Categories
شاعری

وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے (صدیق شاہد)

وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے
جیسے سناٹا خالی کمرے کو

وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے
جیسے سناٹا خالی کمرے کو
ربط اور ضبط کی ساری گرہیں ان آنکھوں کی دلچسپی سے کھلتی ہیں
جن آنکھوں کی حیرانی سے باغ عدن کے تالے کھلیں گے

بھر دیتی ہیں
وہ آنکھیں مجھ کو بھر دیتی ہیں
خوف اور لذت سے
اک مصنوعی وصل کی وحشت سے
رک جاتا ہوں
میں بھرا بھرایا رک جاتا ہوں
ان رستوں پر
جن رستوں کی بھول بھلیاں مجھ کو ایسے سیدھی ہیں
جیسے مقناطیس کو لوہا
جیسے مقتول کو قبر کی مٹی

ہنستے ہنستے رہ جاتا ہوں
اپنے دل کی ویرانی پہ
اور ان آنکھوں کی حیرانی پہ
جب وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتی ہیں
جیسے آخری ہچکی بھر دیتی ہے
کمرہ موت کی خوشبو سے

By صدیق شاہد

صدیق شاہد کا تعلق گجرات سے ہے۔ یونیورسٹی آف گجرات سے اینوائرنمنٹل سائنسز میں بیچلر کیا اور قلمکار کریٹو رائٹنگ فورم کا حصہ رہے. جی سی یونیورسٹی لاہور سے ماسٹرز کیا اور ادبی زندگی کا زیادہ حصہ بھی لاہور میں گزارا. غزل اور نظم ایک جتنی پیاری ہیں. آج کل پی ایچ ڈی کی غرض سے بیجنگ چین میں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *