Laaltain

واشنگٹن کی کالی دیوار (نسیم سید)

اپنی فیروز بختی پہ نازاں سیہ پوش دیوار پر آب زرسے لکھے نام پڑھتےہوئے میری آنکھیں پھسلتی ہوئی نیہہ پر جا گریں الغِیاث! الاَماں! ایک بستی کے جسموں کا گارا سیہ ماتمی مرمروں کے تلے اس کی بنیاد کا رزق تھے زائرین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوُق در جوُق اس غم زدہ دل گرفتہ کو اشکوں کے نذرانے دیتے […]

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے ایک عورت کو بس سانس لینا ہی کافی نہیں اس کو لازم ہے وہ کوہساروں کی آواز سنتی ہو نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو اسے علم ہو وہ زن باد شب جانتی ہو کہ کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے […]

جنگ سخت کوش ہے

سلمیٰ جیلانی : کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار

ہمارے لوگ

ڈایان ارنز: اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟

میں جا چکی ہوں

نسیم سید: میں اپنے ہونے کے اورنہ ہونے کے
مخمصے سے
نہ جانے کب کی
نکل چکی ہوں

جہاد النکاح

نسیم سید: المدینہ کی پہلی گولی امیر ابورباب کے سینے کو چیرگئی اورپھر عائشہ سمیت وہ سب جو اسے اپنے واسطے جب جی چاہے حلال قرار دے دیتے تھے اپنے خون میں نہائے فرش پر پڑے تھے ۔

اسیری

لی میرے کل: تمہارے معیار پر
پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا

ہمارے لوگ

میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے