کائناتی گرد میں عریاں شام۔۔ نفسیاتی مطالعہ

ظہیر احمد ظہیر: انسانی زندگی کا ہر دور ایک نفسیاتی دور ہے جہاں اس کے جسم میں مختلف جنسی تحرکات پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے، تو جسم کے مختلف حصے ایک مخفی احساس محرومی یا آسودگی کے لحاظ سے اہمیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔
قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

چاروں جانب اُمڈی تاریکی میں
ہم کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟
یہ وطن ہنسی کی گود نہیں
کسی قاتل کا وحشی بدن ہے
ہم کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟
یہ وطن ہنسی کی گود نہیں
کسی قاتل کا وحشی بدن ہے
شاعری ہر جگہ موجود ہے، بس اسے دریافت کرنا پڑتا ہے

اگر آپ چاہتے ہیں کہ جدید نظم میں آج کی زندگی کے تضادات، مشکلات، تعقلات، الجھنیں اور کثیر جہتی سچائیاں پیش کی جانی چاہئیں، تو پھر نظم سیدھی سادی نہیں ہو سکتی۔
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

اگر ترے سینے کی گولائیاں
گوتم کےَ سر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
گوتم کےَ سر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
گلشن پارک میں ایسٹر

کتنی آوازیں روزانہ تمہیں بلاتی ہیں
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے
آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر ،کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر ،کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے
آ ہم جسموں کا روزہ افطار کریں
آ ہم جسموں کاروزہ افطار کریں
کائناتی گرد میں عریاں شام
اردو شاعری کے لیے یہ بات ایک نیک شگون ہے کہ شعراء کی نئی پود کافی حد تک غزل بمقابلہ نظم کے “موازنہ٫ انیس و دبیر” سے باہر آ گئی ہے اور نظم، اپنے نت نئے اسلوبیاتی تجربات کے ساتھ، غزل کی ساکھ کو متاثر کیے بغیر نئی تخلیقی آوازوں کے ہاں اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑی ہے۔