Laaltain

کھڑکیاں

نصیر احمد ناصر: کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں
فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں

آسمان کی چھوٹی سی خواہش

انور سین رائے: کچھ نہیں بس اتنا چاہتا ہوں
کچھ دیر کے لیے سمٹ جاؤں
کچھ دیر کے لیے
پاؤں پسار کر آنکھیں موند لوں
اور اس سے پہلے دیکھوں
کیسا لگتا ہے سب کچھ
میرے بغیر

آخری موسم

فیصل عظیم:زینے سے آنے والے کی صورت
دھُند میں کھو جاتی ہے
یخ بستہ سانسوں کے سنّاٹے کا منتر
چُپ کا جادو کرتے کرتے سو جاتا ہے

بس بہت جی لیے

شارق کیفی: حاضری کے بغیر
اس زمیں سے مرا لوٹنا ہی یہ ثابت کرے گا
کہ میں اک فرشتہ تھا
اور اس جہاں میں غلط آ گیا تھا

مٹی میں دبا دل

حسین عابد:
آنسو میں گُٹھلی نہیں ہوتی
لیکن وہ بہت دیر تک دبا رہے
تو پیڑ بن جاتا ہے
جس پہ دو آنکھیں آتی ہیں

تم کہتے ہو

عارفہ شہزاد: مستور محبتوں کے راز اگلتے اگلتے
تم زبان سے ٹپکتی رال پونچھنا بھول گئے ہو

آج بھی ہر روز کی طرح

ممتاز حسین: فال نکالنے والے طوطے نے
دل کی لکیر ڈھونڈ کر
مشورے کے لفافے میں
بند کر کے مجھےتھماتے ہوئے کہا
تمہارے دل میں جو سوراخ ہے
اس لکیر سے بھر دو

اسٹریٹ تھیٹر

وجیہہ وارثی: کتیا کے سر پر پتھر مارنے والی کو
دادوتحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
اور پلے اپنی دمیں چھپائے پھرتے ہیں

ایک گیت (پیڑا کتھا)

جمیل الرحمٰن: کوئی پنچھی نہ تارا نہ کوئی سکھی
موہے پیڑا کی سدھ بدھ بھی کب رہ گئی

غلام گردش

فیصل عظیم:خوشی!
عدم کے کسی جھروکے کی اوٹ سے جھانکتی نظر کا فریب کوئی

نمبر

سلمیٰ جیلانی: ہر طرف اونچے گریڈوں کا شور ہے
انسان کھوگئے ہیں نمبروں کی دوڑ میں

CYBERIA

علی محمد فرشی: مقدر کی سکرین پر رش نہیں تھا
دعا کی ضرورت پرانی پڑی تھی
محبت تو ویسے بھی فیشن سے باہر تھی

مہمان پرندوں کو الوداع

نصیر احمد ناصر:اگلے برس
جب تم اڑانوں کے صحیفے لے کے آؤ گے
تو جھیلوں کے کنارے
ہم تمہارے منتطر ہوں گے

جب میں ہارا تھا

سعد منیر: یہ میرے کیڑے بننے سے ہزاروں سال پہلے کی بات ہے
جب مجھے یقین تھا
تم خلائی مخلوق ہو