بلڈ پریشر

رضی حیدر: “بام فردوس سے کودیں گے حشیشین ابھی !
منہ میں دابے ہوئے طوماروں پہ پیغامِ خدا!
برہنہ حرف معانی کے لبادے اوڑے
اک گرانڈیل سے سائے کی طرح رقصاں ہیں
آتشِ خرد کے، الحاد کے گرد
اک پریزاد کے گرد ۔۔۔”
منہ میں دابے ہوئے طوماروں پہ پیغامِ خدا!
برہنہ حرف معانی کے لبادے اوڑے
اک گرانڈیل سے سائے کی طرح رقصاں ہیں
آتشِ خرد کے، الحاد کے گرد
اک پریزاد کے گرد ۔۔۔”
اندھوں کی نگری

ستیہ پال آنند: یہاں کون ہے جس کے دل کی بصارت ہمہ دیدنی ہو
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!
ذوالفقار عادِل کی اُردُو غزل کے اِنفرادی خدوخال

ازورشیرازی: ذوالفقار عادل کی غزل کا موضوعاتی وجود رواں صدی کے سماجی رویوں ،نفسیاتی عوامل،وجودی محرکات،طبیعاتی وحیاتیاتی مسائل اور بے یقینی و لایعنیت کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔
ہم سورج سے زیادہ معصوم ہیں

ایچ-بی- بلوچ: بڑھاپا کسئ چیز کو
اچھا رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا
اس لیئے
سورج، مذہب اور انا
جب ہماری ناک جلانے لگیں
تو ہمیں کھڑکی بند کر لینی چاہئے
اچھا رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا
اس لیئے
سورج، مذہب اور انا
جب ہماری ناک جلانے لگیں
تو ہمیں کھڑکی بند کر لینی چاہئے
عشائے آخری کا ظرفِ طاہر ڈھونڈتا ہوں میں

ستیہ پال آنند: میں اپنے ہاتھ دونوں عرش کی جانب اٹھاتا ہوں
کہ تاریکی میں کوئی اک ستارہ ہی
عشائے آخری کا ظرف طاہر ہو
کہ تاریکی میں کوئی اک ستارہ ہی
عشائے آخری کا ظرف طاہر ہو
ڈنر سے پہلے

یسریٰ وصال: برقی چاند کی لو میں
آمنے سامنے بیٹھے
ایک دوسرے کو پی رہے ہیں
آمنے سامنے بیٹھے
ایک دوسرے کو پی رہے ہیں
مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی
میری تاریخ کا لنڈا بازار

سرمد صہبائی:
اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں
میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے
شاید میرے قد کا کوئی سورما نہیں ہے
اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں
میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے
شاید میرے قد کا کوئی سورما نہیں ہے
کاری

ناصرہ زبیری: اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
ایک باپ کے آنسو

عذرا عباس: ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے
Mob the Omnipotent

سرمد بٹ: آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
تم مجھے پڑھ سکتے ہو

سید کاشف رضا: تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں
چودھویں صدی کی آخری نظم

افتخار بخاری: یہ بھی لکھنا
کہ چودہ صدیوں سے ہانڈیوں میں
ابُلتے پتھر گلے نہیں تھے
ہماری ماوں نے اپنے بچوں کو
دہشتوں میں حنوط کر کے
جنم دیا تھا
کہ چودہ صدیوں سے ہانڈیوں میں
ابُلتے پتھر گلے نہیں تھے
ہماری ماوں نے اپنے بچوں کو
دہشتوں میں حنوط کر کے
جنم دیا تھا
اے میرے سوچنے والے بیٹے

شہزاد نیر: سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
گن رہی ہوکیا

تنویر انجم: اپنی پیشروؤں کی طرح
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں