Categories
نقطۂ نظر

آکر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر

برصغیر میں دہشت گردی کوئی آج سے نہیں۔ ہمیشہ صرف اورصرف “جنابِ مذہب ” کی خوش دلی کے لیے انسانوں کو مارا گیا۔اور یہ سلسلہ تب سے شروع ہوا جب وادیءِ ٹک شاسیلیہ “ٹیکسلا” میں جین اور بدھ مت کے مذہبی مراکز، “دھرما راجیکا”، “سرکپ” اور “جولیاں” کے علاوہ تخت بھائی کے مذہبی عبادت خانوں پر بیرونی حملہ آوروں “وایٹ ہنوں” نے دھاوا بول دیا۔ جیسے بامیان کے مجسموں کو ڈائنمایٹ سے اُڑیا گیا اُسی طرح بابری مسجد اور ملُتان کے قدم مندر پرہلاد کو منہدم کردیا گیا۔ یہ سب کچھ مذہب کے نام پر ہوا۔تاریخ مُلتان میں درج ہے کہ پہلے پہل مُلتان میں آدیتہ “سورج” کا مندر ہوا کرتا تھا جسے قرامطیوں نے آکر برباد کر ڈالا۔ بعد ازاں حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم سے دہشت گردی کی وہ رسم چلی کہ اندرا گاندھی اور ان کے بچوں تک اور پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان سمیت سب کو ختم کر ڈالا۔کچھ کو ریاستی دہشت گردی نے نہیں چھوڑا جن میں ذوالفقار علی بھٹو اور بھگت سنگھ کے نام آتے ہیں ۔

 

جیسے بامیان کے مجسموں کو ڈائنمایٹ سے اُڑیا گیا اُسی طرح بابری مسجد اور ملُتان کے قدم مندر پرہلاد کو منہدم کردیا گیا۔
پچھلے دنوں مشہور قوال امجد فرید صابری دہشت گردی کا شکار ہو گئے۔ ناجانے اُن کی کون سی ایسی بات دہشت گردوں کو ناگوار گزری کہ اُن سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ دہشت گرد یہ نہیں سوچا کرتے کے وہ پانچ بچوں کے باپ ہیں۔ اُن بچوں پر کیا گُزرے گی۔ان کی بیگم، ان کےبہن بھائی عزیز رشتے داراب ان کی پیاری پیاری بھولی باتوں سے محروم ہوجایئں گے اور بچے دستِ شفقت سے۔ امجد صابری نے کیا کیا تھا؟ کیا بگاڑا تھااُن کا؟ وہ تو زخمائے ہوئے غم کھائے ہوئے لوگوں کی جھولی بھرنے کی دعایئں مانگا کرتا تھا۔ تاجدارِ حرم سے نگاہ کرم کی استدعا کرنے والا صوفی درویش صفت آدمی تھا۔ شاید ہارمونیم کے ُسُر اور طبلے کی تھاپ دہشت گردوں کو ناگوار گزرتی ہے۔نسماعتوں سے ہوتے ہوئے دل میں اُتر جانے والی دھنیں اُن سے برداشت نہیں ہوتیں۔ اُن کے دل اس قدر سخت اور پتھر ہو چکے کہ انہیں فقط رونے چِلانے اور دھاڑوں کی آوازیں سکون دیتی ہیں جبکہ پوری دنیا کے ڈپریشن میں مبتلا ازہان انہی سمفنی اور دھنوں کو سُن کر اپنا من بہلاتے ہیں مگر یہ سکون آور ساز دہشت گردوں کی سماعتوں پر گراں گزرتے ہیں۔

 

یہ مقتل گاہ کب وجود میں آئی۔ جہاں علم اور فنونِ لطیفہ کی تمام ہستیوں کو مار ڈالا گیا۔ یا اس بے حس معاشرے میں اہل دماغ خود چل بسے۔ جو باقی ہیں بہت سو نے اپنے کندھوں پر صلیبیں اُٹھا رکھی ہیں اور کچھ نے کفن تک پہن لیا ہے۔اور باقی معاشرہ جو اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے اور ان کے دماغ سُن کر دیے گئے ہیں۔اور وہ سفید پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کو یوں دیکھ رہے ہیں جسے پوچھنا چاہتے ہوں کہ کیا ہم زندہ ہں۔ ایک دوسرے سے زندگی کی گواہی مانگ کر زندہ رہنے والے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ لگنے والے معاشرے میں جب پیشاور کے ایک فوجی اسکول میں ننھے منھے بچوں کی خون آلود کتابوں اور گولیوں سے چھلنی جسموں پر تتلیاں آ کر بین کرنے لگیں تو اس بے حس معاشرے کو کچھ نہیں ہوا۔ دو دن روئے پھر دل کو تسلی ہو گئی لاہور میں مسیحی جوڑے کو اس لیے زندہ جلا دیا گیا کہ وہ فقط مسلمان نہیں تھے۔لیکن انسان تو تھے۔

 

اس عرض پاک پر بہتروں بار ناحق خون بہایا گیا۔ جو لوگ آزادی لے کر یہاں آکر بسے ان کو وڈیروں نے اپنا غلام کر دیا۔ جو یہاں سے بھارت جا بسے وہاں شدت پسندوں نے بندھی بنا لیا،غضب دیکھِیے کہ بھارت کے صوبے گجرات میں انسانوں کومسلمان سمجھ کر اور پاکستان کے ہر صوبے میں انسانوں کو غیر مسلم سمجھ کر ان کا قتل عام ہوا۔ آج جس قدر انسانوں کا خون زمین کے لیے ارزاں کیا گیا ہے میں تاریخ دانوں اور اہل علم سے سوال کرتا ہوں ہوں کیا یہ مظالم، یہ کِشت و خون جو اب یہاں ہندوستان پاکستان میں ہو رہا ہے جلیانوالہ باغ سے کم ہے؟ کیا تقسیم میں جب انسانوں کو اپنے گھروں سے نکلال کے مار ڈالا گیا اُن مظالم سے بہنے والا خون آج بہنے والے خون سے زیادہ سرخ تھا؟ کسی طور نہیں۔ زندہ قوموں میں اتنی قتل و غارت گری پر راتوں رات انقلاب جنم لیتے ہیں مگرہم عمران خان کے دھرنوں پر خوش ہونے والے یا نواز شریف کو شیر بنانے والے بے حس، اپاہج اور مفلوج لوگ ہیں۔

 

ریئس امروہوی کی وفات پر اُن کے باکمال بھائی جون ایلیا نے کہا تھا کہ ظالموں کو ان کے دماغ کی افادیت کاعلم تھا اسی لیے ان کے دماغ میں ہی گولیاں گاڑھی گیئں۔
اسی شہر میں جہاں امجد صابری ایسے فنکار کو مارا گیا اسی شہر کی فیوض و برکات کا جائزہ لیں تو بہت پہلے ایک دماغ کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ جس کا نام تھا ریئس امروہوی۔ وہ اس معاشرے کی بہبود کے لئے اپنا فن استعمال کرتے تھے۔ ریئس امروہوی کی وفات پر اُن کے باکمال بھائی جون ایلیا نے کہا تھا کہ ظالموں کو ان کے دماغ کی افادیت کاعلم تھا اسی لیے ان کے دماغ میں ہی گولیاں گاڑھی گیئں۔ وہ سر تا پا دماغ ہی تو تھے۔ ایک اوربڑے نباض ماہر طبیب اور اپنی حمکت آموز تحریروں سے درد مندوں اور طالبانِ علم کو سیراب کرنے والے حکیم محمد سعید بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ اور بعد ازاں نڈر صحافی محمد صلاح دین کو بھی مار ڈالا گیا۔

 

محسن نقوی جیسے شعرا کو بھی مار ڈالا گیا۔ اگر انہیں نا بھی مارا جاتا تو وہ خود کشی کر چکے ہوتے۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اُستاد نصرت فتح علی خان طبعی وفات نہ پاتے تو اب تلک وہ بھی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہوتے۔ یہ معاشرہ جینے کے لیے نہیں روز روز مرنے کے لیے ہے۔ وہ خوبصورت دماغ جنہوں نے اپنی ڈگریاں سمیت اپنے بچوں سمیت خود کو حکومتی اداروں کی عمارتوں کے مقابل زندہ جلا دیا ان کا نوحہ کون لکھے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سعادت حسن منٹو سمیت وہ بہت سے ادیب جو معاشرے کے ننگے سچ اور زندگی کے زہر میں اپنا قلم بھگو کر لکھ رہے تھےاور پھر اپنی طبعی موت مر گئے؟ ہرگز نہیں یہ معاشرہ جینے کے لیے نہیں روز روز قطرہ قطرہ زہر پی کر مرنے کے لیے ہے۔ سقراط نے بھی یہی زہر پیا تھا اور شری شِو شنکر نے بھی۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ اہل دماغ نے پہلے سوچ لیاکہ یہ بدن جائے اماں نہیں رہا۔

 

پاکستان کے معروف جواں سال شاعر آنس معین بلّے سے لے کر شکیب جلالی اور ثروت حسین تک سب نے اپنی اپنی زندگیوں کی راہ پر خطِ تنسیخ کھینچا۔ اور بقول شکیب۔

 

آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

 

آنس نے کہا
نہ تھی زمین میں وسعت میری نگاہ جیسی
بدن تھکا ہی نہیں اور سفرتمام ہوا۔

 

ثروت کہہ اُٹھے کہ
میں سو ریا تھا اور میری خواب گواہ میں
اک اژدھا چراغ کی لو کو نگل گیا۔

 

یہ معاشرہ جینے کے لیے نہیں روز روز قطرہ قطرہ زہر پی کر مرنے کے لیے ہے۔
موت کو اژدہے کی صورت چراغ کی روشنی کو نگلنے کے استعارے کے طور پر برتا گیا۔ مگر آج وہی اژدہا کبھی سر پر صافہ اوڑھے اور لمبی داڑھی کے ساتھ ہاتھ میں کلاشنکوف اُٹھائے کبھی گیروا رنگ پہنے گلے میں منکے پہن کر ماتھے پر تلک لگائے انسانوں کو بے رحمی سے قتل کرنے میں مذہبی فریضے کی طرح جُتا ہے۔ بدھ مت کو تو سکون محبت و آشتی کا علمبردار کہا جاتا رہا مگر بدھا کے ماننے والوں نے برما میں ایسے رنگ برمائے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ اسے مذہب کہتے ہیں؟ کیا تم صحیفوں سے یہی مطالب نکالتے ہو کہ مذہب کے نام پر مار ڈالا جائے۔ خودکشی نا سہی خود کش دھماکے سہی۔۔۔۔ یہ خود کش دھماکے، حادثے اور شدت پسندی سب موت کی بے رحم تکون سے عکس ریز ہوتی ہوئی تصویریں ہیں وہ منظر نامے ہیں جو سب صداقتوں پر مشتمل حقائق ہیں جو بانسری کی سُر، طبلے کی دھن تا دھن نا اور ستار کے مترنم آہنگ کو لہو لہو کیے ہوئے ہیں۔ ساز ویران ہیں اور شمعیں بُجھی ہوئی اور سُر خاموش ہیں۔ اہل علم کے ساتھ ساتھ اب فنکاروں کو بھی مذہبی دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

 

پاکستانی اور ہندوستانی حکومتیں اور اُن کی آئیڈیالوجی نے بھی معاشرے مین زہر گھولا ہے۔ یہ جملہ گنے چنے سیاسی خاندان اور شدت پسندی کو فروغ دینے والی سبھایئں۔ یہ جنتا پارٹیاں یہ مسلم لیگیاں ذمےدار ہیں اس معاشرے کے۔۔۔۔ جہاں لوگ خود مر جاتے ہیں یا مار دیے جاتے ہیں۔

Image: Mural of Amjad Sabri by S. M. Raza and Aqib Faiz

Categories
نقطۂ نظر

بہار ایسے تو نہیں مناتے

موسم بہار کی آمد سے خزاں کے جانے کی خبر ملتی ہے مارچ کے تیسرے ہفتہ میں دنیا بھر میں موسم بہار کا استقبال ہر مذہب، نسل اور ملک کے لوگوں نے اسے اپنے رائج طریقوں سے کیا۔ بہار کو مذہب سے منسوب کرنے کی رسم بھی تمام ممالک اور قوموں کی ثقافت میں رائج ہو چکی ہے۔ ایران میں بہار سے منسوب نورز شہداء انقلاب اسلامی کی یادآوری سے جوڑا جاتا ہے اور اس خصوصی موقع پر ملک بھر میں شہداء کی قبور پر حاضری دی جاتی ہے وطن عزیز کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں تاہم ان کے نزدیک ہر وہ دن نوروز ہے جس دن ملک و قوم کو کامیابی حاصل ہو۔ ایران میں ہی زرتشت مذہب کے پیروکار اور پاکستان میں گلگت بلتستان کے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے لوگ نوروزکے نام سے اس دن کو خصوصی طور پر مناتے ہیں۔ دنیا بھر میں مقیم ہندووں نے ہولی کہ جس کی ابتدائی تاریخ ملتان سے ملتی ہے جوش و خروش سے منائی۔

 

پارک میں موسم بہار کی خوشگوار ہوائیں خون کی ہولی میں تبدیلی ہو چکی تھیں، یہ جی اٹھنے کا دن تھا مگر لوگ زمین پر اوندھے منہ پڑے تھے زمین پر سینکڑوں افراد کا خون یہ دہائی دے رہا تھا، “ہماری خوشیوں کے قاتل بہار ایسے تو نہیں مناتے”۔
تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو بہار کی آمد پر ہندوستان میں مقیم صوفی مسلمانوں نے بھی گلابی دن کے طور ہندووں کے ساتھ ہولی کا تہوار منایا۔ اکبر بادشاہ، حضرت نظام الدین اولیاء امیر خسرو اور مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر بھی ہولی کو سماجی روایت جانتے ہوئے اپنے ہندو وزراء کے ہمراہ گلابی دن کے عنوان سے مناتے تھے گویا تمام مذاہب کے پیروکاروں نے اپنے خطے کی ثقافت کے مطابق بہا رکو منایا۔ بہار کو منانے کا ایک اور انداز ایسٹر بھی ہے عیسائی مذہب کے مطابق یہ حضرت عیسیٰ کے جی اٹھنے کا دن ہے اس لئے تمام دنیا میں 22 مارچ سے 25اپریل کے دوران یہ دن کسی ایک اتوار کو دھوم دھام سے منایا جاتا ہے حضرت مسیح سے قبل بھی اس دن کو موسم بہار کی آمد پر دیوی ایگلوسکسین کے نام سے منایا جاتا رہا ہے۔

 

پاکستان کے شہر لاہور میں ایسٹر کے روز مسیحی برادری نے اپنی عید کی خوشیوں دوبالا کرنے کے لئے گلشن اقبال پارک کا رخ کیا۔ موسم بہار کا ایک اورسورج غروب ہوچکا تھا پارک میں اتوار او ر ایسٹر کے باعث ہجوم تھا چار سو خوشیوں کے میلے تھے کہ ایک درندہ صفت انسان کہ جس کا کوئی مذہب نہ تھا، جسے نا سماجی روایات کے تقدس کا بھرم تھااور نا ہی بہار منانے کے کسی طور طریقے سے آشنائی۔۔۔ نفرت و دشمنی کی فکر سے لبریز انسانیت کا یہ دشمن پارک میں داخل ہوا اور اپنی تمام نفرتوں کے ساتھ پھٹ گیا اور اپنے قریب موجود درجنوں افراد کو زمین کا رزق بنا دیا۔ پارک میں موسم بہار کی خوشگوار ہوائیں خون کی ہولی میں تبدیلی ہو چکی تھیں، یہ جی اٹھنے کا دن تھا مگر لوگ زمین پر اوندھے منہ پڑے تھے زمین پر سینکڑوں افراد کا خون یہ دہائی دے رہا تھا، “ہماری خوشیوں کے قاتل بہار ایسے تو نہیں مناتے”۔
Categories
نان فکشن

زخم ابھی تازہ ہے

8 نومبر 2006ء کا دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس وقت میں کالج کا طالب علم تھا اور حسب معمول کالج جارہا تھا۔ درگئی (ضلع مالاکنڈ) بازار کے مرکزی چوک پہنچتے ہی ہماری گاڑی کی طرف ہوا کا ایک زوردار جھونکا آیا اور پھر دھماکے کی آواز۔ ہم نے اس وقت تک خودکش دھماکے کا نام تک نہیں سنا تھا لیکن کالج پہنچنے پر معلوم ہوا کہ درگئی کے پنجاب رجمنٹ سنٹر پر اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب فوجی جوان معمول کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ کالج سے رجمنٹ سنٹر کا راستہ قریباً 10 منٹ میں طے کیا تو دور سے ہی خون آلود لاشیں نظر آنا شروع ہوگئیں، قریب جانے کی ہمت نہیں پڑی، دور ہی دور سے ‘تماشا’ دیکھ کر ہم ہسپتال پہنچ گئے کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہسپتال میں زخمیوں کو خون کی اشد ضرورت ہے۔ وہاں پر قیامت صغریٰ کی کیفیت تھی۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور زخمی تڑپ تڑپ کر فریاد کررہے تھے۔ 9 نومبر کو سنا کہ یہ 30 اکتوبر 2006ء کو باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ میں واقع ایک دینی مدرسے پر اس حملے کا ردعمل تھا جس میں 82 لوگ مارے گئے تھے۔

 

دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی میں شدت نوے کی دہائی میں اس وقت آئی جب تکفیری جہادی تنظیموں کے اراکین نے دیگر مسالک کے پیروکاروں کے خلاف حملے شروع کیے۔ لیکن دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ خصوصاً کشمیر جہاد پر پابندی عائد کرنے اور دوسری طرف افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کی وجہ سے پاکستانی جہادی تنظیموں نے بھی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز کیا۔ تاہم پاکستان بھر میں دہشت گردی کو غیر ضروری عوامل کی بناء پر ‘جائز’ قرار دیا جاتا رہا۔ ہماری اس وقت کی فوجی قیادت (جو ملک پر حکومت بھی کر رہی تھی) یہ ادراک کرنے میں ناکام رہی کہ طالبان دہشت گرد امریکی حملے سے قبل بھی پاکستانی “اثاثہ” نہیں بلکہ دشمن ہی تھے۔

 

دہشت گردی کے واقعات پاکستان افواج کی دوسرے ممالک پر دباو ڈالنے کے لیے جہادی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی کی غلط پالیسی اپنانے کے بعد سے ایک تسلسل سے جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں اعدادوشمار اور معلومات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔ سال 2000 کراچی اور حیدرآباد میں دو بم دھماکوں میں 12 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اگلے سال (2001ء) میں بہاولپور کے ایک گرجا گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سال 2002ء میں کل 14 بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں کم از کم 92 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک امریکی سفارتکار، اس کی بیٹی اور معروف صحافی ڈینئیل پرل بھی شامل ہیں۔

 

دہشت گردی کے واقعات پاکستان افواج کی دوسرے ممالک پر دباو ڈالنے کے لیے جہادی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی کی غلط پالیسی اپنانے کے بعد سے ایک تسلسل سے جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں اعدادوشمار اور معلومات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔
سال 2003ء میں 8 کے قریب دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے جن میں 50 سے زائد افرادجاں بحق ہوئے۔ اسی طرح سال 2004ء میں 18 دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 200 کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے۔

 

سال 2005ء میں دہشتگردی کے قریباً 11 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 105 کے قریب لوگ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔

 

سال 2006 میں 657 مختلف واقعات میں 907 سے زائد لوگ مارے گئے۔ ان واقعات میں 40 فرقہ وارانہ واقعات بھی شامل تھے۔

 

سال 2007ء میں دہشت گردی کے تقریباً 1503 واقعات رونما ہوئے جن میں 20 خودکش دھماکے بھی شامل تھے جن میں سے زیادہ تر میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات میں 3448 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

سال 2008ء میں 2148 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ہلاکتوں کی تعداد 973 بتائی گئی ہے۔

 

سال 2009ء میں 2586 کے قریب واقعات رونما ہوئے جن میں سے زیادہ تر فرقہ وارانہ اور مسلکی بنیادوں پر کئے گئے حملے تھے۔ ان حملوں میں 3021 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔

 

پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن ہم نے سانحہ پشاور سے قبل مذہبی بنیادوں پر جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی جرات مندانہ اور سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
سال 2010ء پاکستان کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا جس میں 2000کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

 

سال 2011ء میں بھی پاکستان محفوظ نہ رہا اور قریباً 400 سے زائد افراد دہشت گردی کے مختلف واقعات میں لقمہ اجل بنے۔

 

سال 2012ء ایک بار پھر پاکستان کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا جس میں دہشت گردی کے تقریباً 214 واقعات رونما ہوئے۔ اسی سال ایک ہی دن میں کئی حملے پاکستانی عوام نے دیکھے اور ہزاروں لوگ اسی واقعات میں لقمہ اجل بنے۔

 

سال 2013ء میں قریباً 72 ایسے واقعات رونما ہوئے جن کو صرف رپورٹ کیا گیا لیکن ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

 

سال 2014ء وہی بدقسمت سال ہے جس میں آرمی پبلک سکول پشاور کے ساتھ ساتھ 8 جون کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ، واہگہ بارڈر، پاکستان نیوی کے پی این ایس ذوالفقار، ایس ایس پی چوہدری اسلم اور کوئٹہ کے پی اے ایف بیس پر حملہ بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس سال 315 سے زائد افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

 

سال 2015ء ختم ہونے کو ہے لیکن یہ سال بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان، قبائلی علاقہ جات، اقلیتوں اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا ہے جس میں 206 کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اب تک دہشت گردی کے ہاتھوں پچاس سے ستر ہزار تک افراد گنوا چکا ہے۔

 

یہ مختصراً وہ واقعات ہیں جو پاکستانی یا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کیے گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں اسی تعداد میں لوگ دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں بلکہ کئی ایسے علاقے اب بھی ہیں جہاں تک ذرائع ابلاغ کی رسائی ممکن نہیں اور نہ ہی وہاں پر ہونے والے واقعات ہم تک پہنچ سکے ہیں۔

 

یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے اورپتہ نہیں کب تک جاری رہےگا۔ پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن ہم نے سانحہ پشاور سے قبل مذہبی بنیادوں پر جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی جرات مندانہ اور سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ خٰیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں جاری آپریشن اور اس سے پہلے ہزاروں لوگ اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، لاکھوں بے سر و سامان اور بے یار و مددگار مختلف کیمپوں اور خیموں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہم نے سانحہ پشاور اور ضرب عضب سے پہلے ایسے ہی سنحات کو سازش، غیر ملکی ہاتھ، امن مذاکرات اور مذہب کے نام پر دہشت گردی قرار دینے اور متحد ہونے سے انکار کیا، 16 دسمبر 2014 سے قبل نہ تو پاکستانی میڈیا نے دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کا بیڑا اٹھایا اور نہ ہی کسی نے کوئی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا۔ہم ابھی بھی بے گھر افراد کے نام پر وصول ہونے والے فنڈز کے صحیح استعمال پر آمادہ نہیں، فاٹا میں اصلاحات کے لیے فعال نہیں اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف امن پسند بیانیے کی تشکیل و ترویج کے لیے متحرک نہیں۔

 

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز کسی کی نیت پر شک کا اظہار کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ 16 دسمبر 2014ء سے پہلے بھی بہت سے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ان کی قربانی بھلانا ان کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
16 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا اور پاک فوج کے ترجمان (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے مطابق اس دوران 3400 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، ان کے 837 خفیہ ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں اور خفیہ اطلاعات کی بنیا د پر 13200 آپریشن کیے گئے ہیں جن میں 183 خطرناک دہشت گرد مارے گئے جبکہ 21193 گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں 488 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 1914 زخمی ہوچکے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں کارروائیاں، گرفتاریاں اور دہشت گردوں کی ہلاکتیں دہشت گردوں سے پاک ایک خوش کن تصویر پیش کر رہی ہیں۔ لیکن اس آپریشن کی شفافیت پر بھی لوگوں کی طرف سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے جاچکے ہیں تو میڈیا یا عام لوگوں کی نظروں سے کیو ں اوجھل ہیں؟ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اچھے اور برے دہشت گردوں کے درمیان تفریق کی پالیسی ترک کی گئی ہے یا نہیں؟ اگر دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی گئی ہے اور اب وہ کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو پھر کراچی، کوئٹہ، پشاور، پارا چنار اور لاہور میں دہشت گردانہ کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟

 

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز کسی کی نیت پر شک کا اظہار کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ 16 دسمبر 2014ء سے پہلے بھی بہت سے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ان کی قربانی بھلانا ان کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اگر ہم اے پی ایس کے شہداء کی یاد میں سکولوں کو ان کے ناموں کے ساتھ منسوب کررہے ہیں، عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، شمعیں روشن کی جا رہی ہیں، بڑے بڑے سیمینار کرائے جا رہے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ ان بچوں کی شہادت کے بعد ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ایسے واقعات کو آئندہ روکنے کے قابل ہو گئے ہیں؟ کیا یہ طے کیا جا چکا ہے کہ مستقبل میں ہماری ریاست جہادی تنظیموں کی سرپرستی نہیں کرے گی؟ یہ سوالات میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں اور درخواست بھی کروں گا کہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی یاد کرنے کی کوشش کریں جنہوں نے اس جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

Of Holy Months and Unholy Terror

Zoha Waseem

Of-Holy-Months-and-Unholy-Terror-2

‘And so, the contention is, Ramadan is “the month of Jihad”. Yet, there can be no moral equivalence between a battle fought in self-defence, such as those waged by the Prophet during Ramadan, and brutal militant attacks that maim and murder innocent men, women, and children. Just because some of the most important battles of Islamic history occurred during Ramadan, it does not mean that murder could ever be justified. Ever.’ – Hesham A. Hassaballah (2013)

It began in 624 C.E., on the 17th Ramadan. The great Battle of Badr was to mark the beginning of the first conflict in Muslim history fought during the holy month of Ramadan. This historical event is regularly exploited within terrorists’ rhetoric for recruiting militants and justifying violence.

