ریت کے دیس میں

مصطفیٰ ارباب: ہم ایک جگہ سے معدوم ہوکر
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں
شاعری میں نے ایجاد کی

افضال احمد سید: کاغذ مراکشیوں نے ایجاد کیا
حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی
حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی
ایک خیال

احمد جاوید:
اب بالکل نیا تناظر ضروری ہے
اس نا دیدنی سے عہدہ برا ہونے کے لیے
ورنہ، دیکھنا ایک احمقانہ تصور ہے جسے
بس آنکھیں ہی مانتی ہیں
اب بالکل نیا تناظر ضروری ہے
اس نا دیدنی سے عہدہ برا ہونے کے لیے
ورنہ، دیکھنا ایک احمقانہ تصور ہے جسے
بس آنکھیں ہی مانتی ہیں
کھلونا موت بھی ہے

شارق کیفی: بھلا ایک انساں کے بس میں کہاں موت کو چھیڑنا
ہمارے لیے تو یہی ہے

سید کاشف رضا: ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ
مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

ثاقب ندیم: میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا
موزارت سوناتا نمبر11

ستیہ پال آنند: مرتے مرتے یہ آلاپ اب
انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!
انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!
چپ کی تعمیر سے پہلے کا سفر

ثروت زہرہ: چپ کی تعمیر سے پہلے کا سفر
کون لکھے گا؟
کسے یاد ہے اب؟
کون لکھے گا؟
کسے یاد ہے اب؟
ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے

نسیم سید: ہم آگ پیتے ہیں
اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

عذرا عباس: تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو
اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
سرکاری ہسپتال اور دیگر عشرے

رحمان راجہ: ﮨﺭ کسی ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺭ ﭘﮭﺭ سے
ﻭﮨﯽ روایتی سے جملے ﮨﯿﮟ
مرنے ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﺭﺛﻮﮞ ﮐﮯ لیے
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﺍ خالی ﭼﯿﮏ بھر لیا ہو گا
حاکم شہر نے افسوس تو کر لیا ہو گا
ﻭﮨﯽ روایتی سے جملے ﮨﯿﮟ
مرنے ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﺭﺛﻮﮞ ﮐﮯ لیے
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﺍ خالی ﭼﯿﮏ بھر لیا ہو گا
حاکم شہر نے افسوس تو کر لیا ہو گا
اسکیچ اور سایہ

سرمد بٹ: مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے
عورت کے دل میں مرد کا سایہ ہے
مرد دیوار چاٹ رہا ہے
عورت سائے میں لیٹی ہوئی ہے
عورت کے دل میں مرد کا سایہ ہے
مرد دیوار چاٹ رہا ہے
عورت سائے میں لیٹی ہوئی ہے
کوئی ہونا چاہیے

حسین عابد: اور آن پہنچیں جب ہم
تاریک سرنگ کے آخر پر
وقت کے ایک نئے قطعے پر
چندھیائے ہوئے، ہکا بکا
کوئی ہونا چاہیے جو پکار اٹھے
“یہ روشنی ہے”
تاریک سرنگ کے آخر پر
وقت کے ایک نئے قطعے پر
چندھیائے ہوئے، ہکا بکا
کوئی ہونا چاہیے جو پکار اٹھے
“یہ روشنی ہے”
دکھ گوتم سے بڑا ہے

نصیر احمد ناصر: دکھ برگد سے گھنا ہے
دھیان کی اوجھل تا میں
گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ کا انکھوا عورت کی کوکھ سے پھوٹتا ہے
دھیان کی اوجھل تا میں
گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ کا انکھوا عورت کی کوکھ سے پھوٹتا ہے
دیہاتیوں کا گیت

نصیر احمد ناصر:
ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم جانتے ہیں
دھرتی ہم سے اور کچھ نہیں
ہمارے کالبوت واپس مانگتی ہے!
ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم جانتے ہیں
دھرتی ہم سے اور کچھ نہیں
ہمارے کالبوت واپس مانگتی ہے!