Laaltain

عبادت کا سچ

شارق کیفی: تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے

بندے علی

حسنین جمال: سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔

خواہش کی گھنٹیاں

چھوٹا درخت اس سارے ہنگامے سے بےنیاز اپنی خواہش کی گھنٹیاں بجاتا رہا۔

کیران کا میلہ

بوڑھے سادھو نے یہ بھی بتایا کہ حضرت شاہ کیران کی زندگی میں کوڑھ کی وبا عام ہوئی تو آپ نے گاؤں کی ایک بدمزاج لڑکی کو اپنے حریم میں پیش کیے جانے کا حکم دیا۔

مکروہ چہرے

تیسرا بولا “میں جس ڈبے میں تھا اس میں چار نوجوان تھے۔ چاروں ہی بڑے فیشنی تھے، پہلے تو وہ بات ہی نہیں سن رہے تھے لیکن میں نے بھی آپ کی دعاؤں کی بدولت انہیں رام کر ہی لیا۔ یہ نقدی ان سے برآمد ہوئی ہے”۔ اس نے پیسے صف پر رکھتے ہوئے کہا۔

دس برسوں کی دلی — قسط نمبر1

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں نے دہلی میں دوردرشن اردو کے کچھ معمولی سے کام کرکے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ اب تو ہم بھی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں، ہماری بھی عزت چوک چوراہوں پر ہے، آٹو رکشہ والے کو آنکھیں دکھائی جاسکتی ہیں، معمول کی ناانصافیوں کو غصے کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ان پر اپنے جرنسلٹ ہونے کی دھونس جمائی جاسکتی ہے اور بہت سے ایسے کام کیے جاسکتے ہیں جو کم از کم خودتشفی کے زمرے میں آتے ہوں۔

تکنیکی تنقید کے اصول اور میری گستاخیاں

اردو ادب پر مزید ایک صدی گزر جانے سے شاید یہ بات ثابت ہوجائے کہ اس میں بیسویں صدی کے اواخر میں دو باتوں نے ہولوکوسٹ (مرگ انبوہ) کا سا ماحول پیدا کیا۔ایک شمس الرحمٰن فاروقی کی شعر فہمی اور دوسرے ظفر اقبال کی تنقید نگاری۔مرگ انبوہ میں نے اس لیے کہا کیونکہ ان دونوں […]

مجنون

وہ کنویں کے کنارے پر جھکا کافی دیر سے لمبے سانس لے رہا تھا۔ پیاس اور خستگی نے رسی کو اس کے ہاتھوں پر کچھ اور بھاری کردیا تھا۔
“شاید مشکیزہ بھر گیا ہے”، اس نے رسی کو کھینچنا شروع کیا۔ مشکیزہ اوپر لوٹتے ہوئے اپنے اصل وزن سے کچھ زیادہ بھاری تھا۔

بریکنگ نیوز

” چی چی چی، گندگی اور گندی سوچ سے تو اللہ بچائے، ہر کوئی ماں بہن رکھتا ہے۔ ”

موسم

شہر کے وسط میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سڑکوں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔

Healing in the Thick Plaster [i]

Trans­la­tion of Mirza Athar Baig’s sto­ry “Sakht Plas­ter me Inde­maal” Tonight around six or sev­en o’ clock I have to work on a deci­sion which I made a few months ago. It was that deci­sion; in fact, it is the deci­sion that I had made to con­vince the diary clerk, Anwaar Ahmed to get on […]