Laaltain

ہم نے گیت نہیں لکھے

دلاور شفیق: ہم نےگیت نہیں لکھے
نہ ہانپتی ہوئی زبان سے بچھڑنےوالے کوتسلی دی
کیا ہم دونوں اور کہکشاؤں کے بیچ کاخلاترچھی لکیروں سے پرْ کیا جائےگا

انا کا کون سا چہرہ تھا وہ

شارق کیفی: کہا پورا نہ ہو نے کی مری
بے عزتی
کسی کی جان سے بڑھ کر بھی ہو سکتی ہے
مجھ کو یہ نہیں معلوم تھا

تیرے جوبن کے موسم میں

سرمد صہبائی: تیرے جوبن کے موسم میں
دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیں
پنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں

مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے

قاسم یعقوب: عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے
زمیں پاؤں کی ٹھوکرپرپڑی ہے
آسماں مرضی کا منظر چاہتا ہے
رتجگے کی شب کروموسوم کی ہجرت پہ پہرہ دے رہا ہے

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟

نصیر احمد ناصر: کبھی تم نے پوچھا ہے
چلتے ہوئے راستے میں
کسی اجنبی سے
پتا اس کے گھر کا
ہوا جس کے قدموں کے مٹتے
نشاں چومتی ہے
نگر در نگر گھومتی ہے

اٹلس گلوب رکھ دو

نوازش ملک: ٹنل سے باہر جہاں زندگی ہے اسے جیو
گہرا سانس لو
ہوا چلتی دیکھو
اٹلس گلوب رکھ دو

بھکارن

نور الہدیٰ شاہ: بس نقلی نوٹ کی سی اک نگاہِ محبت عطا ہو جائے
جو کسی سستے سے ڈھابے پر ہی چل جائے
مرتے عشق کو گدلے پانی کا اک قطرہ مل جائے
مرتے عشق کا حلق بس ذرا سا تَر ہو جائے

نظمیں ستارے بناتی ہیں

انور سین رائے: میں نظمیں ہی لکھوں گا
چاہے ستارے سیاہی سے خالی ہو جائیں
اور آسمان کاغذ بننے سے انکار کردے

تماشا

علی زیرک: ہمیں لجلجاتے چناروں سے آگے تساہل بھری کھیتیوں سے گزر کر
فصیلوں کی فصلوں میں چھپنے سے پہلے
دھوئیں کی لچکدار دیوار کو چاٹنا ہے

عشرہ // میجک

صدیق شاہد: وہ تم تھے جو جپسی کے تھیلے میں بیٹھے
قبیلوں کی قسمت پہ مہریں لگاتے
حسینوں کو ان کے پیا سے ملانے کی سازش رچاتے
دعاوں کے سرکل میں نوے کا اینگل بناتے
دھڑا دھڑ گنے جا رہے تھے کھنکتے ہوئے چاندی کے سکے !!!

اب کوئی آواز آتی نہیں

وجاہت مسعود: جوانی کے کچھ بعد
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی

میں کیا اوڑھوں؟

عارفہ شہزاد: اردگرد کی دیواروں کا
اندازہ نہیں کیا جا سکتا
جب تک ان کے درمیان کے راستے پر
بار بار پاوں نہ دھرے جائیں

نیند پری کی موت

علی محمد فرشی: ننھے نور بھرے ہاتھوں سے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے