Laaltain

شکست کس کی

شہزاد نیر: عجیب منظر ھے
ایک شہہ رگ نےدھار خنجر کی کند کر دی ھے
ایک سر وہ جو اپنے تن سے جدا ھوا ھے
مرا نہیں ھے

Insomnia

عاصم بخشی:سوچتا ہوں کہ بھلا کیسے میں سو پاؤں گا اب!
روزنِ دید سے کترا کے گزر جائیں گے
آنکھ لگتے ہی مرے خواب بکھر جائیں گے

پھانسی گھاٹ

حسین عابد: وہ آدمی مر چکا ہے
وہ لوگ بھی مر رہے ہیں
لیکن کندھوں پر اٹھائے ان کے بچے
آج بھی گندے نالے میں گر رہے ہیں

قریبِ شب

نصیر احمد ناصر: رات قریب ہے
اور ابھی آدھا خواب بھی تیار نہیں ہوا

نظم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ لیتی ہے

نصیر احمد ناصر: میں اُسے نہیں لکھتا
وہ مجھے لکھتی رہتی ہے
اَن کہے، اَن سنے لفظوں میں
اور پڑھ لیتی ہے مجھے
دنیا کی کسی بھی زبان میں

پانچواں مفرد

نصیر احمد ناصر: اگر تم میں انتظار کی شکتی ہوئی
تو میں عناصر کی نئی ترتیب کے ہمراہ
تمہیں ملنے آؤں گا

اندھیرے کا گیت

نصیر احمد ناصر: اُدھر خدا کے بے ستون آسمانی محلات میں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں

پانی میں گم خواب

نصیر احمد ناصر: رقص کے تماشے میں
ارض و شمس ہوتے ہیں
اور خدا نہیں ہوتا

خوابوں کی افادیت

نصیر احمد ناصر: خواب دیکھتے ہوئے
کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
مثلآ گدھے کی سواری
شیر کے ساتھ دوست

صبح و شام کے درمیان

جمیل الرحمان: سورج دیوتا نے
شہزادے کا رتھ الٹ دیا
شہزادے کا کچھ پتہ نہین چلا
لیکن
شہزادی کی لاش کے ٹکڑے
راہگیرون کو گھاٹی میں ملے

مستنصر حسین تارڑ سے ایک شکوہ

محمد سعید اللہ قریشی:
یہ وہ دور ہے
صبح دم جس میں بچوں کی خاطر
کوئی چاچا تارڑ ابھی ہست کے باغ میں سانس لیتے ہوئے بھی چہکتا نہیں

ایک دن مجھے مار دیا جائے گا

قرۃ العین فاطمہ: مجھے معلوم ہے مجھے مار دیا جائے گا
کسی بھی طرح
گولی سے یا تیز دھار آلے سے
کسی بھی وجہ سے
یا بغیر کسی وجہ کے
ایک دن مجھے مار دیا جائے گا