Categories
تبصرہ

مرگ انبوہ: ایک جائزہ (اقرا غفار)

مشرف عالم ذوقی مابعد جدید فکشن نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں انہوں نے کہانیاں بھی لکھیں ناول بھی لکھے اور اخبارات میں عصر حاضر کے ہندوستان میں ہونے والے مسائل پر مسلسل کالم لكھتے رہتے ہیں۔ بطور ناول نگار انہوں نے اکیسویں صدی میں ہونے والی تبدیلیوں اور خاص کر ان تبدیلیوں سے نمایاں ہونے والے اثرات اور مسائل کو اپنی تحریروں میں موضوع بنایا۔ ان كے ناولوں کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی اور ابھی منظر عام پر آنے والا ناول مرگ انبوه بھی قارئین کی دلچسپی میں اضافہ کیے ہوئے ہے ان کے ناولوں اور دیگر تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:

۱:بیان( ناول)
۲:نیلام گھر
۳: شہر چپ ہے
۴: عقاب کی آنکھیں
۵: آتش رفتہ کا سراغ
۶:پوکے مان کی دنیا
۷:لے سانس بھی آہستہ
۸: نالہ شب گیر
۹:مرگِ انبوه
۱۰: نفرت کے دنوں میں(افسانے)
۱۱: آبِ روانِ کبیر(تنقیدی مضامین)
۱۲: گزرے ہیں کتنے کارواں(مضامین خاكے(
۱۳: سلسلہ روزوشب( اردو ناولوں کا خصوصی مطالعہ اور دیگر مضامین )

مشرف عالم ذوقی، اپنے اردگرد کے مسائل اور مشكلات کی جانب سے آنكھیں بند كر كے یا صبر وتحمل سے بیٹھے رہنے كا حوصلہ نہیں ركھتے ۔ان كی نگاه جب بھی كسی ظلم كو دیكھتی ہے تو ان كی قلم كی روانی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وه غیر جانبدار ہو كر ہر اس مسئلے كی طرف توجہ كرتے ہیں جو سماج سے جڑا ہوا ہو ، پرولتاریہ طبقے سے جڑا ہوا ہو۔ان كا قلم بے باك ہو كر انسانیت كا پر چار كرتا ہےاور عصرِحاضر میں رونما ہونے والے سیاسی ،سماجی ،معاشی اور مذ ہبی معاملات كو عمیق مشاہدے كے بعد اپنے فكشن كا حصہ بناتا ہے ۔ان كا ناول “مرگ انبوه” مختلف موضوعات كا كولاژ ہے ۔جہاں سیاست بھی ہے بنیاد پرستی بھی۔گلوبلائیزیشن كا ایك عہد بھی سانس لیتا ہے ،اقلیتوں كے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی بھی موضوع بنتی ہے اور تقسیمِ ہند كا المناك تاریخی واقعہ بھی ۔

خوف اور جبر كی فضا كو پیش كرتے ہوے ناول نگار Generation Gap كی طرف بھی اپنا رُخ كرتا ہے ۔اكیسویں صدی میں جہاں آج كی نوجوان نسل اپنے مخصوص افكار كی بدولت ٹرین كی ایك الگ پٹڑی پر سوار ہے ۔انسانی نفسیات ،اقلیتوں كے لیے میڈیا كا منافقانہ رویہ،ہندی اخباروں كی صورتحال ،اقلیتوں كی آئیڈیالوجی كی موت كا نوحہ، بی مشن نامی مخصوص سیاست كا ایجنڈا اور ان كے ذریعے عوام كا استحصال ،زباں بندی كی رسمیں ،طاقت اور پیسے كا ڈسكورس ،مسلمانوں كی شناخت كے مٹ جانے كا غم اورغصہ،بدلتی ہوئی تہذیب كامنظرنامہ ،غرضیكہ جو كچھ اس بدلتے ہوئے ہندوستان كا scenario ہے اس كا ہو بہو نقش مرگ انبوه میں موجود ہے۔مصنف كا عصری شعور پورے ناول میں جابجا دكھائی دیتا ہے۔

کہانی اکیسویں صدی کی نسل ،ان کی مصروفیات اور مخصوص فکر سے شروع ہوتی ہے اور قاری کو یہ التباس ہوتا ہے کہ شاید جدید ٹیکنالوجی کی یہ دنیا ناول کا خاص موضوع ہے مگر مصنف کمال مہارت سے معنی خیز جملوں اور علامتوں کا استعمال کر کے کہانی كا رخ موڑ دیتا ہے اور پاشا مرزا ریمنڈ (پاشا مرزا کا دوست) نیتی ،پاشا مرزا کی ماں( سارا جہانگیر) اور پاشا مرزا کے باپ (جہانگیر مرزا) سے متعارف ہوتا ہے۔ جہانگیر مرزا ایک ایسے باپ کے طور پر سامنے آتا ہے جو کتابوں میں مشغول رہنے والا اور اپنی اولاد کی خواہشات کو مالی مشکلات کی وجہ سے کبھی پورا نہ کرنے والا باپ ہے اسی لیے پاشا ان سے نفرت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے دوست ریمنڈ کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے ۔اس نوجوان نسل کے نزدیک ہر شے مختلف ہے۔ یہ نسل سٹیو جابز) ایپل آئی فون ٹیکنالوجی کنگ) اور مارک زکر برگ(Founder of Facebook) کو اپنا رہنما مانتی ہے اور ان کے اقوال کو ازبر کیے ہوئے ہے۔ بلیو وہیل گیم میں دلچسپی رکھنے والی یہ نسل موت یا جبر کی فضا سے خوفزده نہیں ہر ایڈونچر کرنے کی لگن ان میں موجود ہے۔ ناول نگار اس نسل کی سوچ اور فکر عکس ناول میں کچھ یوں پیش کرتے ہیں:

“بہت سارے لوگوں کی طرح میرے ڈیڈ بھی آج کے بچوں اور ان کی نفسیات کو سمجھنے سے قاصر تھے نفسیات۔۔۔۔۔؟ نہیں- چونكیے مت صاحب ۔میری عمر20 سال كی ہے۔اور اس عمر میں میرا تجربہ آپ یا كسی بھی 80 سال كے آدمی كی عمر سے کہیں زیاده ہے ۔۔۔۔۔پزا ،برگر،ایپل،لیپ ٹاپ اور فیس بك كی باتیں كرتے ہوئے ڈیٹنگ اور بریك اپ كے معاملے میں بھی ہم بچے جس گہرائی سے غور كرتے ۃیں آپ اس كا اندازه نہیں لگا سكتے” (صفحہ نمبر 20 ،مرگ انبوه)

ایک اور اقتباس :-
” ڈیڈ کی طرح ممی بھی اس نسل کو اور اس نسل کی خواہشوں کو نہیں جانتی جہاں values بدل گئی ہیں جینے کا نظریہ بدل چکا ہے پرانے زمانے کا بہت کچھ ہمارے لئے ڈسٹ بن میں ڈالنے جیسا ہے جیسے ڈیڈ كی كتابیں مجھے كبھی راس نہیں آئیں ہاں اگر كتابیں كما كر دے سكتی ہوں تو آپ چیتن بھگت بنیے نا فلموں میں لكھیے ۔سے لی بریٹی بنیے اور پیسوں كی كان بن جایئے۔”(صفحہ نمبر۰۵،مرگ انبوه)

جہانگیر مرزا اور سارا جہانگیر اپنے بیٹے کی اس سوچ سے کسی حد تک واقف ہیں مگر جہانگیر مرزا ایک حساس دل رکھنے والا انسان ہے اور اپنے آدرشوں کے خلاف جا کر کوئی اور راہ اپنانےوالوں میں سے نہیں۔ انقلاب کا داعی یہ انسان پھر بھی کہیں بھٹک جاتا ہے اور بی مشن کا حصہ بن جاتا ہے۔ جہانگیر مرزا کی موت کے بعد پاشا کے لیے لکھے جانے والے ڈائری اس کہانی كا رُخ موڑ دیتی ہے اور قاری اکیسویں صدی کی نسل کے مسائل، مصروفیات، مخصوص فکر ،رہن سہن سے نکل کر جہانگیر مرزا کی زندگی کو پڑھنے لگتا ہے جو اپنے بیٹے کو اپنی مخصوص شخصیت کے ہونے کا جواز پیش کرتا ہے اور اس نفرت کو کم کرنا چاہتا ہے جو پاشا مرزا کے دل میں اس کے لیے ساری زندگی موجود رہی۔ جہانگیر مرزا کی ڈائری پڑھتے ہوئے قاری بھی پاشا مرزا کے ساتھ چلتا ہے جہاں طاقت کا ڈسکورس، طاقت کا تصور اور سیاسی پالیسیاں ناول کا خاص موضوع بن جاتی ہیں۔ پیسہ اور طاقت دو عالمگیر سچائیاں ہیں جن سے انکار کسی صورت بھی ممکن نہیں۔

جدلیاتی كشمكش كو بڑھانے میں یہ دونوں چیزیں ازل سے کارفرما ہیں ان کا گٹھ جوڑ ہر ذی روح كی نظر میں ہے تیسری شے جو ان كے ساتھ مل كر عوام كا استحصال كرتی ہے وه سیاست كی آمیزش ہے ۔ پیسے اور طاقت كے حصول كے لیے دو نسلوں كے مزاج كا تضاد ناول كا حصہ ہے جسے بہت خوبصورتی سے ناول نگار نے پیش كیا ہے كہ كس طرح اخلاقی قدروں كی جگہ مادی وسائل سبقت لے گئے اور آج كی نسل انہی مادی وسائل كی طرف متوجہ ہے:

“اور جیسا کہ ممی کہتی ہیں ہم رشتوں كی طرف بھاگنے والے لوگ تھے اور تم لوگ پیسوں كی طرف بھاگنے والے ۔دراصل ہم پریكٹیكل دنیا میں جینے والے لوگ ہیں اور ہماری نسل جذباتی باتوں پر زیاده توجہ نہیں كرتی ۔آئی میك تھنگز كا نعره دینے والا زكر برگ اس وقت صرف انیس سال كا ہو گا جب فیس بك جیسے سوشل میڈیا كی دریافت پر یاہو(Yahoo) اور گوگل (Google)نے 75 ہزار كروڑ یعنی15 ملین ڈالر كی بولی لگائی تھی ۔ہم ینگستان والوں كے لیے یہی لوگ ہمارے آئیڈیل ہیں پچھڑے ہوئے اور كمزور لوگوں میں ہماری دلچسپی نہیں ہوتی ہے وه بل ڈاگ ہوں ،سور ،چھبڑے والی بلی یا ہمارے رشتہ دار”(صفحہ نمبر62-مرگ انبوه(۔

طاقت حاصل کرنے کے مختلف ذرائع ہیں مگر ناول میں موجود نوجوان نسل کے ہاں ایلومناتی فرقہ متعارف ہو چکا ہے جو طاقت دینے والا ہے اور اس طاقت کے بدلے میں شیطان کے پجاری بننے کی شرط عائد کی جاتی ہے. درحقیقت یہ ایك ایسی طاقت اور power of discourse كی طرف اشاره ہے جو پوری دنیا كو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے خاص طور پر ہندوستان میں جو طاقت ور طبقہ جنم لیے ہوئے ہے وه مذہبی معاملات كو بنیاد بنا كر اپنی اجاره داری قائم كرنے كی بھرپور كوششوں میں مصروف ہے ۔اس صورت میں اقلیتوں کی شناخت كے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ شناخت اور وجود كے معدوم ہونے كا غم ایك طرف اور ظلم و جبر كی ہولناك داستانیں دوسری طرف۔اس ڈر اور خوف كے كاروبار كی واضح تصویر ناول نگار بے باك ہو كر پیش كرتا ہے اور ناول نگار كا عمیق مشاہده اس كے عصری شعور كا واضح اور بیّن ثبوت ہے ۔طاقت كے تصور كو تاریخی نقطہ نظر سے پیش كرتا ہوا ناول نگار عصرِ حاضر كے ہندوستان كا منظر نامہ قاری كے سامنے بیان كرتا ہے :

“تہذیبیں مٹ جاتی ہیں سندھ كی تہذیب مٹ گئی سومیرین ،میسوپوٹامین ،ایرانی تہذیب ۔۔۔۔۔۔آج ان كے وجود تك كا پتہ نہیں۔یہ ایلومناتی تھے جنہوں نے آہستہ آہستہ تمام تہذیبوں كے نشان غائب كردئیے جو طاقتور ہو گا وہی حكومت كرے گا۔”(صفحہ نمبر10،مرگ انبوه،)

ہندوستان کے اس منظر نامے کو تخلیق کرنے والا ناول میں “بی مشن” کے نام سے سامنے آتا ہے جس کا ہندوستان کی سماجی، سیاسی، معاشی، علمی ،مذہبی غرضیکہ ہر معاملے میں بڑا ہاتھ ہے اس كا بھرپور تعارف ناول میں موجود ہے۔

“ایک دلچسپ فنتاسی کا حصہ بی مشن تھا جس نے آہستہ آہستہ سیاست سے سماج ،معاشرے اور ثقافت پر قبضہ كر لیا تھا پورا ہندوستان اچانک ان کے ہاتھوں میں آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(صفحہ نمبر 73،مرگ انبوه)

اور اقلیتوں کے ساتھ رکھنے والے روا رکھے جانے والے سلوک کی دردناک داستانیں ناول کا اہم موضوع بن جاتی ہیں۔جہاں انسان دوستی یا انسانیت نام کی شے ناپید ہو چکی ہے ۔ حاشیے پر دھكیلے جانے والی اس قوم كا نوحہ سننے کو کوئی بھی تیار نہیں ۔ جہاں میڈیا کے غیر جانب دار رہنے کی توقع رکھنا بے سود ہے ایسی صورت حال کی تصویر ناول نگار کچھ طنزیہ پیرائے میں بیان کرتا ہے:

“جو کام ڈٹرجنٹ سوپ یا صابن نہیں کر پاتے تھے، وہ کام آسانی سے بی مشن کا حصہ بنتے ہی ہو جاتا تھا مجرموں کے گناہ دھل جاتے دست درازی اور ریپ کے گناہ گار ملزمان کو آزادی مل جاتی ۔طور طریقے اس حد تک بدل گئے کہ جب ایک مسلم چھوٹی سی بچی کے ساتھ گینگ ریپ ہوا تو گینگ ریپ کرنے والوں کی حمایت میں ‏وكلا اور دانشوروں نے جلوس نكالا۔ یہ سارے لوگ بی مشن کے لیے کام کرتے تھے اخبار سے لے کر میڈیا تک بی مشن كا حصہ بن گئے تھے”(صفحہ نمبر ۷۳، مرگ انبوه)

ناول کے یہ اقتباس جہاں انسانی وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں وہاں قاری کو ورطہء حیرت میں بھی ڈالتے ہیں ہے جب اسے یہ معلوم ہوتا ہےکہ ساری زندگی اپنے آدرشوں کے سہارے جینے والا اور انقلاب پسند جہانگیر مرزا بھی اپنی ایک دوست تارا دیش پانڈے کے ذریعے بی مشن کا حصہ بن جاتا ہے اور اپنی آئیڈیالوجی کو کچھ عرصے کے لیے گروی رکھ دیتا ہے۔ ناول نگار اس کردار کے ذریعے ہی سیاست اور حکومت کے اصلی چہرے سے اپنے قاری کو روشناس کرواتا ہے۔ پوری کہانی جبر اور خوف کے ایسے ماحول کو پیش کرتی ہے جہاں ہر قدم پر سیاست کا عمل دخل نظر آتا ہے۔ دہشت گردی کا تصور مسلمانوں سے جڑا ہوا ملتا ہے اور ایسے کئی تاریخی حوالوں سے اقلیتوں کے ان کے حقوق سے محروم کرنا ناول میں جا بجا دکھائی دیتا ہے۔ جہانگیر مرزا کے دوست سبحان علی کے ذریعے اور ان دونوں کے مابین ہونے والے مکالمے ملکی صورتحال ، اقلیتی برادری کی ابتری اور خستہ حالی کا عکس پیش کرتے ہیں۔
“سبحان علی زور سے ہنسا۔ بہت آسانی سے ہمارے کپڑے اتار لیے گئے کانگریس نے رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کے ذریعے صرف ہمیں رسوا کیا تھا ہم بے لباس ہیں راستہ نہیں پیارے جہانگیر مرزا”(صفحہ نمبر 86، مرگ انبوه)

