ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام

آفرینش کب تھی غالب؟ عالمِ علوی میں کیا؟
یا کہیں باغِ جناں میں، آدم و حوّا کے بیچ؟
یا کہیں باغِ جناں میں، آدم و حوّا کے بیچ؟
غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ

ایسے خود بیں کے لیے موزوں ہے غالب کا یہ کہنا
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
بدن اور ملبوس ۔ بہم دگر متصادم (فارسی عروض اور اردو شاعری)

کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔
نظریات کا گورکھ دھندا؛ اردو ادب کے تناظر میں

جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں، لیکن آخر روایت سے کلیتاً بغاو ت نہ کیے بغیر بھی جدیدیت کے اجزائے ترکیبی ہمارے ادب میں رواج پا گئے۔
تصوریت اور حقیقت

نیچرل ازم حقیقت نگاری کی وہ جہت ہے جو عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی کے ان پہلوؤں کو پیش کرتی ہے، جو مذہب یا اخلاقیات کے زیر اثر پہلے منصۂ شہود پر نہیں آئے۔
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!
عالم تمام حلقۂ دام ِ خیال ہے

اس گنجلک دماغ میں غالب میاں کہو
کیسا یہ انصرام ہے، کیسا یہ انضباط
کیسا یہ انصرام ہے، کیسا یہ انضباط
آتش و آب و باد و خاک نے لی

آتش و آب و باد و خاک ہیں کیا؟
جسمیت، مادیت، خس و خاشاک
جسمیت، مادیت، خس و خاشاک
ھل من ناصرًا ینصرنا

کوزہ گر، تو نے جب
مجھ کو تشکیل دی تھی تو اتنا تو کرتا
مجھے اک مبارز بناتا
مرے ہاتھ میں ایک تلوار دیتا
کہ اپنی حفاظت مرا کام ہوتا
مگر میں نہتّا، اکیلا کھڑا دیکھتا ہوں
عدو چاروں جانب سے یلغار کرتے ہوئے آ رہے ہیں
مجھ کو تشکیل دی تھی تو اتنا تو کرتا
مجھے اک مبارز بناتا
مرے ہاتھ میں ایک تلوار دیتا
کہ اپنی حفاظت مرا کام ہوتا
مگر میں نہتّا، اکیلا کھڑا دیکھتا ہوں
عدو چاروں جانب سے یلغار کرتے ہوئے آ رہے ہیں
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے

یعنی بہ حسبِ گردش ِ پیمانہ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

یہ اگر طے ہے کہ ہر کام بہت مشکل ہے
پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد
اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے
پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد
اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے
قاری اساس تنقید ۔ ایک مکالمہ

اگر معنی متن میں ہی نہاں ہے تو(ستیہ پال آنند)
مصنف کی ضرورت ایسی حالت میں کہاں محسوس ہوتی ہے؟
مصنف کی ضرورت ایسی حالت میں کہاں محسوس ہوتی ہے؟
فنکار ایک آزاد فرد ہے

اگر ہم مبلغ کے طور پر، یعنی ڈھنڈورچی بن کراپنے ناولوں اور ڈراموں میں ایک سیاسی نظریے کا پرچار کر رہے ہیں، تو ہم فنکار نہیں ہیں، ڈھنڈورچی ہی ہیں