Categories
شاعری

بلبلے

سلمیٰ جیلانی: بوڑھے ہوتے ہوئے بچپن کو
اب بلبلے بنانے نہیں آتے

دل کرتا ہے
بچپن کی وادیوں میں
پھر سے چلا جاؤں
پرانی رسی کے جھولے میں جھولوں
سارے دکھ صابن میں گھولوں
بلبلے بناؤں
اور ہوا میں انہیں اڑاتا جاؤں
مگر ظالم وقت
جاتے ہوئے
بے فکر خوابوں کے رنگ ،
نلکی اور صابن کی پیالی بھی لے گیا
سچ بتاؤں تو
بوڑھے ہوتے ہوئے بچپن کو
اب بلبلے بنانے نہیں آتے

By سلمیٰ جیلانی

سلمیٰ جیلانی کا تعلق کراچی سے ہے، انہوں نے گورنمنٹ کامرس کالج کراچی میں بطور لکچرار آٹھ سال تک خدمات سرانجام دیں۔ 2001ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نیوزی‌لینڈ مقیم ہو گئیں اور وہاں آک‌لینڈ یونیورسٹی سے ایم۔بزنس مکمل کیا۔ وہ وقتا فوقتا مختلف بین‌الاقوامی ثلاثی سطح کے تعلیمی اداروں میں پڑھاتی رہتی ہیں۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شوق ہے اور ان کے افسانے معروف ادبی جرائد جیسا کہ فنون، شاعر، ادب لطیف، ثالث، سنگت اور پین‌سلپس میگزین اور بچوں کے میگزینز میں شائع ہوتے رہے ہیں، کیونکہ وہ بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھتی ہیں۔ وہ دنیا بھر سے شعراء کے کلام کو اردو میں ترجمہ کر چکی ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ترجمہ مختلف ثقافتوں کے درمیان پل ہوتا ہے اور انہیں قریب لے آتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *