Categories
فکشن

پستان- چھٹی قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-5
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

بادلوں کی آنکھیں جیسے چھل گئی تھیں، بھل بھل کرتا پانی ہر طرف نظر آرہا تھا۔رات کو ایسا سفید منظر اس علاقے میں عام سی بات تھی۔ہر چیز پانی پانی ہوئی جارہی تھی۔آج صدر کو کسی آواز یا روشنی پر محض اندازہ نہیں لگانا تھا، بلکہ اس دھاڑتی ہوئی حقیقت کا سینہ چیر کر کچ کو تلاش کرنے کے لیے نکلنا تھا۔اس نے ایک ہلکا شرٹ پہنا اور نیکر ڈال کرٹارچ لیے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اترتا چلا گیا۔سیڑھیاں بدنیت زبانوں کی طرح چکنی تھیں، ایک جگہ اس کا پاؤں ہلکا سا پھسل گیا اور وہ سامنے کی دیوار سے ٹکرایا۔یہ پہلی مشکل تھی، دوسرے زینے پر اس کے پاؤں پر کسی کیڑے نے ڈنک مار دیا، وہ بلبلا کر پیر سے چمٹے ہوئے کیڑے کو ہٹانے لگا،بھری برسات میں درد کی شدت سے آنکھوں میں ابھر آنے والےمہین قطروں کی کیا اوقات تھی۔صدر نیچے آیا، ونگ کے باہر بالکل سناٹا تھا، نہ کسی جگنو کی چمک تھی، نہ کسی جھینگر کی آواز بس ایک شائیں شائیں کرتا ہوا تیز دھار دار منظر تھا، جو کنوئیں کی طرح منہ پھاڑ کر صدر کو اپنے اندر اترنے کی دعوت دے رہا تھا۔بالآخر اس نے ٹارچ روشن کی اور اس اندھیرے کنویں میں چھلانگ لگادی،پنڈلی پر ابھرآنے والی ہلکی سی سوجن کا درد غائب ہوگیا تھا، وہ جہاں جہاں سے گزرتا، روشنی ڈال کر ایک ایک چیز کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتا، حالانکہ اتنی برسات میں آنکھ تو کیا سانس کا آزاد رہنا بھی مشکل ہوا جارہا تھا، دو تین بار ہوا نے گویا گلا ہی گھونٹ دیا تھا، اس نے پوری شدت سے منہ کھول کر سانسیں بھریں اور پھر آگے کی جانب بڑھتا گیا،وہ اس درخت کے پاس بھی پہنچا جہاں کچ اسے پہلی مرتبہ نظر آئی تھی، مگر آج وہاں وہ ننگی لڑکی نہیں تھی، بس ننگی شاخیں جھول رہی تھیں۔اسے روشنی میں زمین پر پڑی ہوئی ایک بھوری اور موٹی لکیر نظر آئی،یہ اسی درخت کی ایک شاخ تھی۔پانی سیں سیں کرکے اب اس کے نتھنوں اور کانوں میں گھسنے لگا تھا، اس نے سوچا کہ کچھ دیر کے لیے درخت کے نیچے کھڑا ہوجائے، اس نے بہت سے پتوں سے ڈھکی ہوئی چھت کے نیچے سہارا تو لیا، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا، پتوں کی پیٹھ تربتر ہوچکی تھی اور اب ان کے سینے بھی پانی ٹپکار ہے تھے،برسات کا زور البتہ کچھ کم معلوم ہوتا تھا، مگر ہوائیں اور جھولتی ہوئی شاخیں کسی آسیب زدہ عورت کی طرح ہوں ہوں کرتی آنکھیں پھاڑے اور سر زمین پر دیئے وحشت زدہ کرنے کے لیے کافی تھیں۔

 

صدر نے وہیں سے کئی دفعہ چیخ چیخ کر کچ کو آوازیں دیں۔وہ اسے کہیں بھی دکھائی نہ دی،اس نے درخت کے چاروں طرف گھوم کر دیکھا، مایوسی سے تنے پر ہاتھ رکھا تو پاؤں کا زخم اچانک پھر بول اٹھا، اس نے ٹٹول کر پنڈلی پر ہاتھ لگایا تو سوجن کافی بڑھ گئی تھی، درد بھی تھا، ایسا تیزابی اور گہرا دردسہنے کے لیے کچھ دیرٹھہراؤ کی ضرورت تھی، مگر اس کے پاس وقت نہیں تھا، وہ کچ کو دیوانہ وار ڈھونڈ رہا تھا۔اچانک ایسا کیا ہوگیا تھا کہ وہ کہیں غائب ہوگئی تھی، پھر یکدم اسے ایک خیال آیا کہ کہیں وہ بلڈنگ کی چھت پر تو نہیں چلی گئی، اس نے دونوں ہاتھوں کی آستینوں کو بازؤوں پر کافی دور تک موڑ کر پھر اس بھیانک ، سرد اور سیاہ برسات کے جگر میں چاک لگانے کا ارادہ کیا۔ وہ کچھ دور ہی چلا تھا کہ سینے کا سانس اکھڑنے لگا، سامنے سے اڑتی ہوئی کوئی چیز اس کی آنکھ میں پڑ گئی،اس نے بے اختیار آنکھ پر ہاتھ مارا تو ٹارچ چھوٹ کر زمین پر گری اور لائٹ بجھ گئی۔سخت اندھیرا اور آنکھ میں پناہ لینے والے کیڑے کی پھڑپھڑاہٹ ، پنڈلی کی سوجن اور اکھڑتا ہوا سانس۔صدر نے ہلکی آنکھ کھولی اور کچھ قدم پیچھے کی جانب چلنے لگا،آنکھ سے کیڑا نکل چکا تھا، مگر کھٹک باقی تھی،سانس بحال کرنے کے لیے اس نے زمین پر بیٹھ کر اپنے منہ کو زانوؤں کی چادر میں لپیٹ لیا، پانی اور ہوا کی یلغار کچھ پلوں کے لیے کم ہوئی تو حالت بحال ہوئی مگر پنڈلی جیسے بار بار زہریلے ڈنک کا احساس دلارہی تھی۔وہ کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا، پھر اسے اچانک کچ کا خیال آیا۔ کچ کا خیال آتے ہی ٹارچ کی یاد بھی روشن ہوئی، لیکن دور تک اندھیرا تھا، وہ زمین پر لیٹ گیا اور ہلکے ہلکے اندھوں کی طرح زمین پر ہاتھ مارتے ہوئے آگے بڑھنے لگا، مگر کافی دیر محنت کرنے کے باوجود اس کے ہاتھ کچھ نہ لگا، ایسی سیاہی تھی ،گویا کسی نے پورے منظر پر کالا جادو کررکھا ہو، اس پر ہلتے اور جھومتے درختوں کی لہریں، ہواؤں کا ایک عجیب عفریت زدہ رقص، منظر دور تک بدلنے کے لیے تیار نہیں تھا، اسے لگا جیسے وہ کسی صندوق میں بند کردیا گیا ہے، ہوا اور پانی کے ساتھ، اب کچھ دیر میں اس کی سانس گھٹنے والی ہے، دم نکلنے والا ہے اور چابی کہیں گم ہوچکی ہے۔

 

کچ تو ہاتھ کیا آتی، زندگی ہی ہاتھ سے نکلتی نظر آرہی تھی۔اس خیال کا آنا تھا کہ اس پر ہیجان طاری ہوگیا، وہ زور زور سے کچ کا نام پکارنے لگا، رونے اور دہاڑنے کی آوازیں پانیوں کی دیوار سے سر پٹکنے لگیں مگر کہیں ہلکا سا بھی شگاف پڑتا ہو ا نظر نہ آتا تھا۔پھیپھڑے پھول پھول کر تنگ آرہے تھے، بارش گویا آج کسی سمندر کو بادلوں کی ٹنکیوں میں بھر کر لائی تھی۔کچی، ہلکی اور بالکل بے مزہ سرد بوندیں بدن پر یوں پڑتی تھیں جیسے اپنے بے روح ملبے کے نیچے دفن کرلینا چاہتی ہوں۔صدر پریشان تھا، بدحال تھا اور تقریباً مدہوش بھی، مگر کچ کے خیال کا دامن اس نے ابھی تک اپنے ہاتھوں سے نہیں چھوڑا تھا، وہ اندھیرے میں سرپٹ بھاگنے لگا،اچانک کسی چیز سے اس پیر ٹکرایا اور وہ دھاڑ سے زمین پر گرپڑا۔ یہ کوئی لجلجی سی چیز تھی، اس کے سر پر گہری چوٹ آئی تھی، مگر اس وقت اسے اس بات کا بالکل اندازہ نہ ہوا، اس نے ٹٹول کر اس لجلجی چیز کو دیکھنا چاہا، وہ کوئی مردہ پڑا ہوا جانور تھا جس کے دانتوں پر صدر کی انگلیاں پڑتے ہی اسے اس بات کا اندازہ ہوگیا، اس کی جلد برسات میں بھیگتے بھیگتے گویا گلنے لگی تھی، صدر کا پاؤں اس کے پچکے ہوئے پیٹ سے ٹکرایا تھا،غالباً وہ کوئی کتا ہوگا،مگر اس وقت صدر جانور کی ہیت پر دھیان دینے سے قاصر تھا۔ مشکل یہ تھی کہ اسے اب سمت کا اندازہ نہیں ہورہا تھا، جس بلڈنگ کی جانب سے وہ آیا تھا، وہاں دور تک کوئی سٹریٹ لائٹ بھی آج نہیں جل رہی تھی۔اس کے اپنے گھر کی لائٹ بھی اتنی ڈم تھی کہ اس کا دور سے دکھائی دے پانا شاید ناممکن سی ہی بات ہوتی۔وہ ایک دفعہ پھر اٹھا، اب کے اس کی ٹانگ بالکل جواب دینے لگی تھی، جب اس نے پنجہ زمین پررکھ کر خود کو اوپر اٹھایا تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ پنڈلی کی چپکی ہوئی کھال کو زمین کی کھردری سطح سے الگ کررہا ہو۔وہ پوری شدت سے چیخ پڑا، مگر ہواؤں کو اس کی چیخ سے زیادہ اپنی مستانہ وار آوازوں، اچھل کود اور رقص سے مطلب تھا۔درد سے اس کا پیشاب چھوٹ گیا۔نیکر سے بہتی ہوئی ایک ہلکی گرم دھار زمین پر گررہی تھی ، اس نے دوبارہ خود کو اٹھانا چاہا، مگر وہ ایسا نہ کرسکا۔ اس نے اپنا شرٹ اتارا اور پنڈلی پر کس کے باندھ لیا۔ آنکھوں کے سامنے اب ایک عجیب سی روشنی کتھک کرتی ہوئی محسوس ہورہی تھی، اسے لگا کہ کچھ دور پر کھڑی ہوئی کچ اپنی دو ننگی بانہیں پھیلائے اسے بلا رہی ہے۔اس کے کانپتے ہوئے، کف اگلتے اور کپوئے ہوئے سرد ہونٹوں پر ایک گرم مسکراہٹ آگئی۔ مگر اب صرف کچ نظر آرہی تھی، وہ بالکل عریاں تھی۔

 

دماغ میں عجیب و غریب قسم کی لہریں جگاتی ہوئی نیند دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی، ایک سانپ تھا جو بدن میں ادھر یا ادھر لہراتا ہوا محسوس ہوتا تھا، اٹھنے کی ہمت نہ تھی، چھلے ہوئے گھٹنوں سے ہلکا پھلکا خون چھلک رہا تھا۔پنجے ٹیڑھے ہوئے جارہے تھے اور گلا دبتا ہوا محسوس ہورہا تھا، مگر خوشی کی بات یہ تھی کہ کچ سامنے تھی، بالکل سامنے، اتنی کہ گویا ابھی آگے بڑھ کر اسے چھولے گی۔ وہ بے چارگی سے مسکراتا ہوا کچھ دیر تک اسے دیکھتا رہا، اس نے رینگتے ہوئے خود کو کچ کی جانب دھکیلا،کچ زمین پر بیٹھ گئی، آگے آکر اس نے اپنی بھیگی ہوئی زلفوں سے اس کا چہرہ ڈھانپ دیا، صدر کو محسوس ہوا کہ آج اس کی زلفیں اس عجیب و غریب برساتی اور سیاہ لمحے کی طرح طویل ہوگئی تھیں۔کچ نے اپنی زلفوں کو صدر کے گلے میں لپیٹ دیا اور اس کے پیٹ پر بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا منہ اٹھا کر ٹھنڈے ہونٹوں پر اپنی گرم زبان پھیرنے لگی، صدر کا دبا ہوا پیٹ اور آگے کی جانب اٹھا ہوا سینہ ، دونوں پر نہ جانے کیسے ہتڑ برس رہے تھے،وہ کچھ دیر میں دھام سے اس پر ہلہ بولتے اور ایک پل میں آگے نکل جاتے، ساری رگوں میں جیسے سیسہ بھر دیا گیا تھا، ایک دہکتی ہوئی سلاخ اس کے پورے شریر پر پھرائی جارہی تھی۔کچ کی زلفوں کا گھیرا بھی تنگ ہوتا جارہا تھا، ایک موقع پر تو صدر نے چھٹپٹا کر خود کو زلفوں کے اس گھیرے سے الگ کرنے کی کوشش کی، مگر کچھ نہ ہوا، وہ بے بسی میں زمین پر ہاتھ مارنے لگا، کچ اس کی زبان کو ہلکے ہلکے کتر رہی تھی، جیسے لعاب کے ریشوں کو اپنے حلق کی کترنوں میں سونکنے کا عمل انجام دے رہی ہو۔زمین پر اس کا ہاتھ پڑتا، بوندیں اچھل کر اس کے کرب ناک احتجاج میں شامل ہوتیں مگر زلفوں کے دائرے کی تنگی میں کوئی کمی نہ آتی۔کچ دھیرے دھیرے اپنی نیلی آنکھوں میں بڑھتی ہوئی روشنی کے ساتھ وحشی انداز میں اس کے اندر کی ساری ہوا اور پانی کو اپنے جسم میں اتاررہی تھی۔صدر کا سینہ کانپنے لگا، وہ ہق ہق کی سی آوازیں نکالنے پر مجبور ہوگیا، اس کے گھٹنے اینٹھنے لگے، رانوں کے پٹھوں پر عجیب سی چپک ابھرنے لگی،صدر اس پورے منظر کو دیکھنے کے لیے اپنی وحشت زدہ آنکھوں کو اور پھاڑنے لگا، اس کی آنکھوں میں درد بھی تھا اور حیرت بھی۔کچ اس کے ساتھ کیا کررہی تھی،اچانک کچ اپنے جسم سے باہر نکل آئی، اب وہ ایک نہیں تھی، اس کے تین پیکر تھے، وہ تینوں پیکر صدر کی ٹانگوں، ہونٹوں اور گلے سے چمٹے ہوئے تھے۔صدر کا بدن ہلکا ہوتا جارہا تھا۔یکایک اس کی نگاہوں میں وہ سارے منظر گونجنے لگے، جب اسے جنسی عمل کے دوران کچ کی سانس روکنے اور اسے بھینچنے میں بڑا لطف آتا تھا، جتنی زور سے وہ کچ کی سانس کو اپنے نتھنوں کی مٹھی میں جکڑتا، کچ کی گرفت بستر کی شکن کو اتنی ہی سختی سے بڑھا دیتی، دھیرے دھیرے، بدن کے کپڑے اور بستر کی چادر مٹھیوں، پنجوں، آنکھوں اور نتھنوں کے اس کھیل میں کہیں غائب ہوجاتے۔

 

آوازیں جب گہری ہوتی ہیں تو آس پاس کے سارے منظر ان آوازوں کےسامنے بہت حقیر ہوجاتے ہیں، چیختا ہوا یا سانسیں بھرتا ہوا آدمی کچھ نہیں دیکھ سکتااور وہاں تو ویسے بھی اندھیرا تھا۔صدر بڑا زور لگا کر کچ سے کہنا چاہتا تھا کہ وہ ایسی موت نہیں مرنا چاہتا۔تلاش کی آندھی نے لگورچے کے اس عجیب و غریب کھیل میں صدر کو نشانہ بنالیا تھا۔ وہ تو اپنی کچ کی تلاش میں نکلا تھا، وہ گودے سے بھرے ہوئے ننھے پستانوں والی لڑکی، جس کا چھوٹا سا سینہ اس کے نام کی طرح معصوم اور سنسکرت آمیز تھا۔ایسے شبدوں، حرفوں کی طرح جن کی خوبصورت شبیہیں آنکھوں کے آگے رقص کرتی رہتی ہیں، انجان عورتوں کی طرح، اپنی کمر اور گول، قاب دار پیٹوں پر چپکے ہوئے تلوں سمیت۔کچ لگ بھگ اس کے بدن کا سارا پانی پی چکی تھی، اس بھیگتے ہوئے منظر میں حلق کی کلائیاں رگوں کی گھانس نچوڑ نچوڑ کر پانی کے قطرے تلاش کررہی تھیں۔دہلتا ہوا، ڈولتا ہوا سینہ اچھل اچھل کر خلاؤں سے اپنے حصے کی آخری ہوائیں مانگ رہا تھا، روتا بسورتا، گڑگڑاتا ہوا، مگر آنکھیں پھٹی جارہی تھیں، غلے لگتا تھا کناروں سے بس چھلک ہی پڑیں گے۔اس وقت جنس کی ہلکی سی بھی لذت اس کے بدن پر زندگی کا نشان نہیں پیدا کرسکتی تھی۔وہ مررہا تھا، ڈوب رہا تھا، اداسی کی اس شام کی طرح، جس میں سمندر یا پہاڑوں کی دلدل میں پھنستے ہوئے سورج کو کوئی نہیں بچا سکتا۔خواہ ڈوبتے ڈوبتے اس کی آنکھیں کتنی ہی لال کیوں نہ ہوجائیں، اس کا وجود سن کیوں نہ پڑنے لگے، دائرہ چٹخنے ہی کیوں نہ لگے، شعاعیں ماند کیوں نہ ہونے لگیں۔لیکن صدر سورج کی طرح زمین پر بکھری ہوئی ہواؤں کو کرنوں کو ڈوبتے وقت اپنے بدن میں نہیں بلا سکتا تھا، اس کے وجود سے تو بچی کھچی ہواؤں کے سائے کسی غار سے پھڑپھڑا کر نکلنے والے چمگادڑوں کی طرح بھاگ رہے تھے۔اس نے موت کی پہلی ہچکی بلند کی،وہ ننھی سی آواز جو شکست کی اولین دھمک کی طرح شورمچاتے ہوئے منظر پر غالب آگئی، کچ نے اپنے نکیلے ناخن کو صدر کی ٹانگ میں اگ آنے والے زخم میں گھسا دیا، پلپلی کھال میں ہلکی نیلی اور پیلی روشنی کے ہالوں سے بنا ہوا زخم گندھے ہوئے آٹے کے رنگ کا مواد اگلنے لگا۔جلتی ہوئی کترنوں کی تیز بو اس زخم سے نکلی اور صدر کے بے جان، سرد نتھنوں میں گھس کر یوں منڈرانے لگی، جیسے کھلنڈرے بچے، حویلیوں کی جھڑی ہوئی دیواروں سے سجے دائرے میں گشت لگاتے ہیں۔

 

بارش رفتہ رفتہ کم ہونے لگی، صدر کو دوسری ہچکی آئی، پھر تیسری، اس نے آخری بار جو نظارہ دیکھا تھا، وہ کچ کی روشن اور بڑی بڑی آنکھوں سے جھانکتے ہوئے ایک دبیز قہقہے کی روشنی تھی، جس کی تپتی ہوئی زمین پر صدر کا وجود بے جان ہوکر دھاڑ سے گرپڑا۔
(جاری ہے)
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 11

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دلی ایک شہرہے، اس ٹھکے ہوئے تصور سے بالکل جدا، جس نے اسے آج بھی بہت سے لوگوں کی نظر میں شاہجہاں آباد بنا رکھا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک انگریز نے جن کا نام ڈیوک کناٹ تھا، پرانے شہر کی تزئین کچھ اس طرح کی کہ وہ مغل حکمرانوں کے فصیل دہلی میں بھی ممکن نہ تھی، جو کہ مغلوں کے عہد میں نیا شہر کہلاتا تھا۔پرانی دلی اور نئی دلی کے درمیان قدیم و جدید کی ایک بالکل الگ دیوار کھڑی ہوئی ہے۔پرانی دلی آج بھی اپنے طرز، بود و باش، رہن سہن اور اطوار و رویے میں بالکل اتنی ہی شاہانہ، اکھڑ اور لاابالی ہے، جتنی کہ اقتدار کے دور میں رہی ہوگی۔ایک قدامت کی لہر اس شہر پر اس طرح چھائی ہوئی ہے کہ گولچہ سینما اور اردو بازار سب کچھ مغل عہد کی ہی یادگار معلوم ہوتے ہیں۔غالب نے اپنے خطوط میں لکھا تھا کہ دلی والے اجڑ گئے، اب جو آکر بسے ہیں، وہ دلی کے نہیں ہیں، کوئی کہیں سے آیا، کوئی کہیں سے۔کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑالے کر غدر کے بعد بسائی گئی دہلی میں میرا جانا کم ہوا ہے۔وہاں کے لوگوں میں مہمان نوازی بلا کی ہے، گاہکوں کے تعلق سے یہاں کے دکانداروں کا رویہ نئی دہلی کے لوگوں میں غیر اخلاقی تصور کیا جاتا ہے۔جن چچا کبابی کی داستان آپ اشرف صبوحی کی کتاب’دلی کی چند عجیب ہستیاں’ میں پڑھ چکے ہوں گے، اصولوں کی ایسی ہی بے تکی دکانداریاں آپ کو اس شہر میں دیکھنے کے لیے مل جائیں گی۔نئے زمانے کے اعتبار سے یہاں کسٹمر کیئر کا رجحان نہیں ہے اور اہم اور غیر اہم سبھی قسم کے گاہک ایک ہی طریقے سے ڈیل کیے جاتے ہیں۔

 

پرانی دلی ایک بہت بڑا برگد ہے، جس کے نیچے وقت کا قصہ گو بیٹھا پرانے وقتوں کی داستان سناتا جارہا ہے، مگر وقت تیزی سے بدل رہا ہے
اب میٹرو زمین کا سینہ پھاڑتے ہوئے ان گلیوں تک جاپہنچی ہے، یہاں پرانی طرز کی عمارتوں کے گراؤنڈ فلور زمینوں کی بھرائی کی وجہ سے تہہ خانوں میں تبدیل ہوچلے ہیں، کئی جھر جھر کرتی ہوئی پرانی حویلیاں ہیں، بہت سی توڑ کر نئی طرز کی بلڈنگیں بنائی گئی ہیں، بازو سے بازو چپکائے، رانوں سے رانیں، عمارتوں کی اوبڑ کھابڑ صفیں پرانی دلی کی نئی تہذیب کا اعلامیہ بن گئی ہیں مگر ان میں رہنے والے آج بھی دلی چھ کی پر رونق شاموں کے گواہ ہیں، فیس بک اور ٹوئٹر کے عہد میں فرصت کم ہوگئی ہے، سماجی تعلقات میسنجر اور واٹس ایپ تک چلے آئے ہیں، اس کے باوجود شام کو کسی پنکھا جھلاتے ہوئے سیخ کباب والے کی دوکان پر پڑی چھوٹی سی بینچ، ابھی بھی نوجوانوں کے ٹھلوں، ٹھٹھولیوں اور حقے بازی کا دور گرم رکھتی ہے۔

 

پرانی دلی ایک بہت بڑا برگد ہے، جس کے نیچے وقت کا قصہ گو بیٹھا پرانے وقتوں کی داستان سناتا جارہا ہے، مگر وقت تیزی سے بدل رہا ہے، اس کے چلم نے دھوئیں اور راکھ میں ڈھلتے ڈھلتے، خود کو سارا خرچ کردیا ہے، آنکھیں لال ہیں اور پلکیں بوجھل۔ صبح بھی بہت دور نہیں، مگر خمار تو فی الحال باقی ہی ہے۔میں اس پورے عرصے میں لال قلعہ شاید دو تین بار ہی گیا ہوں۔مجھے لال قلعے سے وحشت ہوتی ہے، وہاں سفید رنگ کی خوبصورت عمارتیں، بیواؤں کا سا لباس پہنے، قدموں سے گھانس کی زنجیر باندھے، کسی قیدی کی طرح سر جھکائے کھڑی رہتی ہیں۔ لمبی لال فصیل تاریخ کی قبر پر بیٹھے ہوئے مجاور کی طرح خلا میں گھورتی رہتی ہے۔وہ حوض، جن میں کبھی دودھ اور شفاف پانی کی لہریں تیرتی ہونگی، اپنے بطن میں جھاڑ جھنکاڑ لیے اداسیوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، وہ بازار جن میں دن کو مرد اور رات کو عورتیں، خواجہ سرا، کنیزیں اور باہر سے آئے تاجر سامان زندگی کو الٹ پلٹ کردیکھتے ہونگے، خور ونوش کے اسباب فراہم کرنے والے، ساز و سنگیت کی دوکانیں لگانے والے، سجاوٹ و بناوٹ کے آلات بیچنے والے، یہ سب میرے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں، مگراب وہاں دو وردی والے سپاہی، ہاتھوں میں بندوق تھامے، کیپ لگائے، سر سے پیر تک ایک گھنے سبز لباس میں گشت لگاتے ہیں۔ان کے قدموں کی ٹاپیں، بھاری بوٹوں کے نیچے کچلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اس خاموش اور چیختے ہوئے منظر میں بس ایک خلا ہے، اور اس خلا میں وہ سارا شور، سارا تکبر، سارے نعرے لاشوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں، جن میں اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کی دھن، دولت کو ذخیرہ کرنے کی لالچ، مذہب کو برتری دلانے کا احساس، وطن کو فخر سے پکارنے کی کوشش اور لوگوں کی آہ و پکار، چیخیں، جنگیں، یلغاریں، دھما چوکڑیاں، جشن، ہنگامے، عورتوں کے قیمتی لباس، جگمگاتے ہوئے فانوس اورحکم کا اشارہ پانے والے غلام سب ایک کے اوپر ایک وحشت سے آنکھیں پھیلائے، ہاتھوں کو متضاد سمتوں میں بکھرائے ہوئے، زبان باہر نکالے بس خاموش لیٹے ہیں، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔

 

سلاطین ہوں یا مغل، اپنے ساتھ کتابیں لے کر ہندوستان میں داخل نہیں ہوئے تھے اور حکومتوں کو وسعت دینے کے لیے کتابوں کی نہیں تیروں، تلواروں کی ضرورت ہی ہوا کرتی تھی، چنانچہ انہوں نے وہی کیا، جو کہ جنگجو قومیں کیا کرتی ہیں۔
مجھے دلی کی جامع مسجد دیکھ کر بھی یہی احساس ہوتا ہے، سب سے پہلے میں اس سے سٹے ہوئے اردو بازار کا ذکر کرنا چاہوں گا، یہاں سے گزرنے والی مین سڑک، عام شہروں کی گلیوں جتنی پتلی ہے۔اس پر سائیکل رکشے، برقعہ پوش عورتیں، روتے بلکتے بچے، آٹو رکشے، کاریں، موٹر سائیکلز، سائیکل اور اسکوٹر، پیدل سوار سبھی گزرتے رہتے ہیں، راتوں کو بھی اس گھٹتی ہوئی نعش زدہ سڑک کو شایدہی سکون ملتا ہو۔ مختلف جگہوں پر کرنسی چینجر، مسافر خانے، چھوٹے موٹے ہوٹل، کتابوں کی کچھ دکانیں۔اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔ان کتابوں کی دکانوں میں بیٹھے ہوئے بوڑھے، بالوں میں مہندی لگائے،ہاتھوں میں کتاب یا اخبار تھامے خاموش رہتے ہیں، گاہک آتے ہیں، اپنی پسند کی کتابیں چھانٹتے ہیں اور لے جاتے ہیں، کئی مسافر کتابوں کے پیکٹ شام تک کے لیے یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ہرحال میں یہ لوگ جو ان دوکانوں پر بیٹھے ہیں، ان گاہکوں کی آؤ بھگت کرنے سے زیادہ اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں ہانکنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ رعایت تقریباً سبھی دوکانوں پر دس فیصد سے زیادہ نہیں دی جاتی ہے۔لیکن ایک دکان بڑی دلچسپ ہے، جہاں جاکر آپ صرف کتابیں ہی نہیں خریدتے، دوکاندار کی گفتگو کا لطف بھی لیتے ہیں، یہ صاحب کتب خانہ انجمن کے ایک کتاب فروش ہیں، قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ تمام اوپری اور ذیلی تصوف کے سلسلوں کو ایسے بیان کرتے ہیں، جیسے ایلیڈ کی نظم سنارہے ہوں، ادبی لطیفوں، قصوں اور واقعات کی ایک لمبی گٹھری ان کے پاس موجود ہے، جو کھلتی ہے تو ایسا مزہ دیتی ہے کہ آدمی بس سنتا چلا جائے،یہاں ہر قسم کے گاہک آتے ہیں۔نو سیکھیے بھی، مدرسہ والے بھی، ادب کے طالب علم بھی۔غیر ملکی سٹوڈنٹس جو اردو سیکھ رہے ہوتے ہیں، سب سے زیادہ انہی کی دکان پر دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ بڑے میاں بھینگے ہیں، مگر نظر بالکل ٹھیک ہے۔پیسہ گننے، چھٹہ دینے کی ایسی مشق ہے کہ ہاتھ بڑی پھرتی سے چلنے کے باوجود ممکن نہیں کہ رتی برابر چوک جائے۔ میرے سامنے کئی گاہک ایسے آئے، جنہیں کتابوں کے نام معلوم نہ تھے، ادھر انہوں نے شاعر کا نام لیا اور ادھر وہ مجموعے گنوانے لگے۔سب لوگ ہنسی اور حیرت کے ملے جلے ماحول میں انہیں دیکھتے ہیں۔کرتاپاجامہ پہنے، لمبی ٹوپی لگائے، ہنستے بولتے سارے کام نمٹاتے رہتے ہیں۔کئی ایک کو ڈانٹتے بھی ہیں کہ یہ کتاب کیوں خریدنا چاہتے ہو، اس سے بہکنے کا اندیشہ ہے، کتاب ہی پڑھنی ہے تو فلاں فلاں پڑھو۔واقعی اب ایسے لوگ ندارد ہوتے جارہے ہیں، یہ بھی پرانے وقتوں کی آخری نشانی کی طرح یہاں بیٹھے ہیں اور ان کی اگلی نسل پرانی دلی میں موجود اس کتاب کو ایک قیمتی پراپرٹی کی نظر سے دیکھ کر بھاؤ لگانے کے لیے تیار ہورہی ہے۔ان موٹے سودوں میں علم کا سودا ماند پڑتا جارہا ہے، نزدیک ہی چمکتا دمکتا کناٹ پلیس ہے، اونچی زرق برق عمارتیں، چکنی سیمنٹی رنگ کی سڑکیں، مہنگی گاڑیاں، نرم لہجے اور تیکھی نظریں۔ایک بادل ہے جو دھیرے دھیرے اس خاکی اور پیلے رنگ کے ملے جلے منظر پر حاوی ہونے کے لیے بلی کے قدموں کی طرح آہستگی سے اس طرف بڑھ رہا ہے، بڑے میاں، ایک دن اچانک گرد بن جائیں گے، دوکانیں، کیفوں میں بدل جائیں گی، سڑک چوڑی ہوگی، موٹے موٹے شکم والے مکانات، پتلی پتلی لمبی عمارتوں کا روپ دھار لیں گے۔تیل کی دھار لٹانے والے باورچی، سفولا کی مہک میں ڈوبتے چلے جائیں گے، ہارٹ اٹیک والوں کی تعداد پھر بھی بڑھ جائے گی اور دل والے یکدم نگاہوں سے غائب ہوجائیں گے۔

 

