ایک گناہ کی اجازت
صفیہ حیات: طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا وجود کو ڈستے ڈستے صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے…
صفیہ حیات: طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا وجود کو ڈستے ڈستے صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے…
حفیظ تبسم: اے بزرگِ انسان و کائنات ہمارے خواب حدود سے آگے نکل چکے ہیں انھیں مرنے سے بچالے
ایچ- بی- بلوچ: میں بولنا بھی نہیں جانتا کیا تم نے کبھی خاموش کنویں دیکھے ہیں؟ جن میں سے کائی…
جنید الدین: ہم پرانی لائبریریوں میں کھنگالے جائیں گے جب لڑکے کچھ خط چھپانے آئیں گے
ثاقب ندیم: ایک روز صبح سویرے شہر جاگا تو اُس کے وقت پہ سُرخ اور سیاہ کا قبضہ ہو چکا…
صفیہ حیات: زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی بستر کے ساتھی کو ساتھ لانا بھول گئی