Categories
شاعری

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

ہم کہاں کے دانا تھا، کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا (غالبؔ )

 

شاعر کا سوال
یہ کیسی حجت و برہان ، کیا سوال و جواب
کہ آسمان میں تھگلی لگائے کیا کوئی
ہزار بار تو ہم پوچھ چکے ہیں پہلے
اگر یہ ضد ہے کہ اک بار پھر سوال کریں
تو آؤ پوچھ ہی لیتے ہیں آسمان سے ہم!

 

آسمان کا جواب

 

تیز طبع تھا غالب، صاحبِ نظر بھی تھا
عارف و مفکر بھی، ہوش مند، دانا بھی
دور بین، دانشور، شوخ بھی، سیانا بھی
شاستری بھی، پنڈت بھی، فلسفی بھی ہاتف بھی
ہوش مند؟ سنجیدہ؟ معتدل؟ وہ سب کچھ تھا
آسمان میں تھگلی وہ لگا بھی سکتا تھا
ہاں، مگر ہنر مندی، داؤ گھات، کرتب، ڈھب
اس کی دسترس سے دور، غت رُبُود رہتے تھے
ہوشیاری، چالاکی، چالبازی، سازش کا
اس کی بے ریائی سے واسطہ نہ تھا کوئی!
مار کھا گیا سب سے، وہ انیلا، سادہ دل
اس میں دشمنی کیا تھی، آسمان کی، شاعر؟
بے تصنع، سادہ دل، وہ اگر سمجھتا ہے
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو!!

 

(اس نظم میں حسبِ ضرورت دو بحور کو بروئے کار لایا گیا)
Categories
شاعری

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

 

نظم

 

میں ایک ناخواندہ شخص
لایا گیا ہوں جکڑا ہوا سلاسل سے
اس عدالت میں۔۔۔
جس کا قانون، ضابطہ، دھرم شاستر
شرع و شریعت
مرے لیے حرف ِ معتبر ہے
مگر میں جاہل
گنوار، ان پڑھ
عدالتِ عالیہ کے دستور سے معّرا
جوابِ دعویٰ، بِنائے دعویٰ سے بے خبر
نیک و بد سے غافل کھڑا ہوا ہوں۔۔۔۔

 

میں ایک نا خواندہ شخص
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
یہ کس نے لکھی تھی، عالی منصب؟
کسی فرشتے نے؟ کب؟ کہاں؟۔۔۔
کوئی آدمی بھی تھا گواہِ حاضر؟
جواب کوئی تو ہو گا، لیکن
اباک، منہ بند تھا مّحرر ۔۔۔۔ سکوت ہی اس کافیصلہ تھا!

 

مگر میں جاہل، گنوار، ان پڑھ
دفاع کے اپنے سارے ہتھیار ڈال دیتا ہوں
صرف اتنا ہی پوچھتا ہوں
“مرا جو اقبالِ جرم خود آپ نے لکھا ہے
مجھے یقیں ہے، درست ہو گا
میں کتنے جنموں سے اپنے نا کردہ جرم سارے
قبول کرتا ہوا چلا آ رہا ہوں خود ہی
تو اَب بھلا اس جنم میں کیا اعتراض ہو گا !
مجھے بتائیں، مرا انگوٹھا کہاں لگے گا؟”
Categories
شاعری

کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”
گویا جبیں پہ سجدہ ءِ بت کا نشان نہیں!!

 

نظم

 

لمبی نہیں ہے سرنوشت، روداد عمر کی
قصّہ، کہانی، داستاں، نقشہ حیات کا
فہرست پاپ پُنیہ کے کرموں کی تا حیات
گویا ہو خود نوشت کوئی روزنامچہ!

 

اے منکر و نکیر، جو تم دیکھ رہے ہو
یہ ڈاری نہیں ہے مرے سہو و گناہ کی
خالی ہی اک ورق ہے، کوئی تذکرہ نہیں
میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں، لکھتا بھی تو کیا!

 

ہاں، سامنے زمیں پہ جو گہرے نشان ہیں
(شاید تم ان کو دیکھ نہیں پائے، فرشتو!)
یہ یادگار میرے ہی سجدوں کی ہے، حضور
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
اب بھی زبانِ حال سے کہتے ہیں داستان
اُن سجدوں کی جو کرتا رہا ہوں میں عمر بھر!
کافی نہیں ہے کیا مری سچی یہ سر نوشت؟
(اس نظم میں دو بحور کے امتزاج کا چلن روا رکھا گیا)
Categories
شاعری

عافیت کہاں ہے؟

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عافیت کہاں ہے؟
(حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں)

[/vc_column_text][vc_column_text]

چلو آؤ، لوٹیں
کہ شام اب پچھل پیریوں کی طرح
خون کی پیاس سے چھٹپٹانے لگی ہے
ہوا کا سراپا
کسی خوف کی بھاری زنجیر سے خود کو باندھے ہوئے
لڑکھڑانے لگا ہے
گھروں کو چلیں
رات کا کالا عفریت ماتم گزیدہ ہے۔۔۔
غاروں سے نکلے گا، سڑکوں پہ گھومے گا
اور شہر کے باسیوں کو
جو (شب گرد ہیں) اپنے کالے پروں میں دبوچے گا ۔۔
کھا جائے گا!

 

آؤ، واپس گھروں کی طرف رُخ کریں
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!

Image: Magdalena Abakanowicz
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بائی زنبِ قُتلَت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بائی زنبِ قُتلَت
)کس جرم کی پاداش میں مارا گیا ہوں(

[/vc_column_text][vc_column_text]

اک سر جو معلق ہے سوا نیزے پر
اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا
اک سر کہ ٹپکتے ہیں ابھی تک جس سے
لو دیتے ہوۓ گرم لہو کے قطرے
اک سر جو مزین تھا بدن پر اپنے
اک سر جو کبھی موتی جڑے تاج سا تھا

 

یہ سر کئی صدیوں سے معلق کھڑا ہے
اور رفتہ و آئندہ کی سب نسلوں سے
آقاؤں سے، ملّاؤں سے، جرنیلوں سے
اسکندروں، داراؤں سے، چنگیزوں سے
یورپ کے ہوس کار عناں گیروں سے
کرتا ہے فقط ایک سوال، ایک ہی بات

 

میں تو فقط اک عام سا شہری تھا، مجھے
کس جرم کی پاداش میں مارا گیا ہے؟

 

الحمرا ۔ لاہور، جولائی 2015 ء

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتمل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!
رحمت کہ عذر خواہ لب ِ بے سوال ہے

 

نظم

 

(اس نظم میں دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

ہے یہ کمالِ فن کہ تجسس بھی ہے بہت
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!

 

یہ عذر خواہ لب کہ ہے ہشیار بھی بہت
اور چاہتا بھی ہے کہ وہ تاویل پا سکے
اور دیکھ سکے کون سا پردہ ہے درمیان
مخفی ہے جس کے پیچھے وہ آئینہ ٔ معاد
جو اس کو ‘انت کال’ سے آگاہ کر سکے
‘فرداودی کا تفرقہ’ یک دم مٹا سکے
کل کے طلوع ہونے سے کچھ قبل یہ جواب
گر اس کو مل سکے تو وہ ‘پرواز’ کے لیے
قدر وقضا کے ہاتھ میں اپنی عنان دے!!!

 

رحمت ہو مجھ پہ ،میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب کمال ہے!!
Categories
شاعری

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال
ہیں ورَق گردانی ٔ نیرنگِ یک بُت خانہ ہم

 

محفلیں: اجماع، تقریبیں،نشستیں، دعوتیں
عام مجمع؟ خاص مجلس؟ حلقہ ٔ احباب؟ جلسہ؟
کس جگہ پر؟
مندر و مسجد؟ کلیسا ؟
کوئی چوراہا؟ گلی؟ گھر؟ گھر کی بیٹھک؟
جی نہیں! جائے وقوعِ طائفہ باہر نہیں ہے۔۔۔
ذہن میں ہے!

 

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ “خیال”
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !

 

اور جب بھی
بے خطا، بے داغ، صالح، بھولا بھالا
شاعرِ محمود غالبؔ
واحد و یکتا خدا کی فردیت کو
سینکڑوں رنگوں میں ڈھلتے دیکھتا ہے
اور اس نیرنگی ٔ مشہود کو پہچانتا ہے
(تب یہی اک فکرِ فی نفسہ)
زاہدِ سالوس، جوئے باز اس کو
اس ‘ورق گرادنی ٔ نیرنگِ یک بت خانہ’ سے
محدوف کر دیتا ہے، یعنی
کثرت آرائی میں وحدت دیکھنے کی
اس کی عادت میں مخل ہوتا ہے ہر دم !
Categories
شاعری

کر گئی وابستہ ءِ تن میری عریانی مجھے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتمل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے
کر گئی وابستہ ءِ تن میری عریانی مجھے

 

نظم

 

بے لباسی من کی تھی یا تن کی؟، غالب، کچھ تو کہیئے
کیسی عریانی تھی یہ؟ سرمدؔ کی سی۔۔۔یا
‘نانگا سادھو’ کی جو اپنے
ننگے رہنے کو ’ریاضت‘، مانتا ہو؟

 

جسم تو آراستہ تھا آپ کا۔۔۔۔ پر
خوش لباسی سے مبّرا
جسم، کے اندر کہیں تھی
ایک انترآتما؟ سہمی ہوئی، ننگی بُچی سی؟

 

اور پھر وابستہءِ تن ہو کے خود کو ڈھانپنا
اس جوح، انتر آتماکی
اک نئے فاضل بدن میں
دخل یابی کی تمنا تھی بھلا کیا؟
مسئلہ آوا گون، ابداع یا کایا بدل کا
کیا کہیں تحت الشعوری رو میں بہتا
اور پھٹتا بلبلہ تھا
جس نے ایسے شعر کا چولا پہن کر
خود کو یوں ظاہر کیا تھا؟
جی نہیں یہ مانتا غالب، مبادا آپ پر بھی
بُدھّ کے رستے پہ چلنے کا کوئی الزام آئے!

 

ہاں، مگر “در پردہ گرمِ دامن افشانی” تو خود کو
“ڈھانپ” کر رکھنے کا بھی
اور “کھول” کر رکھنے کا بھی ایسا عمل ہے
جس کو ہم “گنجینہِ معنی” کہیں تو کیا غلط ہے!
Categories
شاعری

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع
گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

 

(اس نظم میں دو بحور کا اشتمال روا رکھا گیا)

 

نظم

 

موسیقیت ‘صدا’ بھی ہے اور راگ رنگ بھی
یہ ‘کُن’ کی صوت بھی ہے اور سکراتِ مرگ بھی

 

یہ “وہ صدا” ہے جس کی سماعت ہے جاں فزا
لے، تال ، سُرکی نغمگی، لفظوں کا ہیر پھیر
‘کن رس’ ہے، روح و جوع کا شیریں ملاپ ہے
ہو مرثیہ کہ حمدکہ سوز و سلام و نعت
اس کی اساس ‘گت’ ہو کہ ‘استھائی’ ہو کہ ‘کھرج’
ہو ‘لے’ میں یا ‘ولمپت’ و ‘مَدھ’، میں کہ ‘تال’ میں
اصناف میں ہو ‘دادرا’، ‘ٹھُمری’، کہ اک ‘خیال’
سب “ایک” ہیں کہ ان کی صدا “صرف” ایک ہے!

 

جو بھی ہو، یہ ’صدا‘ تو ہے لفظوں کا شعشعہ
کانوں میں رس کو گھولتی، “رس کھان”۔۔۔۔ سحر کار
ایسی صدا تو جان کے ابقا کی ہے دلیل
پھر کیوں نکلنے لگتی ہے آناً دمِ سماع
یہ جان مرے تن کے وجودی حصار سے؟

 

شاعر کا یہ سوال تو سیدھا ہے، صاف ہے
اس کا جواب بھی کوئی ٹیڑھا نہیں، جناب
غالب “خوشی میں مرنے (1) کا مضمون باندھ کر
شاید یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ فرق ہی نہیں
شعر و سخن کے ۔۔۔۔ اور موسیقی کے درمیاں!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1۔ کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
Categories
شاعری

نٹ راج

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نٹ راج

[/vc_column_text][vc_column_text]

اونچے بانسوں سے بندھی رسی
تنی، مضبوط، سیدھی
وقت کی دو ساعتوں کو جوڑنے والی
صراطِ مستقیم اس زندگی میں
یومِ پیدائش، حیات و زیست کا آغاز
یومِ آخرت، مرگ و نبود و نیست
اور ان کو منسلک کرتی ہوئی
رسی ۔۔۔ تنی، مضبوط، سیدھی!

 

اس تنی رسی پہ ننگے پائوں وہ جم کر کھڑا ہے
لڑکھڑاتا، ڈولتا، کچھ کچھ سنبھلتا
اک نظر پیچھے کی جانب دیکھتا ہے
عمر کی لمبی مسافت میں صراطِ مستقیم اب
نصف سے زائد تو شاید
یہ قدم طے کر چکے ہیں
کتنی دوری اور باقی ہے؟
وہ خود سے پوچھتا ہے

 

بھولا، بھالا، نا سمجھ بچہ ہی تھا، جب
اُس نے چلنا سیکھ کر پکی زمیں کو
اک حقارت کی نظر سے دیکھ کر ٹھکرا دیا تھا
اس نے کیوں یہ طے کیا تھا؟
“دوسرے سب لوگ رسی پر نہیں چلتے
تو میں کیوں چل رہا ہوں؟”
پوچھتا ہے خود سے پھر اک بار ۔۔۔”آخر کیوں؟”

 

اپنے کرتب میں تماشا ہو، تماشائی نہیں ہو!
اس کے اندر کا یہ کرتب باز نٹ کہتا ہے اس سے

 

اور اس سچائی کو پہچان کر بھی
اپنے اندر کی حقیقت جان کر بھی
اک نظر پیچھے کی جانب دیکھ کر بھی
آج کا “نٹ راج” شاعر
خون بہتے ننگے پائوں پر پھسلتا
لڑکھڑاتا، ڈولتا، اور پھر سنبھلتا
خود سے اتنا پوچھتا ہے
“کتنی دوری اور باقی ہے؟”

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اللہ ہو سے عالمِ ہو تک

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اللہ ہو سے عالمِ ہو تک

[/vc_column_text][vc_column_text]

تہہ در تہہ پیچاک تھے مضمر اُس ایمائی گہرائی میں
اور میں اک پَیراک کھلندڑا، ہنس مکھ، چنچل،خوش، خنداں
ڈُبکی پیتا، غوطے کھاتا، لہروں سے ہم آغوشی میں شاداں، و فرحاں
کچھ بھی سمجھ نہ پایا اپنی کچی بلوغت کے برسوں میں
کیا گہرائی، کتنا عمق ہے اس پانی کی تہہ داری میں
جان نہ پایاسمک تلک جانے کا بھید بھرا رستہ

 

آٹھ دہائیاں اک اک ساعت قاش قاش کر کے کاٹیں
بیت گئی جو اوّلون تھی عمر تو اک دن یہ سوچا
سابقون سے آگے آج کے اس لمحے تک پہنچ گیا ہوں
پیچھے مُڑ کر دیکھوں تو کیا کچھ کھویا، کیا پایا ہے

 

آگے شاید

 

سمک تلک جانے کا بھید بھرا رستہ بھی مل جائے
پرسوں نرسوں، چندے بعد مقّدرامکانی ہو شاید
ہو سکتا ہے مستقبل کے انت کال میں پاؤں رکھوں تو
دیر سویر، معاد، پسِ فردامیں ڈھل کر

 

آنے والا کل بن جائیں
ورتمان کے ’غیر حال‘ کو ’حال‘ بنا کر

 

میری کھوج کا حل بن جائیں

 

آٹھ دہائیاں جی چکنے کے بعد چلو یہ بھی اب سوچیں
کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے
قدر و قضا کے ہاتھوںمیں یہ اژ درِ موسےٰ

 

وقت کے پانی کو یوں چیرے
ماضی ،حال اور مستقبل ۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ تینوں
اپنے آپ میں کوزہ بھی اور کوزہ گر بھی
اپنے ہی پانی مٹی سے اک ساعت ایسی گھڑ لیں
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

جدید، جدیدیت اور مابعد جدیدیت

ادب اور جدیدیت

 

چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم ترقی پسند تحریک سے قدرے مختلف سمجھ کر ’نیا ادب‘ کا نام دیتے تھے اب ایک نئے دھارے میں بدل چکا ہے
گذشتہ برسوں کے کچھ رسائل اور کتب میں مشمولہ مضامینِ نظم و نثر کی ورق گردانی کریں تو اس خیال کا دل میں جاگزیں ہونا ضروری ہے کہ چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم ترقی پسند تحریک سے قدرے مختلف سمجھ کر ’نیا ادب‘ کا نام دیتے تھے اور جس میں راشدؔ اور میرا جیؔ دو معتبر نام تھے اور جس میں قدرے دیر سے مجید امجدؔ اور اختر الایمانؔ بھی شامل کیے جاسکتے تھے، اب ایک نئے دھارے میں بدل چکا ہے (اس بات کا اطلاق ہندوستان پاکستان دونوں ملکوں پر یکساں دکھائی دیتا ہے) اور اس دھارے کو ایک خود کار واٹر پمپ سے چلانے والوں نے ’جدیدیت‘ کا نام دیا ہے۔ اس کا نعم البدل انگریزی میں کیا ہو سکتا ہے، کم از کم میرے پاس تو اس کا جواب نہیں ہے۔ یقیناً یہ تحریک وہ نہیں ہے، جسے فرانس میں، انیسویں صدی کے اختتام پذیر ہونے کی مناسبت سے fin-de-sie’cle فانت سیئکل کہا گیا تھا، یا انگریزی میں modernism یا modernityکا نام دیا گیا تھا۔ ہم جس ’جدید ادب‘ کو مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، اس کی ابتدا کا لیکھا جوکھا ہم انگریزی میں امیجسٹ پوئٹری کے پہلے دور (اؑایذرا پاؤنڈ اور اس کے ساتھیوں) سے شروع کرتے ہوئے دوسرے دور (ایلیٹ اور اس کے پیچھے آنے والے شعرا) تک جاتے ہیں اور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے درمیانی وقفے تک پہنچ کر اسے ختم کر دیتے ہیں۔ “ختم” شاید ایک غلط لفظ ہے، کیونکہ ’امیجزم‘ کی جس شرطِ اول سے یہ تحاریک شروع ہوئی تھیں، اس دورانیے میں کسی نہ کسی صورت جاری و ساری تو رہیں لیکن اسلوب سے قطع نظر۔۔۔ (ایک) موضوع اور مضمون کی سطح پر تشکیک،(دو) بے سمتی،فرار، فرد کی تنہائی کا احساس، (تین) فرد کی داخلی “لا فردیت”، اور (چار) زمانہءِ حال سے بے زاری۔۔۔ ایسے در آئے کہ امیج خارجی منظر نامے کو ترک کرنے کے بعد، موضوع اور مضمون کی مناسبت سے ایک سے زیادہ جہتیں قبول کرتا ہوا ذہنی ہوا خوری کو نکل گیا۔

 

دوسری جنگِ عظیم کا دورانیہ چھہ برسوں کا تھا اور ان برسوں میں جو ادب تخلیق ہوا، وہ کوئی الگ حیثیت نہیں رکھتا لیکن جنگ کے فوراً بعد بے زمینی، غریب الوطنی، (جنگ کے سیاق میں) دہشت، بے حوصلگی، اضطرار، غیر محفوظیت، لا یعنیت اور مہملیت کا دور دورہ رہا۔

 

کوئی بھی ادبی مورخ یہ سطریں لکھتے ہوئے یقیناً یہ محسوس کرے گا کہ اردو میں وارد “جدیدیت” ایک حد تک تویورپ کے اس دور سے تعلق رکھتی تھی جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد معرضِ وجود میں آیا اور دوسری حد تک یہ اس بے سمتی کی غماز تھی جو Theatre of the Absurd یا Beat Generation یا پھر Magical Realism کے گروہوں میں دکھائی دیتی تھی۔ “لا معنویت کا تھیئٹر”absurd کا یہی معنی اب تسلیم کیا جا چکا ہے) البیئر کامو Albert Camus کے حوالے سے یا یوجِین آئیونیسکو کے حوالے سے ایک اصطلاح کے طور پر مارٹن ایسلِن Martin Esslin نے پہلی بار استعمال کی۔ اس سلسلے کی معتبر ترین ہستی سییموئل بیکٹ Samuel Beckett ہے جس کے ہاں Modern, Postmodern & Absurd تینوں تحاریک قطار اند ا قطار دکھائی دیتی ہیں۔

 

اردو ادب میں جدیدیت

 

اردو میں ‘جدیدیت’ اوّل اوّل تو ترقی پسند تحریک کے ردِّ عمل کے طور پر انڈیا میں وارد ہوئی۔
اردو میں ‘جدیدیت’ اوّل اوّل تو ترقی پسند تحریک کے ردِّ عمل کے طور پر انڈیا میں وارد ہوئی۔ اسے تاریخی استدلال کی سطح پر، ‘قبولِ عام’ کی بجائے ’قبولِ خاص’ کے طور پر شناخت دینے میں شمس الرحمن فاروقی نہ صرف پیش پیش رہے، بلکہ اس کی سرپرستی اور رہنمائی کا بیڑا بھی انہوں نے اٹھایا۔ ایک قائد اور قانون گو کی طرح انہوں نے تحریک کو اس کے تاریخی کردار سے آگاہ کیا۔ ان کی ادارت میں چھپنے والا جریدہ “شب خون” تحریک سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے میں پیش پیش رہا۔ یہ کریڈٹ فاروقی صاحب کو ہی جاتا ہے کہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ چند ایک پرانے اہل قلم کو چھوڑ کر ہر نئے لکھنے والے نے ’جدید‘ کہلوانے میں فخر محسوس کیا۔۔۔۔۔۔ لیکن تحریک اور تنظیم میں بہت فرق ہے۔ ترقی پسند تحریک ایک تنظیم کی زیرِ قیادت کام کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ منٹو کو “ذات باہر” کرنے میں بھی ایک قرارداد کی ضرورت پیش آئی تھی۔ کئی چھُٹ بھَیّے (“شاہراہ” کے پرکاش پنڈت کی مثال اظہر مِن الشمّس ہے، جو خود کو اردو کا چیخوفؔ لکھا کرتے تھے!) آرگنائزیشن کے کندھوں پر بیٹھ کر خود کو “نو گزا فقیر” سمجھنے لگے تھے۔ جدیدیت کی تحریک بنیادی طور پر قلم کی آزادی کی محرک تھی اور Organisational control کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن ہوا یہ کہ چند برسوں میں ہی انارکی اور انتشارنے اندرونی خلفشار کے طور پر اس تحریک کو گھُن کی طرح چاٹنا شروع کر دیا۔ زبان کی شکست و ریخت شروع کی گئی تو لسّانیات کے سب اصول بالائے طاق رکھ دیے گئے۔ افسانوں میں کردار تحلیل ہوا، وقت کی یک سمتی رفتار کو شعوری رو کے زیر اثر Forward to the Past یا پھر Back to the Future کر دیا گیا۔ امیج پیٹرن، جس میں سب سے زیادہ Organic Unity کی ضرورت تھی، ایک لا یعنی “کولاج” کی صورت میں بدل دیا گیا۔ فاروقی صاحب کو دوش دینا غلط ہے۔ وہ ایک نقّاد تھے، رہنما تھے، منتظم نہیں تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان ‘زیادتیوں’ کا جو ادب کی مختلف اصناف کے ساتھ اور زبان کی سلیقہ مندی کے ساتھ روا رکھی گئی تھیں، نوٹس لینے پر بھی وہ کچھ نہ کر سکے اور پھر، بوجوہ دیگر بھی، یہ تحریک ایک شوریدہ سر دریا سے کم ہوتے ہوتے ایک مضمحل نالے کی طرح بہنے لگی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مابعد جدیدیت

 

بیکٹؔ نے موضوع سے زیادہ ’فارم‘ اور اسلوب کی طرف توجہ مبذول کی۔ جب 1969میں اسے نوبل پرائز سے نوازا گیا تو وہ Meta-literary تجربات کے لیے تیار تھا۔ انہی تجربات سے مملو اس کی زندگی کی آخری تحریر Stirrings Still تھی۔ اس میں بیکٹ نے ڈرامہ، فکشن اور شاعری کے درمیان حدودِ فاصل کو ملیا میٹ کرتے ہوئے (اپنی دانست میں) ایک نئی صنفِ ادب ایجاد کرنے کی سعی کی۔ لیکن نتیجہ جو برآمد ہوا وہ خاطر خواہ نہیں تھا۔ یہ تحریر اس کی پرانی تحریروں کی صدائے باز گشت بن کر رہ گئی اور نقادوں نے اسے substance کی جگہ پر shadow کہا۔ پھر بھی یہ بات مسلّم ہے کہ بیکٹ “پوسٹ ماڈرنزم” کا جنم داتا ہے۔ فکشن کے بارے میں Jean-Francois Lyotard یاں فرنسائے لیوتارد کی دو نئی اصطلاحیں معرض وجود میں آئیں۔ انہیں Meta-narrative اور Little Narrative کہا گیا۔

 

Beat Generation ایک امریکی اصطلاح ہے اور اسے جیک کیروایک Jack Kerouacنے رواج دیا۔ یہ اس دور کی امریکی جوان نسل کے لا سمت سفرِ زندگی کو موسیقی کی اصطلاح beat یعنی رقص کی ‘دما دم دم’ سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کی لا یعنی صوتی تکرار کا استعارہ ہے۔ میں جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہوں مجھے یہ شعر یا د آ جاتا ہے۔

 

بیا جاناں، تماشہ کن، کہ در انبوہِ جانبازاں
بصد سامانِ رسوائی، سرِ بازار می رقصم

 

اردو میں پوسٹ ماڈرنزم کا صحیح متبادل کب منصہ شہود پر آتا ہے، ا س کے لیے شاید سالہا سال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہ پڑے
جن شخصیات یا واقعات نے تاریخ وار اس منظر نامے کو ترتیب دیا، اس میں 1953ء کے دوران Waiting for Godot کی اسٹیج پر پروڈکشن ہے، 1956 میں Howl کی اشاعت، 1959ء میں Naked Lunch کی اشاعت، اور 1969میں دریداؔ Jacques Derrida کا تاریخ ساز لیکچر ہے، جو اس وقت کی تنقیدی تھیوریوں کو چیلنج کرتا ہے۔ اس لیکچر کا عنوان ہی اپنے آپ میں معنی خیز تھا۔ Structure, Sign and Play کے عنوان سے اس لیکچر کے سینکڑوں ڈرافٹ تیار ہوئے اور اس پر رائے زنی میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور اخباروں کے مبصروں نے حصہ لیا۔

 

اردو ادب میں مابعد جدیدیت

 

اردو میں پوسٹ ماڈرنزم کا صحیح متبادل کب منصہ شہود پر آتا ہے، اس کے لیے شاید سالہا سال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہ پڑے، کیوں کہ جدیدیت کی تحریک میں وہ عناصر بھی شرکت فرما چکے ہیں، جو غزل جیسی سکّہ بند صنف میں بھی اس قسم کے مصارع یا اشعار کہتے ہیں اور اپنی دانست میں “جدید” سے ایک قدم آگے “جدید تر” ہونے کا ثبوت دیتے ہیں!۔ (درج ذیل اشعار میں شعرا کے اسمائے گرامی بوجوہ حذف کر دیے گئے ہیں۔)

 

ع۔۔۔ سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
؂ بکرا مَیں مَیں کرتا ہے
بکری منمناتی ہے
؂ کچھوی کے پیٹ میں تھا بہت دردِ زہ، جناب
مرغے کی بانگ سنتے ہی انڈے نکل پڑے
؂ اے دردِ بے لباس، چلو اسپتال میں
شاید کہ کوئی نرس ہی تجھ پر پھسل پڑے
؂ ایڑی اٹھی تو چوٹی تک اٹھتی چلی گئی
ہم سر پہ پاؤں رکھ کے جو بھاگے تو دم لیا
؂ میری بھّدی ناک پر نقشہ تو ہے، مکھّی نہیں ہے
خود اُڑوں؟ نقشہ بناؤں، کیا کروں میں؟ تم بتاؤ
؂ بند ہی رہتا تو خوشبو کا کوئی امکاں نہ تھا
گانٹھ سا غنچہ تھا، چاقو سے جو کاٹا، کھِل گیا

 

باقر مہدی کی ایک نظم جو انہی دنوں شائع ہوئی تھی، اس طرح شروع ہوتی ہے۔

 

اب موصوف رحلت فرما چکے ہیں
بلب جلا کر انگلی کاٹی
نیلے خون سے نظمیں لکھیں

 

میرا جی کی کتاب “اس نظم میں” بہت پہلے چھپ گئی تھی اور عملی تنقید کے کچھ معمولی نمونوں پر مشتمل تھی لیکن اس نے بہر حال ایک نئی راہ دریافت کی اور اپنے پیچھے آنے والوں کی رہنمائی کی۔
بمبئی کی ایک ادبی نشست میں موصوف نے ایک استفسار کے جواب میں کہا، (رپورٹ ایک روزانہ اخبار کے ادبی کالم میں چھپی)، کہ بلب جلانے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا وقت تھا اور بلب بجھانے کے وقت کمرے میں اندھیرا تھا اور یہ کہ شاعر کو اگر نیند نہ آئے تو وہ کیا کرے گا؟ نظمیں ہی تو لکھے گا۔ انگلی کاٹنے کا استعارہ ہمہ جہت ہے۔ سیاہی نہ ہو تو خون سے ہی لکھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک ترقی پسند شاعر یہ کہہ سکتا ہے، “کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے!” تو ایک “جدیدیت پسند” شاعر یہ کیوں نہیں کہہ سکتا، کہ نیلی روشنائی میسّر نہیں تھی، اس لیے اپنی انگلی کاٹی اور نیلا خون وافر مقدا میں اکٹھا کر لیا جس سے کہ نظم لکھی جا سکے۔ یعنی دوات سوکھی پڑی تھی، اسے نیلے خون سے بھر لیا۔ یہ بھی استعارے کا ایک پہلو ہے کہ فاؤٹین پَین خریدنے کی مالی پوزیشن میں شاعر نہیں تھا۔ انگلی کاٹنے کی جہت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ترقی پسند شاعروں کے پاس (اگر ان کی متاعِ لوح و قلم چھِن گئی تو) انگلیاں تو بہر حال تھیں۔ ہمارے پاس تو ما سوا انگلی کاٹنے کے لکھنے کا اور کوئی وسیلہ بھی نہیں ہے۔

 

پڑھ کر کچھ ہنسی بھی آئی اور کچھ افسوس بھی ہوا۔ ادبی نامہ نگار کی اپنی رگِ ظرافت پھڑکی تھی یا اسے موصوف سے کوئی بدلہ چکانا تھا کیوں کہ اس نے مزے لے لے کر، دم دے دے کر، ایک ایک مصرعے پر رائے زنی کی تھی۔۔۔۔

 

پاکستانی ادب، آمریت اور جدیدیت

 

اوپر جو کچھ بھی لکھا گیا ہے، وہ انڈیا کے حوالے سے تو امرِ واقع ہے، صد فی صد درست ہے، لیکن پڑوسی ملک پاکستان پر اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ 1965ء کی جنگ کے بعد چونکہ دونوں ملکوں کے مابین ڈاک کے ٹکٹوں کی پرانی دروں پر رسالوں اور کتابوں کا آناجانا بند ہو گیا تھا اور لفافہ بند خطوط کو بھی اب سینسر کی چھلنیوں سے گذارا جانے لگا تھا، (فون ویسے ہی دستیاب نہیں تھا!) اس لیے گذشتہ نصف صدی میں اردو ادب پر جو کچھ وہاں بیتی، عسکری آمرانہ دورانِ حکومت کے دو یا تین دورانیوں میں جو کچھ اہلِ قلم پر گذرا، کون کون کال کوٹھری میں بند ہوئے، کن کن کے خلاف مقدمے چلائے گئے، کون کون کھُلی منڈی میں آمروں کے ہاتھوں بِک گئے اور سرکاری عہدوں، انعاموں اور ایوارڈوں کو اپنے سینوں پر سجا کر بیٹھ گئے، اس کا پتہ پاکستان میں تو سب کو چلتا رہا، لیکن انڈیا کے اردو ادیبوں، شاعروں اور قارئین کی اکثریت اس سے بے بہرہ ہی رہی۔بہر حال اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے کچھ پیچھے جانا ہو گا۔

 

میرا جی کی کتاب “اس نظم میں” بہت پہلے چھپ گئی تھی اور عملی تنقید کے کچھ معمولی نمونوں پر مشتمل تھی لیکن اس نے بہر حال ایک نئی راہ دریافت کی اور اپنے پیچھے آنے والوں کی رہنمائی کی۔ وزیر آغا بھی فعال تھے اور ‘اوراق’ کے علاوہ ہر برس ان کی کوئی نہ کوئی نئی کتاب چھپ جاتی تھی۔ ان کی “نظم جدید کی کروٹیں” چھپ چکی تھی۔ یہ نظم جدید کے تنقیدی ادب میں ایک اچھا اضافہ تھا۔ انڈیا میں ڈاکٹر حامدی کاشمیری نے اپنی کی کتاب “جدید اردو نظم اور یورپی اثرات” 1968 میں شائع کی تھی۔ یہ تینوں کتابیں جس طرح جدید نظم کے کچھ گنتی کے شعرا کا جائزہ لیتی ہیں، ان سے معاصر پاکستانی اردو ادب پر انڈیا کی زیر بحث “جدیدیت” کی تحریک کے مثبت یا منفی اثرات کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔
لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ پاکستانی ادب پر اس کے اثرات سرے سے مرتب ہی نہیں ہوئے۔ انڈیا کی اپنی حدود میں ہی مقید ہو کر رہ گئے۔ اگر bits & pieces کی شکل میں(انیس سو ساٹھ سے آج تک، یعنی نصف صدی میں “زمان” کی سطح پر) اور (کراچی، لاہور، پنڈی۔اسلام آباد، یعنی تینmetropoltan ادبی مرکزوں کی “مکان” کی سطح پر)یہ اثرات وارد بھی ہوئے تو دب کر رہ گئے۔ قصہ کوتاہ یہ کہ by and large پاکستان اس بدعت سے بچ گیا جو انڈیا میں بوجوہ (گروپ بندی ایک وجہ تھی، لیکن کچھ اور بھی تھیں) در آئی تھی۔

 

جیل کی اسیری تو صرف چند اہلِ قلم کو ہی میسّر ہوئی لیکن ایک یا دو پوری نسلیں زنداں، محبس، قفس، زنجیر، ہتھکڑی، بیڑی، قدغن، وغیرہ کے باصری استعاروں سے کام چلا کر غزلیہ یا نظمیہ ادب تخلیق کرتی رہیں۔
پاکستان کی صورت حال کے بارے میں یہ لکھ کر ادبی مورخ عہدہ برا تو ہو سکتا ہے لیکن اس کے پاس اس وقت اس امر کے ثبوت کے لیے کوئی بھی سند نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ بہر حال historical hindsight کے طفیل کسی بھی محقق کو یہ علم ہو سکتا ہے کہ اس کی دو یا تین وجوہ صریحاً دیکھی جا سکتی ہیں۔ایک تو عسکری (یا سِویلین بھی!) آمرانہ ادوار میں شاعر کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ ترسیل کی سطح پر اگر صاف صاف نہ بھی لکھا جا سکے تو غزل کے پرانے، بارہا آزمودہ، استعاروں سے کام چلا کر جبر و تحدید و اکراہ کی مذمت کی جائے۔ جیل کی اسیری تو صرف چند اہلِ قلم کو ہی میسّر ہوئی لیکن ایک یا دو پوری نسلیں زنداں، محبس، قفس، زنجیر، ہتھکڑی، بیڑی، قدغن، وغیرہ کے باصری استعاروں سے کام چلا کر غزلیہ یا نظمیہ ادب تخلیق کرتی رہیں۔ انہیں وقت ہی نہیں ملا کہ وہ اس ذہنی عیاشی کو، اور نہ سہی، تو ’وقت کٹی‘ کا مشغلہ سمجھ کر ہی انڈیا کی جدیدیت کی تقلید کریں۔ پاکستان میں اسProtest Literature کو کئی نام دیے گئے۔ لیکن سب سے زیادہ موزوں نام شاید “مزاحمتی ادب” تھا۔ پرانے ترقی پسندوں میں جن لوگوں نے بڑھ چڑھ کر لکھا ان میں فیض تو تھے ہی، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، جوش، جون ایلیا، جوہر میر، خاطر غزنوی، تاج سعید، ظہیر کاشمیری (بہت سے نام بھول گیا ہوں) وغیرہ بھی شامل تھے۔ ساقی فاروقی جیسے غیر سیاسی شاعر نے بھی ایک مختصر، مگر بھرپور نظم “سوگ نگر ” کے عنوان سے لکھی۔ یہ نظم راقم الحروف کو لندن میں ساقی نے سنائی بھی تھی اور آج تک اس کا اثر تازہ ہے

 

“چوک چوک خامشی کھڑی ہوئی
جس کے بند کان میں
ایک سبز خوف کے
سرخ زہر میں بجھی
زرد زرد بالیاں پڑی ہوئیں
خون پوش راستے
راستوں میں سولیاں گڑی ہوئیں
رات کے طلسم سے
لوگ اداس بھی نہ تھے
روشنی خیال کے آس پاس بھی نہ تھی۔۔۔۔

Image: Vassily Kandinsky

Categories
شاعری

اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ ‘یا رب’ ہا

 

نظم

 

قوافی ’رب‘ و ’تب‘، ‘مطلب’، ردیف اک صوت، یعنی ‘ہا’
عجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا
کہ ’یا رب‘ اِسمِ واحد ۔۔۔ اور ‘ہا’ اس پر
(برائے ‘جمع’ کردن ریزہ ہائے عنفی و عطفی)
چلیں ، اک عام قاری سا سمجھ کر خود سے ہی پوچھیں
کہ کیا “ربّ ہا” غلط العام ہو گا یا کہ “یا ربّ ہا”؟
کہ دونوں ہی غلط ہوں گے؟

 

چلیں چھوڑیں کہ ہم سب جانتے ہیں۔۔۔۔
اُس زمانے میں روایت ہی نہیں تھی
دونوں جانب ‘واؤ’ کے دو حرف یا “واوَین” لکھ کر
لفظ یا ترکیب یا جملے کو قلعہ بند کرنے کی!
چلیں چھوڑیں کہ ‘یا ربّ’ کو
فقط ‘یک صوت’ ہی سمجھا گیا ہے، یک نعرہ
کلمہِ تشہد!
تو “یا ربّ ہا” کو بالّسان ہی سمجھیں!

 

چلیں پیچھے؟

 

“اسدؔ کوبت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے”
یقیناً ہے!
مگر اک ’آشنائی‘ تک ہی رہتا یہ تعلق تو۔۔۔۔
یقیناً مان جاتے ہم
مگر اس پر اضافہ۔۔۔ ‘درد’ کا؟
‘درد آشنائی’؟ اور بتوں سے؟
کون بہتر جانتا ہے ایک قاری سے
کہ سچ کیا ہے، دروغِ نا روا کیا ہے!

 

“غرض” کو بھی ذرا دیکھیں
“غرض” ۔۔۔۔ تخفیف ۔۔۔۔ “غرضیکہ” کے لیے، شاید؟
چلیں، تسلیم۔۔۔۔۔
پر یہ لفظ در آیا ہے گویا بے سبب، بے معنی و مطلب!
کہ اس سے پیشتر اک شائبہ تک بھی نہیں ملتا
کہ کوئی بحث جاری تھی اسدؔ کے بت پرستی سے تعلق کی
کہ ‘غرضیکہ’ کے لیے شاعر کو تکیے کی ضرورت ہو!
“غرض” کی کیا غرض تھی یاں؟
کہو، ’بھرتی‘ کہیں اس کو؟
کہ یہ فاضل تو لگتا ہے کسی آگاہ قاری کو!

 

غلط ہے “نالہ ناقوس” ۔۔۔۔۔۔شاعر کو کوئی کیسے یہ سمجھائے
کہ اک ناقوس(یا اک ’شنکھ) کی آواز ہوتی تھی
لانے کے لیے بھگتوں کو مندر میں
خوشی تھی اس میں۔۔۔۔
کوئی رونا دھونا، نالہ کش ہونا نہیں مطلوب تھا
ناقوس کی آواز سے۔۔۔۔ یعنی
لڑائی میں سپاہی اک اسی آواز کو سن کر
ہی دھاوا بولتے تھے اپنے دشمن پر!
پجاری بت کدے کابھی وہی پیغام دیتا ہے
(پرستش کرنے والوں کو)
کہ آؤ، وقت ہے اب آرتی کا اِس شوالے میں
یہی مُلّا کا فرضِ اوّلیں ہے اُس کی مسجد میں۔۔۔۔
نمازِ با جماعت کا بلاوا، یااذاں آہنگِ شیریں میں!
تو گویا ‘نالۂ ناقوس’ میں ‘نالہ’
فقط اک غیر طلبیدہ اضافہ ہے !

 

نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ ‘یا ربّ ہا’
چلیں، ‘یا ربّ’ سے ‘ہا’ کو تسمہ پا کرنے پہ لے دے ہو چکی
اب مدعا اس شعر کا دیکھیں!

 

بہت ہیں بت پرستی کے حوالے غالب دیندار میں، لیکن
بلاغت اور طلاقت کا یہ اک نادر نمونہ، بے بدل مصرع
یقیناً سب پہ حاوی ہے!

 

“نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔” کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
ہزاروں پردہ ہائے صوت میں مخفی، مگر ظاہر
وہی آواز “اللہ ایک ہے”،(دُوجا نہیں کوئی!)

 

تو یہ ناقوس ہو۔۔۔۔۔۔ آواز بھگتوں کو بلانے کی
نمازِ با جماعت کے لیے میٹھی اذاں ہو۔۔۔۔
ایک ہی آہنگ ہے
اللہ کی توحید کا، لوگو!

 

(غالب کی فارسی غزل سے ماخوذ)
Categories
شاعری

ذرا بدلا ہوا لیکن وہی پہلے سا پاکستان

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ذرا بدلا ہوا لیکن وہی پہلے سا پاکستان

[/vc_column_text][vc_column_text]

ذرا بدلا ہوا لیکن وہی پہلے سا پاکستان
بہت کچھ اجنبی سا اور بہت کچھ جانا پہچانا
ذرا بدلا ہو ا لیکن وہی پہلے سا پاکستان
مجھے اپنے وطن سے عشق ہے، لوگو!
سہانی سردیوں کی صبح کو
ڈرتے جھجکتے، جھیل کے شفاف پانی سے
نئے سورج کا اُگنا روز کا معمول ہے اب بھی!

 

دھندلکوں سے ابھر کر
صبح کے انوار سے روشن ہوئے
مینار مسجد کے، بلالِ عہدِ حاضر
آج بھی راسخ ہیں، شیریں ہیں اذانوں میں!

 

دھڑکتے دل سے بستے کو اٹھائے
امتحان کے واسطے تیار
تازہ دم، کسی اسکول کا بچہ
ہتھیلی پر درخشاں قسمتوں کی ننھی مُنی سی لکیریں
میں اسے پہچانتا ہوں اپنے بچپن سے!

 

ڈرِل کا پیریڈ
پھولوں کے تختوں سی سجی
اپنی قطاروں میں کھڑی سب بچیاں اسکول کی
بالوں میں رنگیں تتلیوں جیسے رِبن باندھے ہوئے
کچھ شوخ چڑیاں سی
مری بیٹی بھی ان میں ہے!

 

براتیں، بینڈ باجے، دلہنوں کی ڈولیاں
ماؤں کی شفقت سے بھری آغوش میں پلتے
ہمکتے، دودھ پیتے، ننھے بچے
پھٹپھٹاتے سینکڑوں وھیلر، بسیں، کاریں
سجے سنورے ہوئے سب ٹرک
صدائیں خوانچے والوں کی
گھروں کے آنگنوں میں آم
امرودوں کا جھرمٹ
دھوپ میں رّسی سے لٹکے
سوکھتے کپڑوں سے اٹھتی بھاپ
ساری گھر، گرہستی، بھائی، رشتہ دار
شعر و شاعری، اخبار
یاروں دوستوں سے چائے خانوں میں ملاقاتیں
لطیفے، چٹکلے، باتیں!
بہت کچھ اجنبی سا۔۔۔۔۔ اور بہت کچھ جانا پہچانا
ذرا بدلا ہوا لیکن وہی پہلے سا پاکستان
مجھے اپنے وطن سے عشق ہے، لوگو!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

ہے وہی بد مستیءِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ
جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

 

الفاظ کی فہرست

 

عذر خواہی: حیلہ جوئی، ادعا، کچھ لیپا پوتی
عذر : عذرِ لنگ بھی، تلبیس بھی، تحریف بھی، اور
عذر:کج فہمی، غلط تشریح، ژولیدہ جُگَت، جھوٹا بہانہ!

 

نظم

 

کیسی یہ
تلطیف ہے ؟ اس استعارے کا اشارہ کس طرف ہے؟
کیا ہے وہ ؟ (یا کون ہے؟) ’’ذرّہ‘‘ کہ جس کی
داستاں بد مستیوں کی ایسے دہرائی گئی ہے
جیسے ہر کوئی اسے پہچانتا ہو!

 

ذرّہ، یعنی رائی بھر اک جسمیہ،اک برقیہ، ریزہ، تراشہ
اربوں کھربوں کے تعدد میں فقط اکلوتا خلیہ
ذرّیت، احفاد، آل اولاد، وارث ۔۔۔۔
سلسلہ موروثیت، ابنِ فلاں، ابنِ فلاں
اک فرد، یعنی آب و خاک و ریح کا پُتلی تماشا!

 

کیسی ہیں بدمستیاں یہ؟ جن کی خاطر
عذر خواہی اہم ہے اس کے لیے جو
جلوہ گر خود ہے زمیں تا آسماں ۔۔۔۔۔
جس کا ظہورہ قطعی، بیّن تو ہے پر اشہر و واضح نہیں ہے!
یہ سناتن، جاودانی، امر روپی دائمی اللہ ہے جو عذر خواہ ہے
اِس بشر، پل چھن کے باسی، آدمی کی
شیطنت کا، ناروا بد مستیوں کا!

 

کیوں بھلا؟ پوچھیں براہِ راست غالبؔ سے ہی
آخروجہ کیا تھی؟
اس لیے شاید کہ اس’بد مست‘ کا خالق وہی ہے
“جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے”
غفران کا عادی ہے جو۔۔
اور مغفرت جس کا طریقِ کار ہے۔۔۔۔
پر یہ بشارت
جانے کیوں گنجینہِ معنی کا مالک
غالبِ لفّاظ شاید دیتے دیتے رُک گیا ہے