دلی کی عمارتوں میں مجھے سب سے زیادہ ہمایوں کا مقبرہ پسند ہے۔پرانا قلعہ میں خود صرف ایک ہی بار گیا ہوں اور وہ بھی تب جب ہمارے دوست علی اکبر ناطق یہاں آئے ہوئے تھے۔مجھے یہ قلعہ بہت زیادہ پسند نہیں ہے، کہیں سے کوئی دیوار اپنے آپ اگ آتی ہے، کہیں اوبڑ کھابڑ بڑے بڑے پتھروں پر مشتمل دیوار کا لوہا، دھوپ کو اپنی پیٹھ پر اٹھائے چھاؤں اگلتا رہتا ہے۔ایک طویل و عریض مسجد ہے، جس میں چھت والا حصہ بہت کم ہے۔بہرحال پرانے قلعے سے زیادہ عجیب و غریب مجھے قطب مینار معلوم ہوتا ہے، وہاں بھی میرا زیادہ جانا نہیں ہوا، بس دو یا تین بار گیا ہوں،ایک بہت بڑا مینار، قرآنی آیات کا لباس پہنے ہوئے کھڑا ہے، لال رنگ کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا یہ مینار سلاطین کے عہد کی یادگار ہے۔قطب الدین ایبک سنا ہے کوئی مسجد قوت الاسلام بنانا چاہتے تھے، یہ وہ ارادہ تھا جسے خود خدا نے ہی شاید مسترد کردیا اور شمس الدین التمش کی محنتوں کے باوجود بھی صرف ایک ہی مینار وجود میں آسکا۔قطب مینار مجھے ذاتی طور پر اس لیے پسند نہیں ہے کیونکہ یہاں بہت سے بت آج بھی پتھروں کی سلوں پر سجے ہوئے، پیچھے کی جانب رکھے ہیں، میری ہمدردی ان تمام پتھروں سے زیادہ ہے، کیونکہ یہ میری روح کا حصہ ہیں، اسی مٹی سے اگنے والے دیوتا۔مجھے ہندوستان پر حکومت کرنے والے مسلمان بادشاہوں کی یہ حرکت بہت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ مسجد بنانی ہو تو وہ مندروں کو مسمار کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔قطب مینار، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی شناخت اپنے تعمیری شکوہ سے پوری دنیا میں کرانے کے لیے مشہور ہے، لیکن تاریخ پر اسے میں ایک لمبے، گہرے زخم سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔اس رویے پر مغل دور کے اواخر اور شان اودھ کے طلوع ہوتے ادوار میں بڑی سخت تنقیدکی گئی ہے، جو کہ اس دور کے آرٹ بالخصوص شعر و شاعری میں صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ہندوستان پر چڑھائی کرنے والے زیادہ تر بادشاہ ظالم، جنگجو، فتنہ پرور اور نہایت سنگ دل قسم کے لوگ تھے، جن کا مقصد یہاں کی دولت لوٹنا اور اسے ہتھیانا تھا۔وہ مذہب کی تبلیغ کے لیے یہاں بالکل نہ آئے تھے۔ان کو ہرحال میں یہاں اپنے تسلط کو بربریت اور تلوار کے زور پر قائم رکھنا تھا، جو کہ انہوں نے کیا۔اکبر اس پورے عہد میں وہ پہلا بادشاہ تھا، جس نے ہندوستان کو اپنا گھر سمجھا اور اسے لوٹنے کے بجائے، اس میں سکون سے رہنے کو ترجیح دی۔

 

اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔ا
سلاطین ہوں یا مغل، اپنے ساتھ کتابیں لے کر ہندوستان میں داخل نہیں ہوئے تھے اور حکومتوں کو وسعت دینے کے لیے کتابوں کی نہیں تیروں، تلواروں کی ضرورت ہی ہوا کرتی تھی، چنانچہ انہوں نے وہی کیا، جو کہ جنگجو قومیں کیا کرتی ہیں۔وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے،ہندوستان میں داخل ہوکر یہاں کی مقدس عمارتوں کو گرا کر وہاں اپنے دیوتاؤں کو سجادیتے، جیسا کہ انہوں نے مسجدوں کو تعمیر کرکے اس کا ثبوت دیا۔خون کی نہریں بہہ جائیں، لوگ جل جائیں، کٹ جائیں، مرجائیں لیکن اپنے پاؤں جہاں تک ہوسکیں پھیلا لیے جائیں۔یقینی طور پر پرانے زمانے میں لوگ اسی طرح حکومت کرتے تھے۔مسلمانوں، عیسائیوں ان دونوں قوموں نے یہی طریقہ کار اپنایا اور مذہب کو اپنی توسیع پسندی کا جواز ٹھہرایا، جس کی وجہ سے یہ قاتل اور لٹیرے، اگلی نسلوں کے ہیرو بنتے گئے۔ان تمام معاملات کا تعلق مذہب کی ان متضاد تعلیمات سے بھی ہے، جن میں ایک طرف زمین پر فساد پھیلائے جانے سے روکا جاتا ہے تو دوسری جانب خدا کے دین کو عام کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، اس کی راہ میں لڑنے مرنے کو مستحسن سمجھا جاتا ہے۔یہی وہ ڈھال ہے، جس کا سہارا پہلے جاہل جنگجو قومیں لیا کرتی تھیں، اب دہشت گرد، مولوی ملا اور نام نہاد غازی و شہید لیا کرتے ہیں۔یہ سارے سوال قطب مینار سے گزرتے، وہاں کی زمین پر پھرتے ہوئے ذہن کی سطح پر کیچوے کی طرح رینگنے لگتے ہیں، اس کے برعکس ہمایوں کا مقبرہ مجھے اس لیے پسند ہے، کیونکہ وہ ان کی ایرانی بیگم نے بنوایا تھا۔مغل دور حکومت میں محبت کی یہ عظیم نشانی تاج محل سےپہلے ایک عورت کی جانب سے اپنے شوہر کو دیا جانے والا ایسا تحفہ تھا، جس میں چودہ سال بعد اس کی ہڈیاں نکال کر کہیں اور دفن کرنے کی تدبیر بھی نہیں کی گئی اور ایسی عالیشان عمارت قائم کی گئی، جس نے مغل آرکی ٹیکچر کو ایک نئی سمت اور نئی جہت عطا کی۔تاریخ کے دامن پر ایرانی بیگم کا یہ شاندار بوسہ ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگیا ہے۔ہمایوں کا مقبرہ اسی لیے اب ایک مقبرے سے زیادہ عشاق کی ملاقاتوں اور سرگوشیوں سے گونجتا رہتا ہے۔یہاں قبروں کے نزدیک الجھتی ہوئی گرم سانسیں، دنیا کے اس شور و ہنگامے سے بہت دور، بدن کی دھوپ میں سائیں سائیں کرتی ہیں، جس نے عشق کے لیے دنیاداری، نفرت اور بھاگ دوڑ کے چکر میں خود کو بھی فراموش کررکھا ہے۔کہتے ہیں اسی طرز پر بعد میں اکبر کے نورتنوں میں سے ایک عبدالرحیم خان خاناں کا مقبرہ بھی تعمیر کیا گیا۔یہ مقبرہ بھوگل سے ذرا آگے اور حضرت نظام الدین سے کچھ پہلے آج بھی سڑک کنارے موجود ہے۔برابر میں میلی کچیلی جمنا بہہ رہی ہے، جو شاید ان دنوں آئینے کی طرح چمکتی ہوگی۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے رحیم خان خاناں اچانک دوہے سناتے سناتے یہاں سے دور نکل گئے ہیں، کیا کیجیے ٹریفک دلی میں بہت بڑھ گیا ہے اور ہارن کی چیں چاں، پیں پاں میں فضاؤں کو اتنی مہلت کہاں کہ لفظ کے رقص پر تھاپ دے سکیں۔
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 10

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

طلعت کی شخصیت دو لحاظ سے عجیب تھی، اول تو یہ کہ وہ بہت خوبصورت تھی، کھڑا ناک نقشہ، اونچا قد، پتلی دبلی مگر دلکش جسم کی مالک۔وہ زیادہ تر پاکستانی سوٹ پہنا کرتی تھی،ہلکا چمکتا ہوا لپ گلوز اس کے پتلے ہونٹوں کی رونق بڑھاتا تھا، کمر تک بال، موتی جیسے قطار اندر قطار دانت اور گالوں میں پڑنے والے گڑھے۔اور دوسرے اس کی زندگی اپنی شرطوں پر گزرتی تھی، بتاتی تھی کہ جب وہ بارہ برس کی تھی، تب کسی بات پر ناراض ہوکر اس کے گھروالوں نے اس سے بات کرنی چھوڑ دی تھی، اس کی دو چھوٹی بہنیں فرح اور زرناب ہی اس سے بات کیا کرتی تھیں، کل پانچ ، چھ بہنیں تھیں اور دو بھائی۔ والد کا شاید کوئی پریس تھا، اس کے ایک بھائی سے بعد میں میری دوستی بہت اچھی ہوگئی تھی، ان کو ہم لوگ وسیم بھائی کہا کرتے تھے۔گرافک ڈیزائننگ میں ماہر تھے۔بہرحال طلعت کا قصہ وہاں سے شروع ہواجب اس نے مجھ سے اپنی بہن کی سو غزلوں پر اصلاح کروائی۔میں نے ان غزلوں کی اصللاح کے ہزار روپے لیے اور کام کرکے دے دیا۔طلعت کا پورا نام طلعت انجم تھا اور اس کی سب سے بڑی بہن ، جن کے لیے اس نے یہ کام کروایا تھا، مسرت انجم کہلاتی تھیں۔بعد میں وہ میرے والد سے کسی طور مل گئیں اور ان کی ہی شاگرد بن گئیں۔طلعت پہلے کوچنگ میں پڑھتی رہی، لیکن کچھ وقت بعد اس نے میرے گھر آکر ہی مجھ سے ٹیوشن لینی شروع کردی، فیضان سے بہت کوششوں کے بعد اس کی کوئی بات نہ بن سکی۔میں نے بھی ان سے بات کی تھی، مگر وہ طلعت کے لیے راضی نہ ہوئے، پتہ نہیں کیا وجہ تھی۔۔۔مگر وقت گزرگیا اور طلعت ان کے بہانے سے میرے نزدیک ہوتی گئی۔ہمارے درمیان ایک بہت اچھا تعلق قائم ہوا، وہ دو ڈھائی سال جو اس کے گریجویشن کی تیاری میں گزرے، بہت یادگار رہے۔میں آج ہی کی طرح اس وقت بھی گھر سے کام کرنا زیادہ بہتر سمجھتا تھا، کبھی کبھار کسی پروڈکشن ہاؤس کی سیر کرلی، کچھ کام اٹھالیا، کچھ ٹوٹا پھوٹاترجمہ، کہیں کوئی سی گریڈ فلم یا ٹی وی ڈرامے کی سکرپٹ۔۔یہ سب چلتا رہا، حالانکہ مجھے طلعت اور روشن دونوں کا ذکر ایک ساتھ ہی کر دینا چاہیے، مگر میں الگ الگ ہی ان کو بیان کروں گا۔

 

چھوٹی دنیائیں بہت گہرے تعلقات پر منحصر ہوتی ہیں، ان میں ہر ایک فرد ایک ستون کی طرح ہوتا ہے، یہاں کوئی الگ ہوا، وہاں دھیرے دھیرے تعلقات کی یہ تکون یا چوکور عمارت دھیرے دھیرے ڈہنے لگتی ہے۔
طلعت کی ہستی کسی نابغے سے کم نہ تھی۔اس سے گھر میں کوئی بات نہ کرتا، مگر وہ سب سے بات بھی کرتی، ہنسی مذاق بھی کرتی۔وہ اپنے والد سے بہت پیار کرتی تھی، مگر شاید کوئی ایسی وجہ تھی، جس کی وجہ سے سب اس سے ناراض تھے،میں جاننا چاہتا تھا کہ آخر بارہ برس کی عمر میں کسی لڑکی سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس سے اتنے ناراض ہوجائیں، بہرحال بات کبھی سمجھ میں نہ آسکی۔یہ عقدہ اس لیے بھی نہ کھلا کیونکہ وہ بھی اس سوال کو ہنس کر ٹال جاتی تھی۔میں اگر خود اس کے گھر کا ماحول نہ دیکھتا تو مجھے اس کی بات پر یقین نہ آتا۔تین کمروں اور ایک بڑے سے آنگن پر مشتمل بلیوں اور ایک طوطے کی موجودگی سمیت اس کا گھر بہت خوبصورت تھا، وہ بھی ذاکر نگر میں ہی رہا کرتی تھی۔ایک چھوٹا سا بیگ کندھے سے لٹکائے روز شام چار بجے آجایا کرتی تھی۔اس وقت اس کے پاس فون نہیں تھا، میرے پاس موجود تھا مگر اس کے تعلق سے کسی کام کا نہ تھا۔بہرحال ، ہم زیادہ وقت چھت پر بیٹھے رہا کرتے تھے، سردی ہو یا گرمی، شام چار یا پانچ بجے سے سات آٹھ بج جایا کرتے، ہم بیٹھتے ، ٹہلتے، باتیں کرتے، پڑھتے اور ساتھ ہی اس سے میں عجیب و غریب قصے سنا کرتا تھا۔رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ اس کے اور میرے گھر کے تکلفات قریب قریب ختم ہونے لگے۔اسے پھلوں ولوں کا شوق نہ تھا، البتہ چقندر بہت شوق سے کھایا کرتی تھی۔ایک دفعہ جب اس کی سالگرہ کا موقع تھا تو ہم نے وہ سالگرہ فیضان کی اس چھوٹی سی کوچنگ میں منائی۔وہاں میں نے طلعت پر لکھی ہوئی ایک تحریر پڑھی، اسے تحفے میں ایک کلو چقندر دیے اور پھر کیک شیک کاٹا گیا۔چھوٹی دنیائیں بہت گہرے تعلقات پر منحصر ہوتی ہیں، ان میں ہر ایک فرد ایک ستون کی طرح ہوتا ہے، یہاں کوئی الگ ہوا، وہاں دھیرے دھیرے تعلقات کی یہ تکون یا چوکور عمارت دھیرے دھیرے ڈہنے لگتی ہے۔ میرا،فیضان کا اور اس کا تعلق کچھ ایسا ہی تھا، فیضان خود کو ذرا محتاط رکھتے تھے، مگر ہم اچھے دوست تھے۔ساتھ ہنستے، ساتھ وقت گزارتے اور ساتھ ہی سیر سپاٹا کیا کرتے۔جن شاموں کو وہ میرے ساتھ چھت پر ہوا کرتی، اکثر اس کے بھائی وسیم بھی آجایا کرتے تھے، وہ جب تک میرے ساتھ چوکی پر بیٹھے بات چیت کرتے، چائے پیتے۔طلعت کتاب کو یوں پلٹ پلٹ کر دیکھنے کی ایکٹنگ کرتی ، جیسے سچ میں کتاب سے اس کا گہرا دلی لگاؤ ہو، جبکہ ایسا تھا نہیں۔ان کے آجانے سے اسے بوریت محسوس ہوتی تھی، بعض اوقات وہ ان کی موجودگی میں ہی مجھ سے رخصت بھی طلب کرلیتی تھی۔اس کے پاس دو بڑی بڑی آنکھوں کی ایسی زبان تھی کہ اکثر شام کو میں اسے کہا کرتا کہ یہ آنکھیں نہ دکھایا کرو، خوف آتا ہے۔وہ چھوٹی سی چھت، ہمارے لیے کسی بہت بڑے سر سبز میدان سے کم نہ تھی، وہاں ہم ٹپکتی اوس، دہکتی گرمی اور برستی بوندوں میں کئی بار گشت لگاتے اور باتیں کرتے۔باتیں کیا تھیں، اس کے روز مرہ کے تجربات تھے، کبھی کسی مہمان کا ذکر، کبھی کسی دوست کا قصہ۔ عام طور پر جس علاقے میں ہم لوگ رہتے ہیں، وہاں کی لڑکیوں کا دلچسپ موضوع بگڑیل لڑکے ہوا کرتے ہیں۔طلعت بھی اس موضوع پر بہت اچھی طرح باتیں کرنا جانتی تھی۔لیکن اس کے سبھاؤ سے مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ اسے چھیڑے جانے سے کوئی خاص دکھ یا الرجی ہو۔جن دنوں وہ کالج جایا کرتی تھی، اس کو کسی افغان لڑکے سے محبت ہوگئی تھی۔بڑا عجیب سا ہی نام تھا اس کا جو اب یاد نہیں رہا ہے۔طلعت کہتی تھی کہ وہ اس کو بہت پسند کرتی تھی اور اس کے ساتھ افغانستان جانے کا ارادہ باندھ رہی تھی۔میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ ایک لڑکا، جسے ابھی تم ٹھیک سے جانتی بھی نہیں ہو، اس کے ساتھ افغانستان چلی جاؤ گی، یہاں تمہارے گھر والے، رشتہ دار، پاس پڑوس والے، دوست احباب کیا سوچیں گے۔مگر وہ سوچنے وچارنے کے معاملے میں ذرا کنجوس تھی۔اس نے ٹھانا ہوا تھا کہ وہ اس لڑکے کے ساتھ ایک روز چلی جائے گی۔میں نے اسے مشورہ دیا کہ گھر پر بات کرلو، کہنے لگی کہ گھر پر بات نہیں کی جاسکتی، میں نے وجہ پوچھی تو اس نے پورا قصہ بتایا۔یہ افغانی لڑکا پہلے اس کی زندگی میں رہ چکا تھا، اتفاق سے گھروالوں کو اس تعلق کی خبر ہوئی اور ایک دن طلعت کے بھائیوں نے اس پر بڑی سختی کی۔لڑکا خطرہ بھانپ چکا تھا، اس لیے کچھ روز میں غائب ہوگیا۔ اب وہ دو تین سال بعد واپس آیا تھا اور طلعت کے ساتھ شادی کے وعدے کررہا تھا۔ایک روز طلعت میرے پاس آئی، اس نے بتایا کہ وہ اب اس افغانی لڑکے سے کبھی نہیں ملے گی، میں نے پوچھا بات کیا ہے، وہ اس روز فیروزی رنگ کی گھٹنوں تک پھیلی ہوئی قمیص اور چوڑی دار پاجامے میں تھی۔مگر کسی واقعے کے اثر سے اس کی آنکھیں بھی زہریلی دکھائی دیتی تھیں، اس نے بتایا کہ اس لڑکے نے آج اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی کوشش کی۔طلعت ، ان لڑکیوں میں تھی، جو بغاوت کو اپنا حق سمجھتی ہیں، محبت پر یقین کرتی ہیں اور کسی چھوٹے سے بچے کی طرح پوری دنیا کو ایک گھر اور ایک رشتہ میں بندھا ہوا محسوس کرتی ہیں۔مگر ان لڑکیوں کی نازک خیالیوں کو ٹھیس لگانے کے لیے بہت سے لڑکے کانٹا بچھائے بیٹھے رہتے ہیں،طلعت کی زندگی میں بھی ایسے لڑکے اس کے محلے سے لے کر افغانستان تک موجود تھے۔میں نے اسے کچھ سمجھایا نہیں، اچھا ہوا کہ اسے خود عقل آگئی تھی۔لیکن مجھے طلعت کی یہ بات پسند تھی کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند دونوں کو بہت صاف طور پر ظاہر کرتی تھی، اس کے اندر کوئی لاگ لپیٹ نہیں تھی۔فلموں، گانوں، رنگوں اور چڑیوں کی شوقین تھی۔اس کی خود کی بولی بہت میٹھی تھی، جب بات کرتی تو آنکھیں اور ہاتھ بھی ساتھ میں ناچا کرتے۔

 

جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں
ایک دفعہ اس نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ خریداری کرنے کے لیے جارہی تھی، شام کا وقت تھا، اچانک کوئی لڑکا راستے میں اس کی کمر سے باقاعدہ ہاتھ چھواتا ہوا گزر گیا۔وہ یہ بتاتے ہوئے ہنسنے لگی، اس دن وہ بے تحاشہ ہنسی۔ میں نے کہا کہ تمہیں اس واقعے پر ہنسی آرہی ہے، جبکہ یہ تو غصہ کا مقام ہے۔اس نے کوئی صراحت تو نہیں پیش کی، مگر ہنستی ضرور رہی۔پانی اس کا من پسند مشروب تھا۔ ایک دفعہ بوتل کو منہ لگاتی تو آدھے سے زیادہ پیے بغیر لبوں کے پرندوں کو آزاد نہ کرتی۔طبیعت ایسی آزاد کہ کسی دوست کی کار میں جابیٹھے، کسی کو طمانچہ لگادیا۔کسی سے گلے مل لیے اور کسی کو ایک نظر تک دیکھنا گوارا نہ کیا۔طلعت کے ساتھ گزرے ہوئے وقت میں ذاکر نگر کی بارہ نمبر گلی والی وہ چھت برابر کی حصہ دار رہی، جو ہمارے رشتے کے بننے، ارتقا پانے، روبہ زوال ہونے اور پھر قریب قریب ٹوٹنے کی گواہ تھی۔آج بھی وہ علاقوں کے لحاظ سے بہت دور نہیں، مگر اب میری زندگی کی چھت پر اس کی پرچھائی بھی موجود نہیں۔وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ اسے بہت اچھا ڈانس آتا ہے، مگر کبھی اس نے مجھے وہ ڈانس نہیں دکھایا۔جذباتی لڑکی تھی،ہنستی تو ہنستی چلی جاتی، رونے پہ آتی تو پلکوں کے کونوں پر جمے ہوئے قطروں کو گھنٹوں انگلیوں سے چھیڑتی رہتی۔اسے سب سے زیادہ مزہ تب آتا تھا، جب میں اس سے اسلامی تاریخ ، سماجیات یا پھر سیاسیات کے حوالے سے سوالات کرتا۔وہ جواب دیتی، مسکراتی ، اپنی غلطی بھانپتی اور پھر ہاتھ سے اشارہ کرکے، دوبارہ سوچنے لگتی۔پاس تو وہ گریجویشن میں ہوگئی تھی، مگر اس کی پڑھائی ، ایک طور پر صرف آزادی سے اس کا ایک اٹوٹ تعلق بنے رہنے کا بہانہ تھا۔گھر پر بہت سے لوگ تھے، مگر لوگ اسے جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں، یعنی ایک خاص وقت پر اس میں داخل ہوکر اپنی مرضی کا کھانا آرڈر کرو، مزے سے کھاؤ اور پھر بل چکا کر چلتے بنو۔طلعت پر میں نے اس زمانے میں کچھ نظمیں لکھی تھیں’ پھول چہرہ’، ‘گل اندام ‘ وغیرہ وغیرہ ۔ اس نے وہ نظمیں مکمل یاد کرلی تھیں۔میں جب اس کے قریب تھا تو بہت سادگی پسند اور کچے جذبوں والا ایک نوجوان تھا، جسے فلرٹ کرنے کا ہنر بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا۔ڈھیلے ڈھالے شرٹ پہنا کرتا، فارمل پینٹس ۔میں پینٹ میں شرٹ کو کبھی اڑستا نہ تھا بلکہ ڈھیلا چھوڑ دیتا، کالے اوردبلے بدن پر یہ ڈھیلے کپڑے بہت عجیب نقش پیدا کرتے تھے، مگر طلعت کو ان سب سے سروکار نہیں تھا۔وہ مجھ سے پانچ روپے بھی اگر کبھی خود پر مجبوری میں خرچ کروالیتی تو مجھے واپس لوٹایا کرتی تھی۔ایک وقت پہ جاکر میں نے اس سے ٹیوشن فیس لینا بند کردی ،اس کی وجہ ہمارا گہرا تعلق تھا۔

 

سردی کی ایک شام ہم چھت پر بیٹھے تھے، میں کرسی پر تھا اور وہ پائری سے ٹیک لگائے، آگے نکلی ہوئی اینٹوں پر بیٹھی تھی۔ہم اکثر وہاں بیٹھتے تھے، شام کا دھندلکا تھا۔آس پاس کی چھتیں ویران تھیں،اس کا سینہ زیادہ بھرا ہوا نہ تھا، دو چھوٹی گولیاں تھیں اور وہ بھی اتنی اندر کہ بس اتنا حصہ سپاٹ معلوم ہوتا۔اس وجہ سے اس کی گردن کا حصہ نیچے اتر کر کسی دھوپ میں سوئے ہوئے صحرا کی مانند پھیل گیا تھا۔طلعت اس پر اپنی مخروطی انگلیاں پھیر رہی تھی۔میں اسے دیکھنے لگا، اس روز بس اس نے میرا ہاتھ بغیر کچھ کہے، اس شفاف حصے پر رکھ دیا، وہ حصہ بہت گرم تھا، میں اندر سے کچھ گھبرا گیا تھا، بات کچھ بھی نہ تھی، طلعت شاید اس روز یہی بتارہی تھی کہ اس کا بدن عام لوگوں سے زیادہ گرم رہا کرتا ہے۔مگر اس کے بعد ہم اکثر بات کرتے میں ایک دوسرے سے انگلیاں الجھا لیتے، پاؤں لڑاتے اور ایک دفعہ جب وہ کسی بات پر آبدیدہ ہوئی تو سرد اندھیرے کی گیلی چادر کے اندر میں نے بڑی خموشی سے اسے گلے لگالیا۔وہ بس ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان چمک چمک کر ماند ہوجانے والے جگنوؤں جیسے لمحے تھے، جو بہت اضطراری اور جلد باز تھے۔آئے، گزر گئے ۔نہ ان میں کچھ ہوسکتا تھا، نہ ہوا، ہم نے تو کبھی سانسوں کی ڈوریں بھی الجھانے کا خود کو موقع نہ دیا۔شاید میں اس وقت ان سب باتوں سے بہت خوفزدہ رہتا تھا۔اخلاقیات کا بھی بے حد قائل تھا اور ہمت کے لحاظ سے بھی بے حد کمزور۔ ورنہ وہ لمحے دھندلی گلابیوں میں اترے ہوئے پانیوں جتنے حسین تو تھے ہی، بس انہیں لبوں تک لانے کی توفیق نہ ہوئی۔لیکن اچھا ہی ہوا۔اگر ایسا ہوتا تو آج بھی اپنی تمام بے باکیوں کے باوجود مجھے اس بات پر افسوس ہی ہوتا۔وہ میری بہت اچھی دوست تھی اور مجھ پر اس کا بھروسہ بھی بلا کا تھا۔ہمارے درمیان کوئی ایسا جذبہ بھی نہ تھا، جو بعد میں اس وقتی یا فطری جذباتیت کوJustify کرنے کا بہانہ بن سکتا۔چنانچہ جو ہوا ، اچھا ہوا۔

 

محبت کے اس خوبصورت دورانیے میں سب کچھ ٹھیک تھا، ندیم بھی میری بہت عزت کرتا تھا، مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔مگر میرے ہی اندر رقابت کا جذبہ پیدا ہونے لگا
طلعت کی شادی، فیضان کے ہی ایک دوست ندیم سے ہوئی ہے۔اب ان دونوں کے دو بچے بھی ہیں۔ندیم کی اس سے پہلی ملاقات میرے ہی گھر پر ہوئی تھی۔وہ ندیم سے کیا ملی، دنیا سے بیگانہ ہوگئی،اس نے رفتہ رفتہ سب کو نظر انداز کردیا۔کہانی میں ایک موڑ بڑا دلچسپ تھا، طلعت جتنی عجیب و غریب تھی، ندیم بھی ویسا ہونق و اجبق آدمی نکلا۔ فیضان نے ایک روز مجھے بتایا کہ ندیم اور طلعت فلم اکیلے دیکھنے جانا چاہتے ہیں اور ندیم، طلعت کو سرپرائز دینا چاہتا ہے، اس کے لیے پہلی دفعہ اس نے دو ٹکٹ خریدے ہیں، لیکن بھری ہوئی قطار میں کارنر سیٹ طلب کرنے کی شرمندگی اس کے چہرے پر صاف دیکھی جاسکتی تھی، اس محنت کا فائدہ بھی کچھ خاص نہ ہوا کیونکہ طلعت دوسرے روز کسی وجہ سے اس کے ساتھ فلم کے لیے نہ جاسکی، اس روز ہم نے ندیم کا بہت مذاق اڑایا۔ اسی طرح ندیم کو معلوم تھا کہ طلعت اپنے گھر پر رات کو فون پر بات نہیں کرسکتی، پھر بھی اس نے طلعت کو ایک فون گفٹ کیا، سم دلوائی اور رات کو وہ اس طرح بات کرتے کہ طلعت اپنی بہنوں کے بیچ لیٹی، چادر میں دبکی کان پر فون لگائے رہتی اور ندیم اس طرف سے لگاتار بولے جاتا، دو طرفہ محبت میں ایک طرفہ کنورسیشن کی یہ سروس کئی دفعہ طلعت کے اچانک سوجانے سے متاثر ہوچکی تھی۔ندیم ہماراگہرا دوست بنا۔ اور آج بھی ہے۔ہم نے کئی فلمیں ساتھ میں دیکھیں، شامیں ساتھ میں گزاریں اور وقت کے سطح مرتفعی علاقوں کی سیر کرتے وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا۔اکثر یہ ہوتا کہ میں اور فیضان ، ندیم اور طلعت کو، ہمارے متوقع بہنوئی کی عدم موجودگی میں ، ان کے گھر پر چھوڑ کر باہر سے تالا لگا دیتے اور کہیں گھومنے چلے جاتے۔دو چار گھنٹے، ادھر ادھر گزارنے کے بعد واپس آتے۔

 

محبت کے اس خوبصورت دورانیے میں سب کچھ ٹھیک تھا، ندیم بھی میری بہت عزت کرتا تھا، مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔مگر میرے ہی اندر رقابت کا جذبہ پیدا ہونے لگا، مجھے فکر ہونے لگی کہ اگر طلعت کی شادی ہوگئی تو اتنا اچھا وقت جو میں اس کے ساتھ گزارتا ہوں، ایک دم سے ختم ہوجائے گا اور کہانی رک جائے گی۔اس جلن میں میں نے ایک روز طلعت کی بڑی بہن مسرت انجم کو یہ بتادیا کہ طلعت جس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے وہ میرا دوست ہے، اور یہ دونوں شادی کے لیے کبھی بھی فرار ہوسکتے ہیں۔میں یہ بات وسیم بھائی تک کسی ذریعے سے پہنچانا چاہتا تھا ، مجھے یقین تھا کہ اگر بات وہاں تک پہنچ گئی تو ان دونوں کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔۔وہ کوئی عشقیہ رقابت نہ تھی، بس میں وقت کو روکنا چاہتا تھا، جبکہ مجھے اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ میں جس وقت کو روکنا چاہ رہا ہوں، وہ واقعی گزر چکا ہے اور طلعت کی شامیں اب کسی اور کی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں، وہ ٹیوشن کم آنے لگی تھی، اس بات پر ایک دو بار ہمارا جھگڑا بھی ہوا۔۔مجھے حیرت تب ہوئی، جب اس طرف شادی کے سارے انتظامات ہونے کے باجود طلعت کے گھرمیں کوئی ہلچل ہی نہ دکھائی دی۔طلعت نے ٹیوشن چھوڑ دی تھی، ہماری کبھی کبھار فون پر بات ہوجاتی۔پھر ایک دن جب میں ایک اداکارہ کے ساتھ کناٹ پلیس میں کہیں بیٹھا ہوا تھا تو طلعت کا فون آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ ندیم اور وہ دونوں دلی چھوڑ کر جارہے ہیں۔سب کچھ اتنا اچانک تھا کہ میں کچھ نہ کرسکا۔ مگر اس رات مجھے وسیم بھائی کے ساتھ بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑی، ندیم کے گھروالوں اور ان کے گھروالوں کے درمیان میں کسی پسو کی طرح دبکا ہوا ساری باتیں سنتا رہا۔وہ دونوں کہاں تھے، اس کی کسی کو خبر نہیں تھی۔طلعت نے اپنے بندھے ہوئے لبوں کے پرندے کو بالآخر پوری طرح آزاد کردیا تھا، رات کے ڈھائی بجے وسیم بھائی نے مجھے میرے گھر ڈراپ کیا اور میں یہ سوچتا ہوا گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ آخر مسرت نے اپنے گھروالوں کو کچھ بتایا کیوں نہیں۔۔۔مگر اب اس پورے قصے پر سوائے ایک روکھی ہنسی ہنس دینے کے علاوہ میرے پاس اور کیا چارہ تھا۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی طلبہ کے نام ایک خط

آداب!

 

میرا نام تصنیف حیدر ہے، میں بھارت کے شہر دہلی میں رہتا ہوں۔ آپ سے بات کرنے کا میرا مقصد محض اتنا ہے کہ مجھے اپنی ایک پاکستانی دوست کی بدولت یہ باتیں معلوم ہوئی ہیں کہ آپ کے کچھ اساتذہ میرے ملک کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور خصوصی طور پر ‘ہندوقوم’ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔میں نے خیال کیا کہ بطور ایک بھارتی شہری اگر میں آپ سے مخاطب ہوکر آپ کی کچھ غلط فہمیاں دور کرسکوں تو شاید اپنے ملک سے کی جانے والی ایک بلاسبب کی نفرت کو کچھ حد تک دور کرنے میں کامیاب ہوجاؤں۔میں جانتا ہوں کہ میں ایک ایسے وقت میں آپ سے مخاطب ہوں، جب ہند و پاک میں نفرت کی سیاست گرم ہے۔اور اس گرم بازاری میں محبت کی آواز کو نہایت شک، خوف اور اندیشے کی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے، پھر بھی میں یہ جوکھم اٹھانے کو تیار ہوں، اگر آپ میری بات ٹھنڈے دل سے سنیں اور اپنے کانوں کے ساتھ ساتھ اس خط کو پڑھتے ہوئے دماغ کا ایک بڑا حصہ بھی کھلا رکھیں۔

 

بھارت میں پاکستان سے بھی زیادہ مسلمان رہتے ہیں اور ان کے ہندوؤں سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ان تعلقات کی نوعیت کاروباری بھی ہے، گھریلو بھی، دوستانہ بھی اور معاندانہ بھی۔مگر تعلقات بہرحال ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔
میں آپ کو یہ خط کبھی نہ لکھتا اگر میری دوست مجھے یہ نہ بتاتی کہ کراچی یونیورسٹی میں موجودہ دور کی ایک استانی بچوں کو یہ بتارہی ہیں کہ اجنتا ایلورہ کے غاروں میں بنائے جانے والی پینٹنگز اور مجسمے مسلمانوں نے تعمیر کیے ہیں۔جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے ہنسی نہیں آئی، کیونکہ میں بطور آپ کے ایک ہمدرد پڑوسی کے، آپ کو یہ بتانا اور باور کرانا چاہتا ہوں کہ نفرت انسان کی عقل کو ماؤف کردیتی ہے، اسے بہت حد تک اندھا بنادیتی ہے۔موصوفہ کو اپنی بات کہتے وقت یہ خیال بھی نہ رہا کہ ہندوستان کے قدیم غاروں میں موجود مجسموں کا کریڈٹ مسلمانوں کو دیتے وقت وہ یہ سوچیں کہ اسلام میں تصویر بنانا، مجسمے بنانا قطعی طور پر حرام مانا جاتا ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی جاننا گوارا نہ کیا کہ دوسو قبل مسیح سے ساتویں صدی عیسوی تک تعمیر ہونے والے یہ مختلف مجسمے جو پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں، دراصل بودھ، جین اور ہندو تمدن کے بہترین نمونے ہیں، جن میں سماجی کاموں سے لے کر جنسی افعال تک کو نمایاں کیا گیا ہے۔بہرحال غلطی ان کی نہیں ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب نفرت کی سیاست اپنا کام کرتی ہے تو لوگ اسی طرح بغیر سوچے سمجھے ہر اس سائے پر حملہ کرنا شروع کردیتے ہیں، جسے وہ ذرا سی روشنی کی پیداوار سمجھتے ہوں۔میرے ملک میں بھی نفرت کا کاروبار کرنے والے ایسے لوگ ہیں، مگر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کی تعلیم اس نفرت پروری اور مسلمانوں پر کسی بھی قسم کی بازی لے جانے کے لیے راستے نہیں تلاش کرتی ہے۔ہندوؤں کے تعلق سے آپ کی حکومت، آپ کے اساتذہ ، آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ بھارت میں پاکستان سے بھی زیادہ مسلمان رہتے ہیں اور ان کے ہندوؤں سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ان تعلقات کی نوعیت کاروباری بھی ہے، گھریلو بھی، دوستانہ بھی اور معاندانہ بھی۔مگر تعلقات بہرحال ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔کبھی کبھی چھوٹے شہروں، گاؤوں میں کچھ فسادات ہوجاتے ہیں، مگر ان فسادات کا ہوپانا بس سیاسی جوڑ توڑ کا نتیجہ سمجھ لیجیے، اس میں ہندو مسلم نفرت کام نہیں کرتی ہے۔نہ ہندو مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، نہ مسلمان ہندوؤں کو۔

 

اگر آپ فیس بک پر پاکستان اور مسلمانوں کے تعلق سے لکھے گئے کچھ غیر مسلموں کے کمنٹس دیکھ کر دل برداشتہ ہوتے ہیں تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔بھارت کی آبادی تقریباً ایک ارب تیس کروڑ سے زائد ہے، قریب انتیس ریاستوں میں بٹے ہوئے اس ملک کی زمینوں، جغرافیائی حالات، زبانوں، تہذیبوں سب میں اس قدر امتیاز موجود ہے کہ بھارت کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہی اس سوشل میڈیا کی پھیلائی ہوئی نفرت کا شکار ہوا ہے، یہاں ایسے بہت سے پڑھے لکھے، بہادر اور نڈر ہندو ہیں جو صرف مسلمانوں کے ہی نہیں، تمام اقلیتوں کے لیے لڑتے ہیں، ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔اپنے ہی ملک کے کیا ہندوستان میں تمام دنیا کے لوگوں سے محبت کرنے والے ، ان کو انسان سمجھنے والے، ان کی قدر کرنے والے بے انتہا دل موجود ہیں۔عراق اور شام کے لیے کام کرنے والی سکھ این جی اوز ہیں، جنہوں نے اپنی جانب سے نہ جانے شام کے کتنے بچوں اور بڑوں کے کھانے، سونے اور ٹھیک سے رہنے کے انتظامات کیے ہیں۔دنیا بھر کی دقتیں اٹھا کر ان کے والنٹیرز نے یورپ کی سرحدوں پر پہنچ کر ان رفیوجیز کی مدد کی ہے۔اس لیے اگر کوئی آپ سے کسی شخص کی برائی اس واسطے سے کرتا ہے کہ وہ غیر مسلم ہے، تو اس کی بات نہ سنیے گا۔دلوں کے حال جاننے والا خدا ہے، خدا اگر چاہتا تو سب کو براہ راست اسلام پر ہی پیدا کرسکتا تھا۔لیکن مذہب اسلام زبردستی کا پیغام نہیں ہے، دین کا خیال، مذہب کا پرچار کسی پر تھوپا نہیں جاسکتا اور اس کے اپنانے یا نہ اپنانے سے کوئی بھی شخص اچھا یا برا نہیں ہوجاتا، یہ تو خدا کے ساتھ انسان کا معاملہ ہے، جس کی پوچھ تاچھ ہوئی بھی تو مرنے کے بعد ہوگی، بندے اور خدا کے درمیان موجود اس معاملے کو بنیاد بنا کر لوگوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا یا انہیں دور کرنے کی کوشش کرنا، ان کے بیچ نفرت پیدا کرنا ایک بہت ہی بری بات ہے، جس کی مذمت ہونی چاہیے، جس کو کبھی ماننا نہیں چاہیے۔تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے دل گیلےسیمنٹ کی تختی جیسے ہوتے ہیں، ان پر اگر کوئی نام لکھ دیا جائے، کوئی ناخن گڑو دیا جائے تو اس کا اثر زندگی بھر قائم رہتا ہے۔اس لیے اگر آپ کی اس چھوٹی سی تختی پر کوئی نفرت کو گڑونے یا گاڑنے کی کوشش کررہا ہو تو اسے روکیے۔دل ایک اچھا مقام ہے، ایک ایسا مقام جہاں خدا رہتا ہے، اور جہاں خدا رہتا ہے ، وہاں نفرت کا کوئی کام نہیں۔خدا اپنے سب بندوں سے محبت کرتا ہے، اگر نہ کرتا تو اس کے ہاتھ میں تو سب کچھ ہے، وہ لوگوں کا کھانا بند کرسکتا تھا، پانی بند کرسکتا تھا، ہزاروں ، لاکھوں لوگوں کو ایک ساتھ بیمار کرسکتا تھا، ان کے دماغوں کو لقوہ لگا سکتا تھا، لیکن اگر اس نے ایسا نہیں کیا ہے اور دنیا میں ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی یہ تمام قومیں مستقل ترقی کررہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ خدا ان سے ناراض نہیں ہے، وہ اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھارہے ہیں۔مجھے میری دوست نے یہ بھی بتایا کہ وہی استانی صاحبہ کہتی ہیں کہ قرآن و حدیث میں لکھا ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم سے دوستی کرلو مگر ہندوئوں سے نہ کرو۔

 

یہاں ایسے بہت سے پڑھے لکھے، بہادر اور نڈر ہندو ہیں جو صرف مسلمانوں کے ہی نہیں، تمام اقلیتوں کے لیے لڑتے ہیں، ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔
عجیب لوگ ہیں، جو آپ کو غلط باتیں بتارہے ہیں اور آپ کےیہاں کی انتظامیہ اور حکومت ان کے اوپر بچوں کا مستقبل برباد کرنے کے عوض کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ہندوئوں کا ذکر نہ تو قرآن میں ہے اور نہ احادیث میں۔عرب میں جب اسلام آیا تو ہندو وہاں بہت کم تعداد میں آباد تھے، عرب اور ہندوستان کی تجارت کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ہندوستان عربوں کے لیے ہمیشہ سے مسالوں کی ایک بڑی منڈی رہا تھا، مگر ان کے رسوم و رواج سے عرب کے عام لوگ، وہاں کے رہین و مکین زیادہ تر ناآشنا تھے۔ہندوستان ایک بہت پرانا ملک ہے،یہی وہ خطہ ہے، جس پر آج بہت سے دوسرے ملک بھی آباد ہوگئے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کو الگ ہوئے قریب ستر برس گزر چکے ہیں، لیکن کبھی ایک ہی ملک کہلانے والے یہ دو ممالک آج ایک دوسرے کو خوف اور شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ایسا اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ہم نے اپنی حکومتوں پر بھروسہ کیا۔ہم نے سوچا کہ وہ ہماری بھوک، ہماری غریبی اور ہماری ناخواندگی کو کم کریں گی، مٹائیں گی۔ مگر اس کے بجائے انہوں نے ہمیں نفرت کی جلتی ہوئی آندھیوں میں چھوڑ دیا۔اس سے ان کا ایک فائدہ ہوتا ہے، فائدہ یہ ہے کہ جب ہم انہیں بھوکے پیٹ دکھاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں، دیکھو دیکھو، پڑوسی ملک تمہاری پیٹھ پر وار کررہا ہے۔جب ہم ان سے غریبی کا رونا روتے ہیں، تب بھی وہ ہمارے ساتھ یہی کھیل کھیلتے ہیں۔اس معاملے کو اتنی ہوا مل گئی ہے کہ ہم اپنے پیٹ کو بھول چکے ہیں ، بس ہمیں اپنی پیٹھ ہی یاد رہ گئی ہے۔یاد رکھیے! اول تو کوئی مذہب اس نیت سے ہی نہیں آیا تھا کہ دنیا میں نفرت پھیلائے، مگر لوگوں نے خدا کے پیغامات کو بھی کاروبار میں بدل دیا۔آپ سوچیے، خود غور کیجیے کہ جو قرآن انسان کی قدر کرنے پر آمادہ کرے، زمین پر فساد پھیلانے سے منع کرے اور لوگوں کو زمین میں چلنے پھرنے اور اس پر موجود چیزوں پر غور کرنے کی دعوت دے، وہ قتل و غارت گری اور نفرت کو کیسے پناہ دے سکتا ہے۔جس مذہب نے اپنے لیے سلامتی کا نام چنا ہو، اس کے نام پر آپ کو جنگ و جدال، لڑائی بھڑائی، نفرت اور جلن کا پاٹھ پڑھایا جارہا ہے۔اس لیے اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے ٹیچرز سے سوال کریں کہ تاریخ میں جو ہوا سو ہوا۔ مگر مستقبل کو کیوں بھیانک بنایاجارہا ہے۔تاریخ کو ہم نہیں بدل سکتے، خواہ وہ کتنی ہی خطرناک، بری اور غلیظ کیوں نہ ہو، لیکن ہم آنے والے کل کو بدل سکتے ہیں۔

 

ہماری حکومتیں جمہوری ہیں، مگر وہ ہمیں بے وقوف بناتی آئی ہیں، مگر جب یہی کام ہمارے اسکول کرنے لگیں گے تو دنیا ہم پر ہنسے گی۔پڑوس کا ہندو آپ کا دشمن بنایا جارہا ہے، اور دور دیس کا عرب آپ کا بھائی۔یہ ایک غلط رویہ ہے، جسے دور کرنے، توڑنے اور کمزور کرنے کی ضرورت ہے۔آج یہ آپ کو نفرت سکھائیں گے، کل آپ کے ہاتھ میں بندوق تھمادیں گے۔ان کا کچھ نہ جائے گا، یہ گھروں میں بیٹھے رہیں گے، یونہی کسی اگلی جماعت کے سامنے بھارت اور ہندوؤں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے ، مگر آپ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، آپ کے والدین جنہوں نے بڑی محبت سے آپ کو پالا پوسا ہے،جنہوں نے آپ کی صورت میں ایک بہتر مستقبل اور خوبصورت دنیا کا خواب سجایا ہے، وہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔نفرت ہم پر تھوپی جائے اور ہم اسے قبول کرلیں تو یہ ہماری بے وقوفی ہے۔ہماری اندھی تقلید، ہمیں اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
بطور بھارتی شہری ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ملک ایک ایسی جگہ ہے، جہاں پوری دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ محفوظ اور سب سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں۔جن فسادات کا ذکر کرکے آپ کو ورغلایا اور بہکایا جاتا ہے، وہ کئی برسوں میں جاکر ہوتے ہیں، اچھا، اتنا بڑا ملک ہے۔ایک گھر میں جب کئی افراد رہتے ہیں، ان کی سوچ، سمجھ ، زبان، بیان الگ نہ ہو تب بھی ان میں جھڑپیں ہوجاتی ہیں، یہ تو ایک ملک کا معاملہ ہے، لیکن یہ اتنا اندرونی معاملہ ہے کہ اس سے کسی مسلمان کی اپنے وطن سے محبت کم نہیں ہوتی،اگر کچھ ایسے مسلمان ہیں بھی، جو اس ملک کے خلاف سوچتے ہیں تو صرف وہی نہیں، ہر مذہب اور ہر فرقے میں اس قسم کے لوگ مل جاتے ہیں، جو محبت پر نفرت کو ترجیح دیتے ہیں، مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔دہشت گردی آج ایک ایسی تکلیف دہ حقیقت ہے، جس سے پوری دنیا جوجھ رہی ہے، ہم سب کو چاہیے کہ اس کا مل کر مقابلہ کریں،کیونکہ نفرت ختم ہونے سے کاروبار کے مواقع بڑھیں گے۔لوگوں میں اگر ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے گا تو بھلائی اور دولت دونوں کے راستے روشن ہوں گے۔یہ دو ملک، پہلے ہی ایک ہی سرزمین ہوا کرتے تھے، اب ان کے درمیان ایک لکیر موجود ہے، مگر اس طرف والے، اس طرف والوں کے لیے اور اس طرف والے اس طرف والوں کے ایسے ہی دوست ہونے چاہیے، جو کبھی ایک ہی فلیٹ میں رہا کرتے تھے اور اب وہ دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے ہیں۔اس کی وجہ سے کوئی نیا جھگڑا پیدا کرنا، کوئی نیا تنازعہ کھڑا کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ہمارا مقصد پہلے یہ ہونا چاہیے کہ ہم اچھے بنیں، ہمارے آس پاس کی دنیا اچھی بنے، نفرت انسانی ذہنوں کو سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں چھوڑتی، وہ صرف بدلہ لینے پر اکساتی ہے۔اس لیے بدلے کے جذبات کو کچلنا بہت ضروری ہے، اپنے اندر کے اس راکشس کو ختم کرنا ضروری ہے، جو کسی اور کی جان لینے کا تصور ہمارے دماغ میں پیدا کرسکے۔

 

کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔
ایک بات جو میں واضح طور پر آپ کو بتانا چاہتا ہوں، اور جو آپ کے معصوم ٹیچرز شاید ہی کبھی آپ سے ڈسکس کرتے ہوں ، وہ یہ ہے کہ زبان اور مذہب کے نام پر لڑی جانے والی سرد و گرم جنگوں کا مستقبل کچھ بھی ہو، مگر ان سے ہمیشہ ایسی طاقتیں فائدہ اٹھاتی ہیں، جن کو جلتے ہوئے جسموں پر ہاتھ سینکنے کا فن آتا ہے۔بھارت اور پاکستان میں اگر مذہب اور سیاست کے نام پر یہ جنگ جاری رہے گی تو لوگ اس جنگ میں ہتھیار اٹھاتے رہیں گے، کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ ہتھیار بھوک مٹانے والے چار نوالوں سے کئی گنا زیادہ مہنگے ہوتے ہیں، اصل میں ایشیا کی بہت سی ایسی مذہبی و ملکی طاقتیں ہیں، جو ان علاقوں کو ترقی سے روکنے کے لیے کچھ لوگوں کو کام پر لگاتی ہیں،ان لوگوں کو پیسہ دیتی ہیں، خوب پیسہ، یہ پیسہ کبھی مسجد و مدرسہ کو دیے جانے والے فنڈ کے نام پر آتا ہے، کبھی پرائیوٹ اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے فروغ کے نام پر، مگر آتا ہے اور وہ لوگ آپ کے خوبصورت محلوں، شہروں، گلیوں اور گھروں کے باہر زبان و تہذیب کی حفاظت کا ڈونگرا بجاتے ہوئے ہتھیار دھر کے کھڑے ہوجاتے ہیں۔جو ہتھیاردھر کر کھڑے نہیں ہوتے، وہ آپ کے معصوم ذہنوں میں تاریخ و تہذیب کی ایسی سوئیاں چبھوتے ہیں، جس سے آپ کو لگتا ہے کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔حالانکہ وہ آپ کے ملک کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ان کی وجہ سے لوگ آپ کے ملک سے ڈرنے لگتے ہیں، سیاح تفریح کی غرض سے آپ کے ملک کا رخ نہیں کرتے، اس لیے نہ ٹورزم کا پیسہ آتا ہے نہ کوئی غیر ملکی کمپنی اس دہشت سے بھری ہوئی دھرتی پر پلانٹ لگانا چاہتی ہے۔وہاں اگر کچھ ممالک کے کارندے بزنس کرنے آتے بھی ہیں تو وہ صرف ان ہتھیاراٹھانے والے لوگوں کے آقائوں کے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں وہاں نقصان کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔ پوری دنیا میں آپ کی شبیہہ خراب ہوتی ہے۔آپ کو مذہب اور زبان کے نام پر ڈرا ڈرا کر یہ لوگ ایک دن آپ کے ہاتھ میں بھی ایک ہتھیار تھماکر آپ کو موت کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور خود تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ مجھے آپ سے یہ باتیں کہنی پڑرہی ہیں، مگر حقیقت یہی ہے اور اب وہ وقت ہے کہ آپ کا اسے جاننا بہت ضروری ہے۔بھارت ایک اچھا ملک ہے، ایک ایسا ملک جس سے دوستی کرکے آپ کا ملک اپنے لیے بھی روزگار کے بہت سے وسائل پیدا کرسکتا ہے، لیکن انہی لوگوں کی وجہ سے آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ بھارت میں آپ کی طرف سے غیر مطمئین ہوئے جارہے ہیں۔اب آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کو جو بھی پڑھایا یا بتایا جائے، خاص طور پر مذہب، رسم، تاریخ، زبان اور بھارت کے تعلق سے۔آپ اس کے بارے میں انٹرنیٹ سے معلوم کریں۔اپنے رویے میں نرمی لائیں اور ٹیچر کی ہر بات پر ہامی بھرنے کی بجائے ان سے مناسب لہجے میں جائز سوالات پوچھیں جو آپ کے دماغ میں آتے ہیں۔

 

انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، آپ خبروں اور ہندوستانی دوستوں سے جڑ سکتے ہیں، آپ ان کے بارے میں معلوم کرسکتے ہیں۔کوئی اگر نفرت کا مظاہرہ کرے تو خوف مت کھائیے، بدلے کا جذبہ دل میں نہ پیدا کیجیے۔بس اس کو اپنے رویے سے یہ یقین دلائیے کہ وہ آپ کے ملک اور آپ کے لوگوں کے بارے میں جو رائے رکھتا ہے وہ غلط ہے۔تبھی شاید یہ مسئلہ حل ہوگا۔آپ آنے والے دور کا خواب ہیں اور یہ خواب بگڑنا نہیں چاہیے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ چاہے کسی چھوٹے سے گائوں کے مدرسے میں پڑھتے ہوں یا کسی بڑے سکول میں۔ٹیچر، نیوز چینل یا پھر کسی ملا مولوی کے بہکاوے میں آئے بغیر خود چیزوں کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کیجیے۔اور اس میں اپنی نیت اچھی رکھیے۔یاد رکھیے! آپ کو ایک بہتر مستقبل بنانا ہے اور اس بہتر مستقبل کی شروعات ایک حوصلے سے ہونی چاہیے، ایک ایسے جذبے سے جس میں آپ یہ عزم کریں کہ لاشوں پر تجارت نہیں ہونے دیں گے،مذہب کے نام پر مزید بٹوارے نہیں برداشت کیے جائیں گے اور زبان کے تعلق سے کوئی فخر، کوئی انانیت خود میں پیدا نہ ہونے دیں گے۔آنے والا وقت شاید تب ہی سدھر سکتا ہے، ورنہ سب رفتہ رفتہ بگڑ رہا ہے، ہم بھی ، آپ بھی اور ہمارے ملکوں کے حالات بھی۔

 

آپ سے سمجھنے کی ایک چھوٹی سی امید کے ساتھ
بھارت سے آپ کا ایک مخلص دوست
تصنیف حیدر
Categories
شاعری

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں
جو وقت بے وقت
اپنی رانوں کو کھجلا سکتی ہو
جس کی ناک میں بال ہوں
جسے دھوپ میں پسینہ آئے
جس کے ہونٹ پیاس سے سوکھ کر
پپڑیوں کی شکل لے لیتے ہوں
جس کی بغل میں وہ خاکی لکیریں موجود ہوں
بالکل زندہ اور متحرک
جن پر کبھی کبھار کالک جم جاتی ہے
ایک ایسی لڑکی
جس کی کمر پر میری توقعات کا بھاری بوجھ نہ ہو
تھوڑی کے نیچے کسی تل کی گنجائش نہ ہو
ماتھا کشادہ نہ ہو
اور بال ناگن کی طرح ٹخنوں سے نہ ٹکراتے ہوں
مگر لگتا ہے
معاشرے میں ایسی لڑکیاں پیدا ہی نہیں ہوتیں
وہ چاند کے تھال میں جنم لیتی ہیں
دودھ کی ڈلیا میں مر جاتی ہیں
ان کی آنکھوں میں ہرنیوں کا سا قدرتی کاجل ہوتا ہے
کمر کسی جھولتی ہوئی نازک ڈالی جیسی
بال جنگل کی اداسی کی طرح بے انت
اور پتھروں پہ ڈالی گئی خراش کی طرح ان کی مانگ میں رہتا ہے سیندور
بلب کی طرح اگائی ہوئی ایک بندی
میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں
جس کا بدن محض خوشبو نہ ہو
جس کے پاس اپنے ہونے کی بھرپور بدبوئیں ہوں
اور وہ جعلی نہ ہو
میری طرح

Image: Pabelo Picasso
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

تصنیف حیدر کے نام ایک خط

کیسے ہو دوست؟ مجھے معلوم ہے کہ دلی میں بیٹھے ہوئے تم موجودہ پاک بھارت کشیدگی پر اتنے ہی پریشان ہو گے جتنا کراچی میں بیٹھا ہوا میں ہوں۔ تمہاری شاعری اور نثر سے تمہاری جن ترجیحات کا علم ہوتا ہے ان میں عورت سرفہرست ہے اور میں بھی فطرت کے حسن و جمال کی جسمانی یا ذہنی قربت میں رہنا پسند کرتا ہوں۔ دفتر سے باقی بچا ہوا وقت اپنی لائبریری اور بستر کے کنارے میز پر رکھی کتابوں میں کٹتا ہے جہاں مختلف زمانوں، زبانوں اور ملکوں کے سیکڑوں ادیب طرح طرح کی سوغاتیں لیے ہر وقت موجود ہیں۔ ایک چھوٹی سی فیملی ہے جس میں ایک دل نواز بیوی کے ساتھ تین چھوٹے چھوٹے بچوں کو بڑا ہوتے دیکھنا بجائے خود ایک خوب صورت تجربہ ہے۔ ایسے میں سیاست کم از کم میرے لیے تو ایک ایسے مہمان کی حیثیت رکھتی ہے جو بن بلائے آن دھمکتا ہے اور جس کی نہ چاہتے ہوئے بھی سیوا کرنا پڑتی ہے۔

 

ہمیں متنازعہ ہونے کا خیال کیے بغیر اپنی رائے ظاہر کر دینی چاہیے، شرط یہ ہے کہ ہم نے یہ رائے ایسے طیش کے عالم میں نہ دی ہو جو ہندوستان یا پاکستان کے کسی نیوز چینل کو تازہ تازہ دیکھ کر پیدا ہو سکتا ہے۔
سیاسی کشیدگی کے ماحول میں سیاسی رائے ظاہر کرنا خطرناک کام ہے جس سے میں خود بھی بچنے کی بے پناہ کوشش کر رہا ہوں۔ اس کوشش میں مجھے دیگر ادیب دوستوں سے زیادہ قوت صرف کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ ایک عامل صحافی بھی ہوں اور دفتر میں ارنب گوسوامی کا چینل میرے منہ کے آگے دھرا ہوتا ہے۔ مگر ہمیں متنازعہ ہونے کا خیال کیے بغیر اپنی رائے ظاہر کر دینی چاہیے، شرط یہ ہے کہ ہم نے یہ رائے ایسے طیش کے عالم میں نہ دی ہو جو ہندوستان یا پاکستان کے کسی نیوز چینل کو تازہ تازہ دیکھ کر پیدا ہو سکتا ہے۔

 

مجھے خوشی ہے کہ تم نے تازہ صورت حال کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور بے لاگ اظہار کیا ہے۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں تمہارے موقف کے ہر حصے سے اتفاق تو نہیں کر سکتا لیکن اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ تم نے یہ رائے بہت اخلاص سے دی ہے۔

 

میں نے خود کو یہ جو پاکستانی لکھا ہے تو یہ اپنائی ہوئی کسی حقیقت سے زیادہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں میں نے خود کو پیدائش کے بعد سے موجود پایا ہے۔ ہمارے سیاسی نقطہ ء نظر کو طے کرنے میں ہمارا سٹینڈ پوائنٹ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، یعنی یہ کہ ہم کسی سیاسی صورت حال کو کہاں پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی ادب کا مطالعہ ہمارے سٹینڈ پوائنٹ کو نیوٹرل بناتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا بین الاقوامی شہری بناتا ہے جسے ہر اس ملک، ہر اس شہر سے بھی محبت ہو جاتی ہے جس کے بارے میں اس کے کسی عزیز مصنف نے کچھ لکھا ہو۔ میرے آباو اجداد موجودہ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں میں شامل نہیں تھے، پھر بھی میں دلی، لکھنو، امرتسر کو کبھی غیر نہیں سمجھ سکا۔ مجھے تو برلن اور پیرس کے گلی کوچے بھی اجنبی محسوس نہیں ہوئے۔ مجھے تو ایسا لگا جیسے میں وہاں پہلے بھی کئی کئی بار گھوم چکا ہوں۔ ہماری دنیا دن بدن سکڑ رہی ہے جسے گلوبل ولیج کہا جاتا ہے۔ کسی ایک ملک سے ایسی وفاداری کا تصور اب ختم ہونا چاہیے جو کسی دوسرے ملک سے نفرت کا درس دیتی ہو۔ حب وطن کے محدود تصور سے آگے نکل کر زمین نامی اس پورے گولے سے محبت کرنا ہو گی جو معلوم کائنات میں زندگی کا واحد منبع ہے۔ اور تم نے درست نشان دہی کی کہ ایٹمی ہتھیار اس زمین اور اس پر موجود زندگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

 

میرے آباو اجداد موجودہ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں میں شامل نہیں تھے، پھر بھی میں دلی، لکھنو، امرتسر کو کبھی غیر نہیں سمجھ سکا۔
دو ملکوں کے درمیان اگر کوئی تنازعہ ہے تو اس کا حل نکلنا چاہیے۔ یہ بات دو ایٹمی ملکوں کے تنازعے کے لیے جتنی ناگزیر ہے اتنی کسی اور دو ملکوں کے لیے نہیں ہو سکتی۔ پاکستان صحیح بنا یا غلط بنا، مگر تقسیم کے وقت یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ مسلمان اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ بھارت نے ہندو اکثریت اور مسلم حکمران والا حیدرآباد دکن بھی لے لیا اور مسلم اکثریت اور غیر مسلم حکمران والا کشمیر بھی۔ اگر میں ٹمبکٹو کے کسی شہری کو یہ بھی یہ مثال دوں تو وہ اسے بے اصولی قرار دے گا۔

 

میں ملکی نظم و نسق کے لیے سیکولرازم کو ایک اہم اصول سمجھتا ہوں اور جدید بھارت کے بانی جواہر لال نہرو مجھے گاندھی جی سے بہتر سیکولر رہ نما لگتے ہیں، لیکن بھارت میں توسیع پسندانہ نیشنل ازم کی بنیادیں بھی انہی نہرو نے رکھی تھیں جس کے جنون میں آج بھارت کا ایک بڑا حصہ مبتلا نظر آتا ہے۔ یہ نیشنل ازم حب وطن کا وہی محدود تصور ہے جس کی میں نے اوپر نشان دہی کی۔ چین ہانگ کانگ، مکاو اور تائیوان پر حق رکھتا تھا مگر اس نے ان پر چڑھائی نہیں کی۔ بھارت نے حیدرآباد دکن، جوناگڑھ اور کشمیر کے ساتھ ساتھ پرتگالی گوا پر بھی زور زبردستی سے قبضہ کیا۔ یہ توسیع پسندی کی ایک الم ناک داستان ہے جو نوآزاد بھارت کے تاب ناک ترین سرکاری افسر وی پی مینن نے اپنی کتاب میں فخریہ تحریر کی ہے۔

 

پاکستان نے بھی قلات کی ریاست کا الحاق غیر شائستہ طریقے سے ممکن بنایا، اور آزادی کے فوری بعد صوبہ ء سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کی کانگریسی حکومت کو ہٹا کر ایک غیر جمہوری اقدام کیا۔ البتہ پاکستان نے کسی غیر مسلم علاقے پر قبضہ نہیں کیا۔ آزادی کے وقت گوادر کا ساحل اومان کے پاس تھا۔ پاکستان چاہتا تو پولیس بھیج کر اس پر قبضہ کر سکتا تھا مگر اس کے لیے مذاکرات کیے گئے اور پھر اسے قیمتاً خریدا گیا۔

 

پاکستان اور بھارت حالیہ برسوں میں جس گہرے بحران کا شکار رہے ہیں اس کی جڑیں ان کی آزادی کے وقت کے رہ نماوں کی سوچ میِں پنہاں ہیں۔
پاکستان اور بھارت حالیہ برسوں میں جس گہرے بحران کا شکار رہے ہیں اس کی جڑیں ان کی آزادی کے وقت کے رہ نماوں کی سوچ میِں پنہاں ہیں۔ پاکستانی رہ نماوں نے مذہب کی بنیاد پر جس اتحاد کی دعوت دی وہ ایک ریاست کو چلانے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ دوسری جانب مذہبی حلقوں نے اسی مذہب کا مسالہ تیز کرنے پر اصرار کیا۔ یوں مذہبی انتہاپسندی کی الم ناک صورت پیدا ہوئی۔ طالبان کے خلاف جنگ میں پچاس ہزار شہریوں کی قربانی اور خصوصاً آرمی پبلک اسکول واقعے کے بعد پاکستانی آبادی کے ایک کثیر طبقے میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ یہ مذہبی انتہاپسندی ہمارے لیے زہر قاتل ہے۔ دوسری جانب بھارت میں، ارون دھتی رائے اور دیگر قابل احترام مفکرین کی موجودگی کے باوجود، یہ احساس اس بڑے پیمانے پر نظر نہیں آتا کہ بھارتی نیشنل ازم بھارت کے اپنے اور خطے کے عوام کے لیے خطرناک ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک بھارتی عوام کی اکثریت کو اپنے اس نیشنل ازم میں فائدہ ہی فائدہ نظر آ رہا ہے۔ ایسی ہی فائدہ جرمنوں کو ہٹلر کے نیشنل ازم کے ابتدائی برسوں میں نظر آتا تھا۔ ایسا ہی فائدہ پاکستانی عوام کو اسی اور نوے کی دہائیوں میں اپنے ان مجاہدین میں نظر آتا تھا جو دور و نزدیک کے ملکوں میں ایکسپورٹ کیے جا رہے تھے۔

 

پاکستان اور بھارت کے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ کشمیر ہے۔ ہندوستانی مسلمان قیام پاکستان کا بنیادی سبب تھے مگر تقسیم کے بعد صرف ان کا اسٹینڈ پوائنٹ بدل جانے سے کئی امور پر ان کا موقف پاکستانیوں سے مختلف ہو گیا۔ ایسے میں ہندوستانی مسلمانوں کی یہ خواہش سمجھ میں آتی ہے کہ کشمیر بھارت کے ساتھ ہی جڑا رہے تاکہ ایک تو ہندوستانی مسلمانوں کو تقویت ملے اور دوسرے یہ کہ کشمیر اگر الگ ہو گیا تو ہندوستانی مسلمانوں کو ایک دفعہ پاکستان بنانے کے بجائے دو دفعہ پاکستان بنانے کا طعنہ سہنا پڑے گا۔ مگر کوئی خطہ آپ کی تقویت کی خاطر اپنی امنگوں کو کیسے ترک کر دے؟ انگلستان کی بھی شدید خواہش ہے کہ اسکاٹ لینڈ سے اس کا اتحاد برقرار رہے مگر اسے برقرار رکھنے کے لیے وہ کوئی فوجی طریقہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ کیا ہماری قیادتیں کبھی اتنی میچور ہو سکیں گی۔

 

جغرافیے کی تاریخ پڑھیں تو کسی سرحدی لکیر کو تقدس حاصل نہیں اور نہ ہونا چاہیے۔ لکیروں کے بجائے انسانی جان کی تکریم و تقدیس زیادہ اہم ہونی چاہیے۔
کسی خطہ ء زمین اور اس کے باسیوں کی اپنی ہی خواہشات اور امنگیں ہوتی ہیں جنہیں رکھنا یا نہ رکھنا دھرتی واسیوں ہی کا حق ہے۔ جنوبی افریقا کی گوری رژیم کہتی تھی کہ ہم نے کالوں کی فی کس آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ مگر پھر بھی سیاہ فام لوگ اپنی دھرتی پر حکومت کا اختیار خود چاہتے تھے۔ فلسطینی اگر آج جدوجہد ترک کر کے اسرائیل سے قلبی طور پر جڑ جائیں تو ان کی نسلیں خوش حال ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ نہیں مانتے۔ ان معاملات پر فرانز فینن کی کتاب بہت اہم ہے۔

 

جغرافیے کی تاریخ پڑھیں تو کسی سرحدی لکیر کو تقدس حاصل نہیں اور نہ ہونا چاہیے۔ لکیروں کے بجائے انسانی جان کی تکریم و تقدیس زیادہ اہم ہونی چاہیے۔ مگر بھارت جس کے اتنے بہت سارے رقبے میں سے برطانیہ نے ایک انچ بھی بطور نمونہ اپنے پاس رکھنے کی لالچ نہیں کی، تقسیم کے بعد وہی بھارت اس رقبے کا ایک انچ بھی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ بھارتی ریاست کی بنیاد جس نیشنل ازم پر رکھی گئی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ دنیا دوسری جنگ عظیم میں ایسے نیشنل ازم کو بھگت چکی ہے۔ بھارتی میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے جو رعونت نظر آتی ہے وہ اسی نیشنل ازم کا کرشمہ ہے۔ یہ رعونت کوئی خوددار قوم برداشت نہیں کر سکتی، چاہے وہ کم زور ہی کیوں نہ ہو۔ خود پاکستان بھی افغانستان کے حوالے سے ایسی ہی رعونت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یوں سیاسی مسائل میں نفسیاتی مسائل بھی در آتے ہیں جس سے سیاسی مسائل حل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

 

شائننگ انڈیا کے تصور کی پیدا کردہ دھند میں پاکستان ایک کم زور ملک دکھائی دیتا ہوگا لیکن یہ بیس کروڑ لوگوں کا ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے جسے فوجی شکست نہیں دی جا سکتی۔
شائننگ انڈیا کے تصور کی پیدا کردہ دھند میں پاکستان ایک کم زور ملک دکھائی دیتا ہوگا لیکن یہ بیس کروڑ لوگوں کا ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے جسے فوجی شکست نہیں دی جا سکتی۔ اور اگر بہ فرض محال ہماری سرحدیں بے وقعت کر دی گئیں تو ہر روز کہیں ممبئی تو کہیں پٹھان کوٹ ہو رہا ہو گا۔

 

یہ خط اپنے خیالات سے تمہیں قائل کرنے کے لیے نہیں، صرف ایک اور نقطہ ء نظر دکھانے کی کوشش ہے جو ایک مختلف اسٹینڈ پوائنٹ پر کھڑے ہونے کا نتیجہ ہے۔ اور یہ نقطہ ء نظر ایک ایسے شخص کا ہے جو پاکستانی ہونے کے باوجود خود کو بین الاقوامی شہری سمجھتا ہے، جو جغرافیائی حدود والی حب وطن کے بجائے اپنے دھرتی واسیوں سے کمٹمنٹ پر یقین رکھتا ہے اور جو ریاستی نظم و نسق کے لیے سیکولرازم کو نمایاں اصول سمجھتا ہے۔ امید یہی ہے کہ جنگ کے یہ بادل چھٹ جائیں گے۔ تیزی سے سکڑتی ہوئی دنیا نے ہمیں سوشل میڈیا کے طفیل ایک دوسرے کے قریب کیا ہے۔ ہم نے اپنے ملک سمیت دنیا بھر میں نئے دوست تلاش کیے ہیں جن سے اب ہم ہر روز بات کر سکتے ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ ہماری آراء سے ہماری دوستیاں متاثر نہ ہوں۔ سیاسی صورت حال آنی جانی ہے۔ انشاء اللہ کل کا دن آج سے مختلف اور بہتر ہو گا۔

 

طالب دعا
سید کاشف رضا
یکم اکتوبر، دو ہزار سولہ، کراچی
Categories
نقطۂ نظر

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن۔۔۔۔

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر کا یہ مضمون اس سے قبل ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ تصنیف حیدر کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

یہ اس سویرے کی بات ہے، جب میری آنکھ اتفاق سے جلد کھل گئی تھی، پتہ نہیں کیوں، کس بات پر مگر نیند ٹوٹی تو معلوم ہوا کہ نیند کے ساتھ ساتھ خواب بھی ٹوٹا ہے اور یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سرحدی علاقے میں اٹھارہ جوانوں کو کچھ دہشت گردوں نے شہید کردیا ہے۔ حالانکہ لفظ شہید ہمیشہ میرے لیے کشمکش کا باعث رہا ہے اور میں اپنی دوست رامش فاطمہ سے اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ لفظ انسان کے قتل، اس کی موت کو تقدس کے ہالے میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دینے کی سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ بہرحال اب آپ میرے یہاں موجود اس لفظ کو قتل یا موت کے معنی میں پڑھ سکتے ہیں۔ ہم اس دن نیوز کی دکانوں پر پڑی لکڑی کی چھوٹی چھوٹی بینچوں پر بیٹھے رہے، جہاں تازہ اپڈیٹس کی جلیبیاں اتار کر عوام کو دی جاتی ہیں، کچھ کرکری، کچھ تازی، کچھ گرم اور کچھ بہت زیادہ جلی ہوئی۔ دکان دار کوشش کرتے ہیں کہ یہ جلیبیاں کرکری اور گرم ہوں تاکہ بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس کی عادت پڑ جائے۔ سو اس دن بھی یہی ہورہا تھا۔ آج میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، حالانکہ مجھ جیسے ایک گھریلو قسم کے ادیب کا ہندوپاک کی نہایت گنجلک، خطرناک، سازشی اور سخت ترین سیاست پر لکھا گیا کوئی بھی جملہ اعتبار کا درجہ نہیں رکھتا، مگر میں چونکہ ایک امن پسند، ڈرا ہوا اور خاموش طبع انسان ہوں، اس لیے چاہتا ہوں کہ میری بات بھی کبھی سنی جائے۔

 

جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔
جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔ عام طور پر ہمارے ملکوں میں سپاہیوں کی موت کو موت نہیں بلکہ قربانی سمجھا جاتا ہے، ان کے مرنے، ان کے قربان یا پھر شہید ہونے سے ان کے ماں باپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے، ان کے بچوں، ان کے خاندان والوں اور ان کے اپنوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فوج میں بھرتی ہونے کا ایک مقصد ہمارے یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ وطن پر جان دینے کے لیے، کفن باندھ کر اپنے گھر سے نکلے ہیں۔ ہمارے یہاں ایک ٹرینڈ ہے، اگر آپ کو یہ بے وقت کا انگریزی لفظ برا معلوم ہوا ہے تو معافی چاہوں گا، مگر یہ روایت سے کئی گنا بہتر لفظ ہے۔ ٹرینڈ یہ ہے کہ ایک بھری ہوئی بندوق لیے ہوئے سپاہی کے پیچھے کھڑے ہوئے کچھ نہتے جی بھر کر جالیوں کے اس پار لوگوں کو گالیاں دینا چاہتے ہیں، کوسنا چاہتے ہیں، ان کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں، ان سے جھگڑا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں طرف ہے۔ اور جب اس جانب سے کوئی گولی آتی ہے تو سپاہی کا سینہ تو شہید ہونے ہی کے لیے بنایا گیا ہے، چنانچہ اس کا کوئی غم نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے غم میں مزید آبلہ پا ہو کر ایک نئے انسان کو وردی، کنٹوپ پہنا کر، بندوق ہاتھوں میں تھما کر اس کی پشت پناہی حاصل کرلینی چاہیے۔ ہمیں اس شخص کے گھروالوں، اس کے عزیزوں، اس کی زندگی، رشتوں، خوابوں، طور طریقوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔معاف کیجیے گا، مگر ہم اس مقام پر سپاہی اور خودکش بمبار میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔سپاہی ایک ذمہ دار شہری ہوتا ہے، ایک ذمہ دار باپ ہوتا ہے، ایک ذمہ دار شوہر ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ذمہ دار انسان ہوتا ہے، جس کے اندر وہ سارے جذبات موجود ہیں، جو اس کے پیچھے کھڑے ہوکر چخ چخ کرنے والوں میں ہونے کے امکانات ہیں۔ہم کبھی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اس لیے کیوں نہیں گھبراتے کہ ہمیں ان سپاہیوں کی جان اور ان کے بچوں، بیویوں کی زندگی کی فکر ہو، ان سے محبت ہو، ان کی زندگی سے محبت ہو۔ہم نفرت کی دلدل میں اس قدر گہرےاترنے کے لیے تیار ہیں کہ اپنی طرف سے لڑنے کے لیے کچھ ایسے مجبور انسانوں کو آگے کرتے ہیں، جن کے لیے فوج میں بھرتی ہونا، ان کی چھوٹی بڑی ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام بھی ہوسکتا ہے۔ جنگ کی خواہش آپ کی ہے، تو سپاہی کیوں مرے۔ آپ کہیں گے کہ اس کا کام ہی حفاظت کرنا ہے۔ تو میرا سوال ہے کہ حفاظت اصل کام ہے، موت اصل کام نہیں ہے۔ موت اس کا مقصد نہیں ہے، اس کا مقصد ایک سچی، صاف اور صحیح زندگی ہے۔ نفرت میں ڈوب جانے والے، اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ نفرت کرنے والوں کی ہی زبان بول رہے ہیں۔اس بھاشا کا اپیوگ ہمیشہ ہوتا رہا ہے، ہر زمانے میں۔ اور ہر زمانے میں سوچنے والا ذہن ان کے لیے ایک نحوست، قابل نفرت اور گھن کرنے جیسی چیز ہی بنا رہا ہے۔سوشل میڈیا کی خبروں پر ہندو پاک کے عام لوگوں کے جذبات ، جس طرح منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح ، کی بورڈ پر گھس کر پیدا کیے جانے والے لفظوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں،ان کا نظارہ تو ہر شخص نے کیا ہوگا۔ایک صاحب نے لکھا۔ ہندوستان پر نیوکلیر حملہ ہوجائے تو ہوجائے، ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔یہ بہت بڑا دیش ہے، جتنے لوگ بچیں گے، وہ پھر سے ہندوستان بنالیں گے، مگر ہم پاکستان کا نام و نقشہ اس دنیا سے ہٹا دیں گے۔میرے ذہن میں ان کے خیالات پڑھنے کے بعد دو باتیں ایک ساتھ پیدا ہوئیں۔ اول تو یہ کہ یہ کمنٹ کرتے وقت موصوف پوری طرح اس بات کی یقین دہانی کرچکے تھے کہ وہ بچنے والوں میں سے ہی ہوں گے، دوسرے ان کا رویہ اس دہشت گرد کی ہی طرح تھا، جو سوچتا ہے کہ بھیڑ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارگرایا جائے، مجھے تو مرنا ہی ہے، مگر میں اپنے دشمنوں کو بھی زیادہ سے زیادہ ختم کرسکوں۔اس کے لیے وہ تمام لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں، جن سے نہ وہ کبھی ملا، نہ ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی، نہ عام زندگی میں انہیں اپنے ہی جیسا گھرداری اور کاروبار، عشق و تمدن میں الجھا ہوا انسان سمجھا، نہ وہ ان کے نام سے واقف، نہ ان کی فکریات سے۔بس چل پڑے، خود کو چیتھڑے چیتھڑے کرنے۔ اب اس سوچ میں اور اس سوچ میں کون سا ایسا فرق ہے۔ دہشت گردی، کہیں اور سے نہیں آتی، یہ بدلے کے جذبے سے پیدا ہونے والا ایک مرض ہے، ایک نفسیاتی مرض، جو انسان کو سوچنے سمجھنے سے محروم کرکے بس تباہی پھیلانے کی جانب راغب کرتا ہے۔اورتباہی بھی ان لوگوں کی ،جن کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو۔جن سے بلاواسطے کا ایک بیر ہو۔

 

امن حکومت کے ذریعے نہیں آ سکتا، یہ نعرے لگانے، چیخنے چلانے، گولیاں داغنے یا بم ماردینے سے نہیں آئے گا۔یہ بات کرنے کے ماحول سے پیدا ہو گا۔
یہی کام اس روز ان چار دہشتگردوں نے کیا، جو سرحد پار کرکے یہ جانتے بوجھتے اس طرف داخل ہوئے تھے کہ وہ کسی کو مار پائیں یا نہ مار پائیں مگر ان کا مرنا تو طے ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیا کیا ہے؟یہ وقت حکومتوں کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا نہیں ہے، وہ وقت گزر گیا، اب مسئلہ عوام کے ذریعے حل ہوگا۔جرمنی کے تاریخی معاہدے کو یاد کیجیے، جرمنی کی حکومتوں نے برلن کی دیوار کو نہیں گرایا تھا، عوام نے گرایا تھا۔ دیواریں تو ہمیں ہی گرانی ہوں گی۔ یہ کون لوگ ہیں، جو ہمیں جانے بوجھے بغیرہمارے بیچ مارنے، مرنے کے لیے آجاتے ہیں۔ہمیں ان کے مرض کی تشخیص کرنی ہو گی، ہمیں انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ ہم ان کے دشمن نہیں ہیں، انہیں ہماری دشمنی پر جو لوگ آمادہ کررہے ہیں، دراصل وہ انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ امن حکومت کے ذریعے نہیں آ سکتا، یہ نعرے لگانے، چیخنے چلانے، گولیاں داغنے یا بم ماردینے سے نہیں آئے گا۔یہ بات کرنے کے ماحول سے پیدا ہو گا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بات کیسے ہو گی، یہ بھی آپ ہی کو طے کرنا ہے۔آپ کو کسی حکومت سے بات نہیں کرنی ہے، آپ عوام سے بات کیجیے، عوام میں یہ یقین پیدا کیجیے کہ وہیں کے رہنے والے، وہیں کے لوگوں کے درمیان آپ کی اس امیج کو غلط ثابت کر دیں، جو وہاں کے گھٹیا ذہن بنارہے ہیں۔ وہاں کے نصابات میں زبردستی جس طرح بھارت اور بھارتی لوگوں کو دشمن بتایا جارہا ہے، آپ اپنے عمل سے یہ ثابت کیجیے، کہ تمہارا نصاب جھوٹا ہے، تم لوگوں کو غلط تعلیم دے رہے ہو، کیونکہ اسکولی تعلیم اور حقیقت پسند انسانی زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔

 

پاکستان ایک کمزور پڑتا ہوا ملک ہے، وہاں کے بہت سے رہنے والوں کے دماغوں میں مذہبی رگ پھول کر سبز سے نیلی ہوگئی ہے۔ انہیں یہ بات سمجھنے میں دشواری ہورہی ہے کہ زندگیاں کرکٹ کا میدان نہیں ہوا کرتیں۔جہاں ہوائوں میں چھکے، چوکے لگائے جائیں۔ میں حیران ہوں کہ ان کے وزیر دفاع ایک نیشنل چینل پر نیوکلیئر کو استعمال کرنے کی بات کربھی کیسے سکتے ہیں۔یہ سب کتنا خطرناک ہے، پاکستانی حکمرانوں اور وہاں کے مذہب پرست بیمار لوگوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔ اب ایسی ہی کچھ آبادی ہمارے یہاں بھی ہے، جو اس بات کو نہیں سمجھتی کہ مسئلے مذہبی فقروں یا وطنی نعروں سے نہیں حل ہوتے۔انسانیت کی قدر کرنے سے حل ہوتے ہیں۔مگر ایسا نہیں ہے کہ ان کے یہاں اور ہمارے یہاں کی عوام سیکولر نہیں ہے، عوام جنگ چاہتی ہے یا اپنی تباہی کے لیے پر تولے بیٹھی ہے۔ ان کے مسائل بھی اتنے ہی زمینی ہیں، جتنے ہمارے ہیں۔مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نہیں بنا ہوتا تو کیا یہ مسائل ہوتے، جواب ملتا ہے کہ ہوتے اور شاید اس سے زیادہ بھی ہو سکتے تھے۔ کیونکہ مذہبی افتخار، نئی قومیت کے تصور کو جنم دے رہا ہے، جس سے اکیسویں صدی میں بڑی طاقتیں فائدے اٹھارہی ہیں۔نیوز چینلوں کی ان بکواسوں پر مت جائیے کہ امریکہ یا چین ہندوپاک کی ٹھڈیوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں کس طرح منانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنگ کا میدان اگر دو ملک بنتے ہیں، تو آج کے زمانے میں وہاں صرف وہ دو ممالک ہی نہیں لڑتے، بلکہ دنیا کے باقی بڑے ممالک بھی اسی کا فائدہ اٹھاکر اپنی طاقت جھونک دیتے ہیں، تاکہ ایک دوسرے سے اپنی زمین سے دور لوہا لیا جاسکے، ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ کیا جاسکے اور کسی ایک کو کمر جھکانے پر مجبور کیا جائے۔سیریا کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے گلوبل حالات سے کچھ نہیں سیکھا اور کیوں نہیں سیکھا یہ کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے پوچھیے۔خدا کی بخشی ہوئی عظیم تر نعمت یعنی کہ زندگی کو کوئلہ کردینے کی خواہش نہ رکھیے، کسی سے نفرت ہی کرنی ہے تو اس رویے سے کیجیے جو انسان کو انسان سے لڑنے پر مجبور کرتا ہے۔

 

ان اسباب کو ڈھونڈنا اور ڈھونڈ کر انہیں ختم کرنا نہایت ضروری ہے، جو شہادت کے اس غلط اور گمراہ کن تصور کو رائج ہونے میں مدد دیتے ہیں، ورنہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوگی۔
میں سوچتا ہوں کہ وہ کون لوگ ہوں گے، جن کو اس بات پر مذہبی فقرے سنا کر آمادہ کرلیا جاتا ہوگا کہ تم کسی کی جان لے کر کوئی گناہ نہیں کررہے ہو، کسی باپ، کسی شوہر، کسی بیٹے کو ختم کرکے، اسے ابدی نیند سلا کر، اس کے افکار و نظریات سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی تم کو ایک کھلکھلاتی جنت مل سکے گی۔ان اسباب کو ڈھونڈنا اور ڈھونڈ کر انہیں ختم کرنا نہایت ضروری ہے، جو شہادت کے اس غلط اور گمراہ کن تصور کو رائج ہونے میں مدد دیتے ہیں، ورنہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوگی۔اس لیے ضروری ہے کہ جتنے انسان پیدا ہوں، اسی مقدار میں سوچنے والے ذہن پیدا ہوں۔شارلی ہیبدو پر جب حملہ ہوا تو فرانس میں دس لاکھ کے مجمع نے مل کر اپنے غصے کا اظہار کیا، لیکن وہاں کے لوگ مسلمانوں کے تعلق سے تب بھی یہی کہہ رہے تھے کہ انہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔سچ ہے کہ تعلیم ہی اس مسئلے کا حل ہے، وہ تعلیم جو سوچنا سکھا سکے، صرف دوسروں کے کہے پر بنا سوچے سمجھے چلنے کاطریقہ نہ سکھائے۔

 

کشمیر کا جہاں تک معاملہ ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس علاقے کو یہاں کی ہٹ دھرم مذہبی اور علیحدگی پسند سیاست نے جہنم بنارکھا ہے۔وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ ہندوستان کا ساتھ دیں۔ایک تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ملک کو دل سے اپنائیں اور اس کا حصہ بنیں اور اس سے محبت کریں۔انہوں نے ہمیشہ حالات کو اس قدر خراب اور عجیب رکھا ہے کہ ان کی علیحدگی پسندی نے ہندوستان کے باقی بیس بائیس کروڑ مسلمانوں کی ایمانداری اور وطن سے ایک قسم کے محبتانہ جذبے پر سوالیہ نشان قائم کردیا ہے۔کشمیریوں کو چاہیے کہ اس قسم کی سیاست سے باہر نکلیں اور ہندوستان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کرچلیں ، بغاوت یا علیحدگی کے نام پر کسی بندوق بردار کا ساتھ نہ دیں۔وہ اپنے لیے ایک خوشگوار ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔مگر وہ نہیں کررہے ہیں۔وہ اس مسئلے کو پچھلے ستر سا ل سے مسئلہ بنائے ہوئے ہیں اور آگے بھی بنائے رکھیں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور ان کی زندگیاں جنت و جہنم کے بیچ ڈولتے ہوئے ایک پل پر یونہی مجہول و مبہم رقص میں مبتلا رہیں گی۔یہ ٹچی حرکتیں، جن میں دوسری زمینی طاقتوں کی زبانی حمایت سے لے کر ایک الگ ملک کا شہری ہونے کے خواب تک پھیلی ہوئی ہیں، اب کشمیریوں کو بند کردینی چاہییں۔جس دن وہ یہ فیصلہ لیں گے، اپنے ہی نہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کو بھی تابناک کردیں گے۔ہندو پاک کے وہ تمام لوگ جو اس زخم کے سوکھنے کے بجائے، ابھی بھی اسے اپنے نظریات سے ناسور بنے رہنے کی حمایت کرتے ہیں، وہ کشمیریوں کی زندگی کو ابتر کرنے کی سازش میں برابر کے شریک ہیں۔انہیں کشمیرکے رہنے والے انسانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، وہ بس ان کو بے وقوفوں کی طرح ایک مسلح فوج سے بھڑا دینا چاہتے ہیں، جس کا انجام نہایت کریہہ اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

 

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اس لیے کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہیں کہ میری جنگ ہے کس سے۔
ہندو پاک کے کرکٹ میچ میں چھائے ہوئے ایڈونچر سے لے کر آج جنگ کی نوبت جب ایک دفعہ پھر ہمارے آسمانوں تک آن پہنچی ہے تو ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ہم اپنے ملکوں کے وفادار ہیں تو ہمیں ان کی بھلائی کے بارے میں سوچنا چاہیے، ہمیں بغیر جانے، بغیر دیکھے ہوئے لوگوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے ایک ایسی طاقت سے لڑنے کی ضرورت ہے، جو نفرت کو ہوا دے رہی ہے اور آئے دن اس نفرت کا سہارا لے کر معصوم لوگوں کی جان لینے کے درپے ہیں (جن میں بھٹکے ہوئے نوجوان بھی ہیں اور وردی پوش سپاہی بھی)۔

 

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اس لیے کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہیں کہ میری جنگ ہے کس سے۔میں کسی سٹیڈیم میں بیٹھ کر رنگ میں لڑنے والے اپنے فریق کے بدن میں حوصلے کی ہوا نہیں بھررہا ہوں، بلکہ یہ ایک ملک کا سوال ہے، جہاں کی آبادی، جہاں کی جگہوں، جہاں کے قصوں، جغرافیائی حصوں، تاریخی مقامات اور معاملات سے میرا ایک تعلق ہے۔میں کسی انسان کے خلاف نہیں جاسکتا، جب تک کہ اپنے ذہن کی کسوٹی پر اس کے نظریات کو نہ کس لوں۔میں چاہتا ہوں کہ بہکانے والی طاقتیں ختم ہوں، کیونکہ وہی سب سے بڑا مسئلہ ہیں لیکن میرے چاہنے سے ہوتا کیا ہے۔۔۔۔
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی – قسط نمبر 9

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انہیں اصل میں اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑی شرم سی محسوس ہورہی تھی کہ یہ جو چھٹانک بھر کا لڑکا ان کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، ابھی ابھی ان کی بیٹی نے اسے اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔
بہت دنوں تک دوردرشن اردو کے لیے کام کرنے کے بعد مجھے جب فراغت ملی تو میں ایک روز جب دوپہری میں گھر پر آرام کررہا تھا، طلعت مجھ سے ملنے آئی۔طلعت دراصل انہی دو لڑکیوں میں سے ایک تھی، جن کو مجھے کوچنگ میں پڑھانا تھا۔لیکن اپنی مصروفیت کی وجہ سے نہ پڑھا سکا تھا۔دہلی ایجوکیشن پوائنٹ میں بہت زیادہ وقت میں نہ گزار سکا۔وہاں اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ بہت کم پیسوں پر مجھے کام کرنا پڑتا تھا۔طلعت والی بات بھی بڑھاؤں گا، مگر اس سے پہلے دو واقعات سن لیجیے، جو کچھ مزے کے ہیں۔کوچنگ میں سردیوں میں پھٹے ہوئے ایک کوٹ کو پہن کر بیٹھے رہنے سے لے کر تین تین شفٹ کرنے کی بھی نوبت آئی تھی۔اس نوبت کے پہنچتے پہنچتے میں وہاں سے نکل آیا اور مجھے سکرپٹنگ کا چسکہ لگ گیا۔اس کام میں کوچنگ کی بہ نسبت پیسے کافی زیادہ تھے اور کام بھی میری پسند کا تھا۔کوچنگ کے دوران بتانے کے لیے ایسا کچھ خاص نہیں ،بس ان دنوں میں یہ تبدیلی ضرور ہوئی تھی کہ ہم شاہین باغ سے اب بٹلہ ہاؤس شفٹ ہوچکے تھے، وہاں ایک بہت چھوٹے کمرے میں کچھ بیس بائیس دن گزار کر، ہم نے ایک دو کمروں کا فلیٹ ایک پرانی سی بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر ذاکر نگر کے علاقے میں لے لیا تھا۔تو پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں کوچنگ میں کچھ کم عمر لڑکیوں کو بھی پڑھایا کرتا تھا، جو جوانی اور بچپن کے بالکل برابر کی لکیر پر کھڑی ہوا کرتی تھیں۔وہ مجھ سے مانوس اس لیے ہوجاتی تھیں کیونکہ میں پڑھاتا کم تھا اور ان سے باتیں زیادہ کرتا تھا۔مجھے کبھی سختی سمجھ ہی میں نہ آئی، کسی طالب علم پر آنکھیں نکالنا بھی میرے لیے کبھی ممکن نہ ہوسکا۔اس لیے کیا لڑکے ، کیا لڑکیاں سب سے ایک دوستانہ قسم کے ماحول میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ خوب باتیں ہوا کرتیں۔ایک روز میں اپنے گھر سے کوچنگ جارہا تھا، کوچنگ کوئی بہت دور تو تھی نہیں۔لیکن میں جب اپنے گھر سے نکل کر کچھ سیدھا چل کر ایک گلی میں مڑا تو سامنے سے ایک طالبہ اپنی والدہ کے ساتھ آرہی تھی، اس نے مجھے سلام کیا تو میں مسکرادیا۔میرا مسکرانا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بھاری بھرکم قسم کی خاتون اپنے ڈگڈاتے بدن، تمتماتے چہرے اور چھلکتے ہوئے غصے کے ہمراہ میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئیں۔انہوں نے میری طرف نہایت جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے پوچھا۔

 

“کس کو دیکھ کر ہنس رہا تھا تو؟”

 

میں کچھ سمجھ نہ پایا کہ کیا کروں، مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی لڑکی کو چھیڑتا ہوگا تو ضرور اسے بچ نکلنے، بھاگنے یا پھر ایسی سچویشن میں مقابلہ کرنے کے سارے گر ضرور معلوم ہوں گے، لیکن میں اس معاملے بالکل اناڑی تھا اور پھر کسی عورت کو اس قسم کے روپ میں دیکھنا اس وقت میرے لیے بالکل ہی انوکھا تجربہ تھا، ان کی آنکھیں ابلی پڑرہی تھیں، بدن پر لال رنگ کا جمپر تیزی سے آگے کی جانب جھکا پڑرہا تھا، دوپٹہ گلے میں کسی اجگر کی طرح لپٹا ہوا، بال بندھے ہوئے اور ایک ہاتھ ہوا میں اس نیت سے لہراتا ہوا کہ میرے الفاظ سن کر میرے گالوں کے حق میں کوئی فیصلہ کرے گا۔مجھ سے بے وقوفی یہ ہوئی کہ میں نے ان سے یہ کہہ دیا

 

“آپ اپنی بیٹی سے معلوم کیجیے، میں کون ہوں!”

 

اس روز مجھے اس بات کا ضرور احساس ہوا کہ اس سوسائٹی میں رہنا ہے تو غصے میں رہنا بہت ضروری ہے۔کسی لڑکی کو دیکھ کر توکیا کسی کبوتر کو دیکھ کر بھی مسکرادینے سے بے وقت کی آفت ٹپک پڑسکتی ہے۔
اب وہ آئو دیکھیں نہ تاو، مجھ پر مزید برس پڑیں۔اور اس چھوٹی ، معصوم اور ننھی گلی کے آدھے دائرے میں ان کے غصے کا بگولہ ایسا رقص کرنے لگا کہ آس پاس کی کھڑکیوں نے اس نظارے کے لیے یکدم پٹاپٹ اپنی اپنی آنکھیں کھولنی شروع کردیں۔بات بڑھنے لگی، پتہ نہیں ، کیا مسئلہ تھا کہ وہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے چوک رہی تھیں۔مگر یقینی طور پر اگر اسی وقت ان کی بیٹی آگے بڑھ کر انہیں فوراً یہ نہ بتاتی کہ ‘ارے امی! کیا کررہی ہو، یہ تصنیف سر ہیں!’تو ان ہاتھوں کی برق میں لپٹی لہروں کو ضرور ایک زناٹے کے ساتھ میرے رخساروں سے چپٹ جانا تھا۔اول تو انہوں نے بیٹی کے بیان پر گھور کر مجھے دیکھا، پھر ان کی خون آلود نگاہوں میں ابلتا ہوا دریا ،دھیرے دھیرے بیٹھنے لگا۔انہیں اصل میں اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑی شرم سی محسوس ہورہی تھی کہ یہ جو چھٹانک بھر کا لڑکا ان کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، ابھی ابھی ان کی بیٹی نے اسے اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔ اس لیے انہوں نے زیادہ معافی تلافی تو نہ مانگی،البتہ یہ کہہ کر کام چلایا کہ ‘سر! پلیز سڑک پر آئندہ اس کی طرف دیکھ کر آپ مسکرائیے گا نہیں، اگر مجھے غلط فہمی ہوسکتی ہے تو کسی کو بھی ہوسکتی ہے۔آپ تو سمجھ دار ہیں نا۔۔۔’اس وقت میرے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی اور چارہ تھا ہی نہیں۔

 

میں اس واقعے پر اتنا سٹپٹا گیا تھا کہ میں نے ان کی شکایت نسیم سر سے کی، مگر وہ بے چارے بھی کیا کرسکتے تھے۔اب میرا پتلا دبلا ڈھانچہ نما جسم، پکاکالا رنگ اور اس پر حلیہ بھی بالکل راہ چلتوں کا سا۔قدرت کے ساتھ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ جو چیز اندر سے جیسی ہے، ویسی باہر سے بالکل نہیں ہے۔اور ہر چیز کا اندر و باہر جاننا ہر شخص کا مسئلہ نہیں ہے۔جیسے اس لڑکی کی والدہ کا یہ مسئلہ بالکل نہ تھا کہ میں کون ہوں یا کون ہوسکتا ہوں، ان کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ میں ان کی لڑکی کو دیکھ کر مسکرایا کیوں۔بہرحال برا وقت تھا ٹل گیا۔لیکن اس روز مجھے اس بات کا ضرور احساس ہوا کہ اس سوسائٹی میں رہنا ہے تو غصے میں رہنا بہت ضروری ہے۔کسی لڑکی کو دیکھ کر توکیا کسی کبوتر کو دیکھ کر بھی مسکرادینے سے بے وقت کی آفت ٹپک پڑسکتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ اس واقعے کا اثر بہت دنوں تک میرے ذہن و دل پر رہا اور میں سڑک پر اس قدر سنجیدہ ہوکر چلنے لگا جیسے وہاں بھی میں کوئی استاد ہوں، جبکہ سڑک پر ہر آدمی صر ف آدمی ہونا چاہیے، اس کا عہدہ، اس کا کردار، اس کی ذہانت، اس کی خوبصورتی یا بدصورتی سب کچھ ایک سیال میں ڈوبے ہوئے برادے کی طرح گھل مل جانا چاہیے لیکن ایسا یہاں نہیں چل سکتا تھا۔اس لیے بعد میں احساس ہوا کہ لوگ یہاں سڑک پر بھی اپنے ماتھوں پر اپنے عہدوں کی تختیاں لگائے کیوں گھومتے ہیں۔

 

دوسراواقعہ یہ ہے کہ طلعت اور روشن، یعنی کہ انہی دو لڑکیوں کو ساتھ میں پڑھانے کے دوران بہت سی ادھر ادھر کی باتیں ہوجایا کرتی تھیں، ایک دن طلعت نے بتایا کہ اسے اپنے ہی کسی استاد پر کرش ہے۔میں چونک گیا کیونکہ استاد تو میں بھی تھا لیکن اس زمانے میں مجھے اس کی امید کم تھی کہ میری طرف کوئی بہت خوبصورت لڑکی اس طور بھی دھیان دے سکتی ہے۔واقعہ یہ تھا کہ میرا ایک دانت ، جو کہ سامنے کی اوپری جانب کا تھا، ٹوٹ گیا تھا۔یہ تب ہی سے ٹوٹا ہوا تھا، جب میں ممبئی سے دہلی آیا تھا،جس حادثے میں میں نے اپنا یہ دندان شہید کروایا تھا، وہ خاص ایک کتے سے تعلق رکھتا ہے، اور اسی دن سے کتوں نے میرے دل میں ایک بڑا خوف سا پیدا کردیا تھا، ممبئی کے علاقے میرا روڈ میں جب میں کورئیر بانٹا کرتا تھا، جو کام میں نے ٹھیک سے شاید مہینہ دیڑھ مہینہ ہی کیا تھا۔ اس زمانے کی بات ہے کہ ایک بلڈنگ میں مجھے خط پہنچانے جانا تھا، میں ایک سائیکل پر خطوط لے کر نکلا کرتا تھا۔ آخری خط بچا تھا، بلڈنگ گھر سے بہت دور نہیں تھی، چنانچہ سوچا کہ اسے بھی پہنچا دیا جائے۔جب بلڈنگ کے پھاٹک سے اندر داخل ہوا اور بلڈنگ میں جانے کے لیے دائیں جانب کو مڑا تو دیکھتا کیا ہوں کہ ایک کافی بھاری بھرکم چاکلیٹی رنگ کا کتا، اپنی دم کو اپنی بانہوں میں دبائے آرام کررہا ہے، میری ہمت نہ ہوئی کہ اسے پار کرکے اوپر کی جانب نکل جاؤں۔

 

ایسے وقت میں جب سڑک پر کوئی آدمی کسی جانور سے خوفزدہ ہوکر سہما ہوا کھڑا ہو، اسے ایک محفوظ گھر سے دیکھنے کی انسانی جبلت الگ ہی لطف دیتی ہے ۔
ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے بلڈنگوں میں خطوط پہنچاتے وقت کتوں سے میرا سامنا نہ ہوتا ہو، لیکن وہ کتا کچھ دراز قامت تھا اور بھیانک شکل و صورت کی صفت بھی رکھتا تھا۔میں باہر آیا اور سائیکل پر بیٹھ کر اسے موڑنے لگا، اچانک ایک دوسرا کتا، جو کہ نہ جانے کہاں سے منظر کی سفید چادر پر نمودار ہوا اور اپنی گرجدار آواز سے اس میں چھید کرنے کی کوشش کرنے لگا۔اس کے چمکتے ہوئے دانت، ٹپکتی ہوئی رال اور بھوں بھاں اس قدر بھیانک تھے کہ مجھے کچھ سمجھ نہ آتا تھا کہ کروں تو کیا کروں، ہوتا یہ تھا کہ جہاں میں پیڈل پر پیر رکھ کر اسے آگے بڑھانا چاہوں ، وہاں وہ بھونک کر میری جانب بڑھ جاتا، ادھر میری حالت ایسی کہ پاؤں بھاری ہوئے جارہے تھے، جب میں پرسکون ہوجاتا اور حرکت نہ کرتا تو وہ بھی بیٹھ جاتا۔اس وقت اس کے بھرپور گدرائے ہوئے چکنے بدن میں جس پھرتی سی کسی ضدی بچے کی روح داخل ہوئی تھی، وہ میری عاقبت کے لیے کافی اندوہناک ثابت ہونے والی تھی۔میں نے دیکھا کہ گراؤنڈ فلور کی ایک گریل میں لٹکا ہوا چھوٹا سا ایک لڑکا بڑی ہی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔میں اس کی دلچسپی کو سمجھ سکتا تھا۔ایسے وقت میں جب سڑک پر کوئی آدمی کسی جانور سے خوفزدہ ہوکر سہما ہوا کھڑا ہو، اسے ایک محفوظ گھر سے دیکھنے کی انسانی جبلت الگ ہی لطف دیتی ہے ۔بہرحال، رکنے کا کوئی فائدہ نظر نہ آتا تھا، میں نے تیزی سے اچانک پیڈل پر پیر رکھ کر اسے بھگانا شروع کر دیا، بائیں جانب مڑتے ہی پیچھے جو اک نظر کی تو بھاگتا اور ہانپتا ہوا وہی کتا، بالکل میرے پیروں سے لپٹا نظر آیا، ہوا کے اس تیز کینواس پر میری چیخ اور دہشت کا ایک بھرپور رنگ پھیلتا جارہا تھا۔سامنے کسی نے پھاٹک بند کردیا تھا اور سائیکل میں بریک نہ تھے۔میں نے پیڈل پر ابتدائی قدم دھرتے ہوئے یہی سوچا تھا کہ سائیکل کو بھگاتا ہوا پھاٹک سے باہر لے جائوں گا، لیکن میری امیدوں کا در بند تھا اور راستہ تنگ تھا، نہایت منطقی قسم کا سوال اس موقع پر یہ ہوسکتا ہے کہ اگر اس وقت سائیکل میں بریک ہوتے بھی تو کیا میں انہیں لگانے کی دلیری کا متحمل ہوسکتا تھا۔بہرحال دھاڑ سے جاکر سائیکل پھاٹک سے ٹکرائی ، اونگھتا ہوا پھاٹک اس بد ہنگم قسم کی اچانک بغل گیری پر ایسا بوکھلایا کہ اس کا ایک پٹ دور تک گھسٹتا چلا گیا، میں ایک ذرا ہوا میں اچھلا اور دھڑام سے زمین پر آرہا، بلڈنگ کے باہر موجود دکان پر سے کچھ لونڈے میری طرف دوڑے ، جب تک وہ میرے پاس آئے، کتا مجھے سونگھ سانگھ کر بھاگ چکا تھا۔اسی حادثے میں میرے مسوڑھوں کا خون ایک دانت کو کھوکھلا کرتا ہوا اس میں اتر گیا اور وہ دانت کالا پڑتا چلا گیا، کچھ عرصے بعد ایک دن جب میں انڈا بریڈ تناول فرمارہا تھا، کٹ کی سی ایک ہلکی آواز ہوئی اور وہ داغ نما دندان چھوٹے سے نوالے کی قالین میں لپٹا ہوا میری ہتھیلی پر اتر آیا۔کافی بعد میں جاکر میں نے اس مقام پر ایک مصنوعی دانت لگوایا تھا جو کہ بدستور اپنی جگہ پر قائم ہے۔

 

اس سے پہلے دو دفعہ طلعت کا ذکر آچکا ہے، مگر درمیان میں کوئی نہ کوئی واقعہ نکل آتا ہے۔تو میں بتا یہ رہا تھا کہ اس نے مجھے بتایا کہ اسے اپنے ایک استاد سے محبت ہے، تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ جن صاحب کے بدن سے انہیں عشق کی بو آرہی ہے، وہ فیضان علی ہیں۔فیضان ایک بہت ہی ہینڈسم نوجوان تھے، وہ کوچنگ کی اس چھوٹی برانچ میں پڑھایا کرتے تھے، جس کے وہ مالک بھی تھے اور روح رواں بھی۔وہاں یہ لڑکیاں ان سے انگریزی وغیرہ پڑھنے جایا کرتی تھیں۔لیکن اس وقت تک میں نے انہیں نہ دیکھا تھا، پھر ایک روز جب وہ جوگابائی والی برانچ میں آئے تو میری ان سے ملاقات ہوئی۔میرے دل پر ان کے نقوش کا گہرا اثر ہوا اور ہماری دوستی ہوگئی۔ یہ اتفاق ہی تھا ، مگر اتفاق ، فیضان جتنا ہی حسین نکلا۔میں ہمیشہ سے محبت کرنے والوں کی قدر کرتا ہوں، طلعت فیضان کو پسند کرتی تھی، یہی بات میری اور فیضان کی دوستی کا محرک ثابت ہوئی۔وقت گزرا، بہت سا وقت گزرا ، رفتہ رفتہ طلعت تو کہیں غائب ہوگئی، مگر فیضان سے میری دوستی بہت گہری ہوگئی۔آج وہ ایک شادی شدہ مرد ہیں ، اور ان کی یہ شادی شدگی، میری زندگی سے ان کی بہت حد تک گمشدگی کا باعث بھی ہوئی ہے۔ لیکن طلعت ان کی بیوی نہیں ہےبلکہ ان کے ہی ایک اور بہت گہرے دوست کی بیوی ہے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، ایسا طویل قصہ، جس میں بہت سے داؤ پیچ ہیں۔مگر میں انہیں کم لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 8

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ڈسپلن کا بڑا عجیب و غریب معنی ہم نے بنالیا ہے اور وہ ہے طے شدہ اوقات میں کوئی کام کرنا۔کام دل سے ہوا کرتے ہیں، طے شدہ اوقات کے حساب سے نہیں
ہر بات انسان کے طے شدہ معاملات کے ساتھ نہیں چلتی ہے، میں نے ایسے دوست دیکھے ہیں، جو زندگی کو برتنے کے قاعدے بناتے ہیں، پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں، حساب لگاتے ہیں اور پھر ایک دنیا بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے زندگی سے اب تک یہ نہیں سیکھا کہ وہ بالکل غیر متوقع ہے۔ اتنی غیر متوقع کہ جو بات ہم سوچتے ہیں، اسے کرنے اور کرپانے میں بہت فاصلہ ہوتا ہے۔اس لیے زیادہ ضروری یہی ہے کہ جینے کا موقع مل رہا ہے تو جی لیجیے۔ جس دوپہر آپ کا دل لمبی تان کر سونے کا چاہ رہا ہو،اگر اس دوپہر آپ کسی دفتر کی چپچپی کرسی پر چوتڑ چپکائے بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ بے وقو ف ہیں۔ڈسپلن کا بڑا عجیب و غریب معنی ہم نے بنالیا ہے اور وہ ہے طے شدہ اوقات میں کوئی کام کرنا۔کام دل سے ہوا کرتے ہیں، طے شدہ اوقات کے حساب سے نہیں، مجھے اگر پڑھنا اچھا لگتا ہو تو میں لمحوں کو گن کر، ان کا حساب لگا کر نہیں پڑھوں گا اور اگر میں پڑھنے کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتا ہوں تو بے وقوف ہوں، کیونکہ میں اگر ایسا کرتا بھی ہوں تو اس دوران پڑھنے سے زیادہ ٹائم پر توجہ دوں گا۔کاموں کو مشینی طور پرکرنے کے ہم اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ زندگی کو بھی مشینی طور پر ہی گزارنا چاہتے ہیں۔میں نے جو بھی نوکریاں کیں۔ آرچ میڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ میں یا ریختہ میں یا کہیں اور۔ان میں کبھی میں نے خود کو بھاگتے ہوئے دفتر نہیں پہنچایا۔میں چاہتا تو دوسروں کی طرح ایسا کرکے باس کی نظر میں ایک ڈسپلنڈ انسان بن سکتا تھا، مگر مجھے ڈسپلن سے زیادہ زندگی کی قدر کرنی تھی اور میں وہی کرتا ہوں۔کوئی بھی نوکری آپ سے بس بندھا ٹکا وقت چھین سکتی ہے، آپ کے نصیب کا چین سکون نہیں چھین سکتی۔اور سارا چین سکون حاصل ہونے سے پہلے اپنی ذات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔گدھوں کی طرح زندگی گزار کر، خود کو انسان تصور کرنا ایک بڑی حماقت ہے۔آپ جو کام پسند کرتے ہیں، اس میں کی جانے والی محنت ، اس کا صحیح پھل دیتی ہے، پھل اس طرح کہ وہ کام بہت عمدہ ہوتا ہے، لوگ اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، آپ کی محنت رنگ لاتی ہے،اس میں وقت کا حساب نہیں ہوتا، کبھی کبھی آپ چوبیسوں گھنٹے جاگ کر وہ کام کیا کرتے ہیں، آنکھیں لال ہوجاتی ہیں، گھر والے چخ چخ کرتے ہیں، نزلہ ہو، زکام ہو یا بخار، جس کام سےعشق ہو، اسے کرنے سے کوئی جسمانی یا ذہنی پریشانی روک نہیں سکتی۔میں نے بہت پریشان کن حالات میں بھی ادبی کام کیے ہیں، جو مجھے اچھے لگتے تھے، جن دنوں نہیں اچھے لگتے، نہیں کرتا ہوں۔جن پروڈکشن ہاوسز میں میں کام کیا کرتا ہوں، وہاں ایک دن قریب چار سال پہلے کی بات ہے، مجھ سے کسی پروڈیوسر نے کہا کہ تصنیف! پروفیشنل رائٹنگ کا مطلب ہے، وقت پر کام کرکے دینااور اچھا کام کرکے دینا، رائٹنگ اس فیلڈ میں صرف آرٹ نہیں ہے، بلکہ ذمہ داری ہے، میں نے اس سے کہا کہ ذمہ داری کیا ہے، صرف کام کردینا، یا کام کو اچھی طرح کرنا۔اس نے جواب دیا کہ اچھی طرح کرنا۔میں نے کہا کہ اگر میں دو ہفتوں تک کچھ اچھا سوچ ہی نہ سکوں تو اچھا کیسے لکھوں گا۔۔اور اگر اچھا نہیں لکھوں گا تو پہلی ذمہ داری ہی نہیں نبھاپاوں گا، دوسری کا کیا بنے گا۔اسی طرح ایک دن میری ایک دوست نے مجھے ٹوکا تھا، اس نے کہا کہ تصنیف تمہیں مکالمے نہیں لکھنے آتے، تم یہ مت لکھا کرو، اس دن سے میں نے ڈائیلاگ رائٹنگ کا کام لینا بند کردیا۔مجھے واقعی احساس ہوا کہ میں نے کچھ غلط کام لے لیا تھا۔ایسے اور بھی بہت سے کام ہیں، جن کو کرکے، ان میں ناکامی اٹھانے کے بعد میں نے تہیہ کیا کہ دوبارہ ان کی طرف کبھی رخ نہیں کروں گا۔

 

میں مانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے مجبور لوگ بھی ہیں کہ جنہیں کھانے میں نمک کم یا زیادہ محسوس ہونے پر بھی کسی طرح لقمے توڑنے پڑتے ہیں مگر اس زہر مار کو خود پر حاوی ہونے دینے کا مطلب ہے کہ آپ ایک روز اصل کھانے کا مزہ بھول جائیں گے۔
ہمارے ایک دوست اور خیر خواہ ہیں، طارق فیضی، انہوں نے مجھے ایک دفعہ سخت پریشانی کے عالم میں ایک انگریزی ناول کا ترجمہ کرنے کے لیے دیا، میں نے اسے جلد از جلد کردیا۔ اس زمانے میں انگریزی ناول کا ترجمہ کرنے پر ایک فخر کا سا احساس بھی ہوا تھا، اس ترجمے کی قیمت بہت کم ملی تھی،مگر مجبوری تھی، کیونکہ میں خود ترجمے کے کام کی اہمیت اورقیمتوں کو ٹھیک سے نہیں جانتا تھا۔طارق فیضی، اردو پریس کلب انٹرنیشنل کے جنرل سکریٹری ہیں اور بہت یار باش قسم کے آدمی ہیں اور کھلکھلانے، کھل کر زندگی بتانے کے قائل ہیں، ہرسال دبئی میں ایک عالمی مشاعرہ کرتے ہیں اور بہت کامیاب قسم کی زندگی گزار رہے ہیں۔سیاست، فلم اور دوسرے تمام شعبوں میں ان کی شناسائی بہت اچھے لوگوں سے ہے۔وہ کام دبئی میں ہی رہنے والے کسی ہندوستانی نژاد شخص کا تھا۔ میں نے جو ترجمہ کیا سو کیا، اس پر ایکسائٹمنٹ میں دیباچہ بھی لکھا۔ وہ ایرانی پس منظر میں لکھا گیا ایک انگریزی ناول تھا، ایک تو ناول بہت پھسپھسا تھا، دوسرے نہایت خراب ترجمہ، اس پر بے ڈھنگے قسم کا دیباچہ، جس میں بلا سبب کی اوٹ پٹانگ باتیں میں نے بھردی تھیں۔اس وقت میرے ایک دوست فیاض احمد وجیہہ نے مجھے بہت برا بھلا کہا تھا، میری ان سے اس معاملے پر کچھ ان بن بھی ہوگئی۔ مگر ان کی بات صحیح تھی، جس کا بعد میں مجھے اندازہ ہوا،اصل میں میں ان کے آئینہ دکھانے سے کچھ کھسیا گیا تھا۔ترجمے کی خرابی کا سارا بھگتان طارق صاحب نے جھیلا، ان کا تعلق بھی اس شخص سے کچھ خراب ہوا مگر طارق فیضی کی زندہ دلی پر حیران رہ گیا کہ اس نے مجھ سے ایک حرف بھی خراب نہ کہا۔بس مجھے یہی سمجھایا کہ تصنیف! کام نہ کرو، کوئی کام دو سال تک نہ کرو، مگر جب کرو تو ایسا کہ دنیا اش اش کراٹھے۔تب میں نے فیصلہ کیا کہ کاموں میں جلد بازی اچھی چیز نہیں۔لوگ جسے پرفیکٹ کام کہا کرتے ہیں، اس کا کوئی وجود نہیں، اول تو اچھا کام انتخاب کرنے کا موقع ہم جیسوں کو ملتا ہی کہاں ہے۔جو کام دے دیا گیا ہے، وہ بس کرنا ہے، اور اس لیے کرنا ہے تاکہ دوسرے اس سے بہت سا فائدہ حاصل کریں۔

 

میں ایک پروڈکشن ہاوس کے لیے آج بھی کام کرتا ہوں، ان کا طریقہ یہ ہے کہ مجھے کام بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اطمینان سے کرنا یا پھر انکار کردینا۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آج تک ان کے جتنے کام میں نے کرکے دیے ہیں، وہ ان کی بیسٹ ڈیل کے طور پر انہیں دستیاب ہوئے ہیں۔طے شدہ وقت میں آپ وہی کام کرسکتے ہیں، جس میں ہروقت آپ کا دل لگا ہوا ہو، وہ کام تو آپ اس وقت سے کم میں بھی کرلیں گے۔مگر جن کاموں کو کرنے کا دل ہی نہ ہو، وہ بس معاشی مجبوریوں کے تحت کیے جارہے ہوں، انہیں کرنے یا کرتے رہنے کو ، گھسے پٹے انداز سے کرنے سے بہتر ہے کہ آپ درمیان میں ہی چھوڑ دیں۔میں مانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے مجبور لوگ بھی ہیں کہ جنہیں کھانے میں نمک کم یا زیادہ محسوس ہونے پر بھی کسی طرح لقمے توڑنے پڑتے ہیں مگر اس زہر مار کو خود پر حاوی ہونے دینے کا مطلب ہے کہ آپ ایک روز اصل کھانے کا مزہ بھول جائیں گے۔میں اصل کھانے کا مزہ بھولنا نہیں چاہتا، یہ میرے وجود کا مسئلہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ زندگی پر ڈسپلن کو زیادہ ترجیح دیتے ہوں، جیسے بہت سے لوگ زندگی پر مذہب کو، قومیت کو یا پھر محبت کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے لیے مارنے مرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ میں وہ کام نہیں کرسکتا، چنانچہ یہ کرتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔

 

یوں تو ہمارا اندرونی سسٹم کسی اجگر کے بگڑے ہوئے ہاضمے کی طرح سڑتا جارہا ہے، مگر ہم لوگوں میں ذوق پیدا کرنے کے بجائے، اسے ماررہے ہیں۔
ادبی کاموں میں بھی میں کبھی کبھی جب بہت اکتا جاتا ہوں تو اچھی سے اچھی کتاب کو اسی وقت بند کردیتا ہوں، زبردستی کسی ایک سطر کو بھی پڑھنا میرے لیے بڑا مشکل کام ہے۔مجھ سے لوگوں نے اکثر شکایت کی ہے کہ ہم نے آپ کو بہت سی نظمیں، غزلیں اور نہ جانے کیا کچھ بھیجا ہے، آپ نے کبھی نہیں دیکھا۔یقین جانیے کہ اگر میں انہیں دیکھنے لگوں اور خود کے ساتھ ہلکی سی بھی زبردستی کروں تو ممکن ہے کہ بہت اچھی چیز بھی میرے سر سے گزر جائے اور مجھے اس کا احساس تک نہ ہو۔یوں تو ہمارا اندرونی سسٹم کسی اجگر کے بگڑے ہوئے ہاضمے کی طرح سڑتا جارہا ہے، مگر ہم لوگوں میں ذوق پیدا کرنے کے بجائے، اسے ماررہے ہیں۔آفرین کے بارے میں آپ لوگ جانتے ہیں۔وہ مجھ سے کہا کرتی تھی کہ تصنیف! اردو پر اتنی توجہ نہ دو، تم جتنا کام اردو زبان میں کررہے ہو، اس کا ایک تہائی انگریزی میں کروگے تو کچھ ہاتھ لگے گا، ورنہ ایک دن یا تو سائڈوں سے اڑے ہوئے بالوں اور ایک موٹے چشمے سمیت ، جرسی پہنے کسی پروفیسر کی طرح بڑبڑانے لگو گے یا پھر تھر ڈ ورلڈ کے کسی فرسٹریٹڈ رائٹر کی طرح خودکشی کرلو گے۔مجھے اب اس کی باتوں پر ہلکا ہلکا یقین سا آنے لگا ہے۔جب میں دیکھتا ہوں کہ مجھے لوگوں کی ٹھڈیوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں بتانا پڑتا ہے کہ میں نے کچھ کام کیا ہے، جسے آپ مشہور اخبارات یا خبر رساں ویب سائٹس کے ذریعے بہت سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔اور یہ کام افادیت پسندی کے پیش نظر نہیں کیا گیا ہے، بس اس کا مقصد ہے ، لوگوں تک ایک ایسی انفارمیشن کا پہنچنا، جو ان تک پہنچنی چاہیے۔تو وہ میرے کاموں کو سراہتے ہوئے ، ایک چھوٹی سی خبر کے لیے بھی معقول وجوہات بھیجنے کی درخواست کرتے ہیں۔ان کی غلطی نہیں ہے، کسی شرمندہ و شیریں زبان کے لیے تگ و دو کرنے والے کو ایسی کوئی خاص اہمیت حاصل ہونی بھی نہیں چاہیے ۔

 

بہرحال ، ان واقعات پر مجھے کلدیپ نیر کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ جب وہ دہلی میں اردو کے ایک اخبار، انجام کے لیے کام کررہے تھے، تو انہی دنوں اس کے ایک دفتر میں ایک بوڑھے شخص نے انہیں مشورہ دیا کہ بیٹا، اردو کا زمانہ لد گیا، اگر چاہتے ہو کہ کسی زبان میں لکھ کر دوسروں کے دست نگر نہ بنو تو انگریزی میں لکھا کرو، وہ بوڑھا کوئی اور نہیں اردو صحافت کا ایک زریں باب تھا، جسے دنیا حسرت موہانی کے نام سے جانتی ہے۔ بہرحال ابھی تک تو وہ نوبت نہیں آئی کہ مجھے اردو میں لکھ کر شرمندہ ہونا پڑے، لیکن ہاں آبھی سکتی ہے۔اس لیے اس بارے میں کچھ سنجیدگی سے سوچنا ضروری ہے۔

 

ابھی تک تو وہ نوبت نہیں آئی کہ مجھے اردو میں لکھ کر شرمندہ ہونا پڑے، لیکن ہاں آبھی سکتی ہے۔اس لیے اس بارے میں کچھ سنجیدگی سے سوچنا ضروری ہے۔
گورو اور میں ایک دفعہ یوسف سرائے کی سڑک پر رات کو تین بجے ایک نالے کی پائری پر بیٹھے تھے۔ ادھر ادھر کتے منڈرارہے تھے، ہم کسی ٹھیلے سے خریدا ہوا ایک چھوٹا برگر ان دنوں بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے، گورو اس دن یہی سوچ کر بہت پریشان تھا کہ اس نے ہندی میڈیم سے کیوں پڑھائی کی۔میں نے اس سے کہا کہ واقعی ہم لوگ دونوں بڑے عجیب و غریب منظر میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔سین یہ ہے کہ ایک قوم تھی، جس نے خود کو زبان اور مذہب کی ایک بڑی سی تلوار سے آدھا آدھا کاٹ لیا، خون اچھلا، ہاتھ پیر تڑپے، جڑواں جسموں سے تڑپ تڑپ کر ہزاروں روحیں چیختی چلاتی آسمانوں کی طرف دوڑنے لگیں، چاند سرخ ہوگیا، بادل گاڑھے اور زہر آلود، پٹریوں پر خون کے سیاہ دھبے، جو آتی جاتی ٹرینوں سے لٹکتی ہوئی لاشوں کی زبانوں پر ثبت ہوتے رہے مگر اس پوری چیخ پکار، لڑائی بھڑائی کے جو بنیادی مقاصد تھے، دو لوگ، ایک ہندو، ایک مسلمان۔آج وہ دونوں ہی ایک نالے کی پائری پر بیٹھے ہیں، آس پاس کتے منڈرارہے ہیں اور ایک ٹھیلے سے خریدا ہوا برگر کھاتے ہوئے اپنی مادری زبان کو گالیاں دے رہے ہیں۔کیا انگریز واقعی چلا گیا ہے؟کیا ہم واقعی کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں؟کیا ہمیں واقعی لڑنا چاہیے تھا؟کیا ہم واقعی ملک پرست لوگ ہیں؟ پتہ نہیں، مگر ہم انہی لوگوں کی اولاد ضرور ہیں، جنہوں نے وقت کے بہتے ہوئے سرخ دریا میں اپنے پھولتے ہوئے جسموں کو دیکھ کر بھی کبھی کوئی احتجاج نہیں کیا، ہمارے اجداد کے ہاتھوں میں انگریز کی پہنائی ہوئی ڈیڑھ سو سالہ پرانی زنجیریں تھیں، جو اب بھی پڑی ہیں، زنگ آلود، بجتی ہوئی زنجیریں،جنہیں توڑتے توڑتے مسوڑے زخمی ہوچکے ہیں اور پائوں تھک کر رات کے سرہانے اس نالے کی پائری پر لٹکنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں، اب کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ پیر تعفن پھیلاتی ہوئی سیاہ لہروں کی جانب ہیں یا پھر کالک اگلتی ہوئی اوبڑ کھابڑ سڑک کی طرف!!
(جاری ہے)
Categories
فکشن

کسی صبا رفتار کا بیان

آپ نے کبھی صبا کو دیکھا ہے۔وہ ایک نامعلوم ہستی ہے۔ایک ایسی دنیا جس کےرگ و پے میں برق بستی ہو، جس کی آنکھوں سے روشنی برستی ہو۔میں وقت کے دھارے پر چلتا ہوا نہ جانے کہاں پہنچا ہوں کہ اب یہ جس شخص کا خاکہ میں لکھ رہا ہوں، اس کا نام بیان نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ایک خیالی انسان ہے۔ایک ایسا انسان جس کا وجود ہے بھی یا نہیں۔اس کا مجھے علم نہیں۔بس میں نے اسے اتنی دیر کے لیے تراش لیا ہے، جتنی دیر کی بورڈ کے کپڑے پر انگلیوں کی سوئیاں پڑتی رہیں اور سل کر تیار کردیں ایک ایسا لباس، جس میں شاید ہی کوئی شخص فٹ ہوسکے، سوائے اس کے، جو ہے اور مجھے ملا نہیں اور جو ہوگا بھی تومجھے نہ ملنے کے لیے۔

 

کتھئی اور سرمئی رنگ کی ملی جلی دھجیوں سے اس کا بدن تیار کیا گیا ہے۔چمکتے ہوئے ریشم کے سے پھسلواں کپڑوں کو اس کی جلد تعبیر کرلیا گیا ہے۔
کتھئی اور سرمئی رنگ کی ملی جلی دھجیوں سے اس کا بدن تیار کیا گیا ہے۔چمکتے ہوئے ریشم کے سے پھسلواں کپڑوں کو اس کی جلد تعبیر کرلیا گیا ہے۔قدرت ایک ایسی ہی غلطی کی نمائش میں غرق ہوئی جارہی ہے، جس میں اس شخص کی بغاوتوں کے سارے اوبڑکھابڑ اور آڑھے ٹیڑھے، ترچھے بانکے طریقے موجود ہیں۔وہ کبھی راجستھان کی گرد میں اٹی ہوئی ہواؤں جیسی معلوم ہوتی ہے تو کبھی کیرالا کے جنگلوں کے سر سبز مناظر میں لپٹی ہوئی۔ ذہانت اس کے روم روم میں ہے، اسی طرح جس طرح معصومیت اس کے چہرے کی ہلکی دھاریوں میں رقص کرتی ہے، گال پر بن جانے والے سانولے اور ہلکے گہرے کنویں، جن میں عاشقوں کے دل ڈول بن کر ڈوبتے جارہے ہیں، خوابوں کی تنی ہوئی رسیوں سمیت۔وقت ایک دہلیز ہے، جس پر کوئی گہرے اور چمکتے ہوئے سیاہ رنگ کا سانپ بیٹھا اس خزانے تک پہنچنے سے عمر کو باز رکھے ہوئے ہے۔وہاں عمر نہیں پہنچ سکتی۔وہاں صرف اتہاس کا حسن اور پھیلے ہوئے مستقل کی تابناکیاں پہنچیں گی، جس قدر وہ پہنچ سکیں اور اس دہلیز کو ایک دن یہ گزرے اور آنے والے کل کی دنیائیں ایک ساتھ اپنی چپیٹ میں لے لیں گی اور وہ سانپ ان کے درمیان پس کر رہ جائے گا۔ قطار میں رکھے ہوئے دیپکوں جیسے اس کے دانت اور ملہار ٹپکاتی اس کی میٹھے اور پھیکے لعاب میں دھنسی ہوئی بولی۔ اس کی پتلی گردن، جس پر پسینے پر بہنے والی کاٹ دار نمکین بوندوں نے تین کٹوریاں سی بنادی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے بادلوں کی تین انگلیاں کسی روشن سیارے کی دیوار سے بیل کی طرح لپٹی ہوئی ہوں۔ کندھے، جنگ کے میدان پر ٹھکی ہوئی ڈھالوں کی طرح قدم گاڑے ہوئے، چکنے، سخت اور مٹھیوں کی گرفت سے مچھلی کی طرح نکلنے کی صلاحیت رکھنے والے۔گردن سے ذرا نیچے سینے کے شفاف میدان پر تھپا ہوا ایک کالا تل۔جیسے بہت اوپر سے دیکھنے پر کسی خاکی میدان میں تنہا اپنا وجود سنبھالے کھڑی کوئی چٹان نظر آجاتی ہے، ایک گنجی اور ننگی، کالی چٹان۔جس کی تپش سے الجھنے کی نہ جرات ہو، نہ ہر کس و ناکس کو اسے دیکھ سکنے کی توفیق۔سینہ، جیسے کسی نے دو چھوٹے چھوٹے اپلے، اپنی نئی نویلی بدن کی جھگی پر تھوپ دیے ہوں۔ترنگوں جیسے لمبے ہاتھ،امس جیسی پسیجی ہوئی بغلیں، گلوب جیسا گول پیٹ، آواز جیسی مہین کمر، شبد جیسی عظیم شرمگاہ اور اس پر آس پاس بکھری ہوئی تابناک ہلکی سیاہ پتیاں، ان پتیوں سے بہنے والے سفید رنگ کے گاڑھے اور پتلے پانیوں کی دو نہریں، ان نہروں پر جھکا ہوا ایک چلو، اس چلو کی بڑھتی ہوئی پیاس اور اس پیاس کی بھٹکتی ہوئی سانسیں۔

 

