریکارڈ توڑ دیے۔ سینٹرل سینما میں تو وہ پورے ستاون ہفتے تک چلتی رہی۔
‘تُکارام’ کی اس بے مثال کامیابی کی خوشی داملے جی، فتے لال جی کی نسبت مجھے ہی زیادہ ہوئی۔ ‘تُکارام’ کے پچاسویں ہفتے کے سمے بابوراؤ پینڈھارکر میرے یہاں آئے اور خود کہنے لگے، “آپ نے شرط جیت لی۔ کمال کاحوصلہ اور خود اعتمادی ہے آپ میں۔ بھئی مان گئے۔ آپ کومبارک باد دوں تو کیسے؟ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔”
لگ بھگ اسی سمے ‘امر جیوتی’ فلم وینس میں انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے لیے بھیجی گئی تھی، اس طرح کی انٹرنیشل فلم ریلیز میں بھیجی گئی وہ پہلی بھارتی فلم تھی۔ وہاں اسے عزت ملی۔ Appreciation letter بھی ملا۔ بھارت میں بھی’ امر جیوتی’ کو ایک سے زیادہ مشہور اداروں کی طرف سے گولڈ میڈل دیے گئے۔
اس کے بعد کے برس میں ‘تُکارام’ کو بھی وینس فلم فیسٹول کے لیے بھیجا گیا۔ اس کو بھی ‘آنریبل مینشن’ کا رتبہ حاصل ہوا۔ اس کا شمار معزز فلموں میں کیا گیا۔
اس بیچ ہم نے ایک اور فلم بنائی ‘وہاں’۔ ویدک زمانے میں آریاؤں اور غیرآریاؤں کےبیچ جدوجہد پر وہ مبنی تھی۔ آریہ لوگ بھارت میں فاتح ویروں کی طرح آئے اور بھارت کے مقامی غیر آریوں کے ساتھ انہوں نے غلاموں جیسا برتاؤ کیا۔ اُس وجودیت کی جدوجہد پر مکمل کہانی تخلیق کی گئی تھی۔ باصلاحیت فتے لال جی کو نیا موضوع مل گیا۔ انہوں نے اس زمانے کے معقول کاسٹیوم، کپڑے لتے وغیرہ بنوا لیے۔ مین کریکٹر کے لیے ‘پربھات’ میں نووارد اداکارا الہاس کو چُنا گیا۔ الہاس بہت ہی سڈول اور پُرکشش شخصیت تھا۔ڈائریکٹر تھے، کے۔ نارائن کالے۔
اصل میں کے۔ نارائن کالے کا فرق ایک نقاد کا تھا۔ وہ لیکھک اور اداکار بھی تھے۔ لیکن ان کے اندر کا نقاد فلم میں بھی انہیں ہربات میں بال کی کھال نکالنے میں مدد کرتا تھا۔ ایک دن الہاس کے کسی سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ اوپر کی گیلری میں کھڑے ہو کر میں بھی شوٹنگ دیکھ رہا تھا۔ کے۔ نارائن کالے الہاس سے کہہ رہے تھے، “دیکھو الہاس، اس سین میں تمہیں پچاس فیصد دکھ اور پچاس فیصد غصےکی اداکاری کرنی ہے، سمجھے؟”
الہاس بالکل ہی نیا تھا۔ اس نے سڑی بولی میں کالے جی سے کہہ دیا،” آپ کا یہ پچاس فیصد کا حساب اپنی تو سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ آخر مجھ سے چاہتے کیا ہیں؟ انّا صاحب بتاتے ہیں، اسی ڈھنگ سے بتائیے۔”
کالے ویسے تُنک مزاج ہی آدمی تھے۔ وہ ماتھا ٹھوکتے ہوے پاس رکھی ایک کرسی پر دھم سے بیٹھ گئے۔ الہاس بھی بیچارہ چکرا گیا۔ کام رُک گیا۔ میں فوراً نیچے آیا۔ الہاس کو سارا سین ٹھیک سے سمجھا کر بتایا، اسے اچھے موڈ میں لایا۔ کالے جی بھی تھوڑے موڈ میں آ گئے۔ شاٹ پورا ہوا۔ وہ ٹھیک ویسے ہی آیا تھا جیسا کہ کالے جی چاہ رہے تھے۔
شام کو میں نے کالے جی کو اپنے آفس میں بلوایا اور ہنستے ہنستے کہا، “کالے جی، آپ کی وہ پرسینٹیج والی ڈائریکشن مہربانی کر کے بند کیجئے بھئی۔ آدمی کے احساسات کی بھی کیا کبھی پرسینٹیج ہوتی ہے؟ میرے خیال سے تو آپ کلاکاروں کو سین میں موجود احساسات کا معنی سمجھا کر بتا دیں اور باقی سب کچھ کلاکاروں پر چھوڑ دیں، تو اچھا رہے گا۔ کبھی کبھار ضرورت پڑ جائے تو آپ انہیں خود اداکاری کر کے دکھا دیں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنے کلاکاروں سے جیسی چاہیں اداکاری کروا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی تو انہیں جھوٹی ترغیب دیجیے۔ آپ توجانتے ہیں میں کتنا غصیل آدمی ہوں، لیکن آپ نے مجھے سیٹ پر کبھی کسی پر غصہ کرتے دیکھا ہے؟”
“انّا، یہ سب تار پر چلنے کی کسرت کرنا آپ ہی جانتے ہیں۔”
“اجی، آپ بھی کر لیں گے۔ کوشش کر کے تو دیکھیے نا؟”
“ٹھیک ہے، دیکھتا ہوں کوشش کر کے!” کالے جی نے ہنستے ہنستےکہا۔
وہ فلم تھی تو اچھی، لیکن ناظرین کو وہ خاص پسند نہیں آئی۔ کالے جی نے اس فلم کو جو ٹریٹمینٹ دیا وہ کچھ ذہین تھا۔ پھر بھی اس فلم نے ہمیں پیسہ کافی دیا۔
فلمی دنیا میں ہمیں لگاتار کامیابیاں ملتی گئیں۔ نتیجہ یہ رہا کہ اس دنیا کے کچھ ذلیل دماغ والے لوگ ہماری فلم کے بارے میں کہنے لگے کہ، “پربھات کی فلم تو اس میں استعمال میں لائےجانے والے عالیشان سین کے کارن ہی چلتی ہیں، ویسے باقی ان میں ہوتا ہی کیا ہے!” لہذا اس بار میں نے اس چنوتی کو قبول کرنا طے کیا ۔ من ہی من ٹھان لیا کہ آئندہ فلم کا موضوع ایسا چنوں گا کہ اس میں عالیشان سین، پُرکشش کاسٹیوم وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی!
نئی کہانی کے بارے میں سوچنے لگا، کئی دنوں سے من میں محفوظ لیکن پورا نہ ہو پایا ایک سپنا تھا کہ ایک خالصتاً سماجی فلم بناؤں۔ اسے اب پورا کرنےکا فیصلہ کیا۔ میری شوقیہ خواہش تھی کہ کہانی ایسی ہو جو مڈل کلاس لوگوں کےجیون کو چُھو لے اور اس میں کسی ایسی مشکل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے جو دیکھنے والے ہر شخص کو اس کی اپنی مشکل معلوم ہو۔ کے۔ نارائن کالے نے سجھاؤ دیا کہ نارائن ہری آپٹے کے ناول ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) پر آئندہ فلم بنائی جائے۔ سن کر میں ایک دم اُچھل پڑا۔ اس ناول کی کہانی مجھ پر برسوں سے حاوی تھی۔
میں نے اس ناول کے لیکھک کو پُونا بلا لیا۔ ناول کے کاپی رائٹس کے بارے میں لین دین کا سودا پورا کیا۔ سکرین پلے میں ناول کی کن کن باتوں کو میں چھوڑنے والا ہوں، اس کی انہیں معلومات دیں۔ کسی زمانے میں سماج میں کھلبلی مچا دینے والے اپنے اس ناول پر اب فلم بننےجارہی ہے، اس کی خوشی میں ہی وہ اپنے گاؤں لوٹ گئے۔ اس ناول پر ایک تجرباتی فلم بنانا میں نے طے کیا۔ سکرین پلےکو زیادہ سے زیادہ پُراثر کیسے بنایا جائے، اسی وِچار میں مَیں تھا کہ ایک غیرمتوقع خبر کےکارن ہم سبھی ہکے بکے رہ گئے۔ کیشوراؤ دھایبر نے ہم سب کے نام ایک نوٹس بھیجا تھا کہ انہیں ‘پربھات’ کی حصہ داری سے آزاد کیا جائے۔
کیشوراؤ دھایبر ویسے تھے تو بہت ہی محنتی۔ لیکن خود مختار روپ سے فلم بنانا ان کی اوقات کے باہر کی بات تھی۔ وہ تو میری درخواست تھی کہ وہ پربھات کےحصے داربنیں۔ لہذاحصہ داری چھوڑنے کے ان کے نوٹس کو پڑھ کر مجھے بہت ہی دکھ ہوا۔ کمپنی چھوڑ کر باہر جانے میں انہی کا نقصان کتنا ہے، یہ میں نے انہیں کافی واضح روپ سے سمجھایا تھا۔ لیکن وہ مانتے ہی نہیں تھے۔ پھر یہ بات بھی میں نے ان کے دھیان میں لائی کہ پارٹنرشپ لیٹر کے اصولوں کے مطابق کوئی حصہ دار ‘پربھات’ چھوڑ کر جا نہیں سکتا۔ لیکن اپنی ضد پر اڑے تھے۔ آخر مجبور ہو کر انہیں کانٹریکٹ سے آزاد کرنا ہی پڑا۔
لگ بھگ اسی سمے ہمارے ہمدرد نارائن ہری آپٹے کا مجھے ایک پتر ملا۔ پتر اس طرح تھا:
تاریخ: 21-1-1937
مسٹر شانتارام بابو کی خدمت میں، پیار بھرا نمسکار۔ اِدھر سب کچھ ٹھیک ہے۔ اُدھر آپ بھی ٹھیک ہوں گے۔ ایسی خواہش کرتا ہوں۔
کسی اہم وجہ سے یہ خط نہیں لکھ رہا ہوں۔ لیکن لکھے بِنا رہا نہیں جا رہا تھا، اس لیے لکھ رہا ہوں۔ شری کیشوراؤ دھایبر کمپنی چھوڑ کر جانے والے ہیں، اس کا اشارہ مجھے پہلے ہی مل چکا تھا۔ لیکن بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ کسی جھمیلے کے بارے میں چرچا نہ کرنا میرا دستور رہا ہے، اور نہ ہی ایسے معاملوں میں اپنی ناک گُھساتا ہوں، جس سے کچھ بھی تعلق نہ ہو۔ اِس دستور کو میں نے ہر جگہ نبھایا ہے۔ ‘پربھات’ میں بھی اِسے توڑا نہیں ہے۔
لیکن اخباروں میں جب اس خبر کی چرچا پڑھی، من کو دکھ ہوا۔ دوسری کسی بات میں من لگانا ناممکن ہو گیا۔ سوچا، یہ کیا سے کیا ہو گیا ہے! آپسی میل جول کو برابر بنائے رکھنا ہم ہندو لوگوں کو کیا آتا ہی نہیں؟ ‘پربھات’ کےلگ بھگ سبھی اہم لوگوں سے میرا تعلق رہا ہے۔ آپ سےخاص رہا۔ آپ کےسوبھاؤ کو میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اور اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ آپ کو بھی اس بات سے کافی دکھ ضرور ہی ہو رہا ہو گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ بہادر اور فرض شناس شخص دل توڑنے والے واقعات پر آنسو نہیں بہاتے۔ لیکن میرا اپنا اندازہ تو یہ ہے کہ چونکہ اس کے کومل احساسات ختم نہیں ہوتے، بلکہ اوروں کی نسبت زیادہ سلجھے ہوتے ہیں، اس لیے ایسی باتوں سے من ہی من دکھی ہوے بنا نہیں رہتا۔ اسی لیے کیشوراؤ کے اس خیال پر کافی افسوس ہو رہا ہے۔
اب مجھے بیتی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ سن ١٩٣٢ء میں آپ نے مجھے ‘امرت منتھن’ کے لیے بلایا تھا۔ خط لکھا تو آپ نے تھا۔ لیکن اس کا جواب کیشوراؤ دھایبر کے نام منگوایا تھا ۔یعنی آپ کیشوراؤ کو بڑا پن عطا کرنا چاہ رہے تھے۔ آگے چل کر بھی کئی بار میں نے دیکھا کہ کہانی کی چرچا ہو، مکالمہ لکھنا یا سننا ہو، ہر موقع پر آپ نے کیشوراؤ کے ساتھ بڑے بھائی کا سا برتاؤ کیا اور انہیں برابر عزت دی۔ ہر بات میں آپ ان کی عزت کرتے تھے۔ آپ کی شرافت سے میں پہلے سے ہی واقف تھا، لیکن آپ کی سمجھداری اور زندہ دلی ایسے موقعوں پر میں نے پہلی بار محسوس کی۔ میں کتنا خوش تھا، بیان نہیں کر سکتا۔ تب سے میں بڑے فخر کے ساتھ کہتا آیا ھوں کہ ‘پربھات’ مہاراشٹر کا ایک آدرشی ادارہ ہے۔ شہرت اور شان و شوکت دن دوگنی رات چوگنی بڑھنے والی ہے۔ اس بات کے لیے میں من ہی من آپ پانچوں (حصے داروں) کو دعا بھی دیتا رہا ہوں۔ لیکن اچنبھا اس بات کا ہےکہ سن ١٩٣٥ء میں یہ سارا منظر بدل گیا۔ ‘راجپوت رمنی’ کی کہانی میں نےجیسے تیسے لکھ تو دی، لیکن من کا اطمینان جاتا رہا۔ اُس سمے بھی میں نے آپ کو لکھا ہی تھا۔
تبھی سے مجھے لگ رہا تھا کہ ‘پربھات’ میں ‘کالی’ گُھسا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا، کبھی سوچا نہ تھا۔ خیر! کرم گتی ٹارے ناہیں ٹرے ( قسمت میں لکھی کو کون ٹال سکتا ہے)۔ بےکار افسوس کرنے سے کیا ہونے والا ہے۔ لیکن من ہی تو ہے، بے چین ہو ہی جاتا ہے۔
اور ایک بات من میں آ گئی ہے، اسے بھی لکھ ہی دیتا ہوں۔ تب میں ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) کے لیے آیا تھا۔ دوسرے دن فتے لال جی کے گھر دعوت تھی۔ ہم لوگ چرچا پوری کر نیچے آئے تھے۔ کار آنے والی تھی۔ سامنے والی بینچ پر سیتارام بابو، داملے ماما، صاحب ماما بیٹھے تھے۔ میں کار میں بیٹھا اور آپ ان تینوں کے پاس گئے۔ تبھی من میں خیال آیا کہ ارے، کیشوراؤ کہاں ہیں؟ اور تبھی مجھے معلوم ہوا کہ وہ کمپنی چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا۔ سوچا —’کیا خوب!’ کیشو کا ہیرا جڑاؤ سے کیسے گِر گیا۔ میں کچھ تو ضرور جانتا ہوں۔ اس میں کہیں نہ کہیں ایک ناری ہے! کبھی فرگیوسن کالج میں بحث چھڑی تھی کہ کیا عورت مرد کی راہ میں روڑا ہے؟ کیشو راؤ کے کریکٹر کو دیکھتے ہوے کہنا پڑے گا کہ عورت نہ صرف مرد کی ترقی کی راہ میں روڑا ہے، بلکہ اُسے جَل سمادھی (water grave) دلانے والی ایک خوفناک چٹان ہے! مرد عام طور پر بہت قصور وار یا ہوس ناک نہیں ہوتا، لیکن ایک ناری کے چکر میں آنے پر وہ کتنا نادان بن سکتا ہے، اس کی کیا یہ جیتی جاگتی مثال نہیں؟ کیشوراؤ ایک دم گھناؤنے تو نہیں ہیں، استعفٰی دینے کے لائق بھی کہاں ہیں؟ لیکن کیا چمتکار ہوگیا دیکھیے، بےچارہ کام سے جاتا رہا! دنیاداری کی حالت کیا ہے، اور ایک یہ مہاشے ہیں کہ میٹھے بھوجن کی تھالی کو لات مار کر چلے جانے کی نادانی کر رہے ہیں!
کون کِسے کیا کہہ سکتا ہے! ہر ایک اپنا اپنا سوچنے پر قادر ہے۔ پھر بھی مجھے من ہی من ضرور لگتا ہے کہ کیشوراؤ اپنے ہاتھوں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں۔ ہر سمجھدار آدمی یہی کہےگا۔
سارا قصہ یاد آتے ہی بہت تکلیف ہوتی ہے۔
کل کیشوراؤ اپنی کوئی فلم بنانےکی کوشش کریں گے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں۔ بطور ایک لیکھک کے وہ مجھے مدعو کریں گے اور دھندھے کی بات مان کر میں اسے شاید قبول بھی کر لوں گا۔ لیکن من کبھی خوشی محسوس نہیں کرے گا!
جو من میں آیا، صرف اپنے پن کے احساس سے آپ کو لکھ دیا۔ اس سمے آپ شاید کافی دوڑ بھاگ میں ہوں گے۔ اس میں ایک اور پریشانی کھڑی کرنا نہیں چاہ رہا تھا، لیکن لکھے بِنا رہا بھی تو نہیں جا رہا۔
یہاں لگتا ہے ایک خطرے کی اطلاع آپ کو دے ہی دوں۔
مجھے پکا شُبہ ہے کہ پربھات کمپنی کے بارے میں، اس کی فلموں کے بارے میں جو بھی بھونڈا مذاق یا تنقید کی جاتی ہے، زیادہ تر کمپنی کا نمک کھانے والوں میں سے ہی کسی کے دماغ کی اپج ہوتی ہے۔ میں کسی کا نام لینا نہیں چاہتا، لیکن کئی بار تو اپنی آستین میں ہی سانپ ہوتا ہے۔ ہر گروہ میں کالی بکری ضرور ہوتی ہے۔ کانا پُھوسی کرنا، اِدھر کی اُدھر لگا دینا، ہر بار اپنی ہی اہمیت بڑھانے کا جتن کرنا، فائدے کی ہی فکر کرنا، منہ دکھاوے کی میٹھی باتیں کرنا، گھر میں لالے پڑتے ہیں لیکن باہر بڑی پوشیدگی بگھارنا وغیرہ، حرکتوں سے باز نہ آنے والا کوئی نہ کوئی آپ کے آس پاس ضرور رہتا ہے۔ وہی آپ کی مذمت کے رخنے ڈالتا رہتا ہے۔ لہذا خبردار ہوں، احتیاط سے رہیےگا اور ہرآدمی کو اس کی اہلیت کے لائق جگہ پر ہی رکھیےگا۔ یہ میں نے آپ کو ہدایت دینے کے لیے نہیں لکھا ہے، نہ ہی کسی کی چغلی کھانے کے لیے۔ صرف آپسی محبت کےکارن ہی صاف لکھا ہے۔ آپ کی ‘پربھات’ کی ہمیشہ جیت ہو، یہی د لی خواہش کرتا ہوں۔ مہربانی کر کے اس پتر کو اپنے لیٹربکس میں نہ رکھیں۔ ضرورت ہو تو۔۔۔ منع تو نہیں کرتا، لیکن!
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولہاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
[divider]باب 16: ڈائریکشن داؤ پر[/divider]
“اپنی اس فلم کو ‘مہاتما’ نام دےکر مہاتما گاندھی کے نام کا کاروباری فائدے کے لیے استعمال کیا ہے!” مشہور لکھاری اور بیرسٹر کنہیالال منشی نے جلتا ہوا طعنہ مارتے ہوئے کہا۔
‘مہاتما’ فلم کو سنسر کی قینچی سے صحیح سلامت آزاد کیا جائےاورسنسر بورڈ کی طرف سے ہم لوگوں کے ساتھ جو ناانصافی کی گئی ہے اسے دور کیا جائے، ایسی مانگ کرنے کے لیے میں ان سے ملنے گیا تھا۔ لیکن پہلی سلامی میں ہی انہوں نے مجھے پورا چِت کر دیا۔ میرا خون کھول اٹھا۔ پھر بھی اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے میں نے کہا، “مہان کام کرنے والے سبھی قدیم اورجدید آتماؤں (لیڈروں) کو مہاتما خطاب دیا جا سکتا ہے۔ ویسا ان کا حق بھی ہوتا ہے۔ تین سو برس قبل مہاراشٹر میں چھوت چھات کے خاتمے کا کام کرنے والے سنت ایکناتھ کو ہم نے مہاتما کہا تو کون سا غلط کام کیا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گاندھی جی کے سوا اور کسی کو مہاتما نہیں کہنا چاہیے؟”
میری یہ ایک دم تیکھی بات شاید منشی جی کو پسند نہیں آئی۔ ‘مہاتما’ فلم پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ میں بہت بےچین ہو گیا۔ کبھی لگتا کہ اتنی لگن سے بنائی ہوئی یہ فلم، اس میں کاٹ پیٹ کرنے کے بجاے ویسے ہی ڈبے میں بند کر رکھ دوں۔ لیکن سبھی نقطۂ نظر سے وِچار کرنے پر آخر سوچا کہ بال گندھرو جیسے کلاکار نے صرف قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا قبول کیا ہے، تو کیا میرے اس فیصلے سے ان کا مقصد ناکام نہیں ہو جائے گا؟ سنت ایکناتھ یا چھوت چھات جیسے متنازعہ موضوع کا انتخاب ہم نے کیا تھا۔ فلم کے موضوع اور اس کے بنانے کے بارے میں بال گندھرو نے مجھ پر پورا بھروسا کیا تھا۔ ایکناتھ کی اداکاری بھی انھوں نے من لگا کر کی تھی۔ ایسی حالت میں غصے میں ہوش کھو کر میں ‘مہاتما’ کو ریلیز کرنا منسوخ کر دیتا ہوں تو معاشی کٹھنائیوں میں گھِرے اس مہان اداکار کے لیے کیا یہ بھروسا توڑنا نہیں ہو گا؟
من مسوس کر میں نے بابوراؤ پینڈھارکر کو فون کیا اور بتایا،”اس عقل مند اور مذہبی سنسر کے بچے کی مرضی کے مطابق ‘مہاتما’ میں جو بھی کانٹ چھانٹ کرنی ہو، کر لیجیے اور کسی طرح اسے پاس کروا لیجیے۔ لیکن اسے یہ بھی صاف صاف بتا دیجیے کہ ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے جاتے ہیں، اس سین کو جوں کا توں رکھنا ہی پڑے گا۔ وہ ایک تاریخی سچ ہے اور اس کو سنسر بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یہ بات اپنی طرف سے پورے زور سے کہیے گا اور پھر بھی وہ نہیں مانتے ہیں تو انھیں دھمکی دیجیے گا کہ شانتارام نے کہا ہے کہ اس سین کو آپ نے ذرا بھی چھوا تو میں خود بمبئی آ کرعام جلسہ کروں گا، اخباروں میں آواز اٹھاؤں گا اوراس معاملے کے خلاف عوامی تحریک چھیڑوں گا۔ آپ لوگ مجھے گرفتارکرا لو گے تو بھی پرواہ نہیں۔”
بمبئی میں ‘مہاتما’ ریلیز تو ہوئی، لیکن اس کا نام ‘دھرماتما’ کر دیا گیا۔ سماج بدلنے والوں اورناظرین نے اسے بہت پراثر اور چھو لینے والی فلم کے روپ میں عزت دی۔ اس کے بعد یہی فلم بمبئی صوبے سے باہر پہلے والے ‘مہاتما’ کے ہی نام سے ریلیز کی گئی اور مزے کی بات تو یہ رہی کہ اس کا ایک بھی سین نہ تو سنسر نے کاٹا، نہ ہی کسی سین کو انھوں نے چھوا۔ ان دنوں بھارت میں مختلف صوبوں کے لیے الگ الگ سنسر بورڈ تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ مہاراشٹر میں جنمے ایک مہان سماج سُدھارک سنت کے جیون پربنی فلم پر مہاراشٹر کے ہی سنسر بورڈ کی طرف سے پابندی لگائی گئی اور ہریجن سیوک مہاتما گاندھی کے پیروکار کہلانے والے لوگوں کے کنٹرول میں چل رہی ممبئی سرکار نے اس معاملے میں ہماری کوئی مدد نہیں کی!
کچھ مذہبی لوگوں کی مخالفت کے باوجود یہ فلم مہاراشٹر میں بہت ہی اچھی چلی۔ یہی نہیں، پنجاب، کلکتہ، مدراس وغیرہ صوبوں میں بھی ناظرین نے اس کو کافی سراہا۔ ‘مہاتما’ کا سارا خرچ وصول ہونے میں کوئی خاص دیر نہیں لگی۔ بعد میں سارا منافع ہی منافع رہا۔ معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو آدھا منافع دے دیا گیا۔ کامیابی سے وہ قرض سے آزاد ہو گئے اور ہمیں بھی اطمینان ملا کہ ہم نے اپنی ایک اخلاقی ذمےداری کو پورا کر دیا۔
معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو اہم کردار دے کر ہم نے ایک اور فلم بنانے کا وِچار کیا۔ ان کی بےانتہا نرم فطرت کے لائق کسی کہانی کی میں کھوج کرنے لگا۔ فتےلال جی کا کہنا تھا کہ بال گندھرو کے لیے کسی اور سنت کے جیون پر ہی اور ایک فلم بنائی جائے۔ سنتوں کے جذبات کو وہ نہایت خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ فتے لال جی کی بات سے میں بھی اتفاق کرتا تھا۔ سنت تُکارام کے جیون پر مبنی فلم بنائی جائے اور اس میں تُکارام کا کردار بال گندھرو کو دیا جائے، ایسا میں سوچنے لگا۔
لیکن تبھی ایک دن بال گندھرو میرے پاس آئے اور کہنے لگے، “انّا، لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں رہا زنانہ کردار کرنے والا اداکار، لہذا مردانہ کردار میں دیکھ کر انھیں بہت اَٹ پٹا سا لگا۔ کم سے کم اب اگلی فلم میں مجھےعورت کا کرداردیا جائے، ایسا ان تمام محبت کرنے والوں کی درخواست ہے۔”
بال گندھرو کی یہ بات سن کر میں تو ٹھنڈا پڑ گیا۔ سمجھ نہیں پایا کہ ان کے کان بھرنے والے ان کے نام نہاد بھکتوں کی اس عقل پر ہنسوں یا ترس کھاؤں! فلم کے ذریعے سے کلاکار کی مورتی کئی گنا بڑی ہوکر پردے پر تصویر ہوا کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کلاکار کتنا ہی بہترین ہو، ایک عورت جیسی جذباتی اداکاری کرنے کی وہ کتنی ہی کوشش کرے، ایک عورت جیسا دکھائی دینا اس کے لیے ناممکن ہی ہے۔ مجھے تو بال گندھرو کا یہ خیال قطعی پسند نہیں تھا۔ میں نے انھیں سمجھانے کی کافی کوشش کی۔ “آپ اپنے مشیروں کے کہنے میں نہ آئیے۔ اسٹیج اور فلم میں بہت فرق ہے۔ فلم میں آپ کا زنانہ پارٹ اچھا نہیں دکھائی دے گا۔ لوگ اسے پسند نہیں کریں گے۔”
میری صاف گوئی بال گندھرو کو راس نہیں آئی۔ بگڑ کر بولے، “بھگون، اپنے مِتروں کی رائے سے میں بھی متفق ہوں۔ آپ اگلی فلم میں مجھے زنانہ کردار دینے کے قابل نہیں ہیں تو اچھا ہو کہ آپ مجھے دوسری فلم کے معاہدے سے آزاد کر دیں۔”
اپنے ساتھیوں سے اس موضوع پر بحث کر، میں نے بال گندھرو کو ہمارے معاہدے سے آزاد کر دیا۔ بعد میں کانوں کان خبر ملی کہ کولہاپور کے رائل ٹاکیز کے مالک نے بال گندھرو کو زنانہ کردار دے کر ایک مقبول ناٹک پر مبنی فلم بنا لی ہے۔ سب سے حیرت اور دھکا اس بات سے لگا کہ ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر نے اس فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے۔ طریقہ کار میں کیسی irony تھی کہ جس بابوراؤ پینٹر نے سن ١٩١٨ء میں اپنی پہلی فلم ‘سیرندھری’ میں عورتوں کا کام عورتوں سے ہی کرایا تھا، وہی فنکار آج ایک مرد کو زنانہ کردار دینے کا سیدھا سادہ غیرفنکارانہ کام کر بیٹھا تھا! مجھے اس پر کافی رنج ہوا۔
بال گندھرو اور بابوراؤ پینٹر جیسے دو دو کلاکاروں کے اکٹھ سے بنائی گئی وہ فلم لوگوں کو قطعی نہیں بھائی اور بری طرح فیل ہو گئی۔
’امرت منتھن’ اور ‘دھرماتما’ فلم کو ملی بھاری کامیابی کے کارن ‘پربھات’ کے ساتھ ہی میرے نام کا بھی ڈنکا بجنے لگا تھا۔ ناظرین مجھے ترقی پسند ڈائرکٹر کے طور پر پہچاننے لگے تھے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے لین دین کا سارا کاروبار میں ہی دیکھا کرتا تھا۔ کمپنی میں کاروبار کی خاطر آنے والے سبھی کلاکار، لیکھک، غیرملکی کمپنیوں کے نمائندے میرے دیگر ساتھیوں کے پاس نہ جا کر سیدھے میرے ہی پاس آتے تھے۔ میں اپنے سبھی ساتھیوں سے اُن وزیٹرز، جینٹلمینوں کا تعارف کرا دینے سے کبھی نہیں چُوکتا تھا۔ اس بات کے لیے میں بہت ہی احتیاط برتتا کہ ساتھیوں کو کسی بھی صورت میں حقارت محسوس نہ ہو۔ لیکن کئی بار وہ خود ہی پیچھے رہنا پسند کرتے تھے۔ میری مقبولیت اپنے ساتھیوں کو شاید کہیں نہ کہیں چبھنے لگی ہے، اس کو میں کبھی کبھار محسوس کرنے لگا تھا۔ میرے پیچھے شاید وہ لوگ اس پر بات بھی کرنے لگے تھے: “جسے بھی دیکھو، سیدھا شانتارام بابو کے پاس ہی جاتا ہے۔ اور بابو بھی ہم سب کو ٹال کر اپنی ہی اہمیت بڑھانے کے جذبے سے پیش آتے ہیں۔ فلم کا موضوع، کرداروں کا انتخاب وغیرہ ساری باتیں وہ خود ہی کرتے ہیں۔ یہی کیوں، شوٹنگ کے سمے کیمرا کہاں رکھنا ہے، شاٹ کیسے لینا ہے، اس کے بارے میں بھی وہ ہدایات دیتے ہیں۔” فتے لال جی نے یہ سب باتیں مجھے سنائی تھیں۔
ایک دن جب ہم سب لوگ فرصت میں اکٹھے ہو گئے تھے، تب یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے میں نے اسی موضوع کو اٹھایا۔ میں نے کہا، “دیکھیے، خود آگے ہو کر میں اپنی مشہوری کبھی نہیں کیا کرتا۔ اخبار میں دیے جانے والے اشتہاروں میں بھی بطور ڈائرکٹر اپنی فوٹو چھاپنے کو میں نے ہی منع کر رکھا ہے۔ تھوڑی بہت انگریزی بول لیتا ہوں، اس لیے ہمارے کاروبار سے جُڑے غیرملکی یا دوسرے صوبوں کے لوگ مجھ سے مل لیتے ہیں۔ کئی بار تو آپ ہی لوگ انہیں میرے پاس بھیجتے رہے ہیں۔ کاروبار کی باتیں یا خط و کتابت آپ میں سے کوئی دیکھتا نہیں، اس لیے مجھے دیکھنا پڑتا ہے۔ اچھا ہو کہ آپ میں سے کوئی اس کام کو اپنے ذمے لے لے۔ پھر فلم بنانے پر اپنا دھیان زیادہ فوکس کرنا میرے لیے ممکن ہو جائے گا۔”
میری ویسے تو بہت ہی سیدھی معلوم ہونے والی لیکن صاف باتیں سن کر سب لوگ چپ بیٹھے رہے، لیکن اس کام کی ذمےداری لینے کے لیے ایک بھی آگے نہیں آیا۔ اس کے بعد میں نے بات چھیڑی شوٹنگ کے سمے فوٹوگرافر کو میری طرف سے جانے والی ہدایات کی۔ میں نے ان سب سے بِنا ہچکچاہٹ کے پوچھا، “کیا آپ میں سےکوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ سیٹ پر کام کرتے، کسی سین کے لیے مجھے ضروری معلوم ہونے والے کون کس طرح کے ہوں، یہ بتاتے سمے میں آپ میں سے کسی کے بھی ساتھ سختی سے پیش آیا ہوں؟ یا آپ کو بےعزت کرنے کے لیے کبھی کچھ بولا ہوں؟” سب کا جواب ‘نہیں’ میں ہی آنا تھا، سو آ گیا۔ تب میں نے انہیں بتایا، “فلم کی شوٹنگ میں سیٹ پر سب سے اہم ڈائرکٹر ہی ہوا کرتا ہے۔ اس کے دماغ میں فلم کے سبھی فارمولے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی ہدایات کے مطابق شوٹنگ ہو، تبھی فلم اچھی بن پائے گی۔”
اسی بیٹھک میں میں نے آگے چل کر تجویز رکھی کہ اگلی ڈائرکشن ہم میں سے کوئی اور شخص کرے۔ اس کے تحت کام کرنے کے لیے میں نے اپنی مرضی بھی ظاہر کر دی۔ سب کی رائے رہی کہ اگلی فلم کی ڈائرکشن دھایبرجی کریں۔ مجھے یہ فیصلہ بہت اچھا لگا۔
دوسرے دن فتےلال جی نے دھایبرجی کا ایک پیغام سنایا کہ، “میں جب ڈائرکشن کروں، شانتارام بابو سیٹ پر نہ آئیں، ان کی موجودگی میں میں سہما سہما سا محسوس کروں گا۔”
دھایبرجی کے اس پیغام کے کارن مجھے کچھ برا تو لگا، لیکن اپنے آپ کو جیسے تیسے سنبھال کر میں نے کہا، “ٹھیک ہے، میں سیٹ پر نہیں آؤں گا۔ اتنی ہی فرصت مل جائے گی، جب میں کافی کچھ پڑھ لوں گا۔ پھر اگلی فلم کی کہانی اور سکرین پلے بھی تو لکھنا ہے، وہی کر لوں گا۔”
اُن دنوں میں کافی بےچین سا محسوس کرنے لگا تھا۔ سوچتا، آخر دھایبرجی نے مجھے ٹالا کیوں؟ اور دوسرے ساتھیوں نے بھی انہیں کی بات مان لی! کیوں؟ کیا میری صاف گوئی سے ان کے دل کو ٹھیس لگی؟ ہو سکتا ہے کہ میرے سوبھاؤ میں جو ہٹ دھرمی ہے، ایک طرح کا اتاؤلاپن ہے، کچھ تُنک مزاجی ہے، ایک بار کیے گئے فیصلے پر فوراً عمل کرنے کی جو فطرت ہے، پتا نہیں یہ خوبیاں ہیں یا خامیاں۔۔۔ انھیں کے کارن شاید ایسا ہو رہا ہو۔ مجھ سے کچھ ایسی باتیں ہو گئی ہوں، جن کے کارن میرے ساتھیوں کو ٹھیس لگی ہے۔ لیکن میں نے جان بوجھ کر تو ویسا ہرگز نہیں کیا۔ اور مان لو کیا بھی ہو، تو سواے ‘پربھات’ کے لیے اندرونی لگاؤ کے، کوئی کارن ان کے لیے نہیں ہو سکتا۔ کہیں ایسا تو نہیں۔۔۔ من میں خدشہ جاگا۔۔۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت ہم لوگوں نے جس آپسی حسد اور جلن کو دفنا کر ہی پربھات کی عمارت کھڑی کی تھی، وہی حسد اور جلن اب پھل پھول کا کھاد پانی پاتے ہی اُگ گئی ہے اور وہ پودا سر اٹھانے لگا ہے؟
اس خدشے کو دور کرنے کا ایک ہی حل تھا۔ ان سب لوگوں کو کافی مقبولیت ملنی چاہیئے۔ کیشوراؤ دھایبر ‘راجپوت رمنی’ بنا ہی رہے تھے۔ ان کی طرح داملے، فتےلال جی کو بھی کسی فلم کی ڈائرکشن سونپنی چاہیے۔ انھیں بھی ‘پربھات’ فلم ڈائرکٹرکے روپ میں عزت ملنی چاہیے۔
کچھ ہی دنوں میں ‘راجپوت رمنی’ ریلیز ہو گئی۔ لیکن وہ لوگوں کو راس نہیں آئی۔ دھایبرجی کی اس ناکامی کے کارن داملے اور فتےلال جی خودمختارروپ سے ڈائرکشن کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن میں نے ہی زور دے کر کہا، “آپ کس بات سے ڈرتے ہیں؟ آپ کی خواہش ہو تو میں آپ کی مدد کروں گا۔”
میری اس یقین دہانی کے کارن انہیں کافی دھیرج بندھا۔ انھوں نے ڈائرکشن کی ذمےداری قبول کی۔ ہم سب لوگ ایک ایسے موضوع کی تلاش کرنے لگے جو ان دونوں کو پسند آئے اور ان سے سنبھلے بھی۔
کبھی فتےلال جی نے ہی سُجھایا تھا کہ بال گندھرو کی اہم کردار والی دوسری فلم سنت تُکارام کے جیون پر بنائی جائے۔ لہذا میں نے وہی موضوع فلم کے لیے لینے کا سجھاؤ رکھا۔ ان دونوں نے میرا سجھاؤ ایک دم مان لیا۔ داملے جی کے مِتر شری شِورام واشیکر کو ہم نے فوراً ہی کمپنی میں بلا لیا۔ انھیں سنت تُکارام کا سکرین پلے لکھنے کو کہا۔
لگ بھگ اسی سمے میری آئندہ فلم کی کہانی پوری ہونے جا رہی تھی۔ عورت کو خودمختاری ملے، عورت اور مرد کا سماج میں برابری کا مقام ہو، اس وِچار کی زوردار حمایت کرنے والی ایک غیرمعمولی اور مزے کی کہانی اس بار میں نے چُنی تھی۔
وہ ١٩٣٥ء کا زمانہ تھا۔ کئی عورتیں ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل جیسے پیشوں میں اہلیت سے شرکت کر رہی تھیں۔ سروجنی نائیڈو، کملا نہرو جیسی عورتیں سیاست میں بھی دھڑلے سے حصہ لے رہی تھیں۔ پھربھی عورت کی لا محدود آزادی (Women’s Lib) کے خیالات ان دنوں سماج کے گلے اترنے والے نہیں تھے۔ ایسی صورت میں عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے کے انتہائی جدید اصول پر مبنی فلم کو کامیاب بنانا بہت ٹیڑھی کھیر تھا۔ اسی لیے میں نے پوری فلم کا پس منظر کسی خاص مقام اور وقت سے جڑے نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا کرنے میں بھلے ہی کہانی نہایت من گھڑت لگے، لیکن ہو میرعملی مقصد ثابت کرنے والی۔ یہ سوچ کر میں نے سمندری ڈاکوؤں کے دریائی جیون پرہی اس کہانی کی تخلیق کی۔ نتیجتاً منظرووں کی شوٹنگ کرتے وقت میں بھی اپنے کافی نئے خیالات کا استعمال کر سکتا تھا۔ یہ مخصوص پس منظر اصلی معلوم ہو،اس لیے میں نے اس فلم کو صرف ہندی زبان میں ہی بنانا طے کیا۔
موضوع کی جدّت کے کارن فتےلال جی کی تخیلاتی طاقت کے پَر نکل آئے۔ مختلف منظروں کے سکیچیز میں ان کا ٹیلنٹ ایسا روپ لیتا کہ کئی بار میں بھی دنگ رہ جاتا تھا۔ عورت کی خودمختاری کے آدرش سے بھری ہیروئن سودامنی کا جوشیلا کام کرنے کے لیے بہت دنوں بعد پھر دُرگا کھوٹے کو مدعو کیا گیا۔ شانتا آپٹے اور واسنتی کو سودامنی کی اہم داسیوں کے رول دیے گئے۔
اس فلم میں تمام عورت جاتی سے نفرت کرنے والے وزیر کی ایک اثردار شخصیت تھی۔ چندرموہن سے کیے گئے معاہدے کی مدت بھی اب ختم ہونے کو تھی۔ کمپنی سے وداع ہونے سے پہلے ایک اچھا، زبردست کردار دینے کا وعدہ میں نے اسے کر رکھا تھا۔ اسی کے مطابق میں نے عورت سے نفرت کرنے والے لنگڑے وزیر کا کام اسے دیا۔ یہ کام بھی ویسے مشکل ہی تھا۔ بیساکھیاں لے کر میں نے اسے سکھایا کہ اس کام کو کس طرح کرنا چاہیے۔
سین تیار کیے جانے لگے۔ اداکاراؤں کے کپڑے وغیرہ سیے جانے لگے۔ دُرگا کھوٹے، شانتا آپٹے اور واسنتی کے لیے فتے لال جی نے پشاوری شلوار اور اوپر تنگ جیکٹ، ایسا مردانہ ٹھاٹ باٹ کا لیکن کافی مدہوش کرنے والا لباس بنوانے کے لیے کہا تھا۔
ایک دن شانتا آپٹے کی میک اپ میں مدد کرنے والی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی، “شانتا بائی نے نئے کپڑے پہن لیے ہیں اور دیکھنے کے لیے آپ کو بلایا ہے۔‘‘ میں شانتا بائی کے کمرے میں گیا۔ وہ میری طرف پیٹھ کیے کھڑی تھی۔ میری آہٹ سنائی پڑتے ہی وہ پلٹی اور منہ پُھلا کر بولی، “دیکھیے نا، آپ کےدرزی نے یہ جیکٹ کیسی سی رکھی ہے!” اتنا کہہ کر اس نے اپنے ہاتھوں میں کس کر تھامے جیکٹ کے دونوں کنارے کھلے چھوڑ دیے، واقعی میں جیکٹ کی سلائی میں بہت ہی گڑبڑ ہو گئی تھی۔ سامنے کے دونوں حصوں میں کافی فاصلہ رہ جاتا تھا۔ اس میں سے اس کے دونوں پستان صاف کھلے نظر آتے تھے۔ لیکن شانتا بائی میری طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔ اس کی ڈھٹائی سے میں حیران رہ گیا اور بولا، “آپ کی جو مددگار ہے، اُس کے ہاتھوں اس جیکٹ کو واپس سلائی ڈپارٹمنٹ میں بھجوا دیجیے اور درزی کو کہلوا بھیجیے کہ آپ کا ناپ ٹھیک سے لے اور اس کے مطابق جیکٹ کو پھر سی کر لائے۔” اور زیادہ کچھ کہے بنا ہی میں اس کمرے سے فورا باہر نکل آیا۔
دوسرے دن شانتا آپٹے میرے کمرے میں آئی اور چٹکی لیتے شوخی سے پوچھنے لگی، “آپ کل اتنے گھبرا کیوں گئے تھے؟”
کل ہوے اس واقعے کے کارن میں ابھی غصے میں ہی تھا، اس لیے میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی آپ بیتی کا رونا رونے لگی۔ اس کا بڑا بھائی اس کا سرپرست، رکھوالا، استاد، سب کچھ تھا۔ بالکل ہی معمولی بہانے پر وہ بات بات میں اسے بینتوں سے پیٹتا تھا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ کہتے کہتے اس نے ایک دم سہج انداز سے اپنی ساڑی اوپر اٹھائی اور اپنی کھلی جانگھ پرپڑے بینت کے کالے نیلے نشان مجھ کو دکھانے لگی۔
اتنی ملائم جگہ پر انگلی کی موٹائی کے مار کے نشان دیکھ کر میں بھی متاثر ہو گیا اور اس سے پوچھا، “آپ یہ سب برداشت کیوں کر لیتی ہیں؟”
مختلف نظر سے مجھے دیکھتے ہوے اس نے کہا، “کسی ممتا بھرے مرد کا سہارا مل گیا، تو میں گھر چھوڑ دوں گی!”
اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔ یوں ہی کچھ گول مول سا جواب دیا، “اجی، نہیں نہیں! آپ کا بھائی آپ کی بھلائی کی خاطر ہی شاید دوڑدھوپ کرتا ہو گا۔ اس کے من میں کسی طرح کی دُوری نہیں ہو گی، یہ بھی تو ممکن ہے۔۔۔” اور کسی کام کے بہانے میں اسے آفس میں ہی چھوڑ کر باہر کھسک گیا۔
اس واقعے کے بعد میں شانتا آپٹے کے ساتھ ایک فاصلہ رکھ کر ہی پیش آتا۔ کام کے علاوہ الگ کہیں پر بھی اس سے ملاقات نہ ہو، اس کی احتیاط برتتا گیا۔ پھر بھی ‘میک اپ والے نے اچھا میک اپ نہیں کیا’ جیسے کئی بہانے بنا کر وہ مجھے اپنے کمرے میں بلاتی رہی۔
اسی طرح ایک دن اس کے بلا بھیجنے پر اس کے کمرے میں گیا تو یہ مہامایا صرف ایک کچھا پہنے ہی میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔ پاس ہی پڑا گاؤن اس کی کایا پر پھینک کر میں نے اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلائی، “شانتابائی، آئندہ آپ نے پھر کبھی ایسی حرکت کی تو ‘پربھات’ کے ساتھ آپ نےجو معاہدہ کیا ہے اس کی ذرا بھی پروا نہ کرتے ہوئے میں آپ کو ہماری کسی فلم میں کوئی کام نہیں دوں گا۔”
میری ‘امرجیوتی’ فلم کی رچنا پوری ہو چکی تھی۔ اسی سمے شِورام واشیکر ‘سنت تُکارام’ کا سکرین پلے بھی پورا لکھ کر لے آئے۔ میں نے اس کہانی کو سنا۔ انھوں نے سنت فلموں کی عام دھارا کی طرح اس میں چمتکاروں پر کافی زور دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ اس طرح کی چمتکاروں سے بھری سنت فلموں سے عوام اب اوب چکی تھی۔ میں نے واشیکرجی سے کہا کہ اس سکرین پلے کو وہ ایک اور رخ دیں اور تکارام کے جیون پر مبنی نئے سرے سے ایک ایسی کہانی لکھنے کی کوشش کریں جس میں تُکارام ایک آدمی کے روپ میں زیادہ ابھر کر سامنے آ سکیں۔ تکارام کی رحم دل شخصیت، ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت وغیرہ خوبیوں کو اہمیت کے ساتھ ظاہر کرنے والی خاندانی محبت اور ممتابھرے منظروں کو لے کر ایک دل چھونے والی کہانی تُکارام کے جیون پر لکھنے کا میرا وچار بہت پہلے سے تھا۔
لہٰذا میں نے تُکارام کا کردار اور ان کے ابھنگوں (قدیم مراٹھی ادب میں گیتوں کی ایک صنف) کی داستان خرید لی۔ دن میں ‘امر جیوتی’ کی شوٹنگ کر لوٹنے کے بعد رات میں دو ایک بجے تک جاگ کر میں نے تُکارام کا جیون اوران کے ادبی ذخیرے کا مطالعہ کیا۔ واشیکرجی کو پھر بلا کر ان کے ساتھ اس پر کافی بحث کی۔ آہستہ آہستہ سیدھی سادی لیکن پراثرکہانی معلوم ہونے لگی۔
اس کے بعد سب سے اہم سوال آ کھڑا ہوا کہ تُکارام اور ان کی پتنی جِجاؤ کے کام کے لیے لائق شخص کہاں سے ڈھونڈے جائیں۔
کبھی ناٹک کہانیوں میں زنانہ کردار کرنے والے وِشنو پنت پاگنیس اب بمبئی میں کسی کیرتن منڈلی کے ساتھ بھجن گایا کرتے تھے۔ کسی سے سُن رکھا تھا کہ وہ بھجن بہت ہی رسیلے ڈھنگ سے گاتے ہیں۔ میں نے وِشنوپنت کو پُونا بلا لیا۔
یہ آدمی بھجن گاتے سمے اتنا مگن ہو جاتا تھا کہ سننے والوں کے احساسات بھی بھکتی رس میں شرابور ہو جاتے تھے۔ مجھے لگا، تُکارام کا کام کرنے کے لیے وِشنو پنت پاگنیس ہی سب سے اہل شخص ہیں۔ داملےجی اور فتےلال کی رائے اس کے الٹ تھی۔ انھوں نے وِشنو پنت کے ناٹکوں میں کیے گئے زنانہ کردار دیکھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ تُکارام کا مردانہ کرداران سے کرا لینا بہت مشکل کام ہو گا۔ چونکہ داملےجی اور فتےلال اس فلم کے ڈائریکٹر تھے، ان کی رائے کو مان کر ہم نے چند اور آدمیوں کو بھی پرکھا۔ لیکن ان میں سے ایک بھی میری نظر میں اہل ثابت نہیں ہوا۔ آخر میں وِشنو پنت پاگنیس کو ہی تُکارام کا کام دینے کی درخواست میں نے کی۔
تُکارام کی پتنی ٹھیٹھ دیہاتی تھی، اس لیے ہمارے آرٹسٹ ڈیپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کرنے والی اَن پڑھ تانی بائی کو اس کردار کے لیے ہم نے چنا۔ اوپر سے بہت ہی منھ پھٹ اورجھگڑالو، لیکن اندرسے بےحد ممتا بھری رنگیلی دیہاتی عورت کے کردار کے لیے وہ عام شکل و صورت والی دیہاتی عورت مجھے پوری طرح اہل معلوم ہوئی۔
اس فلم کا میوزک ڈائرکٹ کرنے کی ذمےداری کیشوراؤ بھولے کو سونپی گئی۔ اس فلم میں ایک سین کے معقول بولوں والے کسی ابھنگ کی مجھے تلاش تھی: تُکارام ایک کھیت میں رکھوالے کا کام کر رہا ہے۔ فصل کی رکھوالی کرتے سمے وہ ایک ابھنگ گاتا ہے۔ لیکن تُکارام کے بارے لکھی کہانی میں ہمیں اس ارادے کو پیش کرنے والا ایک بھی ابھنگ نہیں ملا۔ لہذا ہار کر میں نے ‘امرت منتھن’ کے سمے ہماری کمپنی میں آئے شاعر شانتارام آٹھولے سے اس سین کے لیے معقول ابھنگ کی تخلیق کرنے کو کہا۔ ان کے لکھے ابھنگ کے بول تھے:
آدھی بیج ایکلے۔
بیج انکرلے روپ واڑھلے
ایکا بیجاپوٹی ترو کوٹی کوٹی۔
پری انتی برہم ایکلے۔۔۔
(معنی: آغاز میں بیج اکیلا ہی ہوتا ہے۔ اس کے پودے پھوٹتے ہیں، پودے بڑھتے ہیں، لمبے لمبے درخت کی شکل لیتے ہیں، لیکن بیج ہوتا تو ایک ہی ہے۔ اسی طرح مخلوقات عالم کو جاری و ساری کر مختلف روپ اختیار کرنے کے بعد بھی وہ پرماتما ایک ہی ہوتا ہے۔)
میں نے ابھنگ پڑھا اور فوراً کہہ دیا، “یہ گیت ایک دم مقبول ہو گا!”
وِشنو پنت پاگنیس نے اس کو آواز دی۔ ان کی طرف سے اس ابھنگ کو دی گئی دھن بڑی رسیلی تھی۔ میں نے سنتے ہی اسے قبول کر لیا۔ کیشوراؤ بھولے سے نہ بنوانے کے کارن وہ بہت زیادہ ناراض تو نہیں ہوئے، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ بات انoیں بُری ضرور لگی۔
آگے چل کر ایسے ہی ایک سین پر آخری ابھنگ کی دھنیں کیشوراؤ بھولے اور وِشنوپنت پاگنیس دونوں نے الگ الگ دیں۔ داملے فتےلال طے نہیں کر پا رہے تھے کہ دونوں میں سے کس کی دھن زیادہ اچھی ہے۔ آخر انہوں نے فیصلہ مجھ پر چھوڑا۔ میں نے دونوں دھنیں دھیان سے سن لیں۔ بھولے کی بنائی گئی دھن ویسے تھی تو اچھی، لیکن پاگنیس جی کی بنائی گئی دھن یقیناً ہی زیادہ اچھی تھی، مدھر بھی تھی۔ پھر بھی اپنے میوزک ڈائرکٹرکا وقار بنائے رکھنے کے خیال سے میں نے اپنی رائے کے خلاف فیصلہ دیا، “کیشوراؤ کی دھن اچھی ہے۔”
‘تُکارام’ کی بنیادی تیاری پوری ہو گئی۔ داملےجی اور فتےلال جی ‘تُکارام’ کی مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ اور اس بیچ کچھ دھیما پڑا اپنی ‘امر جیوتی’ فلم کا کام میں نے تیزی سے شروع کر دیا۔
‘امر جیوتی’ کی ہیروئن سودامنی عورت کی آزادی کے لیے اپنی کوششوں کے عروج پر ہے۔ نہ صرف عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے، بلکہ مرد کو عورت کی غلامی میں باندھنے کا آدرش سامنے رکھ کر وہ اس کی تکمیل کے لیے ایڑی چوٹی کا پسینہ بہاتی رہتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سودامنی اپنے تمام زنانہ احساسات کو مار کر ایک طرح کی مصنوعی دنیا میں گھومتی رہتی ہے۔ یہ سین کچھ تو غیرفطری اور کچھ نفسیاتی تھے۔ ان کی شوٹنگ کرتے سمے میں نے کئی شاٹس ایک دم غیرمعمولی طریقہ کار سے لیے۔ خصوصا کیمرے کے متنوع کونوں اور اس کی رفتار کا استعمال میں نے نفسیاتی ڈھنگ سے کیا۔
فلم کے دوران کسی کردار کا کوئی مکالمہ سہج نہ ہوتا تو کیمرا گھڑی کے ‘پینڈولم’ جیسا ٹیڑھا ہو جاتا۔ نتیجتاً پردے پر وہ شخص اپنے پاگل پن کا عکاس بن کر ناظرین کو ترچھا دکھائی دیتا تھا۔ جیسے جیسے اس کے وِچار سلجھتے جاتے، پردے پر وہ شخص پھر سیدھا اور نارمل نظر آتا۔ آج اس طرح کے شاٹ لینے کے سسٹم کو ‘پینڈولم شاٹ’ یا ‘لنگر سین’ سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کا کامیاب استعمال میں نے سن ١٩٣٦ء میں کیا تھا۔ اس زمانے کے جانکار ناظرین نے اس سسٹم میں موجود ارادے کو دل سے سراہا تھا۔
فلم کے آخری سین میں مایوس سودامنی ایک جہاز پر سوار ہو کر ساگر میں کہیں دور جاتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ جہاز کی پتوار سے ٹک کر کھڑی ہے۔ آنکھوں میں زمانے بھر کی ناامیدی ہے۔ سامنے ساگر کی لہریں ہلکورے لے رہی ہیں، چٹان پر جا کر ٹوٹ رہی ہیں، بکھر رہی ہیں۔ انھیں دیکھ کر سودامنی کہتی ہے، “لہریں کتنی تیزی سے آ رہی ہیں۔۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔۔ آ رہی ہیں۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔ کیا یہی میری زندگی ہے؟”
اس کے پاس ہی ایک کونے میں بیٹھا اس کا فلسفی ساتھی شیکھر سودامنی سے کہتا ہے، “نہیں سودامنی، لہر آئی، پتھروں سے ٹکرائی، اترائی اور لوٹ گئی، یہ درست ہے۔ لیکن اس کے برابر آنے اور ٹکرانے سے پتھر ذراذرا گھستا ہوا ختم ہوئے بنا نہیں رہے گا۔”
“لیکن، یہ کام تو نہ جانے کتنے برسوں میں پورا ہو گا! پھر آدمی کو اپنے مقصد کی کامیابی پر کیسے اطمینان ہو گا؟ اس کی بےاطمینانی کیسے دور ہو گی؟”
“اس کی بےاطمینانی کا اطمینان اس کی لگاتار کوشش میں ہے۔ اجالے کو قائم رکھنے کے لیے دیے سے دیا جلایا جاتا ہے۔ اسی طرح تم نے اپنا کام نندنی کو سونپ دیا ہے۔ اسی میں تمہارے جیون کی کامیابی ہے۔۔”
دامنی کے چہرے پر اطمینان کا احساس چمکنے لگتا ہے۔ کیمرا دھیرے دھیرے دور جاتا ہے۔ دامنی کے جسم سے ایک ننھی سی روشنی نکلتی ہے۔ وہ دوسرے دیپک کو جلاتی ہے اوربجھ جاتی ہے۔ اسی طرح ایک روشنی سے دوسری روشن جلانے کی ایک لڑی ہی شروع ہو جاتی ہے، اس سین کے پس منظر میں ایک معمولی دھن میں گیت سنائی دیتا رہتا ہے:
کارج کی جیوتی سدا ہی جرے
اک جن جائے، دوجا آئے، پھر بھی جیوتی جرے
جیوتن کی اس لگاتارمیں
کرتا ہی وِہرے۔۔۔
(کاموں کی جیوتی سدا جلتی ہی ریتی ہے/ کاموں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
ایک جاتا ہے دوسرا آجاتا ہے۔ دنیا کے کام دھندھے کبھی نہیں رکتے، کرنے والے بدلتے رہتے ہیں۔)
دیپک کی اس علامت کو دکھا کر ہی ‘امر جیوتی’ فلم شروع ہوتی ہے : پہلے ایک قدیم ڈھنگ کا دیپک کیمرے کی نظر میں آتا ہے، وہ دوسرے دیے کو روشن کرتا ہے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک دیگر دیپ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی روشنی سے ہی فلم کا نام ‘امر جیوتی’ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔
‘امر جیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام تیزی سے چل رہا تھا کہ ایک دن داملےجی اور فتےلال جی ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ وہ کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا، “پاگنیس اور تانی بائی سے ہم کافی دنوں سے ریہرسل کرا رہے ہیں، لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ ان دونوں سے اپنے اپنے کردار بن پائیں گے۔ اچھا ہو کہ آپ ایڈیٹنگ کا یہ کام کچھ دن کے لیے ملتوی رکھیں اور ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں آ کر ایک بار دیکھ تو لیں۔ آپ چاہیں تو خود ریہرسل لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہی طے کریں کہ ان دونوں کو یہ اہم کردار دینے ہیں یا نہیں۔”
میں نے ‘امرجیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام فوراً روک دیا اور پہلے ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں گیا۔ وِشنوپنت اور تانی بائی دونوں سے ریہرسل کرانا میں نے شروع کیا۔ داملےجی اور فتےلال جی کی بات صحیح تھی۔ ان دونوں سے کام برابر بن ہی نہیں پا رہا تھا۔ میں نے دونوں کو اداکاری کر کے دکھائی۔ وہ دونوں میرے بتائے مطابق اداکاری کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
ایک دن ریہرسل سے پہلے وِشنو پنت پاگنیس میرے کمرے میں آئے اور بڑی منتیں کرتے ہوئے کہنے لگے، “انّا، یہ کام مجھ سے کبھی نہیں ہو گا۔ آپ تکارام کے رول کے لیے کوئی اور آدمی کھوجیں۔”
پاگنیس ہار گئے تھے، لیکن میں نہیں ہارا تھا۔ ان کا حوصلہ بڑھانے اور پھر خوداعتمادی جگانے کے لیے میں نے جھوٹ کہہ دیا، “کل میں نے آپ کا کام دیکھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اس کام کو ضرور ہی اچھی طرح کر لیں گے۔ آپ صرف ایک کام کریں، تُکارام کی چال ڈھال کی، چلنے پھرنے کی، اٹھنے بیٹھنے اور بولنے چالنے کی حرکت میں کر کے دکھاؤں، ہوبہو نقل کرنے کی کوشش کریں۔”
میرے کہنے کے کارن ان میں ضرور ہی کہیں اعتماد جاگا ہو گا۔ دوسرے ہی دن سے وہ من لگا کر کام کرنے لگے۔
پہلے دن تو ان سے کام کچھ ٹھیک سے بن نہیں پا رہا تھا۔ لیکن ان کا جوش بڑھانے کے لیے میں ہر روز کہتا، ’’آج آپ کا کام کل سے زیادہ اچھا بن پڑا ہے۔‘‘ انہیں اس طرح میں برابر ترغیب دیتا گیا۔
ایک ہفتہ بیت گیا۔ پھر ایک بار ناامید ہو کر پاگنیس نے کہا، “نہیں جی انّا، آپ جیسا کام مجھ سے نہیں بن سکتا!”
سچ کہا جائے تو میں بھی کچھ کچھ ناامید ہو چلا تھا۔ لیکن پاگنیس کی بہت ہی مدھر آواز، رسیلی گائیکی سٹائل اور اٹوٹ گائیکی میں جھلکنے والی شیرینی ان کے فریق کو مضبوط کیے ہوئے تھی۔ میں نے پھر کمر کسی اور انہیں حقیقت میں اپنے آپ کو دھیرج دلاتے ہوئے کہا، “آپ تو بیکار ہی نا امید ہوئے جا رہے ہیں۔ آپ کے کام میں ہر روز برابر ترقی دکھائی دے رہی ہے۔ چلیے آج میں آپ کو پھر اداکاری کر کے دکھاتا ہوں۔ باریکی سے دھیان دیجیے۔ اس پر غور کیجیے۔ رات میں ویسا ہی کر کے دیکھیے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں، کل آپ اس سین کو ایک دم مکمل ڈھنگ سے کرنے والے ہیں!”
دوسرا دن آیا۔ کل کر کے دکھائے گئے سین کی ریہرسل کرنے کا سمے آ گیا۔ پاگنیس اس سین میں ایک دم سو فیصد نہ سہی، لیکن اپنا کام کافی سدھے ڈھنگ سے کر رہے تھے۔ میں نے انہیں دلی شاباشی دی۔
شروع شروع میں تکارام کی پتنی کا کام کرتے سمے بوکھلا جانے والی تانی بائی کو بھی اداکاری سکھانے میں میں نے کافی محنت کی۔ مشق سے انھیں بھی اپنا کام اتنے سدھے ہوئے ڈھنگ سے کرنا آ گیا کہ ان کی جاندار ایکٹنگ سے کئی بار داملےجی اور فتےلال جی بھی دھنگ رہ گئے۔
تُکارام کی شوٹنگ شروع کرنے کے ایک دن پہلے پاگنیس میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے، انّا، کل آپ شوٹنگ کے سمے موجود تو رہیں گے نا؟”میں نے کہا، “اجی وِشنوپنت، اب تو آپ کی اداکاری ایک دم سیدھی سی ہونے لگی ہے۔ پھر بھی آپ سے کس طرح کام کرا لینا چاہیے، داملےجی اور فتح لال جی کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے۔ اب شوٹنگ کے سمے آپ کو قطعی دقت آنے والی نہیں۔‘‘
“وہ تو سب ٹھیک ہی ہے، لیکن کم سے کم میرے کام کے سین کے سمے تو آپ ضرور ہی موجود رہا کیجیے گا۔ میرا کام اتنا ہی اچھا بن پڑے گا۔” یہ سوچ کر کہ داملےجی اور فتےلال جی کو میرا موجود رہنا ممکنہ طور پر پسند نہیں آئے گا، میں نے اس ذمےداری کو ٹالنا چاہا، لیکن پاگنیس جی کی درخواست کے سامنے میری ایک نہ چلی۔
ایک بار تو پاگنیس نے مجھے اچھی خاصی مصیبت میں ڈال دیا۔ ایک اہم سین کی شوٹنگ جاری تھی۔ کام کرتے سمے پاگنیس اچھی طرح کھو گئے تھے۔ میں نے ان سے کہا، “واہ، وِشنوپنت، بہت ہی کمال کر دیا آپ نے!”
اس پر وہ سہج انداز سے کہہ گئے، “انّا، آخر اس ناچیز کی ہستی ہی کیا ہے، آپ کے بنا؟ آپ نے سکھایا ویسا ہی میں نے کر دکھایا۔ آپ میرے گرو ہیں!” یہ کہہ کر پاگنیس نے میری حالت اور بھی مشکل بنا دی۔ بھگوان جانے اسے سن کر داملےجی اور فتےلال جی نے کیا کیا نہیں سوچا ہو گا! میں سیٹ پر پھر لمحہ بھر بھی نہیں ٹھہرا۔
‘امر جیوتی’ فلم بمبئی میں ریلیز ہوئی۔ شروع میں دیپ کی روشنی سے بننے والی فلم کے کریڈٹ نام والے کارڈ دیکھ کر ناظرین اتنے جذباتی ہو جاتے تھے کہ ‘ڈائرکشن وی شانتا رام’ کا رڈ دکھائی دیتے ہی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے سینما ہال گونج اٹھتا۔
اس فلم میں ماسٹر کرشن راؤ کا دیا گیا سنگیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ خاص کر شانتا آپٹے کے گائے گئے ‘سنو سنو اے ون کے پرانی’ (سنو اے بن کے باسی) گیت کے اسی ہزار فونوگراف ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ اس گیت نے گراموفون ریکارڈ کی بِکری کا ریکارڈ قائم کیا۔
چندرموہن کو کچھ برس قبل دیے گئے قول کے مطابق، اس فلم میں اس کی لنگڑے وِلن کے کردار کے کارن وہ پھر مقبولیت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ فلم ناقدین نے دُرگا کھوٹے کی بہت ہی سلجھی ہوئی ایکٹنگ کی بھی تعریف کی۔ ‘امرجیوتی’ دیکھنےکے بعد ناظرین اتنے جذباتی ہوجاتےتھےکہ میں تھیٹرمیں ہوتا تو مجھے ڈھونڈ لیتے اور مجھے دلی مبارکباد دیتے۔ ساتھ ہی سبھی پوچھتے، “آپ کی اگلی فلم کون سی ہے؟”
ان سبھی انتہائی پُرجوش شائقین کو میں ایک ہی جواب دیتا، “اجی، ابھی ابھی تو اس فلم کی ذمےداری کا بوجھا ڈھو کر آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اب ذرا کھلی ہوا میں سانس تو لینے دیجیے۔ اس کے بعد اگلی فلم کے بارے میں اپنی خواہشات کا بوجھ آپ خوشی سے میرے سر پر ڈالیے گا!”
‘امر جیوتی’ کا ڈنکا سارے دیس میں بجنے لگا۔ ادھر پُونا میں تُکارام’ فلم کے ایک نہایت مدھر اور ممتابھرے فیملی سین کی شوٹنگ چالو تھی:
سورج ماتھے پر آ چکا ہے۔ تُکارام کی پتنی ان کے لیے دوپہر کا کھانا سر پر لیے پہاڑی چڑھ کر اس برگد کے پیڑ کے نیچے آ بیٹھتی ہے جہاں تُکارام بھگوان کا دھیان لگا کر بیٹھا ہوتا ہے۔ تُکارام کچھ حیرت کے انداز سے پوچھتا ہے:
“تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں یہاں بیٹھا ہوں؟”
بھولی بھالی جِجاؤ شرما کر جواب دیتی ہے، “مردوں کو بھلا یہ باتیں کاہے کو سمجھ میں آویں؟ اس کے لیے تو انھیں بھی ہم جیسی عورت ہی بننا پڑے ہے!”
اس کے بعد وہ بڑے پیار سے تُکارام کو جوار کی روٹی کا سوکھا کھانا پروس کر کھانے کی درخواست کرتی ہے۔ اس کا پیار دیکھ کر تُکارام گدگدا جاتا ہے اور کہتا ہے، “اسے کہتے ہیں نا سچا پیار! یہی ہے سچی بھکتی! اس بھکتی کے زور پر جیسے تم نے مجھے کھوج کر پا لیا، اسی طرح میں بھی اپنے پانڈورنگ (وِشنو کا ایک اوتار) کو کھوج کر پا سکوں گا!”
جِجاؤ پانڈورنگ کا نام سن کر جھنجھلا اٹھتی ہے اور ایک روٹی پروستی ہے۔ تُکارام روٹی کا پہلا ٹکڑا توڑتا ہے اور جِجاؤ کو بھی اپنے ساتھ کھانے کی کافی درخواست کرتا ہے۔ وہ شرما کر ‘نا نا’ کہتی رہتی ہے۔ تُکارام روٹی کا نوالہ جِجاؤ کے منھ کے پاس لے جاتا ہے۔ جِجاؤ لجّا کے مارے گڑی جاتی ہے اور بہت ہی حیا کے انداز سے اس غیرآباد بَن میں آس پاس یہ دیکھ لیتی ہے کہ کہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا، اور بعد میں فوراً ہی تُکارام کے ہاتھ کا وہ نوالہ اپنے منھ میں ڈال لیتی ہے۔
تُکارام کے ہاتھ سے نوالہ کھاتے کھاتے وہ کسی انوکھے جذبے کی دنیا میں کھو جاتی ہے۔ اسی کیفیت میں اپنے سے ہی بڑبڑاتی ہے، “بہت میٹھا، بہت میٹھا لاگے ہے!”
اس کا وہ پیار دیکھ تکارام اپنے آپ کو خوش قسمت مانتا ہوا کہتا ہے، “واقعی یہ میرا اچھا نصیب ہے کہ تم نے مجھے ایسی پتنی دی، ہے پانڈورنگا!”
“پانڈیا نے دی؟ اجی وہ خوب دے گا! میرے باپو نے دی ہے تم کو۔ پانڈیا لاکھ کہے گا مجھے اپنی بیٹی۔ نام نہ لیجا اس موے کلموہے کا میرے سامنے۔۔ ” جِجاؤ ایک دم غصہ ہو کر بولنے لگتی ہے۔
تُکارام پوچھتا ہے، “جِجاؤ، کیا سچ مچ تم میرے وِٹّھل کی بھکتی نہیں کرتی ہو؟”
“دھت، وِٹھل ہوئے گا تمرا دیوتا۔ ہوئے گا تمرے واسطے بہت بڑا، پر میرا دیوتا تو تمرے وِٹھل سے بھی بڑا ہے گا۔”
“اچھا؟ نام کیا ہے تمھارے دیوتا کا؟”
“میرے دیوتا کا نام؟ (شرما کر غصے کی اداکاری کرتے ہوئے) اب روٹی کھاؤ بھی چپ چاپ۔ (تُکارام کو پیار سے دیکھتی ہے) میرا دیوتا اِہاں بیٹھو ہے گا میرے سامنے، روٹی کھا رہو ہے۔ تمرا دیوتا کھاتا ہے روٹی تمرے سنگ؟” تُکارام لاجواب ہو کر جِجاؤ کو دیکھتا رہتا ہے۔
’تکارام’ فلم کے بارے میں فتےلال جی کے گھرایک بار بحث چل رہی تھی اور میں اس سین میں پورا رنگ گیا تھا۔ اوپر لکھے لفظ بولتا جا رہا تھا اور واشیکر بیٹھے اسے لکھتے جا رہے تھے۔
شوٹنگ کے سمے اس جذباتی سین کا شاٹ داملے فتےلال سے ویسا نہیں بن پا رہا تھا جیسا کہ بننا چاہیے تھا۔ اس سین کے لیے ضروری مدھرتا اور سہج، سچے، اور نرمل پیار کی اداکاری وِشنو پنت اور گوری (تانی بائی کا فلمی نام) سے امید کے مطابق نہیں ہو پا رہی تھی۔ کافی کوشش کرنے کے باوجود یہ حال تھا۔ آخر داملے فتے لال کی خواہش کے مطابق میں نے اس شاٹ کی شوٹنگ کی۔ فلم کا یہی بنیادی نقطہ ثابت ہو گیا۔
‘تُکارام’ فلم کے ڈائرکٹر تھے تو داملے فتےلال، لیکن مجھ پر تو یہی دھن سوار ہو گئی تھی کہ یہ فلم میری اپنی ہے۔ اس لیے اس کے چھوٹے سے چھوٹے سین پر بھی میں باریکی سے دھیان دیتا تھا۔ اسی وچار سے ایک سے ایک نئے نئے خیالات سوجھتے تھے۔ ان سبھی خیالات کو میں کھلے طور پر داملےجی اور فتے لال کے سامنے پیش کرتا تھا۔ یہ سب میں گہرے تعلق کے جذبے سے ہی کر رہا تھا۔
اس فلم کا ایک سین:
چھترپتی شواجی مہاراج وِٹّھل مندر میں تُکارام کے گائے جا رہے ابھنگوں کو سننے میں مگن ہو گئے ہیں۔ تبھی شِواجی کو پکڑنے کے لیے مسلمان سپاہی مندر پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ لیکن مندرمیں بیٹھا ہر شخص انھیں شِواجی معلوم ہوتا ہے۔ اس احساس کے کارن سپاہی تذبذب میں پڑ جاتے ہیں اور ‘توبہ توبہ’ کہتے ہوئے گھبرا کر لوٹ جاتے ہیں۔ نام سنکیرتن کے رنگ میں رنگے شِواجی کا تحفظ اپنے وِٹھو رائے نے ہی کیا ہے، ایسا مان کر تُکارام کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا۔ اسی لطف میں وہ گانے ناچنے لگتا ہے:
“وانو کتی رے سدیا، وٹھورایا، دن وتسلا۔۔۔” (بھجن)
تُکارام کی یہ میٹھی خوشی موجود سارے لوگوں پر چھا جاتی ہے۔ دیوالئے (مندر) اسی خوشی میں شرابور ہو جاتا ہے، باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ اسی آنند کی انتہا ہوتی ہے۔ سچدانند، یونی پرماتما، وہ پرماتما (پرماتما کے نام ) وہ سانولا سلونا وِٹھورایا بھی اس لطف میں مجسم ظاہر ہو کر تُکارام کی گائیکی کی لَے اور تال پر ڈولنے لگتا ہے، ناچنے لگتا ہے۔ اس سرخوشی کے منظر کا یہ شاٹ اس سین کا کلائمکس تھا۔ لیکن سب لوگوں کے ساتھ وِٹھوبا بھی خوشی سے چُور ہوکر ناچے، یہ خیال داملے فتےلال کو پسند نہیں تھا۔ لیکن میں نے اس سین کو اسی ڈھنگ سے فلمانے کی ضد کر لی۔ میں نے ایسا بھی کہہ دیا کہ ناظرین کو پسند نہ آیا تو اس شاٹ کو ہم لوگ بعد میں فلم سے نکال دیں گے۔ میں اپنی ضد پر اڑا رہا اور اپنے بیٹے پربھات کمار کو، جو وِٹھوبا کی مورتی کے جیسا ہی بونا، سانولا اور بڑی بڑی آنکھوں والا تھا، وِٹھوبا کا لباس پہنا کر اس سین کو فلما ہی لیا کہ وِٹھوبا کی پتھر مورتی زندہ ہو اٹھی ہے اور تُکارام کے گانے کے ساتھ ناچنے لگی ہے۔
تکارام کی شوٹنگ مکمل ہونے آئی تھی۔ اب ایک دم آخری سین کی شوٹنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں جس میں تُکارام بینکٹھ (آسمان) چلے جاتے ہیں۔ اس سمے کسی ضروری کام سے میں ممبئی گیا تھا۔ اچانک پُونا سے فون آیا۔ فون پرملی خبر سے میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ سٹوڈیو میں بنایا گیا جہاز، اسے اوپر کی طرف کھینچنے والے رسے ٹوٹ جانے کے کارن وِشنو پنت پاگنیس اور دوسرے کلاکاروں اور ٹیکنیشنوں کے ساتھ نیچے گر پڑا تھا۔ بمبئی کا کام ادھورا چھوڑ کر میں پہلی گاڑی سے پُونا لوٹ گیا۔ وِشنو پنت کو کوئی خاص چوٹ ووٹ نہیں آئی ہے، یہ بات مجھے اسٹیشن پر ہی معلوم ہو گئی۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ جلدی جلدی میں سیدھا سٹوڈیو جا پہنچا۔
وِشنوپنت سٹوڈیو کے ایک کمرے میں آرام کر رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھے اور میرے گلے لگ کر جذباتی ہو کر بولے، “انّا، میں بال بال بچ گیا! آپ یہاں ہوتے تو جہاز ہرگز نہ گرتا! میں داملےجی اور فتے لال جی سے کہہ ہی رہا تھا کہ انّا کے بمبئی سے لوٹ آنے کے بعد ہم لوگ اس سین کو لیں لیکن انھوں نے میری بات مانی نہیں!”
وِشنو پنت بہت ہی گھبرائے ہوئے تھے۔ میں نے انھیں حوصلہ دیا، “دیکھیے، وِشنو پنت، آخر یہ تو ایک حادثہ ہے۔ کسی کے یہاں رہنے یا نہ رہنے سے وہ ہوا، ایسی بات نہیں ہے۔ آپ بالکل گھبرائیے نہیں۔ ڈبل رسا باندھنے کا انتظام کرتے ہیں۔ تب تو بنے گی نا بات؟”
کچھ دنوں بعد، سب کچھ منظم کر لیا گیا اور پھر اسی سین کو پوری احتیاط سے فلما لیا گیا۔ ‘تکارام’ کی ایڈیٹنگ پوری ہوئی۔ پرنٹ تیار ہو گئے۔ شہر کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں ہم لوگوں نے رات کے بارہ بجے ‘تُکارام’ دیکھا۔ پہلے ٹرائل کے بعد میں نے کچھ منظروں کو تھوڑا آگے پیچھے کیا۔ کچھ منظروں کو کاٹا چھانٹا۔ اس سمے ہی بابوراؤ پینڈھارکر ‘تکارام’ دیکھنے کے لیے ہی پُونا آئے تھے۔ وہ فیملی کے ساتھ کچھ دن کے لیے لوناولا گئے۔ مجھے بھی انہوں نے کچھ دن آرام کے لیے لوناؤلا آنے کا دعوت نامہ دیا تھا۔
‘تُکارام’ کا سارا کام ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر کی اس دعوت کو قبول کر میں لوناؤلا گیا۔
یہ توقدرتی ہی تھا کہ حال ہی میں پوری کی گئی ‘تُکارام’ فلم کے بارے میں وہاں بات چیت چھڑ جاتی۔ ٹرائل ریلیز کے بعد ‘تُکارام’ کے بارے میں کیشوراؤ دھایبر نے بابوراؤ پینڈھارکر کے پاس جو وِچار ظاہر کیے تھے، بابوراؤ نے مجھے بتا دیے:
“جھانجھ منجیرا کوٹتے رہنے والے سنتوں کی فلموں کے دن کبھی کے لد چکے ہیں۔ ایسی حالت میں داملے جی، فتےلال جی کو شانتارام باپو نے ناحق سنت فلم بنانے کے جھمیلے میں ڈال دیا! لیکن یہ شانتارام جی نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ اس وجہ سے کہ داملےجی فتےلال جی کو انہیں نیچے گرانا تھا! اس لیے کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ داملے فتےلال جی کو کچھ بھی آتا واتا نہیں! وہ اپنی خدائی قائم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے! ہمیشہ وہ ہی بادشاہ بنے رہیں، اس لیے! آپ دیکھتے جائیے، یہ فلم ایک دم بری طرح فیل ہونے جا رہی ہے!”
ویسے تو مجھے کچھ کچھ بھنک مل چکی تھی کہ ‘راجپوت رمنی’ کی ناکامی کے بعد میرے بارے میں یہ افواہ جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہے۔ لیکن میرے پیچھے اس طرح کے الزام لگائے جانے سے میں جل بھن گیا۔ اپنے بارے میں اس طرح کے اوچھے وچار سن کر میرا تو خون کھولنے لگا۔ میں نے آپے سے باہر ہو کر کہا:
“بابوراؤ، تب تو آپ ضرور دیکھیں گے اورسبھی دیکھیں گے، فلم چلے گی، لوگ اسے پسند کریں گے، اس میں مجھے شبہ نہیں۔ مجھے پورا یقین بھی ہے! اور اگر یہ فلم نہ چلی توآپ یقین جانیے، میں ڈائرکشن کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا!”
اس پر بابوراؤ پینڈھارکر بھونچکے سے میرا منھ تاکتے ہی رہ گئے۔
تار میں لکھا تھا، “گووندراؤ ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر، لیلابائی، وِنائک اور کچھ اور کلاکاروں اور ٹیکنیشینوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ پُونا آنے کے لیے تیار نہیں۔ آپ جلدی بھارت لوٹ آئیے۔” تار کے نیچے داملےجی کا نام تھا۔
کچھ لمحے تو میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کہاں ہوں، کیا کر رہا ہوں۔ زیادہ تنخواہ دینا قبول کرنے کے بعد بھی آخر یہ سب لوگ استعفیٰ کیوں دے بیٹھے ہیں؟ خاص کر بابوراؤ پینڈھارکر اور میری بھکتی کرتے ہوئے مجھ سے محبت بھی کرنے والے ونائک جیسے لوگوں نے بھی میری غیرموجودگی میں، جب میں یہاں دور پردیس میں ہوں تب، استعفیٰ دے دیا؟
آخر کیوں؟
اُفا اور آگفا کمپنی کے بھیجے گئے موٹی موٹی رقموں کے بِل، باپو کی بیماری اور ایسے میں ہی کولہاپور کے اس تار نے تو مجھے حیران کر دیا۔ بےچین من سے میں کمرے میں ہی ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر کاٹتا رہا۔ تیزی سے ڈگ بھرتا رہا۔ میری دندناہٹ کے لیے وہ کمرہ چھوٹا پڑنے لگا۔ آخر میں باہر سڑک پر آ گیا اور فٹ پاتھ پر تیزی سے چہل قدمی کرنے لگا۔ چلتا ہی جا رہا تھا کہ راستے میں ایک سنیماگھر دکھائی دیا۔ وہاں ‘میڈم بٹرفلائی’ فلم لگی تھی۔ سوچا، کچھ تفریح ہو جائے گی۔
لیکن اس دن بدقسمتی ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑی تھی۔ اس فلم کی کہانی ایک جاپانی عورت کی کہانی پر مبنی تھی۔ وہ جاپان میں آئے ایک امریکی فوجی سے پیار کرنے لگتی ہے۔ دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ تبھی اس امریکی فوجی کو دیس لوٹنے کا حکم ملتا ہے۔ جاتے وقت وہ فوجی اپنی جاپانی بیوی سے وعدہ کرتا ہے کہ ملک لوٹتے ہی امریکی سرکار سے اجازت حاصل کر میں تمہیں اُدھر بلا لوں گا۔ وہ انتظار کرتی رہتی ہے۔ کافی دن بیت جاتے ہیں۔ لیکن اس سپاہی کا کوئی خط نہیں آتا۔ آخر ہار کر وہ ایک نوکیلی تلوار اپنی چھاتی میں گھونپ کر ہاراکری (خودکشی) کر لیتی ہے، جاپانی رواجوں کے مطابق۔
میں اس لیے فلم دیکھنے گیا تھا کہ دل و دماغ کو کچھ شانتی ملے گی، لیکن وہاں ٹھیک برعکس ہو گیا اور میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ بےچین ہو کر لوٹ آیا۔ جاپان ایک مشرقی دیس ہے۔ وہاں کی وہ عورت میری بہن ہی تو ہوئی۔ ہیروئین کے ساتھ دھوکہ کیے جانے کی وجہ سے اسے ہاراکری کرنی پڑتی ہے۔۔۔ سر پھٹا جا رہا تھا۔
اس ساری گھبراہٹ سے آزادی پانےکا راستہ کیا ہے؟ کسی سے سُن رکھا تھا کہ ایسے درد کی دوا شراب ہے۔ درد بےقابو ہو گیا تو شراب کے نشے میں اسے بُھلایا جا سکتا ہے۔ میں ہمیشہ کے ہوٹل میں گیا۔ ویٹریس کھانے کا آرڈر لینے کے لیے میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ میں نے اس سے کہا، “پہلے میرے لیے شراب لے آؤ۔” وہ جانتی تھی کہ میں کبھی شراب نہیں پیتا، لہٰذا وہ منھ پھیلائے مجھے دیکھتی رہی۔ میں اس پر لگ بھگ چلّا اٹھا، “شراب لاؤ!”
میرا چہرہ دیکھ کر وہ ڈر گئی۔ چہرے پر زبردستی ہنسی لاتے ہوئے اس نے پوچھا،
“کون سی لاؤں؟ کس برانڈ کی؟”
شراب کے ایک بھی برانڈ کا مجھےعلم نہیں تھا۔ لیکن بڑا رعب گانٹھتے ہوئے میں نے فرمایا، “کوئی سی بھی! لیکن ہو اچھی سٹرانگ! تمہاری پسند کی ایسی کوئی بھی شراب لے آؤ، جس کا نشہ فوراً سوار ہو جائے۔” وہ جلدی جلدی چلی گئی۔
کھانے کا وہ ہال لگ بھگ ستر اسی فٹ لمبا تھا۔ وہ اس کے پرلے سرے پر ایک دروازے سے اندر چلی گئی۔ میں سوچنے لگا، اب وہ شراب لے کر آئے گی۔ دو چار پیگ چڑھا لینے کے بعد ضرور مجھ پر نشہ سوار ہو جائے گا۔ پھر شانتی محسوس ہو گی۔ بہت ہی اتاؤلے من سے میں ویٹریس کی راہ دیکھنے لگا۔
کھانے کے کمرے کا وہ جھولتا دروازہ ہلا۔ ایک ٹرے میں شراب کی بوتل اور ایک بَڑھیا باریک نکیلے کنارے والا شراب پینے کا گلاس رکھے وہ چلی آ رہی تھی۔ سر میں خیالات کا چکر گھومنے لگا۔
“اب اس بوتل میں رکھی شراب میں پیوں گا۔ نشہ چڑھے گا۔ نشے میں جھوم کر میں کہیں گر پڑوں گا۔ اس کے بعد سر میں اٹھ رہا وِچاروں کا طوفان شاید شانت ہو جائے گا۔۔۔ کم سے کم کچھ سمے کے لیے تو شانت ہو ہی جائے گا۔۔۔ لیکن آج میرے سامنے جو سوال منھ کھولے کھڑے ہیں، کیا وہ اس نشے میں حل ہو جائیں گے؟ کبھی نہیں! پھر تم کیا کرو گے؟ نشہ اتر گیا تو پھر شراب پیو گے۔۔۔ پھر نشہ۔۔۔ شراب اور پھر لگاتار شراب پی پی کر سُدھ بُدھ کھو کر آخر کسی گندی نالی میں نڈھال ہو کر پڑے رہو گے! کیا یہی کرتے رہو گے؟”
“نہیں! نہیں!” میں زور سے چلّایا۔ ویٹریس میری ٹیبل کے پاس شراب کی بوتل اور گلاس لیے کھڑی تھی۔ وہ حیران سی، تذبذب میں پڑی مجھے گھور رہی تھی۔ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے میں نےکہا، “اس بوتل کو واپس لے جاؤ۔ مجھے شراب نہیں چاہیے۔ یہ بوتل تمھیں انعام دیتا ہوں۔ اسے تم اپنے گھر لے جاؤ۔”
میں نے اس کی ٹرے میں شراب کی بوتل قیمت کے مارک رکھ دیے۔ اوپر ٹِپ کےطور پر اور دس مارک رکھے اور ہوٹل سے سیدھا اپنے کمرے میں آ گیا۔ جسم پر پہنے سارے کپڑے اتار پھینکے اور بستر پر بےسُدھ جا دھمکا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر سے سارا جسم سائیں سائیں کرتا جل رہا ہے۔ جان تڑپ رہی تھی۔ لگاتار کروٹیں بدلتا میں بےچین ہو رہا تھا۔ کیا کروں، کیا نہ کروں۔ کیا ہو رہا تھا؟ پلنگ کے نیچے جیسے کسی نے سو سو چولہے جلا رکھے تھے اور ان کی آنچ میں روم روم جھلسا جا رہا تھا۔ جَل بِن مچھلی جیسی حالت ہو گئی تھی۔ دم گھٹتا جا رہا تھا۔ آخر میں پلنگ پر اٹھ بیٹھا اور منھ سے چیخ نکلی، “ہے بھگوان!”
آدھی اور طوفان بھری رات میں راہ بھولے مسافر کو اچانک بجلی کوندھتے ہی اس چکاچوندھ میں راستہ دکھائی دیتا ہے، بھگوان کو پکار دیتے ہی میری حالت ویسی ہی ہو گئی۔ میں ہر دن صبح نہانے کے بعد بھیگے بدن شری وشنو کی مورتی کو یاد کر یکسوئی سے ان کا دھیان کیا کرتا تھا۔ اسی کی مجھے یاد آئی۔ میں نے آنکھیں موند لیں اور عرض کرنے لگا، “ہے بھگوان، میرے من کو شانتی دو، میرا سُلگتا ماتھا شانت کرو!”
آنکھیں کھلیں تو سویرا ہو گیا تھا۔ میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا۔ پتا نہیں کب سو گیا تھا۔ لیکن اب مجھے ایک دم تازگی محسوس ہو رہی تھی۔ تن من کی ساری تھکان غائب ہو گئی تھی۔ من کو دکھ دینے والی ہر مصیبت کا سامنا کرنے کی شکتی جاگ اٹھی تھی۔ بھگوان کی پرارتھنا میں میرا اعتماد سو گنا ہو گیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی جیون کا ایک مہامنتر مجھے مل گیا تھا کہ “مصیبتیں چاہے جتنی آئیں، تھک ہار کر ہمت نہیں ہارنی چاہیے، بلکہ ایسے سمے زیادہ جوش اور امنگ کے ساتھ پورے جوش سے ان مصیبتوں کا سامنا کر آگے بڑھنا ہی سچی کوشش ہے!”
ہندوستان سے بھجوائے پیسے ہاتھ آتے ہی میں نے اُفا اور آگفا کے بِل بنا کوئی بھاؤتاؤ کیے چکا دیے۔ ‘پربھات’ کے غیرمعمولی لوگوں کے استعفیٰ دینے کے کارن پیدا ہوئی صورت حال سے راستہ نکالنے کا طریقہ من میں جاگ اٹھا اور سوچا کہ اس کٹھنائی سے پار ہونے کا حل ایک ہی ہے: ایک زبردست فلم بنانا۔ میں اسی نظریے سے سوچنے لگ گیا۔
بچپن میں بَھوانی کو بکرے کی بلی چڑھائی جاتے میں نے دیکھا تھا۔ دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے جانور بلی چڑھانے کا رواج آج بھی کافی جگہ پر جاری تھا۔ دیش کے کچھ حصوں میں تو نَربلی بھی دی جاتی تھی۔ یہ غیرانسانی رسم پرانے زمانے سے آج تک سارے ہندوستان کی مختلف دیوالیوں میں جاری تھی۔ سوچا کہ انہی قابلِ مذمت رواجوں پر چوٹ کرتے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنےکی کوشش کرنے والی کہانی اپنی آئندہ فلم کے لیے چنوں۔ اس کہانی کی تخلیق میں من ہی من کرنے لگا۔
غریب اندھا اعتماد کرنے والے لوگوں پر اپنی تیکھی اور چبھتی نظر سے دھاک جمائے بیٹھا دھرم گُرو اس کہانی کا مرکزی نقطہ تھا۔ جرمنی آنے پر دھرم گرو کی آنکھوں کا بڑا کلوزاپ لینے کے لیے ضروری ٹیلی فوٹو لینز کے بارے میں مَیں نے پوچھ تاچھ شروع کر دی تھی۔ پیٹرسن مجھے ایک لینز بنانے والی کمپنی میں لے گئے۔ ان کے پاس ایک لینز تو تیار تھا، لیکن اس سے وہ نتیجہ ممکن نہ ہوتا جو میں چاہتا تھا۔ لہٰذا اسی لینز میں کچھ ترمیم تبدیلی کر، تین سو ملی میٹر والا لینز پندرہ دنوں بعد مجھے دینے کے لیے کمپنی راضی ہو گئی۔ اسی کمپنی میں کارٹون فلم بنانے کے لیے ضروری مشینری بھی تھی۔ والٹ ڈزنی کی ‘مکی ماؤس’ اور دوسری کارٹون فلم سیریز سے میں بھی کافی متاثر ہو چکا تھا۔ چاہ تھی کہ بھارتی پس منظر پر اس طرح کے کچھ نئے تجربے کروں، اس لیے کارٹون شوٹنگ کے لیے ضروری کیمرے اور دوسرے ساز و سامان کا آرڈر بھی میں نے اس کمپنی کو وہیں دے دیا۔
اب اور پندرہ دن برلن میں رکنے کے سوا کوئی حل نہیں تھا۔ ‘پربھات’ کا ساتھ چھوڑ گئے کلاکاروں کی جگہ پر قابل کلاکاروں کو لینےکا وِچار من میں آیا اور اس کے مطابق مزید قابل ناموں کی کھوج میں بیٹھے بیٹھےکرنے لگا۔
مراٹھی فلم ‘شیام سندر’ میں ایک نوجوان لڑکی شانتا آپٹے نے رادھا کا کام کیا تھا۔ اس فلم میں اس کے گائے ہوئے گیت بھی بہت اچھے تھے۔ اس کی گائیکی بھی اچھی تھی۔ لیکن اس کی اداکاری میں کوئی جان نہیں تھی۔ پردے پر تو وہ ایسی لگتی جیسے چلتی پھرتی لاش ہو۔ اخباروں نے اپنے جائزوں میں اس کے بارے میں بہت ہی بُری رائے ظاہر کی تھی۔ اس شانتا آپٹے کو ‘شیام سندر’ میں وہ کام کرنے آنے سے پہلے میں نے ایک بار دیکھا تھا۔ اس کا گانا بھی سنا تھا۔ اس سمے مجھے ایسا تو ضرور لگا تھا کہ ہو نہ ہو، اس میں کچھ خاص بات ہے، پر اس کے باوجود ہیروئن کے کام کے لیے اس کے موزوں ہونے پر مجھے شُبہ تھا۔ ہیروئن کی کھوج کرتے کرتے مجھے نلِنی ترکھڈ کی یاد آئی۔ نلِنی کبھی ایک بار مجھ سے ملی تھیں۔ اچھی پڑھی لکھی تھیں اورکافی دلکش لگتی تھیں۔
میں نے فوراً ہی داملےجی کو تفصیلی خط لکھا: “آئندہ فلم کے لیے من میں ایک بہترین اور اثردار کہانی شکل لے رہی ہے۔ اس کے لیے اب ہمیں نئے کلاکاروں کو ڈھونڈنا ہی پڑے گا۔ ‘شیام سندر’ میں رادھا کا کردار نبھانے والی شانتا آپٹے کو بلا کر اس کے ساتھ قرار کر لیجیے۔ اس کے علاوہ نلِنی ترکھڈ کا بمبئی کا پتا بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم کر لیجیے۔ بمبئی پہنچتے ہی میں خود ان سے بات کروں گا۔ ولن کے لیے اداکاری میں انتہائی قابل کلاکار کی ضرورت پڑے گی۔ میری کہانی میں ولن کا کردار ایک اہم کردار رہے گا، لیکن اس کے لیے فی الحال تو میری آنکھوں کے سامنے کوئی بھی لائق شخص نہیں ہے۔ ہیرو کے کام کے لیے کسی کسے ہوئے ڈیل ڈول کے نوجوان کی کھوج کرتے رہیے۔ اسے گانا ضرور آنا چاہیے۔ میوزک ڈائریکٹر کا انتخاب میرے پُونا لوٹنے کے بعد سب کی رائے سے کریں گے۔۔۔”
اب تو میں واپس وطن لوٹنے کے لیے مچلنے لگا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کب واپس جاتا ہوں اور اپنے نئے کام کو شروع کرتا ہوں۔ اسی جوش سے برلن میں اپنے خاص کاموں کو ایک ایک کر نبٹانے میں جُٹ گیا۔ ایک دن مجھے افیفا سے خط ملا کہ ‘سیرندھری’ کی بنِا استعمال کی ہوئی نگیٹو کے ڈبے وہیں پڑے ہیں، ان کا کیا کرنا ہے؟ مجھے افیفا میں ایک بار جانا تھا ہی۔
دوسرے دن سویرے میں افِفا پہنچا۔ جینی وہیں تھی، لیکن لگتا تھا وہ غصے میں ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے میں نے اس کا حال تک نہیں پوچھا تھا۔ وہ مجھ سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں دکھائی دی۔ نیگیٹو کی جانچ پڑتال میں سمے ضائع نہ ہو، اس وجہ سے جینی نے فرصت کے سمے میں وہ کام پہلے ہی پورا کر رکھا تھا۔ کام کرنے کی اس کی اس تیاری کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف اپنے طرز عمل کو میں کچھ اٹ پٹا سا محسوس کرنے لگا۔ میں اس کے پاس گیا۔ جیب سے ایک ہزار مارک کے نوٹ نکال کر اس کے سامنے کر دیے۔
اس نے پوچھا، “یہ کیا ہے؟”
میں نے کہا، “تم نے اتنے اپنے پیسے یہاں کا سارا کام کیا، اس کے لیے یہ انعام!”
اس نے غصے میں کہا، “تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دیس میں اپنےپن کو انعام دیا جاتا ہے؟” پھر کچھ رُک کر بولی، “یہ نوٹ اپنی جیب میں رکھ لو۔ اب سے تمہارا کوئی بھی کام مجھ سے نہیں ہو گا! تمہاری مدد کے لیے میں کسی اور لڑکی کو بھیج دیتی ہوں!” اتنا کہہ کر وہ دروازے کی طرف جانے لگی۔
میں نے اسے پکارا، “رکو، جینی، بات سنو!” اس کے پاس جا کر میں نے اسے اپنی تکلیفوں کی ساری کہانی سنائی۔ سن کر اس نے میرا ہاتھ جذباتیت سے کس کر تھاما اور مجھ سے معافی مانگی۔ پھر ہم دونوں نیگیٹو کے ٹکڑے جانچنے کے کام میں لگ گئے۔
شام کو ایڈیٹنگ روم کے دروازے پر کسی نے دستک دی اور اس ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ اندر آئی۔ میں نے اسے نیگیٹو کے سبھی ٹکڑوں کو جلا دینے کے لیے کہا اور افیفا کا اُس دن کا کرایہ چُکتا کر میں باہر آ گیا۔ جینی وہاں میرا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے پوچھا، “اب کیا پانسیوں جاؤ گے؟”
“نہیں۔ اب میں یہاں سے پاس ہی ایک ہوٹل میں رہتا ہوں۔”
باتیں کرتے کرتے ہم لوگ میری کار کے پاس آ گئے۔ اب جینی پہلے سے کافی اچھی انگریزی بولنے لگی تھی۔ میں نے یہ بات اسے بتائی۔ اس پر اس نے کہا، “تمہارے ساتھ اچھی طرح باتیں کر سکوں، اس لیے میں نے رات کی انگریزی کی کلاس ‘جوائن’ کی ہے۔”
میں نے کار کا دروازہ کھولا اور جینی سے اندر بیٹھنے کے لیے کہا، “آؤ، تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔” کار چل پڑی۔ جینی نے شوخ ادا سے پوچھا، “تمہارے ہوٹل میں کھانا تو ملتا ہے نا؟”
میں نے کہا، “جی ہاں، ملتا ہے۔”
“تو چلو، آج میں تمہیں دعوت دیتی ہوں۔ اور ہاں، تمہیں میرے ساتھ کھانا نہ کھانا ہو، تب تو مجھے میرے گھر پر چھوڑ دو!”
اب جا کر کہیں اس کی بات کا اشارہ میری سمجھ میں آیا۔
کھانے کے بعد جینی نے ہنستے ہنستے پوچھا، “تمہارا ہوٹل والا کمرہ دیکھنے کے لیے آؤں تو کیسا رہے گا؟”
“بہت اچھا، چلو،” میں نے کہا۔ ہم دونوں کمرے میں آئے۔ کمرے میں آتے ہی جینی نےمجھے کس کر گلے لگایا اور باربار، لگاتار مجھےچومتی رہی۔ “جینی،جینی” کہتے ہوئے میں نے اسے الگ کیا۔
جینی ہنس رہی تھی۔ مجھےخدشہ ہوا کہ کہیں اسے پاگل پن تو نہیں ہو گیا؟ اس نے مجھے صوفے پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر بھروسا نہیں ہو رہا تھا! وہ ایک دم برہنہ تھی! اتنی سفید سنگ مرمریں کایا میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ مدہوش نظارہ بکھیرتی وہ میرے ٹھیک سامنے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
ایک پل تو من میں خیال آ ہی گیا کہ میں بھی اپنے سارے کپڑے اتار کر پھینک دوں۔ اٹھوں اور جینی کی گوشت پوست کی کایا کو حصار میں باندھ لوں۔ لیکن نہیں، ایسا سوچنے سے کام نہیں چلےگا۔ مجھے اپنے من پر قابو پانا ہی ہو گا، یہ میرا راستہ نہیں۔ میرا راستہ ہے، میرا اپنا کام، میری اپنی کلا، میرا اپنا آدرش، میرا گرمایا خون دھیرے دھیرے شانت ہونے لگا۔ وہ اسی حالت میں سامنے کھڑی تھی، مدہوش نظارہ اور ہونٹوں پر ملائم مسکراہٹ لیے۔
میں نے ہڑبڑا کر پوچھا، “جینی، تمہارا ارادہ آخر کیا ہے؟”
“میں تمہیں بہت چاہتی ہوں، تم سےشادی کرنا چاہتی ہوں۔”
“لیکن جینی، یہ ناممکن ہے، نہایت ناممکن ہے!”
اب اس کی آنکھوں میں چنگاریاں چمکنےلگی تھیں۔ بولی، “تم ایک دم روکھے آدمی ہو۔ پتھر ہو۔ اپنا سب کچھ تمہیں قربان کرنے آئی لڑکی کو ٹھکرا کر تم نسائیت کی بےعزتی کر رہے ہو۔” اتنا کہہ کر وہ تلملاتی ٹائلٹ کی طرف چلی گئی۔
نسوانی کردار کا یہ نیا اظہار دیکھ کر میں بوکھلا گیا۔ میرا گلا سوکھ گیا۔ اٹھا، کمرے میں گھنٹی تھی، اسے دبایا۔ بوائے آیا۔ اس سے میں نے دو کولڈ ڈرنک لانے کے لیے کہا۔
کافی دیر تک انتظار کرتا رہا۔ آخر ٹائلٹ کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی اور اسے پکارا۔
کچھ دیر بعد وہ باہر آئی۔ اس کی آنکھیں رو رو کر لال ہو گئی تھیں۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لا کر صوفے پر بٹھایا۔ بھنووں کے بیچ کی جگہ کو انگلیوں سے دباتے ہوئے بھاری آواز میں اس نےکہا، “مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے، شانتارام! مجھ سے جو کچھ ہو گیا اور میں نےکٹھورتا سے تمہیں جو کچھ کہہ دیا، اس کے لیے مجھے معاف کرنا!”
میں نےاس کے ہاتھوں میں کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا۔ جرمن میں دانکے (شکر گزار ہوں) کہہ کر، وہ اسے ایک ہی سانس میں پی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ جانے کو کھڑی ہوئی۔ میں نے اسے رُکنے کے لیے کہا۔ رات کافی ہو چکی تھی۔ ڈرائیور میری کار کو گیرج میں رکھ کر کبھی کا چلا گیا تھا۔ لہٰذا جینی کے لیے اب سُرنگی ریل سےجانا لازمی تھا۔ میں نے اوورکوٹ پہن لیا اور اسے سٹیشن تک چھوڑنے گیا۔
اس کے کچھ دن بعد ٹیلی فوٹو لینز بن کر تیار ہو گیا۔ میں نے اسے آزما کر دیکھا۔ لینز اچھا بنا تھا۔ آخر برلن سے میری رخصتی کا دن آیا۔ امیریکن ایکسپریس کمپنی نے میرا سارا بھاری سامان، ‘سیرندھری’ کے باقی پرنٹس اور میری موٹرکار سیدھے جہاز پر چڑھانے کا بندوبست کر دیا تھا۔ میں ریلوے سٹیشن پر آیا۔ میری ریزرو جگہ جس ڈبے میں تھی، جینی اس کے پاس پہلے سے ہی آ کر کھڑی تھی۔ میں اس کے پاس گیا۔ اس کا چہرہ ایک دم گمبھیر تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ میرے منھ سے بھی لفظ نہیں نکل پا رہے تھے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو بِنا بولے تکتے ہی رہے۔
گارڈ نے سیٹی بجائی۔ میں ڈبےکی پٹری پر چڑھنے جا ہی رہا تھا کہ جینی نے مجھے کس کر بانہوں میں لپیٹ لیا۔ بہت زیادہ جذباتی ہیجان سے اس نے مجھے چوم لیا۔ پھر اس کی گھٹتی سی آواز سنائی دی، “مجھے معاف کرنا۔۔۔ آخری کِس، تمھاری یاد میں۔۔۔ لیکن تم مجھے بُھلا دینا۔ تمہاری پتنی کو میری نیک تمنائیں!”
اس سے پہلے کہ میں کچھ جواب دیتا، گاڑی چل پڑی۔ میں ڈبے میں چڑھ گیا۔ جینی کی آنکھیں ساون بھادوں برسا رہی تھیں۔ ہاتھ سے رومال ہلاتے ہوئے گلے سے اس نے جرمن میں کہا، “آف ویدر زہن، ایٹ لیسٹ اِن دی نیکسٹ لائف!” (پھر ملیں گے، کم سے کم اگلے جنم میں!)
وداعی کے یہ لفظ سن کر میرا بھی جی بھر آیا۔ آنکھیں چھلک گئیں۔۔۔ اس کی محبت بھری اور جذباتی وداعی سے مغلوب ہو کر میں نے بھی کہا، ” آف ویدر زہن!” اور جیب سے رومال نکال کر ہاتھ اٹھا کر میں اسے ہلانے لگا۔
گاڑی نے تیز رفتار پکڑ لی۔ جینی لگاتار رومال ہلاتی جا رہی تھی اور اس سے آنکھیں بھی پونچھ رہی تھی۔ دس پندرہ سیکنڈ میں وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئی، لیکن اس کےالفاظ کانوں میں برابر گونجتے رہے :” آف ویدر زہن! ایٹ لیسٹ اِن دی نیکسٹ لائف!” (پھر ملیں گے، کم سے کم اگلے جنم میں!)
“شانتاراما” برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
یہ ترجمہ اجمل کمال اور سہ ماہی ‘آج’ کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ ‘آج’ کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔
سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے سوال کا جواب سننے کے لیے میں بے چین ہو گیا تھا۔ پیٹرسن نے سر جھکا لیا اور نظر چراتے ہوئے افسردگی سےکہا، “تم امید اور حوصلہ مت ہارنا! پہلے ‘اُفا’ سٹوڈیو میں چل کرہم لوگ پرنٹ دیکھتے ہیں۔ ‘اُفا’ کے کلرکیمیکل روم کے ہیڈ ڈاکٹر ولف وہاں ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔” انہوں نے پھر میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے تھپتھپا دیا۔
میں کسی کٹھ پتلی کی طرح باہر کھڑی کار میں جا کر بیٹھ گیا۔ موٹر بیبلسبرگ کی جانب تیز دوڑنے لگی۔ رنگین پرنٹ دیکھنے کے لیے میں اتنا بےچین ہو رہا تھا کہ میں نے ڈرائیور کو گاڑی اور تیز چلانے کے لیےکہا۔ سپیڈ انڈیکیٹر سوئی سو کے ہندسے کو چھونے لگی۔ پورے سفر میں ہم دونوں ایک دم خاموش بیٹھے تھے۔
آخر سائیں سائیں کرتی ہوئی کار صفائی سے موڑ لے کر اُفا سٹوڈیو کے داخلی دروازے سے صحن میں جا کر رکی۔ ڈاکٹر ولف ہماری راہ ہی دیکھ رہے تھے۔
ہم تینوں ایک چھوٹے تجرباتی سنیماگھر میں گئے۔ ‘سیرندھری’ کا پہلا حصہ پردے پر دکھائی دینے لگا اور پردے پر جو کچھ دِکھ رہا تھا، وہ تو میرے تصور سے بھی بدتر تھا! رنگ میں بھنگ ہو گیا تھا۔ فلم میں سارے رنگ ایسے لگ رہے تھے جیسے پوت دیےگئے ہوں۔
دس منٹ میں پہلا حصہ ختم ہوا۔ میرے تو لفظ ہی جیسے کھو گئے تھے!
ڈاکٹر ولف کو صرف جرمن زبان ہی آتی تھی۔ وہ اور پیٹرسن آپس میں جرمن زبان میں بول رہے تھے۔ بیچ بیچ میں پیٹرسن ولف کی بات مجھےانگریزی میں سمجھاتے تھے۔ ان کی رائے تھی کہ ہم لوگوں نے شوٹنگ کے وقت رنگ کے نقطہ نظر سے کیمرے کے لینز کے لیے مناسب فلٹرز نہیں لگائے تھے۔ نتیجتاً ساری شوٹنگ کسی نوسِکھیے کی کی ہوئی لگتی تھی۔ میں نے ساری ہمت اکٹھی کر کے پیٹرسن سے پوچھا، ” کیا اس نیگیٹو کے اچھے پرنٹ نہیں بنیں گے؟”
میرے اس سوال پر پیٹرسن اور ولف آپس میں پھر بحث کرنے لگے۔ یہ جاننے کے لیے کہ آخر ان کی بحث سے کیا نتیجہ اخذ ہونے والا ہے، میں باری باری ان کے چہرے دیکھتا رہا۔
کچھ سمے بعد پیٹرسن نے بتایا، “ہم لوگ بائی پیک سسٹم کی فلم تیار کرنے والی آگفا فیکٹری کے ٹیکنیشنوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ تمہاری اس خراب نیگیٹو کے اچھے پرنٹ بنیں، اس لیے خاص نئے املشن کی پازیٹو فلم بنانا کہاں تک ممکن ہے، دیکھتے ہیں۔‘‘
میرے چہرے پر ہوائیاں اڑتی دیکھ کر ڈاکٹر ولف نے پیٹرسن سے کہا، “شانتارام کو کہو کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اچھے پرنٹ بنانے کی ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے۔ خاص نئی پازیٹو فلم بننے میں پندرہ بیس دن لگ جائیں گے۔ کہنا کہ تب تک اپنی فلم کی آگے کی گراریاں تیار کرو۔”
ولف کی یہ ہمت بندھانے والی باتیں سن کر کچھ تو جان میں جان آ گئی۔
ہم واپس برلن جانے کو نکلے۔ کار میں مَیں تو ایک دم چپ بیٹھا تھا۔ میرا دکھ جان کر پیٹرسن بھی چپ تھے۔ دماغ میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا: جھک ماری جو اس رنگین فلم کی جھنجھٹ میں پڑے۔ ولف نے ٹھیک ہی تو کہا کہ شوٹنگ کسی نوسکھیے کی کی ہوئی لگتی ہے۔ صرف جانکاری کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ہی تو ہم لوگوں نے شوٹنگ کی تھی۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ گرامر کی کتاب پڑھ کر کوئی ناول لکھ مارے!
ہم لوگ برلن کب پہنچے، پتا ہی نہ چلا۔ پیٹرسن سُرنگی ریل کے اسٹیشن پر اتر گئے اور میں سیدھے اپنے کمرے میں آ گیا۔
کھانے کی کوئی چاہ نہیں تھی۔ آج کے سارے واقعے کا بیان تفصیل کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو لکھ بھیجنا میرا فرض تھا۔ بیٹھا، لیکن لکھتے لکھتے رک گیا۔ ایسی کیا خوش خبری ہو گئی ہے، جس کی خبر اپنے ساتھیوں کو دینے بیٹھا ہوں؟ جو لکھ رہا ہوں، کوئی مبارک خبر تو ہے نہیں۔ یہ دکھی خبر آج ہی انہیں معلوم ہو جائے، تو انہیں بھی اسی ناامیدی کی حالت میں رہنا پڑےگا جس میں آج میں رہ رہا ہوں۔ اور کل کو خوش قسمتی سے نئی پازیٹو پر اچھا پرنٹ بن آیا، تب تو سارا جھنجھٹ ختم ہو جائے گا۔
ادھورا لکھا پتر میں نے پھاڑ کر پھینک دیا۔
دوسرے دن میں افیفا میں اپنے ایڈیٹنگ روم میں پہنچا۔ جینی کے چہرے پر سوال صاف دکھائی دیا۔ میں نے اسے کل کا سارا واقعہ سنایا۔ سن کر اسے بھی بہت دکھ ہوا۔
جینی اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہمت بندھانے لگی۔ یہ جان کر کہ اس پردیس میں میرے من پر چند مدُھر لفظوں کی مرہم پٹی کرنے والا کوئی تو ہے، میں نے کافی راحت محسوس کی۔ پھر، سواے جینی کے ایسا کام کر سکنے والا اور کون تھا؟ دوسرے دن سے جینی طے شدہ وقت سے کافی پہلے دفتر آ کر کام کرنے لگی۔ اس کے لیے وہ اوورٹائم کا پیسہ نہیں لیتی تھی۔ زیادہ وقت کام تو وہ صرف اس لیے کر رہی تھی کہ ایڈیٹنگ روم کے کرائے میں میری کچھ بچت ہو سکے۔
آٹھ دن بعد پیٹرسن آفس میں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ آگفا فیکٹری کے ٹیکنیشن ہماری نگیٹو کا معائنہ کر کےاس کے لیے مناسب قسم کے ایملشن کی پازیٹو نمونے کے طور پر بنا رہے ہیں۔ یہ خبر کافی دلاسا دینے والی تھی۔
پیٹرسن کے چلے جانے کے بعد جینی بتانے لگی، “اب تم فکر نہ کرو، سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔”
ہم دونوں پھر نئے جوش سے کام میں جُٹ گئے۔ کھانے کا وقت بیت گیا۔ جینی نے یاد نہیں دلایا۔ کچھ دیر بعد میرا دھیان گھڑی کی طرف گیا۔ کام کی دُھن میں مَیں اس طرح کھو گیا تھا کہ بچاری جینی کو بھی بھوکا رہنا پڑا تھا۔ میں اسے وہاں سے پاس کے کسی ریستوران میں لے گیا۔ کافی اصرار کرتے ہوئے اسے میں نے بھرپیٹ لنچ کرایا۔ وہ ایک دم خوش ہو گئی۔
دوسرے دن میں آفس پہنچا تو پایا کہ جینی مجھ سے بھی پہلے آ کر کام میں لگ گئی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی اور اس نے مجھے چوم لیا۔ میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتا ہی رہ گیا۔ پس وپیش میں مَیں نے اس سے پوچھا، “یہ کیا کِیا تم نے؟”
“کل تم نے جو لنچ دیا تھا نا، اس کے لیے شکریہ!” یوں کہہ کر وہ ہنستے ہنستے پھر کام میں جُٹ گئی۔ میں نے سوچا کہ شاید یہاں کسی کے اس طرح کھانا کھلانے پر اس کا شکریہ کرنے کا یہی طریقہ ہو گا۔
‘سیرندھری’ کا پرنٹ پتا نہیں اچھا بنتا ہے یا نہیں، اس کی فکر میں تھا، تبھی ایک بات سوجھی کہ اس کے گیتوں کے فونوگراف بنا لیے جائیں۔ اپنا تو یہ فطری دھرم ہی رہا ہے کہ چِنتا میں ڈوبا ہوں یا پریشانیوں سے گَھر جاؤں تو من نئی امنگوں کی اونچی اونچی اڑان بھرنے لگتا ہے۔ فونوگراف بنانے کا خیال اسی فطری دھرم کے مطابق من میں آیا تھا۔ فلم کی اوریجنل ساؤنڈ پٹی سے اس طرح گیتوں کا فونوگراف بنانا کہاں تک ممکن ہے، اس کی پوچھ تاچھ میں نے پیٹرسن سے کی تھی۔ پیڑسن نے محتاط انداز سے کہا تھا کہ برلن کی مشہور سیمنز کمپنی سے معلوم کرتے ہیں۔ آج دوپہر اس کام کے لیے سیمنز کمپنی میں جانا تھا۔
میں نے اپنا خیال سیمنز والوں کے سامنے رکھا۔ کمپنی کے ٹیکنیشینوں کو وہ جنچ گیا، لیکن اس کی کامیابی کے بارے میں انہیں بھی شبہ تھا۔ انہوں نے مجھے کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
دوسرے دن ہمیشہ کی طرح افیفا میں گیا اور کام میں کھو گیا۔ دوپہر کی چھٹی کا وقت ہو گیا۔ جینی میرے پاس آئی۔ اس نے مجھے کس کر پکڑ لیا اور پھر چوم لیا۔
میں نے اس سے پوچھا، “آج پھر کیا ہو گیا؟”
“آج میں نے تمھیں لنچ دیا ہے!” کہتی ہوئی شوخ بھری ہنسی ہنستے ہنستے وہ وہاں سے بھاگ گئی۔
اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ صرف آداب کا رسمی معاملہ نہیں ہے۔ لیکن جینی کا اس طرح پیش آنا مجھے قطعی پسند نہیں آیا۔ ایک بارسوچا، اُسے اُس کے ایسے طرز عمل پر اچھی پھٹکار سنا دوں۔ افیفا کے ڈائریکٹر کو بھی اس طرح کے عجیب طرزعمل کی بات بتا کر اپنے لیےکوئی اور مددگار دینےکی مانگ کروں۔ لیکن جینی کی طرح من لگا کر مہارت سے کام کرنے والی دوسری لڑکی ملنا مشکل تھا۔ پھر یہ بھی تو ممکن تھا کہ اس کا اس طرح پیش آنا سطحی ہو، کھلنڈرےپن کا اشارہ ہو۔ میں اس سے جواب طلب کروں اور اُس کے من میں ویسی کوئی بھاؤنا ہی نہ ہو، تو سُبکی کیا میری ہی نہیں ہو گی؟ جو بھی ہو، میں نے طے کیا کہ یہ معاملہ یہیں ختم کیا جائے، اور بات کو آگے قطعی بڑھنے نہ دیا جائے۔
جینی لوٹ آئی تو میں نے کہا، “میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”
“تو کرو نا!” جینی نے کہا۔
”ابھی نہیں، شام کو کام ختم ہونے کے بعد،” اس کی طرف نہ دیکھتے ہوئے میں نے کہا اورکام میں جُٹ گیا۔
شام کو ہم دونوں پہلے ایک جرمن فلم دیکھنے گئے۔ بعد میں اسے میں برلن کے بڑے ہوٹل ‘کیمپینسکی’ میں کھانا کھلانے کے لیے لے گیا۔ کھاتے وقت میں نے اس سے پوچھا، “جینی، تم میرے ساتھ اس طرح کیوں پیش آئیں؟ مجھے کیوں چومتی ہو؟”
’’اس لیے کہ تم مجھے بھا گئے ہو!‘‘ اس نے آزادروی سے ہنستے ہوئے کہا۔
’’تو میں نے ٹھیک ہی سوچا تھا کہ تمھارے من میں یہ احساس جاگا ہے۔ لیکن دھیان سے سنو، میری شادی ہو چکی ہے۔”
اس پر اس نے فوراً کہا، ’’اس میں کیا ہرج ہو سکتا ہے؟ میں نے تمھارے دیس کے بارے میں، انڈین لوگوں کے بارے میں کافی پڑھا ہے۔ تم لوگ دو دو، تین تین عورتوں سے شادی کرتے ہو، تمھاری کتنی عورتیں ہیں؟”
میں نے کہا، “صرف ایک۔”
“تو ٹھیک ہے، میں تمھاری دوسری بیوی بنوں گی۔”
میرا نوالہ منھ میں ہی دھرا رہ گیا۔ پانی کا بڑا سا گھونٹ نگل کر میں نے کہا، “میرے دو بچے بھی ہیں۔”
“مجھ سے بھی تمھارے اور بچے ہوں گے۔” اس نے اپنے ہمیشہ سے آزاد انداز میں، بنا کسی جھجک کے کہا۔ “میں بھی بہت چاہتی ہوں کہ تمھارے جیسا براؤن رنگ کا میرے بھی ایک بچہ ہو۔”
عورت اور مرد میں ایسے موضوع پر اتنی بےجھجک باتیں ہوں، اس سے میں تو پورا لاعلم تھا۔ کیا جواب دوں، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ جینی کی حوصلہ شکنی کے لیے میں نے یوں ہی مذاق میں کہا، “اور وہ بچہ میرے جیسا براؤن نہ ہو کر تمھارے جیسا سفید پیدا ہو گیا، تو؟”
“تو ہم پھر کوشش کریں گے، باربار کوشش کرتے رہیں گے!”
میں تو بالکل ٹھنڈا پڑ گیا سن کر۔ ایسے جواب کے بعد پھر کبھی اس سے بحث کرنے کی جھنجھٹ میں نہ پڑنے کا فیصلہ میں نے کیا۔
کھانا ختم ہوا۔ جینی کو اس کے گھر چھوڑنے کے لیے ہم کار میں بیٹھے۔ گاڑی اس کے گھر کے پاس آئی۔ گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے میں نے ہینڈل کے پاس ہاتھ بڑھایا۔ جینی نےاپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا اور بولی: “آف ویڈرزہن!”
میں نے دل سے کہا، “آف ویڈرزہن!” پھر اس نے خود ہی پھرتی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر گئی۔
‘سیرندھری’ کے رنگین پرنٹ برابر بنتے ہیں یا نہیں، اِس کی فکر میں مَیں تھا اور ادھر یہ ایک اور سنگین معاملہ کھڑا ہو گیا تھا!
دوسرے دن ‘اُفا’ سٹوڈیو سے پیغام آیا کہ “نئی ایملشن کی پازیٹو پر ‘سیرندھری’ کے پرنٹس بنائے جا چکے ہیں اور وہ کافی تسلی بخش ہیں۔ دیکھنے کے لیے آؤ۔”
جینی کو بھی سن کر بہت خوشی ہوئی۔ وہ میری طرف دوڑتی ہوئی آئی۔ اسے ہاتھوں سے روک کر دور ہی کھڑی کرتے ہوئے میں نے ہدایت دی، “پہلا کام! دوسری گراری تیار کرنا شروع کرو!”
وہ سہم گئی۔ اس کی طرف کوئی دھیان نہ دے کر میں فوراً لیبارٹری سے باہر آ گیا۔ کار میں جا بیٹھا اور ڈرائیور سے کہا، “بیبلسبرگ، اُفا سٹوڈیو۔”
عام راستہ پیچھے رہ گیا، اب کاروں کے لیے مخصوص سڑک پر ہماری کار دوڑ رہی تھی۔ میں بہت ہی خوشی میں تھا۔ میں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لیے کہا۔ اس کی جگہ پر جا بیٹھا اور خود کار چلانا شروع کیا۔ بیبلسبرگ پہنچنے کی مجھے اتنی جلدی تھی کہ میں کار کی رفتار بڑھاتا ہی گیا، سو، ایک سو بیس، ایک سو چالیس، ڈیڑھ سو، سپیڈ انڈیکٹر سوئی چڑھتی جھکتی جا رہی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد میری سیٹ کے نیچے کچھ گرم گرم لگنے لگا۔ پہلے تو میں نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا، لیکن جب سیٹ بہت زیادہ گرم ہو کر جلانے لگی تو میں نے گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ لیکن گاڑی اتنی تیز رفتار سے بھاگی جا رہی تھی کہ اسے روکتے روکتے کچھ سمے تو لگ ہی گیا۔ دروازہ کھول کر باہر چھلانگ لگائی اور اس کے ساتھ ہی میری سیٹ کے نیچے سے آگ کی لپٹیں لپلپاتی اٹھیں۔ ڈرائیور نے پھرتی دکھا کر جلتی سیٹ نکال باہر پھینکی اور کار میں رکھا کپڑا ریڈئیٹر کی ٹنکی کے پانی میں بھگو کر آگ بجھا دی۔
گاڑی میں کیا نقص پیدا ہو گیا، اس کی چھان بین ڈرائیور کرنے لگا۔ ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے ایگزاسٹ جام ہو گیا تھا۔ اس کی نلی صاف کروانے میں لگ بھگ ایک گھنٹہ لگ گیا۔
اُفا سٹوڈیو پہنچا تو وہاں ولف اور پیٹرسن میری راہ دیکھ رہے تھے۔ ہم نے فوراً نیا پرنٹ دیکھا۔ رنگ کی نظر سے وہ سو فیصد تو نہیں آیا تھا، لیکن کافی تسلی بخش لگ رہا تھا۔ ولف نے کہا، “نگیٹو کی جو بھی گراریاں تیار ہیں، کل یہاں لیتے آنا۔ اور ہاں، ہر روز دوپہر لنچ کے بعد پرنٹ دیکھنے کے لیے آتے رہنا۔”
میں نے ولف کو بہت بہت شکریہ کہا۔
کمرے میں آتے ہی میں نے کولہاپور کے اپنے ساتھیوں کو خط لکھا کہ پرنٹ اچھے بننے والے ہیں۔ بمبئی میں فلم ریلیز کی تاریخ پکی کرنے کے لیے بھی لکھ دیا۔
کافی دنوں بعد من پر سے سارا تناؤ ہٹ گیا تھا۔ لہٰذا اس رات میں جیسے گھوڑے بیچ کر سو گیا۔ سویرے دس بجے جاگا۔ نہانے دھونے سے نبٹ کر باہر نکلا، لنچ کے بعد مجھے اُفا سٹوڈیو میں پہنچنا تھا۔ پہلے میں افیفا گیا۔ نیا پرنٹ بہت ہی تسلی بخش آنے کی خبر جینی کو دی، وہ خوشی سے اچھل پڑی، میری طرف بڑھنے لگی۔ پوری طرح سے معلوم ہو گیا تھا کہ ایسے موقع پر وہ اب کیا کرےگی۔ لہٰذا میں تھوڑا سا ایک طرف ہٹ گیا اور جینی سے کہا، “تم آگے کی گراریاں تیار کرو۔کل گیارہ بجے میں انہیں لے کر جاؤں گا۔” اتنا کہہ کر تیار گراریوں کےکچھ ڈبے اٹھا کر میں وہاں سے چل پڑا۔ جینی میرے ساتھ ایڈیٹنگ روم کے دروازے تک آئی اور بولی، “بیبلسبرگ جانے سے پہلے لنچ کر کے جانا۔ بھوکے نہ رہنا۔”
اس کے کہنے پر عمل کرتا تو مجھے دیر ہو جاتی، لہٰذا راستے میں پھلوں کی ایک دکان سے میں نے کچھ سیب خرید لیے۔ کار میں دو تین سیب میں کھا گیا۔ آگے چل کر یہی سلسلہ میں نے چار پانچ ہفتے تک جاری رکھا۔ اس طرح روز روز سیب کھا کر میں اتنا اوب چکا تھا کہ پھر دس پندرہ سالوں تک سیبوں کو چھوا تک نہیں۔
آخر ’سیرندھری’ کا ایک پورا پرنٹ تیار ہو گیا۔ ولف نے کہہ دیا کہ اب اس سے بہتر پرنٹ نکالنا ممکن نہیں۔ چلو، یہ بھی کیا کم تھا کہ جہاں کوئی بھی پرنٹ بننے کی امید نہیں رہی تھی، کم سے کم کچھ تو تسلی بخش پرنٹ بن سکا۔ مجھے اسی کی خوشی ہو رہی تھی۔ میں نے پہلی بار ‘سیرندھری’ فلم پوری دیکھی۔ ہماری دوسری فلموں کے مقابلے میں وہ مجھے اثردار معلوم نہیں ہوئی۔ یہ پتا نہیں رنگ اتنے اچھے ابھر نہ پانے کی وجہ سے تھا یا کسی اور کارن سے۔ رہ رہ کر ایک خیال ستاتا تھا کہ پتا نہیں ناظرین اس فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کریں گے بھی یا نہیں۔ لیکن اب سوچتے رہنے سے بھی کیا ہونے والا تھا!
میں نے تار دے کر بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) کو مطلع کیا کہ پرنٹ تیار ہو گیا ہے اور اسے ہوائی ڈاک کے ذریعے بمبئی بھجوا رہا ہوں۔
رنگین فلم کا پرنٹ اُفا سٹوڈیو میں جب بن رہا تھا، رنگوں کا کیمیائی عمل کس طریقہ کار سے کیا جاتا ہے، اس کا مجھے بہت تجسس تھا۔ میں نے ولف سے درخواست کی کہ وہ جانکاری مجھے دی جائے اور ساری مشینری بھی دیکھنے دی جائے۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا، “یہ تحقیق ہم نے بہت محنت اور پیسہ خرچ کر کے کی ہے۔ اس کا راز ہم اور کسی کو کبھی نہیں بتائیں گے۔” میں بہت نااُمید ہو گیا۔
لیکن ہماری یہ باتیں ولف کے ایک معاون نے سن لی تھیں۔ ایک بار ولف کی غیرحاضری میں اس نے نہ صرف مجھے پورا کیمیکل روم دکھایا، بلکہ سارا اُفا سٹوڈیو اور وہاں کے ہر ڈپارٹمنٹ میں کون سا کام کس طرح ہوتا ہے، یہ بھی دکھایا۔ اُفا سٹوڈیو بہت بڑا تھا اور بےشمار جدید آلات اور سہولیات پر مشتمل بھی۔ فلم میکنگ کے ڈپارٹمنٹ میں کافی سال بِتا چکنے کے کارن میں فوراً سمجھ لیتا کہ کون سا کام کرتے سمے کیا کٹھنائی آتی ہے، اور اسے یہ لوگ یہاں کس طرح دور کر لیتے ہیں۔
ڈاکٹر ولف کے اس معاون نے سبھی ڈپارٹمنٹ ہیڈز سے میرا تعارف بھی کرایا۔ لہٰذا کبھی ‘سیرندھری’ کے کسی پارٹ کا پرنٹ تیار ہونے میں دیر ہوتی تو میں سٹوڈیو کے احاطے میں آزاد روپ سے کہیں بھی آتا جاتا تھا۔ نتیجتاً کافی باتیں سیکھنے کا موقع مجھے ملتا گیا۔ ہم لوگوں کا تجربہ یہ تھا کہ مشکل سے مشکل معلوم ہونے والی باتوں کو بنانے کے لیے ہمیں بہت زیادہ دَھن اور محنت لگانی پڑتی تھی اور پھر بھی متوقع نتیجہ ہاتھ آتا ہے، ایسا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہاں اس سے کہیں کم محنت اور دَھن لگا کر معمولی چیزوں کی مدد سے اس سے بھی بہتر نتیجہ یہ لوگ حاصل کرتے تھے۔ یہ گُن سیکھنے لائق تھا۔ ہر روز سونے سے پہلے میں دن میں دیکھی ہر بات کی مجموعی جانکاری اپنی ڈائری میں نوٹ کر رکھتا تھا۔ آگے چل کر اسی ڈائری میں درج کئی نئی نئی کھوجوں کو میں پُونا میں بنے ہمارے نئے سٹوڈیو میں عمل میں لایا۔ نتیجتاً ہماری سبھی فلموں کی سطح سسٹم کے نقطہ نظر سے کافی بہترین ہو گئی تھی۔
اس بیچ سیمنز سے پیغام آیا کہ آزمائشی فونوگراف تیار ہیں۔ انہیں دیکھ کر اور سن کر میرا تن من کِھل اٹھا۔ میرا خیال سچ اور کامیاب ہو گیا تھا۔ میں نے فوراً ہر فونوگراف کی ایک ایک ہزار کاپیاں بنانے کا آرڈر دیا۔
‘سیرندھری’ کی فونوگراف پر ہر گانےکا پہلا مصرع دیوناگری میں لکھنا ضروری تھا۔ اس لیے میں نے اپنے ہاتھ سے وہ مصرع لکھ دیا اور پھر لیبلوں کے لیے ان کا بلاک بنوایا۔
آج تک بھارتی فلم کے گیتوں کا فونوگراف کسی نے نہیں بنایا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ فونوگراف بازار میں دستیاب ہو جاتے ہیں تو ان گیتوں کے ساتھ فلم کی بھی مقبولیت بڑھےگی۔ یہی سوچ کر بھارتی فلم سنگیت کا ایک نیا جہاں میں نے کھول دیا۔ فلمی سنگیت کو آج حاصل مقبولیت، اس میں لگائی جانے والی پونجی، اور اس کا فلم انڈسٹری کو مل رہا نفع وغیرہ باتوں کا آج خیال کرنے پر لگتا ہے کہ ضرور ہی جس سمے مجھے یہ خیال سوجھا، وہ بہت ہی خوش قسمت لمحہ ہو گا!
“سیرندھری” کے گیتوں کے فونوگراف بہت زیادہ کامیاب رہے۔ پھر بھی کئی سالوں تک گراموفون کمپنیاں اوریجنل ساؤنڈ پٹی پر سے گیتوں کے گراموفون بنانے سے گریز کرتی تھیں۔ انہی گیتوں کے فونوگراف کے لیے وہ ان کلاکاروں سے دوبارہ گراموفون کمپنی میں گوا لیتی تھیں اور اس گائیکی سے فونوگراف بناتی تھیں۔ لیکن آج فلموں کے سبھی فونوگراف سیدھے فلم کی ساؤنڈپٹی سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ اسی لیے اوریجنل ساؤنڈپٹی سے سیدھے فونوگراف بنانے کے اُن دنوں معجزاتی اور تجرباتی ظاہر ہونے والے میرے خیال پر آج مجھے سچ میں بڑا ناز ہے۔
کچھ دنوں بعد رنگین عمل اور خاص روپ سے بنائے اس پازیٹو کے بِل اُفا سٹوڈیو اور آگفا کمپنی کی طرف سے آئے۔ انہوں نے ہماری نگیٹو کی خرابیوں کا فائدہ اٹھا کر من چاہا بِل بنایا تھا۔ بِل میں موٹی رقمیں پڑھ کر میں تو بالکل ہی حیران ہو گیا۔ میرے پاس اتنے جرمن مارک نہیں تھے۔ لیکن پرنٹ تیار ہو گئے تھے اور بِلوں کی ادائیگی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے بمبئی تار دے کر اور مارک بھجوانے کو کہا۔
اُفا سٹوڈیو میں جا کر میں نے ڈاکٹر ولف کے ساتھ ان بِلوں کے بارے میں بات کی۔ اس سمے ولف میرے ساتھ بہت ہی روکھےپن سے پیش آئے۔ لیکن میں کیا کر سکتا تھا! میں وہاں جلابُھنا بیٹھا تھا، تو ولف نے میرے بارے میں شاید کچھ کہا۔ سن کر وہاں بیٹھے اور سبھی لوگ زور سے قہقہے لگانے لگے۔
میں نے ولف کے معاون سے سب کے ہنسنےکا کارن جاننا چاہا۔ اس نے ولف کی اجازت سے جرمن زبان میں کہے گئے اُس جملے کا مطلب مجھے بتایا: ’’ولف کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں کلمونہے بندروں کی بہتات جو ہے۔” ولف کی اس پھبتی کا ٹارگٹ میں ہی تھا۔ میں آگ بگولا ہو گیا، لیکن چہرے پر ذرا بھی شکن نہ دکھاتے ہوئے میں نے ہنستے ہنستے کہا، “اِدھر جرمنی آنے سے پہلے میرا بھی خیال یہی تھا۔ لیکن یہاں پہنچنے پر میں نے پایا کہ بھارت میں کلمونہے بندروں کی نسبت جرمنی میں سفید مونہے بندروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے!”
ولف کے معاون نے میری بات کا بھی جرمن زبان میں ترجمہ کر انہیں سنایا۔ لیکن چونکہ یہ طنز میں نے ہنستے ہنستے لوٹایا تھا، انہیں بھی اسے ہنس کر ہی ٹالنا پڑا۔
لیکن اس کے بعد ولف میرے ساتھ ایک دم ٹھیک طرح سے پیش آنے لگے۔
ان فونوگراف کے بنانے کے سمے میں نے سیمنز کمپنی کے پتا نہیں کتنے چکر لگائے تھے۔ وہاں میں نے ایک اچھی بات دیکھی۔ کمپنی کے ایک ڈپارٹمنٹ کے آدمی کو دوسرے ڈپارٹمنٹ میں کام کر رہے آدمی سے کوئی بات چیت کرنی ہو تو وہ انٹرکام پر بات کر لیتا تھا۔ اس سے سمے کی کافی بچت ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ہر کارخانے کے باہر سٹول پر بیٹھے اونگھنے والے آفس بوائے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔ اب ہماری ‘پربھات’ کمپنی پُونا جانے والی تھی۔ ہمارا احاطہ بھی کافی وسیع ہونے جا رہا تھا۔ ایسی حالت میں اپنی کمپنی کو جدید بنانے کے لیے ایسے ہی انٹرکام فون سسٹم کا بڑا استعمال ہونے والا تھا۔ یہی سب سوچ کر میں نے فوراً سیمنز کمپنی کو خودکار فون مشینری کا آرڈر دے دیا اور اسے جتنی جلدی ہو سکے بھارت بھجوا دینے کی ہدایات دے دیں۔
یہ سب کر کے میں اپنے پانسیوں پر واپس آیا تو وہاں گھر سے آیا ایک پتر میرا انتطار کر رہا تھا۔ پتر وِمل کا تھا۔ لکھا تھا، ‘پتاجی کی صحت پھر خراب ہے۔ حالت پریشان کن ہو گئی ہے۔ آپ جلدی لوٹ آئیے۔” میں نے خط پر لکھی تاریخ دیکھی۔ وہ تین چار ہفتے پہلےکی تھی۔ من میں طرح طرح کے خدشات اٹھنے لگے۔ باپو کے لفظ یاد آنے لگے: “شانتارام، ہم لوگوں کا سارا جیون کرائے کے مکان میں ہی گزر چکا ہے۔ من بہت چاہتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہمارا اپنا کوئی مکان ہو۔ اب تو ایک ہی خواہش رہ گئی ہے کہ دم نکلے تو ہماری اپنی چھت کے نیچے۔۔۔” میں فوراً ڈاک گھر گیا اور بمبئی میں بابوراؤ پینڈھارکر کو تار دیا : “پُونا کے اپنے سٹوڈیو کے قریب ہی کہیں ماں اور باپو کے لیے ایک بنگلہ بنانا چاہتا ہوں، جگہ خرید لیجیے۔”
ڈاک گھر سے کمرے پر لوٹا ہی تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھول کر دیکھا، تو پانسیوں کی مالکن ہاتھ میں تار کا ایک موٹا لفافہ لیے کھڑی تھیں۔ جرمن بھاشا میں اس کو شکریہ کہہ کر میں نے تار لے لیا۔ تار پورے دو صفحوں کا تھا اور کولہاپور سے آیا تھا۔ لکھا تھا کہ میرے لیے ضرورت سے زیادہ مارک امیریکن ایکسپریس بینک بھجوا دیے ہیں۔ پڑھ کر اچھا لگا۔ راحت بھی محسوس کی۔
تار کا پہلا صفحہ پڑھ کر پلٹ دیا۔ دوسرا پنّا پڑھنے لگا اور بجلی کا بھیانک دھچکا لگنے کا سا احساس ہوا! میں دھڑام سے پیچھے رکّھی کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘ایودھیا کا راجا’ کے کس ورژن کو بمبئی میں ریلیز کیا جائے، اس پر ہمارے یہاں کافی بحث چھڑ گئی۔ بمبئی بہت سی زبانوں کا شہر ہے۔ وہاں کے مراٹھی بولنے والے ناظرین بھی ہندی فلموں کو اتنے ہی چاؤ سے دیکھنے جاتے ہیں۔ اس لیے پہلے چار ماہ ہندی ورژن پیش کرنا طےکیاگیااوربعدمیں مراٹھی۔ وہ دن تھا 6 فروری 1932۔
ناطرین تو پہلے شو سے ہی فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کرنے لگے تھے۔ غلاموں کے بازار کے سین میں ہرِیش چندر، تارامتی اور ان کا بیٹا روہِداس ایک دوسرے سےبچھڑ جاتے تھے۔ وہ سین دیکھ کر ناظرین کے آنسو تھامے نہیں تھمتے تھے۔ بمبئی میں ‘ایودھیا کا راجا’ دیکھنے والی ایک بار جاٹ ریاست کی راج ماتا آئی تھیں۔ بولتی فلم کے چلنے کے کچھ بعد وہ تھئیٹر سے باہر آ کر ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔ انھیں اس طرح باہر بیٹھا دیکھ کر مجھے لگا کہ ہو نہ ہو، راج ماتا دیکھتے دیکھتے اکتا گئی ہوں گی۔ میں نے پوچھا تو وہ بولیں، “نہیں نہیں، شانتارام بابو، ویسی کوئی بات نہیں ہے۔ غلاموں کے بازار میں ہرِیش چندر اور تارامتی کے بچھڑنے کا وہ سین میرےدل میں اتنا گہرا بیٹھ گیا کہ میں اپنی شدت سے آتی سسکیاں روک نہ سکی۔ بہت ہی برداشت سےباہر ہو گیا تو باہر آ کر بیٹھ گئی ہوں۔”
تبھی تھئیٹر میں ناظرین کا یکایک شور مچ گیا، سِیٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ‘کودو کٹکو جیو نار کے لیے، بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے’ گانا شروع ہو گیا تھا، اور ناظرین نےخوشی اور مسرت کے مارے سارا تھئیٹر سر پر اٹھا لیا تھا۔ اس طرح بولتی فلم کے سکھ اور دکھ کے منظروں کا ناظرین پر صحیح اثر ہو رہا تھا۔
ہفتہ در ہفتہ سنیماگھر ناظرین سے پورا بھر جاتا۔ ہر شو میں ایسا ہی ہوتا۔ حالات ایسے ہو گئے کہ لوگوں کو اس فلم کی ٹکٹ ملنا مشکل ہونے لگی۔ ‘ایودھیچا راجا’ ہماری امید سے کہیں زیادہ جوش و خروش سے چلتی رہی۔ اس نے بارہویں ماہ میں قدم رکھا اور میجسٹک سنیما کے مالک نے ہمیں کہلا بھیجا کہ بارہویں ہفتے کے بعد ہماری بولتی فلم وہاں دکھانا بند کر دی جائے گی۔ ان کے فیصلے کا کارن ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ بعد میں بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم ہوا کہ میجسٹک سنیما کے دو مالکوں میں ایک تھے ‘عالم آرا’ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اردیشِر ایرانی۔ ان کی ‘عالم آرا’ بولتی فلم سے بھی زیادہ وقت ہماری فلم چلتی، تو کاروباری نقطۂ نظر سے ان کی ناک نیچی ہو جاتی۔ ممکن ہے اسی لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ ‘ایودھیچا راجا’ جس جوش و خروش کےساتھ مقبول ہوتی جا رہی تھی، اسے دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ اگر اسے ویسا ہی چالو رکھ دیا جاتا تو یقیناً وہ اس وقت ریلیز کی گئی سبھی بولتی فلموں سے زیادہ ہفتےچل جاتی اور سب سے زیادہ وقت تک چلنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیتی۔
مہاراشٹر کے گاؤں گاؤں میں یہ بولتی فلم دھوم مچا رہی تھی۔ آمدنی اور مقبولیت کے سارے ریکارڈ اس نے توڑ دیے تھے۔ ‘ایودھیچاراجا’ کسی گاؤں میں لگتی تو آس پاس کے گاؤوں سے سو پچاس میل کا فاصلہ لوگ ریل یا بیل گاڑیوں سے کاٹ کر اس بولتی فلم کو دیکھنے آتے تھے۔ سنیماگھر کے باہر تو اتنی بھیڑ ہو جاتی کہ جیسےکوئی بڑا میلہ ہی لگا ہو۔ سینکڑوں ریل گاڑی میں کھڑے ہیں۔ بیل جگالی کر رہے ہیں۔ کھانے پینے اور میوہ مٹھائیوں کی دکانیں لگی ہیں۔۔ ایسا منظر دکھائی دیتا تھا۔ ناطرین کی تو ایسی بھیڑ اکٹھی ہو جاتی کہ طے شدہ تعداد سے زیادہ شو دکھانے پڑتے۔ اس پر بھی کئی لوگ ایسے ہوتے تھے، جنھیں بولتی فلم کے ٹکٹ نہیں مل پاتے تھے۔ یہ لوگ پھر اپنی اپنی بیل گاڑیوں میں یا پیڑوں کے نیچے ڈیرا ڈال دیتے اور دوسرے دن فلم دیکھنے کے بعد ہی رات میں اپنے گاؤوں کو لوٹتے تھے۔
لیکن ہماری بولتی فلم کے مراٹھی ورژن کو جو بھاری کامیابی حاصل ہوئی وہ ہندی ‘ایودھیا کاراجا’ کو گجرات، ممبئی کےعلاوہ کہیں اور نصیب نہیں ہوئی۔ ہم نے ‘ایودھیا کا راجا’ کو اُتّر بھارت میں ریلیز کیا۔ ہماری کہانی مکمل طور پر قدیم کہانی کے مطابق نہیں، یہ الزام اُتر بھارت واسی ہم پر لگا رہے تھے۔ لیکن اس کی تہہ میں اصل بات یہ تھی کہ راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی ایک ناٹک اُتر بھارت میں بہت ہی مقبول ہو چکا تھا۔ ناٹک کو بےحد دلچسپ بنانے کے چکر میں اس کے لکھاری نے کہانی میں اپنی طرف سے کئی خیالی سین جوڑ دیے تھے۔ ناٹک دلچسپ بنا تو تھا، لیکن اس میں بیان کردہ منظروں کا عوامی ذہن پر کچھ اتنا زیادہ اثر چھا گیا تھا کہ لوگ ناٹک میں بیان کی گئی ہر بات کو حقیقی ماننے لگے تھے۔ سارے منظر قدیم تاریخ کے مطابق ہی ہیں، یہ سوچ بنا بیٹھے تھے۔ تارامتی اپنے گلے میں پہنا منگل سوتر بھی بیچ دیتی ہے، ایسا ایک سین ناٹک میں دکھایا گیا تھا۔ چونکہ ایسے سین ہماری ہندی بولتی فلم میں نہیں تھے، ہو سکتا ہے کہ اسی لیے اُتر بھارت واسی ہماری بولتی فلم پر ناراض ہو گئے ہوں۔ جو بھی ہو، ہمارا ہندی ورژن فیل ہو گیا۔ لیکن مجھے اس کا کوئی رنج نہیں تھا۔ آمدنی کی نظر سے مراٹھی ‘ایودھیچا راجا’ ہندی ورژن میں ہو رہے گھاٹے کی کہیں زیادہ پُورتی کرتی جا رہی تھی۔
اسی معاشی بدحالی سے نجات کی وجہ سے پھر ایک بار اپنے من کی سبھی خواہشات کے مطابق ایک بَڑھیا فلم بنانے کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ اب اس نئی بولتی فلم کو میں پوری طرح اپنی ہی خواہشات کے مطابق پورا کرنے جا رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ نئی فلم صرف بولتی فلم نہ ہو، نہ ناٹک ہو، بلکہ وہ ہر طرح سے ایک موشن پکچر ہو۔ اسی فیصلے سے میں نے کام کرنا شروع کیا۔ ایک وچار یہ آیا کہ نئی فلم میں مکالمے کم سے کم ہوں، گیت بھی بس گنے چنے ہی ہوں اور سین اور ایکٹنگ پر زیادہ زور دیا گیا ہو۔ اسی کے مطابق میں اپنی نئی فلم کے لیے کہانی طے کرنے لگا۔ کہانی کے بارے میں ایک آئیڈیا میں نے گووند راؤ ٹیمبے کے سامنے رکھا۔ وہ اچھے لکھاری بھی تھے۔ انھوں نے میرے خیال کےمطابق ایک اچھی سی کہانی لکھ دی۔ اس بار تو میں نے پکی ٹھان رکھی تھی کہ نئی فلم،خاص کر اس کا ہندی ورژن اتنا پُرکشش بناؤں گا کہ سارے ہندوستان میں کھلبلی مچ جائے۔
مووی کے ہندی ورژن کو میں نے ‘جلتی نشانی’ اور مراٹھی کو ‘اگِن کنکن’ نام دیا۔ خاص کردار وِنائک، لِلا بائی چندرگری، بابوراؤ پینڈھارکر اور کملا دیوی کو دیے۔ ہندی اور مراٹھی دونوں ورژن کی میوزک ڈائریکشن گووند راؤ ٹیمبے نےکی۔ فلم کی ڈائریکشن میں مَیں نے اپنا آج تک کا سارا تجربہ داؤ پر لگا دیا۔ اس فلم کی ڈائریکشن کی کچھ خاص ڈھنگ کی خوبیوں کو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا۔ کچھ خوبیاں اس طرح تھیں:
رانی اپنے نوزائیدہ راجکمار کو بُرے وزیر کے چُنگل سے بچانے کے لیے راج پاٹ چھوڑ کر بھاگ نکلتی ہے۔ وزیر کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاری ہوئی رانی سڑک کے کنارے ایک گڑھے میں اپنے آپ کو چھپا لیتی ہے۔ تبھی وہ نوزائیدہ بچہ رونے لگتا ہے۔ حکمران کے سپاہی نزدیک آتے جا رہے ہیں۔ ظاہر تھا کہ راجکمار کے رونے کی آواز سے انھیں رانی کے چھپنے کی جگہ معلوم ہو جاتی۔ لہٰذا رانی اپنے بچے کا منھ بند رکھنے کے لیےہاتھ آگے بڑھاتی ہے، تاکہ سپاہیوں کو اس کے رونے کی آواز سنائی نہ دے۔ لیکن تبھی اس کا ہاتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ منھ دبانے سے کہیں راجکمار کا دم نہ گھٹ جائے۔ رانی سوچ میں پڑ جاتی ہے۔ سپاہی اب کافی نزدیک آ گئے ہیں۔ رانی فورا آگے بڑھ کر راجکمار کو چوم لیتی ہے اور اپنے منھ سے اس کا منھ بند کر اسے اپنے منھ سےسانس دینے لگ جاتی ہے۔ راجکمار کے رونے کی آواز سپاہی نہیں سن پاتے۔ وہ آگے نکل جاتے ہیں۔
اس منظر کو دیکھنے کے بعد ناظرین نے زور سے تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی اور کچھ شائقین، جو اب مجھے جاننے لگے تھے، چِلّا اٹھے، “واہ، شانتارام! واہ!”
آگے چل کر وہ رانی اپنے راجکمار کے ساتھ اونٹوں کے ایک غریب بوڑھے بیوپاری کی جھونپڑی میں رہنے لگتی ہے۔ راجکمار بڑا ہونے لگتا ہے۔ راجکمار بڑا ہوجائے تو اس کے لیے اپنا کھویا ہوا راج پاٹ پھر حاصل کرنےکی کوشش رانی کرتی ہے۔ ایک ایک سال گزرتاجاتا ہے۔ اپنی جدوجہد کی یاد برابر بنی رہے اس لیے ہر سال رانی جلتی سلاخ سے اپنے ہاتھ کو داغ لیتی ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ ایک تو رانی کے ہاتھ پر اٹھی جلتی نشانیوں کی تعداد سے ناظرین کو یہ پتا چلتا ہے کہ کتنےسال بیت چکے ہیں اور دوسرے، رانی کے اندر انتقام کا احساس کتنا شدید تھا، اس کا بھی اندازہ انہیں ہو جاتا ہے۔ رانی اپنے آپ کو اس طرح داغ لیتی ہے، یہ سین اتنا جاندار بن گیا تھا کہ اس وقت ناظرین بھی اپنی ‘آہ!’ سے سنیماگھر کو بھر دیتے تھے۔ رانی اپنے ہاتھ پر انیسواں داغ لگا رہی ہے، اس سین سے فلم کا آغاز ہوتا تھا۔ نتیجتاً منظروں کی شدت ایک دم پہلے سین سے ہی برابر بڑھتی جاتی تھی۔
اب تک رواج تو یہی تھا کہ فلم میں موقع بہ موقع من مانی تعداد میں گیت شامل کیے جاتے۔ ‘شیریں فرہاد’، ‘لیلیٰ مجنوں’ اور یہاں تک کہ ہمارے ‘ایودھیچا راجا’ میں بھی گیتوں کی بھرمار تھی۔ ‘جلتی نشانی’ میں ہم نے گیت ایک دم گنے چنے اور سین کے مطابق ہی رکھے تھے۔ اس میں ایک سین ایسا بھی رکھا تھا کہ اپنے باپ کو جسمانی تشدد سے بچانے کے لیے ہیروئن ولن کی زبردستی کی وجہ سے ایک غمگین گیت گاتی ہے۔
اس فلم کے بارے میں مجھے ایک طرح کا اعتماد تھا، اس لیے میں نے اس کا ہندی ورژن بمبئی میں پہلے ریلیز کیا۔ عام ناظرین نے تو اس فلم کو سر پر اٹھا ہی لیا، جانے مانے دانشمند مبصرین نے بھی رائے ظاہر کی کہ بولتی فلم کیسی ہو، یہ جاننے کے لیے ‘پربھات’ کی ’جلتی نشانی’ ضرور دیکھی جائے!
کلکتہ میں ایک نیا تھئیٹر ‘نیو سنیما’ بنا تھا۔ اس کا افتتاح ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم سے ہوا۔ نیو سنیما کے مالک تھے بنگال کے سلیبرٹی فلم میکر اور ‘نیو تھئیٹرز’ کے مالک بی این سرکار۔ بنگال میں ایک فلمی اخبار ‘فلم لینڈ’ نکلتا تھا۔ اس کا سارے ملک میں بول بالا تھا۔ اس فلمی میگزین میں ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم کی بےحد تعریف شائع ہوئی۔ میگزین نے لکھا تھا، بنگالی فلم پروڈیوسر، ہدایت کار، فنکار، تکنیک کار وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس فلم کو دیکھیں، بلکہ اس کا باریکی کے ساتھ مطالعہ بھی کریں۔ مجھے اخبار کی یہ بات کچھ مبالغہ آمیز لگی۔
کچھ سال بعد، پُونا میں ہماری پربھات کمپنی کا کام شروع ہونے کے بعد ‘نیو تھئیٹرز’ کی طرف سے ہی مشہور بنگالی ڈائریکٹر دیوکی بوس ایک بار پربھات میں آئے تھے۔ انہوں نے وقار کے ساتھ مجھ سے کہا تھا، “شانتارام، آپ کو پتا نہیں ہو گا شاید، میں نے آپ کی ‘جلتی نشانی’ فلم دس بارہ بار دیکھی اور اس کے ہر شاٹ کا ٹھیک ٹھیک مطالعہ کیا ہے۔ ڈائریکشن کی نظر سے مجھے اس کا بہت فائدہ ہوا!”
ایک سچے کلاکار نے اس طرح من سے مجھے داد دی، اور کیا چاہیے تھا؟ اس ملاقات سے پہلے دیوکی بوس کی ڈائریکٹ کی ہوئی ‘وِدیاپتی’ میں نے پُونا میں دیکھی تھی۔ مجھے وہ اتنی پسند آئی تھی کہ بوس جی سے کچھ بھی تعارف نہ ہوتے ہوئے بھی میں نے خود ان کوخط لکھ کر دلی مبارکباد دی تھی۔
‘جلتی نشانی’ کی غیرمتوقع کامیابی کی وجہ سے سٹوڈیو کےسبھی لوگ بہت خوشیاں منا رہے تھے۔ لیکن میں اندر ہی اندر سنجیدہ ہوتاجا رہا تھا۔ ‘جلتی نشانی‘ کی لوگ کافی تعریف کیے جا رہے تھے۔ اسے دیکھنے کے لیے بھیڑ روز بروز بڑھتی ہی جا رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی امیدیں بھی بڑھ رہی تھیں۔ توقعات بھی کافی اونچی اٹھتی جا رہی تھیں۔ ‘پربھات’ کو پیار دینے والےان ناظرین کو اب اور نیا، اور اچھا دیں تو کیا دیں؟ اسی کی فکر میں میں کھو گیا تھا۔ باربار جی کرنے لگا کہ اب کی بار کوئی سماجی فلم بناؤں اور اس کے ذریعے سے کسی سُلگتی سماجی فکر کو پیش کروں۔
انھیں دنوں مراٹھی کے مقبول ڈرامہ نگار ماما وریرکر کا ‘وِدھوا کماری’ ناول میں نے پڑھا۔ مجھے وہ ناول بہت ہی پسند آیا۔ پھر تو وریرکرجی کے دیگر ناول اور ناٹک بھی میں نے پڑھ ڈالے۔ ان سب کا میرے من پر کافی اچھا اثر پڑا۔ میں نے انھیں بمبئی سے بلوا لیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے معاصر سماجی مسئلے پر ایک اچھی سی کہانی لکھ کر دیں۔
انہوں نے قبول کیا۔ کہانی لکھنا شروع بھی کیا۔ ایک مہینہ بیت گیا۔ بعد میں انھوں نے مجھے وہ کہانی سنائی۔ لیکن کہانی سن کر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ انھوں نے ناٹک کے اسلوب میں پوری کہانی مکالموں کی صورت پیش کی تھی۔ میں نے اس کہانی پر ان کےساتھ تفصیل سے بحث کی اور ایک فلم ڈائریکٹر کے طور پر میں صحیح صحیح کیاچاہتا ہوں، انہیں سمجھا کر بتا دیا۔ انہوں نے اگرچہ جتایا کہ انہیں میری بات سمجھ میں آ گئی ہے، پھر بھی وہ مجھ سے کچھ ناراض بھی ہو گئے، کیونکہ میں نے ان کی کہانی جوں کی توں قبول نہیں کی تھی۔ میں نے ماما صاحب سے کہا کہ جلدی کی کوئی بات نہیں ہے، وہ آرام سے ممبئی جا کر کہانی کو پورا کر سکتے ہیں۔
لگ بھگ اسی وقت ہمارے جنوبی بھارت کے ڈسٹری بیوٹر جنیتی لال ٹھاکر کولہاپور آئے۔ انہوں نے ہمیں یہ خوشخبری دی کہ بنگلور، مدراس وغیرہ سبھی شہروں میں ‘جلتی نشانی’ کا اچھا استقبال ہو رہا ہے۔ ہماری آئندہ فلم کون سی ہے، اس کی بھی انھوں نے پوچھ تاچھ کی۔ میں نے نئی کہانی کے بارے میں اپنی کٹھنائی انھیں بتا دی۔
انھوں نے یوں ہی باتوں باتوں میں بتایا کہ گووند راؤ ٹیمبے اپنی شِوراج ناٹک منڈلی کی طرف سے ‘سِدھ سنسار’ نامی ایک ناٹک پیش کیا کرتے تھے اور اس پر ایک اچھی فلم بنائی جا سکتی ہے۔ چونکہ اصل ناٹک پر مبنی فلم بنانے کی میری کوئی خواہش نہیں تھی، میں نے ان کی باتوں کی طرف خاص دھیان نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے زبردستی اس ناٹک کی کہانی کا کچھ حصہ سنایا۔ یہ کہانی ناتھ برادری کے سادھوں کے گرو مچھندر ناتھ کے جیون کے ایک غیرمعمولی واقعے پر مبنی تھی۔
مچھندر ناتھ ستری(عورت) ریاست میں جاتا ہے۔ اس ستری (عورت) ریاست کی رانی کِلوتلا انسانوں سے نفرت کرنے والی ہوتی ہے۔ مچھندر ناتھ کو حاصل غیرفطری طاقتوں اور اس کے دکھائے جانے والے چمتکاروں کا اس پر اثر پڑتا ہے۔ کِلوتلا مچھندر ناتھ سے شادی کر لیتی ہے۔ مچھندر ناتھ اس ستری (عورت) ریاست میں رہنے لگتا ہے۔ اسے اس محبت کے جال سے مُکت کرانے کے لیے اس کا خاص شاگرد گورکھ ناتھ مرِدنگ بجانے والے کا بھیس بنا کر اس ستری(عورت) راج میں جاتا ہے۔ کِلوتلا اور مچھندر ناتھ جب بسنت تہوار کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں، گورکھ ناتھ مردنگ بجانا شروع کرتا ہے۔ مردنگ سے گمبھیر آواز نکلتی ہے، “چلو مچھندر، گورکھ آیا، چلو مچھندر، گورکھ آیا”- مردنگ کے ان بولوں کو سن کر مچھندر ناتھ بےچین ہو اٹھتا ہے۔ کَلوتلا اسے چھوڑتی نہیں، گورکھ ناتھ برہم ہو کر چلا جاتا ہے اور سیدھا مچھندر ناتھ کی غار میں جا پہنچتا ہے۔ وہاں دیکھتا کیا ہے کہ مچھندر ناتھ تو سمادھی جمائے بیٹھے ہیں۔ گورکھ ناتھ کا غصہ دور ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ یہ تو سب اپنے گرو کی مایا ہے۔
اس کہانی کو فلم کی نظر سے میں نے کافی مضبوط پایا۔ بس میں نے طے کر لیا کہ آئندہ فلم اسی کہانی پر بنائی جائے۔ اپنے ساتھیوں اور گووند راؤ کو میں نے یہ بات بتائی۔ ‘سدھ سنسار’ ناٹک کے مکمل حقوق گووند راؤ ٹیمبے کے پاس محفوظ تھے، انھوں نے ہی فورا پتر لکھ کر ناٹک کے حقیقی لکھاری سے فلم بنانے کے لیے اجازت حاصل کر لی۔ لیکن ناٹک کہیں بھی چَھپا ہوا نہیں تھا، لہٰذا اس کے مکالمے وغیرہ کیسے ہیں، معلوم کرنا مشکل تھا۔ لیکن یہ کٹھنائی بھی منٹوں میں دور ہو گئی۔ ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں راجارام بابو نامی ایک آرگن پلیئر تھے۔ وہ کسی زمانے میں شِوراج ناٹک منڈلی میں کام کیا کرتے تھے۔ انھیں یہ ناٹک پورا یاد تھا۔ ہم نے ان سے ‘سِدھ سنسار’ ناٹک منظم طور پر لکھوا لیا اور اس سکرپٹ سے میں نے فلم کی کہانی اپنے من سے لکھنی شروع کی۔
اس فلم کے لیے اداکاروں کا انتخاب شروع کیا۔ مچھندر ناتھ اور کلوتلا کا کردار کرنے کے لیے پھر ‘ایودھیچا راجا’ کے ہیرو ہیروئن کی جوڑی کو ہی پسند کیا۔ گووند راؤ ٹیمبے اور دُرگا بائی کھوٹے کو وہ کام دیے گئے۔ گورکھ ناتھ ونائک کو بنایا گیا۔ فلم کا نام رکھا ‘مایا مچھندر’۔ شوٹنگ شروع ہو گئی۔
اور ایک دن مجھے بخار ہو گیا۔ بات یہ ہوئی تھی کہ دو تین دنوں سے میں بخار میں ہی شوٹنگ کرتا رہا، جس کا نتیجہ تھا کہ اب بخارکچھ زیادہ ہو گیا تھا۔ ہمارے خاندان کے ڈاکٹر پادھیے نے میری صحت کو اچھی طرح سے دیکھا بھالا، معائنہ کیا اور تشخیص کی کہ ٹائیفائڈ ہے۔ اُن دنوں آج کے طرح ٹائیفائڈ کی اکسیر دوائیاں نہیں نکلی تھیں۔ یہ بیماری کافی لوگوں کی جان لے لیتی تھی۔ عام آدمی کے لیے تو یہ بیماری جان لیوا ہی مانی جاتی تھی۔ فطری طور پر گھر کے لوگوں کے تو ہوش اڑ گئے۔ کمپنی میں بھی گھبراہٹ پھیل گئی۔ ‘مایا مچھندر’ کی شوٹنگ پورا کرنے کا کام میں نے دھایبر اور دیگر ساتھیوں کو سونپ دیا اور اس کے بعد کیا ہوا، میں نہیں جانتا۔
مجھے کچھ آرام ہو جانے کے بعد اپنی بیماری کا قصہ معلوم ہوا۔ میں کافی دن بےہوش پڑا تھا۔ ایسے میں ہی ایک دن تو میری صحت گمبھیر روپ سے گر گئی۔ ڈاکٹروں کو نبض کا پتا تک نہیں چل پا رہا تھا۔ سبھی بےحد فکرمند تھے۔ کمپنی کے سب لوگ میرے گھر کے باہر رات بھر جاگتے رہے تھے۔ لیکن وہ گھڑی ٹل گئی! دوسرے دن سےدھیرے دھیرے بخار کم ہونے لگا۔ لیکن میں بےحد کمزور ہو چکا تھا۔
کچھ صحت پکڑتے ہی میں پھر کمپنی میں جانے لگا اور ہمیشہ کی طرح جلدی جلدی کام نبٹانے میں لگ گیا۔ لیکن اب کمپنی میں میری باتوں کو لوگ مانتے نہیں تھے۔ دوپہر کے چار بجے نہیں کہ سب لوگ اپنا اپنا میک اپ اتار کر گھر جانے کی تیاری کرنے لگتے۔ دھایبر، فتے لال جی اور داملےجی کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈر بند کر دیتے۔ پھر تو میں مجبور ہو جاتا اور جلد ہی گھر لوٹ جاتا۔
میرے ہر دن کی غذا میں ثابت موٹھ، مٹر، چنے چھولے وغیرہ کی بہتات ہوتی تھی۔ یہ چیزیں مجھے بہت ہی مزےدار بھی لگتی تھیں۔ لیکن اب بیماری کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے وہ غذا لینے کو منع کر دیا تھا۔ ان کی اس مناہی پر بہت سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ کمپنی میں دوپہر میں ہم سب لوگ ایک ساتھ بھوجن کرنے بیٹھتے تھے۔ کسی کے ڈبے میں میرے من چاہے چٹپٹے چھولے، مٹر وغیرہ ہوتے تو گووند راؤ مجھے باربار ہدایت دیتے، “شانتارام بابو، آپ کو وہ کھانا منع ہے۔”
لیکن مجھے چھولے کھانا منع کرتے کرتے گووند راؤ کے منھ میں چھولے لفظ اس طرح بیٹھ گیا تھا کہ ایک دن شوٹنگ کرتے وقت ہمیں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو کر شوٹنگ کو بیچ ہی میں روک دینا پڑا۔
اُس دن بسنت تہوار کے سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ گورکھ ناتھ کےظاہر ہوتے ہی کِلوتلا غصے میں اس پر برس پڑتی ہے اور اس کی سمت دوڑ پڑتی ہے۔ تب مچھندرناتھ کہتا ہے، “کِلوتلے، تمھارا سوبھاؤ تو بس اچانک شعلہ برساتا ہے۔” لیکن گووند راؤ عادت سے لاچار ہو کر کہہ بیٹھے، “کِلوتلے، تمہارا سوبھاؤ تو بس اچانک چھولے برساتا ہے۔‘‘
اس طرح ہنستے ہنساتے، لیکن ہمیشہ کے برعکس کچھ دھیمی رفتار سے، ساری شوٹنگ مکمل ہو گئی۔ ایڈیٹنگ کے کام بھی پورے ہو گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر فلم کی ایک کاپی لے کر بمبئی سنسر کے پاس گئے۔ فلم کی پیشکش اس کے آٹھ دس دنوں بعد کی جانے والی تھی۔
بیماری کے بعد مجھے آرام کرنے کی ضرورت تھی، لہذا میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بابوراؤ پینڈھارکر اکیلے بمبئی گئے اور دوسرے ہی دن مجھے ان کا تار ملا: “شام کی گاڑی سے بمبئی چلے آؤ، ضروری کام آ پڑا ہے۔‘‘ تار کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ داملےجی سے پوچھا تو کہہ دیا، “آپ ہی جائیے، میں نہیں جاؤں گا۔” بات سمجھاتے ہوئے داملےجی نے کہا، “نہیں، جانا تو آپ ہی کو ہو گا، کیونکہ آپ کو بلایا ہے۔”
جیسے تیسے میں بمبئی جانے کے لیے تیار ہو گیا۔
بمبئی پہنچتے ہی میں اسی دن سویرے بابوراؤ پینڈھارکر کے دفتر گیا۔ وہاں ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ بہت ہی گمبھیر انداز میں بیٹھے تھے۔ سب سے میں نے اس طرح فوراً بمبئی بلانے کا کارن جاننا چاہا، لیکن ایک نے بھی صاف جواب نہیں دیا۔ پینڈھارکر نے کہا، “چلیے، پہلے ہم لوگ تھئیٹر میں جا کر ‘مایا مچھندر’ دیکھ لیتے ہیں۔‘‘
اُن دنوں تھئیٹروں میں صبح کے شو نہیں ہوا کرتے تھے۔ تھئیٹر جاتے جاتے راستے میں میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟ سب کے اس طرح منہ لٹکے ہوئے کیوں ہیں؟”
میری تنک مزاجی اور ہٹِیلے سوبھاؤ سے واقف ہونے کے کارن بابوراؤ نے کچھ جھجکتے ہوئے بتایا، “سب کی رائے ہے کہ اس فلم میں دو ایک اور اچھے سین اور ایک دو گیت ڈالےجائیں، اور بعد میں ہی اسے ریلیز کیا جائے۔ کل فلم دیکھنے کے بعد گووندراؤ ٹیمبے، دُرگا بائی، تورنے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ سب کی یہی رائے رہی۔ اس حالت میں فلم اثردار نہیں لگتی۔”
“لیکن میں اس رائے کو نہیں مانتا۔ میری رائے میں فلم آج جیسی ہے، ویسی ہی کافی اثردار ہے۔ یعنی آپ لوگوں کی رائے کا مطب یہ ہوا کہ میں نے بِنا سوچے سمجھے ہی فلم یہاں بھیج دی، کیوں؟”
بابوراؤ نے شانت رویے سے کہا، “آپ ‘مایامچھندر’ کو ایک بار پھر دیکھیے تو سہی، پھر ہم لوگ بیٹھ کر بحث کریں گے۔”
ممبئی کے ‘کرشن ناٹک گرہ’ کے سنیماگھرمیں تبدیلیاں کی جانے والی تھیں، اور نئے روپ میں اس سنیماگھر کا افتتاح ہماری ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز سے ہونے والا تھا۔ ہم سب نے وہاں اپنی فلم دیکھنی شروع کی۔
فلم کے پہلے تین حصے دیکھنے کے بعد میں اٹھ کر باہر چلا آیا۔ باقی سب لوگ بھی میرے پیچھےپیچھے باہر آ گئے۔ میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “ابھی اسی وقت اس فلم کو میجِسٹک سنیما میں دیکھنےکا بندوبست کیجیے۔”
بابوراؤ پینڈھارکر نے فوراً وہ بندوبست کر دیا۔
ہم لوگ میجسٹک میں ‘مایا مچھندر’ دیکھنے لگے۔ مجھے فلم اثردار معلوم ہو رہی تھی۔ اس کی کامیابی کے بارے میں یقین ہوتا جا رہا تھا۔ فلم ختم ہوئی۔ ہم سب لوگ باہر آ گئے۔ سب کی نظریں مجھ پر لگی تھیں۔ ان کی نظروں میں امید تھی، توقع تھی۔ میں نے سب سے سوال کیا، “آپ لوگوں نے یہ فلم پہلےکرشن سنیما میں اور اب یہاں میجسٹک سنیما میں دیکھی ہے۔ اب بتائیے، کچھ فرق لگا؟ اسی فلم کو اس تھئیٹر میں دیکھنے کے بعد آپ کو کیسا لگا؟”
سب نے گووندراؤ ٹیمبےکو جواب دینے کے لیے آگے کیا۔ گووند راؤ نے کہا، “یہاں ہم لوگوں کو فلم کے گیت اور مکالمے زیادہ اچھی طرح سنائی دیے۔ لیکن، شانتارام بابو۔۔۔”
ان کی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر)، آپ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ کرشن سنیما میں ساؤنڈ سسٹم اچھا نہیں ہے۔ وہاں کا ساؤنڈ سسٹم ُسدھارا نہیں جاتا، تب تک آپ ہماری فلم کو وہاں ریلیز نہ کریں۔ اور آپ سب لوگ اچھی طرح سے سُن لیں، میری رائے میں اس فلم میں نئے سین جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس میں کچھ بھی جوڑتوڑ کرنے والا نہیں ہوں! اسے جیسی ہے ویسی ہی ریلیز کرنا ہو گا!” پھر بابوراؤ پینڈھارکر کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ، آج شام کی گاڑی سے میرے کولہاپور لوٹنے کا بندوبست کروا دیجیے۔”
ہو سکتا ہے، میرے اس طرح کے بول سے میرے ساتھیوں کے دل کو ٹھیس لگی ہو، لیکن اسے سمجھنے کی کوشش میں نے نہیں کی۔
جس دن صبح بمبئی پہنچا تھا، اسی دن شام کی دکن کوئین پکڑ کر میں بمبئی سے کولہاپور کی جانب چل دیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) اور پینڈھارکر دونوں مجھے رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر آئے تھے۔ دونوں میرا منہ تک رہے تھے۔ میں اپنے ہی خیالوں میں کھو گیا تھا۔ گاڑی چل پڑی۔ میں ان کی طرف دیکھ کر سوکھا سا مسکرا دیا۔ وہ بھی عجیب کشمکش میں پڑ کر محض ہنس دیے۔ صبح کے سین کو لے کر میرے من میں وچاروں کا طوفان برپا ہو گیا تھا۔ میری ضد کیا صحیح تھی؟ ٹھیک تھی؟ کیا مجھے سب کی رائے مان نہیں لینی چاہیے تھی؟ میری اس ہٹ دھرمی کے کارن کل کو ‘مایا مچھندر’ نہیں چلی تو؟ کیا میرے ساجھےدار اور یہی سب لوگ میری ہٹ دھرمی کو ہی دوش نہیں دیں گے؟ اس ناکامی کا دوش میرے ہی متھے مڑھا جائےگا۔ کیا واقعی میں یہ ضدی پن یا ہٹ دھرمی تھی؟ اگرچہ نہیں! وہ تو میرے اپنے خیال میں اٹوٹ اعتماد کی علامت تھا۔ دوسروں کی بات پر میں اپنے فیصلوں کو بدلنے لگ جاؤں، تو میں اپنی خوداعتمادی کھو بیٹھوں گا اور ہمیشہ کے لیے ذہنی اپاہج پن کا شکار ہو جاؤں گا۔ خوداعتمادی کے ساتھ راستے پر چلتے چلتے ٹھوکر کھا جاؤں تو بھی ہرج نہیں، لہولہان ہو جاؤں تو بھی پروا نہیں، لیکن دوسروں کی رائےکی بیساکھیاں لے کر میں کبھی نہیں چلوں گا۔ اس کارن ‘مایا مچھندر’ کی ناکامی کا دوش میرے متھے مڑھا جانے والا ہو تو مڑھا جائے، اپنی بلا سے!
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
…………………..
‘گوپال کرشن’کو غیرمتوقع کامیابی ملنے کی وجہ سے ساری کمپنی میں جان آ گئی۔ کمپنی کا کام بھی بڑھ گیا۔ آج تک ساری خط و کتابت میں ہی دیکھا کرتا تھا، لیکن اب کام بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے خط و کتابت کی طرف کافی دھیان دینے کی فرصت مجھے نہیں مل پا رہی تھی۔ ایک دن بابوراؤ پینڈھارکر سے ملاقات ہو گئی۔ مہاراشٹر فلم کمپنی سے ناطہ توڑنے کے بعد انھوں نے بمبئی جاکر ‘وندے ماترم’ نامی فلم بنائی تھی۔ لیکن سینسر کی قینچی نے اس کی ایسی درگت بنا دی تھی کہ وہ ایک دم فیل ہو گئی۔ لہٰذا اس وقت وہ بالکل بے کار بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا، “کیا آپ ‘پربھات’ میں مینیجر کا کام قبول کریں گے؟” انہوں نے بےکار کی بحث میں نہ پڑ کر فورا ‘ہاں’ کہہ دی۔ بابوراؤ پینڈھارکر ہمارے مینیجر بن کر روز سارا کاروبار دیکھنے لگے۔ خط و کتابت کی بھی فکر مجھے نہیں رہی۔
‘گوپال کرشن’ کولھاپور میں ریلیز ہونے جا رہی تھی۔ ہم چاروں کی خواہش تھی کہ بابوراؤ پینٹر اسے دیکھ کر ہمیں دلی آشیرواد دیں۔ ہم چاروں انھیں مدعو کرنے گئے۔ اس وقت صحت خراب ہونے کی وجہ سے بابوراؤ پینٹر اسپتال میں بھرتی کیے گئے تھے۔ ہم نے اپنی خواہش ظاہر کی۔ ہمیشہ کی طرح وہ خاموش رہے۔
فتے لال جی نے پھر صبر کے ساتھ پوچھا، “تو آپ صحت حاصل کر لینے کے بعد تو آئیں گے نا؟”
پھربھی کوئی جواب نہیں ملا۔ ہم لوگ بڑی امید سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے،اور ایک وہ تھے جو کہیں اور دھیان لگائے خاموش پڑے تھے۔ کچھ لمحوں بعد انتہائی ناراض ہو کر، ‘اچھا’، کہہ کر ہم لوگ چلے آئے۔
اس کے دوچار دن بعد بابا گزبر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا، “بابوراؤ کا رویہ بھی کتنا عجیب ہے! آپ لوگ انھیں مدعو کرنے گئے تھے، اس کے کچھ ہی وقت بعد میں ان کے پاس گیا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے، پربھات فلم کمپنی کےمالک آئے تھے، میں زندہ ہوں یا مر گیا، دیکھنے کے لیے۔” اور اس کے بعد انہوں نے جو کہا اسے سن کر میں ایک دم ٹھنڈا پڑ گیا۔ انھوں نے کہا تھا، “یہ لوگ مجھ سے جو کچھ سیکھ کر گئے تھے، سارا ایک ہی فلم میں ختم کر بیٹھے ہیں! اب دیکھتے ہیں، آگے کیا کر پاتے ہیں!”
اب آئندہ فلم کیا ہو؟ اس کے لیے کہانی کیا چنی جائے؟ ‘گوپال کرشن’ کو ریلیز کرنے بمبئی گیا تھا، تب وہاں میں نے ایک ماردھاڑ والی فلم جان بوجھ کر دیکھی تھی، جو بمبئی کے ایک اولین پروڈیوسر نے بنائی تھی۔ ماردھاڑ سے بھرپور اسٹنٹ فلم میں ہیرو کا کام،مہاراشٹر فلم کمپنی میں میرے تحت ایڈیٹنگ کاکام کرنے والا وِٹھل ہی اب ماسٹر وٹھل کے نام سے کرتا تھا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی میں تلواربازی، ڈنڈے بازی کی جو تربیت اسے ملی تھی،اس کا پورا استعمال کرتے ہوئے ماسٹر وٹھل اس زمانے کے ناٹکوں کے لیے ضروری ہو چکا تھا۔ اسٹنٹ فلموں میں مصنوعی اور مشکل منظروں کی بھرمار ہوا کرتی تھی اور ناظرین کو سستی تفریح مہیا کرنا ان کا مقصد ہوا کرتا تھا۔ زوردار تلوار چلا کر ایسی فلموں کا ہیرو دشمن کے بیس پچیس سپاہیوں کو ڈھیر کر دیتا تھا۔ زمین سے بارہ پندرہ فٹ اونچی دیوار پر نیچے سے چھلانگ لگا کر وہ آرام سے بھاگ نکلتا تھا۔ اُن دنوں ایسی فلم کے لیے لوگوں کی دلچسپی بہت بڑھ گئی تھی۔
اتنے سستے جوش کی اس فلم کو دیکھنے پر مجھے تو گھن سی آنے لگی۔ میں ‘ساوکاری پاش’ جیسی آدرشی فلم بنانے والی مہاراشٹر فلم کمپنی کے سنسکاروں (اقدار) میں پلا بڑھاتھا۔ مجھ جیسے شخص کو ناچار ایسا لگنے لگا کہ بھونڈی شہرت کے پیچھے پڑ کر صرف پیسہ کمانے کے خیال سے بنائی جانے والی فلموں کا منہ توڑ جواب ایک بہترین فلم تیار کر کے دیا جائے۔
‘گوپال کرشن’ بناتے وقت فلم میکنگ میں رائج دھارا(روایت) سے بڑی صفائی سے، تیزی سے ہٹ کر میں نے اوروں کی توقع سے آگے جانے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش میں کہیں دوچار ہاتھ کچھ مختلف سمتوں میں آڑے ٹیڑھےچلا دیے تھے۔ ‘گوپال کرشن’ میں،میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا۔ لیکن اب سستی مقبولیت کی کشش مٹا کر اپنی پوری طاقت کے ساتھ دھارا کی مخالف سمت میں تیرتے ہوئے ایک اچھی سی سٹنٹ فلم بنانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ دل و دماغ کو نہ بھانے والے جھوٹ موٹ کے منظروں کو بڑھاوا نہ دیتے ہوئے، ناظرین کے جوش کو ہر پل بڑھاتے ہی جانے والی فلم کا میں تصور کرنے لگا۔ اس کا ایک منصوبہ تیار کیا۔ کہانی کی رچنا اس طرح کی کہ اس اسٹنٹ فلم کے ناظرین تھریلڈ ہوکر حیران رہ جائیں۔ لیکن سٹنٹ فلموں کو ہی پسند کرنے والے ناظرین کو مسحور کرنے کے لیے میں نے اس فلم کا نام رکھا ‘خونی خنجر’، اس بھڑکیلے نام رکھنے پر مجھے تب بھی بڑی ہنسی آتی تھی۔
اس فلم میں میں نے ڈائریکشن کے کچھ خاص ‘ٹچِز’ دکھائے تھے۔ ایسے منظروں میں ایک تھا :کھل نائک (ولن) ہیروئین کو پکڑ کر اپنے محل میں لے آتا ہے۔ وہ اس سے زیادتی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ زیادتی کا یہ منظر میں نے پٹے پٹائےاسٹائل سے ولن اور ہیروئن میں ہاتھاپائی دکھا کر نہیں لیا۔ میں نے دکھایا، کھل نائک(ولن) نائکا (ہیروئین )کی طرف جانے لگتا ہے۔ نائکا ڈر کے مارے دیوار کی اور منھ پھیر کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ ولن میان سے تلوار کھینچ لیتا ہے اور اس کی نوک سے نائکا کی چولی کے پیچھے کے بند کاٹ دیتا ہے۔ نائکا اپنے سینے کو ہاتھوں سے ڈھک کر پیٹھ دیوار سے ٹکا کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے۔ ولن پھر اس کے پاس آتا ہے اور تلوار سے اس کی ٹانگ پر سے ساڑھی پھاڑ دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساڑھی کے پھٹے دونوں حصے الگ ہو کر گر جاتے ہیں اور دکھائی دیتی ہے اس کی گوری گوری ٹانگ اور پیر، جیسے کیلے کے پیڑ کا ملائم نزاکت بھرا تنا ہو۔
اس ڈھنگ سے فلمایا گیا یہ منظر سنسر کو اتنا شہوت انگیز معلوم ہوا کہ انھوں نےہمیں اسے پورا کا پورا نکال دینے کا حکم دیا۔ ہم نے انھیں کافی سمجھا کر بتایا تب جا کر کہیں اس منظر کو فلم میں رکھنے کی اجازت انھوں نے دی۔ لیکن اس کی لمبائی کافی کم کر دی۔
اسی فلم میں ایک شاٹ بہت ہی لمبا لیا گیا تھا۔ فلمی دنیا کی آج کی اصطلاح میں اسے ’لِنگرِنگ شاٹ’ کہا جاتا ہے۔فلم کا ہیرو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے۔ کمرے میں وہ اکیلا ہی دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کی لمبائی چوڑائی ناپتا پھرتا ہے۔ یہ شاٹ کافی لمبا چلانے میں میرا ارادہ تھا ہیرو کا اکیلاپن اور نہ کٹنے والا، بور کر دینے والا وقت، ایک ساتھ ناظرین کو متاثر کرے۔ اس کا اثر بھی ناظرین پر اچھا دیکھا گیا۔ ‘خونی خنجر’ میں زیادتی کا وہ سین اور کمرے کا وہ لنگرنگ شاٹ آگے چل کر میرے سٹائل کے خاص ‘ٹچز’ مانے گئے۔
‘خونی خنجر’ کی ہدایتکاری کرتے وقت میں نے اس بات کی احتیاط برتی تھی کہ میں پھر وہ ہی غلطیاں نہ کر بیٹھوں، جو ‘گوپال کرشن’ میں رہ گئی تھیں۔ لیکن اس بار میں نئی غلطیاں کر بیٹھا۔ اس بار بھی مجھے ضرور لگا کہ میں تھوڑا زیادہ چوکنا رہتا یا زیادہ سوچ کر کام کرتا، تو ان غلطیوں کو روکا جا سکتا تھا۔ یہی حال ہے، تو پھر میرے سے ایسا کیوں ہو جاتا ہے؟ میرے وچاروں میں، کام میں کہیں نہ کہیں کچھ کمی کیوں رہ جاتی ہے؟ یہ سوچتے سوچتے پھر آنسو بہانے کا وہی موقع آ پڑا! لیکن اس بار مجھے روتا دیکھ کر وِمل ہنسنے لگی۔ مجھے اس پر بڑا غصہ آیا۔ اس نے کہا، “آپ کی پہلی فلم کی غلطیاں کسی کے بھی دھیان میں نہیں آئی تھیں، تو اس فلم کی غلطیوں کو بھی کوئی پکڑ نہیں پائے گا!”
“کوئی نہ پکڑ پائے تو اپنی بلا سے، مجھے جو وہ دکھائی دے رہی ہیں؟” اس پر وِمل نے کچھ نہیں کہا۔ ایک بڑا سا رومال صرف میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے پوچھا، “یہ کس لیے؟”شرارتی ہنسی ہنستی ہوئی بولی، “آنکھیں پونچھنے کے لیے!” میں نے اس کے گال پر ایک کس کے چانٹا لگا دیا۔ روتے روتے وہ مجھ سے دور ہو گئی۔ یہ بھی خوب رہی، میں بعد میں سوچنے لگا۔ غلطیاں کروں میں، اور چانٹا کھائے وِمل؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ لیکن یہ خیال میرے من میں اس رات نہیں، دوسرے دن آیا!
سویرے میں جب سٹوڈیو گیا، تب کولھاپور دربار کا ایک سپاہی ایک لفافہ لے کر آیا۔ اس کے اندر جو لکھا تھا، اسے پڑھ کر میں سر پکڑ کر رہ گیا۔ میرے باقی ساتھی پوچھنے لگے، ‘بات کیا ہے؟’ میں نے انھیں بتایا، ہمیں ‘گوپال کرشن’فلم کے لیے جن گایوں کی تلاش تھی، وہ گائیں ہمیں دینے کے لیے مہاراجہ صاحب نےحکم دے دیا ہے!” یہ جان کر ہنستے ہنستے سبھی لوٹ پوٹ ہو گئے۔ تب تک تو ہماری ‘گوپال کرشن’ ریلیز ہو چکی تھی اور اب دوسری فلم ‘خونی خنجر’ بھی جلد ہی بمبئی میں ریلیز ہونے جا رہی تھی!
بمبئی میں ‘خونی خنجر’ ریلیز ہو گئی۔ وہ چلی بھی خوب۔ اس فلم کو طوفانی کامیابی ملی۔ نتیجتاً دوسرے پروڈیوسروں کی بنائی اسٹنٹ فلموں میں بھی مصنوعی پن کم ہونے لگا۔ خالص تفریح کے لیے بھی ‘خونی خنجر’ آئندہ کئی فلموں کی ایک طرح سے innovation بن گئی۔
خونی خنجر’ کو ملی کامیابی کی وجہ سے ہم لوگوں کا حوصلہ اور بھی بڑھ گیا۔ اب کچھ نئی اور ایکشن فلمیں بنانے کا وچار میرے من میں آیا۔ ‘گوپال کرشن’ کے اس ‘تلی لیلی’ والے منظر کی وجہ مقبولیت بنے اننتیا کو اہم کردار دےکر ایک فلم بنانے کا میں نے طے کیا۔ اننتیا اس وقت پانچ سال کا تھا،اس کا فلمی نام ہم نے رکھا ‘بجربٹو’۔
اس فلم کو میں پریکٹیکل فلم اس لیے مانتا ہوں کہ ایک ننھے سے بچے کو خاص کردار دے کر بنائی گئی وہ پہلی ہی فلم تھی۔ میرے دوسرے خالہ زاد بھائی بھالاجی پینڈھارکر کہانی لیکھک اور ناٹک کار تھے۔ انہیں میں نے اپنا یہ وچار بتایا، جو انھیں بھی بہت پسند آیا۔ انھوں نے جلد ہی میرے خیال کے مطابق ایک بڑھیا کہانی لکھ دی۔ اس فلم کا نام تھا ‘رانی صاحبہ’۔
اس فلم کو بھی لوگوں نے خوب پسند کیا۔ ‘پربھات’ فلم کمپنی کا نام اب لگ بھگ ہر زبان پر آنے لگا تھا۔
سال ڈیڑھ سال کا ہی وقت گزرا تھا، پربھات کی مالی حالت روز بہ روز بہتر ہوتی جا رہی تھی۔ اب ہم میں سے ہر ایک کے لیے گھریلو خرچ کے لیے ہر ماہ ڈیڑھ سو روپے لینا ممکن ہو گیا تھا۔ کمپنی کے سبھی نوکروں کی تنخواہ بھی ہم لوگوں نےبڑھا دی۔
آئندہ فلم کو اور بھی بہتر ین کیسے بنایا جائے، اسی کی فکر ہم لوگ کرنے لگے۔ وہ زمانہ تھا مہاتما گاندھی کی آزادی تحریک کا۔ اس تحریک کی ہوا پورے ملک میں زوروں سے بہنے لگی تھی۔ کیا مرد، کیا عورتیں، ہاتھوں میں کانگریس کا جھنڈا لیے سرِعام سڑکوں پر آتے اور پولیس کا کھل کر سامنا کرتے تھے۔ ان پر لاٹھی چارج ہوتا، کئی بار تو گولی بھی چلائی جاتی تھی۔ کئی لوگ گھائل ہوتے تھے۔ ریاست ہونے کی وجہ سےکولھاپور میں اس تحریک کی آنچ اتنی نہیں پہنچتی تھی۔ لیکن تحریک کا سارا حال اخبارات سے ہمیں بھی معلوم ہوجاتا تھا۔ تحریک کی خبریں پڑھ سن کر مجھے تو بہت ہی جوش آتا تھا۔ من میں آیا کہ کیوں نہ اسی ریاستی تحریک کی عکاسی کرنے والا موضوع ہی ہماری آئندہ فلم کے لیے چنا جائے؟ میں نے طے کر لیا کہ کسی تاریخی موضوع کی اوٹ سے اسی نشانے کو سادھا جائے۔
ہم مہاراشٹر کے لوگوں کے لیے شواجی مہاراج ایشٹ دیوتا کی مانند پوجنے کےقابل ہیں۔ اب تک جتنی بھی تاریخی فلمیں بنائی گئی تھیں، ان میں شواجی مہاراج کو لڑائی کے احکامات دینےوالے رہنما کے روپ میں ہی فلمایا گیا تھا۔ بہروپیا پردے پر پیش کی گئی شواجی کی یہ مورتی مجھے قطعی قبول نہیں تھی، اس لیے میں نے ایک ایسی کہانی کا انتخاب کیا، جس میں ویر شواجی کوجان کی بازی لگا کر اپنےآپ کو لڑائی کے میدانوں میں جھونک دینےوالا، دشمن پر وِجے پانےوالا، ہوا سے باتیں کرنے والے گھوڑے کو ایڑ لگانے والا غصیلا جوان لیڈر دکھایا جا سکتا تھا۔ شواجی نے کچی عمر میں اپنے ساتھیوں کی مدد سے تورنا قلعہ جیت لیا اور وہاں آزادی کی بنیاد رکھی۔ اس انتہائی جوش دِلانے والے موضوع پر پہلی تاریخی فلم بنانے کا ہم لوگوں نے فیصلہ کیا۔ سب کی درخواست تھی کہ اس فلم میں شواجی کا کردار میں ہی کروں۔
مہاراشٹر فلم کمپنی میں تلواربازی، گھڑدوڑ وغیرہ کی مجھے اچھی خاصی مشق ہو گئی تھی۔ شواجی مہاراج کی تاریخی کالی گھوڑی کی طرح ہی دِکھنے والی ایک جوان اور تیز کالی گھوڑی جت ریاست کے راجا صاحب سے ہم نے حاصل کر لی۔شواجی مہاراج کا وادھیا نامی ایک لاڈلا کتا تھا، ایسا ہم لوگوں نے تاریخ میں پڑھا تھا۔ میں نے اس ایماندار کتے کا بھی اپنی فلم میں استعمال کرنے کا طے کیا۔ ٹھیک ویسا ہی ایک کتا جت ریاست کے ہی ایک گڈریے کے پاس ہمیں مل گیا۔ سارا انتظام ٹھیک کر کے ہم نے شوٹنگ شروع کی۔
ظاہر ہے کہ مجھے شواجی کا کردار اور ڈائریکشن دونوں کام کرنے پڑتے تھے۔ کئی بار باہر شوٹنگ کے وقت میں گھوڑی پر سوار ہو کر شواجی کا کردار نبھاتے نبھاتے کیمرے کے پاس پہنچ جاتا اور سین کیسے لینا ہے، اس کے بارے میں ضروری ہدایت دیتا۔ دوسرے کرداروں کو بھی اداکاری کے بارے میں ہدایات دیتا۔ اس کے بعد وہ سین میری ہدایت کے مطابق برابر لیا جاتا ہے، اسے دھائبر دیکھتے تھے اور فتح لالجی کیمرا چلاتے تھے۔ فلماتے وقت ہم لوگ ایک ساتھ دو کیمرے الگ الگ سمتوں میں رکھتے تھے۔ اپنی جان کی ذرہ بھر پروا نہ کر میں اس کالی گھوڑی کو اتنی زور سے ایڑ لگا کر دوڑاتا کہ اس پر نظر بھی نہیں ٹھہر پاتی تھی۔ آئیمو کیمرے پر گھوڑے کے ساتھ ہی فولو کیے شاٹس تو بےپناہ، بہت ہی پُراثر آئے تھے۔
فلم میں کام کرنے کے لیے ہم لوگوں نے گڈریے کےجس کتے کو چنا تھا، وہ توایک دم انجان ہوتے ہوئے بھی اتنا چالاک اور سمجھدار تھا کہ اس کا ہر ایک شاٹ اس نے بتائے گئے ڈھنگ سے ایک دم سمجھدار آدمی کی طرح کیا۔ اسے واقعی شیواجی مہاراج کا ہی کتا مان کر ہم سب لوگ وادھیاہی کہنے لگے تھے۔
اس فلم کا نام ہم نے ‘سوراجیاچے تورن’ (آزادی کا وندنوار) رکھا۔ فلم کے پہلی ٹرائل ریلیز کے بعد میں ہمیشہ کی طرح اندر ہی اندر ٹوٹ گیاتھا۔ اس بارہمیشہ کی مانندکچھ زیادہ کیونکہ ہیرو بھی میں اور ڈائریکٹربھی میں ہی تھا۔ ‘گوپال کرشن’ کی ریلیز کے بعد اگلی فلم کی ریلیزکےوقت میں بمبئی نہیں جاتا تھا۔ مکتب کے طالب علم جس طرح اپنے امتحان کے نتیجہ کا انتظارکرتارہتا ہے، اسی طرح میں کولھاپور میں ہی لوگوں کا ردعمل جان لینے کے انتظار میں بیٹھا رہتا۔ اس بار بھی میں فلم کے ساتھ بمبئی نہیں گیا تھا۔ سنسر کے ایک ممبرنےفلم دیکھی اور کہا کہ جب تک سنسر بورڈ کے سبھی افراد اسے دیکھ نہیں لیتے، اسے عام نمائش کے لیے ریلیزنہیں کیا جا سکتا۔ انگریز سرکار ‘سوراج’ لفظ کے لیے بہت ہی خائف ہو گئی تھی۔ اسی لیے باوجود اس کے کہ سنسرکاممبر مہاراشٹری تھا،فلم کوقبولیت عطا کرنے کی ذمہ داری وہ اپنےپر نہیں لینا چاہتا تھا۔
کولھاپور میں یہ خبرملتے ہی میں فورا بمبئی گیا۔ اسی دن صبح سنسربورڈ کے سبھی ممبر میجسٹک سنیما میں فلم دیکھنے کے لیے آئے، سنسر بورڈ کے چیئرمین انگریز تھے اور ممبئی کے پولیس کمشنر بھی۔ باقی سبھی ممبر بھارتی تھے۔ آڈیٹوریم میں جانے سے پہلے کمشنر نے تھئیٹر کے باہر لگے ‘سوراجیا چے تورن’ کے پوسٹر اور فوٹو دیکھے تھے۔ ایک تصویر میں شواجی جھنڈا پھاڑتے دکھائے گئے تھے۔ اسے دیکھتے ہی انگریز کمشنر ایک دم آگ بگولا ہو گئے۔ وہ لگ بھگ چلّائے، ’’نو، نو! دس کانٹ بی پاسڈ’! اور اسی جھلاہٹ میں وہ تھئیٹر میں آ کر فلم دیکھنے کے لیے بیٹھ گئے۔
میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ فلم دیکھ کر سبھی لوگ باہر آئے اور چلےبھی گئے۔ میں ان کی آمد اور باہر چلے جانے کی طرف کسی کٹھ پتلی کی طرح گردن اِدھر سے اُدھر ہلا کر دیکھتا رہا۔ سب کے بعد سنسر ممبر میرے پاس آئے اور سر جھکا کر بولے، “دی پکچر از بینڈ!” میں دھم سے وہیں ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔ ہاتھ پاؤں میں کوئی جان نہیں رہی۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤپینڈھارکرممبر سے باتیں کرتے کرتے دروازے تک انھیں چھوڑنے گئے۔
تھوڑی دیر بعد لوٹ کر بابوراؤ پینڈھارکرکہنے لگے، ان لوگوں کا اصرار ہے کہ سب سےپہلے ہمیں اپنے فلم کا ‘سوراجیاچے تورن’ نام بدلنا ہوگا۔ کچھ سین اور ٹائٹلز کے کچھ جملوں کو بھی بدلنا پڑے گا۔ جھنڈا پھاڑنے کا آخری سین تو پورا ہی نکال دینا ضروری ہے!
میں بینچ پر بیٹھا تھا، اچھل کر کھڑا ہو گیا اور غصے میں کہنے لگا، “میں کوئی بھی سین کاٹنے کو تیار نہیں ہوں! فلم جیسی بنی ہے، ویسا ہی دکھانے کی اجازت ملنی چاہیے!” میرا غصہ دیکھ کر بابوراؤ اس وقت کچھ بولے نہیں۔
شام کو میرا غصہ کافی اتر گیا تھا، بابوراؤ پینڈھارکر پھر میرے پاس آ کر بیٹھے۔ مجھے سمجھانے لگے، “سنسرکی خواہش کےمطابق ہم فلم میں تبدیلی نہیں کرتے ہیں توفلم کی عام نمائش ناممکن ہونے والی ہے۔ ”
“اس طرح اسے بےسرپیر کاٹنے میں کیا دھرا ہے؟ اگر جیسا ہے، ویسا ہی اسے ریلیز نہیں کرنے دیا جاتا، تو میرا سجھاؤ ہے کہ فلم کو ڈبے میں بند رہنے دیں۔ ہمارا دیس جب آزاد ہو گا، تبھی ہم اس کو ریلیز کریں گے!” میں بھی ہٹیلے بچے کی سی ضد پر اتر آیا۔
بابوراؤ پے نے پھر کہا، “پتا نہیں سوراج(آزادی) ملنے کے لیے ابھی کتنے سال رکنا پڑے گا! تب تک اس فلم کو ڈبے میں بند رکھ کر ہمارا کام کیسے چلے گا؟ اچھا، ایسا کرتے ہیں، آزادی ملنے کے بعد آپ اسی موضوع کو لے کر اپنی مرضی کے مطابق نئی فلم بنائیے۔ آج فلم کا نام بدلنے سے اس کی کہانی تھوڑاہی بدل جائےگی! شواجی تو شواجی ہی رہےگا نا؟ جھنڈا پھاڑنے کا وہ آخری سین نکال بھی دیا، تب بھی تورنا قلعہ جیت کر شواجی نے سوراج کی بنیاد رکھی، یہ بات لوگوں کی سمجھ میں آ ہی جائے گی۔”
میں سوچنے لگا، میں چاہتا تھا کہ سوراج کے حصول کے لیے شواجی مہاراج نے جو کوشش کی، اس کا اثر اس زمانے کے عوامی ذہن پر پڑے اور اس کے کامیاب روپ سے عوامی بیداری ہو۔ میری یہ خواہش اس فلم کو ریلیز کرنے سے ہی پوری ہو سکتی تھی۔
میں نے چپ چاپ ‘سوراجیاچے تورن’ کی فلم لے کر واپس کولھاپور جانا ہی مناسب سمجھا۔
سنسر کی ساری کہانی اپنے سبھی ساتھیوں کو میں نے بتلا دی اور ہاتھ میں قینچی لئے سنسر کی خواہش کے مطابق فلم میں کاٹ چھانٹ شروع بھی کر دی۔ آخر وہ جھنڈا پھاڑنے کا سین آیا۔ اسے کاٹنے کی میری ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ لگتا تھا،جیسے اپنے بچے پر قینچی چلا رہا ہوں! میں قینچی پھینک کر کھڑا ہو گیا۔ آنکھیں بھرآئیں۔ سبھی ساتھی کسی بچےکوسمجھانے احساس سے مجھے سمجھانے لگے۔ آخراس سین کو کاٹنے کا کام میں نے دھائبر کو سونپ دیا۔ دھائبر نے اس سین کو کاٹ کر فلم سے الگ کردیا۔
سب کی رائے سے فلم کا نیا نام ‘ادےکال’طے کیا گیا۔ اس کے مطابق ٹائٹلز لکھ کر فلم میں جوڑ دیئے گئے۔ ‘ادےکال’ کی کاپی لےکر کوئی بمبئی گیا۔
فلم میں کی گئی بھاری چھنٹائی کے کارن اس کے لیے میرا کوئی چاو نہیں رہا تھا، نہ ہی کوئی جوش۔ لوگوں کے ردعمل کے بارے میں کوئی خاص خواہش بھی میں نے نہیں رکھی تھی۔لیکن بمبئی سے حاصل ہونے والی خبریں بہت ہی حوصلہ افزاء تھیں۔ فلم کا نام بدل دئیے جانے اورکئی منظروں کو نکال دیئے جانےکے باوجود عوامی ذہن پر اس کا اچھا اثر پڑ رہا تھا۔ فلم میں متحرک،طاقتور، نوجوان شیواجی کی مورتی لوگوں کے ذہن پر صحیح روپ میں نقش ہو رہی تھی۔ نئے آئمو کیمرے سے لئے گئےتیز گھڑدوڑکےشاٹس پر تو لوگ بےحد خوش تھے، طوفانی رفتار سے گھوڑے دوڑتے چلے جانےکے سین آتے ہی لوگ تالیوں کے ساتھ جوش کا اظہارکرتے تھے۔ وادھیا کتے کا کام بھی لوگوں کو بہت پسند آیا تھا۔ ان اطلاعات کےکارن میرے من پر چھایا ڈپریشن دھیرے دھیرے چھٹ گیا۔ ہم سب لوگ بڑی خوشی سے کمپنی میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔۔۔
اندھیرا کب ہو گیا، پتہ بھی نہیں چلا کہ کمپنی کا ایک نوکر دوڑتاچلاتاآیا اور روتے روتے کہنے لگا، “وادھیا اک جھٹکا دے کے بڑی تیزی سے پتہ نہیں کتےبھاگ گوا۔ وا کے پیچھے پیچھے ہم بڑی دور تک بھاگت رہن، پر چکما دے کے وہ کتے گائب ہوئی گوا، واکو کوئی پتہ نہ ملو ہے۔”(واڈیا اک جھٹکا دے کر بڑی تیزی سے پتہ نہیں کہاں بھاگ گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے ہم بڑی دور تک بھاگتے رہے، پر چکمہ دے کر وہ کہاں غائب ہو گیا، مجھے کوئی پتہ نہ ملا)۔
ہم نے کولہاپر کی سبھی سمتوں میں وادھیا کو ڈھونڈ لانے کے لئے آدمی بھیجے۔ اخباروں میں اشتہار دے کر اس کی فوٹو شائع کرائی اور اسے ڈھونڈ کر لانے والے کو مناسب انعام دینے کا بھی اعلان کیا۔ یہ سوچ کر کہ کہیں وادھیا اپنے پرانےمالک کے پاس نہ چلا گیا ہو، ہم نے جت کو بھی ایک آدمی بھیج دیا۔ وادھیا خاص کر مجھ سے کافی ہل مل گیا تھا۔ اس کے اس طرح یکایک چلے جانے سے مجھے تو کھانا پینا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ ‘ادےکال’ میں نہیں نہیں، ‘سوراجیاچےتورن’ میں اس نے تو ایک سدّھے ہوئے اداکار کی طرح کام کیا تھا۔ ہمارے دیگر فنکاروں کی طرح عام لوگ بھی اسے چاہنے لگے تھے۔ میں تو یہ بھی سوچنے لگا تھا کہ وادھیا کو اہم کردار دےکر کوئی فلم بنائی جائے۔ لیکن سب تباہ ہو گیا! بھیجے گئے سبھی آدمی واپس آ گئے۔ کسی کو وادھیا نہیں ملا تھا۔
معجزوں پر میرا قطعی یقین نہیں، لیکن اس وقت پر بس ایسا بھی وچارمن میں آیا که ہو نہ ہو، شایدشواجی مہاراج کا وادھیا ہی اس فلم میں کام کرنے کے لئے آیا تھا اور کام ہوتے ہی وہ واپس چلا گیا!
لیکن شاید ہماری دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ترقی کو نظر لگانے کے لئےہی، یا کہیں اس کامیابی نشے میں چور ہوکر ہمارا دماغ خراب نہ ہو جائے،اس لئے ہی، ہماری فلم ‘جلم’ (ظلم) ایک دم فیل ہو گئی۔ اس کی ڈائریکشن دھایبر نے کی تھی۔ پھر بھی میں نے اور ہمارے سبھی ساتھیوں نے اس کے لئےپوری لگن سے کام کیا تھا۔ میں ڈائرکٹرنہیں تھا، اس کا مطلب یہ نہیں تھاکہ اس فلم سے میرا کوئی سروکار نہیں تھا۔ میں دھایبر کی ڈائریکشن میں مدد کرتاتھا۔ ظلم کی ناکامی کے لئے ہم سبھی ذمہ دار تھے۔
“جلم” کی ناکامی سے ہمیں دکھ دکھ ہوا، لیکن ہم امید نہیں ہارے۔
ہماری پہلی تینوں فلمیں چھوٹے بڑے شہروں میں دھوم مچا رہی تھیں اور اس لئے ہمارےسامنے کوئی معاشی کٹھنائی نہیں تھی۔ میری ڈائریکٹ کی گئی فلم کی کامیابی کے باعث میرے سبھی ساتھیوں نے میرے اسٹائل اور موضوع کے انتخاب کی سمجھ بوجھ کی بہت تعریف کی، سراہا بھی اور ان معاملوں میں وہ مجھ پر پورا بھروسہ کرنے لگے۔
شواجی مہاراج تورنا کے بعد ایک کے بعد ایک گڑھ جیتتے چلے گئے تھے ہماری’پربھات’ کمپنی بھی ایک کے بعد ایک، ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب فلموں کو بنا کرکر لوگوں کے دلوں کو جیتتی گئی۔ اسی بیچ ہمیں کولہاپر میں خبریں ملی کہ اب سنیما ‘بولنے’ بھی لگا ہے، ‘گانے’ بھی لگا ہے۔ بمبئی میں کسی امریکی کمپنی کی
‘جیز سنگر’ نامی ایک بولتی فلم لگی ہے۔ مغربی تہذیب کی گرفت میں آئے اپر کلاس کے لوگ اس پر مرے جا رہے ہیں۔لہذا میں، داملے، فتے لال اور دھائبر بولتی فلم دیکھنے بمبئی گئے۔
وہ فلم ایک امریکی ناٹک پر مبنی تھی۔ اس لئے ایسا لگتا تھا جیسےہم کوئی ناٹک ہی دیکھ رہے ہیں۔ ایک امریکی اداکار نے کالے نیگرو کا میک اپ کرکے ہیرو کا کام کیا تھا۔ آخرمیں اس نے ایک گانا بھی گایا تھا۔ آج تک فلموں میں حرکات، اداکاری اور پریکٹس پر کافی زور دیا جاتا تھا۔ ان کے ماحول میں صرف بک بک ہی کئے جانے والی اس بولتی فلم کا میرے من پر تو کوئی اثر نہیں پڑا۔
لگ بھگ اسی وقت ایک اخبار نے میرا انٹرویو شائع کیا۔ اس میں انٹرویو کرنے والے نےبولتی فلموں کے بارے میں مجھ سے اپنے تاثرات ظاہر کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس نے درست تاثرات مانگے تھے۔ میں نے بھی بالکل صاف لفظوں میں بتا دیا، “چونکہ بولتی فلم ایک نیا تجربہ ہے، ناظر آج اس پر مرا تو جا رہا ہے، لیکن ان کا نیاپن ختم ہوتے ہی وہ لوگوں کو خاص مسحور نہیں کر پائےگا۔ فلمی دنیا میں خاموش فلموں کوآج جو فنکارانہ مقام حاصل ہے، وہ میری رائے میں پکا ہے اور آگے بھی اسی طرح رہےگا، اس میں مجھے ذرا بھی شبہ نہیں ہے۔”اور اسی طرح بغیر کسی شبہ سے ہم نے اپنی ‘پربھات’ کمپنی کی ایک نئی فلم کا منصوبہ بھی بنا لیا۔ لیکن چونکہ مقابلہ بولتی فلموں سے تھا، ہم نے اپنی خاموش فلم کو ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے ایک حیرت انگیز اور نفیس دیومالائی کہانی کاانتحاب کیا۔ رام چندر جی پاتال میں اہراون مہراون نامی دو راکھشس بھایئوں کی ریاست میں جاتے ہیں۔ وہاں کی راج کماری ان پر فدا ہو جاتی ہے۔ یک زوجیت کا احترام کرنے والے رام جی پرایک آفت ہی آ جاتی ہے۔ ہنومان جی کے حکم سے راج کنیا چندرسینا کا پلنگ کپڑے کے ذریعے ایک دم کھوکھلا بنا کر رکھا جاتا ہے اور رام چندر کی اس مصیبت سے نجات ہو جاتی ہے۔ آخر میں رام جی ان دونوں راکشسوں سے جنگ کرتے ہیں۔ جنگ میں زخمی ہوئے اہراون اور مہراون کے تن سے رسنے والے خون کی ہر بوند سے ہزاروں اہراون مہراون پیدا ہوتے ہیں۔ آخر میں رام چندر جی ان سب کو ختم کر دیتے ہیں،اس فلم کی شوٹنگ کے لئے ہم لوگوں نے میسور ریاست کی ہاسپیٹ نامی جگہ پر جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں شاہی وجےنگر کے کچھ تاریخی کھنڈرات ہیں۔ ہماری دیو مالا فلم کے ماحول کے لئے وہ بہت مفید معلوم ہوئے۔ ہم سب کو وہاں لے جانے کے لئے دو خاص بسوں کا انتظام کرنا پڑا۔ بسوں میں داملے، میں، فتے لال،دھائبر، بابوراوپینڈھارکر،کاسٹیوم ڈیزائنر شری پتی راو کاکڑے، میک اپ کرنےوالے لوگ، فن کار وغیرہ شوٹنگ کے لئے ضروری سبھی سامان کے ساتھ سوار تھے۔ بسیں جنوبی سمت چل رہی تھیں۔ میری بیوی وِمل مولت کرناٹک کی تھی۔ بیاہ کے بعد آج تک میں اسے کولہاپورکے باہر کبھی نہیں لے جا سکا تھا۔لہذا سوچا، اس بار اسے بھی ساتھ لے جاؤں۔ لیکن میں صرف میں اپنی ہی بیوی کو ساتھ لیتا چلوں، یہ بات ٹھیک نہیں لگی۔ اس لئے میں نے سجھاؤ دیا کہ داملے، فتےلال، دھائبر بھی اپنی اپنی بیویوں کو ساتھ لیتے چلو۔سب کو میری بات جچ گئی لیکن فتےلال جی مسلمان تھے اور ان کی پتنی ہمیشہ پردے میں رہتی تھی اور داملےجی کی بیوی کسی گھریلو کام کی وجہ سے آ نہیں پائی۔ اس طرح ہمارےسفرمیں میری پتنی ومل اور دھائبر کی پتنی ہی ہمارے ساتھ ہو لی تھیں۔
سفرشروع ہوا۔ علاقہ نیا تھا۔ لہٰذا ہماری بسیں صحیح راستے پر صحیح سمت میں چلیں، اس لیے میں نے اپنے ساتھ راستے کی رہنمائی کرنے والا ایک نقشہ بھی رکھ لیا تھا۔ سکول میں جغرافیہ میرا پسندیدہ مضمون رہا تھا، اس لیے نقشہ دیکھ کر راستہ بتانے کا کام میں نے بڑی شان سے لے لیا تھا۔ کئی بار دوراہے یا تراہے آتے تو ہماری بسیں رک جاتی تھیں۔ پھر میں نیچے اترتا۔ نقشہ کھول کر بتاتا، کس سمت میں جانا مناسب ہو گا۔ ایک تراہے پر میں بھی الجھ گیا۔ تینوں میں سے کون سا راستہ صحیح ہو گا، میری بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں نے داملے جی کو بھی اترنے کے لیے کہا اور پھر ہم دونوں نے مل کر طے کیا کہ ہماری بسیں کس راستے جائیں۔
بسیں پوری رفتار سے بھاگتی رہیں۔ ایک گھنٹہ ہو گیا، دوسرا بھی بیت گیا۔ لیکن نقشے میں ہم نے اگلے پڑاؤ کا جو گاؤں دیکھا تھا، وہ آنے سے رہا۔ پھر فتے لال جی نے بسوں کو روکنے کا حکم دیا۔ “مجھے لگتا ہے، شاید ہم لوگ غلط راستے پر آ گئےہیں۔ شانتارام باپو،نقشہ دیکھتے وقت آپ نے اسے کہیں الٹا تو نہیں پکڑا تھا؟ اسی طرح چلتے رہے تو ہمپی کے بجائے ہم لوگ کولہاپور واپس پہنچ جائیں گے!” بس میں سبھی لوگ اس بات پر زور سے قہقہے لگانے لگے۔ میں جھینپ گیا اور پھر نقشہ کھول کر دیکھنے لگا۔ تبھی کوئی راہگیر ادھر سے گزر رہا تھا۔ فتے لال جی نے اس سے پوچھا، “بابا، ہم لوگ کدھر جا رہے ہیں؟” اب وہ بچارا کیسے بتاتا، ہم کدھرجا رہے تھے! وہ تو منھ کھولے ہم لوگوں کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ فتے لال جی نے اس سے پھر وہی سوال کیا۔ تب وہ آدمی بولا، “اجی میں کیا جانوں تم لوگ کس طرف جا رہے ہو؟” اتنا کہہ کر ہنستے ہنستے وہ چلا گیا۔ حقیقت میں یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟ ایسا اس سے پوچھنا چاہیے تھا، یہ بات بعد میں ہمارے دھیان میں آئی۔
تبھی مجھے بھی اپنی غلطی معلوم پڑ گئی۔ ہم راستہ بھول گئے تھے۔ بسوں کو پھر واپس موڑ لیا اور پھر اسی تراہے پر آنے کے بعد صحیح راستہ لے کر ہمارا آگے کا سفر جاری رہا۔ بیچ میں پنگھٹ پر رک کر سب لوگ سکون کے ساتھ جوار کی روٹی اور پیاز کا بیسن کھاتے تھے۔ اس طرح اتنی لمبی یاترا ہم لوگوں نے ہنستے کھیلتے پوری کر لی۔ آخر ہم لوگ ہاسپیٹ پہنچ گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر نے یہاں ہم سب کے رہنے کا انتظام کر رکھا تھا۔ بھوجن کا بھی انتظام تھا۔ ہاسپیٹ سے ہمپی گاؤں بالکل پاس تھا۔ دوسرے دن سویرے ہی ہم ہمپی پہنچ گئے۔
راستے کے دونوں طرف کھلے میدان میں طرح طرح کے پتھر بےشمار بکھرے پڑے تھے۔ کچھ بڑی بڑی چٹانیں چھوٹے پتھروں کے سہارے ساکت کھڑی تھیں۔ دیکھنے سے تو ایسا لگتا تھا کہ ذرا سا دھکا لگا اور یہ وشال(عظیم) چٹانیں نیچے لڑھکیں گی لیکن اسی حالت میں وہ چٹانیں سینکڑوں سالوں سے آندھیوں طوفانوں کے تھپیڑے کھا کر دھوپ اور بارش میں اپنا توازن سبھالے کھڑی تھیں۔ جیسے خود کھڑی ہوں۔ میں نے جھاڑ جھنکاڑ کے ایک سے زیادہ جنگل دیکھے ہیں، لیکن پتھر چٹانوں کا یہ سامراجیہ جیون میں پہلی بار دیکھ رہا تھا!
وہاں سے ہم لوگ وجےنگر کے تاریخی کھنڈر دیکھنے کے لیے گئے۔ دیکھ کرحیران رہ گئے ہم لوگ۔ کیا کیا نہیں تھا وہاں؟ پتھر پر نزاکت سے نقاشی کھدے مکان، دروازے، بازار، راستے وغیرہ، ماضی کی شان کے گواہ کھنڈر!اتنی شاندارکلاکاری کے وہ نمونے، ان کے کلاکاروں کوشاہی سرپرستی دے کر ان سے ایسی فنکارانہ تخلیق کروا لینے والے فیاض راجا کی فنکاری دیکھ کر ماضی کی یاد سے من میں جذبات کا جوار سا اٹھا۔ وجےنگر کے ان آثار قدیمہ اور کھنڈروں کو دیکھتے دیکھتے شام ہو گئی۔ فلم کے کس سین کی شوٹنگ کہاں کرنی چاہیے، اس کا فیصلہ کر ہم لوگ اپنے ٹھکانے پر لوٹ آئے۔
دوسرے دن شِوراتری تھی۔ کسی کی زرخیر عقل میں وچار آیاکہ شِوراتری کے دن بھنگ چھنے۔ مجھے تو ایسے پروگراموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، معلوم اتنا ہی تھا کہ بھنگ پینے سے بھی نشہ چڑھ جاتا ہے۔ داملے اور فتےلال کبھی کسی ناٹک کمپنی میں پردے پینٹ کرنے کا کام کرتے تھے، تب شِوراتری پر کہتے ہیں بھنگ پینےکا رواج تھا، اس کے مطابق ان دونوں نے تھوڑی تھوڑی چھانی تھی۔ بابوراؤ پینڈھارکر اور کیشوراؤ دھایبر ایسے کاموں میں ہمیشہ پہل کرتے تھے۔ جب سبھی نے شِوراتری پر بھنگ چھاننے کا طے کر ہی لیا، تو ان کے رنگ میں بھنگ ڈالنا مجھے نامناسب لگا۔
بھنگ چھن کر تیار ہو گئی۔ سبھی نے “بم بھولے” کہہ کر چڑھا لی۔ مجھے بھی اس میں شامل کرنے کے لیے سب نے مل کر ایک سازش کی۔ کسی کو ٹھنڈائی کا گلاس دے کرمیرے پاس بھیج دیا۔ لانے والے نے کہا، “اس میں اور کچھ بھی نہیں، صرف دودھ، بادام اور دوسری ایسی ہی چیزیں ملائی گئی ہیں۔” میں نے اس آدمی کو ڈپٹ کر پوچھا، “کیوں، اس میں کہیں بھنگ بھی تو گھول کر نہیں لائے؟” وہ خوفزدہ ہو گیا، ڈر کے مارے اس نے اصل بات مجھے بتا دی۔ اس کے بعد اس نے میرے لیے جسے بھنگ کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو، ایسی ٹھنڈائی کا گلاس لا کر دیا۔ میں سب کے سامنے اسے پی گیا۔ سب کا خیال تھا کہ میں نے بھی جے شنکر کر لیا ہے۔ اس دن ہماری پارٹی کے ہر ایک فرد نے مالک سے لے کر معمولی نوکر تک بھنگ کا آکنٹھ پان کیا، صرف عورتوں نے بھنگ کو چھوا تک نہیں۔
اس کے بعد ہم کچھ چنندہ لوگ شوٹنگ کے مقام پکے کرنے کے لیے بس میں بیٹھے۔ بس ابھی ہاسپیٹ کی حدود سے باہر نکل ہی رہی تھی که کچھ لوگوں کو زور کی الٹیاں ہونے لگیں۔ ڈرائیور بھی بیچ بیچ میں سر لٹکانےلگ گیا۔ میں نے چلا کر اسے گاڑی روکنے کا حکم دیا۔ اسے ہٹا کراس کی جگہ پر میں گاڑی چلانے بیٹھا۔ واپس ہمارے کیمپ آ گیا۔ سب کو جیسے تیسے بس سے اتارا۔ سب لوگ باہر کے صحن میں ہی سو گئے۔
نوکر چاکر سبھی نے کھل کر بھنگ پی تھی، لہٰذا پانی لانے کے لیے بھی کوئی پاس میں نہیں تھا۔ آخر میں نے ومل سے پانی منگوا لیا۔ سب کو پانی پلانے کے لیے ان کے پاس گیا اور دیکھا کہ سبھی لوگ ایک دم لاش سے پڑے تھے۔ سب کے چہروں پر چھائی مردنی دیکھ کر میں بہت ڈر گیا۔ ایک پڑوسی کو میں نے ڈاکٹر بلانے کے لیے روانہ کیا۔ مسز دھائیبر تو بہت ہی ڈر گئی تھیں۔ وِمل کے چہرے پر بھی ڈر صاف ابھر آیا تھا۔ اسے شک تھا کہ شاید میں نے بھی بھنگ چڑھا رکھی ہے اور کچھ ہی لمحوں میں میں بھی سب کی طرح نڈھال ہوکر گرنے والا ہوں۔ مجھے لگا کہ کولھاپور سٹوڈیو کو تار دے کر ان سب لوگوں کے خاندان کو پہلی گاڑی سے بلا لوں۔ تار کے فارم نکالنے کے لیے میں وِمل سے میرا بیگ لے آنے کو کہا۔ بیگ میرے ہاتھ میں دیتے وقت اس نے بھی کچھ ہچکچاتے پوچھا، “آپ کو تو کچھ ہو نہیں رہا؟”
“نہیں میں نے بھنگ پی ہی نہیں ہے۔” میں نےکہا۔ سن کر اسے بڑی راحت محسوس ہوئی ہو گی۔ پھر بھی اس نے کہا، “شریمتی دھایبر کہہ رہی تھیں، شانتارام باپو کا واقعی کمال ہے۔ ہمارے وہ (یعنی دھائبرجی) بھی آڑے پڑ گئے ہیں، لیکن لگتاہے شانتا رام نے بھنگ ہضم کر لی ہے۔ شاید ان کو نشہ پانی کرنے کی عادت ہے۔” سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔ مجھے بالکل پورے ہوش میں دیکھ کر شریمتی دھائبر کو ومل سے حسد ہونا بھی فطری تو تھا!
تبھی ڈاکٹر آ گئے۔ اتنے سارے لوگوں کی حالت جانچ کر انھیں انجکشن وغیرہ دیتے دلاتے چار پانچ گھنٹوں کا وقت نکل گیا۔ میں نے فکرمند ہو کر ڈاکٹر سے پوچھا، “کیا ان لوگوں کے گھروالوں کو بلوانے کی ضرورت ہے؟”
“بالکل نہیں۔ یہ لوگ چوبیس گھنٹوں کے بعد اپنے آپ ٹھیک ہو جا ئیں گے۔ چنتا (فکر) کرنے کی کوئی بات نہیں،” ڈاکٹر نے دلاسا دیا۔ میری جان میں جان آ گئی۔ ومل نے میرا بستر لگوا دیا۔ وہ باربار مجھے کچھ آرام کر لینے کی صلاح دیتی رہی،اصرارکرتی رہی، لیکن میں نے اس کی ایک نہ سنی، رات بھر میں صحن کی لمبائی ناپتا رہا۔
کاسٹیوم ڈیزائنر شری پت راؤ کاکڑے کو سب سے پہلے ہوش آیا۔ شاید انھوں نے کچھ کم لی تھی۔ پھر بھی ان کا نشہ پوری طرح سے اترا نہیں تھا۔ بھنگ کے نشے میں آدمی ایک ہی بات کو لگاتار کرتا جاتا ہے۔ ہنسنے لگا تو پھر ہنستا ہی رہتا ہے، رونے لگا تو روتا ہی جاتا ہے۔ اب ان کاکڑے صاحب کو لگ رہا تھا کہ میں نے بھی بھنگ چڑھا رکھی ہے، اس کے نشے میں لگاتار میں اِدھر سے اُدھر، اُدھر سے اِدھر چکر کاٹ رہا ہوں اور اب بس دھڑام سے کہیں گرنے ہی جا رہا ہوں۔ اس لیے میں جدھر جاتا، ادھر ہی کاکڑے اپنے دونوں ہاتھ میری دونوں بانہوں سے کچھ دور تان کر میرے پیچھے پیچھے چلا آتا تھا، تاکہ وہ مجھے گرنے سے بچا سکے۔
دوسرے دن سویرے سبھی لوگ تھوڑی تھوڑی ہلچل کرنے لگے۔ شام تک سب کو ہوش آ گیا۔ میرے من کا بھاری بوجھ اتر گیا۔ میں کافی تھک چکا تھا۔ اس دن شام کوجو سویا تو دوسرے دن سویرے ہی جاگا۔ جاگ کر دیکھتا کیا ہوں، سبھی لوگ میری طرف کافی فکرمند ہو کر دیکھ رہے تھے۔ فتےلال جی نے کہا، “ہم نے سوچا کہ آپ کو چوبیس گھٹے دیری سے بھنگ کا نشہ چڑھا اورآپ بےہوش ہو کر گر پڑے ہیں۔ لیکن نہیں، آپ تو گھوڑے بیچ کر سو گئے تھے۔” اس پر سب لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ ومل دروازے پر کھڑی تھی۔ صرف اپنا پتی بھنگ سے اچھوتا رہا، اس کا فخریہ احساس اس کے چہرے پر مسکرا رہا تھا۔
سب لوگ مکمل چنگے ہو گئے۔ لیکن ہمارا میک اپ مین شنکر گوڑ بچارا ہمیشہ کے لیے بے کار ہو گیا۔ بھنگ اسی نے چھانی تھی۔ سب کو دینے کے بعد نیچے بھنگ کا جو گاڑھا نچوڑ رہ گیا، شنکر اسی کو پی گیا تھا۔ یوں بھی بھنگ کا نشہ ہوتا ہے کڑک، اس پر یہ مہاشے نیچے کا گاڑھا گاڑھا پی گئے، وہ تو اور بھی ظالم ہو گا۔ دو تین دن بیت جانے پر بھی شنکر ہوش میں نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکٹر کو پھر بلوایا۔ شنکر کا علاج شروع کروایا۔ چوتھے دن جا کر کہیں اسے ہوش آیا۔ لیکن وہ پاگل جیسا کرنے لگا۔ آگے چل کر میک اپ کا کام وہ کرتا تو تھا، لیکن اس کے دماغ پر جو اثر ہو گیا، وہ مستقل تھا۔ شنکر ہمیشہ کے لیے بے کارہو گیا تھا۔
وجےنگر کے کھنڈروں میں اور میدان میں باہر شوٹنگ پوری کر سب لوگ محفوظ کولھاپور لوٹ آئے، شنکر گوڑ کا ایک دلی ڈیپریشن ساتھ لیے!
اس کے بعد کتنی ہی شِوراتری آئی اور گئی، کسی نے بھنگ کا پروگرام کرنے کا نام بھی نہیں لیا۔
اس ‘چندرسین’ فلم میں داملے اور فتےلال نے اپنی ساری مہارت داؤ پر لگا دی تھی اور کئی سین اتنے حیرت انگیز اور عظیم بنائے تھے، پوشاک اتنی زیادہ دیدہ زیب بنائی تھی کہ ان کی آرٹ ڈائریکشن بھی اس فلم میں ایک بڑی کشش بن گئی تھی۔
میں نے بھی طے کیا تھا کہ ڈائریکشن کے شعبے میں کچھ نئی کرامات کروں گا۔ پچھلی بارجب ممبئی گیا تھا، وہاں منروا میں ایک جرمن فلم دیکھی تھی “ورائٹی”، اس میں کیمرہ چلتی پھرتی ٹرالی پر رکھ کر شوٹنگ کی گئی تھی۔ شاٹس کی وہ رفتار دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا۔ ٹرالی کا استعمال کرتے ہوئے کچھ شاٹس خود لینے کی خواہش جاگ اٹھی تھی۔ اس لیے میں نے بھی اپنے تخیل سے ایک چار پہیوں والی ٹرالی بنوا لی۔ فتح لال جی نے ٹرالی پر کیمرہ رکھ کر اسے آگے پیچھے، آڑا ترچھا چلاتے وقت کیمرے کا ہینڈل گھماتے رہنے کی پریکٹس کی۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس فلم کے ممبئی میں ریلیز کی تاریخ پہلے سےہی طے ہو گئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سارا کام نبٹانے میں اتنی جلدبازی ہوئی کہ کیمیائی عمل کے بعد “چندرسین” کے کچھ آخری منظروں کی فلم سُکھانے کے لیے بھی کافی وقت نہیں رہا۔ لہٰذا ہم لوگوں نے پونے تک تیسرے درجے کا ایک پورا ڈبہ گاڑی میں اپنے لیے بک کرا لیا اور اس میں پوری فلم کھول کر اسے سُکھاتے سُکھاتے پونے پہنچ گئے۔
چندرسین ‘ تو اتنا چلا کہ اس نے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ان دنوں ٹرالی کے استعمال کی بات ہماری فلمی دنیا کے لیے ایک دم نئی تھی۔ ناظرین کی تو کیا، بڑے بڑے لیجنڈری فلمی ناقدین کی سمجھ میں وہ تکنیک نہیں آئی۔ انھوں نے اخباروں میں “چندرسین” کی تنقید میں لکھا کہ اس فلم میں سین کبھی آگے، کبھی پیچھے تو کبھی آڑے چلتے دیکھ کر ناظر دنگ رہ جاتا ہے۔ ناقدین کے اس نتیجے سے ہم سبھی کا اچھا خاصا منورنجن(تفریح) ہوا، ‘چندرسین’ نے پربھات کی شہرت میں چار چاند لگا دیے۔ نہ صرف بھارت میں، بلکہ برما میں بھی ‘چندرسین’ نے خاموش فلموں سے ہونے والی آمدنی کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
ہم سب لوگ خوشیاں منا رہے تھے کہ بولتی فلموں کے بارے میں ایک سنسنی خیز خبرآئی۔ بمبئی کی امپیریل کمپنی نے اردیشر ایرانی کی ڈائریکشن میں ‘عالم آرا‘ نامی ایک بولتی فلم بنائی ہے اور سماج کی مختلف طبقوں کے پرھے لکھے، ان پڑھ سبھی ناظرین نے اسے سر پر اٹھا رکھا ہے۔ سپر ہٹ خاموش فلموں کا چار ہفتے چلنے کا ریکارڈ کہیں پیچھے چھوڑ کر یہ بولتی فلم اب آٹھویں ہفتے میں بھی بے پناہ بھیڑمسحور کیے جا رہا ہے!یعنی؟ کیا بولتی فلموں کے بارے میں میرا اندازہ غلط ہو گیا؟بولتی فلم کامقابلہ کرنے کےلیےزیادہ تعداد میں خاموش فلمیں بنائی جائیں ایسامجھے ایمانداری سے لگتا تھا، میرے دیگر ساتھی بھی یہی چاہتے تھے۔ لیکن بمبئی سے دوسری خبر آئی۔ مدن اینڈ کمپنی کا بنائی ہوئی’لیلیٰ مجنوں‘ بولتی فلم ویلنگٹن تھئیٹر میں لگی ہے اور وہ بھی ‘عالم آرا’ کی طرح ہی دھوم مچا رہی ہے!
یہ خبرسن کرمیری سوچنے کی طاقت کو زبردست دھچکا لگا۔ پربھات فلم کمپنی کےآغاز سے لے کر آج تک فلم کے بارے میں میرے سبھی اندازے لگ بھگ صحیح نکلے تھے۔ ان فلموں کو ملی زبردست کامیابی کی وجہ سے میری خود اعتمادی بھی بڑھی تھی۔ لیکن اس خبر نے تو اس خود اعتمادی کو ہی گہنا دیاتھا۔ میں نے ہر پہلو پر وچار کیے بنا ہی بولتی فلموں کے لیے اپنی رائے اخباروں میں جابرانہ طور پر ظاہر کی تھی۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہونے والا تھا؟ بولتی فلم کا جو شاندار سواگت(استقبال) ہو رہا تھا، وہ فلمی دنیا کی نظر سے اہل ہے یا نا اہل اس کا وچار کرنے کے لیے وقت بھی کہاں بچا تھا؟ بمبئی سے ایک کے بعد ایک،لگاتار خبریں آنے لگی تھیں:بولتی فلموں کا زمانہ آ گیا ہے۔ بولتی فلموں کی لہر شدت سے اٹھ رہی ہے ۔۔۔۔
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
……………..
‘ شانتارام، او شانتارام!’پکار بالکل کھلے من سےآئی تھی۔ میرے قدموں کی رفتار دھیمی ہو گئی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا، بابا گزبر آوازدیتے چلے آ رہے تھے، “کیا کمپنی میں جا رہے ہو؟” اور پھر انہوں نے ہماری نئی کمپنی کا حال پوچھا۔ باتوں باتوں میں کہہ گئے، “بابوراو پینٹر تمہارے بارے میں کہہ رہے تھے کہ اور سارے مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہوتے، تو بھی مجھے خاص کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،لیکن شانتارام کو میرے ساتھ ہی رہنا چاہئیے تھا ! میرے لئے اس کا بہت فائدہ تھا!’
سن کر میں صرف اداسی سے ہنس پڑا۔
بابا کچھ دیر تو چپ رہے، بعد میں بات بدل کر کہنے لگے، “ارے، شانتارام، مہاراشٹر فلم کمپنی میں ابھی ابھی تو تم اچھی تنخواہ پانے لگے تھے۔۔۔ “ان کی بات کو بیچ ہی میں کاٹ کر میں نے کہا، “بابا، ویسے دیکھا جائے تو آج بھی ہم سب کو اچھی تنخواہ مل ہی رہی ہے! ہم میں سے ہر ایک گھر خرچ کےلئے ساٹھ روپے لیتا ہے۔” “لیکن بھائی میرے، تم نے کمپنی چھوڑ دی تب میرے خیال سے تمہیں پورے ایک سو تیس روپےلے رہے تھے ۔اتنی تنخواہ پانے کے لئے تمہیں کمپنی میں نو سال کھپنا پڑا تھا۔ اب پھر،اتنی تنخواہ پانے کے لئے تمہیں یہاں بھی۔۔۔۔”
“اتنے سال نہیں لگیں گے، مجھے یقین ہے!” میں نے ان کا جملہ پورا کیا اور آگے کہا، ‘الٹے، ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتے ہوئے ہم لوگ جس جوش خروش کے ساتھ کام میں لگے ہیں، اسے دیکھ کر نو سال تو کیا نو مہینے بھی نہیں لگیں گے مجھے ایک سو تیس روپے پانے کے لئے۔ اور چلو مان لیتے ہیں کہ نو سال لگ جاتے ہیں، اور تب تک ہمیں آج جیسی ہی حالت میں گزارا کرنا پڑتا ہے، تو کیا ہوا؟ اپنے پاؤں پر کھڑےہوکر ، آزادی کے ساتھ کچھ نیا کام کرنے کی ہماری کوشش ہے، یہ سکون پیسوں سے زیادہ قیمتی لگتا ہے ہمیں!”
میری ایسی خود اعتمادی بھری باتیں سن کر بابا نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔
لیکن اس کے بعد انہوں نے مجھے بہت ہی پس وپیش میں ڈالنے والا سوال کیا، ‘مان لو، بابوراو پینٹر مہاراشٹر فلم کمپنی کو چھوڑ کر تمہارے پاس آ جاتے ہیں، تو کیاانہیں قبول کر لوگے؟ وہ وہاں کے ساجھے داروں کے مارے تنگ آ گئے ہیں۔ انہوں نے ہی یہ پیشکش لےکر مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔”میں سن کر دنگ رہ گیا، ساکت رہ گیا۔ سوچنے لگا ، بابوراو پینٹر میرے گرو ہیں،بڑے کلاکار ہیں، میرے لئے پوجنے لائق ہیں۔ ان کی اس پیشکش کو رد کرناناممکن ہے۔ رد نا ممکن تو تھا، لیکن قبول کرنا بھی مشکل تھا۔یہ تو انہی کی بےعملی کانتیجہ تھا کہ مہاراشٹر فلم کمپنی اتنی نہیں پنپی، جتنی پنپنی چاہئیے تھی یا پنپ سکتی تھی۔
الجھن سے اپنے آپ کو ابھارنے کے کوشش میں ایک ایک لفظ کھوجتے ہوئے دھیرےدھیرے میں نےکہا، “آپ جاکر سیٹھ سے پوچھئے کہ آج تک مہاراشٹر فلم کمپنی میں ہم لوگ ان کی ہر بات مانتے تھے، لیکن اب اگر وہ ہماری کمپنی میں آتے ہیں، تو کیا ہمارےپروگرام کے مطابق وہ چل سکیں گے؟ اگر ہاں کہتے ہیں تو مجھے آ کر بتائیے، میرے دیگر ساتھیوں سے صلاح کر کے میں آپ کو بتاؤں گا۔”
میرا یہ ٹکا سا جواب سن کر بابا بھی خاموش رہ گئے۔ پھر بھی میں نے دیکھا کہ میری بات انہیں بھی جچ گئی تھی۔ انہیں وہیں چھوڑ کر میں کمپنی کی طرف تیزی سے چلا گیا۔
اتنی ہی تیزی سے من میں وچاروں کا چکر گھومنے لگا تھا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کوچھوڑ کر نکل آنا صحیح تھا یا غلط، یہ خیال اب بےمعانی ہو چکا تھا، پہلےمہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کرتے وقت من میں بس صرف ایک ہی خیال آتا تھا کہ جو کام مجھے سونپا گیا ہے، یا کرنے کو ملا ہے، اچھے سے اچھے ڈھنگ سے کس طرح پورا کیا جائے۔ لیکن اب ‘پربھات’ کے قیام کے بعد، اتنی ساری کٹھنائیوں کوپار کرتے وقت میرے من میں آج تک کا سویا عزم جاگ گیا تھا۔ میرے سپنوں کا افق وسیع ہو گیا تھا۔ اب توصرف ایک ہی دھن سوار تھی : ‘پربھات کواچھے ڈھنگ سے کس طرح فعال کیا جائے۔ عمدہ فلموں کا بنانا ہی اس کا ایک جواب تھا!
تیزی سے ڈاگ بھرتا ہوا میں کمپنی میں آ پہنچا۔ دن بھر بالکل شام ہونے تک اپنے آپ کو مختلف کاموں میں لگائے رکھا۔ شام کو ہم چاروں ساجھے دار اپنے چھوٹے سے کارخانے میں اکٹھے ہوئے۔ میں نے انہیں سویرے بابا گزبر سے ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔
داملےجی نے زور دےکر کہا، “سیٹھ کی پیشکش کا جوجواب آپ نے دیا، وہ ایک دم مناسب تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کے باوجود اب وہ ہماری کمپنی میں آئیں گے!” بابوراو پینٹر کو وہ مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتے تھے۔
لیکن بیچ ہی میں فتے لال جی نے شبہ ظاہر کیا، “سچ کہتا ہوں، ایک بات ضرور سوچنے لائق ہے کہ کہیں ہماری کمپنی کا بھی وہی حال نہ ہو جو اتنے سال کام کرنے کے بعد بھی مہاراشٹر فلم کمپنی کا ہو گیا ہے۔”میں نے فوراکہا، “ہمارا حال ویسا کبھی نہیں ہوگا، ہرگز نہیں۔ جو غلطیاں سیٹھ کرتے تھے، اگر ان سے بچنے کی کی کوشش ہم نے کی، تو ہم اچھی طرح کامیاب ہو جائیں گے۔”
“لیکن ان کے لوگ ہماری پربھات کمپنی کو دہی چاول کمپنی جو کہتے ہیں،اس کا کیا؟’ دھائبر نے کہا۔”دہی چاول؟” میں نے جوش سے کہا، ٹھیک ہے، ہماری اس طرح کھلی اڑانے والےجلد ہی جان جائیں گے کہ ہماری ‘پربھات فلم کمپنی’ ایک آدرشی فلم ادارہ ہے۔ ہم لوگ ‘پربھات’ کی پرورش کر کے اسے بڑابنائیں گے۔ آج کی اس چھوٹی سی جگہ سے اس کا گھر سنسار کافی بڑے احاطے میں لے جا کر بسائیں گے۔ہالی ووڈ کی یونیورسل کمپنی کاجیسےایک اپنا نگر بنا ہے، اسی طرح ہم لوگ بھی اپنی اس پربھات فلم کمپنی کا ‘پربھات نگر’ بنائیں گے!”
بیچ ہی میں داملے بولے اجی!اجی! شانتارام بابو،اجی جاگئے، مہاراج جاگئے ! میرے سپنوں کی فلم ٹوٹ گئی داملے جی کہے جا رہے تھے، آپ ذرا سپنے کی دنیا سے جاگ کر دھرتی پر قدم رکھئے۔
“پربھات نگر بسانے کا وچار کرنے سے پہلے ہم لوگوں کو اپنے خاندان نگری کا وچار کرنا چاہئیے!”میں نے تین دن کے سلطان کی ادا سے ان سے سوال کیا۔ اچھا، بتائیے ہم میں سے ہر ایک کے پاس کتنا روپیہ ہونا چاہئیے، تاکہ کسی کوخاندان نگری کی فکرہی نہ رہے؟ بتائیے! ”
ہرایک کے پاس ایک ایک لاکھ روپے ہو جائیں، تو ہم لوگ ایک دم بے فکر ہوجائیں گے۔ اس کا انتظام کیجیے، بعد میں آرام سے اپنے سپنوں کی دنیا دھرتی پربسانے میں لگ جائیے، ہم میں سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا!”
ادھر اصل میں تو تھوڑا ہی کام ہوا تھا۔ سٹوڈیو کے لئے لوہے کے شہتیر کھڑےکئے جا چکے تھے۔ کیمیکل روم بن گیا تھا، میں اپ کے لئے کمرے تیار کر لئے گئےتھے۔ حساب کتاب لکھنے کے لئے ایک چھوٹے سے کمرے کا انتظام کر دیا گیا تھا۔ ہمارےپیچھے پیچھے ہمارے باپو کو بھی مہاراشٹر فلم کمپنی سے ہٹنا پڑا۔ انہیں کو ہم نےاپنی کمپنی کا لیکھا جوکھا اور پیسے کا سارا کام سنبھالنے کا کام سونپا۔
پہلی فلم کے لئے کہانی کے انتخاب کا وچار شروع ہو گیا۔ ہم لوگ چاہتے تھےکہ ہماری پہلی فلم اونچی قسم کی اور مقبول ہو، اس لئے ہم نے عام آدمی کے پسندیدہ شری کرشن کے بچپن کے مدھر منظروں پرمبنی کہانی طے کی،اندردیو کے غصے کے کارن اپیدا ہوئے طوفان میں شری کرشن گووردھن پروتن اٹھاکربرج واسیوں کی حفاظت کرتا ہے، یہ تھا ہماری فلم کا نقطہ عروج۔
فلم کاموڈ پر کیا اثر پڑے گا، میں نے پہلے سے ہی سوچ لیا تھا۔اس لئے میں چاہتا تھا کہ ‘گوپال کرشن جیسا موضوع صرف شاستروں پرانوں کے دائرے میں ہی سمٹا نہ رہے، بلکہ آج کے زمانے کے مطابق سماج اور دیس کے لئے کچھ پیغام دینے والا ہو۔ دیس میں سیاسی تحریک زور پکڑتی جا رہی تھی ۔ ہماری کولہاپر ریاست میں بھی خبریں آنے لگی تھیں کہ خودمختاری کے لئے مہاتما گاندھی زوردار تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس لئے میں نے اس ‘گوپال کرشن’ فلم کوسیاست کا ہلکا ٹچ دینے کا فیصلہ کیا۔
متھرا کے راجا کنس کو میں نے برٹش راج طاقت کا اور شری کرشن کو عوام کارہنما بنا کرفلمانے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات بھی میں نے بالواسطہ روپ میں اور اصل لیجنڈری کہانی کے منظروں کو تھوڑا سابھی نقصان پہنچائے بنا فلم میں رکھا۔ یعنی سیاست کو کھلم کھلا فلمانا مشکل تھا۔ کیونکہ یہ ہماری پہلی فلم تھی اور ہم اسے سینسر کی قینچی سے بچا کرعوام کے سامنے پیش کرناچاہتے تھے۔ یہ ضروری بھی تھا۔ اس لئے میں نے اپنی آدرش پسندی اورعمل پسندی کے بیچ تال میل بٹھانے کے لئے کچھ سمجھوتے ضرور کر لئے تھے۔
ہماری کمپنی کا سارا کاروبار ہی نیا تھا۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نئے سرے سے جٹانی پڑ رہی تھی۔ سب سے بڑا سردرد تھا قابل اداکاروں اور اداکاراوں کواکٹھاکرنے کا۔ گیانوبا مانے نامی ایک سڈول اور کسے جسم کے شحض کوکنس کا کام کرنے کے لئے چنا۔ سانگولے دیہات کے ایک پیارے لڑکے سریش کو شری کرشن کا کردار ادا کرنے کے لئے ڈھونڈ کر لائے تھے۔ شوٹنگ کی مدت میں وہ ہمارے گھر پر ہی کھانے کے لئے آتا۔ دیگر چھوٹے موٹے کاموں کے لئے کمپنی کے آس پاس کے گلی کوچوں میں رہنے والے ان پڑھ، اور تھوڑا سا ہی لکھ پڑھ لینے والے بیکار لوگوں کو بہت ہی معمولی پیسوں پر رکھ لیا۔
اب پرشن (سوال) تھا نئے لوگوں کا! مہاراشٹر فلم کمپنی کی ہیروئن کملا دیوی(گلاب بائی) کو فتے لال جی سے کافی پہلے ہی پیار ہو گیا تھا اور وہ بھی مہاراشٹرفلم کمپنی چھوڑ کر ہمارے ساتھ آ گئی تھیں۔ ان کا انتخاب شری کرشن کی ماتا یشودا کےکردار کے لئے کیا گیا۔ ان دنوں خاندانی عورتیں سینما میں کام کرنےنہیں آتی تھیں۔ اس لئے بہنابائی نامی ایک گوری چٹی ادھیڑ عمرکی مدد سےطوائف کا کاروبار کرنیوالی کچھ ادھیڑ عمرکی عورتوں کو لے آیا گیا۔ لیکن سوال تھا نوجوان لڑکیوں کو لانے کا۔ خصوصا رادھا کا اہم کردار کرنے کے لئےچست چالاک لڑکی ی کی ہمیں تلاش تھی۔
انہی دنوں کولہاپور میں ایک تماشا پارٹی آئی تھی۔ اس میں اہم نرتکیوں میں سے ایک لڑکی کے کافی چست و چالاک ہونے کی خبر مجھے ملی وہ ذات کی مدارن تھی۔ ہم نےاسے کمپنی میں بلا لیا۔ وہ ایک دم پکے کالے رنگ روپ کی تھی، لیکن اس ڈیل ڈول اور ناک نقشہ اچھا تھا۔ اسے بیس روپے تنخواہ پر ہم لوگوں نے رادھاکےکردارکے لئے طے کیا۔ جیسا کہ ان دنوں کا رواج تھا، فلم کے مختلف منظروں کی تعلیم دینا میں نے شروع کیا۔ ایک کملا دیوی کے علاوہ خاص سبھی لوگ ایک دم نئے ہونے کے کارن انہیں اداکاری بالکل شروع سے سکھانی پڑتی تھی۔ لہذا تعلیم ہر روز پانچ پانچ اور چھ چھ گھنٹے چلتی تھی۔ آہستہ آہستہ منتخب کئے گئےسبھی لوگوں میں اداکار اور اداکاراؤں کچھ کچھ نکھارآنے لگا۔ تھوڑے ہی دنوں میں شروع کرنا طے ہوا اور ایک دن ہمارے فلم کی رادھااچانک غائب ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے! ہم سب لوگ ماتھا تھامے بیٹھ گئے۔
پھر سے کھوج، ایک ہیروئین کی! اب کی باربہنابائی نے خودآگے آ کرہماری مدد کی۔ وہ ٹھیک ٹھاک ڈیل ڈول کی اور اچھے ناک نقشے کی ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کمپنی میں لے آئی۔پھر سے تعلیم شروع ہو گئی، جو واقعی میں چست تھی۔ وہ اپنا کام بہت ہی پھرتی کے ساتھ سیکھتی گئی۔
سب کا کہنا تھا کہ کوئی اچھا مہورت دیکھ کر فلمانا شروع کیا جائے۔بات یہ تھی کہ اچھا مہورت دیکھ کر کام شروع کرنے پر گوپال کرشن’ خوب چلے گی اور ہماری آئندہ لامحدود پریشانیاں کم ہو جائیں گی،لہذا سیتارام پنت کی پہچان سےکولہاپورکے ایک جوتشی کو بلایاگیا۔ انہوں نے آتے ہی ہم پانچوں ساجھےداروں کی جنم پتریاں دیکھنے کے لئے منگوائیں۔ گئے مارے! ہرایک کے نو نو یعنی ہم پانچوں کے ملا کر پورے پینتالیس گرہن کشتروں (گھروں) کا ہیل میل جس دن ہو گا، اسی دن کام پرشروع ہو سکےگا یعنی پانچ سال تو ایسا ہونا ناممکن تھا!
میں نے کچھ سوچ کر جوتشی کو سجھاؤ دیا، “پنڈت جی، اس کی توقع آپ ایسے کیجئے، جس دن ہماری یہ پربھات کمپنی شروع ہوئی، اس دن، اس وقت اورکمپنی کا نام لےکر آپ کمپنی کی ہی کنڈلی بنا لیجیے اور اس کے لئے جومبارک ہو، ایسا مہورت نکالیے۔ مہورت کمپنی کے لئے بھی تو شبھ ہونا چاہئیے۔ سبھی ساجےداروں کو میری بات پسند آئی۔ اب پینتالیس کے بجائے صرف نو گرہوں کی ہی گنتی دیکھی جانے والی تھی، لیکن وہ نو گرہ بھی پورے ٹھیک نکلے۔ پنڈت جی نے بتایا، “آج سے پیتالیسویں دن ایک دم جگ کیسری یوگ ہے۔ اس سے بڑھیا مہورت کیا ہو سکتا ہے۔ اسی دن کام شروع کیجئے۔
سب کے چہرے سوکھ گئے۔ سبھی چپ تھے۔ ہم تو پینتالیس دنوں میں ساری شوٹنگ مکمل کرنا چاہتے تھے۔ ڈیڑھ مہینہ رکنے کا مطلب ہوتا کمپنی کی کمر توڑ کر رکھ دینا! سبھی اداکاروں کو اور دیگرلوگوں کو ڈیڑھ مہینہ مفت میں تنخواہ دیتے رہیں، توپھر ہو گیا فائدہ کمپنی کا! پہلے ہی ہماری پونجی محدود، وہ یوں ہی ختم ہو جاتی اور فلم کبھی نہ بن پاتی!
اچھا بھلا کام شروع کرنے جا رہے تھے، پتہ نہیں کیا سوجھی جو اس پنڈت کو بلالائے۔ گھر بیٹھے ایک مصیبت ہی مول لے لی۔ اب کیا کیا جائے۔ کسی کو سوجھتا نہیں تھا، مہورت وہورت کی بات کو دھتکارنا بھی ممکن نہیں تھا، کیونکہ سنسکاری من پرمہورت، شبھ گھڑی وغیرہ باتوں کا اثر تھا ہی۔ میں تو اتنی اتاولی فطرت کاآدمی تھا کہ پینتالیس گھنٹے بھی کام کو روکنا مجھے منظور نہیں تھا۔ آخر میں ہمت بٹور کر میں نے کہا، “دیکھیئے، ہم نیک کام کرنے جا رہے ہیں۔ تو نیکی میں پوچھ پاچھ کیسی؟ اتنی مصیبتوں سے راہ نکالتے نکالتے ہم لوگ شوٹنگ شروع کرنے کی تیاری پوری کر چکے ہیں۔ بھگوان ہمارا سرپرست ہے،لہذا اب اور دیری نہ کی جائے۔شبھسیہ شیگھرم (جلدخوش قسمتی آئے)! کل سے ہی کام شروع کریں ۔
سیتارام پنت اور داملےجی نہ تھوڑی بحث بازی کرنی چاہی۔ کنتو(لیکن) میں بھی اپنی ضد پر اٹل رہا۔ میرا خیال ہے، میری عملی دلیل منظور تو سبھی کو تھی، اسی لئے سب نے میری بات رکھ لی اور دوسرے ہی دن صبح’پربھات’ کے لوگو کی شوٹنگ سے ہمارا کام شروع ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘گوپال کرشن’ ریلیز ہونے تک اپنے اس ضدی فیصلے پر میں کافی پریشان رہتاتھا۔ ذرا فرصت ملی کہ دنیاداری کے ریتی رواجوں کے خلاف جاکر، وقت نا وقت کا خیال نہ کرتے ہوئے شروع کئے گئے اس فلم کی کامیابی، ناکامی کے وچاروں کی گھٹائیں من میں گھر گھر کر آتیں اور مجھے بہت ہی پریشان کرتی تھیں ۔
پربھات فلم کمپنی کا لوگو
شوٹنگ کا آغازہم نے ‘پربھات’ کے لوگو سے ہی کیا۔ فتےلال جی نے پیچھےایک پردہ لگایا، جس سے دکھائی دیتا تھا کہ سورج کی کرنیں نیچے کے افق سے اوپرکو اٹھتی آ رہی ہیں۔ پردے کے سامنے پاس ہی انہوں نے لکڑی کے ایک نیم دائرے کاچبوترہ رکھا۔ سڈول ڈیل کی گلاب بائی پربھات کا لوگو بن کر تیار ہوکرآئی۔ فتےلال جی کی بنائی گئی چتر کےمطابق انہوں ڈریسنگ کی تھی۔ گھٹنوں تک پہنی، تن چھوتی ساڑی، اس پر کمربند، بازو میں ایک چھوٹا، نیچےلٹکتا جھولتا دوپٹہ، صرف عروجوں کو ہی ڈھکنے والی انگیا، پیٹھ پر اس انگیا کی گانٹھ کا کچھ لمبا سرا، سر پر ایک نازک تاج اور پیچھے ناگن سی لمبی بل کھاتی چوٹی، ایسی سج دھج میں بن ٹھن کر آئی گلاب بائی اس چبوترےپر کھڑی ہو گئی۔ کسی نے مہورت کا ناریل پھوڑا۔ میں نے کیمرے کو ‘سٹارٹ’ کا حکم دیا۔ فتے لال جی بیل اینڈ ہاویل کیمرے کا ہینڈل گھمانے لگے۔ میں گلاب بائی کواونچی آواز میں ہدایات دینے لگا، “گلاب بائی، اب آپ ہاتھ میں تھامی بھیری کودھیرے دھیرے اوپر کو اٹھائیے اور پیچھے کمر کی طرف جھک کر اسے زور سے پھونکئے۔”
شوٹنگ خاموش فلم کی تھی۔ اس لئے کیمرے کی آواز بھی آتی اور ڈائریکٹر بھی نٹ نٹیوں کو چلا چلا کراداکاری کے بارے میں ہدایات دیتا تھا۔
گلاب بائی ایک سدھی ہوئی اداکارہ تھیں۔ انہوں نے بہت ہی شان کے ساتھ سارا کام کیا۔ میں نے زور سے ‘کٹ’ کہا۔ کیمرہ رکا۔ مہالکشمی کے مندر سے لائے گئے کولہاپور کے خاص پھیکے پیڑے سب کو بانٹے گئےڈھیر ساری مٹھائی ہم پانچوں ساجھےداروں نے ہمارےاس کارخانے میں بیٹھ کر صاف کر دی۔
دوسرے دن سٹوڈیو میں بنائے گئے کنس کے عالی شان محل کی شوٹنگ شروع کی۔ پہلوان گیانوبا مانے کمپنی میں کافی دنوں سے آئے تھے۔ لہذاانہیں اداکاری کی مکمل مشق کافی اچھی ہو گئی تھی۔ نتیجتااس سیٹ پر پینٹ کئے جانےوالے منظروں کی شوٹنگ لگ بھگ پانچ چھ دنوں میں پورا ہو گئی۔ داملے ہر روز اس شوٹنگ کے نیگیٹو کو ہمارے نئےکیمیکل روم میں کیمیکل سے دھوتے تھے۔ دھائبرانکی مدد کرتے تھے۔ کیمیائی عمل کے بعد ان کا پرنٹ نکال کر ہم نے اسےپروجیکٹر پر چڑھایا۔ شوٹنگ نہایت تسلی بخش ہوئی تھی ۔ فورا ہی اگلے سین کی شوٹنگ کے لئے ہم لوگوں نے رادھا کے گھر کا سین کھڑا کرنا شروع کیا۔
شوٹنگ کے دنوں اگلے دن کس سین کی شوٹنگ کیسے کرنی ہے، ہر رات اس کا ایک خاکہ میں لکھ کر کھینچ لیتا تھا۔شام کو گھر آنے کے بعد آدھی رات جاگ کر میں اس سوچ بچار کو لکھنے بیٹھتا تھا۔ اس رات لکھنا پورا نہ ہو سکتا،تو دوسرے دن منہ اندھیرے چار بجے اٹھ کر لکھنے بیٹھتا اور دن نکلتے ہی نہانے دھونے سے نبٹ کر بنا کچھ کھائے پیئے سٹوڈیو چلا جاتا۔ اس جھمیلے میں گھرگرہستھی اور خاص ومل سے غفلت رہنے لگی۔ دو باتیں کرنے کے لیے اس سےمیں فرصت میں نہیں مل پاتا تھا۔
ایک دن سویرے ہی میں سٹوڈیو جانے کو نکل رہا تھا کہ وِمل راستہ روک کرکھڑی ہو گئی اور بولی، “آپ کو یاد بھی ہے کہ گھر میں آپکی ایک پتنی ہے؟ مجھے دومنٹ بات کرنے کی بھی فرصت نہیں تھی، تو شادی کیوں کی ؟اس کی یہ حرکت دیکھ کر میں غصے میں آگ بگولاہو گیا۔ کوئی جواب تو میں نے نہیں دیا، لیکن اسکا ہاتھ زور سے ہٹا کر اس کی بھری آنکھوں کی طرف دیکھے بنا ہی باہر چل دیا۔ راستے میں رہ رہ کر وِمل کے آج کے طرز عمل پر سوچتا گیا۔ کیا وِمل کی بات صحیح نہیں تھی؟ جب دیکھو، میں صرف گوپال کرشن، پربھات اور سٹوڈیو کی ہی سوچتا تھا، حال ہی میں ایک بیٹے کا پتا بن چکا تھا۔ اسکا نام بھی پربھات کمپنی کے نام پر ہی میں نے پربھات کمار رکھا تھا۔ گھر خاندام، پتنی، اکلوتا منا،کسی کی طرف میرا قطعی دھیان نہیں تھا۔ میرا گھروالوں کے ساتھ اس طرح پیش آناغلط ہے، یہ بات من ہی من مجھے سوجنے لگی۔ آکھر وِمل اس گھر کی نئی نویلی بہو ہے۔ اسے کوئی دقت آ جائے، تو میرے سوا اور کس سے بات کر سکتی ہے وہ؟۔۔۔
جیسے جیسے کمپنی کے پاس آتا گیا، ان وچاروں کی جگہ آج کی شوٹنگ نےلینا شروع کر دی۔
اتفاق کی بات تھی کہ رادھا اور اس کے پتی انیے کے بیچ لگ بھگ اسی طرح کےمنظر کی شوٹنگ اس دن کرنی تھی۔ انیے کو متھرا میں کنس کے پاس جانا ہوتا ہے۔وہ رادھا کو ویسا بتا بھی دیتا ہے۔ منظرایک دم سیدھا سادہ لکھا گیا تھا۔ تبھی میرےاندر کا ڈائریکٹرجاگ اٹھا۔ میں نے سوچا، آج وِمل کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی ہی ہوبہو شوٹنگ آج ہوئی تو ناطرین کو گھریلو جھگڑے کی آپ بیتی دیکھنے کا لطف آئے گا اور وہ اسے بہت پسند کریں گے ۔ مجھے اپنے اس وچار پر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ اس لئے کہ کارگزاری کے پیچھے ہاتھ دھوکر لگے آدمی کا بھی کیا ہی عجیب حال ہوتا ہے۔ اور غصہ اس بات پر کہ میں بھی کتنا مطلبی ہوں ! اپنے گھر کی اس بات کو، گمبھیر و نہایت نجی منظر کو ایک دم بے شرمی سے اپنے کام میں استمعال کرنے کی سوچ رہا ہوں! لیکن میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ آخر گھر میں اور باہر ہونے والے ایسے دل کو چھو لینے والے منظرہی تو ڈائریکشن کے لئے میری پونجی ہیں !اسی زاد راہ کے ساتھ ہی آگے کا سفر کرتے جانا ہے۔
اس دن کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد میں رات گھر لوٹا، اور یہ ہی ساری باتیں ہنستے ہنستے وِمل کو سنا دیں۔ سن کر وہ اور بھی زیادہ غصہ ہو بیٹھی لگ بھگ آٹھ دن تک اس نے مجھ سے ایک بھی بات نہیں کی۔ آٹھ دنوں بعد میں نے اس سے کہا،” وِمل، تم روٹھ تو گئی ہو، لیکن پتہ ہے، اس کی وجہ سے دوسرے دنوں کےسین لکھ لینےکے لئے مجھے کافی وقت مل گیا۔”
میری اس بات پر اس کا غصہ جاتا رہا۔ وہ میرے پاس آئی۔ میرے ہاتھ سے کاغذ،اور پینسل چھین کر اسے دور پھینک دیئے اور میری گود میں بیٹھ کر بولی، “ہوں ،لکھیئے نے کیا لکھنا ہے۔” – ہر روز کمپنی آنے بعد میرا پہلا کام ہوتا تھا سب کا میک اپ کرنا، اس کام میں مدد کرنے کے لیے میں نے شنکر گوڑ نامی ایک لڑکے کو رکھ لیا تھا۔ اداکاروں اور اداکاراؤں کے چہرے پر رنگ لگانے کاکام میں نے اسے سکھایا تھا۔ میں ٹھیک پونے نو بجے سفید پینٹ، سفید قمیص پہن کر شوٹنگ کے لئے تیار ہوجاتا، فتےلال، داملے اور دھائبروغیرہ لوگ بھی بنا چوکے ٹھیک وقت پر آتےاور اپنے اپنے کام پورے کر شوٹنگ کے لئے تیار رہتے ہیں۔
سبھی کلاکار ٹھیک نو بجے سیٹ پر حاضر رہ سکنے کے لئے سویرے سات بجے سے ہی میک اپ کے لئے سٹوڈیو میں آ جاتے تھے، کمپنی کے پاس ہی ایک لمبے کمرے،گلیارہ نما کمرےمیں ٹین کی پارٹیشن ڈال کر دو حصے بنائے گئے تھے شوٹنگ کے سیٹ پر جب کام نہیں ہوتا، تب اداکاراور اداکارائیں اسی جگہ پر آرام کیا کرتے تھے سویرے سب سے پہلے میں اداکاروں کو داڑھی مونچھیں وغیرہ لگاتا اورمیک اپ بھی کر دیتا تھا۔ اس کے بعد وہ سب لوگ جاکر سٹوڈیو کے کام میں داملے اور فتے لال جی کی مدد کرتے تھے کون سا ریفلیکٹر کہاں رکھنا، چھوٹی موٹی چیزیں ادھر سے ادھر لے جاکر رکھنا، وغیرہ کام وہ لوگ تب کرتے، جب سامنے جاری شوٹنگ میں ان کا کام نہیں ہوتا۔ صرف عورتیں ہی اپنے کمرے میں بیٹھ کرپان تمباکو کھاتیں، گپیں لڑاتیں۔ پان چبانے تک کی آواز مجھے سنائی نہ دے، اس وجہ سے وہ دانت بھینچ لیتی۔
ایک دن صرف ایک گوپی اور کرشن کے سین کی ہی شوٹنگ کرنا تھی۔ سبھی مرد اداکار باہر سٹوڈیو میں مختلف کاموں میں مدد کرنے چلے گئے تھے ۔کرشن کا میک اپ کر کے میں نے اسے کرشن کا بھیس بدلنے کے لئے فتے لال جی کے پاس بھیج دیا۔گوپی کا میک اپ کرنے کے لئے میں عورتوں کے کمرے کی طرف گیا اور کواڑ پردستک دے کر ہمیشہ کی عادت کے مطابق پوچھا کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اندر سے’ آئیے’ کا جواب آیا۔ میں کواڑ دھکیل کر اندر گیا۔ سارا کمراخالی پڑا تھا۔پھر ‘آئیے’ کس نے کہا تھا؟ میں نے مڑ کر دیکھا اور۔۔۔۔
ایلورا غار کی ایک سیڈول لڑکی کی طرح کوئی شلپا کرتی(مورتی) میرے سامنے کھڑی تھی! وہ کرافٹڈ مورتی نہیں تھی، وہ واقعی میں ایک جیتی جاگتی تھی۔ اپنی مدہوش جوانی کے ابھرتے ڈیل ڈول کی نمائش کرتے ہوئے وہ کھڑی تھی ہماری ‘دوسری ہیروئین۔’ اس کے تن پر رتی بھر چولی بھی نہیں تھی۔
میری تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ وہ مسکرا کر ایک انداز سے اپنا روپ مجھ پر بکھیررہی تھی۔ حیرت کے پہلے دھچکے سے سنبھلتے ہی میں نے غصے میں اسے دیکھا۔ فورا ہی اپنے کھلے عروجوں کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپتی ہوئی وہ ڈر کے مارےنیچے بیٹھ گئی۔ میں نے ایک دم روکھی آواز میں کہا، ‘کپڑے کر لو، اور فورا کمرے کےباہر آ کر میں نے کواڑ بند کر دیئے۔
باہر آتے ہی من میں خیالات کا طوفان اٹھا ۔کیوں کھڑی رہی وہ میرے سامنے، اس طرح بے لباس ہوکر؟ مجھے لبھانے کے لئے؟ یہ کس کی سوجھ ہو سکتی ہے؟ اس کی اپنی یا بہنابائی کی؟ یا کسی اور کی؟ اگرایسا ہے، تو ان کا مقصد ایک ہی ہوگا مجھے ہوس کا شکار بنانا۔ لیکن ایسا کرنے سے انہیں کیا ملتا؟ کیا وہ مجھے عورت بازوں کی قطار میں شامل ہوا دیکھنا چاہتی تھیں؟ پھر میں اپنی نظر سےسوچنے لگا۔ مدہوش جوانی کو بے لباس سامنے کھڑا دیکھ کر بھی میں بے حس کیسے رہ سکا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے من میں ہوس کا جوش آیا تو تھا، لیکن میں نے اس پر فورا قابو پا لیا؟ لیکن، ویسا نہیں تھا۔ بس ایک ہی دھن سوار تھی: ‘گوپال کرشن’ ایک دم سب سے اچھی فلم بنے ! ہماری ‘پربھات فلم کمپنی ‘ کا نام سارے بھارت میں روشن ہو! پربھات کا ایک فنکارانہ اور مستحکم ‘پربھات نگر’ بسائیں! بس یہی دھن مجھ پر ایسی چھا گئی تھی کہ تن من اسی میں ڈوبا تھا۔ کسی دوسری شکایت کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔ اس لیےاس کے ایسے طرز عمل پر مجھے غصہ آگیا۔ سوچا، اس کو فورا کمپنی سے چلے جانے کے لیے کہہ دوں۔ لیکن یہ کیسے ممکن تھا؟ ‘کرشن گوپال، میں اس کے کئی سین فلمانا کمپنی کی محدود پونجی میں نا ممکن تھا۔ اس سے بھی بڑی دقت یہ تھی کہ وہ کام کرنے کے لئے پھر کسی قابل لڑکی کاملنا مشکل تھا۔ میں ایک طرح کی گھٹن محسوس کرنے لگا۔ آخر میں نے من کے احساسات کا بہاؤ روک دیا اورروپے کے خیال سے اپنے غصے کو ٹھنڈا کیا۔
میں نے باہر سے ہی پھر آواز دی، ”اندر آ سکتا ہوں؟ اس بار اندر سے ڈری سی ‘ہاں’ سنائی دی۔ وہ کپڑے پہن کر بیٹھی شرم سے گڑی جا رہی تھی۔
میں نے اس کا میک اپ پورا کیااس لیے کہ اپنے کئے پر اسے شرمندہ سا نہ رہنا پڑے، کچھ ڈانٹتے ہوئے میں نےکہا، “سنو، پھر ایسا کبھی نہ کرنا۔ فوراً اپنا کاسٹیوم پہن کر سٹوڈیو میں آجاؤ! میری بات سن کر اس نے راحت کی سانس لی ہوگی۔
دوسرے دن میں میک اپ کرنے کے لئے گیا، تو بہنابائی وغیرہ ساری عورتیں مجرم سی بنی بیٹھی تھیں۔مجھے آتا دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئیں ۔ سب نے میرے چرنوں پر ماتھا ٹیکا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر معافی مانگتے ہوئی کہنے لگیں “غلطی تو ہم سب کی ہے۔ ہم نے ہی اسے ایسا گندہ کام کرنے کے لئے اکسایا تھا کل!”
غلطی ہماری تھی! آپ تو واقعی دیوتا آدمی ہیں!” لیکن کیا میں سچ مچ دیوتا آدمی تھا؟
‘گوپال کرشن’ کی باہر شوٹنگ کے لئے ہم لوگ کولہاپر سے کوئی چالیس میل دور گڈہنگلس نامی گاؤں گئے۔ وہاں ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی۔ اسے ہی ہم نے’گووردھن’ پہاڑ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن شام کو وہاں موسلادھار بارش ہونےلگی۔ ندی نالے باڑھ سے بھر گئے۔ ہم فورا کیمرہ لےکر شوٹنگ کے لئے چل پڑے۔ سبھی اداکاروں اوراداکاراؤں نے پانی میں قدم رکھا ۔ وہ واقعی میں باڑھ کے پانی میں بہنے لگے۔ میں اور فتے لال جی کیمرہ کے پاس رہ کر شوٹنگ کرنے لگے۔ داملے اوردھا ئبر آگے جاکر باڑھ میں ڈوبتےابھرتے لوگوں کو باہر نکالنے لگے۔ بےموسم آئی وہ بارش ہمارے لئے ایک خوش قسمتی کی بات تھی۔ لیکن اس کی وجہ سے فلم میں بارش کے سین ایک دم اصلی بن سکے۔ برسات ہی ہماری فلم کا اہم سین تھا۔ اس کو ہم لوگ غیر متوقع روپ سے ایک دم اصلی ماحول میں فلما سکے۔شوٹنگ کے لئے ہمیں اچھی موٹی تازی اور ہری بھری گایوں کی تلاش تھی۔ ویسی گائیں کولہاپور دربار کی گئوشالہ میں تھیں۔ شوٹنگ کے لئے انہیں دستیاب کرانےکی درخواست ہم نے دربار سے کی تھی۔ کافی دن ہو چکے تھے۔ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ لہذا ہم نے کہیں اور کوشش کرنا شروع کیا تھا۔ دھائبر جت ریاست کی راج ماتا سے اچھی طرح سے متعارف تھے۔ نے راج ماتا صاحبہ سے گائیں شوٹنگ کے لئے دینے کی درخواست کی۔ جسے انہوں نے فورا قبول کرلیا۔ ہم لوگ فورا جت پہنچ گئے اور چار پانچ دن میں گایوں کے سبھی منظروں کی شوٹنگ پوری کر کولہاپر واپس آ گئے۔
گوپال کرشن کی شوٹنگ اب لگ بھگ پوری ہونے کو آئی تھی ۔ صرف ایک منظرفلمانا باقی تھا۔ ہم نے طے کیا کہ اس سین کی شوٹنگ ندی کنارے پیروباغ میں کیا جائے۔ اسی باغیچے میں ‘سریکھا ہرن’ کی شوٹنگ کے لئے کیمرہ پیٹھ پر لادےمیں ایک ہمال کی طرح جاتا تھا۔ سین تھا وہاں کے ایک پیڑ پر باندھے جھولے پر کرشن بیٹھا ہے۔ پیندیا اور اسکے ساتھی اسے جھولا جھلا رہے ہیں، ناچ رہے ہیں، گا رہے ہیں، خوشی سے کودتےپھاندتے جا رہے ہیں، مستی میں مست ہو گئے ہیں۔
اس منظرمیں کرشن کا ایک چار پانچ سال کا ننھا ساتھی آنند سے تالیاں بجاتا، ناچتا ہوا اپنی خوشی ظاہر کر رہا ہے، ایسا ہی ایک سین میں فلمارہا تھا ناچتے ناچتے اس لڑکے کی لنگوٹی ایک طرف ہٹ گئی۔ میں کیمرے کے پاس سےچلایا، ‘ابے انتیا کے بچے، تیری تلی لیلی ہو گئی ہے۔ لنگوٹی ٹھیک کر۔”اس نےلنگوٹی ٹھیک کر لی۔ میں پھر چلایا، “ناچو، ناچو، تالیاں پیٹتے ناچنے رہو۔”میرے کہنے کے مطابق وہ پھر ناچنے لگا۔ شاٹ پورا ہو گیا۔ ہنسی کے مارے ہم سب لوگ لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔
‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کو میں فائنل روپ دے رہا تھا۔ اس لڑکے کی لنگوٹی ہٹ کر جو ‘تلی لیلی’ ہو گئی تھی، اس کا سین فلم میں رکھیں یا نہ رکھیں، میں کشمکش میں پڑا تھا۔ وہ زمانا ایسا تھا کہ فلم میں ننگا بچہ دکھایا تو جاتا تھا، لیکن اس کی شرم گاہ بخوبی کیمرے میں نہیں آنے دی جاتی تھی۔ اگر وہ دکھایا گیا، تولوگ فحش فحش کی چیخ وپکار مچاتے۔ اس لئے میں نے بھی اس سین کوکاٹ دیا۔ پھر سوچا کہ یہ منظرواقعی میں یہ منظر ایک دم قدرتی بہاؤ سے آیا ہے، اس میں کہیں پر کوئی بناوٹ نہیں ہے، جیسا آسانی سے ہو گیا، ویسا ہی، اتنی ہی آسانی سےفلما لیا گیا ہے۔ اسے رہنے دیا جائے، تو کیا ہرج ہے؟ میں نے اس سین کو فلم میں پھر جوڑ دیا۔
جب ہم لوگوں نے آپس میں ‘گوپال کرشن’ کا پرنٹ دیکھا، تو سب کی رائے تھی کہ اس سین کو فلم میں نہ رکھا جائے۔ دیکھنے والے ناراض ہو جا ئیں گے اور فلم کی مقبولیت پر اس کا بڑا اثرپڑےگا۔ آخر سب کی رائے کے مطابق اس سین کو نکال دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
‘گوپال کرشن’ کا پہلی ٹرائل دیکھنے کے بعد سب کو اطمینان ہو رہا تھا کہ ہم نےایک بہترین فلم تیار کی ہے۔ لیکن مجھے؟ مجھے کیا لگ رہا تھا؟ میں بھی سطحی اطمینان حاصل کر رہا تھا، لیکن گہرائی سے دیکھنے پر مجھے اس فلم میں مجھ سے ہوئیں موٹی موٹی بھولیں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں حیران تھا کہ اتنی موٹی بھولیں شوٹنگ کےوقت میرے دھیان میں کیسے نہیں آئیں۔ ساری بھولیں ڈائریکشن کی ہی تھیں۔ میں اپنے آپ کوکوسنے لگا، قصور پانے لگا۔ اندر ہی اندر غصہ تھا۔
گھر پر تنہائی میں میرے آنسو بہہ نکلے۔ وِمل نے اس کا کارن جاننا چاہا، میں نےکہا، “میں واقعی مہامورکھ ہوں۔ ذرا زیادہ سوچتا تو آج اس ‘گوپال کرشن’ میں رہ گئی کتنی ہی معمولی غلطیاں وقت پر ٹھیک کر سکتا تھا، ان کو ٹال بھی سکتا تھا۔ اور میں اپنی سسکیوں کو روک نہیں سکا۔
بیچاری وِمل! اس کی سمجھ میں میری ایک بھی بات نہیں آ سکی۔ فلم کیا ہوتی ہے، ان میں غلطیاں ہوتی ہیں یعنی کیا ہو جاتا ہے؟ وہ غلطیاں رہ بھی گئیں تو کون ساآسمان پھٹنے والا ہے؟ یہ سب باتیں اس کی سمجھ کے پرے تھیں۔ وہ تو بس اتنا جان گئی کہ میں بےچین ہوں۔ اس نے ماں کی ممتا سے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور پتی ورتا ہے اس لیے وہ بھی روتی رہی۔
دوسرے دن میں نے اپنا درد دھائبر، فتے لال جی ، داملے کو بتایا۔ وہ تو مجھےباربار یہی سمجھاتے رہے کہ ‘گوپال کرشن’ بہت اچھی بن گئی ہے۔ پھر فلم بمبئی میں پیشکش کرنے کی تاریخ بھی طے ہو چکی تھی، صرف پندرہ دن ہی باقی تھے۔لہذا یہ طے کیا گیا کہ ‘گوپال کرشن’ جیسی ہے اسی حالت میں، غلطیوں کو سدھارےبنا ہی، بمبئی میں ریلیز کی جائے۔ پرنٹ کو بمبئی لے جانے سے پہلے میں نے انتیا کی تلیلیلی ہونے کا سین چپ چاپ اس میں جوڑ دیا۔ سوچا، پہلے شو میں تو دکھا ہی دیتے ہیں۔ لوگوں نے چھی چھا کی، تو ترنت (فورا)کاٹ دیں گے۔ممبئی کے گر گاؤں حصے میں میجیسٹک سنیما کے باہر گوپال کرشن’ کے خاص کرداروں کے چہروں کے فنکارانہ ڈھنگ سے بنے بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے تھے۔ سڑک سے جاتے آتےلوگ ان پوسٹرز کو دیکھنے کے لئے رکتے، لوگ پوسٹرز کو دیکھنے کے لئے آنے بھی لگے۔پربھات کی ‘گوپال کرشن’ فلم جمعہ کو ریلیز ہونے والی تھی۔ شو تھا دوپہر ساڑھے تین بجے کا۔ میں دو بجے سے ہی میجیسٹک تھیٹر پر پہنچ گیا۔ لگتاتھا، گھڑی کی سوئیوں نے چلنا بند کر دیا ہے۔ جیسے وقت تھم گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعدناظرین آنے لگے۔ یہاں تو دل کی دھڑکن کا برا حال ہونے لگا۔ حال آدھے سے زیادہ بھر گیا تھا۔ ہماری کمپنی کا نام نیا تھا۔ لہذا پہلے دن ناظرین کی اتنی بھیڑ جمع نہ ہونا قدرتی تھا۔آخر ساڈھے تین بجے۔ فلم چالو ہو گئی۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھنے لگی،رنگ اور رس چھننے لگے۔ ناظرین بھی جہاں انہیں کوئی بات بھا جاتی، داد دینے لگے۔ کرشن کے مکالمے کے کچھ ٹائٹلز پڑھ کر ناظرین تالیاں بجانے لگے۔ اس سے مجھے لگا کہ کرشن کو متنوع سماج کا اور کنس کو برٹش راج کے نمائندہ پینٹ کرنےمیں میرا جو بالواسطہ ارادہ تھا، ناظرین کی بھی سمجھ میں آ گیا ہے۔
اور بعد میں وہ انتیا کی ‘تلی لیلی’ ہونے کا شاٹ آیا۔ دل تھام کر میں دیکھنےلگا کہ اب ناظرین کے تاثرات کیا ہوتے ہیں ۔ اب چھی چھی تھو تھو مچے گی یا ۔۔۔ تبھی سارا تھئیٹر ناظرین کی طوفانی ہنسی سے گونج اٹھا۔ تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے بیچ ناظرین نے اس شاٹ کی بھی داد دی تھی۔ میری جان میں جان آ گئی۔ سچ بتاتا ہوں، اپنےبولڈ فیصلہ کو من ہی من میں نے کافی کو کافی سراہا۔
بعد میں جب بارش ہوتی ہے اور شری کرشن گووردھن پہاڑ کو اٹھا لیتا ہے، یہ پرسنگ دیکھتے وقت تو ناطرین جذباتی ہو گئے اور تھرتھرا اٹھے۔ آخر میں پردے پر پربھات دیوی بھیری بجا رہی ہے، یہ پربھات کا لوگو دکھائی دیتے ہی ناظرین نے پھر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی، ‘گوپال کرشن’ پر اپنی پسند کی مہر ہی جیسے لگا دی۔ تھیٹر سےباہر آتے وقت ناظرین ‘گوپال کرشن’ کے خاص منظروں، فوٹوگرافی اور خاص طور سے میری ہدایتکاری کے سٹائل کی بہت بہت تعریف کر رہے تھے، جسے سن کر ہم سب لوگ فخر سے پھولے نہیں سمائے۔ خوشی سے ہم نہال ہو گئے تھے۔
پربھات کے ڈسٹری بیوٹر دادا تورنے اور بابورائو راو تھیٹر سے باہر آئے۔ دادا نے مجھے شاباشی دی، بولے، “بھائی کیا بڑھیا تصور اور ہمت ہے آپ کی، مان گئےآپ کو!”میں نے پوچھا، کیسے تصور؟ کیسی ہمت؟” کچھ دادا خوش ہو کر بولے، “اجی، اس بچے کی ‘تلی لیلی’ ہونے کا وہ شاٹ!اتنا سہج، اتنا قدرتی اور اتنا جاندا تھا وہ شاٹ کہ اسی سے آپکی ڈائریکشن کانرالاپن صاف دکھائی دیا۔ وہ شاٹ یعنی خاص آپ کا ہی ‘ٹچ ہے!”شانتارام ٹچ!”
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
[/blockquote]
دوسرے ہی دن میں پرائیویٹ ہائی سکول کے پرنسپل وبھوتے کے دفتر پہنچ گیا۔ انھوں نے پوچھا، ’’کیوں رے، اتنے دن کہاں تھا؟ ہیں ؟‘‘
سنتے ہی مجھے رونا آ گیا۔
انھوں نے کہا، ’’اچھا اچھا، کوئی بات نہیں۔ رؤ مت، آ جاؤ۔ نیچے چوتھی جماعت میں بیٹھو اور دھیان سے پڑھائی کرو۔‘‘
میری تعلیم پھر سے باقاعدہ شروع ہو گئی۔
مجھے کھیل کود کا بھی کافی شوق تھا۔ ہم بہت سارے طالب علم گاؤں کے باہر والے گھاس کے میدان میں شام کو کھیلنے جایا کرتے۔ وہاں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال وغیرہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔
ایک بار کرکٹ کی بیٹ ہاتھ میں لے کر میں بڑی اکڑ سے سٹمپس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ پہلی ہی گیند اتنی سنسناتی ہوئی آئی کہ سیدھی میری پنڈلی پر آ لگی۔ درد جھنجھناتا ہوا سر تک پہنچ گیا۔ میں درد کے مارے ایک دم بیٹھ گیا۔
اُس دن سے لیدر بال کا ڈر من میں بیٹھ گیا۔ پھر بھی ڈرپوک کہلائے جانے کے ڈر سے میں اپنے آپ پر کرکٹ کھیلنے کی زبردستی کرتا رہا۔ لیکن بلّے بازی کرنے جب جب جاتا، اور سامنے والے سرے سے گیند پھینکی جاتی، تو ڈر کے مارے میری آنکھیں اپنے آپ مُند جاتیں۔ پھر بلّا انداز ے سے اوپر اوپر ہوا میں ہی گھوم جاتا، گیند سے اُس کی ملاقات ہی نہ ہوتی۔ بلّا اِدھر اُدھر گھوما اور گیند پیچھے وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں پہنچ جاتی۔ کبھی کبھی تو گیند میرے بلے سے ہی کافی دور سے ہی چلی جاتی۔ کبھی بھولے سے بلے پر آ بھی جاتی، اُوٹ پٹانگ ڈھنگ سے میں اُسے مارتا، تو کیچ لے لیا جاتا، تو کبھی میرا بلا جہاں کا تہاں دھرارہ جاتا اور گیند سٹیمپس گرا کر چلی جاتی۔
ایک دن شام کو اپنے مِتروں کے ساتھ کھیل ہم واپس آ رہے تھے۔ ایک متر نے کہا، ’’بھائی، بات کیا ہے؟ گیند کو بلے سے پیٹنے کے بجاے تم تو ہر بار آنکھیں بند کر لیتے ہواور اسی لیے جلدی آؤٹ ہو جاتے ہو۔‘‘ اُس وقت میرا جواب تھا: ’’کیا بتاؤں یار، کی ماں کو، اماں کی ماں کو۔۔۔ پہلے دن ہی کی بات ہے، کی ماں کو۔۔۔ وہ پتھریلی لیدر کی گیند، کی ماں کو۔۔ سیدھی میری پنڈلی پر اتنے زور سے آ لگی کہ۔۔ کی ماں کو۔۔۔ مجھے تو چکر ہی آ گیا۔ اچھا۔۔ کی ماں کو۔۔ میں کرکٹ کھیلنا بند کر دیتا تو کی ماں کو۔۔ منھ بنا کر میری کھِلّی اڑاتے۔۔۔۔‘‘
میرے متر مجھے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگے۔ جھنجھلاہٹ میں کچھ چمک کر میں نے پوچھا، ’’کی ماں کی کو۔۔ میں اتنے من سے سب کچھ بتا رہا ہوں، اور کی ماں کی، تم سب لوگ اِس طرح ہنسے جارہے ہو؟‘‘
اس پر ہماری ٹولی میں سے ایک نے ہنستے ہنستے کہا، ‘‘کاش، تم نے ابھی جتنی بار کی ماں کو، ماں کو، کی ماں کو، کہا ہے، اُس سے آدھی بار بھی بلے سے گیند کو مارا ہوتا! یہ کیا رٹ لگا رکھی ہے کی ماں کو، کی ماں کو؟‘‘
اپنے متروں کی صلاح پر میں نے اِس ’کی ماں کو‘ کا ساتھ چھوڑنے کی بڑی لگن سے کوشش کی، کافی حد تک کامیاب بھی رہا، لیکن آج بھی اچانک کبھی کبھار وہ اپنا وجود جتاہی جاتی ہے۔
اُس کے بعد دھیرے دھیرے میں نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ کر فٹ بال کھیلنا شروع کیا۔ ایسے گندھروناٹک منڈلی میں ہی فٹ بال کھیلنا سیکھ گیا تھا۔ ایک بار کمپنی ناگپور میں تھی۔ میں نے فٹ بال کھیلتے وقت اتنے زور سے کک ماری تھی کہ میرے بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی کا ناخن جڑ سے اکھڑ کر الٹ گیا تھا۔ اُس کے بعد سکول میں میں نے کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔
انہی دنوں مجھے تیرنے کا بھی کافی شوق ہو گیا۔ ایک بار ناٹک منڈلی ناسک میں تھی، تب گوداوری میں میں نے تیرنا سیکھ لیا تھا۔ کولھاپور میں ایک بڑا تالاب ہے، اُس کا فریم دو ڈھائی میل کا ہے، کچھ ماہر تیراک ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر تیرکر لگا جاتے۔ دھیرے دھیرے مشق بڑھا کر میں بھی ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر کاٹنے لگا۔ لیکن بعد میں اتنی بھوک لگتی کہ پریشان ہو جاتا۔ رنکالا سے واپسی پر مائی کا گھر پڑتا تھا۔ بھوک جب بےقابو ہو جاتی، میں سیدھے مائی کی رسوئی میں پہنچ جاتا اور پِیڑھا لگا کر بیٹھ جاتا۔ مائی فوراً ہی مجھے جوار کی گرم گرم روٹیاں اور ساگ پروستی۔ بڑی ممتا سے کھلاتی۔ لیکن اِس طرح ہر روز مائی کے یہاں جانا اچھا بھی نہیں لگتا تھا۔ تیر کر گھر لوٹ جانے پر میں ہر کھانے میں باجرے کی بڑی بڑی دو ڈھائی روٹیاں ڈکوسنے لگ گیا۔ لیکن میں نے اندازہ کیا کہ گھر کے باقی سارے لوگ آدھی پون روٹی پر گزارہ کر لیتے ہیں، میرا دو ڈھائی روٹیاں اکیلے کھانا ٹھیک نہیں۔ میں نے تیرنے جانا بند کر دیا۔
لگ بھگ انہی دنوں کولھاپور میں سنیما کا تھیٹر بن گیا تھا۔ ناٹکوں کی نمائش جس شِواجی تھیٹر میں ہوا کرتی تھی اُسی میں تبدیلی کر اب سنیما دکھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جیسے شِواجی تھیٹر کی کایاکلپ ہی ہو گئی تھی۔ کولھاپور میں دو پینٹر بھائی تھے، آنند راؤ اور بابو راؤ۔ دونوں پینٹر بھائیوں نے اپنے تخیل کا پورا پورا استعمال کر کے تھیٹر کی اندرونی سجاوٹ کو پوری طرح بدل ڈالا تھا۔ لگتا تھا شِواجی تھیٹر ایک دم نیا بن گیا ہے۔ اس کام میں کولھاپور کے ایک کپڑے کے بیوپاری واشیکر نے پونجی لگائی تھی اور سنیما کے لیے ساری ضروری مشینری خرید کر لے آئے تھے۔ انھوں نے شِواجی تھیٹر کا نام بدل ڈالا تھا۔ اب وہ ’’ڈیکن‘‘ (Deccan) سنیما کے نام سے جانا جانے لگا۔
اس سے پہلے، یعنی میں جب دس گیارہ سال کا تھا، کولھاپور کے دادُو لوہار بمبئی سے سنیما دکھانے کی ایک چھوٹی سی مشین خرید لائے تھے۔ اس پر دادُوجی ایک اکھنڈ جڑا تصویروں کا فیتہ چڑھاتے۔ پھر اُس مشین کا ہینڈل ہاتھوں سے گھما کر سامنے والے پردے پر اُس تصویری فیتے کے منظروں کو دکھاتے۔ تصویری فیتے کے پیچھے ایک دیا ہوتا تھا۔ اُس دیے کی روشنی فلم کے فیتے پر پڑتی اور سامنے لگے شیشوں کے لینز سے گزر کر آگے کچھ فاصلے پر لگائے گئے چھوٹے سے پردے پر انہی منظروں کو دکھاتی تھی۔ اُن دنوں اِن چلتی تصویروں کو دیکھ کر لوگوں کو بڑا مزہ آتا تھا۔ دادُو لوہار یہ سنیما دکھانے کے لیے ایک پیسہ، دو پیسہ ٹکٹ لیا کرتے تھے۔ اُس ہینڈل کو ایک ہی رفتار میں بِنا جھٹکا دیئے گھمانا میں نے سیکھ لیا تھا۔
اس مشین پر دکھائی جانے والی ایک فلم میں ایک ماں اپنے بچے کو چمچ سے کچھ کھلا پلا رہی ہے، ایسا سین تھا۔ پوری فلم میں وہ عورت بس یہی کرتی ہے۔ ایک اور فلم تھی، جس میں ایک مرد ایک عورت کو لگاتار چومتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ سنیما دکھانے کے اِس سٹائل میں بعد میں میں طرح طرح کے تجربے کرنے لگا۔ خصوصاً اس چومنے والی فلم کو شروع میں بہت دھیمی رفتار سے گھماتا اور بعد میں ہینڈل گھمانے کی رفتار بڑھاتا جاتا۔ نیتجتاً آخر میں میں تھوڑا فٹافٹ چومتا دکھائی دیتا تھا۔ اس پر لوگوں میں ہنسی کے فوّارے چھوٹتے تھے۔
سنیما کا یہ طریقہ فلم تو نہیں کہا جا سکتا تھا، ہاں اُسے تصویری پٹی یا فیتے کہنا مناسب ہو گا۔ آج کی فلموں کے مقابلے میں اُس سنیما کی حالت گھٹنے کے بل چلنے والے بچے جیسی تھی۔
کولھاپور میں بنے نئے ڈیکن سنیما میں ’’پروٹیا‘‘ نامی ایک غیرملکی خاموش فلم قسط وار دکھائی جاتی تھی۔ اِس میں پراسرار عورت کا کردار اہم تھا۔ اُسی عورت کے نام پر خاموش فلم کو ’’پروٹیا‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ پروٹیا پوری فلم میں کالے رنگ کے تنگ کپڑے پہن پہن کر کام کرتی تھی۔ یہ خاموش فلم اُن دنوں کولھاپور میں کافی مقبول ہو گئی۔ ہم بہن بھائیوں نے دیکھی۔ اور بھی ایک دو فلمیں دیکھی تھیں۔ اصل میں بات یہ تھی کہ اتنی ساری فلمیں دیکھنے کی ہم لوگوں کی حیثیت نہیں تھی، پھر بھی ہمارے ماں باپو جتنا ہو سکے وہاں تک، لاڈپیار میں ہم بچوں کی فرمائشیں، ضرورتیں برابر پوری کرتے تھے۔
باپو کی فطرت میں کچھ حجاب تھا۔ اُس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کافی گاہک دکان سے مال ادھار لے جاتے۔ ناٹک کمپنیوں کو تو کریانہ مال اور پیٹرومیکس ادھار دینا پسند کرتے تھے۔ پھر اُن لوگوں کا یہ حال ہوتا کہ کولھاپور سے چلتے وقت کہہ دیتے، ’’ارے راجا رام باپو، کوئی پرائے تھوڑی ہی ہیں، اپنے ہی آدمی ہیں۔ اُن کے پیسے اگلے مرحلے پر دے دیں گے۔ ‘‘ اور بس چلتے بنتے۔ لہٰذا کئی بار باپو اپنے پیسے وصولنے کے لیے ناٹک کمپنی کے پیچھے پیچھے دھول چھانتے پھرتے تھے۔ یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے، جیسے کام پر باپو جب گاؤں سے باہر جاتے تو دکان میں کام کرنے والے نوکر کی اچھی بن آتی تھی۔ دکان کا مال چوری چھپے بیچاجاتا۔ اُس سے آنے والے پیسے خود ہی خرچ کر ڈالتا۔ اِن سبھی وجوہات کی بناء پر ہم لوگوں کو غریبی روز بہ روز زیادہ ہی محسوس ہونے لگی تھی۔
ایسی حالت میں میرے من میں آنے لگا کہ کسی طرح کچھ کام کر کے گھر گرہستی چلانے میں باپو کی مدد کرنی چاہیے۔ گرمی کی چھٹیوں میں ’شری وینکٹیشور پریس‘ میں،میں نے کمپوزیٹر کا کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پندرہ دنوں میں میں نے سیاہی کا رولر چلانا اور ٹائپ جمانا سیکھ لیا۔ یہاں میں نے مہینے بھر کام کیا۔ اس کے لیے مجھے چھ روپے ملے۔ بعد میں ہر سال گرمی کی چھٹیوں میں میں چھاپاخانے میں یہ کام کیا کرتا تھا۔ بدلے میں حاصل پیسوں سے میرے سکول کی کاپیوں اور کتابوں وغیرہ کا خرچ تھوڑا بہت نکل آتا تھا۔
گندھرو ناٹک منڈلی میں رہ کر بال گندھرو کی مُدھر اور سریلی آواز میں گائیکی لگاتار سننے کو ملتی تھی۔ نیتجتاً سنگیت میں میری بھی دلچسپی ہو چلی تھی۔ دیول کلب میں گانے بجانے کی محفل ہمیشہ کی طرح ہوتی تھیں۔ کولھاپور دربار کے سنگیت رتن استاد اللہ دیا خاں صاحب کا گانا کلب میں ہوتا، تو نہ صرف کلب کھچاکھچ بھر جاتا بلکہ سیڑھیوں پر اور سڑک پر بھی لوگ کھڑے ہو کر اُن کا گانا سنا کرتے تھے۔ سنگیت کے ایسے پروگرام سن کر مجھے کلاسیکل سنگیت اچھے لگنے لگے تھے۔ رحمت خان، بھاسکربوابکھلے، عبدالکریم خان، سوائی گندھرو وغیرہ گائیک فنکاروں کا گانا مجھے پسند آنے لگا تھا۔ پھر بھی ستار اور ہارمونیم کے پروگرام مجھے بہت زیادہ بھاتے تھے۔ کئی بار گوبند راؤ ٹینے کے کولھاپور آنے پر اُن کے ہارمونیم بجانے کے پروگرام بھی ہوا کرتے تھے۔ لوگوں کے اصرار پر وہ کبھی کبھی ہارمونیم کے سُروں میں خود دبی آواز میں گا بھی لیا کرتے تھے۔ ہارمونیم کے سُروں کے ساتھ وہ اپنا سُر اتنا بڑھیا ملا دیتے تھے کہ سامعین داد دیے بغیر نہیں رہتے۔
ایسی محفلوں میں تانپورے پر بیٹھنے کے لیے کوئی نہ ملا تو مجھے ہی پکڑ بیٹھایا جاتا۔ منع کرتا بھی کیسے؟ مشہور گندھرو ناٹک منڈلی کی مہر جو مجھ پر لگی تھی! تانپورے پر بیٹھنے کی بوریت سے اپنا الاپ چھڑانے کے لیے، پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی میں کسی بڑے سے کھمبے کے پیچھے چھپ کر بیٹھتا۔ لیکن تبھی سامنے سے بابا دیول پکارتے، ’’ارے شانتارام، چلو آؤ، اٹھاؤ تانپورا۔‘‘ پھر میری کون سنتا؟ ہم تانپورا سنبھالنے کے لیے سٹیج پر پہنچ ہی جاتے۔ اس طرح زبردستی تانپورا بجاتے بجاتے میں تانپورا بجانے میں ماہر ہو گیا۔ (یہ دوسری بات ہے کہ تانپورا بجانا کچھ بھی مشکل نہیں!)
