سراب میں جل پری
حسین عابد: سمندر یہ زہر نہیں دھو سکتا جو میری آنکھوں، رگوں روئیں روئیں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے
حسین عابد: سمندر یہ زہر نہیں دھو سکتا جو میری آنکھوں، رگوں روئیں روئیں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے
ثروت زہرا: میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے گھروں کی چلمنوں سے…
سید کاشف رضا: میری آنکھوں میں ایک آبشار کی دھند پھیل گئی ہے میں اسے ایک آنسو میں جمع کر…
زاہد امروز: ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ ﺳﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮨﻮ
نصیر احمد ناصر: کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے پیانو کو چھیڑتا ہے اور کہیں بہت قریب سے ساکن اور…