Laaltain

اونگھ

عشق وہ سرحدِ افلاکِ تمنا پہ کھڑا
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر ،کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے

انتظار کا الو

میں پرانا قیدی ہوں مجھ سے
دیواروں سے محبت نہیں ہوتی
ہوتی ہے تو پھر نفرت نہیں ہوتی
میں اپنے گوشت کے محاصرے میں بند
اپنے بدن کے ہراول دستوں کا سپاہی
میں اپنی ناف پر کمند ڈال کر
اس شہر کو گرانے آیا ہوں
تم سے جو ہوتا ہے
تم وہ کر لو

سُر منڈل کا راجا

پورب پنچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا