Categories
شاعری

اونگھ

[blockquote style=”3″]

عاصم بخشی کی یہ نظم اس سے قبل “اشارات” پر بھی شائع ہو چکی ہے، عاصم بخشی کی اجازت سے یہ نظم لالٹین پر شائع کی جا رہی ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اونگھ

[/vc_column_text][vc_column_text]

آنکھ لگ جاتی ہے
نیلا سا دھواں
جوفِ تصور سے نکلتا ہے
کہر بنتا ہے

 

تن وہ خیمہ ہے جو سر ڈھانپے
تو پیروں کو
عیاں کرتا ہے

 

دل وہ خنجر کہ جو
سینے میں ترازو ہے
دھڑکتا ہے
تو دم گھٹتا ہے

 

آنکھ اک ننھا سا بچہ ہے
جو منظر کی دُھلی قاشوں پہ
تیزی سے لپکتا ہے
نگلتا ہے
ہراک لحظہ دہن بھرتا ہے

 

وقت مزدور ہے لاغر سا
جو لمحات کی گٹھڑی لئے
تاریخ کی گلیوں میں
ازل دن سے
پھرا کرتا ہے

 

نطق اک حاملہ بڑھیا ہے
جو صدیوں سے
بس اک لفظِ مکمل ہی کو جننے کی طلب
دل میں لئے
تکیۂ امکاں سے
لگی بیٹھی ہے
اور کوکھ میں
حرفوں کا الاؤ سا سلگتا ہے
بدن جلتا ہے

 

عشق وہ سرحدِ افلاکِ تمنا پہ کھڑا
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے

 

آنکھ کھل جاتی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

آوازیں آتی ہیں
اَن جانی سمتوں سے اَن جان آوازیں آتی ہیں
روشنیوں کے دائرے ٹوٹتے رہتے ہیں

 

کہنے کو تو کتنا کچھ انسان کے دستِ بیش بہا میں ہے
کتنے سیّاروں کی روشنیاں اِن آنکھوں کی قید میں ہیں
کتنی دنیاؤں کی آوازیں اِن کانوں کے قفل میں ہیں
پھر بھی اَن جان آوازیں آتی ہیں

 

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر، کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے

 

اَن جان آوازیں آتی ہیں
جیسے آفاق پہ کوئی دَیو دھاڑتا ہے
جس کی سانسیں سہمے سینوں میں پھنکارتی ہیں
جس کے دانت اِن جسموں کے پاتال سے پیوستہ ہیں
جس کے پنجے پُشت کی گہرائی تک اُتر گئے ہیں

 

آوازیں آتی ہیں
اَن جانی روشنیوں کے سائے
سورج کو گہنا دیتے ہیں
اور آوازوں کے تعاقب میں
ہم شہرِ عدم تک آجاتے ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

انتظار کا الو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

انتظار کا الو

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں پرانا قیدی ہوں مجھ سے
دیواروں سے محبت نہیں ہوتی
ہوتی ہے تو پھر نفرت نہیں ہوتی
میں اپنے گوشت کے محاصرے میں بند
اپنے بدن کے ہراول دستوں کا سپاہی
میں اپنی ناف پر کمند ڈال کر
اس شہر کو گرانے آیا ہوں
تم سے جو ہوتا ہے
تم وہ کر لو

 

میں پرانا قیدی ہوں مجھ سے
گھنٹیوں سے محبت نہیں ہوتی
گھنٹیاں مجھ پر مامور ہیں
ٹنٹناہت میں آدمی
بے خوف و خطر
لرزتا ہوا
گم

 

گھڑی میں دو جلّاد
ہر ساعت
ایک لمحہ ٹانگ رہے ہیں
اب اجازت دو
گھنٹیوں کے خدا
کہ میں لکھ دوں اپنے معافی نامے پر
ایک گھنٹے کا نام
جو گھڑی کی پشت پر بجے
جس کی گردن سلامت رہے
جو کبھی گزر ہی نہ سکے
اور خدا نہ کرے
ایسا ہو کبھی

 

مجھے جینے کے لیے
ذاتی خدا چاہیے

 

چاند
دال برابر
آسمان کا پھوڑا
آؤ چاند پر تھوک دیں
ہم مریخ کی لال مٹی سے
دو پتلے بنانا چاہتے ہیں
کنواری لالی جعلی سے
پوچھنا چاہتے ہیں
بتا!
اب تیرا خدا کون ہے؟

 

میں تمہیں ہاتھ لگاؤں؟

 

میرے زرد شہر، آسمان سے کٹ کر
اپنی نالیوں میں سے
مرے ہوئے جھوٹے خدا چن رہے ہیں
میری زرد آنکھیں
خدا ساز ہستیوں کے چنگل میں پھنس کر
اپنا دم گھونٹ رہی ہیں
اب آنکھ میں بینائی
تنہائی سے تنگ آ کر
خود پر ایمان لے آئی ہے
انتظار کا الو
ہوک رہا ہے

 

چھو منتر کی گڑیا
چھو منتر
چھو منتر ہوگئی
زمین
دروازے سے کان لگا کر بیٹھی ہے
الله بولنے والا ہے
ورنہ کائنات کی ہنسی چھوٹ جاۓ گی
یا لفظ چیخ چیخ کر
پھٹ جائیں گے
کن فیکوں کی سنجیدگی
ٹوٹ جانی چاہیے
الله کو اب بولنا پڑے گا

 

دائرے
حرام زادے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

یہ بغاوت بھری نظم سنتی کہاں ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

یہ بغاوت بھری نظم سنتی کہاں ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

کئی بار سوچا
قلم کو معطّل کروں
اور احساس معزول کر دوں
سُکوں سے جیوں
جس طرح سے سبھی جی رہے ہیں
” مجھے کیا، کہ میں تو سُکھی ہوں” کے اوراد پڑھتے ہوئے
ڈیم کئرینگ طبیعت کے حامل
یہ خود ساختہ ” سیلف سینٹیرڈ” لوگوں کے مانند جیتا رہوں
کم سے کم
یہ جو میں آئے دن کربِ تخلیق کا دردِ زِہ سہ کے نظمیں جنے جا رہا ہوں
تو اس کارِ وحشت سے تو جان چھوٹے !
( مجھے دردِ زِہ سے ” یونہی” یاد آیا کہ عورت پہ ہر دم سلامی رہے)
اور کَئی بار سینے کے اندر دھڑکتی ھوئی نظم سے یہ کہا ہے
کہ اے موجِ خوں
اے بغاوت کی لَو
اندرونے میں جی
تجھ کو دالانِ دنیا میں آنے کا چسکا پڑا ہے
مگر یہ زمانہ ہے
اور اس کے نخرے میں سچ کی سماعت کہیں بھی نہیں ہے
مِری جاں یہ دنیا بڑی نک چڑھی ہے
مگر یہ بغاوت بھری نظم سنتی کہاں ہے
یہ الّہڑ حسینہ
کمر کس کے آتی ہے
دنیا کے نخرے ہوا میں اُڑاتی ہے
اور آ کے کہتی ہے
ہاں ؟ کیا کہا ؟؟
تم ذرا پھر بتانا کہ کیا کہہ رہے تھے ؟؟
تو مین مسکراتے ہوئے دیکھتا ہوں
قلم چومتا ہوں ۔۔ !

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

سُر منڈل کا راجا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

سُر منڈل کا راجا

[/vc_column_text][vc_column_text]

پتلے کانچ کی دیواروں پر بُن کر رات کے جالے
ٹھنڈے دلوں کے گاڑھے لہو پر پڑھ کر منتر کالے
میں جادوکے دیس چلا ہوں ،جس کے پار اُجالے
نیل سرا میں کھو جائیں گے مجھ کو ڈھونڈنے والے

 

چھونے والے پاس آئے تو پاس نہ آنے دوں گا
سِحر نگر میں پری محلہ ، پریوں پاس رہوں گا

 

آنکھ ہوا کی بھر آئے گی دھندلائیں گے تارے
راہِ سفر میں جاگ اُٹھیں گے ٹھہری نیند کے مارے
تیز اڑے گی جیت ہماری ،اُونگھنے والے ہارے
چھن چھن چھاجا چھنکائیں گے چھُپ بیٹھے ہنکارے

 

پورب پنچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا

 

آخری پربت کی برفوں پر پھول ازل کا نیلا
آب حیات رگوں میں جاری لیکن چہرہ پیلا
مُلک سراب کی جادو گرنی اور جادو کا ٹیلا
جوں جوں پربت پھیلتا جائے توں توں ماتھا گیلا
ڈوبنے والے نام پکاریں لیکن میں شرمیلا
آخر کھینچ لیا منتر نے، ایک چلا نہ حیلہ

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
Image: M. F. Hussein