یہ شخصیت محض خواب کے چھلکوں پر زندہ نہیں رہنا چاہتی، اسے حقیقت کے پھل چاہیئں۔نہ ہوں تو یہ انہیں اگانے، سینچے اور سجانے کا ہنر جانتی ہے۔پھل کے لیے ساری محنت کرنے کے بعد اسے توڑنے سے اسے قدرت نہیں روک سکتی، اگر روکنا چاہے گی تو منہ کی کھائے گی
بدن کی اس آخری اوٹ کے نیچے پھیلی ہوئی اور تنی ہوئی دو ننگی ٹانگیں ہیں۔ان ٹانگوں کا قصہ کسی قصہ گو سے سنیے گاکہ ابھی وقت کی نبض ایک شاعر کے ہاتھ میں ہے، شاعر جو اپنی چھلکتی ہوئی نگاہوں کے ساتھ، دھندلائے ہوئے اس منظر پر، اور سجے ہوئے اک بستر پر اس بدن کو خاک ہوجانے سے روک رہا ہے، اس کے دونوں ہاتھ،اس نامعلوم ہستی کے تنور میں اترے ہوئے ہیں، تھمے ہوئے ہیں، اس طرف مٹی کی ایک بھاری بھرکم سطح ہے اور پر غراتی ہوئی آگ کی لپٹیں، ہاتھ جل رہے ہیں،مگر لپٹوں نے اب ان کو اپنی گول گرفت میں جکڑ لیا ہے ۔سارےپور جھلس گئے ہیں، انسانی تماشے کے اس سب سے گرم اور دہکتے ہوئے تنور میں لگی ہوئی روٹیاں جل کر راکھ ہوئی جارہی ہیں۔ادھر نہروں کا زور بھی جاری ہے۔ بادل، دھوئیں کی شفاف لہروں سمیت گھرر گھرر کرتے ہوئے شاعر کے مساموں میں اتر رہے ہیں اور انہیں میں پھوٹے جارہے ہیں۔

 

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کسی شخصیت کے تذکرے میں شاعر کا ذکر کہاں سے آیا۔محترم قارئین! شاعر اور یہ شخصیت کوئی بہت الگ مخلوق نہیں ہیں۔یہ شاعر کا ہی عکس ہے جو اس کے دونوں اطراف موجود ہے، آئینے کے ادھر بھی اور اُدھر بھی۔لیکن اگر آپ اتنےہی جز بز ہیں تو اسی طرف چلتے ہیں۔پھر ذکر ہورہا تھا اسی شخص کا، جس کے بولنے پر محسوس ہوتا ہے، تتلیاں چٹخارے لے رہی ہوں، پھول کیڑوں کی سونڈوں میں اپنے ہونٹوں کے رس اتار رہے ہوں۔ یہ سب ہوتا ہے، اصل میں، اسی دنیا میں ہوتا ہے، مگر نظر نہیں آتا۔خاص طور پر ان کو، جو ایسے لوگوں کو دیکھنا نہیں چاہتے۔اس شخص کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اسے اپنے ہونے کا علم ہے، ہم میں اور آپ میں کتنے لوگ ہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ وہ ہیں صرف اسی لیے تاکہ وہ ہو سکیں اور ہوتے جائیں۔ ان کو اپنے ہونے پر نہ کوئی شرمندگی ہے اور نہ کوئی فخر، وہ بس زندگی کے اس شاندار محل کا پورا چکر لگانا چاہتے ہیں۔ بدن کی دھوپ چھاؤں میں کبھی اعتماد کی رسی تھام کر، کبھی دھوکے اور فریب کی چھڑیاں کھاکر چلتے رہنا چاہتے ہیں۔انہیں گرنا بھی اتنا ہی پسند ہے، جتنا چلنا، انہیں ٹھوکر کھانا بھی اتنا ہی اچھا لگتا ہے، جتنا سنبھل کر دامن جھاڑنا۔ وہ دوسروں پر ہنستے نہیں، کسی کی بھی، کیسی بھی خواہش اور کسی کے بھی کیسے وجود پر سوالیہ نشان نہیں لگاتے۔ وہ بس ہر اس شخص کو اس کی زندگی کی حرارت سمیت قبول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، جس کا پیٹ سانس کی آنکھ مچولی کی وجہ سے پھولنے پچکنے پر مجبور ہے۔

 

، میں اسے صبا کہوں یا صبا رفتار ۔مگر بات یہی ہے کہ وہ گزری جاتی ہے، نگاہوں کے سامنے سے، ٹھنڈک پہنچاتی ہوئی، کانوں میں سچے شہد کی سی سرگوشیاں گھولتی ہوئی مگر ہم جھونکوں کو محسوس کرنے سے عاری لوگ ہیں۔
یہاں سے اب ایک اور قصہ اس شخصیت کے تعلق سے شروع ہوتا ہے، وہ خسارے میں زندہ رہنے والی شخصیت ہے۔ یعنی کہ ہے بھی اور اپنے آپ کو منوانا بھی نہیں چاہتی۔ وہ خود کا بہت نقصان چاہتی ہے،ذہنی طور پر، جسمانی طور پر، جنسی طور پر اور دوسرے جو بھی طریقے کارآمد ہوسکتے ہیں۔مگر اس شخصیت کو پہچاننا بڑا مشکل ہے۔جیسے کہ سفر کرتے کرتے ایک ہلکے سے موڑ پر اچانک دایاں منظر، بائیں منظر میں تبدیل ہوجاتا ہے، اسی طرح اسے سمجھتے ہوئے فلسفی دماغ کے زاویے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔یہ شخصیت محض خواب کے چھلکوں پر زندہ نہیں رہنا چاہتی، اسے حقیقت کے پھل چاہیئں۔ نہ ہوں تو یہ انہیں اگانے، سینچے اور سجانے کا ہنر جانتی ہے۔پھل کے لیے ساری محنت کرنے کے بعد اسے توڑنے سے اسے قدرت نہیں روک سکتی، اگر روکنا چاہے گی تو منہ کی کھائے گی، لیکن قدرت اسے کہاں روکتی ہے، وہ تو اس کی ماں کی طرح پرورش کرتی آئی ہے، اس کی باچھوں کو کھلتا ہوا دیکھ کر وہ بھی مسکراتی رہی ہے۔ یہ تو ایک مصنوعی قدرت ہے، جو انسانی ذہن کی بنائی ہوئی، ترشی ہوئی ہے، جو اسے ذلیل کرنے کی فراق میں خود خوار ہوئی جارہی ہے۔ اس نے صرف اس ایک شخصیت کی بے عزتی پر کمرکسی اور خاک پھانکی ہے، مگر اس کا دل نہیں بھرتا۔ اس کے پاس تو شاید دل ہے ہی نہیں۔دل تو اس کے پاس ہوسکتا ہے، جس کے پاس سینہ ہو،اس لیے دو ہلکے گول گلابی دائروں کی اوٹ میں رکھے ہوئے دل کے سورج تک کون پہنچ سکے گا، جو اس کے سینے تک نہیں پہنچنا چاہتا ہے اور پہنچنا چاہتا بھی ہے تو صرف رات میں۔ اس لیے صرف ان کھردری کھالوںمیں لپٹی ہوئی گولائیوں کو چھو کر اس کی انگلیاں لوٹ آتی ہیں، اس کی مٹھیاں،ان چھوٹے بڑے گول پھلوں کو نچوڑ تو لینا چاہتی ہیں، مگر ان کے اندر نہیں اترنا چاہتیں، جیسا کہ وہ اپنے بچپن میں اترا کرتی تھیں۔ اس کی نوک سے منہ لگا کر،اس میں سے پیار کے ساتھ اپنی محبت کا حصہ نکال کر، اس کے دل تک پہنچتے ہوئے، تبھی تو خون میں دودھ کی تاثیر پیدا ہوجاتی تھی۔اب بھی ہوسکتی ہے، مگر اب شاید اس کےپاس وہ منہ نہیں رہا، جو مذکورہ شخصیت کی چھاتیوں کے اندرون تک پہنچ سکے۔

 

میں نے اس ہستی کو صبا رفتار کیوں کہا؟

 

یہ سوال تو بہرحال ہے، میں اسے صبا کہوں یا صبا رفتار ۔مگر بات یہی ہے کہ وہ گزری جاتی ہے، نگاہوں کے سامنے سے، ٹھنڈک پہنچاتی ہوئی، کانوں میں سچے شہد کی سی سرگوشیاں گھولتی ہوئی مگر ہم جھونکوں کو محسوس کرنے سے عاری لوگ ہیں۔وہ بھی گزر جائے گی اوروں کی طرح اور دنیا نہیں سنورے گی، نہیں بدلے گی۔خاک ہوتی رہے گی، خون ہوتی رہے گی۔مگر اپنے تیورنہیں چھوڑے گی، اپنی شکست نہیں تسلیم کرے گی، محبت کی اہمیت نہیں سمجھے گی۔اب ایک دن تو یہی ہونا ہے کہ وہ محسوس بھی نہ ہوگی، نظر تو خیر آہی نہیں سکتی۔

Image: Duy Huynh

Categories
فکشن

پستان-پانچویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-5
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

خاموشی کی ایک چھوٹی سی لہر ان دونوں کے درمیان رقص کررہی تھی۔ کچ کی نگاہیں خلا میں تھیں، اس نے یونہی اپنے ہونٹوں کو جنبش دی تو ہوائیں لفظ کے کٹے پھٹے پیرہن پہن کر باہر نکلنے لگیں۔صدر کو محسوس ہوا جیسے وہ آپ ہی آپ کچھ بڑبڑا رہی ہے۔اس نے کچ کے تلووں پر دو انگلیاں پھیرنی شروع کر دیں،ایک ذرا دیر میں کچ نے پیر پیچھے کھینچا تو نیل پالش کی شیشی بھی چٹ کی آواز سے نیچے بچھے ہوئے ایک کاغذ پر گرپڑی، صدر نے اسے اٹھایا نہیں، وہ ہلکے ہلکے باہر بہہ کر آتی ہوئی نیل پالش کو دیکھنا چاہتا تھا۔کچ نے کہنا شروع کیا۔

 

مجھ میں اور تم میں ایک عجیب و غریب فرق شاید یہی پایا جاتا ہو، کہ تمہیں کسی نے زبردستی چھوا، نوچا کھروچا تب بھی تمہیں خوشی حاصل ہوئی۔لیکن میں ایسا محسوس نہیں کرپاتی۔ مجھے صرف اور صرف ایک تمہارے جسم کی دستک پر اپنے بدن کے دروازے کھولنے کی خواہش ہوئی ہے ۔
‘مجھ میں اور تم میں ایک عجیب و غریب فرق شاید یہی پایا جاتا ہو، کہ تمہیں کسی نے زبردستی چھوا، نوچا کھروچا تب بھی تمہیں خوشی حاصل ہوئی۔ لیکن میں ایسا محسوس نہیں کر پاتی۔ مجھے صرف اور صرف ایک تمہارے جسم کی دستک پر اپنے بدن کے دروازے کھولنے کی خواہش ہوئی ہے۔ اس سے پہلے میں جتنی بار بھی چھوئی گئی ہوں، نوچی گئی ہوں۔وہ میری پسند کے خلاف تھا اور اس نے مجھے خوشی کا احساس نہیں دیا، بلکہ ایک نشہ کی یا خواب آور کیفیت میں ضرور ڈال دیا۔مجھے یاد ہے کہ جب میں چار پانچ سال کی تھی تو ایک دفعہ گھر کے باہر موجود ایک آئس کریم والے سے آئس کریم خریدنے پہنچی تھی، وہ پٹھانی شلوار سوٹ پہنے، گھنی مونچھوں اور ہلکی داڑھی کے ساتھ، اپنے پکے سانولے رنگ اور تگڑے بدن کو لیے ایک برگد کے نیچے بیٹھ کر برفیلی سوغاتیں بانٹا کرتا تھا۔دیکھنے میں ہنس مکھ تھا، لوگوں سے ٹھیک سے بات کرتا،خاص طور پر بچوں سے۔اس کے دل میں شاید بچوں کے لیے کوئی الگ ہی کشش تھی، میں بھی اس روز وہاں آئس کریم لینے دوڑتے ہوئے پہنچی تو میرا سانس چڑھا ہوا تھا، بال کندھوں تک جھولا کرتے تھے، شاید میرے پیسوں میں کچھ کمی تھی، کوئی سکہ کھوٹا تھا یا شاید کوئی سکہ غائب تھا۔اس نے مجھے بڑے پیار سے چھوا، میرے گال پر ایک ہلکی سی چٹکی لیتے ہوئےاپنی گود میں بٹھالیا اور آئس کریم نکال کر دے دی۔ میں خوش ہوگئی اور آئس کریم کھانے لگی۔۔۔آئس کریم کے ٹھنڈے نرم ذرات میرے منہ میں گھلے جارہے تھے اور میں اپنی حلق میں بہت الگ تازگی محسوس کررہی تھی۔دھیرے دھیرے مجھے محسوس ہوا کہ میری رانوں سے کوئی چیز ہلکی ہلکی رگڑ کھارہی ہے، جیسے کوئی ربر میرے بدن پر ملا جارہا ہو۔میں نے آئس کریم والے کی طرف دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے جارہا تھا، اور ساتھ ہی ساتھ میرا سر سہلا رہا تھا۔لوگ سڑک پر آ جا رہے تھے، میرا بدن سن ہونے لگا اور اچانک ہاتھ سے آئس کریم بھی چھوٹ کر گرگئی۔اس وقت مجھے سمجھ میں ہی نہ آیا کہ کیا ہورہا ہے۔ایسا لگ رہا تھا جیسے بہت سی چیونٹیوں نے میرے شریر کو جکڑ لیا ہے، ان کی تاپ میں محسوس کرسکتی تھی، وہ تاپ اس پوری رات میں نے محسوس کی۔آئس کریم والے نے تو مجھے اسی وقت گود سے اتار دیا تھا، جب میرے ہاتھ سے آئس کریم گری تھی۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو میں نے بابا کے لائے ہوئے ایک موٹے سے تار کو اپنی رانوں سے چھوا کر دیکھا۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہی تھا۔۔اور پتہ نہیں، کیسے وہ وقت گزر گیا۔لیکن آج بھی وہ رگڑ میرے بدن پر جیسے چپکی ہوئی ہے، اس رات جب تم میری رانوں کواپنے ہونٹوں کی حدت سے پگھلا رہے تھے، اس دوران وہ رگڑ کہیں غائب ہوگئی تھی۔وہ احساس کہیں نہیں تھا، بلکہ اس کی جگہ تمہارے ملائم ہونٹوں کی ایک دھندھک تھی جو مجھے محسوس ہورہی تھی۔پتہ نہیں کیوں مگر میرا دل چاہ رہا تھا کہ تم میرا اتنا حصہ چباجاو، دانتوں سے نہیں۔۔اپنے ہونٹوں سے۔میں یہ خود چاہتی تھی،میرا نچلا دھڑ بے رنگ پسینے اور سفید بوندوں سے بھررہا تھا، مگر مجھے وہ سب بہت اچھا محسوس ہورہا تھا۔ایسے جیسے تم نے میری رانوں پر کسی ہوئی وہ عجیب سی پٹی کھول دی ہے، جس نے میری نسوں میں خون روک لیا تھا، میری سانسوں، میرے خوابوں کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا۔’

 

کچ یہ کہتے کہتے وہاں سے اٹھی اور بالکنی میں جاکر کھڑی ہوگئی، باہر کا رنگ سرمئی ہورہا تھا۔معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان کی نیلی آنکھوں میں ہواوں نے سرمہ لگایا ہو، آسمان پر کہیں دھوئیں کی ایک سیدھی لکیر بنی ہوئی تھی، ابھی ابھی کوئی راکٹ گاڑھا سفید دھواں اگلتے ہوئے اس سیدھ سے گزرا تھا، بالکل زندگی کی طرح، جو حادثات کے پیچھے ایک سفید گاڑھا دھواں چھوڑ جاتی ہے اورپھر بہت مشکل سے وہ دھواں مدھم پڑتا ہے، خاموش ہوتا ہے۔کچ کے بال کھلے ہوئے تھے ،اس کی ننگی کمر پر صدر نے ایک تتلی بنادی تھی، ایک سیاہ رنگ کی تتلی جو اس کے بدن کی خوشبو کو سونگھتے رہنے کے لیے اس میں جذب ہوگئی تھی، یہ وہ نشان تھا جو نہ پانیوں سے مٹتا، نہ حادثوں سے۔یہ کھال میں پیوست ایک پینٹر کی ایسی خواہش تھی جو اب کچ کے حواس سے کبھی جدا نہ ہونے والی تھی۔صدر نے پیچھے جاکر کچ کے بالوں کو ایک طرف کیا اور اس کی گردن پر بوسہ دیتےہوئے سرگوشی کی۔

 

‘وہ وقت تو گزر جا چکا ہے نا کچ۔۔کیوں اسے یاد کرکے آج کو بوجھل بنارہی ہو۔’

 

اس کی ننگی کمر پر صدر نے ایک تتلی بنادی تھی، ایک سیاہ رنگ کی تتلی جو اس کے بدن کی خوشبو کو سونگھتے رہنے کے لیے اس میں جذب ہوگئی تھی، یہ وہ نشان تھا جو نہ پانیوں سے مٹتا، نہ حادثوں سے۔
ٌتم نہیں سمجھوگے صدر! لڑکیوں کے لیے ان کی مرضی کے خلاف چھوئے جانا والا وقت کبھی نہیں گزرتا۔۔۔یہی تو ایک مسئلہ ہے۔۔۔میں چاہوں بھی تب بھی،اس میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ مجھے اتنی بار میری مرضی کے خلاف چھوا گیا ہے کہ ۔۔۔۔میں نے اپنی مجبوریوں کو ہی اپنی مرضی کا نام دے دیا۔’

 

صدر نے اسے اپنی طرف موڑا، اس کی آنکھوں میں پانی ٹمٹما رہا تھا۔صدر نے اس کی آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور اس پانی کو پی گیا۔پانی بہت نمکین تھا، بدن کے جس حصے میں بھی یہ پانی بنتا تھا، ضرور اس میں بلا کی تیزابیت ہوگی۔یہ صاف، سفید اور چھلکتا ہوا پانی، چاہے آنکھوں میں چھلک آئے یا بغل میں اتر آئے، گردن پربوندیں تراشے یا شرم گاہ کے پردوں سے باہر جھانکے۔اس کی تیزی اور کاٹ، اس کی روانی و رفتار کہیں متاثر نہیں ہوسکتی۔صدر نے کچ کے اوپری ہونٹ کو چوسنا شروع کر دیا۔ اس کے دونوں ہونٹ مل کر کچ کی اس ہلکی گلابی پرت کو کسی شریفے کے دانے کی طرح چوس رہے تھے۔ کچ کا ہاتھ بے ساختہ صدر کے بالوں میں تیر گیا، وہ اس پکڑ کو اور مضبوط بنانا چاہتی تھی۔

 

یہ تعلق کا ایک نامختتم کھیل تھا، جو روز صبح ان کے درمیان شروع ہوتا تھا،اور وہ اس میں رات گئے تک کسی نہ کسی بہانے سے ڈوبے رہنا چاہتے تھے۔اچانک کچ نے اچھل کر اپنی دونوں ٹانگیں صدر کی کمر میں ڈال دیں۔وہ ایک ذرا ڈگمگایا اور پھر اسے دیوار کا سہارا لینا پڑا۔لیکن یہ سہارا کام نہ آیا، وہ کچ کے ہونٹوں پر دھاریں لٹاتا ہوا، زمین پر گر گیا، اس کے منہ سے آہ نکلی، اس کی کمر میں ایک درد کی موج اچھل پڑی مگر کچ نے اس کا اثر نہ کیا۔ اس نے اپنی دونوں ٹانگیں صدر کے سینے پر رکھ دیں اور اب وہ جواباً صدر کی تھوڑی، اس کے گال، کان کی لو اور ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں داب رہی تھی، ان پر اپنے لعاب کی پھریریاں لٹارہی تھی اور اس کے بال صدر کے پورے چہرے پر گھنے درخت کی طرح چھائے ہوئے تھے، تھوڑی دیر میں صدر کا سینہ دفعتاًدکھنے لگا، مگر اس نے کچ کو بتانا مناسب نہ سمجھا، اسے اس درد کے باوجود کچ کا یہ جوابی حملہ ، یہ جنگلی پن بہت پسند آرہا تھا۔کچ کے پستان، اس کے گھٹنوں میں دبے ہوئے تھے اور ان میں ایک عجیب سخت گیر مہم چھڑ گئی تھی، کچ نے ان کی التجا پر کان دھرتے ہوئے، خود کو صدر کے بدن پر پھیلا لیا اور اس طرح، اس کی ننھی ننھی سوئیاں صدر کے سینے میں پیوست ہوگئیں۔صدر بار بار کوشش کررہا تھا کہ وہ کچ کے پستانوں تک کسی طور اپنے ہاتھوں کو پہنچا سکے، مگر کچ نے اس کے ہاتھ، اپنے گڑوئے ہوئے پنجوں کے نیچے سختی سے دبا رکھے تھے، ہونٹ گیلی ہواوں کے گھوڑے پر سوار تھے، ان پر اس وقت پوری طرح سے کچ کا شاہانہ بدن لدا ہوا تھا، اس لیے صدر نے بڑی مشکل سے اپنی خواہش کو لگام دی ہوئی تھی، وہ اس منظر سے نکل کر کچ کے پستانوں کی گرمی کو اپنے سینے میں اترتا ہوا محسوس کرنا چاہتا تھا۔

 

یہ تعلق کا ایک نامختتم کھیل تھا، جو روز صبح ان کے درمیان شروع ہوتا تھا،اور وہ اس میں رات گئے تک کسی نہ کسی بہانے سے ڈوبے رہنا چاہتے تھے۔اچانک کچ نے اچھل کر اپنی دونوں ٹانگیں صدر کی کمر میں ڈال دیں۔
ایک گہری خاموشی میں چلنے والے اس کھیل کی ساری داستان سانسیں لکھ رہی تھیں، سانسیں جو دو لوگوں کے نزدیک آنے کے خیال سے ہی وحشی ہونے لگتی ہیں۔جب طوفان تھما اور سانسیں مدھم پڑنے لگیں تو صدر نے کچ سے پوچھا۔
‘آخر ہم ایک دوسرے کا لعاب پی کر کیوں اچھا محسوس کرتے ہیں۔’

 

کچ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی تھی، اسے اس طرح کی باتوں سے الجھن ہوتی تھی۔وہ اس وقت اپنےتھکے ماندے بدن کی آغوش میں پڑی چھت سے جھولتے ہوئے ونڈ چائم کو دیکھنے لگی جو اس وقت ہلکی ہواوں میں موسیقی کی بڑی خوش کن لہریں پیدا کررہا تھا۔اس نے صدر کی طرف دیکھ کر کہا۔

 

‘کیوں کا کیا مطلب ہے۔ہم اچھا محسوس کرتے ہیں۔کیا یہ کافی نہیں ہے؟’

 

‘بالکل ہے۔۔میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔اب بات کرنے کے لیے کوئی موضوع تو ہونا چاہیے۔۔’

 

‘ہمم۔۔لیکن خاموشی سے اچھا موضوع کیا ہوگا۔۔’

 

پھر دونوں واقعی خاموش ہوگئے۔اسی خاموشی میں نہ جانے کب انہوں نے کھانا بنایا اور کب کھانا وانا کھاکر فارغ ہونے کے بعد بستر پر اغل بغل لیٹ کر گہری نیند میں ڈوب گئے۔رات کا پتہ نہیں کون سا وقت ہوگا جب صدر کا موبائل بجنے لگا۔وائبریشن اس قدر تیز تھا کہ کچ کی آنکھ کھل گئی، لائٹ کو دیکھا تو ایسا لگا جیسے کوئی اس کی پتلی پتلی نرم اور سفید جھلیوں میں سیسہ انڈیل رہا ہو۔اس نے موبائل اٹھایا تو اسی نیت سے تھا کہ صدر کو دے گی، مگر اس کی جانب دیکھا تو وہ ہلکے کھلے منہ کے ساتھ اوندھا لیٹا نیند کی کسی اندھی کھائی میں پڑا ہوا تھا۔اس نے دھندلاہٹ میں موبائل سکرین پر پڑھا۔کسی ‘این’ کا فون تھا۔لیکن اس وقت؟ابھی شاید رات کے دس بجنے والے تھے، کچ وہاں سے اٹھی اور اس نے بالکنی کے پاس جاکر فون اٹینڈ کرلیا۔کسی لڑکی کی اس طرف سے آواز آئی۔

 

کچ کو اس وقت محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے پستان پگھل کر زمین پر گررہے ہیں، کہیں سے کوئی دیوار اس پر کھل کر ہنس رہی ہے۔بہ
وہ دو تین بار ہیلو کرکے خاموش ہوگئی۔۔۔۔فون کٹ گیا۔تھوڑی دیر بعد صدر کے واٹس ایپ پر ایک وائس نوٹ آیا، ٹھیک اسی نمبر سے ڈائونلوڈ ہوتے ہی کچ نےفوراً پلے کے نشان پر انگوٹھا رکھ دیا، ایک کھنکھتی ہوئی آواز آرہی تھی۔

 

‘صدر! مجھے معاف کردو۔میں اس بار بھی تمہیں بتائے بغیر چلی گئی تھی۔۔۔لیکن میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، میں نے خود کو بہت روکا، لیکن پتہ نہیں کیسے!مجھ سے ہو نہیں پایا۔۔۔۔اب میں جلد آرہی ہوں۔۔۔تمہیں سب کچھ ایکسپلین کردوں گی۔’

 

ایک عجیب جذبہ رقابت کچ کے سینے میں اچھل کر کھڑا ہوگیا اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے وہ پیغام ڈیلیٹ کردیا۔کچ کو اس وقت محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے پستان پگھل کر زمین پر گررہے ہیں، کہیں سے کوئی دیوار اس پر کھل کر ہنس رہی ہے۔بہت زیادہ ، وہ اس عجیب جذبے سے دوچار ہوتے ہی پریشان ہوگئی، اس نے بھاگتے ہوئے صدر کا فون ٹیبل پر رکھا اور زمین پر پڑی ہوئی اپنی بریئرزر اٹھا کر پہنی، اور دروزاہ کھول کر باہر نکل گئی، اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کہاں جائے۔وہ وہیں سیڑھیوں پر ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ اور اپنے بدن کو دیکھ دیکھ کر ہانپنے لگی، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس نے وہ پیغام آخر کیوں ڈیلیٹ کیا، کیا اسے ایک دفعہ بھی صدر سے یہ پوچھنا نہیں تھا کہ وہ لڑکی، وہ ‘این’آخر ہے کون؟
مجھے یہ منظر تو دکھائی نہیں دے رہا تھا، مگر میں کچ کی سسکیوں کو سن سکتا تھا، باہر برسات شروع ہو گئی، پہلے ہلکی بوندا باندی ہوئی اور پھر اچانک دھاڑ پاڑ کی آوازیں آنے لگیں، کچ اپنے سینے کو دبائے شاید سیڑھیوں پر ہی سوگئی تھی، اس کا سمٹا سمٹایا بدن پتہ نہیں کیا سوچ رہا ہوگا۔صدر کی نیند کب ٹوٹے گی پتہ نہیں، مگر کچ کے اندر کچھ نہ کچھ ضرور ٹوٹ رہا تھا اور یہ موقع وہ تھا جب صدر اور کچ کو ساتھ ہونا چاہیے تھا، مگر رات گئے، شاید رات کے کسی ڈھلتے پہر صدر کی آنکھ کھلی تو کچ اس کے بغل میں نہیں تھی، باہر برسات ہوئے جارہی تھی، صدر نے بالکنی سے جھانکا، اپارٹمنٹ کی چاکلیٹی اور پیلی لادی اپنے کھیسوں میں پانی بھر رہی تھی۔ کچ؟ کہاں ہے وہ؟ صدر نے پورا گھر دیکھ ڈالا۔دروازہ کھولا؟

 

وہاں دور دور تک، کہیں بھی کچ کا پتہ نہیں تھا۔آخر وہ اس شور میں کہاں غائب ہوگئی تھی۔صدر نے اسے ایک برسات میں پایا تھا اور دوسری میں کھودیا تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 7

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

قسط نمبر 7

 

دہلی ایجوکیشن پوائنٹ جانے والے دنوں کی شروعات میں ہم لوگ شاہین باغ میں رہا کرتے تھے، یہ علاقہ اس وقت جوگا بائی سے کچھ چار میل کی دوری پر تھا اس لیے صبح سویرے میں اور میری بہن شائستہ عرف خوشبو ساتھ میں گھر سے نکلا کرتے تھے۔وہ مکان، جس میں ہم اس وقت رہ رہے تھے، ایک منزلہ مکان تھا اور پورے علاقے میں بھوتیا گھر کے نام سے مشہور تھا۔ہمارے خالو نے اپنے ایک بلڈر دوست سے سفارش کرکے ان دنوں ہمیں وہ مکان دلوایا تھا، سردیوں کا موسم تھا اس لیے پنکھے کی اس وقت کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، ہمارے پاس رضائی نما کچھ گدے تھے اورخالہ نے ہم کو اپنے پاس سے کچھ اوڑھنے بچھانے کا سامان بھی دے دیا تھا، جس کی مدد سے امید تھی کہ سردیاں با آسانی کٹ جائیں گی۔

 

کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خود کشی نہیں تھی بلکہ راتوں رات اسے قتل کرکے گھر میں ڈال دیا گیا تھا،ہماری اس وقت کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ یہ حرکت اس عورت کے بھائی کی ہی تھی جو کہ مکان ہتھیانا چاہتا تھا۔
اس مکان کے بھوتیا مشہور ہونے کے پیچھے اصل قصہ یہ تھا کہ اس میں ایک طلاق شدہ عورت نے خودکشی کی تھی۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خود کشی نہیں تھی بلکہ راتوں رات اسے قتل کرکے گھر میں ڈال دیا گیا تھا، ہماری اس وقت کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ یہ حرکت اس عورت کے بھائی کی ہی تھی جو کہ مکان ہتھیانا چاہتا تھا۔مکان تو عورت کے مرنے پر اسے حاصل ہو سکتا تھا، مگر وہ چونکہ آسیب زدہ مشہور ہوچکا تھا اس لیے کوئی اسے خریدنے پر آمادہ نہ ہوتا تھا، ایسے گھر میں رہنے کے لیے ہم لوگوں کی فیملی بہت مناسب تھی۔وجہ یہ تھی کہ ہمیں بھوتوں، چڑیلوں کا سامنا کرنے کی بڑی مشق تھی۔ہماری والدہ ایک مضبوط دل گردے والی عورت ہیں، جن کے اعصاب پر اس قسم کی چیزوں کا کوئی گہرا اثر نہیں پڑتا۔البتہ ہمارے ددھیال میں ایک خاص قسم کا وظیفہ بند ماحول جن، بھوت پریتوں، اثرات، نظر بد اور طرح طرح کی چیزوں سے انسان کے اعتماد کو کمزور کرنے کے لیے کافی تھا۔مجھے یاد ہے کہ میں اور میری بہن خوشبو صبح صبح کڑکتی سردی میں ،کہرا کھاتے ہوئے اپنی اپنی منزلوں کو جانے کے لیے نکلا کرتے تھے،اور ایک لمبی سڑک پر نالے کے برابر چلتے چلے جاتے (آج کل اس روڈ کو شبلی نعمانی روڈ کے نام سے پہچانا جاتا ہے)جب تک کہ پلیا نہ آجاتی۔پلیا اور اس پر بنی ہوئی اچھی خاصی پولیس چوکی ، وہ جگہ تھی، جہاں سےسائیکل رکشے مل جایا کرتے۔میں اور میری بہن دونوں بہت دھان پان سے تھے، ہم رکشے میں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر بیٹھا کرتے اور وہاں سے بٹلہ ہاوس بس سٹینڈ تک آجاتے۔واپسی میں ہم سائیکل رکشے کو گھر تک لے جایا کرتے، شام کے اندھیرے میں چمگادڑوں کا شور، کہرے کی پرت اور سڑکوں کے اوبڑ کھابڑ پڑاو اس چھوٹے سے سفر کواچھا خاصا ایڈونچرز بنادیتے تھے۔ہمیں ڈر یہ ہوتا تھا کہ کہیں رکشہ کسی پتھر سے ٹکرا کر نالی میں نہ گرپڑے، کیونکہ ایسا بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوبھی چکا تھا، مگر ہم گنگا کے گنہگاروں کی اس بدبو دار سازش میں ہرگز شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، اس لیے نام خدا لب پر اور ذکر خدا دل میں دھر کر گھر تک پہنچتے اور چین کی سانس لیتے۔

 