دیول کلب میں ہونے والے پروگروموں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بابا دیول کے من میں آیا کہ کیوں نہ کلب کی کوئی اپنی خودمختار عمارت ہو! بس، من میں آنا ہی تھا کہ انھوں نے اِس عمارت کے فنڈ کے لیے کلاسیکل موسیقی اور گائیکی کا ایک جلسہ منعقد کیا۔ جلسے کے بعد دیول جی نے اور رقم جمع کرنے کی غرض سے کلب کی طرف سے سٹیج پر ’وینور‘ نامی ناٹک پیش کرنےکا فیصلہ کیا۔اس ناٹک کے ایک زنانہ کردار کے لیے مجھے چنا گیا۔ ناٹک منڈلی میں سال بھر کام کرنے کی وجہ سے اب ساڑھی باندھ کر کام کرنے میں مجھے کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی۔اس ‘وینود’ نامی ناٹک میں نوجوان رادھا کے نثری مکالمے کا رول میں بہت ہی چستی سے کی کرتا تھا۔ اس ناٹک کو کولھاپور اور سانگلی میں تین بار پیش کیا گیا۔ دیول کلب کی عمارت کے چندے کے لیے پیسہ اچھا اکٹھا ہوا۔ اِس ناٹک میں میری چست اور جاندار اداکاری دیکھ کر ہی آگے چل کر کولھاپور کی ایک شوقیہ ناٹک کمپنی نے ’مان اپمان‘ ناٹک میں مجھے بھامنی کا کردار دینا طے کیا۔ اِس کردار میں کام کرنے کے لیے مجھے ایک ناٹک کے پورے بیس روپے ملتے تھے۔ لیکن دو بار سٹیج ہونے کے بعد ہی یہ ناٹک بند ہو گیا۔
اُسی وقت روٹین کی زندگی میں ایک واقعہ ہوا۔ اُسے کیا کہا جائے،عجیب یا سکھ دینے والا؟ پتا نہیں۔ لیکن وہ ایک دم بےوقت پیش آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی میں تھا، تب ہماری ہی کمپنی میں کام کرنے والے ایک خاندان کے ساتھ میرا تعارف ہو گیا تھا۔ اُس خاندان میں ایک دس گیارہ سال کی لڑکی تھی۔ اُس کا نام بڑا میٹھا تھا، ’’چیتی‘‘۔ میں اسے’’چیتا‘‘ کہا کرتا تھا۔
اس وقت میں تیرہ سال کا تھا۔ یہ لہنگا پہننے والی چیتی کئی بار ہمارے گھر آئی تھی۔ ہمارے مکان میں اوپری منزل پر ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی۔ کئی بار بےسبب ہی اس کوٹھری میں آ کر چیتی چہکتی رہتی۔ میں اس کو نظرانداز کرتا اور سامنے رکھی کتاب پر بہت زیادہ دھیان دینے کی کوشش کرتا رہتا تو پھر ہار کر وہ مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہتی تھی۔ اُس کی نگاہ بڑی نوکیلی تھی۔ لگتا تھا وہ مجھے چبھتی جا رہی ہے۔ اس پر میں سوچتا کہ اُس کی اِس نظر سے تو اُس کا پُھدک پُھدک کر چہچاتے رہنا ہی اچھا ہے۔ ایک دن اُس کی نظر ناقابلِ برداشت ہونے کی وجہ سے غصے میں میں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور زور سے مروڑ دیا۔ میرا خیال تھا کہ اب وہ چیخے گی، چلّائے گی۔ لیکن الٹا وہ ایک دم مجھ سے لپٹ گئی۔ لگا، جیسے کوئی ملائم چڑیا ہو! اُس کے جسم کی گرماہٹ، ملائم کوملتا مھے بہت ہی بھا گئی۔ میں نے بھی اُسے کس کر بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اُس کی وہ تھوڑی سی شرماہٹ اپنی سی لگی۔ ہم نے لگاتار ایک دوسرے کو چومنا شروع کیا، چومتے ہی رہے۔
اُس کے بعد کئی بار دوپہر کی تنہائی میں وہ ہمارے یہاں آتی۔ میں بھی من ہی من میں اُس کا انتظار کرتا رہتا۔ وہ تب آتی جب گھر میں کسی کا آنا جانا نہ ہوتا، تو ہم دونوں کبوتر کے جوڑے کی طرح ایک دوسرے کو مضبوط حصار میں جکڑ لیتے۔ پھر کچھ دنوں بعد مالی مشکلات کے باعث ہم لوگوں نے اس گلی کا مکان چھوڑ دیا اور کہیں دور چلے گئے۔ تب سے وہ پھر کبھی مجھ سے نہیں ملی۔ چیتی آج اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں، میں نہیں جانتا۔ لیکن اُس کے اُس پہلے (ملاپ؟) کی یاد آج بھی میرے دل کو گرماتی ہے۔
میری پڑھائی آگے جا رہی تھی۔ ہر سال جیسے تیسے پاس ہو کر میں اگلی جماعت میں جاتا تھا۔ انہی دنوں مجھے سکول کی کتابوں کے علاوہ کچھ پڑھنے کا شوق ہو گیا۔ دوستوں، پڑوسیوں اور سکول سے جو کتابیں مل سکتی تھیں، سبھی لا کر میں نے پڑھ ڈالیں۔ ایساپنیتی، پنج تنتر، ٹھکسین کی کہانیاں، الف لیلہ وغیرہ۔ تخیلاتی کتابیں پڑھنے سے زیادہ پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ اسے پورا کرنے کے لیے میں کولھاپور کی ’نیٹو لائبریری‘ کا ممبر بن گیا۔ دکھی کتابیں پڑھ کر میرا من بہت دکھی ہوتا۔ اِس لیے کتاب پڑھنا شروع کرنے سے پہلے میں دیکھ لیتا، اُس کا اختتام کیسے کیا گیا ہے اور اگر دکھی ہو تو بنا پڑھے واپس لوٹا دیتا۔ میں کیا پڑھتا ہوں، اِس پر میری ماں کا باریکی سے دھیان برابر رہتا۔ وہ ایک جماعت انگریزی بھی پڑھے ہونے کی وجہ سے میری لائی ہوئی کتابوں کے کچھ صفحے پلٹ کر ضرور دیکھ لیتی۔ من چلے ہیجانی ناولوں کا سایہ بھی مجھ پر پڑنے نہیں دینا چاہتی تھیں۔
رامائن، مہابھارت، بھگوت وغیرہ مذہبی کتابیں بھی میں نے پڑھ ڈالی تھیں۔ ہری نارائن آپٹے کے مقصدی شِوکالین (مذہبی) ناول بڑے چاؤ سے پڑھ کر پورے کیے تھے۔ دکھی کہانیوں اور ناولوں کو دور سے ہی سلام کرنے والا میں، ہری نارائن آپٹے کا ’’لیکن دھیان کون دیتا ہے؟‘‘ (پن لکشات کون گیتو؟) ناول جو سماج کے سلگتے مسائل پر مبنی دل کو چھو لینے والی دکھی کہانی ہے، بغور آخر تک پڑھ گیا۔ بیواؤں کا سر منڈوانا، جرٹھ کماری ویواہ (ادھیڑ عمرعورت کی شادی)، عورتوں کی خواندگی وغیرہ مسائل کو افادی ڈھنگ سے چھو لینے والا یہ ناول کئی سالوں تک میرے من میں آسن جمائے رہا۔ ’’چار آنے کتھا مالا‘‘ میں چھپنے والی ’سنہری گروہ‘ کہانیاں پڑھنے میں مجھے کافی لطف آتا تھا۔ ہر روز میں بلاناغہ بلونت کولھاپور کا ’’سندیش‘‘ اور مشہور بال گندھرو تلک کا ’’کیسری‘‘ برابر پڑھتا رہتا تھا۔ انھیں یا تو لائبریری سے لا کر پڑھتا یا پڑوسیوں سے مانگ کر۔ ’سندیش‘ میں ہمیشہ سنسنی خیز خبریں اور چٹ پٹے مضمون ہوا کرتے تھے۔ ’کیسری‘ میں علمی اور عصری سیاست پر مبنی مضمون ہوا کرتے تھے۔ اُن مضامین اور سیاست کا راز اپنی سمجھ میں کوئی خاص نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی ’کیسری‘ معمول کے مطابق پڑھتا تھا۔
کچھ اور بڑا ہو جانے پر میں نے وشنو شاستری چِپلونکرکے مضامین، تلک کے گیتا رہیسے (گیتا کا راز)، استقامت کے ساتھ پورا پڑھ لیا۔ اِن کتابوں میں لکھی باتیں پوری طرح میری سمجھ میں تب تو نہیں آتی تھیں۔ پھر بھی انجانے میں گیتا کا درشن (فلسفہ) کہیں جڑ پکڑ گیا۔ کُرمنیے وادھی کراستے ماپھایشو کداچن (’’کام کرنا تمھارے بس میں ہے، اس کا پھل تمھارے بس میں نہیں اس لیے اپنا فرض نبھاؤ اور انجام ایشورپر چھوڑ دو‘‘) کی سیکھ میرےکورے من پر کافی گہری چھاپ نقش کر گئی۔
ان اچھے گرنتھوں کی طرح میرے جسم کی ساخت بناوٹ کے برعکس نتیجہ خیز، عجیب عجیب کتاب بھی ان دنوں میرے ہاتھ لگی۔ لائبریری کی کیٹلاگ میں ایک ویدِک طبی گرنتھ تھا۔ میں نے کافی جوش سے پڑھنے کے لیے اُسے لے لیا۔ لیکن یہ کہ گرنتھ میں جن روگوں کا جائزہ لیا گیا تھا، اُن میں ایک سے زیادہ روگوں کی کچھ نہ کچھ علامات میرے جسم میں موجود ہونے کا احساس مجھے ہونے لگا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ تمام بیماریاں مجھے ہو گئی ہیں۔ میرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ رنگت پھیکی پڑنے لگی۔ وزن گھٹنے لگا۔ روز بہ روز صحت گرنے لگ گئی۔ میری طبیعت خراب پا کر ماں نے مجھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر پرابھاولکر کے پاس جانے کے لیے کہا۔ میرے پورے خاندان کو وہ ڈاکٹر بغیر فیس کے دوائیاں دیتے تھے۔
میں پرابھاولکر جی کے پاس گیا۔ انھوں نے میری صحت کا چھی طرح معائنہ کیا اور حیرت سے پوچھا، ’’کیوں رے، آخر تمھیں ہو کیا گیا ہے؟‘‘ میں نے کافی سنجیدگی سے انھیں اپنا درد بتایا اور یہ بھی بتا دیا کہ لائبریری سے لائے گئے اس گرنتھ میں بیان کردہ تمام بیماریوں سے میں روگی ہوں، ایسا مجھے ہر دن لگتا ہے۔ پرابھاولکر جی نے اچھی طرح سے دیکھا بھالا، پرکھا اور بتایا، ’’تمھیں کوئی بیماری نہیں ہے۔ ایک کام کرو، وہ جو کتاب لے آئے ہو نا تم۔ اُسے پہلے پھینک دو، اُس میں تم نے جو کچھ پڑھا ہے، پوری طرح بُھلا دو۔ تمھاری اِس بیماری کی اور کوئی دوا نہیں ہے، سمجھے؟‘‘
میں گھر واپس آ گیا۔ اس گرنتھ کو لائبریری میں واپس پہنچا دیا۔ لیکن اُس میں جو کچھ پڑھا تھا، اُسے بھلانے میں مجھے لگ بھگ ایک سال لگ گیا۔ پھر میری صحت دھیرے دھیرے ٹھیک ہونے لگی۔ تبھی ڈیکن سنیما کے مالک آنندراؤ پنیٹر اور واشیکر کے درمیان کچھ اَن بَن ہو گئی۔ واشیکر نے یہ کیا کہ تھیٹر میں لگی مشینری ہٹا کر سنیما کو کسی دوسرے گاؤں لے جایا جائے۔ ہمارے باپو اور واشیکر اچھے مِتر تھے۔ باپو نے میرے دادا کو سنیما کا انجن، پروجیکٹر وغیرہ کا کام سِکھانے کے لیے اُن کے پاس بھیج دیا۔
اِدھر ہماری کریانہ دکان کا دیوالہ نکلنے کو تھا۔ لوگوں کے پیسے چکانے میں دیری ہو رہی تھی۔ باہر پیٹرومیکس میں سے پانچ چھ خراب ہو گئے تھے۔ نتیجتاً وہ دھندا بھی ٹھیک سے چل نہیں رہا تھا۔ کوئی اور کام دھندا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ ڈیکن سنیما کے مالک واشیکر نے باپو کو کچھ کام دینا چاہا۔ باپو سے انھوں نے جاننا چاہا کہ کیا وہ ہُبلی میں اُن کے سنیما میں لیکھاجوکھا (حساب کتاب) لکھنےاور مارکیٹ لیڈر کا کام کرنا پسند کریں گے؟ باپو نے آج تک ہمیشہ خودمختار کاروبار ہی کیا تھا، سچ پوچھا جائے تو نوکری ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔ پھر بھی شاید ہم سب کا خیال کر، انھوں نے ہُبلی جانا قبول کیا تھا۔
باپو نے کریانہ مال کی وہ دکان بیچ دی۔ جو رقم آئی اس میں سے لوگوں کا جو تھوڑا بہت پیسہ دینا تھا، دے دیا۔ ڈیکن سنیما میں نوکری کرنے وہ ہُبلی چلے گئے۔ ہمارا گھروندہ بکھر گیا۔ دادا پہلے ہی دوسرے گاؤں میں سنیما کی نوکری کرنے چلا گیا تھا۔ وہ وہاں بجلی پیدا کرنے والی مشین چلاتا اور سنیما چالو ہونے پر اُس کے سین پر پیانو بجاتا۔ ولایتی خاموش فلموں میں دی جانے والی معلومات انگریزی میں ہوا کرتی تھیں۔ عام ناظرین کی سمجھ میں وہ نہیں آ پاتیں۔ دادا اُن کا مراٹھی ترجمہ کر تھیٹر میں زوردار آواز میں اُن کی جانکاری دیتا۔ باپو اور دادا کو جو تنخواہ ملتی تھی اُس میں کھانے پینے اور رہائش کا نظام بھی شامل تھا، اس لیے کل تنخواہ میں سے اپنے خرچ کے لیے رکھ کر باقی سارا پیسہ وہ ہمارے لیے کولھاپور بھیج دیتے تھے۔ ہُبلی سے آنے والے پیسوں میں سے ہمیشہ ضروری پیسے ہی ہم لوگ گھر میں رکھتے۔ باقی سارا پیسہ لوگوں کا قرض چُکتا کرنے میں خرچ ہو جاتا۔ ماں تو اب بہت زیادہ محنت کرنے لگی تھیں۔ ہمارے نانا ہر روز کچہری جاتے، لیکن کبھی کبھار ہی ایک آدھ روپیہ کما لاتے۔ گھر آتے ہی فوراً وہ سب کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے میں جٹ جاتے۔ میں بھی جو مجھ سے ہو سکے اپنی ماں کی مدد کیا کرتا۔ حالت اتنی بری ہونے کے باوجود میری اور میرے تینوں چھوٹے بھائیوں کی تعلیم جاری تھی۔
میں اب ساتویں میں تھا۔ ہماری کلاس اوپری منزل پر لگا کرتی تھی۔ کلاس کے باہر ہی چھجا بنا تھا، لیکن اُس میں کوئی دیوار یا جافری نہیں لگی تھی۔ ایک دن کی بات ہے، پتا نہیں کس دُھن میں میں کسی سے باتیں کرتے الٹا پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ ہمارے ایک گروجی واسو نانا کُلکرنی اُدھر ہی سے جا رہے تھے۔ انھوں نے کہا، ’’گدھے! نیچے گرنا ہے کیا؟‘‘ کہتے ہوئے بائیں کنپٹی پر اتنی زور سے چانٹا مارا کہ میرا کان زخمی ہو گیا اور بعد میں تو بہنے بھی لگ گیا۔ کُلکرنی جی کا کس کر مارا ہوا وہ چانٹا آج تک مجھے اچھی طرح یاد ہے، کیونکہ تبھی سے بائیں کان سے میں کچھ اونچا سننے لگا ہوں۔
میٹرک کی کلاس پاس آتی جا رہی تھی۔ اُسی وقت مجھے سردرد کی بیماری ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے کچھ سال تک عینک لگانے کی صلاح دی۔ یونیورسٹی کا انٹری ٹیسٹ ہو گیا۔ اُس میں سنسکرت میں ہم فیل ہو گئے۔ ہمارے سنسکرت کے پرچے واسو نانا کُلکرنی گروجی نے ہی چیک کیے تھے۔ میرے من میں بیکار ہی ایک بچگانہ خیال آ گیا کہ ہو نہ ہو، انھوں نے جان بوجھ کر مجھے فیل کیا۔ جیسا کہ اُن دنوں رواج تھا، انٹری ٹیسٹ میں فیل ہونے والے طالب علم کو میٹرک کی کلاس کا فارم نہیں دیا جاتا تھا اور میری سکول کی تعلیم ختم ہو گئی۔
تب تک ماں نے باپو کا کافی قرض اتار دیا تھا۔ جن چند لوگوں کا پیسہ دینا باقی تھا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ باپوان کاپیسہ ایک نہ ایک دن ضرور چکا دیں گے، کھا نہیں لیں گے۔ ایسی حالت میں ایک دن باپو کا ہُبلی سے خط آیا۔ انھوں نے ہم سب کو ہُبلی بُلا لیا تھا۔ ماں نے سارا سامان بٹورا اور باقی لین داروں کو یقین دہانی کرا، کہ ہُبلی سے اُن کا پیسہ ضرور بھیج دیں گے، ہم سب کولھاپور سے رخصت ہوئے۔
اُس حالت میں بھی، ہم سب پھر سے ایک ہی جگہ پر آ گئے، اِس کی راحت ہم سب نے محسوس کی۔ ہمارا ہُبلی کا مکان بہت ہی چھوٹا تھا۔ دادا تو تھیٹر میں ہی سوتا اور باقی ہم لوگ ایک دوسرے سے کافی سٹ کر ہاتھ پاؤں سمیٹے جیسے تیسے ایک ہی کمرے میں سو لیتے تھے۔ ہُبلی میں مراٹھی زبان بولنے والوں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ زیادہ تعداد میں لوگ کنّڑ ہی بولتے تھے۔
کچھ دنوں بعد خبر ملی کہ محکمۂ ڈاک میں کلرکوں کی نوکری کے لیے ہُبلی میں امتحان لیا جانے والا ہے۔ اُس میں پاس ہونے والوں کو سرکار میں مستقل نوکری ملنے والی تھی۔ اس امتحان میں بیٹھنے کا میں نے فیصلہ کیا۔ کافی محنت کر اُس کے لیے تیاریاں کیں۔ کچھ دنوں بعد رزلٹ آیا۔ میں بالکل فیل ہو گیا۔ پھر ایک بار فیل! میٹرک کا امتحان دینے کے لیے سکول نے مجھے نااہل ٹھہرا ہی دیا تھا، اب محکمۂ ڈاک نے بھی مجھے نالائق قرار دیا۔ اندر ہی اندر میں ٹوٹ چکا تھا۔
کچھ دن یوں ہی بیکار بِتائے۔ ایک دن باپو نے مجھ سے پوچھا، ’’یہاں ہُبلی میں ریلوے کی ایک بڑی ورکشاپ ہے۔ اُس میں کام کرنے والے ایک بڑے افسر میری پہچان والے ہیں۔ اُن کی سفارش سے اُس ورکشاپ میں فٹر کی نوکری تمھیں مل سکتی ہے، محنت بھی کافی کرنی پڑے گی۔ تم کرو گے نا فٹر کا کام؟‘‘
’’فٹر کا ہی کیوں؟ کسی جھاڑ ووالے کا کام ہو تو وہ بھی کرنے کو میں تیار ہوں،‘‘ میں نے جواب دیا۔
باپو نے کوشش کی۔ ریلوے ورکشاپ میں فٹر کے کام پر مجھے نوکری مل گئی۔ تنخواہ تھی روز کے آٹھ آنے۔ ہر روز میں صبح سات بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ ساڑھے گیارہ بجے ایک بھونپو بجتا۔ وہ کھانے اور آرام کا شارہ ہوتا۔ میں فوراً دوڑ کر گھر جاتا، باجرے کی روٹی سبزی کھا کر پھر لگ بھگ دوڑتے بھاگتے لوٹ بھی آتا، اور ساڑھے بارہ بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ شام چھ بجے تک کام جاری رہتا۔
اِس طرح دن بھر کام کرنے کے بعد ہر روز رات میں ڈیکن سنیما کے دروازے پر ڈورکیپر کا کام بھی میں کیا کرتا۔ اس کام کا مجھے کوئی پیسہ ویسہ نہیں ملتا تھا۔ فائدہ اتنا ہی تھا کہ سبھی فلمیں مفت میں دیکھنے کو مل جایا کرتی تھیں۔ یہیں میں نے ایڈی پولو وغیرہ اداکاروں کی خاموش فلمیں بالترتیب دیکھی تھیں۔ ان فلموں میں اکثر گھڑدوڑ، پستول بازی، مار پیٹ وغیرہ کے منظروں کی بھر مار ہوا کرتی تھی۔ کبھی کبھاربھولے سے ایک آدھ بڑھیا جذباتی فلم بھی دیکھنے کو مل جایا کرتی تھی۔
اسی ڈیکن سنیما میں ہی میں نے داداصاحب پھالکے کی بنائی اور ڈائریکٹ کی گئی ’’لنکادہن‘‘، ’’بھسما سُر موہنی‘‘، ’’کرشن جنم‘‘ بھی دیکھی تھیں۔ اس سے پہلے کولھاپور میں میں نے پھالکے جی کی ’’ہیر چندر‘‘ نامی خاموش فلم بھی بڑی عقیدت سے دیکھی تھی۔ مجھے وہ بہت اچھی لگی تھی۔ اُس میں عورتوں کے کردار مردوں نے نبھائے تھے۔ ولائتی فلموں میں عورتوں کا کردار عورتیں ہی کیا کرتی تھیں اور انھیں دیکھنے کی عادت پڑجانے کی وجہ سے ’’ہیر چندر‘‘ خاموش فلم کی یہ بات اتنی بھا نہیں سکی تھی۔ لیکن یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ اُن کے معجزوں پر مبنی حیرت انگیز باتوں کو دکھانے والی خاموش فلمیں لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی تھیں، حاوی ہو گئی تھیں۔ کہتے ہیں، بمبئی میں ’’لنکادہن‘‘ دکھائی گئی، تب تو اتنا پیسہ ملا کہ گاڑیاں بھر بھر کر ماہانہ پیسہ لے جایا گیا تھا۔ اُس کے بعد بھی ان کی کئی فلمیں بہت ہی کامیاب رہی تھیں۔ پھالکے جی اُن گاؤوں میں جہاں تھیٹر نہیں ہوتے تھے، اپنا پروجیکٹر لے کر جاتے اور لوگوں کو سنیما دکھاتے تھے۔ اُن کی انہی کوششوں کے نتیجے میں عوام میں تفریح کے اچھے ذریعے کے روپ میں سنیما کے لیے ایک قسم کے تجسس اور کشش کا آغاز ہو گیا تھا۔
ریلوے ورکشاپ میں جلد ہی چیٹلے، اردھ گول آکار، گول آکار، اور دیگر چھوٹے موٹے قسم کی سٹیل ریتوں کی مدد سے ریلوے ڈبوں کے متنوع حصوں کو تراشنا، پالش کرنا وغیرہ کاموں میں ماہر ہو گیا۔ میری اِس ترقی کو دیکھ کر فورمین نے ریلوے یارڈ میں ریپئری (مرمت) کے لیے لائی گئی ویگنوں کے بفرز ٹھیک کرنے کے کام کی پوری ذمےداری مجھے سونپ دی۔ میری تنخواہ بڑھ گئی۔ اب ہر روز بارہ آنے ملنے لگے۔ میرا جوش بڑھا اور ویگنوں کے بفرز کو ٹھیک کرنے کے کام میں میں بڑے چاؤ سے جُٹ گیا۔
ایک دن ریلوے یارڈ میں ویگنوں کے بفر کی جانچ پڑتال کر خرابی کو ٹھیک کرتے وقت میں اکیلا تھا۔ پہلے دو ڈبوں کے بفرز دیکھ چکا۔ اُن کی سپرنگ کوائلز ٹھیک حالت میں تھیں۔ جو تھوڑی سی گڑبڑ تھی اُسے میں نے ٹھیک کر دیا اور تیسری ویگن کے پاس پہنچا۔ بڑی ہی خوداعتمادی سے اُس کے ایک بفر سپرنگ دیکھنے کے لیے لوہے کا وہ گولا دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زور سے اندر کی طرف دبایا۔ لیکن اُس بفر میں سپرنگ تھے ہی نہیں، اس لیے میری انگیاں بفر میں پھنس کر زوروں سے کچلی گئیں۔ میں زور سے چیخ کر بےہوش ہو کر گر پڑا۔ میری چیخ سننے والا آس پاس کوئی نہیں تھا۔ دو تین گھنٹے بعد ہوش آیا تو دیکھا کہ میرے دائیں ہاتھ کی انگیاں خون سے لت پت ہو گئی ہیں۔ یارڈ سے ورکشاپ تک جیسے تیسے پہنچ گیا اور سُوجن کی وجہ سے پھولا ہوا ہاتھ فورمین کو دکھا کر گھر لوٹ آیا۔
اس حادثے کے بعد کافی دن مجھے بخار آتا رہا۔ انگیوں میں ہوئے زخموں کے گھاؤ بھرنے اور سوجن اترنے میں کافی دن لگ گئے۔ اس حادثے کے باعث میری شہادت کی انگلی کے پاس کی انگلی ٹیڑھی میڑھی ہو چکی ہے۔ ہُبلی ورکشاپ میں کیے کام کی یاد کے روپ میں آج بھی وہ ویسی ہی ٹیڑھی ہے۔
لیکن کئی دن بیمار رہنے کی وجہ سے میری ریلوے کی وہ نوکری جاتی رہی۔ میں پھر بیکار ہو گیا۔ انہی دنوں ڈیکن سنیما کے سامنے ایک مہاشے نے فوٹوگرافی کا سٹوڈیو مارڈن سائن بورڈ پنیٹنگ کی دکان کھولی تھی۔ باپو نے مجھے اُن مہاشے کے پاس دونوں کام سیکھنے کے لیے بھجوایا۔ وہاں ڈویلپنگ کے فن سے میرا پہلا رابطہ ہوا۔ فوٹو نکالنا، اُس کے شیشے دھونا، پرنٹ نکالنا، فوٹو ماؤنٹ پر چڑھانا وغیرہ، ساری باتیں میں دھیرے دھیرے سیکھ گیا اور انھیں اچھی طرح سے کرنے بھی لگا۔ بڑی بڑی دکانوں پر اُن کے نام کے جو فلیکس لگائے جاتے، انھیں میں اچھی طرح رنگنے بھی لگا تھا۔ دکان کا سارا کام سیکھ چکنے کے بعد بھی مہاشے مجھے تنخواہ تو دیتے ہی نہیں تھے۔ بلکہ مجھے سکھانے کے احسان کے بدلے دونوں وقت ہمارے یہاں روٹی کھانے کے لیے آ جمتے تھے۔ اپنی طرف سے میں گرہستی میں ایک پائی کی بھی شراکت نہیں کر پا رہا تھا، بلکہ الٹا میری تربیت کی وجہ سے گھر میں ایک اور آدمی کو کھلانے پلانے کا خرچ بڑھ گیا۔ اس کی چبھن میرے من کو کھائے جا رہی تھی۔
ایک دن ہم لوگوں کو معلوم ہوا کہ باپو اور ڈٰیکن سنیما کے مالک واشکیر میں ناراضی ہو گئی ہے۔ باپو نے سنیما کی نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے ساتھ دادا کو بھی وہاں کی نوکری چھوڑنی پڑی۔ واشیکر، اُن کے خاندان، باپو اور دادا کا کھانا بنانے کے لیے ایک باورچی انھوں نے رکھا تھا۔ اُس کا بھی واشیکر کے ساتھ جھگڑا ہو گیا اور اُس نے بھی نوکری چھوڑ دی۔ لیکن اس کی صلاح بھی یہی تھی کہ باپو اور وہ دونوں مل کر ساجھے داری میں ایک ہوٹل شروع کریں۔ پیٹ پالنے کے لیے دوسرا کوئی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے باپو نے اُس کا مشورہ مان لیا۔
باپو نے ہوٹل شروع کیا۔ اس سے آمدنی بھی اچھی ہونے لگی۔ ہم لوگوں کا کُنبہ پھر سے اچھے دن دیکھنے لگا۔ گاڑی پھر پٹری پر آ گئی۔ لیکن کچھ ہی دن بعد اُس باورچی کے من میں برائی جاگی۔ ایک دن لڑجھگڑ کر وہ چلا گیا۔ ہوٹل بند کرنے کی نوبت آ گئی۔
لیکن تب میری ماں کمر کس کر آگے آئی۔ بولی، ’’ہوٹل کے بند وَند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہوٹل کے سارے کھانے میں خود تیار کروں گی۔‘‘
باپو ماں کی طرف دیکھتے ہی رہے، بولے، ’’تم؟ تم ہوٹل کی کھانے پینے کی چیزیں بناؤ گی؟‘‘
ماں نے مضبوطی سے کہا، ’’جی ہاں! آپ ہوٹل کو چالو رکھیے۔ آخر گھر میں میں کھانا تو پکاتی ہی ہوں نا؟ وہی کچھ زیادہ لوگوں کے لیے یہاں پکا لوں گی۔ تھوڑا زیادہ وقت دوں گی۔ گھر میں اپنے پانچ بچوں کے لیے بناتی ہوں، ہوٹل میں آنے والے سب کو اپنے ہی بچے مان کر اُن کے لیے بھی بنایا کروں گی۔‘‘
سارے سنسار کی پرورش کرنے والی جیتی جاگتی جگن ماتا (دیوی ماں) بھوانی میری ماں کے روپ میں بولی تھی۔ باپو نے ہوٹل کو جاری رکھا۔ ماں تڑکے چار بجے اٹھتی اور تبھی سے کمر کس کام میں جُٹ جاتی۔ کھانے پینے کے سامان کی چیزیں اتنی مزیدار اور رسیلی بناتی کہ ہمارا ہوٹل پہلے سے بھی زیادہ اچھا چلنے لگا۔ سویرے چار بجے سے لے کر رات دس بجے تک چولھے کی آنچ میں تپ کر لال لال بنا اُس کا چہرہ، اور کانوں کے پیچھے سے اترتی پسینے کی دھار دیکھ کر میرے پیٹ میں بل پڑتے۔ ماں کی اتنی ساری محنت لاچار ہو کر دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ اتنی محنت کرنے کے باوجود ہم نے ماں کو کبھی یہ کہتے نہیں سُنا، تھک گئی رے بھیا، اب یہ سب مجھ سے نہیں ہوتا! کئی بار رات میں فوٹوگرافی کے سٹوڈیو سے لوٹ آنے کے بعد میں ماں کے پاؤں دبانے بیٹھتا۔ اتنی ہی اُس تھکے ہوئے جسم کی سیوا ہو پاتی!
کچھ دنوں بعد میرا خالہ زاد بھائی بابو (بابوراؤ پینڈھارکر) بابوراؤ پینٹر کی کولھاپور میں بنائی ’’سیرنگری‘‘ نامی خاموش فلم ڈیکن سنیما میں دکھانے کے لیے ہُبلی آیا۔ بابوراؤ پنیٹر کی مہاراشٹر فلم کمپنی میں منیجر تھا (میرا کزن) بابوراؤ۔ جوئے میں ہارے پانڈو خفیہ طور پر وِراٹ راجا کے محل میں بھیس بدل کر رہتے ہیں، مہا بھارت کے اِس ایک واقعے پر وہ فلم بنائی گئی تھی۔ اِس فلم میں عورتوں کے کردار عورتوں نے ہی کیے تھے۔ بابوراؤجی پینٹر نے فلم کی ڈائریکشن بڑی سوجھ بوجھ اور اُپج سے کی تھی۔ اُس میں فنکاری بھی کافی تھی۔ سبھی کی اداکاری بھی اتنی بَڑھیا تھی کہ سبھی کردار جاندار اور سچ مچ کے لگتے تھے۔ خاص فخر کی بات یہ تھی کہ فلمسازی کے لیے بابوراؤ جی پینٹر نے کمال دیسی کیمرا بنایا تھا۔ پنیٹرجی کے خود بنائے ہوئے کیمرے پر فلمائی گئی یہ فلم پونا میں جانے مانے تلک جی نے دیکھی اور انھوں نے اس فلم کی، اور اُس مقامی کیمرے کی بہت بہت تعریف کرتے ہوئے اُسے ایک گولڈمیڈل اور تصدیقی خط سرٹیفیکٹ دیا تھا۔
میں نے اس فلم کو باربار یکھا۔ سوچا، بابو کے ساتھ میں بھی چلا جاؤں مہاراشٹر فلم کمپنی میں۔ فوٹوگرافی تو میں نے سیکھ ہی لی تھی۔ لہٰذا ہمت اکٹھی کر میں نے بابو سے پوچھا، ’’بابو، کیا تمھاری فلم کمپنی میں مجھے کچھ کام مل سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ صرف ایک وقت کا کھانا مل جائے تو اُتنے پر ہی ہر کام کرنے کے لیے میں تیار ہوں۔‘‘
بابو نے کچھ سوچ کر بتایا، ’’ٹھیک ہے، تم کولھاپور آ جاؤ۔ کمپنی شِواجی تھیٹر میں ہے۔ وہاں آ کر مجھے ملنا۔ میں تمھیں بابوراؤ پینٹر کے سامنے کھڑا کر دوں گا۔ وہ تمھیں دیکھیں گے، بس!‘‘
’’اس کا مطلب تو یہ رہا کہ بابوراؤ پینٹر مجھے دیکھ کر پاس یا فیل کر دیں گے، ہے نا؟‘‘
بابو مجھے ڈھارس بندھاتے ہوئے بولا، ’’بھئی، ڈرتے کیوں ہو؟ تم آؤ تو سہی کولھاپور۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ سنیما گھر میں چلا گیا۔ سنیما کے دروازے پر کھڑے کھڑے میں سوچنے لگا، بابوراؤجی پینٹر مجھے دیکھیں گے۔ اُن کی نظر کے امتحان میں بھی کیا میں پاس ہو پاؤں گا؟ کہتے ہیں، کوئی بات دو بار ہوئی تو تیسری بار بھی ضرور ہو جاتی ہے۔ دو بار تو میں فیل ہو چکا تھا، اب تیسری بار ہونے جا رہی ہے، اس امتحان میں بھی میں فیل رہا تو؟ اس کا تصور بھی میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ہاتھ جوڑ کر، آنکھیں بند کرتے ہوئے میں بڑبڑایا: ’’اب کی بار تو مجھے فیل مت کرنا میرے پربھو!‘‘
’’سیرنگری‘‘ فلم کو دکھانے کے بعد بابو فلم کے ڈبے لے کر کولھاپور واپس چلا گیا۔ اُسے گئے دو تین ہفتے بیت گئے۔ تب میں نے باپو سے مہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کے لیے جانے کی بات چھیڑی۔ انھوں نے ہاں یا نا کچھ بھی نہیں کہا۔ شاید اب تک وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ میں جو بات ٹھان لیتا ہوں، پوری کر کے ہی رہتا ہوں۔ باپو نے میرے ہاتھ پر ریلوے کا ٹکٹ اور پندرہ روپے رکھے اور بولے، ’’اور پیسوں کی ضرورت پڑ جائے تو لکھنا۔‘‘ ان سے پیسے لیتے وقت مجھے کافی عجیب سا لگا۔
چلتے وقت میں نے باپو کے پاؤں میں ماتھا ٹیکا، ماں کے بھی پاؤں پڑا۔ لگاتار کام کرتے رہنے کی وجہ سے کھردری ہتھیلی بڑی مامتا سے میرے چہرے پر گھما کر ماں نے مجھے چوم لیا۔ ہُبلی سے کولھاپور جانے والی ریل میں بیٹھتے وقت میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اب جو بھی ہو، جو بھی کام کرنا پڑے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ہی چین لوں گا۔ زندگی کے دن جیسے بھی گزارنا پڑے، باپو سے پیسے نہیں منگواؤں گا! اِسی سوچ وچار میں ایسا الجھ گیا کہ کولھاپور کب آ گیا پتا ہی نہ چلا۔ گاڑی صبح چھ بجے کولھاپور پہنچی۔ سٹیشن کے باہر صرف ایک ہی تانگہ کھڑا تھا۔ تانگے والا بوڑھا تھا۔ اُس سے میں نے پوچھا، ’’تانگے والے بابا، مجھے شِواجی تھیٹر تک لے جاؤ گے؟‘‘
’’ضرور، کیوں نہیں! آؤ بیٹھو، چار آنہ لوں گا۔‘‘
’’چار نہیں، دو آنے دوں گا۔‘‘
’’اچھا اچھا، بیٹھو بچے۔ اپنا مکان بھی اُدھر ہی ہے۔ آؤ بیٹھو۔‘‘
میں تانگے میں بیٹھ گیا۔ تانگہ چلنے لگا۔ میں تو شِواجی تھیٹر پہنچنے کے لیے بےتاب ہو رہا تھا لیکن تانگہ تو چیونٹی کی رفتار سے چلتا ظاہر ہو رہا تھا۔ میں نے تانگے والے بابا سے کہا، ’’ذرا تیز دوڑائیے نا تانگے کو۔‘‘
’’ارے بچے، دو آنے میں گھوڑا تیز کیسے بھاگ سکتا ہے؟‘‘
میں نے ہنس کر کہا، ’’گھوڑا تھوڑے ہی جانتا ہے، دو آنے ملے یا چار۔‘‘
’’پر وا کو مالک تو جانت ہے نا؟‘‘ (پر اس کا مالک تو جانتا ہے نا؟) ایسا کہہ کر اُس نے زور سے ٹہوکا لگایا اور گھوڑے کو ایک ہنٹر جما دیا۔
تانگہ سرپٹ بھاگنے لگا۔ میرے دماغ میں سوچوں کا چکر بھی اتنی ہی رفتار سے چلنے لگا۔ ’’سیرنگری‘‘ کا منظر ذہن میں آ گیا۔ میں مہاراشٹر فلم کمپنی میں کسی نہ کسی کام پر لگ گیا ہوں۔ نئی فلم کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ میں وہاں سب کو میک اپ کر رہا ہوں۔ اپنا بھی میک اپ کر اُس فلم میں کبھی بہادر سپاہی کا، تو اُس سے اگلی فلم میں راجا کے بیٹے کا رول ادا کر رہا ہوں۔ میری اکڑ اور ادا کو بابو فخر کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ بابوراؤ پینٹر میرے کام سے خوش ہو کر میری پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، شاباشی دے رہے ہیں اور۔۔۔
اور تبھی زور سے جھٹکا لگا۔ میں ہڑبڑا کر ہوش میں آ گیا۔ تانگہ رُک گیا تھا اور تانگے والا کہہ رہا تھا، ’’جی، اب اُتر جاؤ چھوٹے بابو، شِواجی تھیٹر آن پہنچے ہیں۔‘‘
تانگہ شِواجی تھیٹر کے دروازے پر ہی کھڑا تھا۔ میں نے تانگے والے کو پیسے دیے، اپنا صندوق اور بستر لے کر نیچے اُترا اور بڑے جوش اور اُمنگ کے ساتھ تھیٹر کے پورچ سے ہوتا ہوا اندر جانے لگا۔ نظر کچھ اونچی اٹھی اور پاؤں ایک دم تھم گئے۔ ایک بڑی سی تختی پورچ کی چھت سے نیچے لٹک رہی تھی۔ اُس پر لکھا تھا: ’’بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے۔‘‘
(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]
انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
[/blockquote]
’’شانتارام، اٹھاؤ اپنا سامان۔ تمھیں تمھارے رہنے کی جگہ دکھاتا ہوں۔‘‘
گنپت راؤ ٹینبے کا وہ حکم سن کر میں ہوش میں آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی کی رہائش گاہ پر گنپت راؤ جی کے کمرے میں کھڑا تھا۔ باپو مجھے وہاں چھوٖڑ کر پہلے ہی چلے گئے تھے۔ اس ننھی سی عمر میں ماں اور باپو کے بغیر اتنی دور اِس سے پہلے کبھی نہیں رہا تھا۔ نم آنکھوں سے میں نے گنپت راؤ کی طرف دیکھا۔ لیکن آنسو اتنے بھر آئے تھے کہ اُن کی شکل ٹھیک سے صاف دکھائی نہیں دی۔ میری پیٹھ سہلاتے ہوے انھوں نے کہا، ’’دھت تیری، پاگل! تم رو رہے ہو؟ آؤ تمھیں دکھاتا ہوں، یہاں تمھاری عمر کے کتنے لڑکے رہتے ہیں!‘‘
میں ایک دم تن کر کھڑا ہو گیا۔ ناٹک میں آنے کا فیصلہ میرا اپنا ہی تو تھا، پھر یہ کیا ہو رہا ہے! نہیں نہیں! ایسے کام نہیں چلے گا۔ یہ سوچ کر میں نے فوراً اپنا پیٹی بستر اٹھایا۔ آنکھوں میں رُکے آنسو اندر ہی رہ گئے، چھلکے نہیں تھے۔
وہ مجھے ایک بڑے ہال میں لے گئے۔ وہاں میرے جیسے بہت سے لڑکے تھے۔ گنپت راؤ نے کہا، ’’بچو، یہ ہے شانتارام، اسے بھی اپنے ساتھ شامل کر لو!‘‘
میری ہی عمر کا ایک گورا سا لڑکا سامنے آیا۔ مسکرا کر اُس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولا، ’’آؤ شانتارام، وہاں رکھو اپنا سامان۔‘‘ ایک خالی جگہ کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے اُس نے کہا۔ وہاں میں نے اپنا بستر رکھا۔ اُس کے پاس ہی اپنا صندوق بھی رکھ دیا۔ اُس کمرے کے باقی لڑکے میری طرف بےتابی سے دیکھ رہے تھے۔ میری بغل میں ہی ایک دری بچھی تھی۔ میرا ہاتھ تھامنے والا وہ لڑکا اُس پر آ بیٹھا اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔ اس کا نام تھا گووند مُلگناوکر۔ وہ گووا کا رہنے والا تھا۔
شام ہو گئی۔ ہم سب لوگ کھانا کھانے گئے۔ کھانا پنڈتوں جیسا تھا۔ رات ہو گئی۔ کولھاپور سے پونا تک کے سفر سے کافی تھکان محسوس کر رہا تھا، لیکن من بے چین تھا۔ گھر کے سبھی لوگوں کی یاد ستا رہی تھی۔ کروٹیں بدلتے کب نیند آ گئی، پتا ہی نہیں چلا۔
آنکھیں ملتے ہوے سویرے نیند کھلی۔ گووند پکار پکار کر مجھے جگا رہا تھا۔ میں فوراً اٹھ بیٹھا۔ صبح کے معمول اور نہانے وغیرہ سے نپٹ کر دیگر لڑکوں کے ساتھ میں بھی تیار ہو گیا۔ تعلیم کی اطلاع دینے والی گھنٹی بجی۔ ہم سب لوگ جلدی جلدی رقص کی تعلیم کے لیے پہنچ گئے۔ رقص کے استاد مگن لال ہم سب لڑکوں سے ناٹک کے رقصوں کی مشق کرانے لگے۔ اُس دن تو میں ایک طرف بیٹھ کر سب کچھ دیکھتا رہا۔
رقص کی تعلیم ختم ہوتے ہوتے دوپہر ہو گئی۔ سب نے کھانا کھایا۔ ناٹک رات میں ہوتے تھے اور سب کو جاگنا پڑتا تھا۔ لہٰذا کمپنی کا اصول تھا کہ سب لڑکوں کو دوپہر میں لازمی سو لینا چاہیے۔ شام کو گیان کی تعلیم کا وقت تھا۔ سب کے ساتھ مِیں بھی حاضر ہو گیا۔ کمپنی میں گیان سکھانے کے لیے پنڈھرپورکر بابا آئے تھے۔ وہ مشہورموسیقار تھے۔ ناٹکوں میں گائیک کرداروں کے روپ میں بھی وہ کام کرتے تھے۔ میں اجنبی تھا۔ قدرتی طور پر انھوں نے مجھ سے بات چیت کی۔ حال پوچھا اور سوال کیا، ’’گانا جانتے ہو؟‘‘ میں نے ٹکا سا جواب دیا، ’’نہیں جانتا۔‘‘ اُن کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ پھر بھی انھوں نے کہا، ’’چلو، گانا نہ سہی، سکول کی کوئی نظم تو آتی ہو گی نا؟‘‘ میں نے کہا، ’’جی ہاں۔‘‘ میرے خیال سے میں نے اچھے سُر میں، پورے من سے نظم گا کر سنانا شروع کی:
’’تو پے لاگی آس مہان
سُمتی دیجے دیانی دھان‘‘
سامنے بیٹھے لڑکے شروع میں تو کچھ دیر چُپ تھے، لیکن بعد میں سبھی مجھے دیکھ کر اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ پنڈھرپورکر کے چہرے پر مایوسی صاف نظر آ رہی تھی۔ نظم پوری ہونے کے بعد انھوں نے کہا، ’’ٹھیک ہے، بیٹھو تم۔ تمھیں ایک دَم شروع ہی سے گانا سِکھانا پڑے گا۔ کوئی بات نہیں۔ آہستہ آہستہ سیکھ جاؤ گے۔‘‘
گانے کی تعلیم ختم ہوئی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں اور گووند اپنی اپنی دری پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ اُس رات ناٹک نہیں تھا۔ میں نے متجسس ہو کر گووند سے پوچھا، ’’گووند، سچ بتاؤ، میں باباجی کے سامنے نظم سنا رہا تھا، تب سبھی لڑکے ہنس کیوں رہے تھے؟ تم لوگوں کو میرا گانا اچھا تو لگا نا؟‘‘
مجھے ناخوش ہوتا دیکھ کر میرا ہاتھ تھامے اُس نے کہا، ’’لو، تم برا مان گئے۔ اِس میں برا ماننے کی بات ہی کیا ہے؟ تم مَن لگا کر گانا سیکھو، دھیرے دھیرے سے اچھا گانے لگ جاؤ گے۔ بھئی، گانا تو ایک ایسا علم ہے جسے کافی دِنوں تک سیکھتے رہنا پڑتا ہے، کیا سمجھے؟‘‘
پتا نہیں میں کیا سمجھا تھا، لیکن دھیرے بُدبُدا گیا، ’’ٹھیک ہے۔‘‘
اِس طرح کچھ دن بیت گئے۔ کمپنی کے ماحول میں گھلتاملتا گیا۔ اب باقی لڑکوں کی طرح میں بھی دھوتی باندھنے لگا۔ نیکر پہننا چھوڑ دیا تھا۔ بال بھی بڑھانے لگا تھا۔ رقص میں میں اچھی ترقی کرتا جا رہا تھا۔ سوال تھا تو صرف گائیکی کا! اس شعبے میں میری مَت (عقل) کہو یا گلا، پنڈھرپورکر بابا کی خواہش کے مطابق کام نہیں کر پا رہا تھا۔ سبھی لڑکوں کے ساتھ میں بھی پوری تندہی سے اچھا گانے کی پوری کوشش کرتا رہا، لیکن کئی بار ایسا ہو جاتا کہ باباجی کے اشارے پر سبھی لڑکے برابر رُک جاتے اورمیری ہی اکیلی آواز کسی سُر کی کھوج میں لٹکتی سنائی دیتی رہتی۔
کچھ دنوں بعد ’مان اپمان‘ ناٹک کرنے کا دن آیا۔ اس ناٹک میں آخر میں سبھی لڑکے ہاتھوں میں مالا لیے ’شاندار یہ ہار‘ گانا گاتے گروپ میں رقص کرتے تھے۔ اس گانے کے تھوڑے ٹکڑے میں نے اچھی طرح تیار کر لیے تھے۔ گانا بھی منھ زبانی یاد کر لیا تھا۔ باباجی نے کہا، ’’کورَس گانا ہے، باقی لڑکوں کے ساتھ اُن کے سُر میں سُر ملا کر، لیکن تم اسے ذرا ہلکے سُرمیں گانا، سمجھے؟‘‘
رات میں سب لوگ تیار ہونے لگے۔ میں بھی میک اَپ روم میں گیا۔ میک اَپ آرٹسٹ نے مجھے میک اَپ کرنا سکھایا۔ رنگ لگانے کے بعد ڈریسنگ روم کے ماسٹرجی نے میرے ہاتھوں میں ایک ساڑھی، چولی تھما دی اور بولے، ’’جاؤ جلدی سے باندھ کر آؤ۔‘‘
ساڑھی ہاتھ میں لیے میں ساکت رہ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اچھا خاصا مرد ہوں اور ساڑھی باندھوں؟ چھی! ساڑھی باندھ کر ہر جمعے کو جوگوا (بھیک) مانگنے کے لیے نکلنے والے ہیجڑے آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔ مجھے ایک دم گِھن ہو آئی۔ ناٹک میں کام کرنے کی اُمنگ میں یہاں ساڑھی باندھنی پڑے گی، یہ تو میں نے بُھلا ہی دیا تھا۔ مجھے وہاں بُت بنا کھڑا دیکھ کر ڈریسنگ روم کے ماسٹر چلّائے، ’’بھئی جلدی تیار ہو کر آؤ۔ ابھی تم لوگوں کا داخلہ ہونے ہی والا ہے۔‘‘
میں ہوش میں آیا۔ تبھی سامنے سے گووند مٹکتا ہوا آیا۔ چار پانچ اور لڑکے بھی تیار ہو کر آ گئے۔ ہاتھ میں ساڑھی لیے صرف میں رہ گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر گووند نے کہا، ’’کیوں بھئی، رو کیوں رہے ہو؟ آؤ میں باندھ دیتا ہوں تمھیں ساڑھی۔‘‘ جو جو ہووے بھاگ میں، دل و جان سے کر قبول!
میک اَپ ماسٹر نے ڈانٹ پلائی، ’’اے، آنکھیں مت ملو۔ میک اَپ بگڑ جائے گا۔‘‘ میک اَپ بگڑ جائے گا! مجھ پر اندر ہی اندر کیا بیت رہی ہے، کسی کو کوئی پروا نہیں!
مجھے ساڑھی بندھوا کر گووند باقی لڑکوں میں کھڑا ہو کر ناٹک کے توڑے ٹکڑے یاد کر رہا تھا۔ میں بھی باقی لڑکوں میں شامل ہو گیا۔
اینٹری آتے ہی ہم سب لوگ سٹیج پر پہنچ گئے۔ ’شاندار یہ ہار‘ یہ گیت ہاتھوں میں ہار لیے رقص کے لیے تال پر ختم ہوا۔ رقص کے آخر میں ہم لوگوں نے اپنے اپنے ہاتھوں کے ہاروں کو مخصوص شکل دے کر ’مان اپمان‘ کے حروف تیار کیے۔ ناظرین نے داد دے کر اپنی پسند ظاہر کرنے کے لیے تالیاں بجائیں۔
ناٹکوں کے پریوگ کے لیے ہم لوگ گاؤں گاؤں گھوم رہے تھے۔ رقص میں میری کارکردگی بہت ہی اچھی ہو رہی تھی۔ ایک ناٹک میں، اس کا نام اب ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا، گووند ایک ٹھمری گایا کرتا اور اس پر میں رقص کیا کرتا تھا۔ ٹھمری کے بول تھے: ’دیکھو ری نا مانے شیام۔‘ رقص کی تعلیم کے وقت مگن لال ماسٹر دیگر لڑکوں سے ہمیشہ کہتے تھے، ’’ارے اس شانتارام کو دیکھا کرو، کتنی شان سے ناچتا ہے۔ اسی طرح سے لے تال میں ناچنا چاہیے!‘‘
کمپنی کے کچھ لوگ ہم میں سے کچھ لڑکوں کو ’مالک‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اس کا راز کافی دنوں تک میں جان نہیں سکا۔ آخر اِس موضوع پر ایک آدمی سے پوچھا تو اس نے ہنس کر کہا:
’’ہم لوگوں کو کمپنی سے تنخواہ ملتی ہے اِس لیے ہم ہیں کمپنی کے نوکر۔ مالک کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی اس لیے وہ ہیں مالک۔ آپ لوگوں کو بھی کمپنی تنخواہ نہیں دیتی، اس لیے آپ ہو گئے مالک!‘‘
گندھرو ناٹک منڈلی میں پہلے چھ ماہ تک مجھے کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی، صرف اوڑھنے بچھانے کے لیے چادریں، پہلے سے ہی طے کیے گئے کپڑے اور دو وقت کا کھانا، اتنا ہی ملا کرتا تھا۔
کمپنی کی رہائش گاہ پر مالک کے ساتھ ہم لوگوں کا کوئی خاص رابطہ نہیں ہوتا تھا۔ بال گندھرو کی مقبولیت اُن دنوں آسمان کو چھونے کی کوشش میں تھی۔ گووند راؤ ٹینبے مجھے کمپنی میں لے تو آئے تھے، لیکن میری ناٹک کی تربیت کی طرف انھوں نے خاص دھیان نہیں دیا تھا۔ لیکن چونکہ میں کچھ چست دکھائی دیتا تھا، گووند راؤ کی بیوی میرا زیادہ خیال رکھتی تھیں۔۔ میں بھی اُن کے کولھاپور والا جو تھا۔ وہ میرے لیے ممتا جتاتیں، تیج تہوار پر مجھے مٹھائیاں بھی کھلاتی تھیں۔ ویسے گندھرو ناٹک منڈلی میں کھانے پینے کی کمی نہ تھی۔ اُس میں بھرتی ہوا شخص چند دنوں میں ہی گول مٹول ہو جاتا تھا۔
ہمارے تیسرے مالک تھے گنپت راؤ بوڈس۔ مجھے اُن کی اداکاری سب سے زیادہ پسند تھی۔ ’شُکراچاریہ‘ کے کردار کے لیے وہ سفید داڑھی مونچھ لگوا لیتے تو ایک دم بڈھے رِشی لگنے لگتے۔ بڑی بڑی کالی اکڑباز مونچھیں لگاتے ہی ’مان اپمان‘ ناٹک کے لکشمی دھر بن جاتے۔ داڑھی مونچھیں لگوا کر نئے روپ اپنانے کے اُس جادوئی فن کو میں تجسس سے دیکھا کرتا۔ بال گندھرو کے سٹائل کو بھی بڑی باریکیوں کے ساتھ دیکھتا۔ کبھی کبھار چوری چھپے گنپت راؤ بوڈس کی طرح میں بھی مونچھیں لگا کر دیکھ لیا کرتا۔ اس کے لیے میک اَپ آرٹسٹ ماسٹر کی دو چار بار ڈانٹ بھی کھاتا تھا۔ اُن دنوں نئے ناٹک کے لیے تیار کیے جانے والے متنوع منظروں کے پردے، سین بدلتے ہی پیچھے کا پردہ بدلنے کا ہنر، تعلیم ماسٹر کی تعلیم کا طریقۂ کار وغیرہ، سبھی باتوں کا میں نے بالکل نزدیک سے معائنہ کیا۔
کمپنی بڑودہ آ گئی۔ بڑودہ نریش (راجہ) سیاجی راؤ گیکواڑ سے گندھرو ناٹک کمپنی کو سالانہ گرانٹ ملتی تھی۔ اپنے اشتہار میں کمپنی ’شریمنت سیاجی راؤ مہاراج، بڑودہ کی خاص پشت پناہی حاصل!‘ ایسا خصوصی طور پر لگایا کرتی تھی۔ بڑودہ کے ’وانکانیر‘ تھیٹر میں صرف مہاراج اور اُن کے خاندان کے افراد کے لیے گندھرو ناٹک منڈلی اپنے ناٹکوں کے خاص مظاہرے کیا کرتی تھی۔ اُن ناٹکوں کے لیے عام لوگوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ ناظرین کے بیٹھنے کی جگہ کے بیچوں بیچ ایک موٹا پردہ کھڑا کیا جاتا تھا۔ اُس کے ایک طرف مہاراج اور راج خاندان کے دیگر مرد افراد اور دوسری طرف جالی دار پردے کے پیچھے مہارانی اور راج خاندان کی دیگر عورتیں بیٹھا کرتی تھیں۔ داسیاں بھی ناٹک دیکھنے آتیں اور ناٹک میں اچھا رنگ آنے پر سامنے والا جالی کا پردہ کھسکا کر مزے میں ناٹک دیکھا کرتی تھیں۔ مہاراج کے لیے دربار سے ایک خاص ملائم صوفہ لایا جاتا۔ ایک بار ناٹک شروع ہونے سے پہلے میں نے چوری سے اُس صوفے پر بیٹھ کے دیکھ لیا تھا۔ صوفہ بہت ہی نرم تھا۔ کسی نے بتایا تھا کہ اُس میں پروں کے گدے لگائے گئے ہیں۔ مہاراج کے لیے خاص روپ میں دربار سے لائے جانے والے اُس صوفے کے پاس ہی ایک گھنٹی لگی ہوتی تھی۔ ناٹک کا کوئی گیت یا بند پسند آ گیا، تب ناظرین میں سے کسی کو بھی تالیاں بجا کر داد دینے کی اجازت نہ ہوتی۔ پورے تھیٹر میں مرگھٹ جیسی شانتی چھائی رہتی۔ ایک دم سناٹا! لیکن مہاراج کو کوئی بند پسند آتا تو وہ سامنے والی اُس گھنٹی کا بٹن دبا دیتے۔ گھنٹی کی آواز وِنگ میں سنائی دیتی۔ اُسے سنتے ہی گائیک اداکار اُسی گیت کو پھر سے گاتا۔ بڑودہ کے لیے کیے جانے والے ناٹکوں کا دستور ایسا عجیب و غریب تھا۔
ہمارے بڑودہ قیام کے وقت مہاراج نے فرمائش بھیجی کہ اُن کی انّا صاحب کرِلوسکر کا ’شاکنتل‘ ناٹک دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ انھوں نے حکم دیا کہ اُس ناٹک کو وہ پورا دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ اُس میں سے کوئی حصہ کاٹا نہ جائے۔ ’شاردا‘، ’مرِچھ کٹِک‘ وغیرہ مشہور ناٹکوں کے لکھاری خود بہت ہی سخت نظم و ضبط کے تعلیم ماسٹر گووند بِلاس دیول کو اِس ناٹک کو ڈائریکٹ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ جلدی جلدی تعلیم شروع کی گئی۔ کمپنی کے مالک شری گنپت راؤ بوڈس نے اِس ناٹک میں مجھے شکنتلا کی سَکھی پری یامدا کا کردار دینے کا فیصلہ کیا۔ اُس سے پہلے میں رقص اور داسی کی کئی چھوٹے چھوٹے کردار کر چکا تھا، لہٰذا پریمدا کا کردار کرنے کا موقع ملے گا، اُس کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔ مکالمہ (ڈائیلاگ) بولنے کی تعلیم گنپت راؤ بوڈس خود دیتے تھے۔ تعلیم کا اُن کا اپنا سٹائل کچھ نرالا ہی تھا۔ بوڈس جی کو کسی وید نے ہدایت دی تھی کہ آپ ہر روز کچھ دیر دھوپ میں سیر کرنے جائیے، تو وہ دھوپ میں چہل قدمی کرنے اور میں وانکانیر تھیٹر کی چھاؤں چھاؤں میں اُن کے ساتھ ٹہلتے ہوے زور زور سے اپنے ڈائیلاگ بولتا تھا۔ ڈائیلاگ کافی زور سے بولنے پڑتے تھے کیونکہ اُن دنوں تھیٹر میں مائیکروفون اور لاؤڈسپیکر کی سہولت نہیں ہوا کرتی تھی۔
ایک دن اچانک ہی ہماری تعلیم بند ہو گئی۔ میں نے چپ چاپ وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ بال گندھرو کے ساتھ کام کرتے وقت میں بہت ہی چھوٹا لگوں گا، اس لیے پریمدا کا میرا کردار رد کر دیا گیا ہے۔ اُس کی جگہ پر مجھے دُشینت مہاراج کی وتیروتی نامی داسی کا کردار دیا جا چکا ہے۔ اُس میں مکالمہ بہت ہی معمولی تھا۔ جیسے، ’’مہاراج، اِدھر سے آیا جائے، مہاراج اُدھر سے جایا جائے۔‘‘ ایک اچھا کردار ہاتھ سے جاتا رہا، اس کا مجھے کافی رنج رہا۔
کمپنی کے سبھی لوگ بڑی بھاگ دوڑ میں تھے۔ کوئی اپنے مکالمے یاد کر رہا تھا، کوئی گیت۔ ایک طرف مختلف منظروں کے پردے رنگے جا رہے تھے۔ دوسری طرف ڈریسنگ روم کے لوگوں کی دوڑ دھوپ چل رہی تھی۔ بڑا شورسرابہ تھا۔ ایک پاگل خانے کا روپ تھا گندھرو ناٹک کمپنی کا!
آخر وہ دن آ گیا جب ’شاکنتل‘ کو سٹیج ہونا تھا۔ اس میں دُشینت مہاراج کا کردار گووند راؤ ٹینبے کر رہے تھے۔ تیاری کے لیے وقت کم ہونے کی وجہ جلدبازی میں مکالمے کسی کو اچھی طرح یاد نہیں ہوے تھے۔ ابھی لوگ پراپمپڑ کے بھروسے ناٹک کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے تھے۔ دونوں وِنگوں میں دو اور پردے کے پیچھے ایک، اس طرح تین تین پراپمپڑ ناٹک کو بڑھائے لیے جا رہے تھے۔ اس ناٹک میں گیتوں کی بھرمار تھی۔ شکنتلا کے گیتوں کے علاوہ دُشینت کے گیت بھی کافی تھے۔ وہ سارے گیت گووند راؤ کو یاد نہیں ہوے تھے۔
دروسا رِشی کے شراپ (بددعا) کی وجہ سے دُشینت کو شکنتلا کی یاد ستاتی ہے۔ بعد میں اُن کی طرف سے شکنتلا کو دی ہوئی انگوٹھی ایک مچھوے کو مل جاتی ہے۔ اُس انگوٹھی کو لے کر وہ مہاراج دشینت کے یہاں جاتا ہے۔ مہاراج کو شکنتلا کی یاد ستاتی ہے۔ وہ بہت ہی دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔
اس حوالے میں ہجر کا مارا دُشینت ایک کے بعد ایک پانچ چھ گیت گاتا ہے۔ اسی شکستہ حالت میں دشینت شکنتلا کی تصویر بناتا ہے۔ اس تصویر کو مہاراج کے سامنے تھامے بےچاری وتیروتی (یعنی میں) کھڑی رہتی ہے۔ مجھے سخت ہدایت دی گئی تھی کہ تصویر کو ایسے تھامے رہنا کہ ناظرین کو وہ کبھی دکھائی نہ دے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ اُس تصویر میں شکنتلا کی تصویر تھی ہی نہیں۔ اُس کی جگہ اُس سیاق و سباق میں دشینت کے گائے جانے والے بندوں کی پنکتیاں ( مصرعے) موٹے حرفوں میں لکھی ہوئی تھیں۔
گووند راؤ ٹینبے ہمیشہ عینک لگایا کرتے تھے۔ عینک کے بغیر بھی انھیں اُن مصرعوں کو پڑھنا آسان ہو، ایسے انداز سے مناسب فاصلے پر انھوں نے وہ لے کر مجھے کھڑا کیا تھا۔ گووندراؤ ایک ایک بند لمبے الاپ اور تانیں لے کر دل و جان سے گانے لگے اور اِدھر اس طرح کا گانا سنائی دیتے ہی جھپکی لینے کی میری پُرانی عادت حاوی ہو گئی۔ انھوں نے لپک کر تصویر آگے کھینچ لی۔۔۔ میں جاگ گیا۔ انھوں نے مجھ پر اپنی غصے بھری نظر ڈالی اور پھر اُسی شکستہ آواز میں ایسے گانے لگے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اُس کے بعد وہ سارا داخلہ منظم ڈھنگ سے ختم ہو گیا۔
اسی وقت کمپنی میں میرے چھ مہینے پورے ہو چکنے کی وجہ سے مجھے تنخواہ ملنی شروع ہو گئی۔ تب تک بِنا تنخواہ کام کرنے والا میں کمپنی کا مالک تھا، اب نوکر بن گیا۔ میری تنخواہ تھی فی مہینہ تین روپے۔
ہم بڑودہ میں تھے۔ انھی دنوں کولھاپور کے بابا دیول اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے وہاں آئے۔ ان کا لڑکا بڑودہ میں انجینئر تھا۔ باپو کے کہنے پر وہ میرا حال چال پوچھنے کے لیے گندھرو منڈلی کی رہائش گاہ پر آئے۔ خیر خبر جان لینے کے بعد، پتا نہیں کیوں، شاید انھیں سنگیت سے بہت پیار تھا اِس لیے، یا اُن دنوں ناٹکوں میں سنگیت کو بھاری اہمیت حاصل تھی اس وجہ سے، انھوں نے باباجی سے بڑی عقیدت سے پوچھا:
’’کیا کرتا ہے ہمارا شانتارام؟ کیسا گاتا ہے وہ؟‘‘
میں وہیں کھڑا تھا۔ باباجی نے کہا، ’’کیا پوچھا آپ نے؟ شانتارام؟ اور کیسا گاتا ہے؟ سنیے، آپ سنیے اُس کا گانا!‘‘ کہہ کر انھوں نے میرا مخول اڑایا۔ اِس طرح کھِلّی اڑائی جانے سے مجھے بڑی کھیج آئی(جھنجھلاہٹ ہوئی)۔
بابا دیول گانا سننے کے لیے بیٹھ گئے پنڈھرپورکرباباجی نے ہارمونیم سنبھالا۔ شروع میں سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی، سا، کہا۔ اُس کے بعد سُر کی تمام باریکیاں تمام اتارچڑھاؤ کے ساتھ سنائے اور آخر میں گووند کی طرف سے گائی جانے والی ٹھمری ’دیکھو ری نہ مانے شیام‘ بھی گا کر سنا دی۔
گانا ختم ہوا۔ میں نے باباجی کی طرف دیکھا۔ باباجی ششدر ہو کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ بولے، ’’ارے شانتارام، آج تجھے ہو کیا گیا ہے؟‘‘
میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’کیوں؟ کیا مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی؟‘‘
’’بالکل نہیں۔ ارے آج تو تم شروع سے آخر تک سر میں گاتے رہے، کہیں پر ایک بھی غلطی نہیں کی۔ کمال ہو گیا!‘‘
میں نے دیول بابا کی طرف دیکھا۔ انھوں نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔ وہ مطمئن ہو گئے تھے۔ میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ لیکن میری جیون مین وہ سنہری دن ایک ہی بار آیا۔ سر میں گانے کا وہ جیون کا پہلا اور آخری دن۔
لگ بھگ انھی دنوں ایک مہان شخص سے میرا رابطہ ہوا۔ یہ مہان شخص تھے مشہور ناٹک کار شری رام گینش گڈکری۔ کولھاپور میں میں نے اُن کا لکھا ’پریم سنیاس‘ ناٹک دیکھا تھا۔ اس میں جن سماجی مسائل کو ابھارا گیا تھا ان کا اندازہ کر پانا میری عقل کے باہر کی بات تھی۔ ایک تو میں چھوٹا تھا، پھر چونکہ وہ ناٹک دکھی تھا، مجھے خاص بھایا بھی نہیں تھا۔ پھر بھی اُس کے بھلکّڑ کردار ’گوکُل‘ پر میں نہایت خوش تھا۔ بڑا مزاحیہ کردار تھا وہ۔ اس کے سٹیج پر آتے ہی میں ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو جاتا تھا۔
گڈکری گروجی گندھرو ناٹک کمپنی کے لیے ایک نیا ناٹک لکھنے کے لیے کمپنی کی رہائش گاہ پر آئے تھے۔ اور کچھ دن وہیں رہنے والے تھے۔ ایسے کسی بڑے مہمان کی آمد پر کمپنی کی طرف سے ہم میں سے کسی ایک چھوکرے کو ان کی سیوا میں لگا دیا جاتا تھا۔ چونکہ میں انگریزی تیسری تک پڑھا تھا، گڈکری نے مجھے ہی چُنا۔ انھوں نے کہا، ’’شانتارام، آج سے تم میرے سیکرٹری۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’سیکرٹری؟ یعنی مجھے کیا کیا کام کرنے ہوں گے؟‘‘
’’ارے کچھ خا ص نہیں۔ میرے اِس صندوق میں ایک مسودے کے صفحے رکھے ہیں۔ تمھیں انھیں پڑھ کر ٹھیک ترتیب اور سلسلے سے لگانا ہو گا۔ بس۔‘‘
میں نے ان کاغذوں کو ٹھیک ترتیب سے لگا دیا۔ وہ ناٹک کون سا تھا، آج مجھے ٹھیک یاد نہیں۔ لیکن اُس کا ہیرو نشئی تھا۔ ناٹک ادھورا تھا۔ اِس کام کے علاوہ دھوبی کے یہاں سے ان کے کپڑے لے آنا، ان کے لیے چائے بیڑی وغیرہ لا کر دینا، ان کی چٹھیاں لیٹربکس میں ڈالنا وغیرہ چھوٹے چھوٹے کام بھی میں انتہائی مستعدی سے کیا کرتا تھا۔
چند دنوں میں ہی ان کے من میں میرے لیے ممتا جاگی۔ شاید قریبی رابطے میں آئے شخص سے اپنی دلی فطرت کے مطابق محبت کرنا ان کی فطرت ہو گا۔ میرے سرنیم ونکودرے کے بارے میں وہ اکثر کہا کرتے تھے، ’’شانتارام، یہ خاندانی نام کہاں سے پیدا کیا بھائی؟ چلو اسے بدل دیتے ہیں۔ کولھاپور یا کچھ ایسا ہی نام کیسا رہے گا؟‘‘ میں ’’بس، جیسا آپ چاہیں،‘‘ کہہ کر بات ٹال دیتا۔
دورہ کرتے کرتے کمپنی بمبئی آ گئی۔ اس وقت کمپنی کے ناٹک ایلفنٹسن تھیٹر میں ہوا کرتے تھے۔ گندھرو ناٹک کمپنی میں اتنے دنوں سے شامل ہونے پر بھی تھیٹر میں کسی کردار میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع مجھے کبھی ملتا ہی نہیں تھا۔ سنگیت کے معاملے میں میرا پہلو ایک دم لنگڑا تھا۔ عمر میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے بڑے نثری کام بھی مجھے نہیں دیے جاتے تھے۔ لیکن اتنے دن کمپنی میں کام کرتے ہوے میں نے کچھ باتیں تیزنظری سے نوٹ کر لی تھیں۔ کوئی گائیک اداکار تین چار سُروں میں اٹکنے جیسا بکری الاپ کافی لمبا کھینچ لیتا تو شائقین تالیوں کی بوچھاڑ کرتے۔ یہ تالیاں گائیک کے سُروں میں مہارت کے لیے ہوتی تھیں یا گائیک کو سانس لینے کی راحت دلانے کے لیے، پتا نہیں! اسی طرح نثری اداکار ایک ہی سانس میں کوئی لمبا مکالمہ اونچی آواز میں پورا کر لیتے، تب بھی تالیاں بجتی ہیں، میں نے غورکیا۔ لہٰذا میں نے بھی طے کر لیا کہ جو بھی ہو، اپنے کام کے لیے بھی اِسی طرح کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ کرا کر ہی مانوں گا۔ من میں یہ جوت جاگ اٹھی۔ اس کے لیے میں بےتاب ہونے لگا۔ ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج تو ’تالیاں‘ لے کر رہوں گا۔
اُس رات ’سُبھدرا‘ ناٹک ہونے والا تھا۔ اُس ناٹک میں رُکمنی کی داسی کا کردار مجھے ملا تھا۔ میں شروع سے ہی تیاری میں تھا۔ میرا داخلہ شروع ہو گیا۔ میرے مکالمے میں جملے تھے: ’’دیّا ری! سرکار اِدھر ہی تشریف لا رہے ہیں۔ اب کیا کروں؟ انھیں جگاؤں تو بھی مشکل، نہ جگاؤں تو بھی مشکل۔ بائی صاحب، بائی صاحب! یہ تو جاگنے سے رہیں۔ کیا کیا جائے۔
میں نے پہلا جملہ ہی ایک دم اونچی آواز میں شروع کیا۔ اگلا جملہ اُس سے بھی اونچی آوازمیں بول دیا، اس سے آگے کا اور بھی اونچی آواز میں، بس میں یہی کرتا گیا اور آخری جملہ تو شاید میں نے گلا پھاڑ کر، چلّا کر کہا۔ اور تبھی آڈیٹوریم تالیوں کی گڑگڑاہٹ میں گونج اٹھا۔ ایک طرف ونگ میں انٹری کی تیاری میں شری کرشن کے کردار میں کھڑے گنپت راؤ بوڈس میری طرف ساکت دیکھتے ہی رہ گئے۔ دوسرے ونگ میں کام کر رہے سبھی لوگ یہ دیکھنے کے لیے حیرت میں جمع ہو گئے کہ اِس اینٹری میں آخر اتنی تالیاں کس بات پر ملی ہیں۔ سٹیج پر گہری نیند میں سونے کی اداکاری کر رہی رُکمنی بھی ذرا سا سر اٹھا کر اَدھ مچی آنکھوں سے مجھے گھورنے لگی۔ اُس کی نظر میں بھی حیرانی تھی۔ میں توخوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ میرا کام ہو گیا تھا، بات بن گئی تھی۔ میں کسی فتحیاب وِیر، نہیں نہیں، ہیروئن کی طرح پلّو کمر پر کس کر کسی طرف بغیر دیکھے سب کے سامنے سے اکڑ کے ساتھ سٹیج پر سے ونگ میں چلا گیا۔
گاؤں گاؤں ناٹکوں کو سٹیج کرتے کرتے ہم لوگ واپس پونا پہنچ گئے۔ اب کمپنی میں داخل ہوے مجھے ایک سال ہو چکا تھا۔ ناٹکوں کو لگاتار سٹیج کرنے اور سفر کی وجہ سے سبھی لوگ تھکے ماندے تھے۔ بال گندھرو کو اپنے گلے کے بارے میں بھی کچھ شکایتیں رہنے لگی تھیں۔ ان کی آواز کو کم سے کم کچھ دنوں کے لیے آرام کی ضرورت تھی۔ گنپت راؤ کی آواز تو ہمیشہ خراب ہی رہتی تھی۔ اب اُن کی شکایت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی۔ مالکوں نے اسی لیے ایک ماہ کی چھٹی کا اعلان کر دیا تھا۔ سبھی لوگ اپنے اپنے گاؤں جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ میں نے بھی دوسرے ہی دن کولھاپور جانے کا فیصلہ کیا۔ گڈکری جی کو میں نے بتا بھی دیا۔ ان کا مکان پونا میں ہی تھا۔ اُس دن انھوں نے مجھے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔
شام ہوتے ہی میں ان کے یہاں گیا۔ وہ میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر انھیں خوشی ہوتی دکھائی دی۔ میں کچھ جھینپ سا گیا۔ اتنے بڑے ناٹک کار، شاعر، لکھاری، اور میرے جیسا بارہ سال کی عمر کا ننھا سا لڑکا اُن کا مہمان! تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ یعنی وہ ہی زیادہ تر بولتے رہے اور میں صرف ’ہاں‘ ’ناں‘ کرتا رہا۔ ان کی ماں نے کھانا تیار ہونے کی اطلاع دی۔ ہم دونوں کھانے پر بیٹھ گئے۔ گڈکری گروجی نے کہا، ’’چلو کرو شروع۔‘‘
میرا ہاتھ تھالی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک رک گیا۔ کٹوری میں تری دار مٹن رکھا ہوا تھا۔
’’کیوں بھائی، رک کیوں گئے؟ کھاؤ نا، شرماؤ نہیں۔‘‘
میں نے کچھ رُک رُک کر جواب دیا، ’’گروجی، میں مٹن کھاتا نہیں۔‘‘
’’مٹن نہیں کھاتے؟ تو اب کیا ہو گا؟‘‘
’’میں صرف چپاتی، چاول، مُٹھا، ایسا ہی کچھ کھا لوں گا۔ آپ فکر نہ کریں۔‘‘
’’بھئی واہ! یہ تو تم نے خوب کہی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا۔‘‘ انھوں نے اپنی ماں کو کہا، ’’ماں، اِس کے لیے کچھ میٹھا لاؤ نا!‘‘
ان کی ماں پھرتی سے تھالی کٹوری لے کر باہر چلی گئیں۔ گروجی کھانا کھاتے کھاتے رک گئے۔ لگ رہا تھا انھیں بہت ہی افسوس ہوا۔ بولے:
’’بھئی، میں نے تمھیں کھانے کے لیے بُلایا اور لگتا ہے اب تمھیں بھوکا ہی رہنا پڑے گا! لیکن تم بھی کیسے عجیب آدمی ہو! کیا تم نے کبھی مٹن کھایا ہی نہیں؟‘‘
’’جب میں چھوٹا سا تھا تب کبھی کبھار مٹن کھا لیا کرتا تھا۔ ہمارے والد پکّے سبزی خور اور ماں مراٹھی۔ اِس لیے ہم بچوں کی پسند جان کر ماں کبھی کبھی چپکے سے مٹن پکا کر ہمیں کھلاتی تھیں۔ ایک بار ہمارے گھر کے سامنے رہنے والے ایک امیر کسان نے فصل کاٹ لانے کی خوشی میں رواج کے مطابق بکرا کاٹ کر محلے کے سب لوگوں کو مٹن کی دعوت دینا طے کیا۔ دروازے کے سامنے ہی بکرا کاٹا گیا۔ اُسے کاٹنے سے لے کر اس کی چمڑی چھیل چھیل کر الگ کرنے، مٹن کو کاٹ کاٹ کر اس کے باریک ٹکڑے بنانے تک کا سارا سلسلہ میں نے بہت نزدیک سے دیکھا۔ بعد میں کھاتے وقت وہی ساری باتیں آنکھوں کے سامنے دکھائی دیں اور مجھے بھڑبھڑا کر اُلٹی ہو گئی۔ اُس دن سے مجھ میں مٹن کی ایسی گِھن بیٹھی کہ تب سے میں نے مٹن، مچھلی وغیرہ کھانا ایک دم چھوڑ دیا۔‘‘
’’ارے، یہ بات تھی تو مجھے پہلے ہی بتا دیتے۔ میں ماں سے کہہ دیتا کہ ہمارے یہاں بٹو بمن کھانے کے لیے آنے والا ہے۔‘‘
تبھی ان کی ماتاجی واپس آ گئیں۔ انھوں نے پڑوسن کے گھر سے لایا گیا مربہ تھالی میں پیش کیا اور تھالی میں تڑکا لگی دال۔ میں نے ڈٹ کر کھانا کھایا۔ گڈکری جی بھی اس سے مطمئن ہوے۔ لکھاری ہونے کے ناتے ان کی بڑائی کو تو میں آگے چل کر بڑا ہونے کے بعد ہی سمجھ سکا، لیکن مجھ جیسے ایک معمولی لڑکے کی آؤبھگت میں دل کی جو عظمت دکھائی، اس سے میں ان کے اندر کے آدمی کی بڑائی کا اُسی وقت اندازہ کرنے لگا تھا۔
دوسرے دن میں پونا سے چل دیا۔ گھر پہنچا۔ مجھے دیکھ کر ماں کو بےانتہا خوشی ہوئی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی میں نے سب سے پہلے اپنی تنخواہ سے بچے نو روپے ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیے اور ان کے قدموں پر ماتھا ٹیکا۔ انھوں نے میرے سر سے کتھئی رنگ کی فر کی ٹوپی اتار لی۔ اُس کے ساتھ اندر باندھ کر رکھے میرے لمبے گھنگھریالے بال گردن، کندھوں تک جھومنے لگے۔ میرا وہ روپ شاید ماں کو بہت پسند آیا۔ مجھے چومتے ہوے بولیں:
’’شانتا !کتنا پیارا پیارا لگ رہا ہے رے تو! ٹھہر تجھ پر ابھی مرچیاں اُتار پھینک کر واری واری جاتی ہوں، تاکہ تجھے کسی کی نظر نہ لگ جائے۔‘‘
ماں جلدی سے اندر گئیں۔ دونوں مٹھیوں میں نمک، سرسوں اور مرچیاں لے کر آئیں اور نظر اُتارنے کے انداز سے اس سامگری کو میرے پر وارتی گئیں۔ بعد میں وہ ساری چیزیں اپنے جلتے چولھے میں جھونک دیں۔ چولھے کے نیچے سے راکھ انگلی پر لے کر اُس سے میرا تلک کیا اور کہنے لگیں:
’’دیکھانا، کتنی تاڑ پھاڑ پھوٹ رہی ہیں مرچیاں! تمھیں تو بچپن سے ہی نظر لگ جایا کرتی تھی یک دم!‘‘
نہانے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں دھوپ میں بال سکھانے بیٹھا تھا، تبھی دکان سے باپو آ گئے۔ آج تو ماں نے میری تھالی باپو کے ساتھ ساتھ پروسی تھی۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے کھانا پورا ہو گیا۔ باپو ہمیشہ کی طرح کھانے کے بعد کچھ آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے۔ ان کے پائتنی کی طرف میں بھی لیٹ گیا۔ باپو نے پوچھا، ’’تو شانتارام، سال بھر میں کیا کیا سیکھ کر آئے ہو، بتاؤ بھی؟‘‘
میں باپو کے اِس سوال کا جواب کھوجنے لگا۔ واقعی سال بھر میں کیا کیا سیکھ پایا ہوں میں؟ تھوڑا سا ناچ، دو چار چھوٹے موٹے کام، گائیکی کے نام پر تو پلے کچھ بھی نہیں! میری آنکھوں سے ساون بھادوں بہنے لگے۔ جواب دینے کے لیے منھ سے لفظ نہیں نکل پا رہا تھا۔ مجھے چپ بیٹھا دیکھ کر باپو نے یہ جاننے کے لیے سر اٹھا کر دیکھا کہ بات کیا ہے۔ میری روتی صورت دیکھ کر انھوں نے کروٹ بدل کر میری طرف سے منھ پھیر لیا اور تھوڑی دیر بعد ہی اٹھ کر وہ دکان چلے گئے۔
میں بےچین ہو کر چھٹپٹا رہا تھا۔ ’’شانتارام، کیا کیا سیکھ کر آئے ہو سال بھر میں؟‘‘ یہی سوال مجھے ستا رہا تھا۔ میں اپنے آپ سے یہی سوال کرتا رہا۔ اسی میں پوری دوپہر ڈھل گئی۔ شام ہو گئی۔ رات آ گئی۔ رات کا کھانا بھی میں ٹھیک سے نہیں کھا پایا۔ ساری رات بےتابی میں گزار دی۔ من کی گہری تہہ میں کہیں گہرے خلا کا اندازہ کر رہا تھا میں۔
دوسرے دن سویرے کچھ طے کر کے ہی میں دکان پر گیا۔ باپو کے سامنے کھڑا ہو میں نے کہا، ’’باپو، ابھی اسی وقت کسی نائی کو بُلوائیے گا۔‘‘
’’نائی کو؟ کس لیے؟‘‘
’’مجھے اپنے یہ سارے بال اُسترے سے صاف کرانے ہیں۔ ایک دم پورا سر منڈوانا ہے مجھے۔‘‘
’’آخر کیوں؟‘‘
’’مجھے نہیں جانا ہے پھر سے کسی ناٹک کمپنی میں!‘‘
’’یہ کیا کہہ رہے ہو شانتارام؟ ناٹک کمپنی میں نہیں جانا ہے؟ لیکن کیوں؟‘‘
’’پچھلے سال بھر میں، میں وہاں گانا وانا کچھ نہیں سیکھ پایا ہوں!‘‘
’’ارے بیٹے، گانا کیا ایک سال میں آ جاتا ہے؟ اس کے لیے تو سالوں سال ریاض کرنا پڑتا ہے۔ آ جائے گا، تمھیں بھی گانا آ جائے گا دھیرے دھیرے۔‘‘
’’نہیں، میں کبھی گانا نہیں گا سکوں گا! گائیکی میں میری کوئی ترقی نہیں ہے۔ معمولی داسی کے کردار کرنے پڑتے ہیں وہاں۔ بڑا ہو جاؤں گا تو جاؤں گا۔ تب بھی زیادہ سے زیادہ نثری مکالمے ہی مجھے ملیں گے۔ ایسے کاموں کا وہاں کوئی مول نہیں ہوتا، کوئی قدر نہیں ہوتی۔ وہاں میں صرف ناچتا ہوں ساڑھی پہن کر، کسی ناچ والے لونڈے کی طرح!‘‘
’’ارے بابا، اِس طرح آپے سے باہر ہو جانے سے کام کیسے چلے گا؟ ابھی تو تمھیں ایک ماہ کی چھٹی ملی ہے۔ جلدی کیا ہے؟ جو کرنا ہو آرام سے سوچنے کے بعد طے کریں گے۔‘‘
میرا ضدی رویہ پھر اُچھلا۔ میں نے بغاوت کی۔ اپنے لمبے گھنگھریالے بالوں کو ہاتھوں میں زور سے بھینچ کر انھیں کھینچتے ہوے میں نے کہا، ’’باپو، اِن لمبے بالوں کی وجہ سے ہی مجھے پھر سے ناٹک میں جانے کی چاہ ہو سکتی ہے۔ آپ نائی کو بلا بھیجیے، ابھی، اسی وقت!‘‘
باپو نے پھر ایک بار میری ضد مان لی۔ نائی آیا۔ میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ نائی نے اُسترے سے میرا سر اچھی طرح سے مونڈ دیا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی دھارا بہہ نکلی تھی۔ نائی کے استرے کی وجہ سے نیچے گر رہے میرے گھنگھریالے بالوں کے ساتھ ہی ناٹکوں کے لیے میرا موہ بھی جڑوں سے اکھڑ کر نیچے گر رہا تھا۔ نائی نے سارے بال مونڈ کر صرف ایک چٹیا سر پر رکھ چھوڑی تھی۔
دکان سے گھر لوٹتے وقت راستے میں میری نظر اَکوّ ماسی کی دکان کی طرف گئی۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ وہاں کسی اور چیز کی دکان لگی تھی۔ اس دکان میں بیٹھے شخص سے میں نے پوچھا، ’’جی، یہاں اَکّو ماسی کی دہی کی دکان تھی نا پہلے؟ اب وہ کہاں ہے؟ اَکّو ماسی کہاں ہے؟‘‘
اس آدمی نے بتایا، ’’اَکّو گوالن مر گئی۔‘‘
اَکّو ماسی مر گئی، یہ لفظ سنتے ہی میں سسک سسک کر رونے لگا۔ ناٹک کمپنی میں جاتے وقت میں جان کر اس سے ملنے کے لیے گیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اُس نے میری ہتھیلی پر دہی ڈالا تھا اور نم، بھرّائی آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوے بولی تھی، ’’بڑا ہو گیا، اچھا نام کما کر آئیو۔‘‘ یہ اَکّو ماسی کا آخری آشیرواد تھا جس کے ساتھ اُس نے مجھے رخصت کیا تھا۔ اس کی اِس چاہت کی وجہ سے میں خوشحال واپس لوٹ آیا تھا۔ پر جس نے میری ہتھیلی دہی سے بھر دی تھی وہ ایسے لمبے سفر پر چلی گئی جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ اِس ایک سال میں میں نے کیا کھویا، کیا پایا، اِس کا لیکھا جوکھا جو ہو، ہوتا رہے، لیکن آج اَکّو ماسی کی دکان کے سامنے سر منڈوا کر کھڑا ہونے پر میں نے اندازہ لگایا کہ میں کئی چیزوں کو کھو چکا ہوں۔
(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]
انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
[/blockquote]
میں چار یا پانچ سال کا بچہ تھا، شاید تب کی بات ہے۔ ہم لوگ کولھاپور سے کہیں دور گاؤں میں رہتے تھے۔ میں، دادا (مجھ سے بڑا بھائی)، ماں اور باپو، ڈیڑھ سال کا چھوٹا بھائی کیشو۔ میں اور دادا گھر کی دہلیز پر بیٹھے آنگن میں جو کچھ ہو رہا تھا، دیکھ رہے تھے۔
آنگن میں ایک اجنبی بابا آئے تھے۔ انھوں نے ایک بڑی سی ٹکٹھی (سٹینڈ) پر ایک بھورے رنگ کی لکڑی کی ایک پیٹی جمائی تھی۔ ٹکٹھی بھی لکڑی کی، پیٹی بھی لکڑی کی۔ پیٹی پر سے ہوتا ہوا ایک کالا پردہ ڈالا تھا۔ پہلے باپو گھر سے باہر آئے۔ انھوں نے سر پر رومال باندھا ہوا تھا، کندھے پر اَپرنا (انگوچھا) لیے ہوئے تھے۔ آنگن میں آتے ہی انھوں نے ماں کو پکارا۔ ماں بھی جلدی جلدی باہر آگئیں۔ ماں نے بہت اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ماں اور باپو اس چوکھٹی پیٹی کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
ماجرا کیا ہے؟کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اس پیٹی کی طرف انگلی دِکھا کر میں نے ماں سے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’آئی (ماں)، وہ کیا چیز ہے؟آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘
جواب باپو نے دیا، ’’یہ فوٹو اتارنے کی مشین ہے، کیا سمجھے؟‘‘
میں گھبرایا سا دیکھ رہا تھا۔ پھر پوچھ بیٹھا، ’’تو آپ یہاں کھڑے کیوں ہیں؟‘‘
’’ارے، یہ بابا ہیں نا، یہ ہماری فوٹو اتار رہے ہیں۔ چلو ہٹو، ایک طرف ہو جاؤ۔ ‘‘
فوٹو کا نام لیتے ہی میں اور دادا دونوں ضد کر بیٹھے۔ ہم بھی فوٹو میں آئیں گے!
کاشی ناتھ دادا اس وقت چھ سات سال کا ہو گا۔ آئی اور باپو نے باربار ہمیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن ہم بھلا کہاں ماننے والے تھے۔ بس گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا۔ ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ پوچھیے نہیں! مٹی میں لیٹ کر ہاتھ پاؤں پٹکنے لگے۔ آنگن میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔
آخرکار اس فوٹو والے بابا نے کہا، ’’راجارام باپو، ان دونوں بچوں کو اپنے اغل بغل میں کھڑا ہونے دیجیے۔ کیا فرق پڑنے والا ہے!‘‘ ہم دونوں کی باچھیں کھِل گئیں۔ کودتے پھاندتے اندر گئے، ٹوپی پہنی، تلک لگایا اور روتی شکل کو ہنس مکھ بنا کر باہر آئے۔
فوٹو والے بابا اس کالے پردے کے اندر گھسے، باہر آئے اور بولے، ’’دیکھیے، ہم ایک… دو… تین… کہیں گے۔ ہلنا ڈولنا نہیں۔ ایک دم بت جیسے کھڑے رہنا۔‘‘
ہم سب لوگ سانس روکے کھڑے رہے۔ بابا نے اس بھوری پیٹی کے سامنے لگا ایک گول ڈھکنا اٹھایا اور زور سے بولے، ’’ایک…دو… اور یہ تین! ‘‘ وہ گول ڈھکنا اس نے پھر سے اس پیٹی پر لگا دیا۔ بس اتر آئی فوٹو۔
اس کے دو تین دن بعد میں نے آئی اور باپو کو فوٹو دیکھتے ہوئے دیکھا۔ میں تو کھیلنے کی دھن میں فوٹو والی بات ہی بھول گیا تھا۔ بیتاب، میں بھی پیچھے سے جھانک کر دیکھنے لگا۔ فوٹو تو صرف آئی اور باپو کی ہی نکلی تھی، اور وہ بھی صرف کمر تک ہی۔ ہم دونوں بھائیوں کا فوٹو میں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ پھر رونا پیٹنا ہوا۔
آخر باپو نے سمجھایا، ’’ ارے بابا، بات یہ ہے کہ ابھی تم لوگ چھوٹے سے ہو، اسی لیے فوٹو میں نہیں آئے ہو۔ آپ لوگ ہمارے جیسے اونچے ہو جاؤ گے تو آپ کی بھی فوٹو برابر نکلے گی۔ ‘‘
باپو کی بات ہماری سمجھ میں آ گئی۔ ان کی اس بات پر پورا بھروسا رکھ کر میں بیتابی سے اونچا ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
میری بچپن کی یادیں فوٹو نکالنے کے اس زمانے کے بھی سیدھے سادے طریقے کے جیسی ہی ہیں! وقت کے ساتھ کچھ دھندلی ہو گئی ہیں، گھٹاؤں سے گھر گئی ہیں، تو کچھ ایک دم دھنک جیسی ست رنگی ہیں۔ کچھ تو بس صرف نیگیٹو جیسی ہیں، جس کی چھاپ کچھ وقت بعد ہی یادداشت پر اٹھتی ہے، اور کچھ یادیں تو پتا نہیں کہاں کھو گئی ہیں، بکھر گئی ہیں۔ ٹھیک اس فوٹو کی طرح جو اس فوٹوگرافر نے مجھے اور دادا کو چھوڑ کر نکالی تھی۔
لگاتار بہتی ہی جانے والی ندی کی دھارا کی مانند میرا جیون طوفانی رفتار سے آگے بڑھتا چلا گیا۔ ندی کی فطرت کی طرح ہی پورے جوش کے ساتھ کِل کِل کرتے آگے بڑھتے وقت کے ساتھ کہیں حسین ٹاپو بن گئے، کہیں خوفناک بھنور، تو کہیں بیچ دھارا میں اتھاہ ڈباؤ۔ جیون دھارا نے کبھی بڑے درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا، کبھی کائی اور گھاس جھکتے گئے۔ کبھی کبھی تو جیون اچانک ایسے ایسے موڑ سے گزرا کہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے، آخر ان سب کا راستہ دکھانے والا کون ہے، کنٹرولر کون ہے؟اس جل دھارا کی اپنی تیز رفتار یا قسمت؟
فوٹو نکلنے کا یہ واقعہ تب پیش آیا جب ہم اس بڑے گھر کے ایک بڑے کمرے میں رہتے تھے۔ اب کچھ دھندلا سا یاد ہے، وہاں رہنے والے لوگ گاؤں گاؤں جا کر ناٹک کھیلا کرتے تھے۔ میرے باپ راجارام باپو باباجی ونکوٹے کو وہ سب لوگ ’منیجر‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ میرے باپو ان لوگوں کے خیال میں بہت اہم شخص تھے۔ یہ لوگ ’شاردا‘ نامی ایک ناٹک کھیلا کرتے تھے۔ ناٹک میں میرا دادا شاردا کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کرتا تھا۔ ناٹک کا ایک سین آج بھی مجھے اچھی طرح یاد آتا ہے۔
شاردا کو شادی کے لیے پسند کرنے کے لیے کچھ لوگ آتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، ’’بیٹا، تم کہاں تک پڑھی ہو ؟‘‘شاردا اس سوال کا ٹھیک ڈھنگ سے جواب دیتی ہے۔ پھر وہ لوگ اس کے چھوٹے بھائی سے بھی یہی سوال کرتے ہیں۔ تب دادا پیر کا انگوٹھا پکڑ، اسے ان لوگوں کے سامنے ترچھا ہلاتے ہوئے کہتا، ’’مجھے کُو…چھ بھی نہیں آتا۔ ‘‘ دادا کے اس پردرشن (مظاہرے) پر اور ’’کو…چھ (کچھ) بھی نہیں‘‘ کہنے کی ادا پر ناظرین ٹھہاکا مار کر ہنس پڑتے تھے۔ دادا کی جو پذیرائی ہوتی تھی اسے دیکھ کر میرے بھی من میں ناچار کچھ ویسا ہی کرنے کی خواہش جاگتی تھی۔
اس کے بعد، پتا نہیں کب، ہم لوگ کولھاپور آ گئے۔ آگے چل کر اس ناٹک کمپنی کا کیا بنا اور ہمارے باپو نے اسے کیوں چھوڑ دیا، میں نہیں جانتا۔ کولھاپور میں جوشی راؤ کا گنپتی کا ایک مندر ہے۔ اس کے پیچھے والی ایک تنگ سی گلی میں ہم لوگ رہا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں ہماری ایک موسی (خالہ) کا ہمیشہ آناجانا رہتا تھا۔ ہم لوگ اسے’’مائی‘‘ کہا کرتے تھے۔ آئی اور مائی سگی بہنیں تھیں۔ ویسے مائی کا نام رادھا تھا لیکن چونکہ وہ آئی سے بڑی تھی، آئی اسے ’’اکاّ‘‘ کہہ کر پکارا کرتی تھی، میری ماں کا نام کملا تھا۔ مائی کے سارے بچے پیار میں لاڈ سے میری ماں کو ’’ننو‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔
میرے نانا کولھاپور میں وکالت کرتے تھے۔ ہم لوگ انھیں بابا کہا کرتے تھے۔ ہر روز کچہری سے لوٹتے وقت وہ سبزی منڈی سے ساگ سبزی لے آیا کرتے۔ میں کبھی کبھی ان کے ساتھ جایا کرتا تھا۔ سبزی بیچنے والیوں کے ساتھ وہ بہت زیادہ بھاؤتاؤ کرتے۔ کئی بار تو خود ہی تھوڑی سی زیادہ سبزی ان سے چھین کر اپنے جھولے میں رکھ لیتے۔ نتیجہ یہ رہا کہ بابا کو بازار میں آتا دیکھتے ہی سبزی والیاں منھ پھیر لیتیں اور آپس میں ایک دوسری کو ہوشیار کر دیتیں:’’وکیل آیا ری، وکیل آیا!‘‘ بابا ہم بچوں سے بہت پیار کرتے۔ ہر روز شام کے کھانے کے بعد وہ ہمیں اچھی اچھی کہانیاں سناتے اور تھپک کر سلاتے۔ ان کا اصرار رہتا کہ بچوں کو رات آٹھ بجے سے پہلے ضرور ہی سو جانا چاہیے۔
کسی کے یہاں سے بابا کو کھانے کا دعوت نامہ آتا تو ہم شرارتی بچے ان کے واپس آنے کا بڑی بیتابی سے انتظار کیا کرتے۔ ان دنوں رواج تھا کہ کسی کے یہاں دعوت پر کھانے کے لیے جانا ہو تو پینے کا پانی بھر لوٹا اور پیالہ ساتھ میں لے جانا چاہیے۔ لیکن بابا کے لوٹے میں کبھی پانی نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوٹا بھی اچھا خاصا بڑا ہوتا تھا۔ اس خالی لوٹے میں بابا مٹھائی، جیسے لڈو، جلیبی وغیرہ، ہمارے لیے چھپا کر لے آتے۔ گھر لوٹتے ہی وہ ساری مٹھائی ہمیں بانٹ دیا کرتے۔ ہم لوگ بہت ہی آنند کے ساتھ ان چیزوں کا مزہ لیتے تھے۔
نانی کی شاید ایک ہی بات یاد ہے۔ یوں تو ایسا موقع یاد ہی نہیں آتا کہ انھوں نے کبھی لاڈپیار سے مجھے بیٹھایا ہو، کبھی دُلار سے سہلایا ہو۔ ہم لوگ نانی سے بہت ڈرا کرتے تھے۔ اس کی واحد یاد من میں بیٹھ گئی۔ وجہ اس کی کچھ نرالی ہی تھی۔ ہمارے باپو بیڑی پیتے تھے۔ جہاں تک ہو سکے وہ ہم بچوں کے سامنے بیڑی پینا ٹال دیتے تھے، پھر بھی ہم لوگ انھیں بیڑی پیتے دیکھ ہی لیتے۔ ان کی ناک سے بیڑی کا دھواں نکلتا۔ کم سے کم مجھے تو اس دھویں کے لیے بڑی کشش محسوس ہوتی تھی۔ باربار میں اپنے آپ سے پوچھتا، ’’کیا مزہ آتا ہو گا بیڑی کا کش لگانے میں؟‘‘ دوپہر کا وقت تھا۔ گھر میں سناٹا تھا۔ باپو کی پی کر پھینکی گئی بیڑی کا ایک ٹکڑا مجھے مل گیا۔ چولھے سے میں نے انگارہ نکالا اور وہ بیڑی سلگائی۔ طبیعت سے ایک زوردار کش لگایا ہی تھا کہ زبردست کھانسی آ گئی اور اس کے ساتھ ہی ایک کس کے جھانپڑ پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ نانی یاد آ گئی۔ خود نانی جی غصے سے لال پیلی کھڑی تھیں۔ مجھے تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔
’’بیڑی پینے لگا گدھے کے بچے! پیے گا پھر سے؟ لگائے گا ہاتھ بیڑی کو؟ بول!‘‘ کہتے ہوئے انھوں نے مار مار کر میرا حلیہ ٹائٹ کر دیا۔ ’’میں پھر بیڑی نہیں پیوں گا…نہیں پیوں گا بیڑی…‘‘ روتے روتے میں گڑگڑا کر بولا۔
بس، نانی کی یہی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ میں اسے کبھی بھلا نہیں پایا۔ تب سے آج تک اتنے سال بیت گئے، بیڑی یا سگریٹ پینے کا لالچ مجھے کبھی نہیں ہوا۔
معصوم بچپن میں کئی واقعات ایسے بھی ہو جاتے ہیں جو یادداشت پر پہیلی کی طرح نقش ہو جاتے ہیں۔ ان پہیلیوں کو بچہ بوجھ نہیں پاتا۔ اسی طرح کی ایک عجیب و غریب یاد ہے۔
باپو دوپہر دکان بند کر کھانا کھانے کے لیے گھر آتے تھے۔ وہ خود اپنے ہاتھوں سے کھچڑی پکاتے تھے، اس پر گھی، اچار، پاپڑ، چٹنی ڈال کر کھاتے۔ آئی اپنی بہت ہی مزےدار رسوئی اور نئی طرح کے کھانے بناتی تھیں۔ لیکن باپو ان کی بنائی رسوئی کبھی نہیں کھاتے تھے۔ ایسا کیوں، یہ بات کچھ بڑا ہو جانے کے بعد مجھے معلوم ہوئی۔
بات یہ تھی کہ باپو جین تھے اور اماں ہندو۔ دونوں کا بین المذہبی بیاہ ہوا تھا 1896 میں۔ کہنے کی بات نہیں، ان دنوں مذہب، مصلحت وغیرہ باتوں کا سماج، دل، ذہن پر زبردست اثر تھا۔ معمولی سے معمولی مذہبی یا سماجی بات کو لوگ بڑی باریکیوں سے دیکھتے پرکھتے تھے۔ ذرا سی لکیر سے ہٹ کر کسی نے کوئی بات کی اور سماج نے اس کے ساتھ روٹی پانی کا برتاؤ بند کیا۔ اس کا بائیکاٹ کر دیا۔
یہ سمجھو دستور ہی بن گیا تھا۔ ایسے زمانے میں بین المذہب بیاہ کرنا کتنے حوصلے کی بات رہی ہو گی۔ کولھاپور میں تو ایسی شادی ناممکن ہی تھی، اس لیے کولھاپور سے تیس میل دور شری دتّاتریہ کے پوتر مقام نرسوبا کی باڑی میں جا کر باپو نے یہ بیاہ کیا۔ صرف سماج کے لحاظ کی خاطر باپو اپنا کھانا الگ سے پکا کر کھاتے تھے۔
باپو اپنے دیوی دیوتاؤں کو مانتے، جین مذہب کے سب اصولوں کا پالن کرتے۔ آئی ہندو مذہب کے سبھی تیج تہوار مناتیں، اپنے سب دیوتاؤں کی پوجاپاٹھ کرتی کراتی، اپنے اصولوں کے مطابق برت وغیرہ رکھتی تھیں۔ لیکن اس بات کو لے کر باپو اور آئی کے بیچ کبھی کوئی ان بن نہیں ہوئی۔ ہمارے گھر کے اندر جو ایک پوجاگھر بنا تھااس میں آئی اور باپو دونوں کے دیوی دیوتا سُکھ سے رہتے تھے۔
صرف سماج کے خیال سے اپنایا ہوا وہ الگ کھانا پکانے کا اصول بھی وقت کے ساتھ باپو نے تیاگ دیا اور وہ ہم سب کے ساتھ آئی کے ہاتھوں کا بنا کھانا بڑے پیار اور سواد سے کھانے لگے۔ رسم و رواج کی زنجیر میں قید سماج میں رہتے ہوئے بھی باپو نے جس بےباکی کے ساتھ اس بین المذہبی شادی کو کامیابی سے نبھایا، وہ آج بھی دنگ کر دینے والی بات ہے۔ باپو کی یہ بےباکی آج صرف قابلِ تعریف ہی نہیں لگتی بلکہ آج بھی مجھے ان کی اس ترقی پسند روش پر فخر محسوس ہوتا ہے۔
کولھاپور میں مہادوار کے پاس ہی باپو نے ایک چھوٹی سی دکان لگائی۔ سہاگ سیندور، گھٹّی کا سامان، کھلونے وغیرہ چیزیں اس میں بیچنے کے لیے رکھی جاتی تھیں۔ تب میں پانچ برس کا ہو چکا تھا آئی نے مجھے پیار سے گلے لگا کر کہا، ’’دیکھو، شانتیا، کل سے تمھیں بھی اپنے بڑے بھیا کاشی ناتھ کے ساتھ سکول جانا چاہیے۔ ‘‘
میں نے پوچھا’’آخر کیوں؟‘‘
’’ میرے بیٹے، لکھنا پڑھنا سیکھنے کے لیے، ‘‘ آئی نے کہا۔
’’ میں نہیں جاؤں گا سکول!‘‘
’’وہ خود ہی تمھیں کل سکول میں داخلہ دلوا دیں گے!‘‘آئی نے سختی سے کہا۔ میں کافی بھنبھناتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
دوسرے دن سکول جانے سے پہلے رو رو کر میں نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا۔ کافی اُدھم مچایا۔ لیکن ہم سب بھائیوں پر باپو کی دھاک جمی ہوئی تھی۔ انھوں نے دھمکاتے ہوئے کہا، ’’سنو شانتا رام، آج سے سکول جانا ہی پڑے گا۔ رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ سمجھے؟‘‘
باپو نے میرا بازو پکڑا اور ہم روتے میاں آنکھیں ملتے ملتے سکول پہنچا دیے گئے۔
ان دنوں سکول جوشی راؤ کے گنپتی مندر کے پاس ہی کسی سردار کے باڑے میں لگا کرتا تھا۔ سکول کا نام، ’ہری ہر سکول‘۔ مجھے کچی جماعت میں بٹھایا گیا۔ مجھے سکول میں چھوڑ کر باپو چلے گئے۔ اپنی حالت تو بس دیکھتے ہی بنتی تھی۔ بڑی قابلِ رحم حالت تھی۔ پاس ہی بیٹھے ایک لڑکے سے میں نے روتے روتے پوچھا:
’’یہاں کب تک بیٹھنا پڑتا ہے؟‘‘
’’ کوئی گیارہ بجے تک، ‘‘اس نے کہا۔
میں نے بہت ہی گڑگڑا کر پوچھا، ’’ گیارہ یعنی کتنے؟‘‘
اس لڑکے نے جھلا کر کہا، ’’ دیکھو سامنے گھنٹی رکھی ہے نا، وہ جب بجائی جاتی ہےتب گیارہ بجتے ہیں۔ سکول کی چھٹی ہو جاتی ہے۔‘‘
میں نے پاگل کی طرح سر ہلایا اور سکول کی زمین ناخن سے کریدتا بیٹھا رہا۔
گھنٹی بجی۔ سکول کی چھٹی ہو ئی۔ بھاگتے بھاگتے گھر ایسے پہنچا جیسے کانجی ہاؤس سے رہائی ملی ہو، اور ماں کی گود میں منھ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ باپو دوپہر کو دکان بند کرکھانے کے لیے گھر آیا کرتے تھے۔ کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا کرتے تھے۔ میں نے آئی کے پاس ایک ہی رَٹ لگا رکھی تھی: ’’ میں پھر سے سکول ہرگز نہیں جاؤں گا۔‘‘
باہر سے باپو نے آواز دی: ’’ شانتارام، ذرا ادھر آؤ تو!‘‘
میں گھبرا گیا۔ سوچا، شامت آ گئی۔ ضرور دو چار چانٹے پڑنے والے ہیں۔ اسی گھبرائی کیفیت میں باہر دالان میں گیا۔ میرا خیال غلط نہیں نکلا۔ پر باپو نے مجھے مارا نہیں بلکہ پاس بیٹھا کر کمر سہلاتے ہوئے بولے:
’’دیکھو بیٹے! ہر شُکروار کو بھنے چنے کھانے کے لیے ہم تمھیں ایک پیسہ دیا کریں گے۔ لیکن تمھیں سکول ہر روز بنا روئے جانا ہو گا۔‘‘
کولھاپور میں آج بھی شُکروار (جمعے)کو مہالکشمی کو پرساد کے روپ میں بھنا چنا ہی چڑھایا جاتا ہے۔ باپو کہہ رہے تھے:
’’بیٹے، سکول جا کر لکھناپڑھنا سیکھنے پر آدمی بڑا بنتا ہے، سیانا بنتا ہے…تو کیا خیال ہے تمھارا؟ جاؤ گے نا سکول؟ اور دیکھو! چپ چاپ سیدھی طرح نہ گئے تو یہ دیکھا…؟‘‘
دیکھا، باپو نے چانٹا مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا۔ میں ڈر گیا۔ باپو کا چانٹا کتنا سخت اور کرارا ہوتا ہے، میں جانتا تھا۔ ان کا چانٹا کھانے کے بجائے ہر جمعے کو بھنا چنا کھانے میں ہی خیر تھی۔ دوسرے ہی دن سے میں بنا کسی طرح روئے دھوئے سکول جانے لگا۔
ہر جمعے کو بھنے چنے کی خوراک شروع ہو گئی تھی۔ پھربھی کبھی کبھار سکول سے تڑی (چھٹی) مار جانے کی سنک مجھ پر سوار ہو ہی جاتی۔ پھر کبھی تو میرا سر اچانک درد کرنے لگتا۔ اس سر درد سے ایک پنتھ دو کاج ہو جاتے تھے، سکول جانے سے چھٹی مل جاتی تھی اور ماں کے ماہر ہاتھوں سے بنا میرا من چاہا گرم گرم نرم نرم حلوہ کھانے کو مل جاتا تھا۔ سر درد کا ظالم علاج ہونے کی وجہ یہ حلوہ آئی خالص گھی میں بناتی تھیں۔ بڑا میٹھا ہوتا تھا یہ حلوہ۔ گھر میں تو حالات ایسے تھے کہ ایسا حلوہ تیج تہواروں پر ہی بن پاتا تھا۔ لہٰذا حلوہ کھا کر کافی دن ہو چکنے پر میرا سر ضرور ہی درد کرنے لگتا۔ بخار، زکام کا سوانگ رچنا مشکل ہے، لیکن سردرد ہے یا نہیں، کون جان سکتا ہے؟ بہت دیر تک میں کراہتا رہتا۔ بیچاری آئی ہمدردی سے پوچھتیں:
’’شانتا، تھوڑا سا کچھ کھاؤ گے؟‘‘
’’اوو…نہہ!‘‘
پھر آئی اور بھی منتیں کرتیں۔ ’’تھوڑی سی کھیر لے لو نا ساگودانے کی!‘‘
ساگودانے کی کھیر کا نام لیتے ہی مجھے متلی آنے لگتی: با…ک ! گئے مارے!
اس کھیر کا نام سن کر آج بھی میرا ماتھا ٹھنکتا ہے۔ میں بسک کر کہتا، ’’وہ تو قطعی نہیں لوں گا۔‘‘
میرا کراہنا پھر دُگنے زور سے شروع ہو جاتا۔ آئی گھبرا کر کہتیں، ’’ارے کچھ تو کھا لو، ورنہ پِت (صفرا) کا قہر بڑھے گا۔‘‘
یہاں تھا کس کو پِت کا قہر، جو بڑھتا! لیکن سردرد کا اپنا ناٹک رنگ لاتا دیکھ کر میں اور بھی کراہتا ہوا بے چین آواز میں کہتا:
’’ بہت ہی زور دے رہی ہو ماں تو تھوڑا سا حلوہ ہی بنا دو۔ کھا لوں گا جیسے تیسے…‘‘
آئی فوراً ہی حلوہ بنانے کی تیاریوں میں جٹ جاتیں۔ گرم گرم حلوہ بھری کٹوری سامنے آتے ہی میرا آدھا سردرد جاتا رہتا اور کھا چکنے کے بعد پورا غائب ہو کر میں ایک دم چنگا پھرتیلا بن جاتا۔
لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ سردرد اور وہ فرمائش کچھ زیادہ ہی بار ہونے لگی تو ماں کو شبہ ہو گیا کہ ہو نہ ہو، ضرور دال میں کچھ کالا ہے! اور میرا پول کھل گیا۔
حلوہ کھانے کے لیے للچایا وہ سردرد جب ایک دن پھر سے پیدا ہو گیا تو درد کے مارے میرے سر کی نسوں کے بجائے آئی کے ماتھے کی نسیں تن گئیں۔ تب تو انھوں نے میری وہ پٹائی کی، وہ پٹائی کی کہ حلوے کے بجائے اپنا حلیہ ہی ٹائٹ ہو گیا!
ویسے سکول میں ہونہار شاگردوں میں میری گنتی کبھی نہیں ہوئی۔ شاید زبان میں میری حالت اچھی رہی ہو گی۔ لگتا ہے خاص کر کتابوں میں دیے سبق کا پاٹھ میں زوردار آواز میں اچھی طرح کرتا تھا۔ گروجی ہمیشہ مجھے ہی کھڑے ہو کر سبق پڑھنے کے لیے کہتے تھے، اور شاگردوں سے کہا کرتے تھے، ’’ذرا دھیان سے سنو، سُسرو! سبق اس طرح پڑھا جاتا ہے!‘‘
گروجی کی طرف سے کی گئی تعریف سے میں پھولا نہ سماتا اور بڑی اکڑ کے ساتھ سبق پورا کر نیچے بیٹھتا۔ لیکن میں اچھا پڑھتا ہوں یعنی کیا کرتا ہوں، یہ بات یقینی طور سے اپنی تو سمجھ میں کبھی نہیں آئی۔
کچھ دنوں بعد باپو نے سہاگ سیندور کی وہ چھوٹی سی دکان بند کر دی اور مہالکشمی روڈ پر پنساری کی ایک بڑی سی دکان لگوائی۔ کرانے کا سامان بھی اس میں رکھا تھا۔ دکان پہلی دکان سے کافی بڑی تھی لیکن تب تک ہمارا کنبہ بھی بڑھ گیا تھا۔ میرے دو اور بھائی بھی ہو گئے تھے: رام کرشن اور اودھوت۔ ہماری اس نئی دکان میں اناج، گڑ، مونگ پھلی، مسالے، چائے اور چینی وغیرہ کئی چیزیں بیچی جاتی تھیں۔ کبھی کبھی چیجی (چیز) کے روپ میں ہم بچوں کو گڑ، پھلی دانے اور گال(کھوپڑے) کے ٹکڑے ملتے تھے۔میرا خیال ہے کہ شاید انہی دنوں میں میں نے ہری ہر سکول کی چوتھی جماعت پاس کی تھی۔ جیسا ان دنوں رواج تھا، چوتھی کے بعد انگریزی سکول میں داخلہ لینا پڑتا تھا۔ ہماری دکان سے ایک پرائیویٹ انگریزی ہائی سکول کے طالب علم کبھی کبھی سامان لے جایا کرتے تھے۔ ان کی پہچان سے مجھے انگریزی سکول میں داخلہ مل گیا۔ دادا بھی اسی سکول میں جاتا تھا۔
کچھ دن تو ٹھیک سے گزر گئے۔ فیس بھرنے کا دن آیا۔ باپو نے فوراً ہی فیس کے پیسے مجھے دے دیے۔ میں نے کوٹ کی جیب میں رکھ لیے۔ سکول شروع ہوا۔ کلاس ٹیچر تشریف لائے۔ ان کا نام تھا شری کھنڈے جی۔ ان کا سلوک ان کے نام جیسا ہی مدھر تھا۔ بہت ہی مامتا سے وہ باتیں کرتے تھے۔ سبھی لڑکے فیس بھرنے لگے۔ میں نے بھی اپنی فیس دے دی۔ میرے پیسے لیتے وقت شری کھنڈے جی نے کہا، ’’اچھا تم ہاف فری طالب علم ہو۔‘‘
میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔
دوپہرمیں لنچ بریک ہوئی۔ ہم لوگ ٹولی بنا کر کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ تبھی اچانک ہی ایک لڑکے نے پوچھا:
’’کیوں بھائی، بات کیا ہے؟ماسٹر جی نے تم سے فیس کے پیسے اتنے کم لیے؟‘‘
’’ مجھے کیا معلوم؟ پتاجی نے دیے، وہ سارے پیسے میں نے ماسٹر جی کو دے دیے۔‘‘
دوسرے لڑکے نے پہلے سے کہا، ’’تم بھی نرے بدھو ہو! ماسٹرجی نے کیا کہا تھا، تم نے سنا نہیں؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’کیا پوچھتے ہو؟ ارے وہ ہاف فری طالب علم ہے۔ اس کی آدھی فیس سکول نے معاف کر دی ہے۔‘‘
’’کیوں بھئی؟ سچ ہے؟‘‘ اس پہلے لڑکے نے پھر سوال کیا۔
میں چپ ہی رہا۔ وہ لڑکے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
’’ارے بھئی سکول ایسے بچوں کی آدھی فیس معاف کیا کرتا ہے جن کے ماں باپ غریب ہوتے ہیں۔‘‘
زندگی میں پہلی بار میں نے ’غریب‘ لفظ کا تجربہ کیا۔ آدھی فیس…غریب…غریبی ! یوں دیکھا جائے تو ہم لوگ دن میں دو بار سادہ ہی سہی، لیکن پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے۔ ہمیں کبھی بھوکا سونا پڑا ہو، یاد نہیں۔ چھوٹاسا ہی سہی، ہمارا اپنا مکان تھا۔ کرائے کا بھلے ہی ہو، لیکن ہمارے سر پر چھت تھی، ایک آسرا تھا۔ پھر کیوں ہمیں غریب بتایا جا رہا تھا؟
ہاں، ایک بات آج بھی کچھ کچھ یاد آتی ہے۔ تھوڑا سا لگا ضرور تھا کہ ہو نہ ہو، ہمارے باپو کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے۔ اسی لیے شاید، دادا کے پرانے کپڑے یا اونچے ہو جانے اور تنگ ہو جانے والے کپڑے مجھے پہننے پڑتے تھے۔ ماں کے پاس میں اس بات کی شکایت بھی اکثر کیا کرتا تھا۔ ہمارے باپو بازار سے کپڑا بھی ایسا خرید کر لاتے تھے کہ وہ پھٹنے کا نام ہی نہ لیتا۔ میں بہت ہی ضد کر بیٹھتا تو پھر کسی تہوار پر مجھے نیا کپڑا مل جاتا تھا۔ یہی حال کتابوں کا تھا۔ دادا پاس ہو کر اوپر کی جماعت میں گیا کہ اس کی پرانی کتابیں مجھے دی جاتی تھیں۔ ہو سکتا ہے اسے ہی غریبی کہا جاتا ہو۔
لیکن غریبی کیا ہوتی ہے؟ اس کی جھلک مجھے مل گئی۔
کولھا پور میں مشہور کِرلوسکر ناٹک منڈلی آئی تھی۔ سبھی کلاکاروں کا قیام کولھاپور کے شِواجی تھیٹر میں تھا۔ ناٹک منڈلی میں فوٹوگرافر بھی تھے۔ باپو سے ان کی اچھی جان پہچان تھی۔ ایک بار باپو نے طے کیا کہ ہم بچوں کے ساتھ ایک فوٹو کھنچوایا جائے۔ فوٹو کے لیے ماں نے، اس کے پاس جو بھی ساڑھیاں تھیں، ان میں سے سب سے اچھی ساڑھی پہن لی۔ باپو کے کپڑے ٹھیک ہی تھے۔ جو بھی ہو، ہم سب لوگ بارات جیسی شان سے شواجی تھیٹر پہنچ گئے۔ ہمارے کپڑوں کا حال دیکھ کر ان فوٹوگرافر مہاشے نے ہم بچوں کو ناٹک میں راجکمار کا کام کرنے والے بچوں کے زری کا کام کیے مخمل کے کپڑے فوٹو کے لیے دلوائے۔ زری کی ٹوپیاں بھی دلوائیں۔ وہ کپڑے ہم لوگوں کو کچھ ٹھیک سے نہیں آ رہے تھے۔ بڑے اور کچھ ڈھیلے ہو رہے تھے۔ پھربھی انہی کپڑوں کو پہن کر ہم لوگ راجکماروں جیسے اکڑ کر فوٹو کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میرے من میں رہ رہ کر اُس پہلے فوٹو کی یاد آ رہی تھی۔ باپو نے تب کہا تھا، ’’ارے تم لوگ ہمارے جتنے اونچے نہیں ہو نا، اسی لیے فوٹو میں نہیں آ پائے ہو‘‘۔ لیکن آج بھی ہم میں سے ایک بھی بھائی باپو جتنا اونچا نہیں ہوا تھا، پھر بھلا ہماری فوٹو آج بھی کیسے آ سکتی ہے؟ میں نے آئی اور باپو کی طرف دیکھا۔ کرسیوں پر بیٹھ کر دونوں نے اپنی اونچائی ہمارے جتنی کر لی تھی، تاکہ ہم لوگ بھی برابر فوٹو میں آ سکیں۔
فوٹو کھنچوانے کے لیے ہمیں دیے گئے وہ سارے ملائم اور بھاری قیمت کے کپڑے ہم لوگوں نے بعد میں لوٹا دیے۔ صرف فوٹو کے لیے وہاں کے کپڑے پہن لینے میں ہم نے کوئی چھوٹاپن محسوس نہیں کیا۔ پھر سے اپنے ہمیشہ کے کپڑے میں نے پہن لیے۔ فوٹو کے لیے دیے گئے قیمتی کپڑے ہمیں کبھی نہیں ملتے۔ تو کیا اس کو غریبی کہتے ہیں؟…ہم لوگ غریب ہیں؟ سکول میں ملی وہ ہاف فیس… میرے من میں سوالوں کا انبار سا لگ گیا۔ ہمیشہ کی عادت کے مطابق ایسے سبھی سوالوں کا جواب دے سکنے والی ماں کے پاس جا کر میں نے پوچھا:
’’آئی، کیا ہم لوگ غریب ہیں؟‘‘
’’کیوں پوچھ رہے ہو یہ؟‘‘ ماں نے جواب میں سوال کیا۔
’’آئی، بتاؤ نا، سکول میں میری آدھی فیس معاف کس لیے کی گئی ہے؟ غریب لڑکوں کی ہی تو فیس معاف کی جاتی ہے نا؟ ہم لوگ غریب ہیں؟‘‘
’’ارے بابا، ہم لوگ غریب نہیں ہیں۔‘‘ آئی نے میرے سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا۔
’’حال ہی میں باپو نے اتنی بڑی دکان جو کھولی ہے…‘‘ میری بحث جاری رہی۔
’’دیکھو، بات یہ تھی کہ پہلی دکان سے ہم لوگوں کا گزارہ نہیں ہوتا تھا، اس لیے اناج اور کرانے کی دکان لگائی ہے۔ اس کے لیے لوگوں سے کافی رقم ادھار لی ہے۔ تم ہی سوچو نا، تم ہو پانچ بھائی، سب کی کتابوں اور فیس کے لیے پیسہ کہاں سے لائیں؟‘‘
’’تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہمیشہ آدھی فیس میں ہی پڑھائی کرنی ہو گی؟ کلاس کے اور لڑکے پوری فیس دیتے ہیں۔ مجھے شرم آتی ہے اس آدھی فیس پر!‘‘
’’شرم آتی ہے نا؟ تب تو تم اچھی پڑھائی کر کے بہت بڑے آدمی بنو، تاکہ تمھیں اپنے بچوں کو آدھی فیس میں سکول میں داخل کرنے کے لیے مجبور نہ ہونا پڑے!‘‘
اتنا کہہ کر آئی گھر کے کام کاج میں جٹ گئیں۔ میری ماں ہمیشہ گھر کے کاموں میں لگی رہتی تھیں۔ چولھا چوکا، آٹا چکی، جھاڑنا پونچھنا، کپڑے دھونا، پانی بھرنا، سب کچھ وہ اکیلے ہی کرتی رہتیں۔ پوپھٹتے ہی ماں جب چکی پیسنے بیٹھتیں تو میری بھی نیند کھل جاتی اور میں بھی ہولے ہولے چکی چلانے میں ان کی مدد کرتا۔ وہ اوکھلی میں موسل چلاتیں تو میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتا۔ برتن مانجھنے میں بھی میں ماں کی جو ہو سکے، بن سکے، اتنی مدد ضرور کرتا تھا۔
ہر مہینے ماہواری میں آئی چار دن ایک کونے میں بیٹھی رہتی تھیں۔ اُن دنوں وہ ہم میں سے کسی کو چھوتی نہیں تھیں۔ رسوئی بھی نہیں بناتی تھیں۔ ہمارے گھر میں اور کوئی عورت نہیں تھی۔ گھر کے سارے کام اور بھگوان کی پوجا کی پوری ذمےداری میرے اور دادا پر آ جاتی تھی۔ ہمیشہ کام میں لگی رہنے والی ماں اس طرح الگ کیوں بیٹھی رہتی ہیں، اس کا تجسس مجھے بہت تھا۔ ’’مجھے کوّا چھو گیا ہے، چار دن تک میرے پاس نہ آنا!‘‘
اس پر ایک دن آئی سے پوچھ ہی بیٹھا، ’’ہم لوگ جب کوّے کے پاس جاتے ہیں تو وہ اڑ جاتا ہے۔ تمھیں ہی وہ اس طرح بار بار کیسے چھو جاتا ہے؟‘‘
’’چپ بھی کرو اب! بیکار کے جھگڑے میں پڑے ہو۔ چلو جاؤ یہاں سے، جلدی جلدی چولھا جلاؤ اور لگ جاؤ کھانا بنانے میں۔‘‘
اس طرح ڈپٹ کر آئی مجھے دور بھگا دیتی تھیں۔ ضرورت پڑنے پر وہ دور سے ہی تیل، نمک، مرچ کتنی ڈالنی ہے، اس کا دھیان رکھتی تھیں۔ آگے چل کر کافی بڑا ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ماہواری کے دنوں میں پورا آرام دلانے کے لیے ہی عورتوں کو اس طرح اچھوتا بنا کر بیٹھانے کی روایت ہے۔
غرض کے مارے ہو یا عادت کی وجہ سے، آئی کو میں نے ہمیشہ کام میں لگا ہی دیکھا ہے۔ انھیں کبھی میں نے فرصت میں پایا ہی نہیں۔ درمیان میں تھوڑا وقت مل جاتا تو وہ سونے کے منکوں کو چھوٹے اوزار سے ٹھوک پیٹ کر گول بنانے کا کام کیا کرتی تھیں۔ اس کام میں میں بھی کبھی کبھی شامل ہو جاتا تھا۔ اس طرح سو منکے ایک جیسی شکل کے بنا کر سنار کو دینے پر کچھ پیسے مل جاتے تھے۔
آئی ہمارے لیے ہمیشہ ایک گانا گا کر سنایا کرتی تھیں۔ ’’چندر کانت راجہ کی کنیا سگون روپ کھنی… (چندر کانت راجہ کی بیٹی سگھڑ اور خوبصورت)‘‘ مجھے یہ گیت بہت پیارا تھا۔ کئی بار میں ان سے اسے سنانے کے لیے کہا کرتا تھا۔ ہماری ماں تھوڑی انگریزی بھی جانتی تھیں۔ میں انگریزی سکول میں جانے لگا، تو کبھی کبھی رسوئی بناتے بناتے بھی وہ مجھے میری ہی کتاب کے الفاظ معانی رٹوا دیتی تھیں:’’سی اے ٹی کیٹ یعنی بلی…آر اے ٹی ریٹ یعنی چوہا، ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ۔ لفظوں کے ہجے کرنے میں میری غلطی کو بھی سدھار دیتی تھیں۔
اب میں ہر روز سکول جانے لگا تھا۔ اس نئے سکول کی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ ہمارے ساٹھے گروجی کی۔ وہ ہمیں مراٹھی پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے ایک نظم پڑھائی۔ انھوں نے اس نظم کو لے میں گا کر بھی سنایا اور اگلے دن اسے یاد کر کے آنے کا حکم دیا۔ ساٹھے گروجی نے اس نظم کو جس طرز اور لَے میں گایا تھا وہ کافی پرانی اور گھسی پٹی تھی۔ نظم کو یاد کرتے وقت اس طرز سے جی اکتا گیا۔ جی میں آیا، کیوں نہ ایک نئی طرز پر اسے گایا جائے؟
پتا نہیں کیسے، گنگناتے ہوئے اس نظم کے لیے ایک نئی طرز اچانک ہی میرے ہونٹوں پر آ گئی۔ گروجی کی طرف سے بنائی گئی طرز سے یہ طرز مجھے کافی اچھی لگی۔ بس پھر کیا تھا، میں نے من ہی من میں فیصلہ کر لیا۔ جماعت میں اس نظم کو نئی دھن دینے کی دھن دن بھر مجھ پر سوار رہی۔ میں کچھ نیا کر سکتا ہوں، اس خوشی میں جھومتا ہوا دوسرے دن سکول پہنچا۔ ایک طرح کے سپنے میں کھو گیا تھا کہ ساٹھے گروجی کے حکم پر میں نے اس نظم کو اپنی طرز پر گایا ہے، میرے دوستوں نے میری بہت بہت تعریف کی ہے، اور خود ساٹھے گروجی نے شاباشی دینے کے لیے میری کمر محبت سے تھپتھپائی ہے۔
مراٹھی کا سبق شروع ہوا۔ تین چار طالب علموں نے وہ نظم گا کر سنا دی۔ میری باری آئی۔ میں کھڑا ہو گیا اور اپنی بنائی نئی طرز پر اسے گانے لگا۔ کلاس کے سارے طالب علم مجھ پر ہنسنے لگے۔ میں نے ان کی طرف دیکھا۔ تبھی جانگھ پر ایک بینت سپک کر پڑی۔ میں ششدر رہ گیا۔ گروجی آگ بگولا ہوئے جا رہے تھے۔ آخر کیوں؟ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ساٹھے گروجی چلّائے، ’’گدھے کے بچے ! ٹھیک سے سناؤ نظم!‘‘
سوچا، میری بنائی گئی طرز انھیں پسند نہیں آئی، اس لیے میں اپنی ہی ایک اور نرالی طرز پر نظم سنانے لگا۔ پھر لگاتار بینت پڑنے لگیں۔ دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ گروجی کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھتا دکھائی دیا۔ ان کی آواز بجلی کی طرح کڑکنے لگی۔ میں بھی ضد کر بیٹھا۔ میری بنائی گئی نئی طرز کو سراہنے کے بجائے گروجی مجھے پیٹتے جا رہے تھے۔ میں کھسیانا ہو گیا۔ اس نظم کو میں بار بار اور ہر بار ایک دم نئی طرز میں سنانے لگا۔ گروجی جھلاً اٹھے۔
’’مورکھ! میرا مذاق اڑاتے ہو؟ تمھاری یہ مجال؟‘‘
کہتے کہتے وہ دہاڑنے لگے اور ساتھ ہی مجھ پر بینتیں برساتے گئے۔ آخر ان کا ہاتھ رکا۔ شاید انھوں نے سوچا ہو گا کہ بہت پیٹ چکے اسے۔ پھر بھی ہاتھ میں بینت نچا کر انھوں نے پوچھا، ’’کیوں، اور چاہیے یا کافی ہو گیا؟‘‘
میں نے جبراً کہہ دیا، ’’کافی ہے۔‘‘ میں نے پٹائی سے ڈر کر ’’کافی ہے‘‘ نہیں کہا پر اس وقت مجھے چوتھی طرز نہیں سوجھی اس لیے میں چپ بیٹھ گیا۔ وہ بینتوں کی مار نا قابلِ برداشت ہو چکی تھی۔ میں کراہنے لگا۔
اس دن ساٹھے گروجی کے سامنے میں ہار گیا، لیکن آج جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو ضرور لگتا ہے کہ لکیر سے ہٹ کر کچھ نئی بَکُوات کر دکھانے کا نظریہ وہیں سےتو نہیں پھوٹا تھا؟
دن میں تارے دکھانے کی حدتک دھنائی پٹائی کرنے والے سخت مزاج ساٹھے گروجی کی طرح اَکّو گوالن کی یاد بھی من میں اتنی ہی تازہ ہو جاتی ہے۔ اَکّو گوالن بےسبب ہی میرے ساتھ ممتا بھرا سلوک کرتی تھی۔ اس کی ممتا بھری مورت آج بھی میری آنکھوں کے سامنے بیدار ہو جاتی ہے۔
ہماری کرانے کی دکان کا پہلا دن تھا۔ باپو نے پان سپاری کی چھوٹی سی تقریب کی تیاری کی تھی۔ ہم سب لوگ اس دن دکان پر گئے۔ تقریب ختم ہونے کے بعدمیں اکیلا ہی آرام سے ٹہلتا ہوا گھر لوٹ رہا تھا۔ تین چار مکان آگے جانے کے بعد میں نے دیکھا، چبوترا نما اونچی جگہ پر ایک چھوٹی سی دکان بنی ہے۔ اس میں ایک ادھیڑعمر عورت بیٹھی ہے۔ گول چہرہ، ماتھے پر روپے کی شکل سے بھی بڑے گول آکار کا خوبصوت سیندور، کالی سانولی، بھاری بھرکم جسم، سر پر پلاّ، یہ تھا اس ادھیڑعمر عورت کا روپ۔ اس کے سامنے ہی ایک مٹی کا بڑا سا برتن رکھا تھا۔ اس میں دہی تھا۔ کوئی گاہک آتا تو دہی بیچنے کے لیے اس گھڑے کا ڈھکنا کھولنے کی اس کی ایک خاص ادا تھی۔ وہ جھول کر ڈھکنا ہٹاتی، لکڑی کی کرچھی سے دہی نکالتی، گاہک کے برتن میں اسے ڈالتی، پیسے لیتی، چھنن کھنن آواز کرتی ہوئی اسے اپنے گلّے کے بکسے میں پھینکتی، اور پھر ڈھکنا گھڑے پر سِرکا دیتی۔ اسے دیکھ کر میں ریجھ گیا۔ بڑا مزہ آتا رہا۔ پتا نہیں کتنی دیر میں اس کی وہی ادا دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اس کا دھیان میری طرف ہوا۔ وہ ہنسی۔ سر ہلا کر اس نے مجھے پاس بلا لیا۔ پاس جاتے ہی اس نے پوچھا، ’’دے(دہی)کھاؤ گے؟‘‘
میں چپ ہی رہا۔ اس نے گھڑے میں سے کرچھی سے دہی نکالا اور بولی، ’’لیجو،بڑھاو ہاتھ۔ کاہے سرماتے ہو؟ لیجو بہوت بڑھیا دے (دہی) رہن ہمار۔‘‘(لو ہاتھ بڑھاو کیوں شرماتے ہو؟ لو بہت بڑھیا دہی ہے ہمارا۔)
شرماتے لجاتے میں نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ اتنا گاڑھا دہی تھا جیسے پنیر کا ٹکڑا کاٹ کر ہتھیلی پر رکھ دیا ہو۔ میری پوری ہتھیلی بھر گئی۔ میں سارا دہی منٹوں میں چاٹ گیا۔ گھڑے کی کوری مٹی کی خستہ خوشبو سے دہی میں ایسا مزے دار ذائقہ آ گیا تھا کہ میں ہتھیلی چاٹتا ہی رہا۔ پھر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بڑی ممتا دکھائی دی۔ اس نے ہنس کر پھر سے پوچھا:
’’اچھا لگا؟‘‘
’’جی ہاں، بہت اچھا تھا۔‘‘
میں خوشی کے مارے اچھلتا کودتا پھاندتا گھر کی طرف دوڑا۔
دوسرے دن سکول جاتے وقت ہاتھ میں سلیٹ اور بستہ لیے میں اس کی دکان کے سامنے زبردستی کھڑا ہو گیا۔ اچھا ہو کہ اس کے اس گھڑے میں رکھا دہی پھر سے کھانے کو مل جائے۔ سامنے والا گاہک چلا گیا اور اس نے میری طرف دیکھا۔ اب تو میں بن بلائے ہی اس کے پاس گیا اور ہاتھ بھی پھیلا دیا۔ اس نے میری ہتھیلی پر دہی رکھا۔ میں نے دہی کھانا شروع کیا۔ ابھی ابھی جو گاہک چلا گیا تھا، اس کے منھ سے میں نے اس کا نام سن لیا تھا۔ لوگ اسے اَکّو گوالن کہا کرتے تھے۔ دہی کھا چکنے کے بعد قمیض کی آستین سے منھ پونچھتے ہوئے میں نے کہا:
’’آج تو دہی بہت ہی مزیدار تھا، اَکّو موسی!‘‘
موسی لفظ سنتے ہی اس نے فوراً مڑ کر میر طرف بڑے پیار سے دیکھا اور بولی:
’’کے نام ہے تمہارا، بچھوا؟‘‘ (تمہارا کیا نام ہے ،بچے ؟)
’’شانتارام۔‘‘
’’شانتارام، ہر روج یہاں آتے رہیو، بھلا؟‘‘ (شانتا رام ، روز یہاں آتے رہنا، ٹھیک ہے؟)
’’اچھا‘‘ کہتا ہوا میں سکول کی طرف بھاگ گیا۔ اس کے بعد ہر روز اَکّو موسی کے اس کالے گھڑے کا مزیدار دہی میں کھاتا۔ اب تو ہچکچاہٹ اور لحاظ بھی جاتا رہا۔ دکان پر کبھی بھیڑ ہو اور سکول جانے کے لیے مجھے دیر ہو رہی ہو تو میں ویسے ہی بغیر دہی کھائے بھاگتا۔ لیکن اَکّو موسی مجھے فوراً آواز دیتی اور اس جلدبازی میں بھی مجھے دہی کھلاتے بغیر چین نہ پاتی۔ آگے چل کر تو میں خود ہی اس کے سامنے ہتھیلی پھیلا کر دہی مانگتا جیسے وہ میرا حق ہو۔
ایک دن مجھے لگا، باقی سارے لوگ پیسے دے کر اَکّو موسی سے دہی لیتے ہیں، ایک میں ہی ایسا ہوں جو مفت میں دہی کھاتا ہوں۔ یہ غلط بات ہے۔ اس دن جمعہ تھا۔ باپو نے ہمیشہ کی طرح مجھے بھنا چنا کھانے کے لیے ایک پیسہ دے دیا تھا۔ اس دن بھنے چنے میں نے نہیں لیے۔ اَکّو ماسی کی دکان پر گیا اور ہتھیلی پر وہ ایک پیسہ رکھ کر اس کے سامنے کر دیا۔
’’ای کا کرت ہو بچھوا؟‘‘
’’اَکّو موسی، میں تم سے ہر روز دہی جو کھاتا ہوں، یہ لو پیسہ اس کا۔‘‘
وہ میری طرف نظریں گاڑ کر بولی، ’’تم ہم کا کس نام پکارت رہن؟‘‘ (تم ہمیں کس نام سے پکارتے ہو؟)
’’اَکّو موسی۔‘‘
’’تو اپنی موسی کے اِی ہاں کھانے پینے جاوت ہو نا؟ تب وا کو پیسہ دیہی ہو کا؟‘‘ (تو اپنی خالہ کے ہاں کھانے پینے جاتے ہو نا؟تب اس کو پیسے دیتے ہو کیا؟)
’’نہیں۔‘‘
’’تو ہمے کو پیسہ کاہے دیت ہو بچھوا؟ ہم کا بھی موسی کہت ہو نا؟‘‘ ( تو ہمیں پیسہ کیوں دیتے ہو، بچے ہمیں بھی تو خالہ کہتے ہو نا؟)
میں دیکھتا ہی رہا۔ وہ بولی:
’’چل بھاگ جا پگلے کہیں کو! موسی کو پیسہ دیوت ہے چھورو۔ اسی پیسے کا بھونا چنا لئی جیا جاؤ، بھاگو۔ ‘‘ (چل بھاگ جا پاگل کہیں کا!خالہ کو پیسے دیتا ہے لڑکا۔ اسی پیسے کا بھونا چنا لو اور کھا جاؤ، بھاگو!)
میں بھنا چنا خریدنے کے لیے چلا گیا۔ واپس اس کے پاس جا کر میں نے کہا:
’’ہوں، یہ لو دیوی بھگوتی کا پرساد!‘‘
اور دونوں مٹھی بھر بھنے چنے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اس نے صرف ایک ہی چنا اٹھا لیا اور ماتا بھگوتی کا نام لے کر اسے ماتھے پر لگا کر منھ میں ڈال لیا۔ اس کے بعد ہر جمعے کو میں اسے اپنے بھنے چنے میں سے کچھ چنے پرساد کہہ کر دیتا رہا۔
ایسی تھی وہ ممتا بھری اَکّو موسی! اس عورت نے مجھے پتا نہیں کیوں، بےسبب اتنا پیار دیا! وہ میری کون لگتی تھی؟ کیا لگتی تھی؟ رشتہ نہ ناتا، پھر بھی کتنی محبت بھری تھی اس کی ممتا۔ کتنی ممتا سے ہنستی تھی وہ۔ اس کا دیا وہ میٹھا، سفید پنیر جیسا گاڑھا دہی! اس کے دہی سے میری پوری ہتھیلی بھر جاتی تھی۔ کہتے ہیں سفر پر نکلے راہی کی ہتھیلی پر تھوڑا سا دہی دیتے ہیں، اس لیے کہ اس کی یاترا سپھل ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیون کے سفر کی شروعات کرتے وقت اَکّو موسی نے اتنے پیار اور ممتا سے میری ہتھیلی پر دہی رکھ کر میری لمبی جیون یاترا کا مبارک آرمبھ کر دیا تھا!
(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]
انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔
نوٹ: خرم سہیل کی اوم پوری صاحب کے حوالے سے ماضی قریب میں دو تحاریر ڈان اردو اور دنیا پاکستان پر شائع ہو چکی ہیں ، زیرِ نظر تحریر خصوصی طور پر لالٹین کے لیے تصنیف کی گئی ہے۔
[/blockquote]
بھارت کے معروف اداکار اوم پوری، دنیا سے ہمیشہ کے لیے چلے گئے،ان کی ناگہانی موت کے بعد، جتنے منہ،اتنی باتیں ہیں۔ یہ صرف ایک فردکی موت نہیں ہوئی، بلکہ اچھے تعلقات کاموسم بھی رخصت ہوا، جن سے پاکستان اور بھارت، دونوں ملکوں پر خوشی کی بہار اتری تھی۔ دونوں طرف سے تخلیق کاراپنے اپنے فن کی داد وصول کر رہے تھے۔اوم پوری ہی نہیں گئے، ایک احساس رخصت ہوا۔ وہ دونوں طرف کے مداحوں کی دھڑکنوں میں شامل تھا۔ اُس نے دونوں طرف کے انتہاپسندوں کویہ جواب دیاکہ آپس کی لڑائی میں، اس حدتک نہ چلے جاؤ، جہاں فلسطین اوراسرائیل کے حالات پہنچ گئے ہیں۔
اوم پوری کی آواز میں دونوں اطراف کے لیے سانجھا درد تھا اورفکرمندی بھی، اس سارے منظر نامے پر سب سے زیادہ حیرت کی بات، ہندوستان میں پاکستان دوست آوازوں کا خاموش ہونا ہے۔ سامنے کی مثال مہیش بھٹ کی ہے۔ ساراہندوستان بول رہا ہے، وہ خاموش ہیں۔ حتیٰ کہ ان کاکوئی تعزیتی بیان بھی سامنے نہیں آیا۔ اوم پوری کی موت کے بعد بالی وڈ میں، فنکاروں کا محتاط رویہ دال میں کچھ کالا کی خمازی کرتا ہے۔
اوم پوری نے پاکستان میں ایک فلم “ایکٹران لا” میں کام کیا، جس میں انہوں نے اپنی شاندار اداکاری کی بدولت فلم میں چارچاند لگادیے۔اس فلم کی شوٹنگ کراچی میں ہوئی، اس موقع پر مجھے بھی ان سے ملاقات کاموقع ملا۔ ان کو بے حد مشفق اور پاکستان دوست پایا۔ پاکستان میں کئی ٹیلی وژن شوز میں اپنی گھن گرج والی آواز سے مداحوں کے دل جیتے، لیکن انہیں، اپنے ہی ملک کے ایک ٹاک شو میں متنازعہ گفتگو کرنے پر اُکسایا گیا۔
طیش میں آکر وہ کچھ متنازعہ باتیں کر بیٹھے، مگروہ ان کے ذاتی خیالات تھے، اس وجہ سے ان کی تذلیل کاایک نہ رکنے والاسلسلہ شروع ہو گیا، ان حالات سے وہ دلبرداشتہ ہوئے، جان کو بھی خطرہ لاحق تھا، اس وجہ سے امریکا منتقل ہونے کافیصلہ کرلیا۔جس رات ان کی پراسرار موت ہوئی، اس سے اگلی صبح انہیں امریکی سفارت خانے جاناتھا،اس بات کی تصدیق ان کے ڈرائیور رام مشرانے کی، جن کا ویڈیو بیان بھی ریکارڈ پر ہے۔
انڈیا میں اوم پوری کی موت کے فوری بعد، یہ خبر آئی کہ ان کو دل کا دورہ پڑا ہے، مگر ان کے دوست اوربھارتی فلم ساز خالد قدوائی اور ڈرائیور کے بیانات کے بعد بات سمجھ آتی ہے کہ یہ سب کچھ طے شدہ تھا۔ موت کی آہٹ پاکر اوم پوری کی پدرانہ شفقت نے بھی جوش مارا، اس رات، وہ اپنے بیٹے سے بھی ملنا چاہتے تھے، جس کے لیے انہوں نے کوشش بھی کی،کسی طرح رابطہ کر کے بیٹے سے مل لیں، مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔
ہندوستان میں دو طرح کا سینما تخلیق ہوا، جس کو کمرشل اور پیرلل یعنی آرٹ سینما کہا جاتا ہے۔ اوم پوری دونوں قسم کے سینما میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے، اسی لیے وہ نہ صرف ہندوستان میں مقبول تھے، بلکہ انہوں نے ہالی وڈ، یورپین سینما اور پھر پاکستان کی فلمی صنعت میں بھی اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔ ہالی ووڈ میں افغان جہاد کے تناظر میں جب فلم “چارلی ولسن” بنی، تو اس فلم میں جہاں ایک طرف پاکستان کے معروف اداکارنعیم طاہر کے بیٹے فرحان طاہر کام کر رہے تھے، تو دوسری طرف اوم پوری فلم میں، ضیاالحق کا کردار نبھا رہے تھے۔
اوم پوری نے “سٹی آف جوائے” جیسی فلم کے ذریعے، بنگال میں کلکتہ کے سائیکل رکشہ چلانے والے کی زندگی کواپنی اداکاری سے اجاگر کیا۔ ہندوستان کی بے شمار آرٹ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ بھارت میں آرٹ فلموں کے سب سے بڑے فلم ساز “ستیہ جیت رائے “کے ساتھ بھی کام کیا۔ اپنے جگری دوست نصیرالدین شاہ کے ساتھ زندگی کے اچھے برے دن دیکھے۔ ان کی اپنے سماج سے بغاوت کاعنصر شروع سے موجود تھا، جب ہی فلم ‘ماچس’ میں وہ بغاوت کے سپہ سالار کے طور پر بھی دکھائی دیے۔ پاکستانی فلم “ایکٹران لا” میں ایک نیک صفت اورشفیق باپ کا کردار نبھایا۔ پاکستان سے محبت کی قیمت بھی اوم پوری صاحب کو بھارت میں دینا پڑی۔
اوم پوری کو، پاکستان اور ہندوستان کے اخبارات کے علاوہ، امریکا کے نیویارک ٹائمز اور برطانیہ کے دی گارڈین نے بھی، ان کی شاندار فلمی خدمات کا اعتراف کیا۔ وہ برصغیر کی اداکاری کا ایک آفتاب تھے، جو طلوع تو انڈین سینماسے ہوا، مگر غروب پاکستان میں ہوا، ان کی زندگی کی آخری قابلِ ذکر فلم پاکستان میں ریلیز ہونے والی فلم ایکٹر ان لا تھی۔ اوم پوری نے تقریباً 300 فلموں میں کام کیا۔ برطانیہ میں ان کو جس فلم سے شہرت ملی،اس کا نام “ایسٹ از ایسٹ” تھا، جس میں انہوں نے ایک پاکستانی خاندان کے سربراہ کا کردار نبھایا تھا۔
انبالے کے سپوت، اوم پوری صاحب کو دنیا بھر میں کہیں بھی ان کی مادری زبان بولنے والا مل جاتا، تووہ اس سے گفتگو کرنے میں پنجابی زبان کو ترجیح دیتے، اس بات کااعتراف بھی انہوں نے مجھ سے انٹرویو میں کیا تھا۔ میں نے پوچھا “آرٹ سینما دیکھنے والے تو تنہارہ گئے؟” اس سوال پر وہ اداس ہو گئے، شاید ان کی تنہائی، آرٹ سینما کے شائقین کی تنہائی سے بھی زیادہ تھی، جس کااحساس مجھے بھی بعد میں ہوا۔ اوم پوری کہاکرتے تھے “میں خواب نہیں دیکھتا، کیونکہ وہ خواب پورے نہ ہوں، تو دل ٹوٹتا ہے، میں اس توڑ پھوڑ کوبرداشت نہیں کر پاؤں گا، اس لیے میں خواب ہی نہیں دیکھتا۔” اوم پوری صرف ایک فنکار ہی نہیں، ہجوم سے بچھڑا ہوا شخص بھی تھا، جس کی آنکھوں میں گئی رتوں کے خواب تھے۔
خرم سہیل، اوم پوری اور ایکٹر ان لاء کی کاسٹ کے ہمراہ
اوم پوری نہیں جانتے تھے، خواب دیکھے نہیں جاتے، خوبصورت شعور اور حساس مزاج رکھنے والوں کے ہاں خواب اُترا کرتے ہیں، تصور کے راستے سے، آنکھوں کے اندر اور روح میں سرایت کرتے ہیں۔ وہاں کوئی ضبط کام نہیں آتا، آپ نے پاکستان اوربھارت کی دوستی کا خواب دیکھا تھا، آپ ٹھیک کہتے تھے، جب خواب پورے نہ ہوں تو دل ٹوٹ جاتاہے۔ آپ کی آواز کی خاموشی میں، دونوں ملکوں کاتعلق ہی نہیں ٹوٹا، بلکہ کئی پاکستان دوست آوازیں بھی ٹوٹتی محسوس ہو رہی ہیں۔ مہیش بھٹ اور گلزار خاموش ہیں۔۔۔کراچی اور لاہور ہی اداس نہیں، انبالہ اور ممبئی بھی غم میں ڈوبے ہوئے ہیں مگر بے آواز۔۔۔
زندگی صرف آگے بڑھ جانے کانام ہی نہیں، کبھی رُک کر پیچھے دیکھنے کاعمل بھی ہے۔ رواں برس کی شروعات پر، 2007میں ریلیز ہونے والی ایک فلم “سانوریا” کو اب کہیں جا کر دیکھنے کاموقع ملا۔ یہ حُسنِ اتفاق تھا، مگر صاحب، ایسا محسوس ہوا، جیسے کسی نے یاد کے کینوس پر، جاناپہچانا منظر کھول کر انڈیلاہے، اتنا وقت گزرجانے کے باوجود، جس کے رنگ تازہ بلکہ اب تک گیلے ہیں۔ یہ نمی شاید جذبے کی ہے، ورنہ گزرے ماہ وسال کے ہندسے، تو اسے نیا ماننے سے انکاری ہیں۔
زمانہ طالب علمی کاتھا اورموسم رومان کا۔ ایک صبح بیدار ہونے پراندازہ ہوا، تاخیر ہو گئی، یونیورسٹی پہنچنا تھا، وہاں یار دوست انتظار میں ہوں گے۔ اسی لمحے، ایک دم خیال آیا، ایک دن ہوگا، ایسے ہی آنکھ کھلے گی، مگر کہیں نہیں جانا ہو گا اور دوست بھی منتظر نہیں ہوں گے۔ یہ سوچ کر دل اداسی کی آماجگاہ بن گیا۔ اسی کیفیت میں یونیورسٹی پہنچے اوردوستوں کو اس حالت سے آگاہ کیا۔ دوستوں نے بات ہنسی مذاق میں اڑادی، لیکن کتنی سفاک حقیقت ہے، آج نیند سے بیدار ہوتے ہیں، تو یونیورسٹی میں کوئی دوست انتظار نہیں کر رہا ہوتا۔ سب دوست اپنی اپنی منزلوں کو روانہ ہو گئے۔ اب یادوں کی شاہراہ پر، دل کے مسافرخانے میں صرف خاک اڑتی ہے۔
زندگی کے اسی منظر نامے پر کبھی کوئی گیت، فلم، تصویر، نظم یا کوئی آواز سیدھی دل کے پردے چاک کرتی، اس گمشدہ احساس تک جاپہنچتی ہے، جس کی تلاش ہمیں بھی ہوتی ہے، مگر ہم اس کو ڈھونڈ نہیں پاتے۔ یہ فلم”سانوریا” بھی ایسے ہی دنوں کی یاد کا جھونکا ہے، جس احساس کو پلٹ کرآنے میں بہت وقت درکار ہوتاہے۔ وہ دوست، جو اپنے دوستوں سے بچھڑے ہوئے ہیں، یہ فلم اورتحریر انہی کے لیے ہے۔
فلم “سانوریا” 2007 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس فلم نے رواں برس ایک دہائی مکمل کرلی، یعنی 10برس بیت گئے، لیکن اسے دیکھ کربالکل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، شاید اس کی تھیم، موسیقی، کہانی اور کرداروں میں زندگی کی رمق بہت تیز ہے، دھڑکنیں ابھی تک برقرار ہیں۔ ہجر وفراق کے مرحلے، پانے اورکھونے کے احساس سے لبریز، عشق کی سانسوں کے اتار چڑھاؤ، محبت کے طے ہوتے قدموں کی چاپ سے گونجتی، اس فلم میں محسوس کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، بشرطیکہ آپ پر کبھی نہ کبھی رومان کاموسم اترا ہو۔
اس تخلیق کے پیش کار “سنجے لیلا بھنسالی” ہیں، جن کے کریڈٹ پر فلم سازی اورہدایت کاری کے شعبے ہیں۔ سنجے لیلا بھنسالی کی شخصیت کے دو واضح رخ بہت نمایاں ہیں، وہی ان کی فلموں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ دو طرح کی فلمیں بناتے ہیں، ایک تووہ فلمیں، جن میں یہ صرف فلم ساز کے طورپرشریک ہوتے ہیں اور وہ فلم کمرشل پہلوؤں سے بھی اپنا وزن رکھتی ہے، بلکہ یوں کہہ لیں، اس طرح کی فلموں میں، صرف اس بات کاہی خیال رکھا جاتاہے کہ وہ باکس آفس پر اچھے نتائج حاصل کریں۔ اس تناظر میں، ایک مثال “راؤڈی راٹھور” جیسی فلم ہے، جوخالص کمرشل تھی۔
دوسری طرح کی فلمیں وہ ہیں، جن میں یہ خود ہدایت کاربھی ہوتے ہیں، ان فلموں کوبناتے ہوئے، کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاتا، نہ ہی باکس آفس کے نتائج کی پرواہ کی جاتی ہے، بس فلم کو اس کی پوری جمالیات کے ساتھ تخلیق کیا جاتا ہے، اس طرح کی فلموں میں، اگر مثال لی جائے، توباجی راؤ مستانی، گزارش، بلیک، دیوداس، ہم دل دے چکے صنم، خاموشی جیسی فلمیں ہیں، جبکہ زیر نظر فلم “سانوریا” بھی ان کا حسن نظر ہے، جس کو انہوں نے سینما کے پردے کے لیے فلمایا تھا۔ اب ان کی ہدایت کاری میں بننے والی اگلی فلم “پدماوتی” تاریخ کے ایک اہم کردار “علاؤ الدین خلجی” کے عہد کو تازہ کرنے کرنے کے لیے رواں برس کے اختتام پر نمائش کے لیے پیش کر دی جائے گی۔
فلم “سانوریا” اجنبی گلیوں میں ملنے والے پریمی جوڑے کی ہے، جن کی محبت نہایت اثر انگیز لیکن تکونی ہے۔ فلم کامرکزی کردار یعنی ہیرو، اس فلم میں اپنی ہیروئن سے محبت کرتا ہے، مگر اس کا محبوب کوئی اور ہے۔ اس کے باوجود وہ ہیرو کی محبت کوقدر کی نگاہ سے دیکھتی اوراس کو، دوستی کے تقاضوں میں نبھانے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اب صاحب دوستی بھلا محبوب کی محبت کابدل تو نہیں ہو سکتی۔ ایک طرف دیوانگی ہے، تو دوسری طرف عشق، دونوں میں گاڑھی چھنتی ہے، یہی اس فلم کا مرکزی خیال ہے۔ فلم کی کہانی کامرکزی خیال تو روس کے شہرہ آفاق ادیب “فیودور دستوئیفسکی” کی کہانی “وائٹ نائٹس” سے لیا گیا ہے، مگر سنجے لیلابھنسالی نے، اس میں اپنی محبتوں کے نیلے اور سنہرے رنگ ڈال کر، تصورکے پردے کو مزید خوبصورت کردیا۔ رہی سہی کسر موسیقی کے حسین امتزاج سے پوری ہو گئی ہے۔ فلم کے موسیقار مونٹی شرما ہیں۔
فلم کامنظر نامہ بے حد خوبصورت ہے۔ نیلے رنگ میں رنگے ہوئے درودیوار اور رات کے ماحول کے تناظر میں ایک شاندار سیٹ بنایا گیا، جس کے تخلیق کار “امنگ کمار”ہیں، جنہوں نے سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ اس سے پہلے، فلم “بلیک” میں بھی اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کوثابت کیا۔ نیم تاریکی میں گلیوں اوربل بورڈز کی تشکیل، ندی کے بہاؤ پرایک پل کی تعمیر، بڑے گھڑیال اوردیگر چیزوں سے سیٹ کو سجا دیا۔ اس پر چلتے پھرتے کردار آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں۔ اس فلم میں جن اداکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ان میں مرکزی کرداروں میں رنبیر کپور، سونم کپورکے علاوہ دیگر اداکاروں میں سلمان خان، رانی مکھرجی، زہراسہگل، بیگم پارا اوردیگر شامل ہیں۔
کسی چھٹی کے دن، فراغت کے لمحوں میں، اس فلم کودیکھیے، مجھے یقین ہے، آپ کی ملاقات کسی نہ کسی گمشدہ احساس سے ضرور ہو جائے گی، یہی اس فلم کا کمال ہے اور سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری کا جادو، سر چڑھ کر جو بول رہا ہے، دل کی تنہائی میں۔۔۔۔۔
فلم کی دنیامیں کچھ کہانیاں فرض کرکے لکھی جاتی ہیں، مگر وہ کسی حقیقت پر مبنی بھی ہوسکتی ہیں۔ نہ جانے کیوں ”اے دل ہے مشکل” دیکھ کر یہی خیال وارد ہوا۔ اس کی کہانی کامرکزی خیال، وہ دوستی ہے، جس کو عشق کی پوشاک میں لپیٹ کر دکھایاگیاہے۔ جذبوں کی سردی گرمی کے موسم، اس کہانی سے ہوکر گزرے ہیں۔ احساسات کے اتارچڑھاؤ سے کہانی کوباندھ کر اس طرح پیش کیا گیاہے کہ فلم بین بھی بندھے رہیں گے، جب تک پوری کہانی سمجھ نہ لیں گے۔
ایک انتہائی روایتی انداز میں، کمرشل مقاصد کے تحت بنائی گئی، اس فلم نے بھی دل کے تاروں کو چھیڑدیاہے، یہ کمال کی بات ہے، ظاہر ہے، کمرشل چیزیں بنانے والے لوگ بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں، کہیں نہ کہیں ان کا اپناپن بھی توچھلک پڑتاہوگا۔ یہی وجہ ہے، فلم میں کئی جگہ بے جا مناظر اور مکالموں کے باوجود کہیں کہیں دل کٹ سا گیا، کچھ مکالمے جان لیوا ہیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا، اس فلم کو دوملکوں کی محبت کی علامت بھی بنا دیا جاتا، مگر افسوس نفرت انڈیل کر اپنی ہی بہترین کاوش کی تاثیر کوبالی ووڈ نے زائل کر دیا۔ ان تمام نفرتوں کے باوجود فلم سے نہ تو محبت کم ہوئی اورنہ پاکستانیت، نفرت کرنے والے کیاجانیں، تاثیر کی مار کیاہوتی ہے۔ اس فلم میں یہی مار ہے، جس کی ضربیں کبھی کبھی روح پر بھی پڑیں، مکالمے حروف کی معنویت میں پگھل کر اظہار میں کیا ڈھلے، ایسا محسوس ہوتاہے، کوئی سیال مادہ روح میں اتارا جا رہا ہے، اس آتشِ خیال کے بعد کہنے کو باقی کیا رہ جاتا ہے، پھر بھی بیان کیے دیتے ہیں۔
کہانی
فلم کی سب سے جاندار چیز اس کی کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال کو ”کرن جوہر” نے تراشا۔ وہ اس فلم کے ہدایت کار اور شریک فلمسازبھی ہیں۔ کہانی کے مکالمے تخلیق کرنے میں “نرانجان لینگر” نے ساتھ نبھایا اوربہت حد تک اپنی کاوش میں کامیاب رہے، البتہ فلم کی کہانی میں کرن جوہر نے ماضی کی طرح، انگریزی ادب اورفلموں سے استفادہ کرنے کی روایت بھی برقرار رکھی، حیرت انگیز طورپر اس فلم کے لیے پاکستانی شعروادب سے بھی خوب استفادہ کیا۔
[blockquote style=”3″]
فلم کی سب سے جاندار چیز اس کی کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال کو ”کرن جوہر” نے تراشا۔
[/blockquote]
اس فلم کی کہانی میں، پروین شاکر کے شعر”یہ بازی عشق کی بازی ہے”کاعکس بھی مکالموں میں کہیں کہیں دکھائی دیا، فیض احمد فیض کی غزل “مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” کے گہرے رنگ بھی مکالمات میں نچھاور کیے گئے۔ فیاض ہاشمی کی “آج جانے کی ضد نہ کرو” کی صدائیں بھی جگائی گئیں، فواد خان اورعمران عباس نے اپنی اداکاری سے دل کو بھی موہ لیا۔ مرکزی کرداروں میں آیان، الیزے خان، صباخان، طاہر خان، ڈاکٹر فیصل، ڈی جے علی، جیسے مانوس نام بھی کہانی کا حصہ بنے، فریدہ خانم کی گائی ہوئی مدھر غزل ”آج جانے کی ضد نہ کرو”عجیب مگر بے حد لطف دیا۔ بلھے شاہ کا ذکر بھی آیا، مگر افسوس، مکمل جذبات کی فلم میں کئی کریڈیٹ ادھورے رہ گئے، کسی کاتذکرہ ملا اور کسی کانہیں، محبت کے احساس پر بننے والی فلم میں کافی کچھ نفرت کی نذرکر دیا گیا۔ اس کے باجود کہانی کااثر ابھی تک باقی ہے۔
کردار
کمرشل اداکاروں میں، رنبیرکپور مکمل اداکار ہے، نہ جانے ایک گلوکار کے کردار میں یہ کیوں اتنا جچتا ہے، اس طرح کے کردار وہ اپنے فلمی کیرئیر میں پہلے بھی ادا کر چکا ہے۔ اس سے قبل فلم “راک اسٹار” میں رنبیر نے ‘جے جے’ کے کردار میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔ حسب توقع فلم کی کہانی میں جس قدر ٹوٹ کر جذبات کابیان چاہیے تھا، اس کو وہ ہی ادا کر سکتا تھا، اس کی اداکاری میں تصنع نہیں، اس کے اداکیے ہوئے مکالموں پریقین کرنے کو دل کرتا ہے۔
[blockquote style=”3″]
رنبیر کی اداکاری میں تصنع نہیں، اس کے اداکیے ہوئے مکالموں پریقین کرنے کو دل کرتا ہے۔
[/blockquote]
انوشکا شرما کی اداکاری ایک خاص بناوٹی انداز کی ہے، اس کی پہلی فلم”رب نے بنادی جوڑی”سے لے کر آج تک اس میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی، مگر نہ جانے کہانی کا اثر تھا، جو اس فلم میں کہیں کہیں جذبات اس کی بناوٹ پر غالب آ گئے۔ حیرت انگیز طور پر ایشوریہ رائے نے اچھی اداکاری کامظاہرہ کیا، فلمی دنیا میں طویل عرصے بعد واپسی کا کرشمہ بھی ہے، اس نے اپنے تئیں کردار کو خوب نبھایا۔ فواد خان نے بھی اپنے مختصر لیکن مرکزی کردار میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کابھرپور مظاہرہ کیا۔ مہمان اداکاروں میں شاہ رخ خان، عمران عباس، لیزاہیڈون، عالیہ بھٹ نے بھی اپنے کردار بخوبی نبھائے۔
رنبیر اور ایشوریہ نے اپنے کردار بخوبی نبھائے
فلمسازی و ہدایت کاری
فلم سازی کے شعبے میں تین پروڈیوسروں، اپرووا مہتا، ہیرویش جوہر اور کرن جوہر نے مل کر یہ فلم بنائی، سوکروڑ کے بجٹ میں تین بڑے شہروں، ویانا، پیرس اور لندن میں اس کی عکس بندی کی۔ تمام لوکیشن کرن جوہر کی دیگر فلموں کی طرح خوبصورت اور رومانوی تھیں۔ فلم کی ہدایت کاری میں کہیں کہیں جھول دکھائی دیئے، جیسے فلم کی ہیروئن کاتعلق لکھنو کے ایک مسلمان خاندان سے دکھایا گیاہے، مگر فلم میں اس کے کردار میں نہ تو مسلم ثقافت کا کوئی شائبہ محسوس ہوا اور نہ ہی وہ لکھنو والی کوئی بات دکھائی دی۔ ہدایت کاروں کے ذہن سے ـ”رب نے بنادی جوڑی“والی انوشکاشرما نکل نہیں رہی۔ اس لیے وہی اکھڑا اور دوٹوک انداز باربار دہرایا جاتا ہے۔
موسیقی
فلم کے موسیقار “پریتم”ہیں، جن کی صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا تو ناانصافی ہوگی، لیکن اس موسیقار کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ یہ دوسرے لوگوں کی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے کے بھی ماہر ہیں، بغیر کریڈٹ کے کافی کچھ اپنے نام سے بالی ووڈ میں جعلی نوٹ کی طرح بغیر بتائے چلا دیتے ہیں، جس طرح اس فلم میں انہوں نے ایک معروف پاکستانی غزل ”آج جانے کی ضد نہ کرو” کے ساتھ کیا۔ فلم کی تشہیر میں اس گیت کا کہیں تذکرہ ہی نہیں، بس اس کو ذرا ری میکس کر کے اپنے کھاتے میں ڈال لیا، یہ کوئی اچھی بات نہیں، جبکہ اس فلم کے دیگر گیت اچھے ہیں، البتہ کسی کا کریڈٹ ہے، تو وہ دینے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہے، نہ جانے پریتم یہ ہنر کب سیکھ پائیں گے۔
گلوکاروں اورگیت نگاروں نے اپناکام بخوبی اداکیاہے، گلوکاروں میں ارجیت سنگھ امیت مشرا، شلپا راؤ، جونیتا گاندھی، بادشاہ، نقش عزیز، پردیپ سنگھ سرن، ایش کنگ اورششویت سنگھ نے اپنی آوازوں سے گیتوں کو سجایااورگیت نگاروں میں بالخصوص مرکزی گیت ”اے دل ہے مشکل” کے گیت نگار ”امیتابھ بھٹاچاریہ” نے خوب لکھااوردوسرے گیت ”بلھیا” کی گیت نگاری اوردھن نے دل کو چھو لیا۔ ان تمام گیتوں کی دھنوں سے لے کر عکس بندی تک سب اچھا کی رپورٹ ہے۔
رنبیر ایک گلوکار کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں
حرف آخر
فلم نے ریلیز سے پہلے ہی مقبولیت حاصل کر لی تھی، کیونکہ رواں برس پاکستان اور انڈیا کے مابین تلخیوں نے زور پکڑا، توساران زلہ پاکستانی فنکاروں پر اترا، جس میں سرفہرست، یہ فلم متاثر ہوئی۔ کرن جوہرنے بڑی منتوں سماجتوں کے بعد، انڈیامیں سیاسی پنڈتوں سے اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت لی، اس طرح یہ فلم ریلیز ہوئی اورباکس آفس پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گھاڑ دیے۔ لکھنوکے علاوہ، لندن، پیرس اورویانامیں فلمائی جانے والی فلم کے پس منظر بھی انتہائی حسین اور کہانی کے لحاظ سے رومانوی تھے، جنہوں نے کہانی کا حسن مزید نکھار دیا۔ فلمی ناقدین نے یہ بھی کہا، یہ فلم کرن جوہر کی گزشتہ دو فلموں “کل ہو نہ ہو”اور”کبھی الوداع نہ کہنا”کا سیکوئل محسوس ہوئی۔ میرے خیال میں کرن جوہر اپنی ہر فلم ایک احساس سے دوسرا احساس تراش کربناتے ہیں، اس لیے ان کی فلموں مسابقت محسوس ہوتی ہے۔
[blockquote style=”3″]
اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔
[/blockquote]
آپ نے زندگی میں کوئی ایسا دوست بنایا ہے، جو کسی محبوب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو اور پھر اسے کئی بار کھویا اور پایا بھی ہو، خاص طور پر وہ آپ کی بے وقوفیوں کا ہم راز ہو، دیوانگی کے احساس سے بھی واقف ہو، مگر آپ کی سمت آنے کی بجائے، مخالف سمت کی طرف چلا جائے، تو سمجھ لیں، یہ فلم آپ کے دیکھنے کی ہے، اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔
“بینجو” ایک میوزیکل ڈرامہ ہے۔ اگرچہ اس میں ایکشن کا تڑکا بھی لگایا گیا ہے۔ مگر مجموعی طور پر یہ فلم میوزیکل ڈرامہ یانرا سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ اس کی کہانی پاکستانی فلم “ڈانس کہانی” سے کافی مماثل ہے۔ مگر سکرین پر اس کی پروجیکشن بے حد غیر متاثر کُن رہی؛ یعنی بینجو کا اسکرین پلے کمزور ہے۔
اداکاری کے شعبے میں رِتیش دیش مُکھ نے قدرے بہتر کام کیا مگر ان کا کیریکٹر ہاف-بیکڈ رہ گیا۔ یعنی نہ وہ ٹھیک سے بھتہ خور اسٹیبلش ہو پائے اور نہ ہی کسی طرح فطری صلاحیتوں سے مالامال ایک بینجو بجانے والے فنکار۔ ان کی نسبت دھرمیش یلندے کا کیریکٹر بہتر اور میچیور انداز میں سامنے آتا ہے۔ ایک نیچرل ڈرَمَر؛ میوزک اور ڈرم بِیٹس جس کی شریانوں میں رواں ہوں. مائکی کے کردار میں ‘لیوک کینی’ کی اداکاری بھی بہتر رہی، مگر ان کا کردار زیادہ دلچسپ ہے۔ ایک فیصلہ کُن مگر خاموش کردار رِتیش کو بینجو سکھانے والے بابا جی کا ہے۔ اُن کی اداکاری سے کہیں زیادہ ان کا کیریکٹر متاثر کُن رہا۔
بمبئے کے سَلَم ایریاز سے تعلق رکھنے والوں کے میک اپ قدرے بہتر کیے گئے۔ سَلَم ایریاز کی تفاصیل عمدگی سے عکسبند کی گئیں۔”بینجو” کے مکالمے غیر متاثر کُن نہیں۔ اچھے ہیں۔ البتہ نہ تو ان مکالموں کی مدد سے کامیڈی شامل کرنے کی جو کوشش کی گئی وہ کامیاب ہوئی؛ اور نہ ہی بعض مقامات پر غیر ضروری طور پر بولڈ مکالموں نے فلم کے تاثر کو بڑھایا بلکہ معاملہ برعکس رہا۔ بُری کامیڈی اور فحش مکالموں نے فلم کی لطافت کو پامال کیا۔
نرگس فخری اسکرین پر اگرچہ اچھی لگیں؛ گلیمرس بھی دکھائی دیں. مگر یہ رول اگر کسی اصلی گوری کو دے دیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا۔ یعنی مِس کاسٹنگ ہو گئی نرگس کے معاملے میں۔
بمبئے کے سَلَم ایریاز سے تعلق رکھنے والوں کے میک اپ قدرے بہتر کیے گئے۔ سَلَم ایریاز کی تفاصیل عمدگی سے عکسبند کی گئیں۔”
ایڈیٹنگ کے شعبے میں ویوژل ایڈیٹنگ کا پلڑا آڈیو/ساؤنڈ ایڈیٹنگ کے مقابلے میں بھاری رہا۔ بروقت اور دلکش سلو موشنز، بِیٹ کے مطابق کَٹس اور پرانے وائپ اسٹائل کو عُمدگی سے استعمال کیا گیا۔ فیڈ اِن فیڈ آؤٹ بھی بر محل استعمال ہوئے اور ان کے استعمال کا مقصد پُورا ہوا یعنی توقف کے بعد سیکوئینس کی تبدیلی۔
کلاسک اسٹائل ایڈیٹنگ کو “فرِیکی علی” میں بھی عُمدگی سے اور تواتر سے استعمال کیا گیا۔ “بینجو” میں ایک جگہ “گرافِک میچ کَٹ” کو عمدگی سے استعمال کیا گیا۔ ہیرو کی بوتل سے شراب گلاس میں گرنا شروع کرتی ہے۔ یہاں سے کٹ کر کے دوسری لوکیشن کا گلاس بھرتا دکھایا جاتا ہے جو ولن کا ہے۔ فی زمانہ یہ کَٹ استعمال نہیں ہوتا۔ آؤٹ ڈیٹڈ لگتا ہے۔ مگر یہاں بھلا معلوم ہوا۔
عام سینما بین کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک فلاپ فلم ہے۔ اس کا ساؤنڈ ڈیزائن بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ مگر جہاں جہاں ڈرم اور بینجو بجے، سینما جھومنے لگا؛ جیسے کہ ‘اوم گنپتی’؛ ‘رحم و کرم’ اور بالخصوص ‘راڑا راڑا’ کے ٹریکس میں۔ اس کے علاوہ، جب رِتیش کے گروپ کی تصویر اخبار میں شائع ہوتی ہے تو بستی کے لوگ دیکھ دیکھ خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس دوران میں پس منظر میں بینجو بجتا رہتا ہے۔ جس پر سینما ہال میں بیٹھے فلم بینوں کے پاؤں دھیرے دھیرے تھرکنے لگتے ہیں۔ کاش بینجو کو بطور BGM زیادہ سیکوئینسز میں بجایا گیا ہوتا۔
میوزیکل فلم تو ایسی ہی ہوتی ہے کہ سارا عرصہ میوزک کا سحر نہ ٹُوٹے۔ میوزک بجے نہ بجے، اس کا جادو فلم بین پر قائم رہے۔ جس کا ہم نے سیّد نُور کی کلاسیک فلم “سرگم” میں تجربہ کیا، ساری فلم کلاسیکی موسیقی کے شہد میں ڈُوبی محسوس ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے “بینجو” ایسا تجربہ دینے میں ناکام رہی۔ اگرچہ گاہے بگاہے ایسے مقامات آتے رہے، مگر بینجو کا بطور ایک ساز کے سحر طاری نہیں ہو سکا۔
اس فلم کی سینماٹوگرافی اچھی ہے۔ دُھول اور روشنی کے کمبینیشن میں ایکشن بہتر انداز میں عکسبند کیا گیا۔ فریمنگ بھی عُمدہ ہے۔
اس فلم کی سینماٹوگرافی اچھی ہے۔ دُھول اور روشنی کے کمبینیشن میں ایکشن بہتر انداز میں عکسبند کیا گیا۔ فریمنگ بھی عُمدہ ہے۔ مجموعی طور پر لائٹ بھی بہتر ہے۔ کاسٹنگ بھی ملی جُلی ہے۔ زیادہ تر اچھی ہے۔ مگر چونکہ یہ اچھائیاں ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک کُل بنانے میں ناکام رہتی ہیں۔ لہٰذا یہ فلم ایک سینما پِیس کی حیثیت سے غیر متاثر کُن رہتی ہے۔
بھارت مسلسل ایسی فلمیں بنا رہا ہے، جس سے ان کے عوام میں بھارت کے بارے میں مثبت جذبات اُبھرتے ہیں۔ ان میں اپنے مُلک کے بحرانوں اور مسائل کے بارے میں شعور بیدار ہوتا ہے۔ اور ان میں ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا ارادہ جنم لینے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ ‘فلائنگ جٹ’ ہو، ‘سلطان’ ہو یا ‘پنک’۔۔۔۔۔۔ حتّٰی کہ باجی راؤ مستانی ایسے ماسٹر پِیس میں بھی سب میں ‘ہمارا بھارت مہان’ کا پیغام پوشیدہ ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی فلمیں بن رہی ہیں۔ مگر اکا دکا؛ جیسے مُور، O21، نامعلوم افراد، میں ہوں شاہد آفریدی، وار، ایکٹر ان لاء وغیرہ۔ پاکستانی سینما کو سُلطان اور ایکٹر ان لاء ایسی فلموں کی زیادہ ضرورت ہے۔ سو، یہاں بجائے تیری میری لوّ اسٹوری، جاناں، ہجرت، بدل، اور سوال سات سو کروڑ ڈالر کا جیسی بے مزہ، بے رنگ بے بو بے ذائقہ فلموں کے؛ مُور اور نامعلوم افراد ایسی فلموں کی زیادہ ضرورت ہے۔
بدلتے اور مسلسل ترقّی کرتے بھارتی سماج کو جن نئے چیلنجز کا سامنا ہے، انیرودھا رائے کی نئی فلم “پِنک” اس کا ایک رسپانس ہے۔ بھارتی بزرجمہر سماجی تبدیلی کی ضِمن میں سینما کی اہمیّت کا ٹھیک ٹھاک ادراک رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں آئے روز ایسی فِلمیں دیکھنے کو مِلتی ہیں جو تفریح کے ساتھ ساتھ سماج کو بہتری کی جانب مائل کرنے کا پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوتی ہیں۔
اس سلسلے میں کئی ایک مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ایک تازہ مثال ڈرامہ یانرا کی فِلم “پِنک” بھی ہے۔ اس میں سِوائے امیتابھ بچن کے، کوئی دوسرا سُپرسٹار نظر نہیں آتا. مگر پرفارمنسز سبھی کی نہایت پاورفُل ہیں۔
لیڈ رول میں ‘تاپسی پنّو’ نے اپنی خوبصورت اداکاری سے فلم بینوں کو متاثر کیا۔ کیرتی اور آندریا نے بھی جب جب موقع ملا، اچھی اداکاری کی۔ پیوش مشرا نے ڈَیوِلز ایڈووکیٹ کے رول میں اپنی بے ساختہ اداکاری سے جان ڈال دی.
بِگ بِی کو تو ‘شُجیت سرکار’ نے کاسٹ ہی اس لیے کیا ہوگا کہ جہاں جہاں پنچ مارنا ہو، بِگ بِی کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ ورنہ اچھے ایشو پر بنائی گئی فلم غیر متاثر کُن انداز میں ختم ہو جانے کا خطرہ تھا۔ سُچیت بِگ بِی پر ایک ڈاکیومنٹری بھی بنا رہے ہیں۔ اور مدراس کیفے انہی کی ہدایتکاری کا نمونہ تھی۔ مگر شُجیت نے “پِنک” کو پروڈیوس کیا ہے، ڈائریکٹر اس کے انیرودھا رائے ہیں۔ اس فلم کی وجہ تسمیہ یعنی اس کا نام “پِنک” رکھنے کی وجہ اس کا موضوع ہے؛ تیزی سے بدلتے جدید بھارتی سماج میں عورت کو درپیش نُمایاں مشکلات۔۔۔۔۔۔۔
اس فلم کی ایڈیٹنگ میں خامیاں ہیں۔ اسکرپٹ تو اچھا ہے مگر اسکرین پلے ڈھیلا ہے۔ مکالمے البتہ بہت عُمدہ ہیں۔ سیٹ سادہ اور کاسٹیومز مناسب. اسکور بھی مناسب ہی رہا. ٹریکس اچھے ہیں بالخصوص ‘کاری کاری’ کی شاعری اچھی لگی۔ سینماٹوگرافی بتا رہی تھی کہ فلم کا مقصد صرف اور صرف کہانی میں پنہاں سندیس کی ترسیل ہے۔ فلم بین کے جمالیاتی حَظ کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔
اگر آپ سینما کے لیے تیار کردہ عُمدہ سوشل ڈرامہ دیکھنا چاہتے ہیں، تو “پِنک” آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