Categories
شاعری

دو کیشیئرز

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کیشیئر

[/vc_column_text][vc_column_text]

جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی
لفظ مجھ سے اُلجھے ہیں
بات اُس نے کرنی تھی
سوچ میری بھٹکی ہے!

 

جب حدیں مقرر ہوں
زندگی کو جینے کی
ناتمام حسرت پر
بے شمار پہرے ہوں
وصلِ منتظر کے دکھ
ہجر سے بھی گہرے ہوں!

 

دھڑ دھڑاتے سینوں میں
تھر تھراتی سانسوں میں
کپکپاتی بانہوں میں
آرزو کے بستر پر
سلوٹیں تو پڑتی ہیں
خواہشوں کے پتلوں میں
سوئیاں تو گڑتی ہیں
شام کے ستارے نے
جب نظر کو ٹوکا ہو
جب کھلی حقیقت پر
اک فسوں کا دھوکا ہو!

 

بینک ایسے جسموں کی
روحیں کیشیئر نکلیں
جو مچلتے جذبوں سے
ہمکنار ہونے کی
لذّتِ روا تج کر
سنگِ ضبط کی زد پر
قہرِ شہر سے ڈر کر
کیف و لطف کے لمحے
دیکھتی ہوں گنتی ہوں
اور خود ترستی ہوں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

جدید، جدیدیت اور مابعد جدیدیت

ادب اور جدیدیت

 

چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم ترقی پسند تحریک سے قدرے مختلف سمجھ کر ’نیا ادب‘ کا نام دیتے تھے اب ایک نئے دھارے میں بدل چکا ہے
گذشتہ برسوں کے کچھ رسائل اور کتب میں مشمولہ مضامینِ نظم و نثر کی ورق گردانی کریں تو اس خیال کا دل میں جاگزیں ہونا ضروری ہے کہ چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم ترقی پسند تحریک سے قدرے مختلف سمجھ کر ’نیا ادب‘ کا نام دیتے تھے اور جس میں راشدؔ اور میرا جیؔ دو معتبر نام تھے اور جس میں قدرے دیر سے مجید امجدؔ اور اختر الایمانؔ بھی شامل کیے جاسکتے تھے، اب ایک نئے دھارے میں بدل چکا ہے (اس بات کا اطلاق ہندوستان پاکستان دونوں ملکوں پر یکساں دکھائی دیتا ہے) اور اس دھارے کو ایک خود کار واٹر پمپ سے چلانے والوں نے ’جدیدیت‘ کا نام دیا ہے۔ اس کا نعم البدل انگریزی میں کیا ہو سکتا ہے، کم از کم میرے پاس تو اس کا جواب نہیں ہے۔ یقیناً یہ تحریک وہ نہیں ہے، جسے فرانس میں، انیسویں صدی کے اختتام پذیر ہونے کی مناسبت سے fin-de-sie’cle فانت سیئکل کہا گیا تھا، یا انگریزی میں modernism یا modernityکا نام دیا گیا تھا۔ ہم جس ’جدید ادب‘ کو مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، اس کی ابتدا کا لیکھا جوکھا ہم انگریزی میں امیجسٹ پوئٹری کے پہلے دور (اؑایذرا پاؤنڈ اور اس کے ساتھیوں) سے شروع کرتے ہوئے دوسرے دور (ایلیٹ اور اس کے پیچھے آنے والے شعرا) تک جاتے ہیں اور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے درمیانی وقفے تک پہنچ کر اسے ختم کر دیتے ہیں۔ “ختم” شاید ایک غلط لفظ ہے، کیونکہ ’امیجزم‘ کی جس شرطِ اول سے یہ تحاریک شروع ہوئی تھیں، اس دورانیے میں کسی نہ کسی صورت جاری و ساری تو رہیں لیکن اسلوب سے قطع نظر۔۔۔ (ایک) موضوع اور مضمون کی سطح پر تشکیک،(دو) بے سمتی،فرار، فرد کی تنہائی کا احساس، (تین) فرد کی داخلی “لا فردیت”، اور (چار) زمانہءِ حال سے بے زاری۔۔۔ ایسے در آئے کہ امیج خارجی منظر نامے کو ترک کرنے کے بعد، موضوع اور مضمون کی مناسبت سے ایک سے زیادہ جہتیں قبول کرتا ہوا ذہنی ہوا خوری کو نکل گیا۔

 

دوسری جنگِ عظیم کا دورانیہ چھہ برسوں کا تھا اور ان برسوں میں جو ادب تخلیق ہوا، وہ کوئی الگ حیثیت نہیں رکھتا لیکن جنگ کے فوراً بعد بے زمینی، غریب الوطنی، (جنگ کے سیاق میں) دہشت، بے حوصلگی، اضطرار، غیر محفوظیت، لا یعنیت اور مہملیت کا دور دورہ رہا۔

 

کوئی بھی ادبی مورخ یہ سطریں لکھتے ہوئے یقیناً یہ محسوس کرے گا کہ اردو میں وارد “جدیدیت” ایک حد تک تویورپ کے اس دور سے تعلق رکھتی تھی جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد معرضِ وجود میں آیا اور دوسری حد تک یہ اس بے سمتی کی غماز تھی جو Theatre of the Absurd یا Beat Generation یا پھر Magical Realism کے گروہوں میں دکھائی دیتی تھی۔ “لا معنویت کا تھیئٹر”absurd کا یہی معنی اب تسلیم کیا جا چکا ہے) البیئر کامو Albert Camus کے حوالے سے یا یوجِین آئیونیسکو کے حوالے سے ایک اصطلاح کے طور پر مارٹن ایسلِن Martin Esslin نے پہلی بار استعمال کی۔ اس سلسلے کی معتبر ترین ہستی سییموئل بیکٹ Samuel Beckett ہے جس کے ہاں Modern, Postmodern & Absurd تینوں تحاریک قطار اند ا قطار دکھائی دیتی ہیں۔

 

اردو ادب میں جدیدیت

 

اردو میں ‘جدیدیت’ اوّل اوّل تو ترقی پسند تحریک کے ردِّ عمل کے طور پر انڈیا میں وارد ہوئی۔
اردو میں ‘جدیدیت’ اوّل اوّل تو ترقی پسند تحریک کے ردِّ عمل کے طور پر انڈیا میں وارد ہوئی۔ اسے تاریخی استدلال کی سطح پر، ‘قبولِ عام’ کی بجائے ’قبولِ خاص’ کے طور پر شناخت دینے میں شمس الرحمن فاروقی نہ صرف پیش پیش رہے، بلکہ اس کی سرپرستی اور رہنمائی کا بیڑا بھی انہوں نے اٹھایا۔ ایک قائد اور قانون گو کی طرح انہوں نے تحریک کو اس کے تاریخی کردار سے آگاہ کیا۔ ان کی ادارت میں چھپنے والا جریدہ “شب خون” تحریک سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے میں پیش پیش رہا۔ یہ کریڈٹ فاروقی صاحب کو ہی جاتا ہے کہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ چند ایک پرانے اہل قلم کو چھوڑ کر ہر نئے لکھنے والے نے ’جدید‘ کہلوانے میں فخر محسوس کیا۔۔۔۔۔۔ لیکن تحریک اور تنظیم میں بہت فرق ہے۔ ترقی پسند تحریک ایک تنظیم کی زیرِ قیادت کام کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ منٹو کو “ذات باہر” کرنے میں بھی ایک قرارداد کی ضرورت پیش آئی تھی۔ کئی چھُٹ بھَیّے (“شاہراہ” کے پرکاش پنڈت کی مثال اظہر مِن الشمّس ہے، جو خود کو اردو کا چیخوفؔ لکھا کرتے تھے!) آرگنائزیشن کے کندھوں پر بیٹھ کر خود کو “نو گزا فقیر” سمجھنے لگے تھے۔ جدیدیت کی تحریک بنیادی طور پر قلم کی آزادی کی محرک تھی اور Organisational control کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن ہوا یہ کہ چند برسوں میں ہی انارکی اور انتشارنے اندرونی خلفشار کے طور پر اس تحریک کو گھُن کی طرح چاٹنا شروع کر دیا۔ زبان کی شکست و ریخت شروع کی گئی تو لسّانیات کے سب اصول بالائے طاق رکھ دیے گئے۔ افسانوں میں کردار تحلیل ہوا، وقت کی یک سمتی رفتار کو شعوری رو کے زیر اثر Forward to the Past یا پھر Back to the Future کر دیا گیا۔ امیج پیٹرن، جس میں سب سے زیادہ Organic Unity کی ضرورت تھی، ایک لا یعنی “کولاج” کی صورت میں بدل دیا گیا۔ فاروقی صاحب کو دوش دینا غلط ہے۔ وہ ایک نقّاد تھے، رہنما تھے، منتظم نہیں تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان ‘زیادتیوں’ کا جو ادب کی مختلف اصناف کے ساتھ اور زبان کی سلیقہ مندی کے ساتھ روا رکھی گئی تھیں، نوٹس لینے پر بھی وہ کچھ نہ کر سکے اور پھر، بوجوہ دیگر بھی، یہ تحریک ایک شوریدہ سر دریا سے کم ہوتے ہوتے ایک مضمحل نالے کی طرح بہنے لگی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مابعد جدیدیت

 

بیکٹؔ نے موضوع سے زیادہ ’فارم‘ اور اسلوب کی طرف توجہ مبذول کی۔ جب 1969میں اسے نوبل پرائز سے نوازا گیا تو وہ Meta-literary تجربات کے لیے تیار تھا۔ انہی تجربات سے مملو اس کی زندگی کی آخری تحریر Stirrings Still تھی۔ اس میں بیکٹ نے ڈرامہ، فکشن اور شاعری کے درمیان حدودِ فاصل کو ملیا میٹ کرتے ہوئے (اپنی دانست میں) ایک نئی صنفِ ادب ایجاد کرنے کی سعی کی۔ لیکن نتیجہ جو برآمد ہوا وہ خاطر خواہ نہیں تھا۔ یہ تحریر اس کی پرانی تحریروں کی صدائے باز گشت بن کر رہ گئی اور نقادوں نے اسے substance کی جگہ پر shadow کہا۔ پھر بھی یہ بات مسلّم ہے کہ بیکٹ “پوسٹ ماڈرنزم” کا جنم داتا ہے۔ فکشن کے بارے میں Jean-Francois Lyotard یاں فرنسائے لیوتارد کی دو نئی اصطلاحیں معرض وجود میں آئیں۔ انہیں Meta-narrative اور Little Narrative کہا گیا۔

 

Beat Generation ایک امریکی اصطلاح ہے اور اسے جیک کیروایک Jack Kerouacنے رواج دیا۔ یہ اس دور کی امریکی جوان نسل کے لا سمت سفرِ زندگی کو موسیقی کی اصطلاح beat یعنی رقص کی ‘دما دم دم’ سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کی لا یعنی صوتی تکرار کا استعارہ ہے۔ میں جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہوں مجھے یہ شعر یا د آ جاتا ہے۔

 

بیا جاناں، تماشہ کن، کہ در انبوہِ جانبازاں
بصد سامانِ رسوائی، سرِ بازار می رقصم

 

اردو میں پوسٹ ماڈرنزم کا صحیح متبادل کب منصہ شہود پر آتا ہے، ا س کے لیے شاید سالہا سال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہ پڑے
جن شخصیات یا واقعات نے تاریخ وار اس منظر نامے کو ترتیب دیا، اس میں 1953ء کے دوران Waiting for Godot کی اسٹیج پر پروڈکشن ہے، 1956 میں Howl کی اشاعت، 1959ء میں Naked Lunch کی اشاعت، اور 1969میں دریداؔ Jacques Derrida کا تاریخ ساز لیکچر ہے، جو اس وقت کی تنقیدی تھیوریوں کو چیلنج کرتا ہے۔ اس لیکچر کا عنوان ہی اپنے آپ میں معنی خیز تھا۔ Structure, Sign and Play کے عنوان سے اس لیکچر کے سینکڑوں ڈرافٹ تیار ہوئے اور اس پر رائے زنی میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور اخباروں کے مبصروں نے حصہ لیا۔

 

اردو ادب میں مابعد جدیدیت

 

اردو میں پوسٹ ماڈرنزم کا صحیح متبادل کب منصہ شہود پر آتا ہے، اس کے لیے شاید سالہا سال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہ پڑے، کیوں کہ جدیدیت کی تحریک میں وہ عناصر بھی شرکت فرما چکے ہیں، جو غزل جیسی سکّہ بند صنف میں بھی اس قسم کے مصارع یا اشعار کہتے ہیں اور اپنی دانست میں “جدید” سے ایک قدم آگے “جدید تر” ہونے کا ثبوت دیتے ہیں!۔ (درج ذیل اشعار میں شعرا کے اسمائے گرامی بوجوہ حذف کر دیے گئے ہیں۔)

 

ع۔۔۔ سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
؂ بکرا مَیں مَیں کرتا ہے
بکری منمناتی ہے
؂ کچھوی کے پیٹ میں تھا بہت دردِ زہ، جناب
مرغے کی بانگ سنتے ہی انڈے نکل پڑے
؂ اے دردِ بے لباس، چلو اسپتال میں
شاید کہ کوئی نرس ہی تجھ پر پھسل پڑے
؂ ایڑی اٹھی تو چوٹی تک اٹھتی چلی گئی
ہم سر پہ پاؤں رکھ کے جو بھاگے تو دم لیا
؂ میری بھّدی ناک پر نقشہ تو ہے، مکھّی نہیں ہے
خود اُڑوں؟ نقشہ بناؤں، کیا کروں میں؟ تم بتاؤ
؂ بند ہی رہتا تو خوشبو کا کوئی امکاں نہ تھا
گانٹھ سا غنچہ تھا، چاقو سے جو کاٹا، کھِل گیا

 

باقر مہدی کی ایک نظم جو انہی دنوں شائع ہوئی تھی، اس طرح شروع ہوتی ہے۔

 

اب موصوف رحلت فرما چکے ہیں
بلب جلا کر انگلی کاٹی
نیلے خون سے نظمیں لکھیں

 

