بندوق کے نمازی

ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک جرگہ ہے
جہاں کلہاڑی کے وار سے لکھا ہوا
“سزائے موت”
جہاں کلہاڑی کے وار سے لکھا ہوا
“سزائے موت”
میں کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا

بیٹھے بٹھائے
بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں
اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے
بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں
بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں
اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے
بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں
کارواں سے گزارش

مجھے لے چلو
جہاں
عورت جب دانے چکی میں پیستی ہے
تو آٹے کا رنگ خون میں نہیں مل پاتا
جہاں
عورت جب دانے چکی میں پیستی ہے
تو آٹے کا رنگ خون میں نہیں مل پاتا
گلوریا جینز میں شام

جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا
شام اِسی طرح مٹ میلی تھی
تاریخ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی
زمین پر صرف جغرافیہ تھا
شام اِسی طرح مٹ میلی تھی
تاریخ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی
زمین پر صرف جغرافیہ تھا
بوڑھوں کا گیت

نیک دل عورتو آؤ!
ہماری آنکھوں کے بے بہا پانیوں میں اترو
ہم سمندر ہیں
ہمارے ریتلے ساحلوں پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرو
ہماری آنکھوں کے بے بہا پانیوں میں اترو
ہم سمندر ہیں
ہمارے ریتلے ساحلوں پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرو
ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ

وہ زمین سے کچھ انگلیاں ادھار مانگ رہا ہے
مگر زمین کو اپنی کوکھ کے ستر کی فکر ہے
وہ اُسے اپنی کوئی انگلی قرض نہیں دے گی
مگر زمین کو اپنی کوکھ کے ستر کی فکر ہے
وہ اُسے اپنی کوئی انگلی قرض نہیں دے گی
مُفتِ خدا

میں قطار میں کھڑا، مفتِ خدا
میری باری آتے آتے
شاعری کی کھرچن بھی ختم ہو جاتی ہے
مجھے کھانے کا ٹوکن نہیں ملتا
میں آخری خواب سے بھوکا لوٹ آتا ہوں
میری باری آتے آتے
شاعری کی کھرچن بھی ختم ہو جاتی ہے
مجھے کھانے کا ٹوکن نہیں ملتا
میں آخری خواب سے بھوکا لوٹ آتا ہوں
خدا نظموں کی کتاب ہے

خدا ان پڑھ ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے
بدن اور ملبوس ۔ بہم دگر متصادم (فارسی عروض اور اردو شاعری)

کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔
ہم بارانی لوگ ہیں

ہم بارانی لوگ ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے کھیتوں، موسموں اور قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے کھیتوں، موسموں اور قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں
اپالو اور اتھینا ۔۔۔۔۔ حالتِ التوا میں لکھی گئی نظم

بند آنکھوں سے مرا تو جا سکتا ہے
محبت نہیں کی جا سکتی
محبت موت کا التوا ہے!
محبت زندگی کا اجرا ہے
محبت نہیں کی جا سکتی
محبت موت کا التوا ہے!
محبت زندگی کا اجرا ہے
شاعری ہر جگہ موجود ہے، بس اسے دریافت کرنا پڑتا ہے

اگر آپ چاہتے ہیں کہ جدید نظم میں آج کی زندگی کے تضادات، مشکلات، تعقلات، الجھنیں اور کثیر جہتی سچائیاں پیش کی جانی چاہئیں، تو پھر نظم سیدھی سادی نہیں ہو سکتی۔
روز کی دو کہانیوں کا تیسرا منظر

میری آنکھوں میں
فحش بیماری ہے
جس کا بڑے بوڑھے نام نہیں لیتے
میرا لفظ آسیب زده ہے
وہ مجھے ڈراتا رہتا ہے
میری انگلیوں پر
جن حاضر ہوتے ہیں
وہ میری جگہ آپ کو چھوتے ہیں
میری باتیں چڑیلوں کی طرح
میرے حلق میں چیختی رہتی ہیں
میری باتوں کے پاؤں الٹے ہیں
فحش بیماری ہے
جس کا بڑے بوڑھے نام نہیں لیتے
میرا لفظ آسیب زده ہے
وہ مجھے ڈراتا رہتا ہے
میری انگلیوں پر
جن حاضر ہوتے ہیں
وہ میری جگہ آپ کو چھوتے ہیں
میری باتیں چڑیلوں کی طرح
میرے حلق میں چیختی رہتی ہیں
میری باتوں کے پاؤں الٹے ہیں