Laaltain

جدید، جدیدیت اور مابعد جدیدیت

ستیہ پال آنند: ہوا یہ کہ چند برسوں میں ہی انارکی اور انتشارنے اندرونی خلفشار کے طور پر جدیدیت کی اس تحریک کو گھُن کی طرح چاٹنا شروع کر دیا۔ زبان کی شکست و ریخت شروع کی گئی تو لسّانیات کے سب اصول بالائے طاق رکھ دیے گئے۔

جوتے بہت کاٹتے ہیں

ابرار احمد: اس جگہ شہر تھا
اور سیٹی بجاتے ہوئے نو جواں
اس پہ اتری ہوئی
رات سے یوں گزرتے
کہ جیسے یہی ہو گزرگاہِ ہستی
اسی میں کہیں ہو سراغ تمنا —

بچپن کی سماعتیں

نصیر احمد ناصر: بچپن کی سنی ہوئی آوازیں
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!

روزنامچہ

قاسم یعقوب:
مکتبوں ،دانش کدوں سے زندگی کے فلسفے پرمشتمل
جھوٹی کتابیں پڑھ کے آنا
موت کو آسان کرنے کے جتن کرنا

جہنم

عذرا عباس-
سب کہتے ہیں
مجھے جہنم میں رکھا جائے گا
کہیں میں جنت کی عورتوں کو خراب نہیں کردوں

تم عورت سے باہر نہیں آ سکتے

تمہاری آنکھیں سنبھال سکتی ہیں
دنیا بھر کی بے لباسی
اور۔۔۔ تمہارے ہاتھ کی لکیریں منسوب ہو سکتی ہیں
فحش اشارے والی بالکونیوں سے
تم اپنے جسم کے مسئلے پر
خدا سے دوبارہ مذاکرات کر سکتے ہو

ماروی + سرمد اور تم

مجھے میری ناف سے نیچے دیکھنے والے
میری ناف کے پہلو میں میری کوکھ بھی موجود ہے

اس بڈھے کا وائرس

راوی کے کنارے
لاہور نام کا
ایک پاگل بیٹھا
اپنی منحوس رگوں میں
شہریلا انجکشن لگاتا ہے
اور دم بخود