Categories
شاعری

حباب ہستی (ممتاز حسین)

پانی کے بستر پر گہری نیند سو جاؤ
پانی کے کمرے میں مقفل ہو جاؤ

جھاگ میں پھنسے بلبلے
اک دوسرے سے چپک گئے
خوف نے محبت کے دستانے چڑھا لیئے
علیحدہ ہو جاؤ
حکم صادر ہوا
کیا تم خدا ہو
ہاں میں پانی ہوں
پانی پانی سے کیسے جدا ہو سکتا ہے
میں خدا سے علیحدہ ہو جاؤں
پانی میں جب روح پھونکی جاتی ہے
تو بلبلہ بنتا ہے
حکمُ صادر ہوا
پانی کی دیواروں پر پانی کی چھت چھت دو
جس میں کوئی دروازہ نہ ہو
پانی کے بستر پر گہری نیند سو جاؤ
پانی کے کمرے میں مقفل ہو جاؤ
اپنے پھیپھڑوں سے پانی گزارو
سانس کیوں نہ گزاروں
پانی تو خود سانسوں کا مرکب ہے
کیونکہ
سانسوں کا صور پھونکا جائے گا
تم اپنے ناک اور منہ کو
پانی کے ماسک سے ڈھانپ لو
کیونکہ
زمین روئی کے گالوں کی طرح
اڑنے لگے گی
اور
بلبلہ پانی پانی ہو جائے گا

By ممتاز حسین

ممتاز حسین ایک آرٹسٹ، فلم‌ساز اور لکھاری ہیں۔ انہوں نے کالوین کلیئن، رالف لارین اور سیمون اینڈ شوستر کے لیے آرٹ ڈائریکٹر کا کام بھی کیا۔ انہوں نے "آسک اے لائر" کے نام سے معلوماتی ٹاک شو کی 13 اقساط کی ہدایتکاری کی۔ ان کے اردو افسانوی مجموعے "گول عینک کے پیچھے"، "لفظوں میں تصویریں" شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا اسکرپٹ دی کائنڈ ایگزیکیوشنر ہالی ووڈ اسکرین پلے مقابلہ میں فائنلسٹ ایوارڈ اور جےپور فلم فیسٹیول میں میں اول ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔ ان کی پینٹنگز اور فلمیں متعدد میوزیمز، یونیورسٹیز، آرٹ گیلریز اور بین‌الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی جا چکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *