[blockquote style=”3″]
[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][vc_column_text]
نیلا سا دھواں
جوفِ تصور سے نکلتا ہے
کہر بنتا ہے
تو پیروں کو
عیاں کرتا ہے
سینے میں ترازو ہے
دھڑکتا ہے
تو دم گھٹتا ہے
جو منظر کی دُھلی قاشوں پہ
تیزی سے لپکتا ہے
نگلتا ہے
ہراک لحظہ دہن بھرتا ہے
جو لمحات کی گٹھڑی لئے
تاریخ کی گلیوں میں
ازل دن سے
پھرا کرتا ہے
جو صدیوں سے
بس اک لفظِ مکمل ہی کو جننے کی طلب
دل میں لئے
تکیۂ امکاں سے
لگی بیٹھی ہے
اور کوکھ میں
حرفوں کا الاؤ سا سلگتا ہے
بدن جلتا ہے
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
