عدالت کو کیا معلوم!

عدالت کو کیا معلوم!
یہاں زندہ رہنے کی خواہش ایسی ہے
جیسی بے پر کی تتلی
اور موت کا پروانہ لینے کے لیے بھی
عدالت میں جانا پڑتا ہے
جو اپنے فیصلے کی بنیاد
گواہوں کے بیانات پر رکھتی ہے
عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے!