Categories
شاعری

آگے بڑھنے والے

آگے بڑھنے والے
بدن کو کپڑوں پر اوڑھتے، اور چھریاں تیز کر کے نکلتے ہیں
بھیڑ کو چیر کر راستہ بناتے
ناخنوں سے نوچ لیتے ہیں
لباس اور عزتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرخ مرچوں سے، ہر آنکھ کو
اندھا کر دیتے ہیں
اور بڑھ جاتے ہیں
رعونت بھری مسکراہٹ کے ساتھ

چیختے ہیں اور چپ کرا دیتے ہیں
سر عام، رقص کرتے ہیں
اور گاڑیاں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں
لڑکے لڑ پڑتے، مرد پتلونیں کس لیتے
اور بوڑھے
تمباکو میں، گڑ کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔۔۔۔

کوئی میز ان کے سامنے جما نہیں رہ سکتا
اور کوئی محفل ، ان کا داخلہ روک نہیں سکتی
وہ ٹھوکر سے دروازہ کھولتے ہیں
اور ہر کرسی، ان کے لیے خالی ہو جاتی ہے
ان کے دبدبے سے
دیواروں کا پلستر، اکھڑ جاتا ہے
کاغذ شور کرنا بھول جاتے ہیں
اور موسم… ارادے تبدیل کر لیتے ہیں

آگے بڑھنے والوں سے پناہ مانگتے ہیں
ان کے ساتھی۔۔۔
ڈرتے ہیں
زمین پر جھک کر چلنے والے
بوجھل خاموشی سے انھیں دیکھتے
اور گزر جاتے ہیں

آگے بڑھنے والے نہیں جانتے
کہ آگے بڑھا جا ہی نہیں سکتا

پھر بھی وہ بڑھتے ہیں
بے حیائی کی شدت
آنکھوں میں موتیا اترنے کی رفتار کو تیز کر دیتی ہے
ہر تنے کی چھال، بدن پر
انمٹ خراشیں چھوڑ جاتی ہے
پھٹکری اور ویزلین سے چکنایا ہوا ماس
ہڈیوں سے
ہمیشہ جڑا نہیں رہ سکتا

ہر بدن اور کرسی کی ، ایک عمر ہوا کرتی ہے

اور پھر ہم انھیں دیکھ سکتے ہیں
ایک دن
نچے ہوے لباس میں
خلا کو گھورتے ہوے
کسی نیم تاریک نشیب میں
پر کٹے پرندے کی طرح
مٹی پر لوٹتے ہوئے

آگے بڑھنے کی ، پیہم کوشش میں

Image: Do-Ho Suh

Categories
شاعری

کسی انتظار کی جانب

کسی انتظار کی جانب
ازل سے چلتے رہے ہیں مگر کھڑے ہیں وہیں
دیارِ دیدہ و دل میں وہی دھندلکا ہے
اسی زمیں پہ قدم، سر پہ آسماں ہے وہی
کہیں پہ دور کہیں ہم کو جا کے ملنا تھا
کسی خیال سے ،اک خواب خوش نما کی طرف
نکلتے جانا تھا ٹوٹے ہوے خمار کے ساتھ
نہ جانے کیا تھا جسے ڈھونڈنے نکلنا تھا
رہ وجود میں اڑتے ہوے غبار کے ساتھ
رہے اسیر در و بام زندگی ہر دم
وہی جو خستہ تھے معمول روز و شب کی طرح
بس ایک چاک پہ ہم گھومتے، اُدھڑتے رہے
سو اب خرام کریں راہ معذرت پہ کہیں
تھکن سے بیٹھ رہیں کنج عافیت میں کہیں
کہیں سے توڑ دیں دیوار ایستادہ کو
جدھر کو جا نہیں پائے، ادھر نکل جائیں
جو منتظر تھا ہمارا، جو راہ تکتا تھا
جو ہم پہ وا نہیں ہوتا، جو ہم پہ کھلتا نہیں
جو ہم پہ کھلتا نہیں، اس حصار کی جانب
کسی طلب کو، کسی انتظار کی جانب !

Image: Teun Hocks

Categories
شاعری

ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے

ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے
اگر ہمارے دکھوں کا علاج نیند ہے
تو کوئی ہم سے زیادہ گہری نیند نہیں سو سکتا
اور نہ ہی اتنی آسانی اور خوب صورتی سے کوئی نیند میں چل سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج جاگنا ہے
تو ہم اس قدر جاگ سکتے ہیں
کہ ہر رات ہماری آنکھوں میں آرام کر سکتی ہے
اور ہر دروازہ ہمارے دل میں کھل سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ہنسنا ہے
تو ہم اتنا ہنس سکتے ہیں
کہ پرندے، درختوں سے اڑ جائیں
اور پہاڑ ہماری ہنسی کی گونج سے بھر جائیں
ہم اتنا ہنس سکتے ہیں
کہ کوئی مسخرہ یا پاگل اس کا تصور تک نہیں کر سکتا

اگر ہمارے دکھوں کا علاج رونا ہے
تو ہمارے پاس اتنے آنسو ہیں
کہ ان میں ساری دنیا کو ڈبویا جا سکتا ہے
جہنم، بجھائے جا سکتے ہیں
اور ساری زمین کو پانی دیا جا سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ۔۔۔جینا ہے
تو ہم سے زیادہ با معنی زندگی کون گزار سکتا ہے
اور کون ایسے سلیقے اور اذیت سے
اس دنیا کو دیکھ سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ۔۔۔۔بولنا ہے
تو ہم ہوا کی طرح گفتگو کر سکتے ہیں
اور اپنے لفظوں کی خوشبو سے پھول کھلا سکتے ہیں

اور اگر تم کہتے ہو ہمارے دکھوں کا علاج کہیں نہیں ہے
تو ہم چپ رہ سکتے ہیں قبروں سے بھی زیادہ

Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

چہل قدمی کرتے ہوئے

چہل قدمی کرتے ہوئے
کہیں کوئی بستی ہے
خود رو جھاڑیوں اور پھولوں سے بھری
جہاں بارش
بے آرام نہیں کرتی
چھینٹے نہیں اڑاتی
صرف مہکتی ہے —
مٹی سے لپے گھروں میں
ہوا شور کرتی
آوازیں سوئی رہتی ہیں
کوئی سرسراہٹوں بھرا جنگل ہے
پگڈنڈیوں اور درختوں کے درمیان
ان جان پانیوں کی جانب، نہریں بہتی ہیں
اور راستے کہیں نہیں جاتے
پرندوں کی چہکاریں، لا متناہی عرصے کے لیے
پتوں کو مرتعش کر دیتی ہیں
دنیا سے الگ
کہیں ایک باغ ہے
غیر حتمی دوری پر
سیاہ گلابوں اور ابد کی مہک میں سویا ہوا
کہیں کوئی آواز ہے
بے نہایت چپ کے عقب میں
بے خال و خد، الوہی، گھمبیر
کہیں کوئی دن ہے
بے اعتنائی میں لتھڑا ہوا
اور کوئی رات ہے
اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں کے ہمراہ
جس میں مجھے داخل ہو جانا ہے
یونہی چہل قدمی کرتے ہوئے
اور بجھے آتش دان کے پاس
بیٹھ جانا ہے
تمھارے مرجھاے چہرے کی چاندنی میں
کسی مٹیالی دیوار سے
ٹیک لگا کر ۔۔۔

Image: Vladimir kush

Categories
شاعری

قصباتی لڑکوں کا گیت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قصباتی لڑکوں کا گیت

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم تیری صبحوں کی اوس میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ
دنوں کی اس بستی کو دیکھتے ہیں
ہم تیرے خوش الحان پرندے، ہر جانب
تیری منڈیریں کھوجتے ہیں

 

ہم نکلے تھے تیرے ماتھے کے لیے
بوسہ ڈھونڈنے

 

ہم آئیں گے، بوجھل قدموں کے ساتھ
تیرے تاریک حجروں میں پھرنے کے لیے
تیرے سینے پر
اپنی اکتاہٹوں کے پھول بچھانے
سر پھری ہوا کے ساتھ
تیرے خالی چوباروں میں پھرنے کے لیے
تیرے صحنوں سے اٹھتے دھویں کو اپنی آنکھوں میں بھرنے
تیرے اجلے بچوں کی میلی آستینوں سے، اپنے آنسو پونچھنے
تیری کائی زدہ دیواروں سے لپٹ جانے کو
ہم آئیں گے
نیند اور بچپن کی خوشبو میں سوئی
تیری راتوں کی چھت پر
اجلی چارپایاں بچھانے
موتیے کے پھولوں سے پرے
اپنی چیختی تنہایاں اٹھانے
ہم لوٹیں گے تیری جانب
اور دیکھیں گے تیری بوڑھی اینٹوں کو
عمروں کے رتجگے سے دکھتی آنکھوں کے ساتھ
اونچے نیچے مکانوں میں گھیرے
گزشتہ کے گڑھے میں
ایک بار پھر گرنے کے لیے
لمبی تان کر سونے کے لیے
ہم آئیں گے
تیرے مضافات میں
مٹی ہونے کے لیے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]