زندگی کبھی سر اٹھائے گی؟

ثریا عباس: نیک خواہشوں کے اگنے کو
کوئی خطہءِ زمین نہیں بچے گا
تو جینا کیسے سیکھیں گے؟
تاریکی کا تسلسل کیسے ٹوٹے گا؟
کوئی خطہءِ زمین نہیں بچے گا
تو جینا کیسے سیکھیں گے؟
تاریکی کا تسلسل کیسے ٹوٹے گا؟
ﺳﺎﺩﮬﻮ

سعید اللہ قریشی:
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
پسپائی اور محبت کی آخری نظم

نصیر احمد ناصر: مکمل سپردگی سے پہلے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے
جوتے بہت کاٹتے ہیں

ابرار احمد: اس جگہ شہر تھا
اور سیٹی بجاتے ہوئے نو جواں
اس پہ اتری ہوئی
رات سے یوں گزرتے
کہ جیسے یہی ہو گزرگاہِ ہستی
اسی میں کہیں ہو سراغ تمنا —
اور سیٹی بجاتے ہوئے نو جواں
اس پہ اتری ہوئی
رات سے یوں گزرتے
کہ جیسے یہی ہو گزرگاہِ ہستی
اسی میں کہیں ہو سراغ تمنا —
گوتم نے خود کشی کر لی ہے

نصیر احمد ناصر: تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
بچپن کی سماعتیں

نصیر احمد ناصر: بچپن کی سنی ہوئی آوازیں
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!
سیٹھ آدم بھائی مٹی والے کا رجز

احمد جاوید: برباد ہو گیا وہ شخص
جس نے میری للکار پر خندہ کیا
یا میرے نیزے سے خلال کیا
جس نے میری للکار پر خندہ کیا
یا میرے نیزے سے خلال کیا
پَونیا

نصیر احمد ناصر: مجھے مت پہنو!
میں تمہاری مٹی جیسا شفّاف
اور تمہارے ریشم جیسا نرم نہیں
میں تمہاری مٹی جیسا شفّاف
اور تمہارے ریشم جیسا نرم نہیں
دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

نصیر احمد ناصر: سرحد کے اُس پار سے آنے والے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے
روزنامچہ

قاسم یعقوب:
مکتبوں ،دانش کدوں سے زندگی کے فلسفے پرمشتمل
جھوٹی کتابیں پڑھ کے آنا
موت کو آسان کرنے کے جتن کرنا
مکتبوں ،دانش کدوں سے زندگی کے فلسفے پرمشتمل
جھوٹی کتابیں پڑھ کے آنا
موت کو آسان کرنے کے جتن کرنا
قید

حسین عابد: محبت
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے
سرمئی نیند کی بازگشت

نصیر احمد ناصر: رات کا سوناٹا ختم ہونے سے پہلے
مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے
مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے
خودفریبی کے سرد خانے میں

یہ راز نہیں حقیقت ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے
نغمۂ جنوں

رانا غضنفر: میرے حرفِ جُنوں کے سندیسے
بزمِ آفاق سے اُبھرتے ہیں
اور میں نغمہِ جنوں لے کر
پھر کسی جُستجو میں نکلا ہوں
بزمِ آفاق سے اُبھرتے ہیں
اور میں نغمہِ جنوں لے کر
پھر کسی جُستجو میں نکلا ہوں
