شمیم حنفی : اس بزم میں پھر لوٹ کے آنے کے نہیں ہم (تصنیف حیدر)

وہ شاعری پر فکشن کو بہت ترجیح دیتے تھے۔ شاعری بھی انہیں پسند تھی، مگر کہتے تھے کہ یہ دور ناولوں کا دور ہے۔
حسنین جمال کے نام ایک خط (اپنی شاعری کے حوالے سے)

شاعری کو تو بسیط ہونا چاہیے، اس میں سبھی طرح کے رنگ، سبھی طرح کے لفظ اور سبھی طرح کی دنیائیں آباد ہونی چاہیے۔
کلرک کا افسانہ محبت (تصنیف حیدر)

کسی ہم خیال کے ساتھ گزاری ہوئی دس سال کی پرسکون زندگی اس کی نظر میں کچرا رقابتوں کی پچاس سالہ قید بامشقت سے کہیں زیادہ بہتر تھیں۔
ڈھاک کے تین پات (تصنیف حیدر)

ایک بوڑھی عورت پر کوئی یہ شک کرسکتا تھا کہ اس نے اس عمر میں اپنے پتی کا قتل کیا ہو گا؟
تنہائی پسند (تصنیف حیدر)

آپ نے کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کا حسن دیکھا ہے، ایسا شفاف اور گہری نیند میں ڈوبا ہوا پانی، جس کی ریشمی چادر پر پوروں کی گرماہٹ سے جھریاں ڈالنے کی جرات کرنا بھی ناممکن ہو۔ جب کبھی انسان اس طرح کی سرور میں لپٹی ہوئی، سماج اور اس کی بھیانک دوپہریوں سے کوسوں دورسرمئی […]
ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث […]
پردے کی صفت (تصنیف حیدر)

پردہ داری انسانی فطرت ہے، انسان پردہ کرتا ہے یا شاید پردہ ڈالتا ہے، ان تمام چیزوں پر جو اسے دکھانا ٹھیک نہیں معلوم ہوتیں یا اور زیادہ نفسیاتی توجیح کیجیے تو جن کو دکھانا برا یا معیوب سمجھا جاتا ہے یا جن کے دکھ جانے سے کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ […]
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

تصنیف حیدر: ویلنٹائن ڈے محبت کے بارے میں سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنے کی گھڑی ہے ،جو ہمیں ہماری تمام تر مصروفیت کے باوجود یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ محبت کا یہ خاص دن منانے کے لائق کیسے بنا جائے۔ورنہ تو ہماری سوسائٹی میں محبت کرنے والوں کی نہ کوئی کمی ہے، نہ کبھی ہوگی۔
محبت کی گیارہ کہانیاں (دوسری کہانی)

تصنیف حیدر: وہ شام ایک خواب کی مانند تھی، میرے دوسرے خوابوں کی طرح۔میں اپنی ذات کی الجھنوں کو اتنی آسانی سے نہیں بتا سکتی۔بدن تو خیر جو الٹ پھیر کررہا تھا وہ ایک دوسری بات ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ذہن میں بھی تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔
آدمی قید ہے

تصنیف حیدر: آدمی قید ہے
وقت میں، خون میں، لفظ میں
آدمی قید ہے
محبت کی نظمیں (حصہ اول)

تصنیف حیدر: رات
اس کی نظمیں سنتے گزری
جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں
کا رقص ہو
خودکشی اور میں

تصنیف حیدر: میرے لیے خودکشی کا بہترین واحد ذریعہ عورت ہی ہوسکتی ہے اور میں اسے اپنے قاتل کے روپ میں نہ دیکھتے ہوئے، محسن کے طور پر دیکھنا زیادہ پسند کرتا ہوں، خواہ وہ مجھ سے نفرت کرکے میرے سینے میں گولیاں ہی کیوں نہ اتار رہی ہو، کسی کے ساتھ مل کر بے وفائی کرنے کے چکر میں میری جان لینے کی فکر کیوں نہ کرے۔
نظم (تصنیف حیدر)

تصنیف حیدر: خودکشی حرام نہیں
بلکہ ایمان کی پہلی شرط ہے
بھائی صاحب کا مذہب

تالیف حیدر: میں اس کو مذہب سے انحراف پر کبھی کبھی ٹوکتا بھی ہوں، اس سے بحث بھی کرتا ہوں، مگر اس کے اس سفر کو کبھی فراموش نہیں کرتا
زمینی اور آسمانی خواہشوں سے گندھی لڑکی

تصنیف حیدر: فاطمہ سے میرا تعلق دھیرے دھیرے بنا، جیسے کوئی ہرن دشت میں اگ آنے والے پانی کی طرف آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، کانوں کو پھیلائے ہوئے، پتوں کی سرسراہٹ اور ذرا سی بھی کھسر پھسر پر دھیان جمائے ہوئے۔