اقلیتوں کے مسائل کا بیان کرتے ہوئے ناول نگار کے ہاں طنز کی کاٹ دکھائی دیتی ہے معاشی ،سماجی، تہذیبی، اقتصادی تمام ناکامیوں کے باوجود بی مشن کے پاس جیت کے لیے صرف ایک ہی بہانہ ہے۔ اقلیت۔۔۔۔۔ ایک تماشا ہے اقلیت۔۔۔۔ ایک ہی کھیل ہے۔ اقلیت۔۔۔۔۔ایك مداری ہے۔ ایک ڈگڈگی ہے۔۔۔۔۔ اور ڈگڈگی کی آواز پر رقص کرتی ہوئی اقلیت۔۔۔۔ چکرویوه میں الجھتے، پھنستے ہوئے اقلیت۔۔۔ ہزاروں برس کی تاریخ میں مخصوص اقلیت کو لٹیرا کہنے والے آسانی سے فیصلہ لے آئیں گے کہ اقلیتوں کی زمین کیسی؟ محمد بن قاسم سے محمود غزنوی، غوری، خلجی اور مغل بادشاہ تك سارے لٹیرے تھے لوٹ کی زمین کو اقلیتوں کا حق نہیں کہا جا سکتا۔۔۔۔ ہم ایک ایسے وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جو ہمارا نام صفحہء ہندوستان سے مٹا دینا چاہتا ہے”(صفحہ نمبر83،مرگ انبوه)

ناول میں چلتے ہوئے ہندوستان کی تصویر کا صرف ایک ایک رخ نظر نہیں آتا یعنی صرف مسلمان اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور جبر کی داستان ناول کا موضوع نہیں بنتی یہاں تصویر کا دوسرا رخ یعنی عیسائیوں کے ساتھ ہونے والے استحصال كی صورتحال بھی برابر پیش کی گئی ہے:-
” اڑیسہ میں غریب دلتوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا کچھ غنڈوں نے انہیں زندہ جلا دیا یا خواتین کی عزت لوٹی”(صفحہ نمبر ۹۵،مرگ انبوه)

شہریت چھن جانے کا غم، زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خوف ناول کے مرکزی کردار جہانگیر مرزا میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے جو ہندوستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر کڑھتا اور بنیاد پرست معاشرے کی اجارہ داری کو دیکھ کر خاموش ہوجاتا ہے۔ بی مشن میں شامل ہونے کے بعد این آر سی NRC اور اپنی ذات کے حاشیے پر دھكیلے جانے کے احساس سے واقفیت اسے مزید آزردہ کر دیتی ہے جہاں موت کا فارم پُر کرنے اور نسل کشی کے لیے بنائے جانے والے پروپیگنڈے اسے جلد ہی موت کی طرف دھکیل دیتے ہیں وہاں دوسری طرف اسے سیاسی مکاریوں اور حکومتی چالبازیوں کا تجزیہ کر کے اس نتیجے پر میں دیر نہیں لگتی پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ جہانگیر مرزا اپنے ساتھ ساتھ قاری کو بھی اس بات سے آگاہ کردیتا ہے کہ مذہب ایک ایسا tool ہے جس کو ہر ملک کے سیاست اور حکمرانوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر ہر عہد میں بہت بخوبی استعمال کیا ہے اس طرح مذہب اور بنیاد پرستی کے لئے تشکیل دیے جانے والے عوامل اس ناول کا ایک اور بڑا موضوع بن جاتے ہیں جہاں گاؤ ماتا کی پوجا افضل ہے اور اس پوجا کے لوازمات بھی مقدس جانے جاتے ہیں۔ احترام اور عقیدت کے اس پہلو کو ناول میں پیش کیا گیا ہے اور مذہبی اجاره داری کی فضا کو ناول نگار عالمگیر تناظر میں پیش کرکے ناول کا حصہ بناتا ہے:

” پاکستان میں برسوں سے اسلامی راشٹرواد کی حکومت ہے ہندوستان اب یہی کر رہا ہے ہر حکمران یہ راشٹرواد اپنے طریقے سے نافذ کرتا ہے مگر جو شکار ہوتے ہیں وہ بے بس پرندوں کی طرح ہوتے ہیں آج بھی ایک بڑی دنیا پر ملاؤں، پنڈتوں اور پادریوں کا قبضہ ہے مذہب کی اجارہ داری ہر جگہ قائم ہے”(صفحہ نمبر ۱۴۷،مرگ انبوه)

احترام اور عقیدت کی ایک جھلک دیکھیے:

” جب گائیں سڑک پر گربا رقص کر رہی تھیں انتظامیہ نے150 لوگوں کو حراست میں لیا تھا اور ان سے موت کے دستاویز پر دستخط کرائے گئے تھے ان سے باضابطہ سوال کیا گیا تھا کیا آپ کب مرنا چاہتے ہیں ان سب کو دیش دروہی اور مجرم قرار دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ پارٹی دفتر جانے کے لیے کوئی آٹو تیار نہیں ہوا کوئی بھی آٹو گایوں سے گزر جانا نہیں چاہتا تھا “(صفحہ نمبر 196،مرگ انبوه)

ناول نگار غیر جانبدار ہوکر ہندو معاشرے کے عقائد کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی فکر اور مذہبی معاملات کو بھی بیان کرتا ہے بی مشن کا حصہ بننے والے یہ لوگ خود کو مطمئن رکھنے کے لیے کیسے ڈھكوسلے اپناتے ہیں اس کا عکس دیکھیے:

“اچھا مولوی فرقان نے پوچھا۔آپ کیسے پھنس گئے؟
میرے لہجے میں خاموشی تھی۔۔۔۔۔۔
ض ۔۔۔م۔۔۔۔یر ۔۔۔۔۔میں نے بمشکل اس لفظ کو دہرایا ۔
ضمیر کی فکر کیوں کرتے ہیں مجھے کوئی کام مرضی کے موافق نہیں لگتا تو استغفار پڑھ لیتا ہوں۔ یہ کفرستان ہے زندگی تو گزارنی ہے استغفار پڑھیے اور جو کام مل رہا ہے کرتے چلئے ان کاموں میں ضمیر کو نہ لا ئیے”(صفحہ نمبر ۱۲۳،مرگ انبوه )

ہندوستان کے معاشرتی مسائل اور تلخ حقائق کا دردناک بیانیہ ناول کا ضروری حصہ ہے جس کا حل موت كے فارم پر دستخط كی صورت میں نکالا جاتا ہے۔ موت ایک عالمگیر سچائی ہے اور موت ناول میں ایک استعارہ بن جاتی ہے یہاں نوجوان نسل بلیو وہیل گیم کے ذریعے موت سے کھیلنا چاہتی ہے اور دوسری طرف حکومت اور بی مشن کی طرف سے موت کا فرمان جاری کر دیا جاتا ہے۔ ڈر اور خوف سے سہمے ہوئے یہ كردار زندگی سے مایوس اور افسرده ہوكر ایك كبھی ختم نہ ہونے والی زندگی كی طرف جانے كے خواہش مند ہیں اور موت كے دستاویز كو نئے حكم نامےكے طور پر دیكھتے ہیں كیونکہ یہ كردار اقلیتی برادری سے تعلق ركھتے ہیں جن كی سماجی،مذہبی ،علمی سرگرمیاں داو پر ہیں جن كو ترنگا لہرانے كی بھی اجازت نہیں ۔اس معنی خیز منظر نامے كا بیان ناول میں یوں ملتا ہے:

“فارم ۔۔۔۔۔؟
اس نے پھر قہقہہ لگایا ۔موت کے دستاویز۔ آخر کب تک جیو گے ۔مارکیٹ میں پیسہ نہیں گھروں میں زندگی نہیں دکانوں میں راشن نہیں۔ ملنا ہے تو ایک بار مر جاؤ فارم پر دستخط کرو اور بتاؤ کہ کب مرنا چاہتے ہو۔۔۔ یہ نیا حکم نامہ ہے تم لوگوں کے لئے ۔میں تو اپنا کام کر رہا ہوں۔۔۔۔۔
ویسے بہت جلد بی مشن والے فارم لے کر تمہارے گھر آنے والے ہیں”(صفحہ نمبر ۲۰۹،مرگ انبوه)

ناول نگار موت کے تصور کو وسیع پیمانے پر دیکھتا ہے اور ملک کی عصری صورتحال کے پیش نظر طنزیہ جملے تحریر کرتا ہے:
“ملک کی بڑھتی آبادی اور ملک کی خوشحالی کے پیش نظر ہمیں مخصوص طبقے اور گروہ کے لئے محبت بھری موت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے پڑے “(صفحہ نمبر ۲۱۱،مرگ انبوه)

جنس اور بھوک بھی دو بڑی حقیقتیں ہیں ناول میں سوشل میڈیا کا عکس دکھاتے ہوئے جنس نگاری اور اس سے وابستہ معاملات بھی ناول کا موضوع بنتے ہیں اور کچھ ایسی سچائیاں پیش کرتے ہیں جن پر عموماً پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں تبدیلیاں ہوئیں وہاں پورن سائٹس کی طرف رجحان اور sex chatsکا تصور بھی در آیا جس سے نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ ہر عمر کے افراد کو وابستہ پایا گیا اسی رویے اور رجحان کو ناول نگار نے جہانگیر مرزا اور سبحان علی کے ذریعے بیان کرنے کی بھرپور سعی کی ہے :

“پورن سائٹ ،سیکس چیٹ کا راستہ بھی سبحان علی نے ہی سب سے پہلے دکھایا تھا مجھے یاد ہے وہ زور سے چیخا تھا اپنی اداسیوں کو ذلیل مت کرو اور خود کو مرنے کے لئے مت چھوڑو یہاں سب اپنی تھکان مٹانا چاہتے ہیں آپ کو ریلیكس ہونا ہے آپ كے آن لائن ہوتے ہی سمجھ جاتی ہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ بھوک ہے تو بھوک کا اقرار کرتے ہوئے شرمندگی کیسی؟ جسم میں آگ ہے ۔۔۔۔۔جسم میں آگ ہے تو اسے ٹھنڈا کر کے کیسے جیا جا سکتا ہے؟ یہاں تہذیب و روایت کی تھیوری کام نہیں کرتی۔”(صفحہ نمبر ۹۱،مرگ انبوه(

بدلتی ہوئی تہذیب اور پرانی تہذیب سے جڑی اخلاقیات جنریشن گیپ یا نیی اور پرانی نسل کا تقابل یا یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ تین نسلوں کا تقابل ناول کا خاص حصہ بنتا ہے جب جہانگیر مرزا کے والد اس کے گھر میں کچھ دن کے لیے ٹھہرتے ہیں اور اپنے پوتے پاشا مرزا کی حرکتوں اور مزاج سے ہر وقت خائف رہتے ہیں تو قاری بڑھتی ہوئی نسل کی سوچ اور بزرگوں کی سوچ میں ایک خاص فرق محسوس کرتا ہے اور اس فرق کی بڑی وجہ گلوبلائزیشن ہے۔

ناول نگار کے ہاں غیر جانبداری بے باکی اور حق گوئی شدت سے دکھائی دیتی ہے جس کا اثر مرگ انبوہ میں برابر محسوس ہوتا ہے ناول کی بُنت میں علامت نگاری اور مختلف تکنیک کا استعمال کیا گیا۔جو ناول کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں قصہ در قصہ کی تکنیک کے ساتھ خود کلامی، interior monologue، شعور کی رو اور ڈائری کی تکنیک کہانی کو خوبصورت بنانے کے لئے بخوبی استعمال کی گئی ہیں ۔منظر نگاری کہانی میں چلتے ہوئے کے حالات کے عین مطابق کی گئی ہے جو قاری کو سحر میں مبتلا کر دیتی ہے خوف اور جبر کا منظرنامہ ناول نگار نے جا بجا ہر جگہ ناول میں پیش کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کرداروں کی نفسیاتی گرہ کشائی بھی کی گئی اور جذبات نگاری كے عمدہ مرقعے مصنف نے پیش کیے۔ انقلاب پسند ناول نگار کا قلم طنز كے نشتر چلاتا ہوا بے رحم اور سفاك حكمرانوں اور نام نہاد سیاست كے پردے چاك كرتا ہے طنز سے بھرپور اور معنی خیز جملوں كی بھرمار ناول میں ملتی ہے۔ خوبصورت تشبیہات اور استعارات كا استعمال بھی ناول میں موجود ہے۔ كچھ مثالیں درج ذیل ہیں:

“آزادی كے بعد ہم ایك بیمار سیكولرازم كو معیار زندگی تسلیم كرتے رہے ۔یہ سیكولرازم جوتے میں سے نكلی ہوئی كیل سے زیاده نہیں ہے جو اكثر ہمارے پاوں كو زخمی كر دیتا ہے “(صفحہ نمبر ۱۰۲،مرگ انبوه)

“ہم تاریخ كے پیچھے كسی سایے كی طرح چلتے ہیں اور هہاری حالت اس كچھوے جیسی ہوتی ہے جو زمین پر آہستہ آہستہ رینگ رہا ہوتا ہے بہت تیز چلتے ہوئے بھی دراصل ہم كچھوے كی طرح رینگ رہے ہوتے ہیں”(صفحہ نمبر ۷۲، مرگ انبوه)

“اور پوتا ،اس كی نظروں میں ایسا شاطر پرنده ،جو ایسی تمام بندشوں كے پر كترنا جانتا ہو”(صفحہ نمبر ۷۵،مرگ انبوه)

علامتوں كا ایك جہان ناول میں آباد ہے اور ہر علامت مختلف قسم كے حالات كو مدنظر ركھ كر استعمال كی گی ہے جبر اور خوف كے اس ماحول میں معنی خیزعلامتوں كا استعمال ناول كو خوبصورتی عطا كرتا ہے۔سرخ كتا،گدھ،داڑھی ،آئینہ،سیاه رنگ،سرخ چیونٹیاں،بہروپیا،لچلچا جانور،بلیو وہیل،جادوگر یہ تمام الفاظ علامتوں كی صورت میں تلخ حقائق كو بیان كرنے كے لیے استعمال كیے گیے ہیں۔مختصر یہ کہ اپنے تمام تر فنی لوازمات كے ساتھ مرگ انبوه كو عصر حاضر كا اہم ترین ناول قرار دینا بے جا نہ ہو گا۔

Categories
تبصرہ

حسن کی صورتحال (خالی جگہیں پُر کرو): تکنیکی جائزہ – اقرا غفار

لالٹین پر یہ تحریر یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کی جا رہی ہے۔ یاسر حبیب “عالمی ادب کے اردو تراجم” نامی معروف فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ فیس بک صارفین تک تجربہ کار اور نوآموز مترجمین کا کام پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔

……………

بیسویں صدی میں جہاں جدیدیت اور روشن خیالی کے نظریات کا پرچار ہوا وہاں اس صدی کے اواخر میں جدید رویوں اور تصورات کی لہر بھی زور و شور سے ابھری آرٹ اور فنون کے تمام شعبے اور زندگی کے بہت سے معاملات جہاں جدیدیت کی دین سے متاثر ہوئے وہاں دوسری طرف مابعد جدیدیت کی واضح جھلکیاں بھی آرٹ اور فن میں برابر محسوس کی گئیں لہذا ادب بھی ان تحریکوں اور مابعد جدید رویوں کا تاثر قبول کیے بنا نہ رہ سکا اور اس کی بعض مثالیں اردو فکشن خصوصا ناول اور افسانے میں دیکھنے کو سامنے آئی جدیدیت کے علمبرداروں روشن خیالی یا خردافروزی کی شمع جلانے والوں كا تقسیم سے پهلے اور تقسیم كے بعد بھی ایك ریلا دكهای دیتا ہے اور ان سے متاثر ادیب بھی اپنی تخلیقات كے ذریعے نماینده نظریات كو كسی صورت میں پیش كرتے هیں مگر مابعد جدیدیت جسے تحریك كی بجایے صورتحال یا رویے كا نام دینا زیاده مناسب سمجھاگیا اس كے زیرِاثر لكهنے والوں كا گروه بیسویں صدی میں كم هی نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اكیسویں صدی كا سورج هی اس كی روشنی اپنے ساتھ لائے گا۔

مابعدجدیدیت ویسے تو انیس سو پچاس کی دہائی سے ادبی اور فکری منظر ناموں پر موجود تھی مگر اس نے عروج کی منزلیں انیس سو اسی میں طے کیں مگر ہمارے ہاں اس کا شورو غوغا اکیسویں صدی میں ہی بلند ہوا اور اب دنیا کے ہر کونے میں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے کہ ہم مابعد جدید عہد میں رہے ہیں۔مابعد جدیدیت نے عقل کے فراہم کردہ معیارات کوکڑی تنقیدی نظر سے دیکھا، پرکھا اور جانچا ۔ایک شے اس سے لازم و ملزوم قرار دی گئی جس کو تشکیک کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی ہر شے کو شک كی لیبارٹری سے گزارا جائے مابعد جدیدیت اپنے اندر بہت سے افکار اور نظریات کو سموئے ہوئے ہے جن میں لاکان ،دریدا ،فوکو ،بادریلا اور لیوتار کے خیالات کی واضح بازگشت سنائی دیتی ہے اور ان کے بغیر مابعد جدیدیت کا دائرہ کار مکمل نہیں ہو پاتا۔ دریدا نے رد ساخت یا رد تشکیل کا فلسفہ پیش کیا ردتشکیل کے مطابق متن کے معنی کا کوئی مرکز نہیں ہے اور اسی طریقہ کار میں متن کے متعینہ معنی کو بے دخل کرنے کا رجحان فروغ پاتا ہے دریدا نے ساختیات کے تصورات کو بنیاد بنا کر جن كو سوسیر(sauccer( نے پیش کیا تھا ان کو پلٹ ڈالا۔ رد تشکیل کا بنیادی سروکار معنی سے ہے اور اس بات پر بارہا اصرار کیا جاتا ہے کہ ایک لفظ کے مخصوص معنی نہیں بلکہ ایک سے زائد ہو سکتے ہیں اور ایک متن کی تشریحات بھی ایک سے زائد کی صورت میں ممکن ہے جس کے نتیجے میں پہلے معنی کی موجودگی ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا معنی یا مفہوم لے لیتا ہے اس کے مطابق زبان افتراقات کا نظام ہے اور یہی نظریہ افتراق دریدا کا مرکزی نقطہ ہے۔زبان کے جاری نظام میں معنی دو طریقوں سے پیدا ہوتے ہیں ایک فرق سے دوسرا التوا سے۔ اور اسی وجہ سے معنی خیزی کا عمل یاكھیل جاری رہتا ہے دریدا اس بات پر بھی اصرار کرتا ہے کہ معنی پیدا کرنے کا عمل “موجودگی” سے جڑا ہوا ہے مگر معنی تفریقی رشتے کے موجود اور ناموجود دونوں عناصر سے قائم ہوتا ہے۔

دریدا کے انہی نظریات كی واضح جھلكیاں مرزا اطہر بیگ کے ناول “حسن کی صورتحال (خالی جگہیں پر کرو(” میں ملتی ہیں جہاں ناول میں ایک نئی بیانیہ تکنیک متعارف ہوتی ہے اور سیدھی سیدھی کہانی بیان کرنے کی بجائے متن کی ایک سے زائد متبادل تشریحات پیش کرنے کا گر اپنایا جاتا ہے۔ ہر واقعے کی مختلف توضیحات پیش کرتے ہوئے” ہوسکتا ہے”کی تکرار ناول کا حصہ بنتی ہے۔ یعنی واقعہ ایک ہی ہے مگر اس کے پس منظر مختلف نوعیتوں کے بیان کئے جاتے ہیں اور حتمی پیشکش کی بجائے متعدد سطحوں كے معانی اور مفاہیم شامل ہوتے ہیں۔ مصنف جہاں خود تخیل كے سحر میں گرفتار ہو كر ایك واقعے كو بہت سارےمعنی پہناتا ہوا آگے بڑھتا ہے وہاں وه قاری كو بھی انگلی تھام كر ساتھ چلنے پر مجبور كرتا ہے اور قاری ایك ہی جست میں مصنف كا ہم خیال ہو كر ہر واقعے كے متعدد پس منظر اخذ كرتا ہے۔ قرات در قرات كا عمل ناول كے آغاز میں بھرپور انداز سے موجود ہ۔ے مرزا اطہر بیگ لكھتے ہیں :

“ہوسكتا ہے شخصیت كو وہاں قید كرنے كے بعد عام كپڑے پہنایے گیے ہوں اور اس كا سوٹ وہاں لٹكتا چھوڑ دیا گیا ہوجہاں سے اغوا كنندگان كے خیال كے مطابق كوئی نہیں دیكھ سكتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی ہو سكتا ہے یہ مكان شہر میں كام كرنے والے كسی درزی کا ہو اور درزی نے یہ سوٹ دبئی میں كام كرنے والے اور جلد ہی چھٹی پر گھر واپس آنے والے بیٹے كے لیے چرایا ہو۔۔۔۔۔”(صفحہ نمبر ۱۴،حسن كی صورتحال)

دریدائی نقطہ نظر جس کے مطابق متن معنی کا حامل نہیں ہوتا اور ایک سے زائد متبادلات اور تشریحات متن کے اندر موجود ہوتی ہیں اسی نقطہ نظر کو تکنیک بناکر اس ناول میں متعدد موضوعات کی فہرست ملتی ہے اور ناول نگار ایک سے زائد بیانیے ترتیب دیتا ہوا علامتوں کا ایک جہان بھی پیدا کرتا ہے۔ ناول میں جب متن تشکیک کے دوراہے پر کھڑا ہوکر اپنی تشریحات کے در وا کرتا ہے تو قاری بھی مابعد جدید عہد کی آواز پر متوجہ ہوتا ہے۔ حسن کے کردار کے ذریعے ناول نگار اس تکنیک کا استعمال کرتا ہے ،حسن جو کہ ایک اکاؤنٹنٹ ہے اور شہر سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کیمیکل فیکٹری تک کے اپنے سفر کے دوران متعدد چیزوں کو حیرت سے دیکھتا ہےاور اپنی قیاس آرائی سے ایک منظر كے تخلیق ہونے كی متعدد وجوہ سوچتا ہے:
“حسن نے ایسے مناظر دیكھنے شروع كر دیے تھے جو حقیقت میں كوئی وجود نہیں ركھتے تھے بلکہ حسن تو خود ” ہو سکتا ہے یہ میری نظر کا دھوکہ ہو” کو ہمیشہ خوف کے آخری ناقابل تردید متبادل کے طور پر قبول کیا کرتا تھا “۔

پھر اسی کردار کے اندر ایک تجسس پیدا ہوتا ہے کہ چیزیں یا مناظر جیسے نظر آتے ہیں ویسے کیوں ہیں یا ان کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔کیا صرف حسن کے واہمے اس كو کسی الجھن میں گرفتار رکھتے ہیں یا واقعتاًایك منظر یا چیز كے پیچھے متعدد تشریحات یا توضیحات موجود ہو سكتی ہیں۔ یہاں حسن كا كردار خود گفتگو كرتا ہوا نهیں ملتا بلکہ واحد متكلم كی تكنیك اپناتے ہوئے ناول نگار بار بار خود مخاطب ہو كرحسن كی سرگرمیوں پر تبصره كرتا ہے ناول نگار لكھتا ہے:
“ہم سمجھتے ہیں کہ یہی وہ وقت تھا جب حسن نے اپنی حقیقی ذاتی زندگی کو زیادہ حقیقی بنانے کا ہلاکت خیز فیصلہ کیا۔۔۔۔۔ حالانکہ اب بھی وہ اپنے اندر قائم ہونے والے متبادل منظر ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر کے مطمئن ہو سكتا تھا ۔۔۔۔۔ وہ سوچ سکتا تھا کہ ہو سکتا ہے نام کے تینوں الفاظ میں کہیں نہ کہیں کوئی فرق ہو جو کتبے کے پرانے ہونے ،فاصلے اور گاڑی کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے نظر نہ آتا ہو مثلا” حسن محسن ہو سکتا ہے احسن ہوسکتا ہے” (صفحہ نمبر ۲۳ حسن كی صورتحال)

ناول نگار ناول کے آغاز میں ہی آگے آنے والے واقعات یا کہانیوں یا بیانیوں کے بارے میں آگاہ کرنے اور متعارف کروانے کی غرض سے قاری کا ذہن بناتا ہے تاکہ قاری جاری شدہ بیانیے کی تکنیک کو سمجھ کر آگے بڑھے اور بوریت یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہو اس لیے حسن کے کردار کو ایک مختصر طریقے سے متعارف کروا کے دوسرے باب” حیرت کی ادارت” میں داخل ہوتا ہے جہاں حسن کے حیرانیوں پر تبصرے اور ایک واضح نوٹ دیا گیا ہے کہ:-
“( مطالعہ اختیاری پچیدہ فکری مباحث سے نالاں قاری اس باب کو نظر انداز کر سکتے ہیں)”

اس نوٹ سے قاری کی دلچسپی میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور کمی بھی ہو سکتی ہے مگر اس طرح کے ابواب جہاں فکری مباحث اور فلسفیانہ مباحث کے در کھولتے ہیں وہاں دوسری طرف ناول کی صنف سے ہٹ کر كوئی دوسری شے معلوم ہوتے ہیں ۔ناول نگار کہانی اور حیرانی کے الفاظ کو مخصوص پیرائے میں استعمال کرتے ہوئے اپنی تحریر کو ناول کی صنف میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حسن کے کردار کو متعارف کروانے والے باب کو بھی کہانی کی بجائے بھرپور حیرانی کا نام دیتا ہے ناول نگار لکھتا ہے:
“ان ممکنہ سوالات کے حوالے سے فی الحال ہم یہ وضاحت پیش کریں گے کہ کہ اچٹتے خوف کی داستان بھی درحقیقت ایک “حیرانیہ” ہے۔۔۔۔۔
گو تمہیدی ہونے کی وجہ سے کہیں کہیں کہانیاں ہونے کا خواندگی واہمہ پیدا کرتا ہے” (صفحہ نمبر ۳۱،حسن كی صورتحال)

یہاں ناول نگار کے نقطہ نظر کی واضح شبیہ نظر آتی ہے جس کا مقصد قاری كو کہانی سے لطف اندوز ہونے کا موقع مہیا کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد حیرانی کے جہان کے مختلف واقعات سے آگاہ کرنا ہے جہاں ہر واقعہ اپنی جگہ قاری کو حیران کرتا ہوا، ایک الگ پس منظر اور کہانی کے ساتھ ملے گا۔۔ مگر حیرانیوں کی یہ عمارت بھی کہانی کے بغیر استوار نہیں ہو سکتی۔ سیدھی سادی کہانی بیان کرنے کی بجائے ناول نگار کی ساری نظر اس کو تکنیکی مہارتوں میں تبدیل کرنے پر صرف ہوتی ہے اور ناول میں بلاجھجک اس کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ ردتشکیل کی اس فلسفیانہ اصطلاح کے استعمال كے بغیر یہ فضا پیدا کرنا ناممکن تھا جہاں ایک سے زائد موضوعات اور ایک سے زائد ہمنام کردار ہر باب میں ایک نئے پس منظر اور نئے زاویوں کے ساتھ موجود ہوں۔ ہر کردار کی کہانی مختلف اور ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی ہوں۔ ایک ہی نام کے کردار ہر طبقے میں دکھانا اور ان کرداروں کے توسط سے متعدد علامات کا معنی خیز پیرائے میں اظہار ناول کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مثال کے طور پر: انیلا بلال کے نام سے کردار سکرپٹ رائٹر بھی ہے اور عوامی تھیٹر میں کام کرنے والی ، میلوں میں اداکار انیلہ سسی بھی ہے اور تیسری صورت میں انیلا بلال سنگ تراشی کی تعلیم حاصل کرنے والی ایک آرٹسٹ اور ایریا مینیجر سعید کمال کے بیوی بھی ہے اسی طرح سعید کمال ،صفدر سلطان كے كردار بھی ہم نامی كے پیرایے میں ایك سے زاید كہانیوں یا حیرتوں كے ساتھ ملتے ہیں۔

جہاں ایک بیانیہ دوسرے بیانیے کی جگہ لیتا ہوا اور ایک حیرت دوسری حیرت کو رد کرتی ہوئی قاری کو تیسرے جہان میں لے جاتی ہے جس کی آگاہی ناول نگار نے حیرت کی ادارت باب میں یوں دی :-
“حسن کی صورت حال میں ایک حیرت سے نجات کسی دوسری حیرت کے ذریعے ہو سكتی ہے جبکہ کہانی میں اور خاص طور پر مضبوط کامیاب کہانی میں حیرت کے خاتمے کا جشن منایا جاتا ہے “(صفحہ نمبر ۳۱ حسن كی صورتحال )

