Categories
شاعری

عدالت کو کیا معلوم!

نصیر احمد ناصر: عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عدالت کو کیا معلوم!

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہاں زندہ رہنے کی خواہش ایسی ہے
جیسی بے پر کی تتلی
اور موت کا پروانہ لینے کے لیے بھی
عدالت میں جانا پڑتا ہے
جو اپنے فیصلے کی بنیاد
گواہوں کے بیانات پر رکھتی ہے
عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر پاکستانی اردو شاعری کا نمایاں اور رحجان ساز نام ہے۔ آپ کی شاعری دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ وہ چکی ہے۔ آپ 'تسطیر' کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی نکالتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *