Laaltain

بندوق کے نمازی

ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک جرگہ ہے
جہاں کلہاڑی کے وار سے لکھا ہوا
“سزائے موت”

کارواں سے گزارش

مجھے لے چلو
جہاں
عورت جب دانے چکی میں پیستی ہے
تو آٹے کا رنگ خون میں نہیں مل پاتا

گلوریا جینز میں شام

جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا
شام اِسی طرح مٹ میلی تھی
تاریخ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی
زمین پر صرف جغرافیہ تھا

بوڑھوں کا گیت

نیک دل عورتو آؤ!
ہماری آنکھوں کے بے بہا پانیوں میں اترو
ہم سمندر ہیں
ہمارے ریتلے ساحلوں پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرو

مُفتِ خدا

میں قطار میں کھڑا، مفتِ خدا
میری باری آتے آتے
شاعری کی کھرچن بھی ختم ہو جاتی ہے
مجھے کھانے کا ٹوکن نہیں ملتا
میں آخری خواب سے بھوکا لوٹ آتا ہوں

خدا نظموں کی کتاب ہے

خدا ان پڑھ ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے

بدن اور ملبوس ۔ بہم دگر متصادم (فارسی عروض اور اردو شاعری)

کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔

ہم بارانی لوگ ہیں

ہم بارانی لوگ ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے کھیتوں، موسموں اور قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں

روز کی دو کہانیوں کا تیسرا منظر

میری آنکھوں میں
فحش بیماری ہے
جس کا بڑے بوڑھے نام نہیں لیتے
میرا لفظ آسیب زده ہے
وہ مجھے ڈراتا رہتا ہے
میری انگلیوں پر
جن حاضر ہوتے ہیں
وہ میری جگہ آپ کو چھوتے ہیں
میری باتیں چڑیلوں کی طرح
میرے حلق میں چیختی رہتی ہیں
میری باتوں کے پاؤں الٹے ہیں