Categories
شاعری

اللہ ہو سے عالمِ ہو تک

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اللہ ہو سے عالمِ ہو تک

[/vc_column_text][vc_column_text]

تہہ در تہہ پیچاک تھے مضمر اُس ایمائی گہرائی میں
اور میں اک پَیراک کھلندڑا، ہنس مکھ، چنچل،خوش، خنداں
ڈُبکی پیتا، غوطے کھاتا، لہروں سے ہم آغوشی میں شاداں، و فرحاں
کچھ بھی سمجھ نہ پایا اپنی کچی بلوغت کے برسوں میں
کیا گہرائی، کتنا عمق ہے اس پانی کی تہہ داری میں
جان نہ پایاسمک تلک جانے کا بھید بھرا رستہ

 

آٹھ دہائیاں اک اک ساعت قاش قاش کر کے کاٹیں
بیت گئی جو اوّلون تھی عمر تو اک دن یہ سوچا
سابقون سے آگے آج کے اس لمحے تک پہنچ گیا ہوں
پیچھے مُڑ کر دیکھوں تو کیا کچھ کھویا، کیا پایا ہے

 

آگے شاید

 

سمک تلک جانے کا بھید بھرا رستہ بھی مل جائے
پرسوں نرسوں، چندے بعد مقّدرامکانی ہو شاید
ہو سکتا ہے مستقبل کے انت کال میں پاؤں رکھوں تو
دیر سویر، معاد، پسِ فردامیں ڈھل کر

 

آنے والا کل بن جائیں
ورتمان کے ’غیر حال‘ کو ’حال‘ بنا کر

 

میری کھوج کا حل بن جائیں

 

آٹھ دہائیاں جی چکنے کے بعد چلو یہ بھی اب سوچیں
کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے
قدر و قضا کے ہاتھوںمیں یہ اژ درِ موسےٰ

 

وقت کے پانی کو یوں چیرے
ماضی ،حال اور مستقبل ۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ تینوں
اپنے آپ میں کوزہ بھی اور کوزہ گر بھی
اپنے ہی پانی مٹی سے اک ساعت ایسی گھڑ لیں
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ﺳﺎﺩﮬﻮ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ﺳﺎﺩﮬﻮ

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: سعید اللہ ریشی

 

ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺧﺒﺮ ﻣﺠﮫ ﺗﮏ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻠﮏ ﻏﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﭘﺮ
ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ
ﺍﮎ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﺠﮭ ﮑﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ… ﻣﺴﮑﺮﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺭﻧﮓ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺑﮭﺮﮮ ﯾﮧ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺗﻮﮌﺗﮯ
ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺍﺏ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﻣﺮﯼ ﺑﯿﭻ ﮐﮯﺩﺍﺋﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﮐﮫ
ﮨﯽ ﺩﮐﮫ ﮨﮯ
ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺧﻮﺩ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﺏ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﯿﺐ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ …. ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﻦ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ
ﺑﺠﺎ ﮨﮯ ﺑﺠﺎ ﮨﮯ
ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ …
ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ

 

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

Image: Nik Helbig
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]