Laaltain

ایک تاریخی واقعہ

حسین عابد: نعروں، خوابوں اور امید کے شور سے
پنڈال بھر جاتا ہے
پنڈال اغوا ہو جاتا ہے
سٹیج پہ کھڑا آدمی
ہائی جیکر نکلتا ہے

ایک یاد رہ جانے والا خواب

حفیظ تبسم: ہم ہررات خوابوں میں
زیادہ تیزی سے
کشتی بنانا شروع کردیتے ہیں
جو دور کہیں ہرروز پانی کے اوپر تیرتی ہے
غائب ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔

کئی دن سے آنکھوں میں آنسو نہیں تھے

نصیر احمد ناصر: مجھے تم بتاؤ!
میں لفظوں کے کیپسول کھا کھا کے کب تک جیوں گا
یہ نظموں کا سیرپ بھی کب تک پیوں گا
یہ ملبوسِ انفاس کامل ہی اب پھٹ چکا ہے
اسے اور کتنا سیوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

چار اطراف

فرخ یار: تم نے دیکھا نہیں
انہی اطراف میں
روشنائی کے سیال جادو کی تہہ میں کہیں
دل دھڑکنے کے اسباب میں
انہی اطراف میں
خود سے آگے نکل جانے کی آرزو
جس نے اک عمر خلقت کو بے چین رکھا
مرے آئینوں پہ چمکنے لگی ہے

محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی

نصیر احمد ناصر: محبت اس سے زیادہ کسی ذی حس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!

جدید، جدیدیت اور مابعد جدیدیت

ستیہ پال آنند: ہوا یہ کہ چند برسوں میں ہی انارکی اور انتشارنے اندرونی خلفشار کے طور پر جدیدیت کی اس تحریک کو گھُن کی طرح چاٹنا شروع کر دیا۔ زبان کی شکست و ریخت شروع کی گئی تو لسّانیات کے سب اصول بالائے طاق رکھ دیے گئے۔

اگر مجھے مرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ناصر: اگر موت کو کہیں اور جانے کی جلدی نہ ہوئی
تو اُسے ڈھیر ساری نظمیں سناؤں گا
شاید اُس کا دل پسیج جائے

بدن اور ملبوس ۔ بہم دگر متصادم (فارسی عروض اور اردو شاعری)

کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔

چلو کوئی بات نہیں

میں سکوت کے آخری چند لفظ کی استعارہ آواز میں
ٹوٹ گئی ہچکی کا بدن ہوں
میں خدا کی سوچ کا وزن ہوں
یہ دنیا، یہ طوفانِ نوح میں گھری ہوئی مٹی
اور اس مٹی میں ایک اکیلا تنکا
سینہ پھاڑ کر کہتا ہے
میرے اعصاب ہیں ایک ایک ذرے کے جذبات
میں ستاروں کے حلق میں اٹھتی جلن ہوں

جہنم

عذرا عباس-
سب کہتے ہیں
مجھے جہنم میں رکھا جائے گا
کہیں میں جنت کی عورتوں کو خراب نہیں کردوں