Categories
شاعری

ﺳﺎﺩﮬﻮ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ﺳﺎﺩﮬﻮ

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: سعید اللہ ریشی

 

ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺧﺒﺮ ﻣﺠﮫ ﺗﮏ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻠﮏ ﻏﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﭘﺮ
ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ
ﺍﮎ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﺠﮭ ﮑﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ… ﻣﺴﮑﺮﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺭﻧﮓ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺑﮭﺮﮮ ﯾﮧ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺗﻮﮌﺗﮯ
ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺍﺏ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﻣﺮﯼ ﺑﯿﭻ ﮐﮯﺩﺍﺋﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﮐﮫ
ﮨﯽ ﺩﮐﮫ ﮨﮯ
ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺧﻮﺩ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﺏ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﯿﺐ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ …. ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﻦ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ
ﺑﺠﺎ ﮨﮯ ﺑﺠﺎ ﮨﮯ
ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ …
ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ

 

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

Image: Nik Helbig
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نظم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: سعیداللہ قریشی

 

میں اک عورت جس نے تجھ کو اپنی کوکھ سے جنم دیا
تو نے مجھ کوپسلی کی تمثیل لیا؟؟
اور پسلی سے تو نے مجھ کو ٹیڑھی پسلی کر ڈالا
جس کو سیدھا کرتے کرتے صدیاں گزریں کتنی عورتیں ٹوٹ گئیں ہیں
لیکن تو پھر بھی ٹیڑھا

 

تجھ کو اپنی چھاتی کی خوراک پلا کر بڑا کیا کہ بعد میں تو اس چھاتی پر ہی مونگ دلے?
(تو نے مجھے انسان نہیں بس جنس لیا)
پھر بھی میں تجھ پر قربان
جامورکھ انسان
اک ماہواری کے بدلے میں مجھ کا اتنا نیچ کیا کہ میری شہادت تک آدھی??

 

جس کو تو ماں بولتا ہے
وہ دھرتی ہے میرے جیسی
میں دھرتی کے جیسی ہوں
ننھے سے اک بیج کے بدلے تجھ کو فصلیں دیتی ہے
اور میں نسلیں دیتی ہوں

 

یہ جو تم میں کچھ شاعر اور کچھ فنکار
باتوں سے تخلیق کا چورن بیچتے ہیں
(باقی یعنی بانجھ)
چھوڑو سب بانجھوں کو معافی
کیا تم نے کبھی غور کیا کہ ہر عورت تخلیق کو پورا جھیلتی ہے
(اور ہماری بانجھ؟؟؟
میں تیرے قربان
جا مورکھ انسان)
فعلن فعلن کی گردان پہ ہانپنے والو تم
تم تخلیق کو کیا جانو
ہر عورت تخلیق کو من میں سینچتی ہے

 

لالٹین پر یہ سلسلہ نظم نماء کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]