Categories
شاعری

ابعادیت

ابعادیت
ایک ہی جانب چلتے چلتے
کتنی عمریں بیت گئی ہیں
دس جہتوں میں کون چلے گا
بُھر بُھر کرتی جسم کی مٹی
اس آوے میں کون جلے گا
کوئی محدؔب کوئی مجوؔف
کس چہرے میں عکس ڈھلے گا
کھڑکی کے اُس پار کا منظر
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
اب اُس خواب کی چنتا کیسی
آنکھیں جس کو دیکھ چکی ہیں
اس جیون کا اقلیدس کیا
سانسیں جس کو ریکھ چکی ہیں

Image: Barbara Licha

Categories
شاعری

کسی انتظار کی جانب

کسی انتظار کی جانب
ازل سے چلتے رہے ہیں مگر کھڑے ہیں وہیں
دیارِ دیدہ و دل میں وہی دھندلکا ہے
اسی زمیں پہ قدم، سر پہ آسماں ہے وہی
کہیں پہ دور کہیں ہم کو جا کے ملنا تھا
کسی خیال سے ،اک خواب خوش نما کی طرف
نکلتے جانا تھا ٹوٹے ہوے خمار کے ساتھ
نہ جانے کیا تھا جسے ڈھونڈنے نکلنا تھا
رہ وجود میں اڑتے ہوے غبار کے ساتھ
رہے اسیر در و بام زندگی ہر دم
وہی جو خستہ تھے معمول روز و شب کی طرح
بس ایک چاک پہ ہم گھومتے، اُدھڑتے رہے
سو اب خرام کریں راہ معذرت پہ کہیں
تھکن سے بیٹھ رہیں کنج عافیت میں کہیں
کہیں سے توڑ دیں دیوار ایستادہ کو
جدھر کو جا نہیں پائے، ادھر نکل جائیں
جو منتظر تھا ہمارا، جو راہ تکتا تھا
جو ہم پہ وا نہیں ہوتا، جو ہم پہ کھلتا نہیں
جو ہم پہ کھلتا نہیں، اس حصار کی جانب
کسی طلب کو، کسی انتظار کی جانب !

Image: Teun Hocks

Categories
شاعری

نیند کے انتظار میں

نیند کے انتظار میں
نیند کے انتظار میں
آج پھر کئی خواب اِدھر اُدھر نکل گئے
اُن آنکھوں کی طرف
جنہوں نے اپنی چکا چوند سے دن کو تسخیر کیا
اور شام ہوتے ہی
نیند کی دیوی نے سوئمبر کے پھول
ان پلکوں پر رکھ دیے
یا بند باندھنے کی عجلت میں
ان آنکھوں کی طرف
جن کا نور کالے دن کے دریا میں بہہ گیا
یا شاید وہ کہیں نہیں جاتے
ٹہلتے رہتے ہیں
اپنی نیند کے انتظار میں
رستے میں اگتی گھاس پر
ان آنکھوں کی انتظارگاہ کے باہر
جہاں رات اور دن
گھڑی کی سوئیوں کی طرح
محض ٹِک ٹِک ٹِک ٹک کرتے ہیں

Image: Jenna Martin

Categories
شاعری

روح کے پاؤں نہیں ہوتے

روح کے پاؤں نہیں ہوتے
روح جب کسی جسم کو اوڑھتی ہے
تو اُس کے کپڑوں اور جوتوں کا سائز نہیں پوچھتی
اُس کا رنگ اور حسب نسب بھی نہیں دیکھتی
اور نہ دیگر اعضا کی کارکردگی
وہ دیکھتی ہے
کہ اس جسم میں کتنا پیار ہے
اس کی بیالوجی میں کتنی محبت ہے
کتنا نمک اور کتنا گلوکوز ہے
اس کے دل میں
کتنے سمندروں کی گہرائی ہے
اور آنکھوں میں
کتنے آسمانوں کی وسعت ہے،
کتنے بادل سما سکتے ہیں
اور بارشوں کے کتنے موسم ہیں
اس میں ہوا داری کے کتنے راستے ہیں
کتنے دروازے، کتنی بالکونیاں ہیں
اور آنے جانے کے لیے
اس کے آر پار کتنی آسانی سے گزرا جا سکتا ہے
روح بادلوں کی طرح بے آواز چلتی ہے
روح کے پاؤ ں نہیں ہوتے !!

Image: Duy Huynh