اس مرد اساس معاشرے کی بنیاد کو پانی دینے والی عورتیں ہی ہیں، جو اپنی جوانی ڈھلتے ہی اور سینہ مرجھاتے ہی دوسری عورتوں کی جوانی سے ایک خاص قسم کا بغض دل میں پال کر بیٹھ جاتی ہیں۔
میری بہن ان دنوں ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی تھی، وہ بطور ہیئر ڈریسر وہاں کام پر لگ گئی تھی، دلی آنے کے بعد ہم سب اولادوں میں سب سے پہلے خودکفیل ہوجانے والی میری بہن ہی تھی، جو اس وقت ہم سب سے زیادہ کماتی تھی ، وہ اپنے سوٹ پر ایک ہلکا اونی جیکٹ ڈال لیا کرتی تھی، بالوں کو بڑے سلیقے سے بناتی، اپنی بھرپور سادگی میں بھی اسے خود کو بنائے رکھنے کا سلیقہ خوب آیا کرتا تھا۔بہت سی عورتیں اس سے اسی بات پر بعد میں چڑنے لگیں کہ اس نے اپنے بل بوتے پر اتنے پیسے کس طور کمالیے کہ وہ جینز بھی پہننے لگی ہے۔ہمارے یہاں جینز پہننے کی لڑکیوں کو اجازت اس لیے نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے پاس بھی کولہے ہیں، جو حقیقت ظاہر ہے کہ کسی طور مرداساس معاشرے میں قبول نہیں کی جاسکتی، لیکن اس مرد اساس معاشرے کی بنیاد کو پانی دینے والی عورتیں ہی ہیں، جو اپنی جوانی ڈھلتے ہی اور سینہ مرجھاتے ہی دوسری عورتوں کی جوانی سے ایک خاص قسم کا بغض دل میں پال کر بیٹھ جاتی ہیں۔یہ تو بہت اچھی بات ہوئی کہ قدرت نے کوئی ایسا طریقہ انسان کو عطا نہیں کیا، جس کی بنیاد پر وہ عورت کے سینے کو اندر کی جانب ڈھکیل کر اسے دن میں بالکل اپنے جیسا بنالیتا اور جب یہ کام روایت اور تقدیس کے زمرے میں شامل ہوجاتا تو اس کی ساری ذمہ داری بدصورت، جل ککڑی اور جھری زدہ عورتوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی۔بہرحال میں بتا یہ رہا تھا کہ میری بہن بٹلہ ہاوس میں ایک بیوٹی پارلر میں چلی جایا کرتی اور میں وہاں سے پیدل چلتا ہوا جوگا بائی کی طرف آجاتا۔

 

کوچنگ کے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی میری دو لڑکیوں سے بہت قربت ہوگئی تھی۔بات یہ تھی کہ وہ مجھ سے اردو پڑھنا چاہتی تھیں مگر ان میں سے ایک کے گھر پر اس کو پڑھنے کے لیے دی جانے والی فیس کی اجازت نہیں تھی۔میں لڑکیوں کے معاملے میں بہت فیاض دل واقع ہوا ہوں اور جب معاملہ کسی خوبصورت لڑکی کا ہو تب تو بات ہی کچھ اور ہوجاتی ہے۔میں نے ان دونوں سے کہا کہ تم اس کی کوئی فکر نہ کرو، میں بغیر فیس کے ہی پڑھا دیا کروں گا۔اتفاق کی بات ہے کہ انہی دنوں شاید دو ہزار چھ میں ایک دن میرے ہونے والے بہنوئی(جو کہ اس وقت صرف ہمارے دور کے بھتیجے ہوا کرتے تھے)میرے پاس ایک کام لے کر آئے۔ وہ بنیادی طور پر میک اپ کی فیلڈ سے وابستہ تھے، اور انہوں نے شاید کچھ ہی روز پہلے ایک بڑے نیوز چینل سے استعفیٰ دیا تھا۔کام یہ تھا کہ ان کے ایک دوست کے زیر ہدایت دوردرشن کا ایک پروگرام اردو میں بنایا جارہا تھا۔لیکن پائلٹ (نمونے کا ایپی سوڈ)جمع ہونے سے پہلے کسی اردو داں کا اسے ہری جھنڈی دکھانا ضروری تھا۔میں نے پائلٹ دیکھ کر بتایا کہ سکرپٹ میں اردو کا استعمال بہت غلط ہوا ہے، اینکر نے بھی تلفظ صحیح ادا نہیں کیاوغیرہ وغیرہ۔کچھ دنوں بعد انہوں نے مجھے ایک ایپی سوڈ لکھنے کے لیے کہا، میں نے اسے لکھ کر دے دیا، اس کو لکھنے کی دیر تھی کہ تیرہ ایپی سوڈ لکھنے کی فرمائش آگئی، میں نے چار پانچ دنوں کی محنت میں وہ ایپی سوڈ بھی لکھ کر دے دیے۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اگلے روز میں اپنے موجودہ بہنوئی دانش مسعود کے ساتھ دہلی کے ایک پاش علاقے ساوتھ ایکسٹنش پارٹ ٹو میں بنے ایک بنگلے میں جارہا تھا۔میں پہلی دفعہ وہاں بس سے ہی گیا تھا، دہلی کی بسوں میں بیٹھنے کا مجھے بہت اتفاق ہوا ہے، یہاں زیادہ تر ہریانوی لہجے میں بات کرنے والے اکھڑ قسم کے کنڈکٹر ہوا کرتے ہیں، جو بات بے بات کبھی کبھار لڑپڑنے میں بھی کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے۔

 

اس زمانے میں دو قسم کی بسیں چلا کرتی تھیں، ایک سرکاری اور دوسری بلیو لائن بسیں، جو کہ ٹھیکیدار چلوایا کرتے تھے، ان بسوں کے ڈرائیور عام طور پر بہت تیز رفتاری سے گاڑی چلایا کرتے تھے، چونکہ کوئی پوچھ تاچھ تو تھی نہیں، اس لیے آئے دن ایک یا دو اموات ان بسوں کے ذریعے اس زمانے میں دہلی کا روز مرہ کا معمول تھا۔ جہاں تک ماحولیات کا تعلق تھا، یہ بسیں اس کے لیے بھی مہلک تھیں، مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے، دھواں اپنی بھرپور کالک اور زہریلے اثرات سمیت ان کے ناک ، کان میں داخل ہوجایا کرتا اور پھیپھڑوں میں غل مچاتا۔اچھی بات یہ تھی کہ دو ہزار پانچ ، یعنی کہ جس سال ہم دلی آئے تھے، اسی سال سرکار نے بیشتر گاڑیوں کو سی این جی استعمال کرنے کے احکامات جاری کردیے اور اس طرح راجدھانی کا ماحول سڑکوں، ہوٹلوں اور چوباروں پر کنٹرول میں آسکا۔جب میں پروڈکشن ہاوس پہنچا تو مجھے ایک کیبن میں بٹھایا گیا، وہاں ایک لڑکا اور لڑکی پہلے سے بیٹھے تھے۔لڑکی کے بال سنہرے رنگ کے تھے، ہونٹ موٹے اور ان پر چمکتی اور دھدھکتی ہوئی لپ سٹک لگی تھی، برابر والی سیٹ پر ایک لڑکا بیٹھا تھا ، جس کے قد و قامت پر مجھ جیسے کمزور جثہ شخص کو صرف رشک ہی آسکتا تھا۔قدوقامت کے لحاظ سے وہ کوئی پہلوان معلوم ہوتا تھا، اس نے جو جینز پہنی تھی، ان میں سے ایک پائنچہ تو غائب ہی تھا، بلکہ جگہ جگہ سے جھالریں بھی لٹک رہی تھی، اوپری حصے پر صرف ایک بنیان موجود تھی۔ میں ابھی ان دونوں کا ٹھیک سے جائزہ ہی لے رہا تھا کہ کیبن کا دروازہ کھلا اور دانش بھائی کے ساتھ ایک شخص اور داخل ہوا، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔

 

مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے
‘اور تصنیف بیٹے! کیسے ہو؟’پھر ایک جاندار قہقہہ لگایا، ہلکے نکلے ہوئے پیٹ کے ساتھ ، وہ جوان اور پر اعتماد شخص ، اپنی چمکدار آنکھوں کو لیے میری طرف پرتپاک انداز میں گھور رہا تھااور میں اس کی طرف دیکھ کر شرمائے جارہا تھا۔دانش بھائی نے بتایا کہ میں نے وہ سارے ایپی سوڈ انہی صاحب کے لیے لکھے ہیں، جن کا نام دیپک گپتا ہے۔ظاہر ہے میرے ہاتھوں کی لکھی ہوئی ساری سکرپٹس چیل بلیوں کے سے انداز میں تھیں اور دیپک گپتا انہیں ٹائپ کروانا چاہتے تھے۔سو انہوں نےمجھے باہر چشمہ لگائے، ادھ کھلے منہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک لڑکے سے ملایا، جس کا نام گورو مشرا تھا۔اب ہم دونوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ سکرپٹ ساتھ میں ٹائپ کریں۔سو طے یہ پایا کہ میں سکرپٹ بولتا جاوں گا اور وہ اسے ہندی میں ٹائپ کرتا جائے گا۔اردو زبان ، اور وہ بھی اس زمانے میں لکھی ہوئی ، ظاہر ہے گورو کے ساتھ اینکر کو بھی بہت پریشان کرنے والی تھی، مگر سب کام جیسے تیسے پورے ہوگئے۔دو مہینے کے دورانیے میں میں روز اس جگہ جاتا رہا اور کام کرتا رہا۔تصوف پر لکھا ہوا وہ میرا پہلا پروگرام تھا، لیکن ابھی تو بہت کام اور آنے والا تھا۔اس دوران دانش بھائی خود کسی دوسرے پروجیکٹ میں مصروف ہوچکے تھے اور کوچنگ کی وہ دو لڑکیاں ، شاید انہوں نے بھی یہی سوچ کر صبر کرلیا تھا کہ میں اب دوبارہ کوچنگ نہیں آوں گا۔مگر قسمت بڑی عجیب و غریب چیز ہے۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

پستان-چوتھی قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-4
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

کبھی کبھی دل نہ چاہتا تو چھ سات گھنٹوں کے لیے کسی پارک میں جاکر خوب آرام کرتا اور واپسی میں بھائندر پل پر سے سمندر میں ساری چٹھیاں پھینک دیا کرتااور رسیدوں پر خود الٹے سیدھے دستخط کرلیا کرتا
اس وقت وہ دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں، صدر کچ کے پیروں کے ناخنوں میں نیل پالش لگا رہا ہے اور وہ خلا میں گھور رہی ہے۔میں اس کے چہرے کو دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ وہ کچھ یاد کررہی ہے۔انسان جب کسی چیز یا کسی بات کو یاد کرتا ہے تو اندھا ہو جاتا ہے، اسے بس خلا نظر آتا ہے، جس کے پردے پر ہیولے ناچتے، تھرکتے نظر آتے ہیں۔ انسان کی یادیں ذہن کے صندوق سے گھنگھروؤں کو باندھ باندھ کر نکلتی ہیں اور گھنر گھنر گاتی ہوئی، سٹیج پر آکر رقص کرتے ہوئے دائیں سے بائیں گزر جاتی ہیں، ان یادوں کی شکلیں ٹیڑھی میڑھی اور عجیب و غریب ہوا کرتی ہیں، یہ ننگی یادیں انسانی بدن کے اس مردہ اور چمکتے ہوئے ڈھانچے کی طرح ہوتی ہیں، جن کی عریانیت پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، یہ دیکھنے میں بھی بہت حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں، مگر انہیں ہاتھ لگا کر چھونا چاہو تو بھربھرا کرزمین پر گرپڑتی ہیں۔کچ کو بھی اس وقت کچھ ایسا یاد آرہا تھا، جسے وہ مٹا کر اپنے حساب کا منظر بنانا چاہتی تھی، ایک نیا اور بالکل اپنی پسند کا نقشہ، جس میں کسی کا عمل دخل نہ ہوتا۔اس نے صدر سے ان خیالات کو چھیڑے بغیر پوچھا
‘کیا کبھی تمہیں کسی نے تمہاری مرضی کے بغیر چھوا ہے؟’

 

صدر نے ‘ہوں ں ں’کہہ دیا اور پھر اسی انہماک کے ساتھ اس کی انگلیوں پر پھونکیں مارنے اور اپنی صفائی پر خود توصیفی انداز میں گھورنے لگا۔برابر والے کمرے سے ہلکی موسیقی کی آواز آرہی تھی، سن ساٹھ کی دہائی کا کوئی گانا بج رہا تھا، جس کی موسیقی تو سمجھ میں آرہی تھی، مگر الفاظ، ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت سریلی آواز موسیقی کی لہر وں میں بہتی ہوئی چلی آرہی ہو، بے معنی اور بے مقصد۔کچ نے پھر پوچھا۔

 

‘کس نے چھوا تھا؟’

 

صدر نے ایک کُشن اٹھا کر اپنی گود میں رکھا اور صوفے پر نیم دراز ہوتے ہوئے کہنے لگا۔

 

ہوا بہت اچھی چل رہی تھی، اس بوڑھے منظر میں اپنے وجود کی گٹھری اٹھائے کچھ سوکھے ٹٹر پیڑ اپنی خمیدہ کمروں کے ساتھ دھوپ سے پناہ مانگ رہے تھے
‘لمبا قصہ ہے، اب تم سننا ہی چاہتی ہو تو سن لو، یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کورئیر کا کام کیا کرتا تھا۔در بدرپھرنا، لوگوں کے خطوں کو پہنچانا۔ان خطوں میں سے زیادہ تر کسی کمپنی کےبل، کسی بینک کے تقاضے اور کچھ ایسے ہی دوسرے معاملات کی شکل میں میری بغل میں دبے ہوا کرتے۔ایک دفعہ میں جب نالا سوپارہ اسٹیشن اترا تو مجھے بہت دور تک،یوں سمجھ لو کہ قریب چھ یا سات میل تک پیدل چل کر جانا پڑا اور وہ بھی ایک ایسے خط کے لیے، جس کو اگر میں نہ بھی پہنچاتا تو کوئی ایسا بڑا نقصان نہ ہوتا۔ ایسا نہیں تھا کہ میں سارے خط پہنچایا ہی کرتا، کبھی کبھی دل نہ چاہتا تو چھ سات گھنٹوں کے لیے کسی پارک میں جاکر خوب آرام کرتا اور واپسی میں بھائندر پل پر سے سمندر میں ساری چٹھیاں پھینک دیا کرتااور رسیدوں پر خود الٹے سیدھے دستخط کرلیا کرتا، جس سےمیرے مالک کو یہ اندازہ ہوسکے کہ میں نے خطوط پہنچا دیے ہیں۔الغرض جب میں اس گھر پر تھکا ہارا، بھوکا پیاسا، ڈولتے ہوئے بدن اور بہتی ہوئی قمیص کے ساتھ پہنچا تو دیکھتا کیا ہوں کہ تین منزل چڑھنے کے باوجود اس گھر پر قفل لگا ہوا ہے، مجھے وہ تالا دیکھ کر بہت غصہ آیا۔مجھے ایسا لگا، جیسے میں بہت دور سے کسی چیز کو چھونے آیا تھا، مگر وہ چیز وہاں گویا تھی ہی نہیں، میں اس خط کو پھینکنا نہیں چاہتا تھا، ہاں اگر میں نے اس کے لیے اتنی محنت نہ کی ہوتی تو شاید مجھے اسے پھاڑ دینے یا پھینک دینے کا کوئی افسوس نہ ہوتا، مگر ایسی تگ و دو کے بعد ؟ بہرحال میں کچھ دیر کے لیے وہیں ایک پائری پر بیٹھ گیا، سیڑھیوں کی جانب بنی ہوئی اس پائری سے باہر دور دور تک کا منظر دکھائی دے رہا تھا، یہ ایک طرح کی دکھائی دینے والی بہت سی بلڈنگوں میں سے ایک بلڈنگ تھی، جو کہ بالکل کنارے پر آباد تھی، اب ان تمام بلڈنگوں کی تعداد تو مجھے ٹھیک طور پر یاد نہیں، البتہ اتنا کہہ سکتا ہوں کہ بیس ، بائیس تو ہوں گی ہی یا شاید تھوڑی بہت زیادہ یا کم۔باہر دور دور تک بنجر میدان تھا، لیکن ہوا بہت اچھی چل رہی تھی، اس بوڑھے منظر میں اپنے وجود کی گٹھری اٹھائے کچھ سوکھے ٹٹر پیڑ اپنی خمیدہ کمروں کے ساتھ دھوپ سے پناہ مانگ رہے تھے، مگر مجھے دھوپ نہیں لگ رہی تھی، اوپر والی پائری نے اس خوبصورتی سے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا کہ منظر کی پیلاہٹ میری آنکھوں میں چبھن نہیں پیدا کرسکی اور میری تھکے ہوئے بازوؤں اور ٹانگوں کو ایسا لگ رہا تھا، جیسے ہوائیں انہیں ہلکے ہلکے دبارہی ہوں۔میں نے کچھ دیر بعد گھڑی پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ پون گھنٹہ بیت چکا ہے، اب میں جلدی جلدی نیچے اترنے لگا، لیکن ایک منزل اترتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک خونخوار کتا اپنی پھولتی پچکتی پسلیوں میں اپنے دھار دار دانتوں کو چھپائے سورہا تھا، میری ہمت نہ ہوئی کہ اس کی بغل سے نکل جاوں۔میں نے سوچا کہ اوپر کی منزل سے کسی کو بلا لوں، مگر تیسری منزل پر تالا لگا ہوا تھا اور دوسری پر میں جا نہیں سکتا تھا۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ مجھے چوتھی منزل کو بھی ایک دفعہ دیکھ لینا چاہیے،میں وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر میری جان میں جان آئی کہ دروازے پر تالا نہیں لگا تھا، میری عمر اس وقت سولہ سترہ سال تھی،مجھے پوری امید تھی کہ کوئی نہ کوئی باہر نکلے گا اور میری فریاد پر مجھے زینہ پار کروادے گا۔میں ذرا اور اوپر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک جالی دار دروازہ تھا، جس پر جھلی دار پردہ پڑا ہوا تھا، اس پردے کے اڑنے سے یہ معلوم ہورہا تھا کہ گھر میں ضرور کوئی ہے، کیونکہ اصل لکڑی کا دروازہ بند نہیں تھا، میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹکھٹایاکیونکہ اس وقت دیوار پر کوئی گھنٹی نظر نہ آئی۔جب پندرہ بیس منٹ تک کھڑے رہنےکے باوجود کوئی نہ آیا تو مجھے تشویش ہوئی، شام گھر چلی تھی اور اب مجھے واپس بھی جانا تھا، میں نے ہیبت میں چار پانچ بار زور سے دروازے کو قریب قریب پیٹ ڈالا۔ایک وقفے کے بعد چھن چھن کرتی ہوئی آواز سنائی دی، پردے کے پیچھے سے کوئی سایہ سا سرسراتا ہوا نکلا اور دروازہ چررکی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔

 

عجیب بات یہ تھی کہ اس کی آواز اس کی خوبصورت شکل و شباہت کا بالکل ساتھ دیتی ہوئی معلوم نہیں ہورہی تھی، ایسا لگتا تھا کہ کسی خوبصورت ایکٹرس کی ڈبنگ کسی تھرڈ کلاس ڈرامہ آرٹسٹ سے کروادی گئی ہو
وہ عورت عمر کے لحاظ سے تیس بتیس برس کی معلوم ہورہی تھی، اس کے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے، اس نے ایک ساٹن کی ساڑی پہن رکھی تھی، جس کا بلاوز اس قدر چست تھا کہ اس کے پستان ان میں سے ابلے پڑرہے تھے۔ چوڑی پیشانی، لمبوترا چہرہ، ہلکے موٹے ہونٹ اور ان پر بہت مشاقی سے لگائی ہوئی لپ سٹک۔اس کی ساڑی کا پلو بھی جھلی دار پردے کی طرح ہوا میں لہرارہا تھا،مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس نے پیروں میں جرابیں پہن رکھی تھیں، کالی اور چمکدار رنگ کی گہری جرابیں،جو کہ سوراخ دار تھیں۔ ان کے بہت سے سوراخوں میں سے اس کی ہری رگیں اور چکنا گورا رنگ پنجوں کی ہیت کے ساتھ ان کی خوبصورتی کی بھی غمازی کررہا تھا۔اس عورت نے ایک نظر بھرپور انداز سے مجھے دیکھا، اس سے پہلے کہ میں اسے مسئلہ بتاتا، وہ قریب قریب چیختے ہوئے پوچھنے لگی کہ میں وہاں کیسے آیا، عجیب بات یہ تھی کہ اس کی آواز اس کی خوبصورت شکل و شباہت کا بالکل ساتھ دیتی ہوئی معلوم نہیں ہورہی تھی، ایسا لگتا تھا کہ کسی خوبصورت ایکٹرس کی ڈبنگ کسی تھرڈ کلاس ڈرامہ آرٹسٹ سے کروادی گئی ہو، بہرحال مجھے اتنا یاد ہے کہ کسی طرح میں نے اسے اپنا مسئلہ بتایا، اس پر اس نے ایک کھرک دار قہقہہ لگایا اور مجھے کالر سے پکڑ کر اندرلے آئی، اس نے جالی دار دروازے میں کنڈی لگالی، میں ایک چوکی پر ہکا بکا بیٹھا ہوا تھا، میرا جسم ساکت تھا، دماغ مائوف، کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے، میں نے دھیان دیا تو کمرے میں چاروں طرف دیواروں پر بہت سے نیبو اور ہری مرچیں، دھاگوں میں ٹنگی ہوئی نظر آرہی تھیں، حتیٰ کہ گھڑی کے پنڈولم سے بھی ایک ایسا ہی نیبو لٹک رہا تھا، عورت نے میرے بال پکڑے اور اپنے ہونٹوں کو میرے کانوں سے لپٹا کر چوستے ہوئے کہنے لگی۔

 

‘وہ کتا نہیں ہے، میرے مرد کی آتما ہے۔سالا سور، شام گئے آکر بیٹھ جاتا ہے، لیکن میں اسے اپنی ہڈیوں کی خوشبو تک نہیں سونگھنے دوں گی۔’

 

میں قریب قریب خوف سے بے ہوش ہونے لگا، مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا تو ہلکے سے گھگھیاتے ہوئے میں نے اسے ایک طرف دھکا دینا چاہا، مگر میں نے دیکھا کہ اس کی ساڑی اتر کر زمین پر آرہی تھی، اور کسی گول گول گھومتے ہوئے مگر مچھ کی طرح زمین پر پڑی پنکھے کی تیز ہوا میں چوکی کے ایک کونے سے ٹکی جھول رہی تھی، ہانپ رہی تھی۔میری سمجھ میں کچھ نہ آرہا تھا، عورت اپنی زبان سے میرا پورا چہرہ چاٹ رہی تھی، اس کے لعاب کی عجیب سی بو میرے نتھنوں میں زبردستی گھستی چلی آرہی تھی، اس نے میرا شرٹ اتار دیا تھا، اپنے ناخنوں سے، پہلے اس نے میرے سینے پر کچھ لکھا، اور میرے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنی گردن پر رکھ دیے، اور پھر میرے کان میں ہلکے سے کہا۔

 

‘اسے دباو!’

 

مجھے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ پاوں سے سن ہوتے ہوئے بدن اور کانٹے چبھوتی ہوئی شریانوں کے باوجود ایسا محسوس ہوا جیسے میرا پورا بدن گوشت کی دلدل میں دھنسا ہواہو، ایک نرم ، ہوا ابلتے ہوئے، گرم گوشت کی دلدل میں۔
میں جو اب تک اس منظر سے جان چھڑا کر بھاگنا چاہتا تھا، پتہ نہیں کیسے اس کے دام سحر میں اس بری طرح الجھ چکا تھا کہ سب کچھ مجھے ایک طلسمی ماحول سا لگنے لگا، میں اس عورت کے نیچے لیٹا ہوا تھا، اس نے میرے ٹراوزر کو اتار کر بھی وحشت میں کہیں دور پھینک دیا تھا،اس کی پھٹی پھٹی سانسیں اور خرخراتے ہوئے گلے سے مجھے محسوس ہورہا تھا کہ میں جیسے کسی کتیا کے ساتھ لپٹا ہوا ہوں، اسے پتہ نہیں میری کنپٹیوں سے کیا بیر تھا کہ وہ میرے کانوں کی لوئوں کو چوستی، دباتی، کاٹتی اور کان کے پچھلے حصے پر تیرتے ہوئے پسینے کو اپنے ہلکے موٹے ہونٹوں میں اتار لیتی، چھوٹی سی چوکی پر جب میرے وجود پر اس کا وجود پوری طرح سایہ نہ کرسکا تو اس نے مجھے دھکا دیا اور میں زمین پر گر گیا، پھر وہ کہیں سے دو دوپٹے لائی، اس نے پہلے میرے ہاتھ باندھے اور پھر پیر، پھر میرے عضو تناسل اور ان کے ساتھ لٹکتی ہوئی دو سیاہ گولیوں کو چھیڑنا شروع کردیا، وہ ہاتھ سے میرے اس مرکزی حصے کو چھیڑتی رہی اور پھر یکدم اس نے گولیوں کو اپنے منہ میں بھر لیا، مجھے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ پاوں سے سن ہوتے ہوئے بدن اور کانٹے چبھوتی ہوئی شریانوں کے باوجود ایسا محسوس ہوا جیسے میرا پورا بدن گوشت کی دلدل میں دھنسا ہواہو، ایک نرم، ہوا ابلتے ہوئے، گرم گوشت کی دلدل میں۔جہاں ہر طرف اندھیرا ہے، لذت ہے اور چپچپے پانی کا احساس ہے، وہ پانی، جو پسینہ بن کر ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے ماتھے پر چھنک رہا تھا، اب میرے اندرون میں اتر رہا ہے۔پتہ نہیں کیوں، لیکن اس کیفیت میں میری آنکھیں ہلکی ہلکی بھیگنے لگیں، میں نے آنکھیں کھولیں تو اس کا چہرہ میرے چہرے پر ڈٹا ہوا تھا، اس کی لمبی گھنیری پلکیں بند تھیں اور اس نے اپنے پستان کا ایک سرا میرے منہ میں ٹھونس دیا تھا، ان پستانوں کی لذت میں ساری زندگی نہیں بھول سکتا،ایسا نہیں کہ اس سے پہلے مجھے کبھی عورت کے وجود اور اس کے لمس کا احساس نہ ہوا تھا، مگر وہ پہلی بار تھا جب کسی عورت نے مجھ پر اپنے سینے کی ابلتی ہوئی دیگ کو ظاہر کردیا تھا، مجھے اس کے پستانوں پر زبان پھیرتے وقت ایسا محسوس ہوا جیسے میں کوئی بہت نمکین اور گھلی ہوئی برف اپنے گلے میں اتار رہا ہوں، میرے بدن کے سارے تار بج رہے تھے، آنکھیں شیشہ بن کر ایک مرکز پر جم گئی تھیں، اندھیرا مزید دبیز اور گھنا ہوگیا تھا، میرے ہاتھ پاوں،قریب قریب مردہ ہوتے ہوئے بھی خون کی اچھل کود کو بدن کے چاروں کونوں میں رقص کرتا ہوا محسوس کررہے تھے۔
اب مجھے کہیں نہیں جانا تھا، ان پستانوں نے مجھے عورت کے خالق حقیقی ہونے کا احساس کرادیا تھا، میں ڈوب رہا تھا تو اس وقت انہی دو پستانوں کی مثلث نما کمانیں پکڑ کر میں بدن کے جزیرے پر واپس لوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ لوٹا بھی کیا، زبردستی واپس لایا گیا۔ آنکھ کھلی تو سب جانب اندھیرا تھا، میرے منہ کے اوپر اور اندر خوشبودار انسانی بالوں کا ایک ہجوم سا تھا، جب یہ ہجوم چھاٹنے کے لیے میں نے اپنے ہاتھوں کو ہلانا چاہا تو معلوم ہوا کہ وہ تو کھلے ہوئے تھے، پیر بھی ہل رہے تھے، مگر وہ دو مضبوط، تھل تھل کرتی ہوئی دو چمکدار گوری رانوں کے درمیان پھنسے تھے۔میں نے بالوں کا پردہ ذرا سا چاک کرکے دیکھا تو جالی کا وہی دروازہ کھلا ہوا تھا اور باہر ایک کتا، ہانپتے ہوئے بڑی امید اور حسرت کی نگاہوں سے اس عورت کے ننگے بدن کو مظلومیت کی انتہا کے ساتھ دیکھے جارہا تھا، یہ وہ کتا نہیں تھا، یا شاید وہی تھا، مجھے کچھ علم نہ تھا۔۔۔میرے کانوں میں بس ایک آواز آئی ۔

 

‘سوجاو!’

 

اور میں نے ان دو گول گول، بھرے ہوئے پستانوں کے بیچ میں سہم کر اپنا منہ چھپالیا،عورت کے دونوں ہاتھوں نے میرے کولہوں کو اپنی طرف گھسیٹ کر مجھے اپنے بدن کے صدر دروازے میں داخل کرلیا، اور ایک بار پھر اندھیرا چھاگیا، اس وقت پتہ نہیں وہ خط کہا ں تھا، جو میں تیسری منزل والے شخص کے لیے لایا تھا، بس اب تو چاروں اور ایک جھم جھم کرتی گوشت کی دلدل تھی، جس سے باہر نکلنے کا میرا کوئی ارادہ نہ تھا، وہ عورت اب بھی میرے کان کی لو کو، نیند میں ہلکے ہلکے چبارہی تھی، مجھے درد کا احساس تو تھا، مگر وہ درد میں اپنے دانتوں کے ذریعے اس کے پستانوں کی نوک میں انڈیلتے ہوئے ایک نئی لذت کا وظیفہ پڑھنے لگا، جس کی تاثیر ایک بھرپور ،صرصر کرتی ہوئی سیاہ نیند کی صورت میں میری آنکھوں کے سامنے موجود تھی۔

 

پتہ نہیں یہ وقت، اپنی اسی کیفیت کے ساتھ اور کتنی دیر وہاں رکا ہوگا، کیونکہ جب مجھے ہوش آیا تو میں اگلے دن کے کورئیر بانٹنے نکل کھڑا ہوا تھا، مگر اب میرا کہیں جانے کا دل نہ ہورہا تھا، اس لیے میں پارک کی جانب چل دیا۔

 

(جاری ہے)

ٰImage: Female Figure with Head of Flowers, 1937 Art Print by Salvador Dalí

Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 6

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

قسط نمبر 6

 

سکول میں ہیڈ ماسٹر سے بات کرنی ہو یا پانی کے موٹر کے آنے والے بل کی زیادتی پر لڑنے والی عورت کا مقابلہ کرنا ہو،، مرد ان سب معاملوں میں ہمارے یہاں کمزور پرزہ ہوتا ہے۔وہ ان سب باتوں کو جھنجھٹ سمجھتا ہے جبکہ عورت اسے ذمہ داری کہتی ہے اور اس ذمہ داری کو دل و جان سے نبھاتی ہے۔
دہلی میں پہلی دفعہ مجھے ایک کلاس میں پڑھانے کا کام ملا۔دہلی میں ایسی بہت سی کلاسز ہیں، ممبئی میں بھی اس سے پہلے میں چاٹے کلاسز اور بہت سی دوسری پرائیوٹ ٹیوشنز کے بارے میں جانتا تھا، حالانکہ میں نے بھی دسویں جماعت میں ٹیوشن لی تھی اور چھ سات مہینے بعد اچھے نمبرات سے بورڈ کا امتحان بھی پاس کیا تھا، مگر اس آفت جاں اور حسن بے کراں ٹیوشن ٹیچر کا قصہ دہلی سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس لیے اسے وسئی یا ممبئی کی یادوں کو لکھتے وقت لکھوں گا۔تو میں ذکر کررہا تھا کلاسز کا۔میری خالہ جن کا نام سلمیٰ ہے، انہوں نے مجھے وہاں متعارف کروایا۔خالہ کی محبت اور خلوص میں کوئی شک نہیں لیکن جب وہ اپنی اچھی خاصی سماجی حیثیت ہونے کے باوجودعنقریب گڑگڑاتے ہوئے کسی شخص کو ہمارے حالات و واقعات کے بارے میں بتاتیں تو مجھے اچھا نہ لگتا۔ لیکن مجبور تھا سو چپ رہتا۔ ہماری خالہ کی شخصیت کچھ الگ سی ہے، وہ محبت کرنے والی ایک ایسی ہستی ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا بتاؤں۔جن دنوں میں نے انہیں دیکھا، وہ ایک عمامے نما برقعے میں بہت سی چھوٹی موٹی بیماریوں کے ساتھ ایک محنت کش خاتون کی صورت میں مجھے نظر آئیں۔ کوئی بات ہو، کوئی غم ہو یا کوئی پریشانی، وہ ہمیشہ ٹھڈی میں ہاتھ ڈال کر اپنی جانب توجہ دلواتیں اور کہتیں کہ سب ٹھیک ہوجائے گا، فلاں حل موجود ہے، فلاں راستہ نکل سکتا ہے۔دھوپوں میں سائیکل رکشوں کی سواریاں کرتے ہوئے، محلے کے ایم ایل اے سے لڑ کر چونا گارے والوں تک میں سے بہت سوں سے ان کی واقفیت ہے۔ یہ واقفیت ہمارے سمٹے سمٹائے معاشروں میں عورتوں کا بہت بڑا ذریعہء زندگی ہے۔ وہ اسی طور مردوں سے زیادہ سماجی مسئلوں میں منہمک ہوتی ہیں، ایسی بہت سی خالائیں، پھوپھیاں، بیبیاں آپ کو ان محلوں میں نظر آئیں گی۔

 

میں اگر اپنی زندگی میں ایک دو لوگوں سے نہ ملتا، دہلی کی سڑکوں کی خاک نہ چھانتا، مختلف پروڈکشن ہاؤسز میں مختلف مذاہب اور خیالات کے حامل لوگوں کے ساتھ کام نہ کرتا تو میرے مزاج کی وہ کرختگی شاید آج بھی برقرار رہتی
برقعے پر میری خالہ ایک سکارف باندھتی تھیں ، بدن کا بھاری وزن ڈولتا ہوا، پیر سوجتے ہوئے اور آنکھیں ڈگڈگاتی ہوئی، سرخ و سفید چہر ہ اور چربی دار لوتھڑوں کی بخشی ہوئی فربہی ۔ان سب چیزوں کےساتھ ان میں اور بھی بہت سی خاصیتیں تھیں۔ سب ان کی عزت کرتے تھے، ان کا کہنا مانتے تھے، ان کے اثر و رسوخ اور بات کرنے کے انداز سے کئی دفعہ کام نکل جاتے تھے۔یہ سارے کام اصل میں ان عورتوں کو اول اول اپنی اولادوں کے سلسلے میں نکالنے پڑتے ہیں۔ میں نے خود اپنی والدہ کو دیکھا ہے، درزی، چپڑاسی، پانی والا، پلمبر، مالک مکان، دکانداران بہت سے لوگوں کا سامنا کرنا، انہیں ایک منجھے ہوئے مینیجر کی طرح ڈیل کرنا، یہ سب ہمارے یہاں عورتوں کی معاشرتی ذمہ داریاں بن گئی ہیں۔ سکول میں ہیڈ ماسٹر سے بات کرنی ہو یا پانی کے موٹر کے آنے والے بل کی زیادتی پر لڑنے والی عورت کا مقابلہ کرنا ہو،، مرد ان سب معاملوں میں ہمارے یہاں کمزور پرزہ ہوتا ہے۔ وہ ان سب باتوں کو جھنجھٹ سمجھتا ہے جبکہ عورت اسے ذمہ داری کہتی ہے اور اس ذمہ داری کو دل و جان سے نبھاتی ہے۔غور کیجیے تو زندگی کے شعبے میں یہ سب چیزیں اتنی مہین ہیں کہ ذرا سی اونچائی سے بھی نظر نہیں آتیں، مگر ان کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اس گارے کی طرح ہوتی ہیں، جو انیٹ کے نیچے دب کر، پلستر کے نیچے چھپ کر عمارت کو بہت مضبوطی عطا کرتا ہے، اسے تھامے رکھتا ہے مگر دکھائی کہیں سے نہیں دیتا، اور اگر کبھی نظر بھی آجائے تو لوگ اس کو فوراً چھپانے کی تدبیروں میں لگ جاتے ہیں۔

 

الغرض میری خالہ نے مجھے جس کلاسز میں پڑھانے کے لیے مصطفیٰ نامی صاحب سے بات کی،اس کا نام دہلی ایجوکیشن پوائنٹ تھا۔یہاں انگلش سپیکنگ، بی ٹیک، ایم ٹیک، ایم اے، بی اے کے علاوہ کامرس ، بینکنگ اور سائنس کی تعلیمات دی جاتی تھیں۔اس وقت یہ سینٹر جوگا بائی نامی اس محلے میں قائم تھا، جو ذاکر نگر سے بہت نزدیک ہے، جہاں اب بھی میں رہا کرتا ہوں۔خالہ کی محبتوں کا میری زندگی پر ایک الگ اثر بھی ہے، یہ وہ تاثر ہے جو میری زندگی کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ ان کے گورے چٹے، گلابی چہرے پر ایک مسکراہٹ میں نے ہمیشہ دیکھی ہے، جب وہ ہنستی ہیں تو ان کے چھوٹے چھوٹے دانت عنابی مسوڑوں کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ مسکراہٹ دراصل اس شفق زدہ شام کی مانند ہے، جو انسان کے غم بھلا دیتی ہے، اسے جینا سکھاتی ہے، مشکل سے مشکل حالات کا سامنا کرنا اور ڈٹ کر کھڑے رہنا۔

 

یہ شہر جو رونق آباد معلوم ہوتا تھا، ابھی میری نگاہوں کے سامنے کسی حجاب پوش خاتون کی طرح سمٹا سمٹایا بیٹھا تھا، لیکن یہ حجاب دھیرے دھیرے الٹنا تھا
ایک دفعہ کسی بات پر میری ان سے کچھ ان بن ہوگئی تھی، وہ دہلی کے بالکل شروعات کا واقعہ ہے، کسی بات پر وہ مجھ سے ناراض ہوئیں، لیکن بہت جلد من بھی گئیں، اپنے آپ ہی۔۔۔شاید اسے ہی ہماری مختصر زندگیوں میں بڑکپن کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔مجھے خود یاد ہے کہ ان دس سالوں میں میں نے اپنی شخصیت کو کتنا بدلتا ہوا محسوس کیا ہے، پہلے میرے اندر زبان، مذہب، سماج، اصول پسندی اور نہ جانے دنیا بھر کی کتنی عجیب و غریب باتیں بھری رہتی تھیں، ان باتو ں نے مجھے ایک اکڑوشخص بنادیا تھا، جو اپنی ہلکی پھلکی اردو پر اتراتا، سب کو نصیحتیں کرتا پھرتا تھا، برے اور خراب تلفظات پر لوگوں کو برسر محفل ٹوک کر اپنی علمی برتری کا ثبوت دیتا تھا۔ مجھے بچپن سے جو مذہبی تعلیم ورثے میں ملی تھی، اسے میں نے ایسے سنجو کر رکھا تھاجیسے پتہ نہیں یہ کتنی بڑی دولت ہو۔میں اگر اپنی زندگی میں ایک دو لوگوں سے نہ ملتا، دہلی کی سڑکوں کی خاک نہ چھانتا، مختلف پروڈکشن ہاؤسز میں مختلف مذاہب اور خیالات کے حامل لوگوں کے ساتھ کام نہ کرتا تو میرے مزاج کی وہ کرختگی شاید آج بھی برقرار رہتی، میں نے اپنے اصولوں کو جب توڑا تو مجھے واقعی معلوم ہوا کہ اصولوں کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی،زندگی اصولوں سے نہیں، تبدیلیوں سے عبارت ہے۔جتنا انسان بدلتا جائے گا، اتنا بنتا جائے گا۔اسے حالات کے حساب سے خود کو ڈھالنا آئے گا۔بے شک جو بات آپ کو پسند نہیں، اسے آپ چھوڑ دیجیے، ترک کردیجیے، کسی بھی خاص بات کا پریشر لینا یا اسے سر پر سوار کرلینا غلط ہے کیونکہ سب سے زیادہ ضروری بات ہے خوش رہنا۔یہ بات مجھے ان لوگوں نے سکھائی، جوشاید آج خود یہ بات بھول چکے ہیں،جو کبھی اسی تمہید کے ساتھ اپنی کتاب زندگی کا آغاز میرے ساتھ کر رہے تھے اور جن کا ذکر اسی کتاب کے اگلے ابواب میں آئے گا۔

 

خیر میں ذکر کررہا تھا کوچنگ کا، کوچنگ کے ذکر کو شروع کرنا ہے اور دھیان کچھ الگ شخصیات کی طرف جارہا ہے۔میں جن دنوں وہاں گیا، انہیں اردو پڑھانے کے لیے کسی شخص کی ضرورت تھی، یوں تو وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پرائمری سکول کے ٹیچر مصطفیٰ سر کی کوچنگ تھی ، لیکن اس کا سارا انتظام و انصرام ان کے چھوٹے بھائی نسیم سر کی ذمہ داری تھا۔نسیم ایک چھوٹے قد اور گٹھے ہوئے بدن کے آدمی تھے، خالص میرٹھیا لہجہ، لیکن یارباش آدمی تھے۔ فیشن بھی ان کا کچھ عجیب قسم کا تھا، بالکل سفید کلر کی قمیص اور سفید کلر کی ہی پینٹ پہنے، بالوں کو بیچ میں سے مانگ نکال کر ادھر ادھر پھیلا دیتے، آنکھیں چھوٹی چھوٹی، چہرے کا نقشہ گالوں کی دو چوڑی ہڈیوں کی وجہ سے کچھ پھیلا ہوا، ہونٹ پتلے، رنگ سانولا اور ساتھ ہی ساتھ چہرے پر بہت سے مہین مہین سوراخ صاف نمایا ں ہوتے تھے،وہ مجھ سے بہت سی باتیں کرتے تھے۔ ابتدائی دن تھے دہلی کے، مجھے بھی ان سے یہاں کے لوگوں اور باتوں کے بارے میں جاننے میں بڑی دلچسپی تھی، یہ شہر جو رونق آباد معلوم ہوتا تھا، ابھی میری نگاہوں کے سامنے کسی حجاب پوش خاتون کی طرح سمٹا سمٹایا بیٹھا تھا، لیکن یہ حجاب دھیرے دھیرے الٹنا تھا اور اس کی ابتدا نسیم سر کی باتوں سے ہوئی، کوچنگ دو حصوں میں قائم تھی، ایک تو جوگا بائی والے علاقے میں اور دوسرے بٹلا ہاوس میں۔ بٹلا ہاوس والی برانچ تھوڑی چھوٹی تھی اور وہاں دو تین ٹیچرز ہی شاید بڑی کلاسوں کو پڑھایا کرتے تھے۔

 

اصولوں کی اس منڈی میں جس بری طرح اس کی خواہش کو رگیدا اور بے عزت کیا گیا ہے، وہاں اگر اس نے چاند چھونے کا کوئی چور راستہ دریافت کربھی لیا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔
کوچنگ کے اپنے ابتدائی زمانے میں مجھے دو شخصیات نے حیرت میں ڈالا، ایک سلمان نام کا ایک طالب علم تھا، جو کہ امیر ماں باپ کا شاید اکلوتا بیٹا تھا،بالکل موالیوں کی سی اس کی وضع قطع، بائک پر آیا جایا کرتا، ساتویں یا آٹھویں جماعت میں تھا، لیکن ایسا گلینڈا کہ سماعتوں کی کنپٹیوں پر پسینے کی بوندیں تیر جائیں۔ اکھڑ اور بے حد سخت مزاج کا لڑکا، جسے نسیم اور مصطفی صاحبان بڑے ہی مصنوعی قسم کے رعب سے ہینڈل کیا کرتے تھے، دوسری شخصیت زیبا نام کی ایک لڑکی کی تھی، اس لڑکی کا بھی اچھا خاصہ کھاتا پیتا گھرانہ تھا، اسی کے نام سے ایک گفٹ شاپ شاہین باغ نامی علاقے میں تھی۔وہ پتلی دبلی، سانولے رنگ کی ایک قبول صورت لڑکی تھی، لیکن اسے پڑھائی سے زیادہ لڑکوں کی طرف تانک جھانک میں بڑا مزہ آیا کرتا تھا،اسے نئے نئے تعلقات بنانے کا شوق تھا۔میں نے جب اسے پڑھانا شروع کیا تو اس نے مجھے اپنی زندگی کے تعلق سے بہت کچھ بتایا،وہ کسی لڑکے کو بہت پسند کرتی تھی، مگر خاندان والے کہیں اور شادی کے لیے بضد تھے، بالآخر اس نے خاندان والوں کی مرضی کے آگے سرجھکادیا تھا، کیونکہ ایک دو دفعہ اسے گھر میں بندی بنانے اور مارنے پیٹنے کی سزاؤں سے بھی گزرنا پڑا تھا، چنانچہ وہ کہا کرتی تھی، جب تک شادی نہیں ہوجائے گی، میں اس دوسرے لڑکے سے چھپ چھپ کر ملتی رہوں گی،اور شاید شادی کے بعد بھی ملوں۔اس وقت مجھے اس کی یہ بات بڑی ناپسند گزرتی تھی، میں اسے سمجھایا کرتا کہ یہ سب غلط ہے۔لیکن آج سوچتا ہوں کہ ایک دفعہ مجھے اس سے کہنا چاہیے تھا کہ وہ بالکل غلط نہیں، کیونکہ اصولوں کی اس منڈی میں جس بری طرح اس کی خواہش کو رگیدا اور بے عزت کیا گیا ہے، وہاں اگر اس نے چاند چھونے کا کوئی چور راستہ دریافت کربھی لیا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ کم از کم میں تو اس کی زندگی کا وہ ایک شخص ہوسکتا تھا، جو اسے اپنی مرضی سے زندگی بتانے پر شرم نہ دلائے بلکہ حوصلہ دے۔
Categories
فکشن

پستان – تیسری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-3
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

اس کی ہر تصویر میں ایک بات یکساں تھی، وہ دو ملی ہوئی عمارتوں کی تصویر بنائے یا کسی خالی پھٹی ہوئی بالٹی کا عکس اتارے، اس میں پستان کا ایک عنصر، ایک جھلک ضرور موجود ہوا کرتی تھی۔
کاغذ کی ڈور پر ایک ساتھ بہت سارے پسووں نے حملہ بول دیا تھا، جیسے کسی باسی کھانے میں پھپھوند لگ جاتی ہے، اسی طرح ایک پھولی ہوئی سیاہ ہیت اپنے آپ کو سنوار رہی تھی، ابھی کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ کون سی طاقت ہے، جو ان بنتے بگڑتے خطوط کو ملا کر ایک تصویر بنا دے گی، تصویر بنانا بہت اہم عمل ہے، اس عمل سے دنیا کی بہت سی مقدس تدبیریں خوف کھاتی ہیں۔ تصویر میں زندگی ہوتی ہے، آنکھیں اور بھڑکتا ہوا بدن، اگر بنانے والا خدا ہو تو تصویر بھی دیوی کا روپ اختیار کرسکتی ہے، اور پھر سر سے پیر تک بدن کی ایک تباہ کن کیفیت کو منعکس کرنا اور وہ بھی انگلیوں کی مدد سے، یہ ایک ایسا کام ہے، جس کے لیے مشقت اور مہارت دونوں باتوں کی بے انتہا ضرورت ہے۔صدر تصویر بناتے ہوئے اکثر سانس بھی روک لیا کرتا تھا، اس کی ہر تصویر میں ایک بات یکساں تھی، وہ دو ملی ہوئی عمارتوں کی تصویر بنائے یا کسی خالی پھٹی ہوئی بالٹی کا عکس اتارے، اس میں پستان کا ایک عنصر، ایک جھلک ضرور موجود ہوا کرتی تھی۔ ایک نظر میں کبھی کبھار یہ بات بہت مشکل سے دکھائی دیتی کہ اس نے کسی تصویر میں اپنی مخصوص پستان سازی کو بھی برقرار رکھا ہے۔ عورت کے بدن کے اس اوپری حصے سے اس کی دلچسپی غیر معمولی تھی، ایک دفعہ جب اسے کسی چوہے کی تصویر بنانے کا خیال آیا تو اس نے چوہے کے پیٹ کو ایسی بھربھراتی ہوئی شکل بخشی، جس کے گہرے بھورے رنگ کے گچھے دار بالوں کو دور سے دیکھنے پر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی پستان پر بہت سے بال اگ آئے ہوں۔۔۔۔ یہ ایک ایسی عجیب کیفیت تھی، جس سے اس کا چھٹکارا ممکن نہیں تھا۔ حالانکہ اس کے کچھ اساتذہ اسے بتا چکے تھے کہ ہندوستان کے بہت سے مصور ساری زندگی ایک ہی شکل کو متشکل کرتے رہے ہیں، کسی نے تمام عمر صرف اوم پینٹ کیا، کسی نے تا حین حیات صرف صفر کا عدد بنانے پر قناعت کی۔

 

کسی بھی تصویر کو سرسری دیکھنے والے عام طور پر وہ پیٹرن سمجھ ہی نہیں سکتے جو ایک تخلیق کار کا خاصہ ہوتی ہے، ایک مصور کا اسلوب، جس سے اس کی اپنی شناخت اپنے کینواس اور برش پر ظاہر ہوتی ہے، صدر نے پستان کے ساتھ اپنا ایک ایسا ہی تعلق بنایا تھا۔۔اور آج جب اسے ایک کولی لڑکی کے پستانوں کو تراشنا تھا تو اس نے سانسیں روک لی تھیں،اس نے کچ کا چہرہ بنایا،گردن، سڈول کمر،پیٹ کا شفاف بل کھاتا ہوا حصہ، شرم گاہ پر موجود ہلکی سیاہ دھاریاں اور ران، ان پر گھٹنوں کی دو ننھی رکابیاں، جو ہلکے پیلے بدن پر آنچ لگی ربڑی کے رنگ کی تھیں، پنڈلیاں،ان پر ڈھلتی ہوئی بوندیں، اور پانی کے ساتھ وصل کرتے ہوئے پنجے تک بنا دیے، پھر وہ چہرے پر واپس آیا، اس نے آنکھوں کے دونوں حلقوں کو بڑی احتیاط سے تراشا، جیسے پھل فروش گاہکوں کی خواہش پر تربوز کا پھانکا لگاتے ہیں۔پھر ان میں دو کانچ کے رنگ کی آنکھیں، گالوں پر ہلکے گڑھے، بالوں کی لٹوں کو عین اس کی نقل کے مطابق نقش کیا، بغلوں کا حصہ جب وہ پھیلا رہا تھا تو یہ سوچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے وہ کچ کی بغل میں ہلکی گدگدی کررہا ہے۔بہت دیر تک جب وہ کچ کی تصویر گری میں مصروف رہا اور بدن کے ایک ایک حصے کو جلتی ہوئی پرچھائیوں میں ڈھال چکا تب اس نے دیکھا کہ سینے پر بنے ہوئے دائرے بالکل سفید ہونقوں کی طرح، کسی آسیب کی پھٹی ہوئی آنکھوں کی مانند اسے گھور رہے ہیں، اس حصے کو بنانے سے پہلے وہ پھر ایک دفعہ کچ کے پاس آیا، کچ بڑی مشکل سے خود کو اسی پوز میں سنبھالے کھڑی تھی، صدر نے کہا:

 

“میں نے ابھی پستانوں کا حصہ نہیں بنایا ہے”

 

“کیوں؟”

 

“تصویر سے پہلے اس کے لیے مجھے تمہارے بدن پر کام کرنا ہوگا، جب یہاں پستان واقعی بن جائیں گے، تو وہاں بھی بنادوں گا۔”

 

“کیسی بات کررہے ہو صدر”اس نے منہ میں آجانے والے پانی کو پیتے ہوئے کہا۔”اس طرح تو بہت وقت لگ جائے گا۔”

 

صدر نے اس کی بغلوں پر زبان رکھ دی، وہ پانی کے بہتے ہوئے منظر میں ہانپنے ہوئے کسی کتے کی طرح اس چھوٹے سے دونے کو چاٹنے لگا۔پھر گردن تک چلا آیا،جب وہ کچ کی گردن کی کھال کو جمع کرکر کے اپنے منہ میں بھر رہا تھا، اس وقت بے اختیار کچ کا ہاتھ اس کی پیٹھ پر چلا گیا، اتنی دیر تھی کہ دوسرے ہاتھ نے بھی بغاوت کر دی، بھیگتی ہوئی رات کے اس چھوٹے سے آباد خانے میں دو بدن شرارے چھوڑنے لگے اور پانی اس جلتی، دہکتی، لاوا ابلتی ہوئی آواز کا گواہ بن گیا۔ کچ نے اپنی انگلی کو پہلے اپنی شرم گاہ میں پیوست کیا اور پھر وہاں سے اسے نکال کر صدر کی زبان پر اسے تیرانے لگی جیسے کوئی بریڈ پر جام لگایا کرتا ہے۔صدر کو کچ کی یہ بات پسند تھی کہ وہ اپنے انتہائی ہوس ناک اندرون کے جاگتے ہی آنکھیں کھول دیتی ہے۔وہ ایک نیولے کی طرح پہلے اسے پے در پے مختلف داو پیچ سے اتنا تھکا دیتی ہے کہ آخر کار وہ اس کا شکار ہوجانا ہی مناسب خیال کرتا ہے۔

 

٭٭٭

 

صدر کا جی چاہا کہ وہ اس عورت کے سینے پر رکھی ہوئی کمان کو کھینچے، اتنا کہ وہ سخت ہو جائے، اس قدر سخت کہ اس کو کہیں سے بھی چھونے پر عورت کا بدن تان چھیڑنے لگے، راگ گانے لگے اور صدر اس کمان کو کبھی ڈھیلا نہ کرے۔
صبح اس دن تھک کر چور ہوچکی تھی، اسی لیے اس نے اپنے وجود کو پھیلا کر پودوں کی پیلاہٹ، چیلوں کی اڑان، خچروں کی تھکن اور بھکاریوں کی آواز تک وسیع کردیا تھا،جب صدر کی آنکھ کھلی تو اس کی دھندلی نگاہوں نے دیکھا کہ چاروں جانب کہر کی ایک عجیب سی چادر ہے، یہ چادر ہلکے ہلکے کسی گیلے ٹشو پیپر کی طرح پھٹنے لگی اور اس میں سے ایک اور دوسرا تولیا نما منظر برآمد ہوا، جس نے اس ساری گیلاہٹ کو اپنے بدن میں جذب کرلیا تھا اور اب سب کچھ سوکھا، بے جان اور کریہہ نظر آرہا تھا، دھوپ اس قدر سخت نکلی ہوئی تھی کہ باہر کا منظر دیکھنے کا دل نہ چاہتا تھا، مگر پردے کھلے تھے اور ڈرائنگ روم کے پیٹ میں پڑی میز اور دو کرسیوں پر دھوپ بیٹھی ہوئی قہقہے لگارہی تھی، اس نے آگے بڑھ کر جلدی سے پردہ کھینچ دیا، پردہ کھینچتے ہی دھوپ تو غائب ہوگئی، لیکن ایک قسم کی دبیز گرماہٹ ابھی اس کے کولہوں کی تپن کا احساس کرارہی تھی، جیسے کوئی شخص کرسی پر اٹھ کر اپنے چوتڑوں کی بساند، بدنیت اور گرم سانسیں اس پر رکھ کر بھول جاتا ہے، پھر دھیرے دھیرے جیسے ہواوں کی کمانیں کستی ہیں، تو مناسب موقع پر اس چھون کا تیر تیزی سے کرسیوں کی پشت سے چھوٹ کر دیواریں پھاڑتا ہوا کہیں دور جانکلتا ہے۔

 

صدر کی نگاہ بھی اس وقت اس کی بنائی ہوئی ایک ایسی ہی پینٹنگ پر مرکوز تھی، جس میں اس نے کمان بنائی ہوئی تھی، یہ کمان ایک عریاں عورت اپنے سینے پر رکھے ہوئے سو رہی تھی، سونے کی کمان، جس سے ایک ربڑ نما ڈور بندھی ہوئی تھی، کمان کا سخت حصہ مرد کے عضو تناسل کی صورت میں بنایا گیا تھا، وہ عورت کے سینے پر یوں رکھا ہوا تھا، جیسے وہ کوئی یونانی دیوی ہو، جسے عضو تناسل سے محبت اور رقابت دونوں کا رشک حاصل ہو، یونان کی وہ واحد عورت، جسے پورے وقار کے ساتھ ، کسی مرد نے ایک رات اپنی شرمگاہ کا امین بنایا ہو، اور دوسرے دن وہ نوبالوں، شہہ بالوں کی بھیڑ میں کہیں کھو گیا ہو۔ عورت کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا اضطرار تھا، جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو، وہ خواب جو اس کے ادھورے وصل اور یونانی تہذیب میں عورت کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کی سب سے کرب ناک داستان کو بیان کر رہا ہو، وہ عورت جس کے ہاتھ میں پھنسی ہوئی کمان اس اژدہے کی طرح ہو، جس پر اس عورت کا عتاب بس نازل ہونے والا ہے، زمین بس پھٹنے والی ہے اور یہ اژدر نما کمان دنیا کی باقی تمام تہذیبوں، تمام تاریخوں اور تمام ملکوں میں زمین پر اپنی تسکین کے لیے زمین پر گھسٹنے پر مجبور کردی گئی ہو۔وہ عورت جو دو دنیاوں کی مالک ہے، جس کے کھلے ہوئے ہونٹوں، دھنسی ہوئی آنکھوں اور بدن کے پھیلے ہوئے صحرا میں اس کی تسکین کا سارا سامان اس نے خود انسانی فطرت کے ہاتھوں گنوادیا ہو، اور وہ یونان کے گلی کوچوں سے لے کر مصر کے بازاروں تک گورے چٹے، ہٹے کٹے مردوں، لڑکوں کی تجارت ہوتے ہوئے دیکھ کر پیچ و تاب کھا رہی ہو۔ جب وہ انسانی صورت میں ڈھلی ہوئی اور اس نے اپنی اس ہوس کی تکمیل کے لیے کسی عام سے خوبصورت لڑکے کو اپنی جانب راغب کیا ہو تو اچانک اسے معلوم ہوا ہو کہ یہ تو پیغمبر ہے، اس نے اپنے کسی دوست کو اپنے پستانوں پر ہاتھ لگانے پر آمادہ کر لیا ہو تو اسے محسوس ہوا ہو کہ دو دنیاوں کے خدا نے اس حرکت سے تنگ آ کر اسے دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہو۔ وہ عورت اتنے سارے خواب یا عذاب اپنی آنکھوں میں سمیٹے ایک خوبصورت مخملیں بستر پر سو رہی تھی، اور کمان اس کے سینے پر دھری تھی۔۔۔۔صدر کا جی چاہا کہ وہ اس عورت کے سینے پر رکھی ہوئی کمان کو کھینچے، اتنا کہ وہ سخت ہو جائے، اس قدر سخت کہ اس کو کہیں سے بھی چھونے پر عورت کا بدن تان چھیڑنے لگے، راگ گانے لگے اور صدر اس کمان کو کبھی ڈھیلا نہ کرے۔

 

“تمہیں بھوک نہیں لگی؟ “کچ نے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سنبھالتے ہوئے مچی مچی آنکھوں کے ساتھ کہا۔

 

“ہمم۔۔۔کچھ ہے نہیں ابھی، میں نیچے سے کچھ لے آتا ہوں، تم جب تک فریش ہوجاو”یہ کہہ کر وہ تصویر میں ڈٹے ہوئے

 

کچ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ لوگ زمین کو ماں کہتے ہیں۔۔۔ وہ زمین کو محبوب کے تصور میں زیادہ مناسب سمجھتی تھی، ایک منافق محبوب، جس نے اپنے اپنے سینے پر قابض قوموں کو اپنے چمکتے دمکتے وسائل سے لبھا لبھا کر ان کے ساتھ بے انتہا وصل کیے ہوں۔
انہماک کی پڑیا بنا کر اسے ایک جانب پھینکتے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا۔کچ اٹھی، اس نے دھندلی نگاہوں کے ساتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ ٹٹولا اور برش کرنے لگی، اس نے پنکھا تیز کیا اور پردہ کھینچ دیا، اس وقت کوئی بادل سورج کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا، اور پورے آسمان میں اتنا بڑا بادل دور دور تک کہیں اور دکھائی نہ دیتا تھا، کچ نے حیرانی سےآسمان کو دیکھا، وہ سورج کی بے بسی پر مسکرادی، اسے علم تھا کہ ابھی کم از کم دس بارہ منٹ تک دھوپ اس بادل کے سرکنے کا انتظار کرتی رہے گی اور اس کی تیز و دھار دار فوجیں بادل کی روئی جیسی پیٹھ پر اپنی تلواریں برسا برسا کر بے دم ہوجائیں گی، مگر پانی اور دھوئیں کو کون کاٹ سکتا ہے۔ اسے اسی لیے ان دونوں چیزوں سے بہت پیار تھا۔۔۔ وہ پانی کو ایک انسان کے طور پر دیکھتی تھی،ایک ایسا انسان جو اچھا برا، غلیظ، نمکین، ہرا، کالا، گہرا گلابی یا پھر کوئی بھی رنگ اپنے اندر سمولیتا تھا، بغیر کسی شکایت کے۔ پانی کچھ سوچتا نہیں، بس چیزوں کو قبول کرتا ہے اور دھواں؟ کہتے ہیں کہ دھواں اگر انسانی دماغ میں گھس جائے تو اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماوف کر دیتا ہے، پھیپھڑوں میں گھس جائے تو انسان کے سینے میں اپنا سینہ پیوست کر کے اسے بھی اپنے جیسا بنا دیتا ہے، منہ کے راستے داخل ہو تو ناک کی نالیوں سے تیر کر کسی مشاق تیراک کی طرح باہر نکل آتا ہے، دھوئیں کو کتنا بھی قید کرو، وہ اپنے باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ نکالتا ہے، بالکل عورت کی طرح۔مرد کو پانی اور عورت کو دھواں سمجھنے والی کچ اس وقت کلی کر رہی تھی، واش بیسن پر لگا ہوا نل جس وقت اس نے بند کیا، صدر سامان لینے نیچے جاچکا تھا، اب موسم میں دھوپ پھر واپس آ گئی تھی، بادل کا وہ ٹکڑا نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔

 

اس نے ریڈیو آن کیا تو کھرکھراتی ہوئی آواز میں اینکر نے خبریں سنانی شروع کردیں۔موسم کے حال سے لے کر دنیاکے احوال تک، اپنے وطن کی برتری کی داستانیں، جیسی باقی کی کوئی زمین، زمین ہی نہ ہو، کچ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ لوگ زمین کو ماں کہتے ہیں۔۔۔ وہ زمین کو محبوب کے تصور میں زیادہ مناسب سمجھتی تھی، ایک منافق محبوب، جس نے اپنے اپنے سینے پر قابض قوموں کو اپنے چمکتے دمکتے وسائل سے لبھا لبھا کر ان کے ساتھ بے انتہا وصل کیے ہوں۔ اس طور پر دیکھا جائے تو زمین سے بڑی فاحشہ اور کون ہو گی، جس کے پستانوں سے لٹکتی ہوئی قومیں خود کو یہ باور کراتے کراتے تاریخ کی نذر ہو جاتی ہیں کہ یہ ان کی ماں کے پستان ہیں، جبکہ وہ انہی پستانوں کو کسی شرابی ڈھنڈاری، معیشت اور قسمت سے پٹے ہوئے ادھیڑ عمر کے ایک شخص کی طرح نوچتے کھسوٹتے رہتے ہیں، ان دودھ ابلتی شریانوں سے اپنا منہ بھڑا دینے کے لیے بہت سے انسانوں کا قتل بھی جائز سمجھتے ہیں۔ زمین ماں نہیں ہے، زمین ماں نہیں ہوسکتی۔۔ زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔ اتنے میں دروازہ کھل گیا اور اس کے ہاتھ سے خیالات کا تھیلا چھوٹ کر زمین پر گر گیا، خیالات منتشر ہوگئے لیکن اس نے پھر بھی زمین پر گھورتے ہوئے صدر سے پوچھا۔

 

زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔
‘وہ زمین پر تم نے کسی شاعر کا شعر سنایا تھا اس دن؟ کیا تھا وہ؟ بہت اچھا لگا تھا مجھے؟’

 

‘زمین پر تو بہت سے شعر ہیں۔’

 

‘ارے اس میں کچھ کٹاؤ وٹاؤ جیسی بات تھی۔۔۔’

 

صدر نے بریڈ کا پیکٹ کھولتے ہوئے مسکراکر جواب دیا۔’اب یاد کر لو، بار بار نہیں سناؤں گا۔ اسعد بدایونی کا شعر ہے

 

میں تو بس دیکھتا رہتا ہوں زمینوں کے کٹاؤ
آدمی سوچنے والا ہو تو پاگل ہو جائے’

 

اس نے زیر لب شعر دہرانے کی پھر کوشش کی، لیکن وہ غلط ہوگئی، میں رات بھر ان دونوں کے جاگتے ہوئے بدن کی گواہی دیتے دیتے تھک گیا تھا، اس شعر کی تکرار پر میری آنکھیں ڈوبنے لگیں اور میں اپنے وجود میں ڈوبتا چلا گیا، میں جو کمرے کے چوکور پستانوں سے انہیں دیکھتے رہنے کا عادی ہوں۔