It began in 624 C.E., on the 17th Ramadan. The great Battle of Badr was to mark the beginning of the first conflict in Muslim history fought during the holy month of Ramadan. This historical event is regularly exploited within terrorists’ rhetoric for recruiting militants and justifying violence. Of the dozens of historic conflicts ensuing since that year, remembered in contemporary history are the Ramadan War of 1973 (also known as the Yom Kippur War or the fourth Arab-Israeli War); the Lebanese civil war, which began in 1975 and continued through seventeen months of Ramadan; Operation Ramadan, the first battle in the Iran-Iraq war fought in 1982, one of the largest land battles since World War II; the first Palestinian intifada, which began in 1987 and was waged over 6 Ramadans; and the 2003-2007 Iraq war.

Today, terrorists worldwide allude to these conflicts non-contextually to wage their own versions of jihad. In the Middle East and North Africa, countries such as Lebanon, Egypt, Algeria, Yemen, and – most notably – Iraq, have regularly suffered from these extreme narratives.

Abu Musab al-Zarqawi
Abu Musab al-Zarqawi

It was on the third of Ramadan in 2004, when Abu Musab al-Zarqawi, a world renowned terrorist known for advocating suicide attacks and hostage executions, pledged allegiance to Osama bin Ladin, leading to the creation of Al Qaeda in Iraq. In his pledge, he reportedly stated that ‘with the appearance of Ramadan, the month of the gift of victories, Muslims are compelled to join forces and be a stick in the eye of Islam’s enemies’. It was his affiliate that called a surge of terrorist activity in Ramadan their ‘blessed foray of violence’. This year, mid-way through the holy month, Al-Qaeda in Iraq (AQI) carried out one of the most alarming prison breaks in recent history. As the world watched Iraq crumbling amidst sectarian violence, 500 militants broke out of Baghdad’s notorious Abu Ghraib prison.

In 2006, just two weeks before Ramadan, Osama bin Laden’s second-in-command Ayman al-Zawahiri released a video tape threatening Algerians who were still reeling from a civil war. ‘The Salafist Group for Preaching and Combat (GSPC) has joined the Al Qaeda organization… may this be a bone in the throat of American and French crusaders, and their allies, and sow fear in the hearts of French traitors and sons of apostates’. GSPC has existed in Algeria since the 1990s. Since its transformation into Al Qaeda in the Islamic Maghreb, Algeria has experienced a spike in terrorist activity during Ramadan.

The month of Muharram, like Ramadan, too has borne the brunt of such activity and rhetoric, with Shias being targeted in Lebanon, Iran and Iraq. In 2012, in a streak of bombings on the eve of Muharram, 17 people were killed across Iraq. But seldom has a country witnessed the threat of Muharram violence that Pakistan has.

Last year, an arrested TTP militant in Karachi, Akhtar Mehsud confessed during interrogation that four suicide bombers had been trained and selected to carry out attacks during Muharram processions in the city. Law enforcement and intelligence agencies worked intensively to ward off security threats during the month of commemoration, successfully foiling several attempts as was revealed by suspects arrested from various cities in Punjab between 2010 and 2013.

The prevailing threat stems from violently sectarian rhetoric embossed with Islamic history. On December 28 2009, Pakistan’s largest procession of Shias was targeted in Karachi, killing 43 and causing the city to erupt in clashes amongst rioters. TTP claimed responsibility, notifying the use of a suicide bomber. The attack came a day after suicide attacks killed 15 near Pir Alam Shah Bukhari’s tomb in Muzaffarabad.

December 28 2009, bombing in a procession of Shias at Karachi, killing 43
December 28 2009, bombing in a procession of Shias at Karachi, killing 43

Last November, a remote-controlled bombing in Dera Ismail Khan during Muharram took eight lives. TTP spokesperson Ehsanullah Ehsan was quick to justify that the group ‘carried out the attack against the Shia community’. Other than TTP, responsible for inciting violence during Muharram are Lahskar-e-Jhangvi and its mother-ship Sipah-e-Sahaba Pakistan.

‘The holy month of jihad’, has suffered its share of violence in Pakistan as well, hazed by sectarian tones. In 2010, multiple blasts targeted a Shia procession in Lahore killing 30. They were followed shortly by a suicide attack on Shias in Quetta which killed more than 50 people. This year, the deadliest attack targeting Shias during Ramadan took place in Parachinar, taking over 56 lives. Media channels, perhaps too distressingly involved in comic Ramadan transmissions, failed to provide adequate coverage to such an atrocity.

Apart from sectarian attacks during Ramadan, Pakistan has witnessed a surge of other TTP and LEJ-led attacks including those on police recruits in Mingora that killed 16 (2009); the attack on a mosque in Khyber agency which claimed 50 lives (2011); a rage of attacks in Khyber Pakhtunkhwa and FATA in the beginning of Ramadan in 2012; a mosque attack in Kohat on the first day of Ramadan and the Sukkur attacks on ISI headquarters (2013). Every TTP and LeJ-led rhetoric during Ramadan in Pakistan has been dressed in the kafan of jihad.