میرا جی کی کتاب “اس نظم میں” بہت پہلے چھپ گئی تھی اور عملی تنقید کے کچھ معمولی نمونوں پر مشتمل تھی لیکن اس نے بہر حال ایک نئی راہ دریافت کی اور اپنے پیچھے آنے والوں کی رہنمائی کی۔
بمبئی کی ایک ادبی نشست میں موصوف نے ایک استفسار کے جواب میں کہا، (رپورٹ ایک روزانہ اخبار کے ادبی کالم میں چھپی)، کہ بلب جلانے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا وقت تھا اور بلب بجھانے کے وقت کمرے میں اندھیرا تھا اور یہ کہ شاعر کو اگر نیند نہ آئے تو وہ کیا کرے گا؟ نظمیں ہی تو لکھے گا۔ انگلی کاٹنے کا استعارہ ہمہ جہت ہے۔ سیاہی نہ ہو تو خون سے ہی لکھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک ترقی پسند شاعر یہ کہہ سکتا ہے، “کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے!” تو ایک “جدیدیت پسند” شاعر یہ کیوں نہیں کہہ سکتا، کہ نیلی روشنائی میسّر نہیں تھی، اس لیے اپنی انگلی کاٹی اور نیلا خون وافر مقدا میں اکٹھا کر لیا جس سے کہ نظم لکھی جا سکے۔ یعنی دوات سوکھی پڑی تھی، اسے نیلے خون سے بھر لیا۔ یہ بھی استعارے کا ایک پہلو ہے کہ فاؤٹین پَین خریدنے کی مالی پوزیشن میں شاعر نہیں تھا۔ انگلی کاٹنے کی جہت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ترقی پسند شاعروں کے پاس (اگر ان کی متاعِ لوح و قلم چھِن گئی تو) انگلیاں تو بہر حال تھیں۔ ہمارے پاس تو ما سوا انگلی کاٹنے کے لکھنے کا اور کوئی وسیلہ بھی نہیں ہے۔

 

پڑھ کر کچھ ہنسی بھی آئی اور کچھ افسوس بھی ہوا۔ ادبی نامہ نگار کی اپنی رگِ ظرافت پھڑکی تھی یا اسے موصوف سے کوئی بدلہ چکانا تھا کیوں کہ اس نے مزے لے لے کر، دم دے دے کر، ایک ایک مصرعے پر رائے زنی کی تھی۔۔۔۔

 

پاکستانی ادب، آمریت اور جدیدیت

 

اوپر جو کچھ بھی لکھا گیا ہے، وہ انڈیا کے حوالے سے تو امرِ واقع ہے، صد فی صد درست ہے، لیکن پڑوسی ملک پاکستان پر اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ 1965ء کی جنگ کے بعد چونکہ دونوں ملکوں کے مابین ڈاک کے ٹکٹوں کی پرانی دروں پر رسالوں اور کتابوں کا آناجانا بند ہو گیا تھا اور لفافہ بند خطوط کو بھی اب سینسر کی چھلنیوں سے گذارا جانے لگا تھا، (فون ویسے ہی دستیاب نہیں تھا!) اس لیے گذشتہ نصف صدی میں اردو ادب پر جو کچھ وہاں بیتی، عسکری آمرانہ دورانِ حکومت کے دو یا تین دورانیوں میں جو کچھ اہلِ قلم پر گذرا، کون کون کال کوٹھری میں بند ہوئے، کن کن کے خلاف مقدمے چلائے گئے، کون کون کھُلی منڈی میں آمروں کے ہاتھوں بِک گئے اور سرکاری عہدوں، انعاموں اور ایوارڈوں کو اپنے سینوں پر سجا کر بیٹھ گئے، اس کا پتہ پاکستان میں تو سب کو چلتا رہا، لیکن انڈیا کے اردو ادیبوں، شاعروں اور قارئین کی اکثریت اس سے بے بہرہ ہی رہی۔بہر حال اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے کچھ پیچھے جانا ہو گا۔

 

میرا جی کی کتاب “اس نظم میں” بہت پہلے چھپ گئی تھی اور عملی تنقید کے کچھ معمولی نمونوں پر مشتمل تھی لیکن اس نے بہر حال ایک نئی راہ دریافت کی اور اپنے پیچھے آنے والوں کی رہنمائی کی۔ وزیر آغا بھی فعال تھے اور ‘اوراق’ کے علاوہ ہر برس ان کی کوئی نہ کوئی نئی کتاب چھپ جاتی تھی۔ ان کی “نظم جدید کی کروٹیں” چھپ چکی تھی۔ یہ نظم جدید کے تنقیدی ادب میں ایک اچھا اضافہ تھا۔ انڈیا میں ڈاکٹر حامدی کاشمیری نے اپنی کی کتاب “جدید اردو نظم اور یورپی اثرات” 1968 میں شائع کی تھی۔ یہ تینوں کتابیں جس طرح جدید نظم کے کچھ گنتی کے شعرا کا جائزہ لیتی ہیں، ان سے معاصر پاکستانی اردو ادب پر انڈیا کی زیر بحث “جدیدیت” کی تحریک کے مثبت یا منفی اثرات کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔
لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ پاکستانی ادب پر اس کے اثرات سرے سے مرتب ہی نہیں ہوئے۔ انڈیا کی اپنی حدود میں ہی مقید ہو کر رہ گئے۔ اگر bits & pieces کی شکل میں(انیس سو ساٹھ سے آج تک، یعنی نصف صدی میں “زمان” کی سطح پر) اور (کراچی، لاہور، پنڈی۔اسلام آباد، یعنی تینmetropoltan ادبی مرکزوں کی “مکان” کی سطح پر)یہ اثرات وارد بھی ہوئے تو دب کر رہ گئے۔ قصہ کوتاہ یہ کہ by and large پاکستان اس بدعت سے بچ گیا جو انڈیا میں بوجوہ (گروپ بندی ایک وجہ تھی، لیکن کچھ اور بھی تھیں) در آئی تھی۔

 

جیل کی اسیری تو صرف چند اہلِ قلم کو ہی میسّر ہوئی لیکن ایک یا دو پوری نسلیں زنداں، محبس، قفس، زنجیر، ہتھکڑی، بیڑی، قدغن، وغیرہ کے باصری استعاروں سے کام چلا کر غزلیہ یا نظمیہ ادب تخلیق کرتی رہیں۔
پاکستان کی صورت حال کے بارے میں یہ لکھ کر ادبی مورخ عہدہ برا تو ہو سکتا ہے لیکن اس کے پاس اس وقت اس امر کے ثبوت کے لیے کوئی بھی سند نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ بہر حال historical hindsight کے طفیل کسی بھی محقق کو یہ علم ہو سکتا ہے کہ اس کی دو یا تین وجوہ صریحاً دیکھی جا سکتی ہیں۔ایک تو عسکری (یا سِویلین بھی!) آمرانہ ادوار میں شاعر کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ ترسیل کی سطح پر اگر صاف صاف نہ بھی لکھا جا سکے تو غزل کے پرانے، بارہا آزمودہ، استعاروں سے کام چلا کر جبر و تحدید و اکراہ کی مذمت کی جائے۔ جیل کی اسیری تو صرف چند اہلِ قلم کو ہی میسّر ہوئی لیکن ایک یا دو پوری نسلیں زنداں، محبس، قفس، زنجیر، ہتھکڑی، بیڑی، قدغن، وغیرہ کے باصری استعاروں سے کام چلا کر غزلیہ یا نظمیہ ادب تخلیق کرتی رہیں۔ انہیں وقت ہی نہیں ملا کہ وہ اس ذہنی عیاشی کو، اور نہ سہی، تو ’وقت کٹی‘ کا مشغلہ سمجھ کر ہی انڈیا کی جدیدیت کی تقلید کریں۔ پاکستان میں اسProtest Literature کو کئی نام دیے گئے۔ لیکن سب سے زیادہ موزوں نام شاید “مزاحمتی ادب” تھا۔ پرانے ترقی پسندوں میں جن لوگوں نے بڑھ چڑھ کر لکھا ان میں فیض تو تھے ہی، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، جوش، جون ایلیا، جوہر میر، خاطر غزنوی، تاج سعید، ظہیر کاشمیری (بہت سے نام بھول گیا ہوں) وغیرہ بھی شامل تھے۔ ساقی فاروقی جیسے غیر سیاسی شاعر نے بھی ایک مختصر، مگر بھرپور نظم “سوگ نگر ” کے عنوان سے لکھی۔ یہ نظم راقم الحروف کو لندن میں ساقی نے سنائی بھی تھی اور آج تک اس کا اثر تازہ ہے

 

“چوک چوک خامشی کھڑی ہوئی
جس کے بند کان میں
ایک سبز خوف کے
سرخ زہر میں بجھی
زرد زرد بالیاں پڑی ہوئیں
خون پوش راستے
راستوں میں سولیاں گڑی ہوئیں
رات کے طلسم سے
لوگ اداس بھی نہ تھے
روشنی خیال کے آس پاس بھی نہ تھی۔۔۔۔

Image: Vassily Kandinsky

Categories
شاعری

قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

چاروں جانب اُمڈی تاریکی میں
ہم کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟
یہ وطن ہنسی کی گود نہیں
کسی قاتل کا وحشی بدن ہے

 

درد مٹنے سے پہلے پہلے
ہمیں ایک بار پھر بانٹ دیا جائے گا
جتنا جلد ہو سکے
ہمیں اپنے بچوں کو کھلونے خرید دینے چاہئیں
اپنی بیویوں اور محبو باؤں سے آخری مباشرت کر لینی چاہئے

 

چہرے کے لمبے بالوں سے
جب سوچوں کو باندھ دیا جائے گا
تو عقیدوں میں چرتی معصوم روحوں کی چیخیں
ہماری مسکراہٹیں لہولہان کر دیں گی

 

خواب بکھرنے کی آواز
ہماری نیندوں کی خاموشی تار تار کر ڈالے گی
اور ایک اند ھی صبح کے کنارے
بے رنگ دھوئیں میں تیرتے ہوئے
ہم زندگی سے ہار جائیں گے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
[vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

نظریات کا گورکھ دھندا؛ اردو ادب کے تناظر میں

یہاں امریکا میں ایک سینیر کورس (لٹریچر ۔۲) کے اپنے طلبہ کو مجھے کسی بھی دقیق مسئلے کو آسان ترین زبان میں سمجھانا پڑتاہے، انگریزی میں تھیسارس کے حوالے سے دیکھیں تو ایک ہی لفظ کی مختلف جہات سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے اس سے بھی زیادہ الفاظ ‘ریڈی میڈ’ مل جاتے ہیں، اس لیے مجھے کلاس روم میں وہ مشکل پیش نہیں آئی جو میں آج صبح یہ صفحہ لکھتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں کہ اردو میں مجھے وہ سرمایہ میسر نہیں ہے۔ چاہتا تو ہوں کہ اس مضمون میں ان سب تخلیقی، تدریسی اور تحقیقی کاموں کا ذکر کروں جو اس وقت میرے سامنے ہیں، لیکن صرف دو یا تین کے بارے میں مختصراً لکھنے پر اکتفا کروں گا۔ ایک مقالہ جو میں نے ان دنوں لکھا ہے وہ تخلیقی قوت کی اس کارکردگی کے بارے میں ہے، جو فنکار کے ذہن میں پہلے ایک موہوم سی اور بعد میں ایک بہت شدید “ٹینشن” کی شکل میں وارد ہوتی ہے، اور فن پارہ مکمل ہونے کے بعد کتھارسس سے تحلیل ہو کر ایک قسم کی آسودگی کا احساس چھوڑ جاتی ہے۔

 

انگریزی لفظ tension یونانی لفظtensio اور اس کی اسمِ جامد شکل tensusسے آیا ہے۔ ارسطونے اپنی بوطیقا میں اس ہیجان کی سی کیفیت کے لیے جس کا علاج اس نے کتھارسس catharsis فرض کیا، یہی دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔میں نے جب اس لفظ کے ممکنہ اردو نعم البدل الفاظ، ہیجان، کھچاؤ، تناؤ (ذہنی اور جسمانی) پر ارسطو کی اصطلاح کے حوالے سے غور کیا تو مجھے یہ تینوں نا کافی محسوس ہوئے۔ بہر حال 1964ء میں تحریر کردہ ایک ریسرچ پیپر جو P.E.N. کی کانفرنس کے لیے مجھے لکھنا تھا، میں نے یہ سوچ کر کہ “کتھارسس” پر توہزاروں صفحے لکھے جا چکے ہیں، لیکن “ٹینشن” پرجو ایک آرٹسٹ تخلیق کے عمل سے پہلے محسوس کرتا ہے، بہت کم کام ہوا ہے، اس موضوع کا انتخاب کیا تھااور چونکہ میں انگریزی کے علاوہ سنسکرت میں بھی شد بد رکھتا تھا، سنسکرت کاویہ شاستر کو کھنگالنے سے مجھے جو موتی ملے، انہیں میں نے بقدر ظرف اس مقالے میں استعمال کیا۔

 

یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔
یہ درست ہے کہ جذباتی اور نفسیاتی کھینچا تانی سے ہمارے دل و دماغ میں جو ہلچل پیداہوتی ہے اگر اسے بڑھنے دیا جائے اور اس کا سدِباب نہ کیا جائے تو اس کا اخراج فساد، مار پیٹ، قتل اور خود کشی میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر حیاتاتی اور نفسیاتی علوم کی مدد سے اس کو خارج کیا جا سکے تو ‘مریض’ اپنی نارمل حالت میں واپس آ سکتا ہے۔ یونانی اطباء کو بھی اس کا علم تھا، اس لیے جب ارسطو نے یہ کہا کہ ایک ٹریجڈی اسٹیج پر کھیلے گئے واقعات کی بنا پر تماشائیوں کے ایسے جذبات کو رحم اور خوف سے خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اس لیے افلاطون کی ری پبلک میں جہاں دیگر پیشہ وروں کو مناسب جگہ اور رتبہ دیا گیا ہے، وہاں ڈرامہ نویسوں کو بھی دیاجانا ضروری ہے۔ یہاں تک تو طلبہ کو سمجھانا آسان تھا، لیکن میں نے اس مقالے میں مثالوں سے یہ واضح کیا کہ جب تک ہم عصری حوالوں سے، جن میں نسل، قومیت، مذہب اور رنگ کی بنیاد پر فسادات کا ایک لا اختتام سلسلہ جاری ہے، ان حالات کو ارسطو کے نظریے میں کچھ توسیع کر کے نہ بتائیں، ہم طلبہ کو نہیں سمجھا پائیں گے، کہ ارسطو کا نظریہ کس حد تک نا مکمل ہے۔ اسی طرح نصاب کی متنی تدریس سے تجاوز کر کے میں اپنے طلبہ سے جو باتیں کرتا تھا، (اور میں نے جس کے بارے میں اپنے مقالے میں تفصیل سے لکھا)، ان میں یہ باریک نکتہ بھی شامل تھا کہ حقیقت نگاری اور سماجی حقیت نگاری Realism & Social Realismمیں کیا فرق ہے۔ اوّل الذکر صدیوں سے قابل قبول اس چلن سے انحراف تھا جسے ہم رومانی اور تخیلی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن روسی انقلاب سے کچھ قبل اور پھر اس کے بعد شد و مد سے موخر الذکر کا دور شروع ہوا جس میں مقصدیت اور مروجہ جمالیاتی اسلوب سے بغاوت تھی، یہاں تک کہ سیاسی اور سماجی تشکیل نو کے لیے بھی ادب کو آلۂ کار بنا لیا گیا۔ ترقی پسند مصنفین کی تگ و دو بھی دونوں ممالک، یعنی ہندوستان اور پاکستان میں اسی کے زیر اثر شروع ہوئی۔ ان برسوں میں عقیدہ، جاگیردارانہ تکلف، روحانی اقدار کی پابندی، بورژوا اخلاقیات کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ پھر وہ دور آیا، جب روس کی دیکھا دیکھی ہماری زبانوں میں بھی ادیبوں اور قارئین، دونوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔ ہم لوگ بہت پیچھے تھے، یعنی جب بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ژاں پال سارترؔ کے وجودیت کے فلسفے کی بحث زوروں پر تھی ہم ابھی انجمن ترقی پسند مصنفین کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ جیمز جوائس کا ناول “یولیسیِس” انگلینڈ میں 1922ء میں چھپا جب کہ اردو والوں نے اس کے بارے میں بات چیت کرنا تیس چالیس برس بعد شروع کیا۔

 

سارترؔ کے فلسفۂ وجودیت کے حوالے سے یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ کہیں کہیں اس میں ادبی روایات سے بغاوت کا چلن مختلف نہیں تھا، تہذیبی بیڑیوں کو کاٹنے کی بات اس میں بھی کہی جاتی تھی، بورژوا اخلاقیات اور مادیت سے بچ کر چلنے کی ہدایت اس میں بھی دی جاتی تھی۔جنسی موضوعات سے پردہ پوشی کی روایت سے انحراف اس میں بھی تھا، لیکن ہوا یہ کہ مایوسی، تکان، مستقبل کے بارے میں بد اعتمادی ، جہد لا حاصل جب ادبی موضوعات میں رواج پا گئے تو انسان کی افضل تریں حیثیت کے بارے میں “ڈی ٹراپ”de-trop یعنی بیکار، فضول کا نظریہ پنپنے لگا۔ اسلوب کی سطح پر علامت کے ابہام، استعارے کی ملفوفیت اور مدوریت کے اجزا در آئے اورشعری تخلیقات تو ایک معّمہ بن کر رہ گئیں۔

 

جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں
جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں، لیکن آخر روایت سے کلیتاً بغاو ت نہ کیے بغیر بھی جدیدیت کے اجزائے ترکیبی ہمارے ادب میں رواج پا گئے۔ حقیقت نگاری کے غیر جمالیاتی اور صحافتی اسلوب کی جگہ پر ما فوق الفطرت اور فطرت کی علامتوں سے مادی اور زمینی حقیقت کی ترجمانی رواج پا گئی۔ اردو ادب کے جزیروں میں ہی سہی، لیکن پاکستان میں کم اور ہندوستان میں زیادہ یہ امور دیکھنے میں آئے کہ de-familiarization یعنی غیر مانوسیت اور anachronism یعنی سہو زمانی کے طریق کار سے جمالیات اور معنویت کہ تہہ داری پیدا کی گئی۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہے، اور میں اسے hindsight سے دیکھ سکتا ہوں، (کیونکہ ان میں بیشتر قلمکار ذاتی سطح پر میرے واقف تھے!) کہ یہ لوگ غیر منطقی اور ابسرڈ absurd تحریریں ارادتاً لکھ رہے تھے۔ یورپ میں بھی سَرریئلسٹوں Surrealists کے بارے میں یہ بات اب غلط نہیں سمجھی جاتی کہ وہ گراف بنا کر، اسکیچ یا نقشہ بنا کر، اپنی تحریر کو خلط ملط کرنے اور متن کی “آنکھ ناک کان کو اس کے جسم کی کسی بھی جگہ پر ٹرانسپلانٹ کرنے” کی کوشش جان بوجھ کر کیا کرتے تھے۔ ان کی تحریروں میں جنس و جبلت بطور موضوع یا مضمون نہ بھی ہوں تو بھی ان کا ذکر برملا ہوتا تھا۔لیکن گفتگو میں یورپ کے معروف دانشوروں کا نام لینے تک ہی ان کیے مطالعہ کی سد سکندری تھی۔ اگر ان سے پوچھے جائے کہ ییک لاکاں، جس کا نام وہ لے رہے ہیں، کون سے ملک سے یا کس زبان سے یا کس دور سے تعلق رکھتا تھا، تو انہیں کچھ پتہ نہ تھا۔

 

اگر یہ کلید بھی دے دی جائے کہ اس نے نشاۃ ثانیہ Renaissance کی تحریک کو جدید دور اور قرون وسطی کی کڑی بتایا ہے تو بھی انہیں کوئی سراغ نہیں مل سکتا تھا۔ ایک بار میں نے ایسے ہی ایک گروپ میں سوئٹزرلینڈ کے مورخ جیکب برک ہارٹ Jacob Berchart کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ جدیدیت سے بہت پہلے اس نے نشاۃ ثانیہ کی اصطلاح کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشاندہی کر دی تھی جنہیں آج ہم جدیدیت کے بنیادی عناصر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ تھے، فردیت کے نظریہ کا فن پر اطلاق، دنیا اور فرد کی باہمی کشمکش کی نئے سرے سے دریافت، فرد اور حکومت کے تعلق باہمی کا ادب سے اخراج۔۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سب خاموش بیٹھے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو بزعم خود اپنے آپ کو جدیدیت کے قائد کے بعداس کا سب سے بڑا ideologue سمجھتے تھے۔

 

تنقید نگاری کی تمام تر ہذیہ سرائی اور شغل اندوزی جس کا تعلق اسلوبیات اور ہیئت سے ہو، وہ نیم سائنسی درجہ بندی اور تصنیف یا تخلیق کے تجزیات، نباتیاتی سائینس کی فیشن زدگی کے ساتھ نقل کہلائے گی، جس میں ما سوا لفاظی اور طول بیانی کے اور کچھ نہیں
یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بات واضح طور پر کہوں کہ کمرہ جماعت میں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو پڑھاتے ہوئے ایک اچھا استاد نہ صرف ایک تنقید نگار کے کردار میں ڈھل جاتا ہے، بلکہ اضافی طور پر ایک مفسر اور ترسیل کے جملہ لوازمات سے واقف ایک مقرّر کا رول بھی ادا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی ذمہ داری ایک تنقید نگار سے کہیں زیادہ ہے۔ مجھے بہت جلد اپنی اس ذمہ داری کا احساس ہوگیا تھا اور چہ آنکہ میں نے یہ محسوس کیا تھا، کہ اردو کے نقادوں کے علاوہ انگریزی کے”تدریسی نقاد” بھی technical parlance of literary criticismیعنی تنقید کی سکہ بند اور تکنیکی محاورہ بند زبان پر بھروسہ کرتے ہیں جسے عام قاری تو کیا وہ ادیب بھی نہیں سمجھ سکتے، جن کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ ایک انگریزی نقاد نے صحیح کہا تھا کہ اگر ورجینیا وُولف اپنی قبر سے نکل کر اپنے ناولوں Mrs. Dalloway اور To the Lighthouse کے بارے میں لکھی ہوئی تنقید پڑھے تو وہ چاہے گی کہ اسے پھر قبر میں دفن کر دیا جائے۔ میں نے کمرۂ جماعت میں حتےٰ الوسع ما سوائے technical terms کو بلیک بورڈ پر لکھنے کے اپنے لیکچروں میں ہمیشہ وہ زبان استعمال کی جسے میرے طلبہ باآسانی سمجھ سکیں۔بقول شخصے “تنقید نگاری کی تمام تر ہذیہ سرائی اور شغل اندوزی جس کا تعلق اسلوبیات اور ہیئت سے ہو، وہ نیم سائنسی درجہ بندی اور تصنیف یا تخلیق کے تجزیات، نباتیاتی سائینس کی فیشن زدگی کے ساتھ نقل کہلائے گی، جس میں ما سوا لفاظی اور طول بیانی کے اور کچھ نہیں۔”