1.
اس سے پہلے کہ وہ
سمندر میں الٹ دیں
یہ آرام دہ بستر
جس پر تم لیٹے ہو
دھوپ اوڑھے ہوئے
سر سے پاؤں تک
باہر سے اندر تک
سیون سیز ٹریولز کے اکلوتے
لگژری اوشن لائنر پر
کیا میں تمہارا نام پوچھ سکتا ہوں
2.
اس سے پہلے کہ میں
تمہیں اپنا نام بتاؤں
ایک ہی مرتبہ، اور
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
تمہیں سمجھ لینا چاہئیے
میری پتلیوں میں منجمد وقت
کوئی معنی نہیں رکھتا
کسی بھی چیز کے لیے
ضروری نہیں کہ اس کا کوئی مطلب ہو
بائی دا وے، کیا میں تمہیں چھو سکتا ہوں
3.
اس سے پہلے کہ وہ
میری کال اٹھا پائے
جس کا نمبر مجھے ابھی نہیں ملا
تمہارے سگرٹ کیس کی تہہ میں دبی ان جلی بیڑی پر
جس کی لپ اسٹک کی مہر ہے
دل کی شکل کا جو لاکٹ تمہارے سینے پر پڑا ہے
اس میں احتیاط سے رکھی مل سکتی ہے
سنہرے بالوں کی خود سر لا پروا لٹ
یک طرفہ مگر فیصلہ کن انداز میں
آخری دھڑکن سے الجھی ہوئی
4.
اس سے پہلے کہ ہم
مزید بے تکلف ہوں۔۔ میرے عزیز
ہمیں طے کر لیںا چاہئیے کہ تمہیں
میری زندگی بے مقصد لگ رہی ہو گی
یاد رہے کہ ہم موت کی بات نہیں کر رہے
موت کبھی بے مقصد نہیں ہوتی
وہ کم سے کم بن سکتی ہے تعارف کا بہانہ
دو یک سرسراسر اجنبیوں کے درمیان
شناسائی کے پیچ دار زینے پر پہلا محتاط قدم
مثال کے طور پر، تم کیا پینا ہسند کرو گے
5.
اس سے پہلے کہ وہ ۔۔ مگر وہ کیسے ۔۔ بتاتا
میں جان چکا تھا اس کا نام پتا وغیرہ
وہ نہیں جو پاسپورٹ میں درج ہے
موت، اور اس سے بھی پہلے، محبت
سفری دستاویزات کو اہمیت نہیں دیتی
اتنی بھی نہیں جتنی سیون سٹارلگژری لائنر کا عملہ
اپنے سابق آقا کی زبانی وصیت کو دے سکتا تھا
اگران کی تنخواہیں چودہویں کے چاند کی طرح چڑھی ہوئی نہ ہوتیں
لا حاصلی کے سمںدر کے پار اگرانہیں اس جزیرے کا پتا ہوتا
جس پر اب کوئی کسی کا انتظار نہیں کر رہا
6.
اس سے پہلے کہ تم کسی اور نتیجے پر اترو
لپ اسٹک کیا میں سیلفی اسٹک تک استعمال نہیں کرتا
اس پہلے کہ تم کسی اور جزیرے پر چڑھائی کرو
میرے بالوں کا رنگ؟ آدھے سیاہ، آدھے سفید،
کسی دن درختوں سے متاثر ہو کر سر سبز کر لیا
کسی شب سمندر کی اداسی چاٹ کر ہاتھ پیرنیلے
میں کہاں رہتا ہوں کیا کرتا ہوں کیا نہیں کرتا
کیا پینا ہے کیا کھاںا ہے کس کے ساتھ کہاں جانا ہے
میرے کوائف میرے پروفائل میں درج ہیں
میرے کپڑے میری وال پہ لٹکے ہوئے ہیں
7.
اس سے پہلے کہ وہ سکسٹی نائن سے گنتی شروع کرے
میں زور زور سے بھونکنے لگا
اس نے ریموٹ کنٹرول پر میوٹ کا بٹن دبایا
میں چیتے کی مانند اس پر لپکا
اس نے کیٹ واک والا فلٹر لگایا
اب اسے میں کیسا نظر آ / نہیں رہا ہوں گا
وہ اس وقت کس کے لیے کس جگہ ہو گا
وہ کب کب کس کس کے لیے کیا کیا ہو گا
سنہرے بالوں کی وگ سوپر فٹ آئی ہے
لپ سٹک لگا کرسیلفی لیں؟ منہ چڑائیں؟
8.
اس سے پہلے کہ یہ نظم ختم ہو
ایک نئی دنیا شروع ہو چکی ہوگی
ورنہ کیا فائدہ جانی ایسی نظم کا ایسی رزم کا ایسی بزم کا
حتیٰ کہ آج کا حرفِ روی ڈی فائن کرتی ایسی (چوتیا!) جزم کا
لسانی مجبوری، زبانی معذوری : بائی ون گیٹ ون فری
تقریباً یوں ہی ہر محبت ہر جنگ آن لائن ہو سکتی ہے
پھر کیا فائدہ، دے دوست پہ دوست، دشمن پہ دشمن پالنے کا
پھر کیا ضرورت اتنے نظریہ ہائے ضرورت مائے ضرورت کی
ایٹم بم اگر چلانا نہیں تو بنایا کیا گانڈ میں گھسیڑنے کو تھا؟
مار اوئے ڈپٹی، مارایناں نوں، مار ایناں دی!
9.
اس سے پہلے کہ وہ ہماری نئی دنیا کا خون کریں
سب بڈھوں کو ایک چتا میں کیوں نہ جھوںک دیں؟
ہمارا اس میں کوئی قصور نہیں کہ وہ وہ ہیں، ہم ہم ہیں
ہم مکمل غیر مشروط علحدگی کا اعلان کرتے ہیں
ان کی عائد جںگوں سے ان کے نافذ امنوں سے
ہم ان کے جھوٹے چھوڑ سچے خوابوں سے بھی بیزار ہیں
ہم ان رجیموں کے شر سے کیا خیر سے بھی پناہ چاہتے ہیں
ان کی تحریریں تقریریں نظریے ضرورتیں یکساں لغو ہیں
اگر یہ کہنا ہمارا جرم ہے تو اس کی سزا انہیں ملنی چاہئے
ان کو حقیت میں کچل کے نہ رکھ دیں، کم آن مسٹر سامسا!
10.
اس سے پہلے کہ تُو یہ سمجھے
کہ میں کہ ہم تجھے چھوڑ کے جا رہا ہوں کے جا رہے ہیں
کتنی جلدی بیکارسمجھ لیا اپنے بیکار وجود کو تُو نے او مائی گاڈ!
مردہ خدا کب روز روز زندہ ہاتھ آتے ہیں
تیری گرگٹی وگ اور لپ سٹک ہتهیا کر
خامشی کی صرف و نحو کے سارے صیغے راز سے باہر لا کر فوری میموری سے سوری محو کرتے ہوئے
خواب کے صفر سے حقیقت کے ایک تک سارے فلٹر لگا کر
میں تیری لاش پہ بیٹھ کے ہم سفر کریں گے
ہر سمندر میں ہر جزیرے تک جو تیری ملکیت تھا
جو میری ملکیت ہے جو ہماری ملکیت ہے