Adding to these holy months of martyrdom is the factor of Islamic charities, several of which collect funds for jihad, attracting zakat during Ramadan, such as Jamaat-ud-Dawa. Last year, the government prohibited collection of zakat and donations by banned groups and/or outfits, but given that several of these are unregistered, tracing and controlling financing through illicit charitable donations remains a serious problem in Pakistan.

Undertaking an offensive during a religious period has dual characteristics: motivation for the terrorist group and vulnerability of the target.

If external jihad was not enough, the Pakistani Taliban seems to have become caretakers of the practice of internal jihad as well. TTP-South Waziristan’s Mullah Nazir recently banned men and women from wearing tight or see-through clothing in Ramadan – a move that bears no religious or historic significance, and one TTP fails to explain the ‘Islamic’ nature of. The Ramadan ‘code of conduct’ issued by TTP has further warned one month of imprisonment for not fasting in South Waziristan.

Attacks during Rabbi-al-Awwal, the third month of the calendar, have hit several cities in the country as well. While citizens – Sunni, Shia, Ahmedis and Christians alike – celebrate the birth of the Prophet, aggressive disapproval is made known by certain Deobandi, Wahabi and Salafi groups in Pakistan who strongly oppose these celebrations and see fit to attack rejoicing participants. It takes but a mention of Nishtar Park to remind Karachiites of the 56 citizens killed during an attack carried out in 2006 by Lashkar-e-Jhangvi operatives on Barelvi Sunnis responsible for organizing the ceremony.

What triggers escalation of violence during sacred times is a subject of much contention. Ron E. Hessner wrote that ‘sacred dates in the religious calendar provide meaning to the faithful by evoking history, social structure or religious precepts and, ultimately, by hinting at the underlying order of the cosmos’. Instigators of violence during sacred months seem to benefit from the so-called ‘auspicious’ timing of attacks, almost in an attempt to justify them, vindicating initiators from guilt and shame.

The best way to contain this vicious cycle of motivation and vulnerability is through changing perceptions towards extremist rhetoric by providing alternate interpretations of religious history.

Undertaking an offensive during a religious period has dual characteristics: motivation for the terrorist group and vulnerability of the target. Religious periods act as force multipliers, motivating militants to act with greater ferocity and fervour on holy days that resonate with their cause (such as the motivation to instigate violence against Shias during Muharram). Hessner’s findings on the Iraq conflict between 2003 and 2009, for example, illustrate that in Ramadan the average number of terrorist attacks increased by 7.2%, with sectarian attacks alone rising by 8.3%. Zarqawi’s quote below represents the rhetoric employed for this motivation.
‘Sunnis, wake up, pay attention and prepare to confront the poisons of the Shiite snakes, who are afflicting you with all agonies since the invasion of Iraq until our day. Forget about those advocating the end of sectarianism and calling for national unity.’ – Abu Musab al-Zarqawi (2006), former leader of al Qaeda in Iraq (2006)
Vulnerability of the group being attacked is the second characteristic influencing the rise of conflict during a religious period. Attacking Shia processions during Muharram or Friday mosque-goers during Ramadan are known as ‘surprise attacks’, meant to weaken the ‘enemy’ further by endangering its mobilisation on days most significant to the practitioners. Vulnerability encourages motivation. Motivation becomes a show of hadd and jurrat, thus furthering vulnerability. By definition, ‘hadd’ can mean either ‘limit’ or ‘a punishment which is fixed and enjoyed as the right of Allah’. For the purposes of extremism, it implies more conclusively the extremes one is willing to reach in order to punish apostates or non-believers. ‘Jurrat’ (bravery or courage) – with regards the tactical utilisation of terrorism – refers to the theatrical display of violence highlighting strength and power in order to suppress the adversary and impress the following.

The best way to contain this vicious cycle of motivation and vulnerability is through changing perceptions towards extremist rhetoric by providing alternate interpretations of religious history. It must also be accounted that violence has blooded histories of all religions and can never be utilised as a means of successfully spreading or eradicating belief systems. Salafi preacher Sayyid Qutb, Zawahiri’s mentor, spent his ink and sweat advocating for an offensive jihad, whereas the Prophet devoted his life insisting on its defensive and internal nature. Understanding the difference is a good place to start.

 


Zoha-Waseem

Zoha Waseem is from Karachi and has a post-graduate from King’s College London in Terrorism, Security and Society.