ناول نگار ردتشکیل کے فلسفے کی تکنیک کو ایک طرف رکھتے ہوئے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا تذکرہ کرکے قاری کو ایك ایسے کباڑ خانے میں لے جاتا ہے جہاں ہر شے اپنی جگہ پر مکمل علامت کے طور پر موجود ہے اور جہاں حیرت کی ایک فضا ابھرتی ہے ۔کباڑ خانے میں موجود ہر شے کا ایک پس منظر ہے۔ اس کباڑخانے سے متعارف کروانے والی حسن کی وہی اچٹتی منظر بینی ہے جس کا وہ روز کے سفر کے دوران عادی ہو چکا ہے اور اسی منظر بینی کے دوران قاری اس عہد سے متعارف ہوتا ہے جس میں ایسا کباڑ خانہ ترتیب دیا گیا ہے یہ اسی کی دہائی ہے یعنی ۱۹۸۰ کی۔ پاکستان میں یہ عہد جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کا تھاجب اظہارو خیال پر سخت پابندیاں عاید کی جا چکی تھیں اور زبان بندی کی رسم عام تھی۔ ان پابندیوں سے انحراف کے نتیجے میں جو سزائیں دی گئیں اور جس طرح سے آرٹسٹوں کو جلاوطن کیا گیا اسی طرح کی ایک مثال اس کباڑ خانے میں موجود بوتل کے ذکر سے ملتی ہے اس بوتل کی کباڑ خانے میں آنے سے پہلے كیا جگہ تھی اور کس مقام پر موجود تھی كباڑ خانے میں کس طرح پہنچی اور اس كے ساتھ کیا کیا ہو سکتا تھا ۔ایسی کئی قسم کی تشریحات کے بعد ایسی بوتلوں کو خریدنے والے اور استعمال میں لانے والے کے ساتھ کیا ہوا اس کا ذکر قاری کو اس عہد کے منظرنامے کی واضح تصویر دکھاتا ہے:
” درحقیقت وہ نوجوان یونیورسٹی کے آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم تھا اور مجسمہ سازی کی تربیت حاصل کر رہا تھا فائنل امتحان کا کام جسے وہ” تھیسز” کہتا تھا اس نے بوتلوں سے ایک مجسمہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے سفید سیمنٹ، پلاسٹر اور دوسرے جوڑنے والے کیمیکلز کی مدد سے بوتلوں کو ایک خاص ترتیب میں جوڑا ۔۔۔۔اور دیکھنے والے حیران رہ گئے کہ وہ جدید مجسمہ ایک باریش انسانی چہرے جیسا نظر آتا تھا جس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور منہ بھی خون اگل رہا تھا مجسمہ ساز نے اپنے شاہکار کو” برداشت كا کلچر” کا عنوان دیا لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے تھیسز کو اپنی ڈگری کے امتحان کے لیے پیش نہ کرسکا ۔طلباء کے ایک گروہ نے راتوں رات ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوکر” برداشت کا کلچر ” ہتھوڑوں سے چکنا چور کردیا اور ایک طرف دیوار پر لکھ دیا اس ڈیپارٹمنٹ کا بھی وہی حشر ہوگا جو سومنات کا ہوا تھا”۔

ناول ایک جست کے ساتھ علامتی رخ اختیار کرتا ہوا کباڑ خانے میں موجود چیزوں کی سرگزشت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ تہذیبی خردافروزی پر پر مبنی مسودہ جو غلطی سے کباڑ خانے میں بھیج دیا جاتا ہے جو دنیا کی تاریخ بدل سکتا تھا اس کی ضرورت اور تلاش قاری کو حیرت میں ڈال دیتی ہے اور میگا فون کی کہانی جس کی ضرورت تھیٹرکے ایک بونے کو ہے اس کے علاوہ استعمال شدہ جوتوں کے تسمے،جمع شدہ ڈاک کے ٹکٹ ،عظیم رہنماؤں کے تھوک، عظیم نجات دہندہ سے رہائی کی صورت میں بٹنے والی مٹھائیاں وغیرہ یہ ایسی اشیا ہیں جو قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔

ناول نگار کے ہاں طنز کی کاٹ ناول کے اس بیانیہ کو( جس کو وه حیرانیے کا نام دیتا ہے( دلچسپ بنادیتی ہے گوکہ ناول میں ربط کے ساتھ کہانی کا عنصر موجود نہیں اور نہ ہی ناول کے پلاٹ پر کوئی خاطر خواہ نظر کرنے کی صورت موجود ہے مگر حقیقت پیش کرتے ہوئے ناول نگار طنزیہ پیرائے میں بے باک ہو کر معاشرے کا نوحہ لکھتا ہے :
“آہ ۔۔۔۔مثلا” کیا ۔۔۔۔۔آپ پوچھتے ہیں کیا۔۔۔۔ جی مثلاًعظیم رہنما کا تھوک۔ دیکھیں میرا نظریہ یہ ہے کہ عظیم رہنما کی ہر چیز عظیم ہوتی ہے اس کی کوئی چیز عامیانہ اور گھٹیا نہیں ہوسکتی اس کا بول و براز بھی نہیں۔ اس کا فضلہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔نہیں جناب میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔ کیا آپ نہیں جانتے عظیم رہنما وہی ہوتا ہے جو تاریخ پر دلیری سے تھوک سکے اور جب چاہے خود سے رہنمائی مانگنے والے ہجوم پر پلٹ کر اسے اپنے پیشاب سے شرابور کرسکتا ہے اور اپنے فضلے سے لت پت کر سکتا ہے ۔ (صفحہ نمبر ۶۴۔۔حسن كی صورتحال)

ناول نگار ضیاالحق دور کی عکاسی کے لیے جو ایك اور تکنیک ناول میں اپناتا ہے وه سرئیلزم کی تکنیک ہے جہاں اس تکنیک کا آغاز ہوتا ہے وہاں قاری کباڑ خانے سے نکل کر ایک فلمی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جو سوانگ پروڈکشنز کی ایسی دنیا ہے جو کہ ایک فلم بنانا چاہتی ہے فلم کا نام “یہ فلم نہیں بن سکتی” ہے۔اس فلم کے بے معنی عنوان کے ساتھ بہت سی چیزیں جڑی ہوئی ملتی ہیں جس بنا پر یہ عنوان تجویز کیا جاتا ہے اسی فلم کے بننے کے دوران جب کباڑ خانے کی شوٹنگ کی طرف ڈائریکٹر مڑتا ہے تو فلیش بیک کی تکنیک بھی ناول کا حصہ بن جاتی ہے۔

سرئیلزم کی تکنیک جذبات اور احساسات کے خالص اظہار پر اور لاشعوری کیفیات میں کسی بھی قسم کی رنگ آمیزی سے گریز پر زور دیتی ہے اور اس کا واحد مقصد سچائی کی کھوج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی عمل کا آزادانہ اظہار ہے جس بنا پر اس کو مخرب اخلاق پر مبنی اور انتشار پسندی کی حامل تحریک بھی قرار دیا گیا۔

ایسی ہی انتشار پسندی یا بکھراؤ قاری کو اس ناول میں محسوس ہوتا ہے مگر جہاں کھلم کھلا اظہار و بیان پر پابندیاں عائد ہوں وہاں ایسی تحریکوں اور تکنیک کا رواج پانا عام سی بات ہے ۔ناول نگار اسی تکنیک سے مابعد جدیدیت کے پیدا کردہ اس پہلو پر بھی پہنچتے ہیں جو مقامی ثقافتوں کو فروغ دینے کی طرف انسان کو مائل کرتا ہے۔

کباڑ خانے کی شوٹنگ کے ساتھ ساتھ اس فلم کے لوگ مقامی میلے بھاگاں والے کی بھی شوٹنگ کی طرف جاتے ہیں جہاں سرکس دکھانے والے، موت کا کنواں دکھانے والے، دو سروں والا کھوتا دکھانے والے کردار موجود ہیں۔ یہاں دو قسموں کی دنیا سامنے آمنے سامنے ہوتی ہے ایک فلمی دنیا جو تعلیم یافتہ افراد اور مقامی صنعت کاروں کی ہے مگر ثقافت اور اس سے وابستہ اداروں پر پیسہ خرچ کرنے کی بنا پر مختلف دھمکیوں کا نشانہ بن چکی ہے اور دوسری طرف میں میلے کے وہ چھوٹے اداکار جو کم تعلیم یافتہ بلکہ اکثر ناخواندہ اور اپنی ناٹک منڈلیوں سمیت جگہ جگہ منتقل ہونے کو “وچھوڑے” کا نام دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے ناٹكوں اور میلوں كو “كنجر خانے” كہہ كر بند كروانے كی دھمكیاں ملتی ہیں۔ ان دونوں میں ایك گہراتضاد موجود ہے مگر دونوں كی صورتحال اس عہد كی عكاسی كر رہی ہے جہاں جبر كی فضا عام ہے جس كی پیشكش كے لیے ناول نگار آغاز میں حسن كی ذہنی كیفیت اور سوانگ پروڈكشنز میں بننے والی فلم كے كرداروں كے جذبات و احساسات كے ساتھ ان كی لاشعوری كیفیات اور فكر كو سرئیلسٹ طریقے سے بیان كرتا ہے:-
“سیفی گھسیٹتا ہے میرا جی چاہتا ہے سیدھا تمہارے جبڑے پر ہیٹ کروں اور کرتا جاؤں۔ عجیب بات ہے ایسے پرتشدد خیال مجھے پہلے تو کبھی نہیں آئے۔ یہ کہاں سے آیا خیر تو کھیل شروع ہو گیا ہے اور لگتا ہے یہ اندر باہر سرئیلسٹ ہوگا” (صفحہ نمبر ۱۶۳ ،حسن كی صورتحال )

سیفی: واہ چیف – یہ تم نے بہت پتے کی بات کی- آپے سے باہر ہونا جب حقیقت آپے سے باہر ہو جاتی ہے ریئل ازم (Realism)آپے سے باہر ہو جاتی ہے تو سرئیلسٹ ہو جاتی ہے ۔خطرہ بہت شدید ہے کہ سرئیلسٹ فلم بنانے والوں کی اپنی دنیا بھی آپے سے باہر نہ ہو جائے سکرین پلے آپے سے باہر ہو جائے “(صفحہ نمبر ۱۷۱ ،حسن كی صورتحال)

ناول نگار مابعد جدید عہد کے تقاضوں اور پاکستان کی موجودہ صورتحال سے بخوبی واقف ہوتے ہوئے ایسی تکنیک کا سہارا لیتا ہے اور عصری صورت حال کی عکاسی کرتے ہوئے تکنیک کا جواز بھی فراہم کرتا ہے ناول نگار نے ایک انٹرویو میں بتایا :
سریلزم کی بیس (Base)خواب پر ہے واہمہ پر ہے اور یہ فرائیڈ کے Dreams سے نکلا ہے یہ سریئلزم ایک ڈراؤنا خواب ہے بالکل۔ اور ہم، ہماری معاشرتی صورتحال ،ہم سب مسلسل ڈراونے خواب میں ہیں یہ آجکل جو بلاسٹ، بم دھماکے وغیرہ ہو رہے ہیں ہمیں واقعی سرئیلزم سوٹ کرتا ہے مشرقی معاشرے کے تمام حالات و واقعات ہم سب کے سامنے موجود ہیں”۔

مابعد جدیدیت ثقافتی نقطہ نظر کی حامل صورتحال ہے اور ہم مابعد جدیدیت كے عہد میں زنده ہیں اس نقطہ نظر كا فروغ ناول نگار كے مطابق انتہا پسندی كو ختم كرنے كا ذریعہ بن سكتا ہے مگر ناول میں موجود واقعات مقامی ثقافت كو ختم كرنے بلكہ جڑ سے اكھاڑ دینے والے دلخراش بیانیے كو جنم دیتے ہیں پولیس كے افراد مقامی تھیٹر والوں كے ساتھ جو سلوك روا ركھتے ہیں اس كابیان یوں ملتا ہے:
“یہ كنجر لوگ ہیں ان كاكام ہی یہ ہے بس عملہ ذرا شغل میلہ كر رہا ہے یك دم سےاپنی بات۔۔۔شغل میلہ۔۔۔میلہ ہی تو ہے شغل ادھرہے ۔۔۔ویسے میں تمہیں بتادوں تم فلموں والے ہو نا۔۔۔۔یہ سارے بدمعاشی كھاتے ،زانی دھندے،بس سال دو سال كی بات ہیں سب بند ہو جائیں گے وه سب بند كر دیں گے ۔۔۔كون؟ سیفی كے منہ سے بے ساختہ نكلتا ہے رانا حیرت سے ۔۔۔وه جنہیں نیكی بدی كا پتہ ہے جن كے ااندر حیا ہے غیرت ہے عالی جاه كہتے ہیں یہ سب پاك كرنا پڑے گا ۔۔اصل نعره تو یہ ہے ،پاك كرو صاف كرو ۔۔اور یہی كام تم اس وقت كر رہے ہو ۔۔۔سیفی اپنے اوپر قابو ركھنے میں ناكام رهتا ہے”(صفحہ نمبر ۴۳ حسن كی صورتحال)

ناول میں متعدد جگہوں پر عصری صورتحال کی عکاسی کرتے ہوئے ناول نگار نے پاکستان کو فرقہ واریت میں مبتلا ،بم دھماکوں میں گھرا ہوا ،خوف اور جبر کا شکار اور کلچر یا ثقافت سے گریز پا، ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا کردہ مسائل کا شکار اور توہمات میں گھرا ہوا پیش کیا۔ بہزاد ڈائریکٹر اور سعید کمال کا کردار ثقافت اور آرٹ کو فروغ دے کر انتہا پسندی کے تمام مسائل کو ختم کرنے کی جستجو کرتے نظر آتے ہیں:-

” بہزاد: لوک ثقافت میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن مسئلہ یہ ہے ہمارا ایک ہی سگنل پر کچھ بڑے نقش بنانے والوں کے لیے غلط ہو سکتا ہے اور کچھ کے لئے بہت صحیح۔۔۔۔۔۔
سر: کہ کلچر آرٹ موسیقی رقص فلم یہ سب خالی جگہیں ہمیں پُر کرنا ہوں گی ہمیں پُر کرنا ہوگی نہیں تو وہاں کچھ اور گھس جائے گا۔
آواز :ہاہاہا۔۔۔ ایکسیلنٹ۔۔۔ ان کے دماغ میں بات کو ڈال دو بلے۔۔۔۔ طریقے سے ۔
سر: لیکن دیکھ لیں سر ۔وہاں “روک دینے والے” “بند کر دینے والے “بھی ہوں گے ۔”۔(صفحہ نمبر ۳۰۲ حسن كی صورتحال۔۔۔۔)

بنیاد پرست رویوں میں گهرے ہوئے اور روشن خیالی کی بنیادوں کو تھامے ہوئے کردار بھی فلم میں موجود ہیں ۔فلم کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ناول نگار نے فلمی اصطلاحوں کو بھی مکالمہ کی صورت میں بخوبی برتا ہے اور ایک شوٹنگ كا مکمل انداز ناول میں موجود ہے ۔ناول میں شوٹنگ كی اصطلاحات كا ذكر یوں ملتا ہے:
“مڈ شاٹ: سعید كمال اپنے گھر میں –نچلے طبقے كے گھر كا باورچی خانہ ۔فرش پر دری بچھی ہے ۔سعید كمال۔۔۔
كٹ
كلوز شاٹ: ایك پیلے رنگ كی گھنٹی كی شكل كا پھول
جس پر سرخ دھبے ہیں zoom out پورا پودا سامنے آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
پین شاٹ: گلزار نرسری كا اندرونی منظر سامنے آتا ہے بلاشبہ ایك زبردست نرسری ہے پھول دار موسمی۔۔۔۔۔۔
ٹریكنگ شاٹ: ملازم كے POV سے آگے بڑھتے ہوئے ۔۔ٹیڑھے میڑھے رستے پر سے گزرتے ہویے كنول كے پھولوں كا ایك تالاب نظر آتا ہے (صفحہ نمبر ۱۵۹حسن كی صورتحال )

بلاشبہ تكنیكی اعتبار سے یہ ایك غیر معمولی ناول قرار دیا جا سكتا ہے۔ اردو ناول میں پہلی بار سکرپٹ رائٹنگ، سکرپٹ، سکرین پلے اور فلم كے دیگر لوازمات كو بطور تكنیك استعمال كیا گیا ہے ایك كامیاب فلم لكھنے والا بہت سے مناظر کے درمیان جن اصولوں كو مد نظر ركھتا ہے ناول نگار نے ان تمام چیزوں كو ملحوظ خاطر ركھتے ہوئے اردو ناول كی روایت سے ہٹ كر ایك منفرد اور كامیاب تجربہ كیا ہے۔ مگر اسی تجربے كی بنا پر وه ناول كی روایتی صنف كے ساتھ انصاف نہیں كر سكے۔