جنم سے چتا تک

’’میں نے پہلی بار یہ منظر تبھی دیکھا تھا جب جب رتھ بان نے مجھ کو بتایا تھا کہ مُردہ جسم کے انتم چرَن کی یاترا میں اُس کو اگنی کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ تب اک بار پھر اس جسم کے تینوں عناصر، مٹّی، پانی اور ہوا چوتھے سے، یعنی آگ سے […]
قتل گاہیں (ایک ٹیلی ڈاکیومنٹری)

کورس : chorus: دو مرد، دو عورتیں راوی ایک : کیمرہ رولنگCamera rolling راوی دو : کیمرہ ذوُم Camera zoom ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کورس : وہ لاشیں جن کو شمال مغرب سے آنے والے ہلاکوؤں نے یہیں کہیں، اس زمیں میں دفنا دیا تھا۔۔۔ سوچا تھا، اب قیامت تلک یہ زیر زمیں رہیں گی ۔۔۔۔۔ وہ پھوٹ […]
طبیب بھنبھنا گیا (ستیہ پال آنند)

فَتَکلّمُواَ تُعرَفُوا کلام کرو تا کہ پہچانے جاؤ۔۔۔۔۔۔ حٖضرت علی کرم اللہ وجہہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طبیب بھنبھنا گیا میں سب علاج کر کے تھک گیا ہوں، پر یہ بچہ بولتا نہیں زبان اس کی ٹھیک ٹھاک، تندرست ہے کہیں بھی کوئی رخنہ، کوئی نقص ہو یہ میں نہیں سمجھ سکا بدن بھی تندرست ہے مگر یہ […]
مجھے نہ کر وداع

ستیہ پال آنند: مجھے اٹھا
مجھے گلے لگا
نہ کر وداع، میری ذات آج
الٹے رُخ کی یہ صلیب
میں نے اپنے کندھوں سے اتاردی !!
جو شیطانچے بند صندوق میں ہیں

ستیہ پال آنند: فقط ایک رستہ اُسے سُوجھتا ہے
کہ خود اپنی گردن بُریدہ کرے۔۔۔۔۔
گرڑ پُران

ستیہ پال آنند: گرڑ پُران کا لیکھک تم کو سمجھاتا ہے
اپنا لیکھا جوکھا اب تم خود ہی کر لو
نظم کیا ہے؟

ستیہ پال آنند: سچی تخلیق کا دار و مدار فہم، شعور، عقل و دانش پر نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی کو بھی چِت یا بودھ نہیں چاہیے، قوائے فکر و فطانت کی ضرورت نہیں، صرف خدا داد حسیت پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے
وندنا (التماس-مناجات)-روی شنکر

سانوریا تو روٹھ گئے ہیں، بولت ناہیں
روٹھ گئے ہیں سانوریا تو، بولت ناہیں
ویگنر کے اوپَیرا سے ماخوذ

دور سامنے
!سورج کو اُگتے دیکھو تو
اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر
سر کو جھکانا
پھر دھیرے سے کہنا ۔۔۔ میں اب چلت پھرت ہوں
اب یہ دھرتی آپ کی ہی دولت ہے، سوامی
موزارت سوناتا نمبر11

انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!
آپ کا نام پکارا گیا ہے

میں بھی اس دھند کا کمبل اوڑھے
سر کو نیوڑھائے ہوئے بیٹھا ہوں
اندھوں کی نگری

یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!
عشائے آخری کا ظرفِ طاہر ڈھونڈتا ہوں میں

کہ تاریکی میں کوئی اک ستارہ ہی
عشائے آخری کا ظرف طاہر ہو
متاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلوم

رہائی اس سے فقط مرگِ مفاجات میں ہے!
سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

اس کی خود اپنی ہی تخلیق ہے، جس میں ہر جا
وہی یکتا ہے کہ جو آئینہ سیما بھی ہے
اور خود اپنا نظارہ بھی وہی کرتا ہے