Laaltain

جو کچھ بیاں کیا گیا — تالیف حیدر

تالیف حیدر: آپ تصور کیجیے کہ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اس بہتی ہوئی کائنات میں آپ ایک مٹی کا ڈھیلا، درخت کا تنا، شیر کا پنجہ یاچیزوں کا سایا بن کے بھی وجود میں آ سکتے تھے۔

کائنات کی ساخت (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)

تیسرا سبق: کائنات کی ساخت کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں آئن سٹائن نے اپنی تحقیق کے ذریعے واضح کیا کہ زمان و مکاں کیسے کام کرتے ہیں جب کہ نیل بوہر(Neil Bohr) اوراس کے شاگردوں نے مادہ […]

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)

سٹیفن ہاکنگ: وحدانیت پر جا کر عمومی اضافیت بھی دم توڑ جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک مکمل نظریہ نہیں ہے۔ اس پیمانے پر جا کر ہمیں بیسویں صدی کی دوسرے نظریے(کوانٹم میکانیات) کو بھی عمل میں لانا ہوگا۔

وجودِ کائنات

رابرٹ ایڈلر: جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔

کائنات سے متعلق سائنسی نظریات

ارسطو کا نام قدیم یونان کے معلم اول کےطور پرمشہورہے۔ سائنس اور فلسفے کے جملہ علوم پر دسترس رکھنے والا یہ فلسفی بلاشبہ زمانہ قدیم و جدید کا سب سے بڑا عالم سمجھا جاتا ہے، طبیعات کی پہلی باقاعدہ کتاب بھی ارسطو ہی سے منسوب ہے۔

کائنات ،بگ بینگ اور شعور

اکیسویں صدی کے آغاز ہی میں انسان اپنے نظریات کو سائنسی حقائق کے طور پر دیکھنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