Categories
شاعری

موت مجھے بلاتی ہے

موت مجھے بلاتی ہے
لیکن مجھے وہ شام بھولتی ہی نہیں
جب درختوں میں ہوا چل رہی تھی
میں رک گیا تھا ۔۔۔۔ ایک منظر کے سامنے
گزر جانے کے لیے
اپنی مٹی اور بادلوں کے درمیان
وقت کے بہاؤ کی عین وسط سے
نکل جانے کے لیے

آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے
تم میرے دل سے گزرے تھے
یا شاید میں تمھارے دل سے ۔۔۔۔
اور چاندنی، ہماری انگلیوں سے الجھ رہی تھی
زمین پر ایسی شام
شاید ہی کہیں اتری ہو
کیفے کی باڑھ سے
دنیا ہمیں دیکھتی تھی
پاس بلاتی تھی
اور ہم
لوٹ گئے تھے ۔۔۔۔۔ اپنے اپنے جہنم کو
اذیت اور انکار کی ہر رات
اس شام کی پناہ میں ہے

وقت کم ہے یا زیادہ
کچھ پتا نہیں چلتا
میں ایک خواب سے دوسرے خواب میں
اس شام سے گزر کر جانا چاہتا ہوں
تم کہاں ہو
موت مجھے بلاتی ہے
Image: Edward Munch

Categories
شاعری

بہت یاد آتے ہیں

بہت یاد آتے ہی
چھوٹے ہو جانے والے کپڑے ،
فراموش کردہ تعلق
اور پرانی چوٹوں کے نشان –
—-اولین قرب کی سرشاری،
سرد راتوں میں ٹھٹھرتے ہوے ,ریتلے میدان …
پہلے پہل کی چاندنی میں —-
ڈھولک کی سنگت میں گاۓ ہوے کچھ گیت
اور نیم تاریک رہداریوں میں جگمگاتے لمس۔۔۔۔۔
.دوستوں کی ڈینگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فراغت اور قہقہوں سے لدی کرسیاں۔۔۔۔
کھیل کے میدان۔۔۔۔۔
تنور پر پانی کا چھڑکاؤ۔۔۔۔۔
گندم کی خوشبو اور مہربان آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت یاد آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دسویں کے تعزیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مٹی اور عرق گلاب سے مہکے سیاہ لباس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مستقبل کے دھندلے خاکے۔۔۔۔۔۔۔
.رخصت کی ماتمی شام۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیں کہیں جلتے اداس لیمپ،
سر پٹختی ہوا میں ہلتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور رات کی بھاری خامشی میں دور ہوتی ہوئی ٹاپوں کی آواز۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت یاد آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑھے ہوئے بال،
منکوں کی مالا،
سر منڈل کی تان۔۔۔۔
پرانی کتابیں۔۔۔۔۔
وقت بے وقت کیے ہوے غلط فیصلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے سفر کی صعوبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریا کے پل پر پھنسی ٹریفک اور ریل کی سیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.وادی کا سینہ چیرتی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ مکان اور دروازے۔۔۔۔۔
– اور جب یہ دروازے بند ہوئے
آہستہ آہستہ اترتے ہوے اضمحلال کی دھند میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت یاد آتے ہیں۔۔۔۔
.دور کے آسمان …اور پرندے۔۔۔
ایک ان دیکھی دنیا۔۔۔۔۔
اور اس پر بنا ہوا
عشق پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا
۔۔۔۔۔۔چھوٹی سرخ اینٹوں والا گھر۔۔۔۔۔۔
آتش دان کے پاس کیتلی سے اٹھتی بھاپ ۔۔۔۔۔
چمپی مخروطی انگلیاں۔۔۔۔۔
مضراب کو چھیڑتی ہوئیں۔۔۔۔
ایک روشن جسم آنکھیں ملتا ہوا —–
یادوں اور خوابوں کے یہ چھوٹے چھوٹے دیے —
جلتے اور بجھتے رہتے ہیں—
بجھتے اور جلتے رہتے ہیں —
اس روشنیوں بھرے شہر کی سرد مہر ، تاریک رات میں !!!
Image: Joshua Flint

Categories
شاعری

میرے پاس کیا کچھ نہیں

میرے پاس
راتوں کی تاریکی میں کھلنے والے پھول ہیں اور بے خوابی
دنوں کی مرجھائی روشنی ہے اور بینائی —-
میرے پاس لوٹ جانے کو ایک ماضی ہے اور یاد —-
میرے پاس مصروفیت کی تمام تر رنگا رنگی ہے
اور بے معنویت
اور ان سب سے پرے کھلنے والی آنکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آسمان کو اوڑھ کر چلتا اور زمین کو بچھونا کرتا ہوں
جہاں میں ہوں
وہاں ابدیت اپنی گرہیں کھولتی ہے
جنگل جھومتے ، بادل برستے ، مور ناچتے ہیں
میرے سینے میں ایک سمندر نے پناہ لے رکھی ہے
میں اپنی آگ میں جلتا ، اپنی بارشوں میں نہاتا ہوں
میری آنکھوں میں
ایک گرتے ہوے شہر کا ملبہ ہے ۔۔۔۔۔ ایک مستقل انتظار
اور آنسو …
اور ان آنسوؤں سے پھول کھلتے
تالاب بنتے ہیں
جن میں پرندے نہاتے ہیں
ہنستے اور خواب دیکھتے ہیں
میری آواز میں بہت سی آوازوں نے گھر کر رکھا ہے
اور میرا لباس، بہت سی دھجیوں کو جوڑ کر
تیار کیا گیا ہے
میرے پاس
دنیا کو سنانے کے لیے کچھ گیت ہیں
اور بتانے کے لیے کچھ باتیں —–
میں رد کیے جانے کی خفت سے آشنا ہوں
اور پزیرائی کی دل نشیں مسکراہٹ سے بھرا رہتا ہوں
میرے پاس
ایک عاشق کی وارفتگی، در گزر اور بے نیازی ہے
تمھاری اس دنیا میں میرے پاس کیا کچھ نہیں ہے
وقت
اور تم پر اختیار کے سوا —-
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

آگے بڑھنے والے

آگے بڑھنے والے
بدن کو کپڑوں پر اوڑھتے، اور چھریاں تیز کر کے نکلتے ہیں
بھیڑ کو چیر کر راستہ بناتے
ناخنوں سے نوچ لیتے ہیں
لباس اور عزتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرخ مرچوں سے، ہر آنکھ کو
اندھا کر دیتے ہیں
اور بڑھ جاتے ہیں
رعونت بھری مسکراہٹ کے ساتھ

چیختے ہیں اور چپ کرا دیتے ہیں
سر عام، رقص کرتے ہیں
اور گاڑیاں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں
لڑکے لڑ پڑتے، مرد پتلونیں کس لیتے
اور بوڑھے
تمباکو میں، گڑ کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔۔۔۔

کوئی میز ان کے سامنے جما نہیں رہ سکتا
اور کوئی محفل ، ان کا داخلہ روک نہیں سکتی
وہ ٹھوکر سے دروازہ کھولتے ہیں
اور ہر کرسی، ان کے لیے خالی ہو جاتی ہے
ان کے دبدبے سے
دیواروں کا پلستر، اکھڑ جاتا ہے
کاغذ شور کرنا بھول جاتے ہیں
اور موسم… ارادے تبدیل کر لیتے ہیں

آگے بڑھنے والوں سے پناہ مانگتے ہیں
ان کے ساتھی۔۔۔
ڈرتے ہیں
زمین پر جھک کر چلنے والے
بوجھل خاموشی سے انھیں دیکھتے
اور گزر جاتے ہیں

آگے بڑھنے والے نہیں جانتے
کہ آگے بڑھا جا ہی نہیں سکتا

پھر بھی وہ بڑھتے ہیں
بے حیائی کی شدت
آنکھوں میں موتیا اترنے کی رفتار کو تیز کر دیتی ہے
ہر تنے کی چھال، بدن پر
انمٹ خراشیں چھوڑ جاتی ہے
پھٹکری اور ویزلین سے چکنایا ہوا ماس
ہڈیوں سے
ہمیشہ جڑا نہیں رہ سکتا

ہر بدن اور کرسی کی ، ایک عمر ہوا کرتی ہے

اور پھر ہم انھیں دیکھ سکتے ہیں
ایک دن
نچے ہوے لباس میں
خلا کو گھورتے ہوے
کسی نیم تاریک نشیب میں
پر کٹے پرندے کی طرح
مٹی پر لوٹتے ہوئے

آگے بڑھنے کی ، پیہم کوشش میں

Image: Do-Ho Suh

Categories
شاعری

تم جو آتے ہو

تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے
نرم پوروں سے کوئی ہولے سے
دل کی دیوار گرا دیتا ہے
ایک کھڑکی کہیں کھل جاتی ہے
آنکھ اک جلوہ صد رنگ سے بھر جاتی ہے
کوئی آواز بلاتی ہے ہمیں

تم جو آتے ہو
تو اس حبس، دکھن کے گھر سے
رنج آئندہ و رفتہ کی تھکاوٹ سے
نکل لیتے ہیں
تم سے ملتے ہیں
تو دنیا سے بھی مل لیتے ہیں

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

اجنبی جگہیں

اجنبی مٹی میں
کشادہ دلی اور انتظار کی مہک ہوتی ہے
دیکھی ہوئی زمینوں کی دھول اور مبہم مانوسیت
آوازیں بڑھتی ہیں
ہمارے کپڑوں سے لپٹ جانے کو
دریچے، آنکھیں بن جاتے ہیں
ایک اجنبی باس
الوہی سرشاری سے
ہمارے مساموں میں اتر جانے کو بے چین ہو جاتی ہے
اجنبی جگہوں کو ہم یوں دیکھتے ہیں
جیسے ہمارے حافظے میں ان کے خواب دبے ہوں
جیسے مکانوں سے اٹھتے دھویں کے پاس کہیں
ہمارے لیے ضیافت کا اہتمام ہو
ہر جانب دوازے کھلے ہوں
جن میں ہم داخل نہیں ہو پاتے
اجنبی جگہیں سب سے زیادہ مناسب ہوتی ہیں
آنسو بہانے اور یاد کرنے کو
انھیں ، جو سانس کی طرح ساتھ رہے
اور پتھر کی طرح اجنبی ہو گئے …
بانہیں پھیلاے بلاتی رہتی ہیں یہ جگہیں
فراق کے گیتوں سے لبریز ، ہواؤں کی خنکی بن کر
اور ہم ..اپنے ارد گرد کے شور میں سن نہیں پاتے
خود اٹھائی ہوئی دیواروں سے کبھی نکل نہیں پاتے
اور ایک روز
اسی لا تعلق زمین میں خاموش کر دیے جاتے ہیں !

Categories
شاعری

تم نہیں دیکھتے

دلوں سے دہلیزوں اور
خوابوں سے تعبیروں تک کا سفر
طے کرتی ہیں آنکھیں
یا قسمت
یا پھر طے ہو جاتا ہے یہ سفر
محض اتفاق سے
اور ہر سفر کی اپنی منزل ہوتی ہے اور صعوبت
اور آدمی کے پاس ہوتی ہیں
صرف آنکھیں

آنکھیں دیکھتی ہیں
دور کے راستوں کو
اور رگوں کو بھر دیتی ہیں
موسموں اور منظروں کی آگ سے
اتار دیتی ہیں تھکن اور دیکھتی رہتی ہیں
رات دن ، چمکتے جگنوؤں کی طرح
تھوڑا زاد سفر باندھ دیتی ہیں
یاد داشت کی گٹھری میں ——–
ہنستی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
کھلتے ہوے پھول ، بارش میں بھیگتے ہوے درخت اور آدمی
دریاؤں کے کنارے ، آبادیوں میں اترنے والی شام ،مسکراتی ہوئی دھوپ
اور مکتب سے نکلتے بچوں کی اجلی وردیاں ———
روتی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
ایڑی میں چبھ جانے والی کیل ، اڑتے ہوے بادل ،معدوم ہوتے ہوے ماہ و سال
ابدیت کے جنگل میں بھٹکتی ہوئی چاندنی
اور ہاتھوں سے گرتی ہوئی مٹی

آنکھیں نکل جاتی ہیں قدموں سے آگے
اور مکمل کر دیتی ہیں سفر
بھر جاتی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
گزری ہوئی بستیاں ،اور ان میں ایستادہ گھر
اور دہلیز پر کھلا ہوا پھول
اور آغاز کی سر خوشی اور ملال کے سائے

آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں
لیکن تم نہیں دیکھتے
پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر
اور نہیں جانتے
آنکھیں کیا کچھ دیکھ سکتی ہیں !!
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

روئی ہوئی آنکھ سے

روئی ہوئی آنکھ سے
دنیا بہت صاف دکھائی دیتی ہے
بچہ بہت خوبصورت ہے
اس کی وردی میلی ہو جائے گی
دن بہت اجلا ہے
اسے گدلا کر دیں گے یہ ہاتھ
رات بھر ہوا چلے گی
ٹھنڈی، تاریک، مونھ زور
رگوں میں اتر جائے گی
پھر بھی —-
بارش ہو رہی ہے
بارش میں بھیگتے کپڑے اور راستے مجھے اچھے لگتے ہیں
کیوں نہ بارش میں کہیں دور نکل جاؤں
لیکن رات ہو گئی ہے
اور ابدی جدائی کی سمت کھلنے والی یہ کھڑکی
اور تمہاری آنکھیں
بھر جائیں گی اندھیرے سے
محبت دکھ تو دیتی ہے
لیکن یہ دکھ بہت گہرا ہے ۔۔۔۔۔ نیند کی طرح
مٹی میں اترے ہوئے پانی کی طرح
میرا شہر میری مٹی بن گیا ہے
مجھے زمین مل گئی ہے
رہنے اور اوڑھنے کے لیے
یہ ہارا ہوا دل
ایک مرتبہ تمھارے سینے میں دھڑک لینا چاہتا ہے
تم کہاں ہو ؟
دنیا میری باتوں پر ہنستی ہے, اور میری پرانی گاڑی چھینٹے اڑاتی ہے
جو سب سے زیادہ
میرے اپنے لباس پر پڑتے ہیں

Image: Hossein Zare

Categories
شاعری

خود کلامی

تم نے ٹھیک سمجھا
ہر تعلق ایک ذلت آمیز معاہدہ ہے
تھکے ہارے دلوں کا، اپنے ارادوں کے ساتھ
ہر ربط،ایک مسلسل فریب
ہر لمس، ایک رائیگاں سچائی
جس میں سہمے ہوے جھوٹ سے ہماری پوریں، پناہ مانگتی ہیں
ہاں —فراق ایک ابد ہے
تیرے میرے زمانوں کا آخری علاقہ
تیرے میرے امکانات کا آخری سانس ۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے ٹھیک سمجھا
زندگی، پانیوں میں تیرتے ہوئے جزیرے پر
خود رو گھاس کی طرح،
بے معنی اور خوبصورت ہے
تم نے ٹھیک سمجھا
وقت، دلوں سے لپٹ کر
آس اور نراس کا ہر قطرہ نچوڑ دیتا ہے
وقت ایک بھاری جاذب
جس میں، میں اور تو بوندوں کی طرح گرتے رہتے ہیں
تو اور میں
ازل سے ابد تک چلنے والے ایک مسلسل واہمے کے خال و خد
بوجھل پلکوں سے اس پار کے اندھیرے کو جھٹکتے ہوئے
ایک دوجے کو صدیوں سے گھورتے چلے آ رہے ہیں
تم نے ٹھیک سمجھا
کہ نیند ایک بے پناہ آغوش کا لمس،
کہ رات سب وقتوں کی ایک سچائی
اور صبح کی مقدس روشنی
اس سکوت میں چلنے والے ایک لمحے کی کروٹ
اس سناٹے میں دراڑ، جو زمان و مکان پر چھاۓ ہوئے
گھنے ابر کی چادر ہے
جس سے ہمارے ناموں کی ڈوریاں بندھی ہیں
ہاں۔۔۔۔۔ لمحہ صدیوں پر بھاری ہوتا ہے
لمحہ، جو تیری میری آنکھوں کے کھلنے کا جواز ہے
لمحہ، جو عافیت کی بے خودی میں سرشار ایک مسلسل رقص ہے
لمحہ جو تو ہے
لمحہ جو میں ہوں
تم نے ٹھیک سمجھا
کہ سمجھ لینے میں،
کبھی نہ ہونے کا خوف ہی ہمارا رشتہ ہے
جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

وہ بھی تم ہو گے

وہ بھی تم ہو گے
وہ بھی تم ہی تھے
مجھے ۔۔۔ اولین جدائی کی
تنگ و تاریک گھاٹیوں میں
دیواروں سے سر ٹکراتے ہوے ، دیکھتے
میری آوارگی سے اکتاہے ہوے راستوں پر
میرے لیے پھول کھلاتے —

اور یہ بھی تم ہی ہو
اجلے پیروں میں سرخ جوتی
اور جگمگاتے لباس میں
مسلسل رقصاں
والہانہ پن سے اچانک
گھوم کر رکتے
مجھے دیکھ کر حیران ہوتے ہوے
سمندر پار کے بلاوے پر
ایک تاریک سیارے سے
روانہ ہوتی ہوئی روشنی

ایک خالی ہو جانے والے گھر میں
رہ جانے والی مہک
تپائی پر پڑے چاۓ کے خالی کپ
بجھے سگرٹوں سے بھرا ایش ٹرے
لمس کی سرمئی دھند میں
ٹوٹی ہوئی ایک محفل کی پرچھائیں —
موڑ سے دکھائی دیتے
اونچی کرسی کے کمرے کی
تاریک کھڑکیوں اور دیواروں میں
بھٹکتی ہوئی آواز
خالی سیٹ پر رہ جانے والی خوشبو اور ویرانی ——–
اور وہیں کہیں
تماشا بن جانے والے کی آنکھ میں
اتر جانے والا تیر
جو .. گھر کو لوٹتے ہوئے
گر گیا ، تمھارے سامنے
کسی اور آسمان کے نیچے
کبھی مل سکنے کا آزار لیے —

اور وہ بھی تم ہو گے
جو کبھی ۔۔۔ بارشوں سے دھڑکتی کھڑکی کے شیشے سے
اپنی نمناک آنکھوں سے
میری جانب دیکھو گے
جب میں
دنیا کی خوبصورتی برداشت کرنے سے
انکار کرنے والا ہوں گا !

Image: Hann Kim

Categories
شاعری

کسی انتظار کی جانب

کسی انتظار کی جانب
ازل سے چلتے رہے ہیں مگر کھڑے ہیں وہیں
دیارِ دیدہ و دل میں وہی دھندلکا ہے
اسی زمیں پہ قدم، سر پہ آسماں ہے وہی
کہیں پہ دور کہیں ہم کو جا کے ملنا تھا
کسی خیال سے ،اک خواب خوش نما کی طرف
نکلتے جانا تھا ٹوٹے ہوے خمار کے ساتھ
نہ جانے کیا تھا جسے ڈھونڈنے نکلنا تھا
رہ وجود میں اڑتے ہوے غبار کے ساتھ
رہے اسیر در و بام زندگی ہر دم
وہی جو خستہ تھے معمول روز و شب کی طرح
بس ایک چاک پہ ہم گھومتے، اُدھڑتے رہے
سو اب خرام کریں راہ معذرت پہ کہیں
تھکن سے بیٹھ رہیں کنج عافیت میں کہیں
کہیں سے توڑ دیں دیوار ایستادہ کو
جدھر کو جا نہیں پائے، ادھر نکل جائیں
جو منتظر تھا ہمارا، جو راہ تکتا تھا
جو ہم پہ وا نہیں ہوتا، جو ہم پہ کھلتا نہیں
جو ہم پہ کھلتا نہیں، اس حصار کی جانب
کسی طلب کو، کسی انتظار کی جانب !

Image: Teun Hocks

Categories
شاعری

ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے

ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے
اگر ہمارے دکھوں کا علاج نیند ہے
تو کوئی ہم سے زیادہ گہری نیند نہیں سو سکتا
اور نہ ہی اتنی آسانی اور خوب صورتی سے کوئی نیند میں چل سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج جاگنا ہے
تو ہم اس قدر جاگ سکتے ہیں
کہ ہر رات ہماری آنکھوں میں آرام کر سکتی ہے
اور ہر دروازہ ہمارے دل میں کھل سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ہنسنا ہے
تو ہم اتنا ہنس سکتے ہیں
کہ پرندے، درختوں سے اڑ جائیں
اور پہاڑ ہماری ہنسی کی گونج سے بھر جائیں
ہم اتنا ہنس سکتے ہیں
کہ کوئی مسخرہ یا پاگل اس کا تصور تک نہیں کر سکتا

اگر ہمارے دکھوں کا علاج رونا ہے
تو ہمارے پاس اتنے آنسو ہیں
کہ ان میں ساری دنیا کو ڈبویا جا سکتا ہے
جہنم، بجھائے جا سکتے ہیں
اور ساری زمین کو پانی دیا جا سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ۔۔۔جینا ہے
تو ہم سے زیادہ با معنی زندگی کون گزار سکتا ہے
اور کون ایسے سلیقے اور اذیت سے
اس دنیا کو دیکھ سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ۔۔۔۔بولنا ہے
تو ہم ہوا کی طرح گفتگو کر سکتے ہیں
اور اپنے لفظوں کی خوشبو سے پھول کھلا سکتے ہیں

اور اگر تم کہتے ہو ہمارے دکھوں کا علاج کہیں نہیں ہے
تو ہم چپ رہ سکتے ہیں قبروں سے بھی زیادہ

Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

چہل قدمی کرتے ہوئے

چہل قدمی کرتے ہوئے
کہیں کوئی بستی ہے
خود رو جھاڑیوں اور پھولوں سے بھری
جہاں بارش
بے آرام نہیں کرتی
چھینٹے نہیں اڑاتی
صرف مہکتی ہے —
مٹی سے لپے گھروں میں
ہوا شور کرتی
آوازیں سوئی رہتی ہیں
کوئی سرسراہٹوں بھرا جنگل ہے
پگڈنڈیوں اور درختوں کے درمیان
ان جان پانیوں کی جانب، نہریں بہتی ہیں
اور راستے کہیں نہیں جاتے
پرندوں کی چہکاریں، لا متناہی عرصے کے لیے
پتوں کو مرتعش کر دیتی ہیں
دنیا سے الگ
کہیں ایک باغ ہے
غیر حتمی دوری پر
سیاہ گلابوں اور ابد کی مہک میں سویا ہوا
کہیں کوئی آواز ہے
بے نہایت چپ کے عقب میں
بے خال و خد، الوہی، گھمبیر
کہیں کوئی دن ہے
بے اعتنائی میں لتھڑا ہوا
اور کوئی رات ہے
اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں کے ہمراہ
جس میں مجھے داخل ہو جانا ہے
یونہی چہل قدمی کرتے ہوئے
اور بجھے آتش دان کے پاس
بیٹھ جانا ہے
تمھارے مرجھاے چہرے کی چاندنی میں
کسی مٹیالی دیوار سے
ٹیک لگا کر ۔۔۔

Image: Vladimir kush

Categories
شاعری

تری دنیا کے نقشے میں

تری دنیا کے نقشے میں
تری دنیا میں جنگل ہیں
ہرے باغات ہیں
اور دور تک پھیلے بیاباں ہیں
کہیں پر بستیاں ہیں
روشنی کے منطقے ہیں ——–

پہاڑوں پر اترتے بادلوں میں
رقص کرتا ہے، سمندر چار سو —
اسی انبوہ کا حصہ نہیں ہوں میں
کہاں ہوں میں ؟
میں تیرے لمس سے اک آگ بن کر پھیلنا
تسخیر کی صورت بپھہرنا چاہتا تھا
اور اترا ہوں
کسی بے مہر سناٹے کے میداں میں
ہزیمت کی دہکتی ریت پر
بکھرا پڑا ہوں ، شام کی صورت
میں جینا چاہتا تھا تیری دنیا میں
ترے ہونٹوں پہ کھلتے نام کی صورت
کہیں دشنام کی صورت
کہیں آرام کی صورت
میں آنسو تھا
ترے چہرے پہ آ کر پھول دھرتا تھا
ترے دکھ پر
گرا کرتا تھا قدموں میں
اے چشم تر !
کہاں ہوں میں؟

اندھیرے سے بھری آنکھوں میں
چلتی ہے ہوا، ہر سو
اور اڑتے جا رہے ہیں، راستے اس میں
زمانوں کے کناروں سے
ابد کے سرد خانوں تک
ہوا چلتی ہے، ہر سو
اور اس کی ہمرہی میں
دو قدم چلتا نہیں ہوں میں
ہجوم روز و شب میں
کس جگہ سہما ہوا ہوں میں
کہاں ہوں میں
تری دنیا کے نقشے میں
کہاں ہوں میں
Categories
شاعری

میں نے بہت سا وقت ضائع کر دیا

میں ںے بہت سا وقت ضائع کر دیا
اس کے ہونٹوں پر پھول کھلانے
اور اسے ملنے کے لیے
وقت نکالنے میں
میں ںے بہت سا وقت ضائع کر دیا

ایک گیت کو ڈھونڈنے اور گنگنانے میں
اپنے قدموں سے
ایک راستے کو جدا کر کے
کسی اور طرف نکل جانے میں۔۔۔
اپنے لہو میں ایک آگ کو سرد کرنے
ایک خواب کی پکڑ سے نکلنے
اور بے اماں دنوں کے ساتھ
قدم ملا کر چلنے میں۔۔۔۔

دل اور دنیا کے درمیان
ایک پل بنانے
اور اس پر سے گزرنے کی اذیت میں۔۔۔

جوتے چمکانے اور اپنا میلا لباس تبدیل کرنے میں
دوڑ کی ابتدائی لکیر تک آنے
چلتی گاڑی کے آخری ڈبے تک
پہنچنے کی کوشش آغاز کرنے میں۔۔۔

میں ںے بہت سا وقت ضانع کر دیا
اپنی مٹی سے دور
ایک گھر کے لیے اینٹیں اکٹھی کرنے
اور دوسروں کے درمیاں
جگہ بنانے میں
اسے دیکھنے
اور دیکھ کر گزر جانے میں۔۔۔۔۔

حالانکہ
اتنے وقت میں ۔۔ بہت سے
باغ لگائے جا سکتے تھے
بہت سی دھوپ جمع کی جا سکتی تھی
اور
کہیں بھی پہنچا جا سکتا تھا

افسوس۔۔۔۔۔
تأسف کے دھوئیں سے
میرا دم گھٹنے لگا ہے
اور اس جلتے مکان سے
شاید ۔۔ تم بھی
مجھے باہر نہیں نکال سکتے !

Image: alfredo castañeda