آنکھ بھر اندھیرا

ابرار احمد: ادھر کوئی دیوار گرتی ہے
شاعر کے دل میں
وہیں بیٹھ جاتا ہے
اور جوڑتا ہے یہ منظر
اندھیرے سے بھرتی ہوئی آنکھ میں
شاعر کے دل میں
وہیں بیٹھ جاتا ہے
اور جوڑتا ہے یہ منظر
اندھیرے سے بھرتی ہوئی آنکھ میں
کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

نصیر احمد ناصر:
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی
نامکمل

سلمان حیدر: نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں
عبادت کا سچ

شارق کیفی: تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے
موت کو پڑھنا آسان نہیں

نصیر احمد ناصر: لفظوں اور منظروں کی خود کشی کے بعد
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے

قاسم یعقوب: میں وہ ہوں
جسے منکشف کرنے کے واسطے
وقت اپنی ریاضت میں مشغول ہے
جسے منکشف کرنے کے واسطے
وقت اپنی ریاضت میں مشغول ہے
کہانی

توقیر عباس: بھرا شہر اس دن پریشان تھا
چوبداروں کی جاں پر بنی تھی
سپاہی ہراساں تھے
راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا
رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایا جما تھا
چوبداروں کی جاں پر بنی تھی
سپاہی ہراساں تھے
راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا
رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایا جما تھا
لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

نصیر احمد ناصر: لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
کروں کیا

ابرار احمد: تو مونھ موڑ کر ۔۔۔۔
.میں کہیں جا نکلتا ہوں
ویران ٹیلوں کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرپتی ہوئی ریت میں
چیخنے کے لیے
.میں کہیں جا نکلتا ہوں
ویران ٹیلوں کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرپتی ہوئی ریت میں
چیخنے کے لیے
بیماری کا شجرہ

شارق کیفی: وہ پاگل ڈاکٹر شاید بہت فرصت سے ہو گا
جو ہنس کر پوچھتا تھا مجھ سے بیماری کا شجرہ
مرے دادا کا پردادا کا اور اس سے بھی پیچھے کا
جو ہنس کر پوچھتا تھا مجھ سے بیماری کا شجرہ
مرے دادا کا پردادا کا اور اس سے بھی پیچھے کا
زندگی کبھی سر اٹھائے گی؟

ثریا عباس: نیک خواہشوں کے اگنے کو
کوئی خطہءِ زمین نہیں بچے گا
تو جینا کیسے سیکھیں گے؟
تاریکی کا تسلسل کیسے ٹوٹے گا؟
کوئی خطہءِ زمین نہیں بچے گا
تو جینا کیسے سیکھیں گے؟
تاریکی کا تسلسل کیسے ٹوٹے گا؟
پسپائی اور محبت کی آخری نظم

نصیر احمد ناصر: مکمل سپردگی سے پہلے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے
جوتے بہت کاٹتے ہیں

ابرار احمد: اس جگہ شہر تھا
اور سیٹی بجاتے ہوئے نو جواں
اس پہ اتری ہوئی
رات سے یوں گزرتے
کہ جیسے یہی ہو گزرگاہِ ہستی
اسی میں کہیں ہو سراغ تمنا —
اور سیٹی بجاتے ہوئے نو جواں
اس پہ اتری ہوئی
رات سے یوں گزرتے
کہ جیسے یہی ہو گزرگاہِ ہستی
اسی میں کہیں ہو سراغ تمنا —
گوتم نے خود کشی کر لی ہے

نصیر احمد ناصر: تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
کینوس پر لگتے اسٹروکس

جمیل الرحمان: موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے