بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

ستیہ پال آنند: بے تصنع، سادہ دل، وہ اگر سمجھتا ہے
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

ستیہ پال آنند: میں ایک نا خواندہ شخص
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”

ستیہ پال آنند:یہ یادگار میرے ہی سجدوں کی ہے، حضور
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
عافیت کہاں ہے؟

ستیہ پال آنند:آؤ، واپس گھروں کی طرف رُخ کریں
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!
بائی زنبِ قُتلَت

ستیہ پال آنند: اک سر جو معلق ہے سوا نیزے پر
اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا
اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا
کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!

ستیہ پال آنند: ہے یہ کمالِ فن کہ تجسس بھی ہے بہت
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال

ستیہ پال آنند: محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ “خیال”
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !
کر گئی وابستہ ءِ تن میری عریانی مجھے

ستیہ پال آنند: جسم تو آراستہ تھا آپ کا۔۔۔۔ پر
خوش لباسی سے مبّرا
جسم، کے اندر کہیں تھی
ایک انترآتما؟ سہمی ہوئی، ننگی بُچی سی؟
خوش لباسی سے مبّرا
جسم، کے اندر کہیں تھی
ایک انترآتما؟ سہمی ہوئی، ننگی بُچی سی؟
جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع

ستیہ پال آنند: موسیقیت ‘صدا’ بھی ہے اور راگ رنگ بھی
یہ ‘کُن’ کی صوت بھی ہے اور سکراتِ مرگ بھی
یہ ‘کُن’ کی صوت بھی ہے اور سکراتِ مرگ بھی
نٹ راج

ستیہ پال آنند: اس تنی رسی پہ ننگے پائوں وہ جم کر کھڑا ہے
لڑکھڑاتا، ڈولتا، کچھ کچھ سنبھلتا
اک نظر پیچھے کی جانب دیکھتا ہے
لڑکھڑاتا، ڈولتا، کچھ کچھ سنبھلتا
اک نظر پیچھے کی جانب دیکھتا ہے
اللہ ہو سے عالمِ ہو تک
ستیہ پال آنند: اپنے ہی پانی مٹی سے اک ساعت ایسی گھڑ لیں
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!
جدید، جدیدیت اور مابعد جدیدیت

ستیہ پال آنند: ہوا یہ کہ چند برسوں میں ہی انارکی اور انتشارنے اندرونی خلفشار کے طور پر جدیدیت کی اس تحریک کو گھُن کی طرح چاٹنا شروع کر دیا۔ زبان کی شکست و ریخت شروع کی گئی تو لسّانیات کے سب اصول بالائے طاق رکھ دیے گئے۔
اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

ستیہ پال آنند: نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔” کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
ذرا بدلا ہوا لیکن وہی پہلے سا پاکستان

ستیہ پال آنند: دھڑکتے دل سے بستے کو اٹھائے
امتحان کے واسطے تیار
تازہ دم، کسی اسکول کا بچہ
ہتھیلی پر درخشاں قسمتوں کی ننھی مُنی سی لکیریں
میں اسے پہچانتا ہوں اپنے بچپن سے!
امتحان کے واسطے تیار
تازہ دم، کسی اسکول کا بچہ
ہتھیلی پر درخشاں قسمتوں کی ننھی مُنی سی لکیریں
میں اسے پہچانتا ہوں اپنے بچپن سے!
جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے