Laaltain

قصباتی لڑکوں کا گیت

ابرار احمد: ہم تیری صبحوں کی اوس میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ
دنوں کی اس بستی کو دیکھتے ہیں
ہم تیرے خوش الحان پرندے، ہر جانب
تیری منڈیریں کھوجتے ہیں

غربت

وجیہہ وارثی: وہ سمجھا سکتی ہے
ہر بات بغیر چیخے
مگروہ چیختی ہے
ڈپریشن کی مریضہ ہے

لیک

سوئپنل تیواری:ہمیں ہنسنا تھا ان سب منزلوں پر
مگر ہم پونچھ تھامے چل رہے ہیں

وہی مخدوش حالت

رفیق سندیلوی: ہمیشہ سے یہاں قربان ہوتا آرہا ہوں
کار آمد جانور ہوں
کھال سے جوتے
سنہری اُون سے بنتی ہیں سَر کی ٹوپیاں
اور گوشت پکتا ہے

ماڈل اور آرٹسٹ

وجیہہ وارثی: آؤ تم اور میں اپنی اپنی تنہائیوں کا مجسمہ بنائیں
تہذیب و تمدن کے ساتھ
اور اگر محبت مل جائے کسی کونے میں
تو اسے بارآور کریں
مقدس رشتے کے ساتھ
مکن ہے شہ کارپیدا ہو

بدتمیز

وجیہہ وارثی: میں سوجاتا ہوں خواب آور گولیاں کھا کے
وہ خواب میں بھی نہیں آتی
صبح جب آنکھ کھلتی ہے
وہ سو رہی ہوتی ہے
میرے سینے پر اپنی دونوں ٹانگیں رکھ کے

آسمان زیور ہے

عمران ازفر: چھے سمتوں میں
سب سمتوں کا رس بھرا ہے
گاڑھا اور کسیلا مادہ
شب کی گرمی سے جو پک کر
آنکھ کے رستے اب گرتا ہے

فراموشی کی مختصر تاریخ

انور سین رائے: ہمارے اجداد وہ حروف تہجی بھول گئے تھے
جن کی مدد سے وہ چیزوں،
لوگوں اور وقت کو یاد کرتے تھے

شکاری چینل

سلمیٰ جیلانی: شکاری چینل کو خبر مل گئی ہے
تہذیب و تمدن گلے مل کے روتے ہیں
اور اسمارٹ ریموٹ کے بٹن دبا کر
قدیم دیو مالائی چینل دیکھنے لگتے ہیں

اندھیرے میں اُگی مشروم

نصیر احمد ناصر:
وہ عجب سا خواب تھا، اس خواب میں آنکھیں بہت تھیں
جو اندھیرے میں ڈراتی تھیں ہمہ دم
میرے ہونے، کچھ نہ ہونے
اور سونے کا تماشا دیکھتی تھیں

محبت کا ڈائمینشنل سٹریس

جمیل الرحمٰن: تمہارے ہونٹوں اور آنکھوں سے نچوڑا ہوا رس
میرے لیے
وہ قفس تعمیر کر گیا ہے
جس میں
ایک اڑان کے علاوہ صرف ابدی پیاس ہے

وصل گزیدہ

جمیل الرحمٰن: داستان
ایک وحشی کی طرح
عنوان کو برہنہ کرنے میں مصروف ہے
اور انجانی لذّتیں قطار باندھے
مسہری پر ٹپکتے جرثوموں کی
کلبلاہٹ پر ہنس رہی ہیں

دُکھ

نصیر احمد ناصر: دکھ کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر ہے
زندگی کے ٹریسنگ پیپر پر
دکھ کبھی سیدھی، کبھی آڑی ترچھی
لکیریں بناتا ہے