Categories
نان فکشن

وجودِ کائنات

[blockquote style=”3″]

رابرٹ ایڈلر کا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

مصنف: رابرٹ ایڈلر
ترجمہ: فصی ملک

 

لوگ اس سوال پر ہزارہا سال سے مغز ماری کرتے آ رہے ہیں کہ کائنات اپنا وجود کیوں رکھتی ہے۔تقریباً تمام قدیم تہذیبوں نے تخلیق کی ایک اپنی ہی کہانی پیش کی ہے جن میں سے بہتوں نے معاملات کو خدا کے اوپر چھوڑ دیا ۔ جب کہ فلسفیوں نے اس مضمون پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔لیکن سائنس نے اس بنیادی سوال کے بارے میں بہت کم رائے دی ہے۔

 

تاہم رواں برسوں میں کچھ ماہرینِ طبیعیات اور کونیات نے اس کا جواب تلاش کرنا شروع کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب ہمیں کائنات کی تاریخ اور جن قوانین پر یہ کام کرتی ہے ان کی آگہی حاصل ہو گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس معلومات سے ہمیں اس چیز کا اشارہ ملے گا کہ کائنات اپنا وجود کیسے اور کیوں رکھتی ہے۔

 

ان کا (بجا طور پر) متنازعہ جواب یہ ہے کہ کائنات – انفجارِ عظیم(Big Bang) کے آتشی گولے سے لے کر ستاروں سجی کائنات تک جس میں اب ہم رہتے ہیں- عدم(nothing) سے یک لخت وجود میں آئی۔وہ کہتے ہیں کہ ایسا ہونا ہی تھا کیوں کہ عدم فطرتی طور پر غیر مستحکم(unstable) ہے۔

 

یہ ہیں وہ (وجوہات) کہ کس طرح عدم سے کچھ وجود میں آیا ہو گا۔

 

خالی فضا سے بنتے ذرات:

 

سب سے پہلے ہمیں کوانٹم میکانیات کے دائرہِ کار پر نظر ڈالنی ہو گی۔یہ طبیعیات کی وہ شاخ ہے جو ہمیں چھوٹی اشیاء جیسا کہ جوہر یا اس سے بھی چھوٹی چیزوں کے بارے میں جانکاری دیتی ہے۔ یہ ایک بہت ہی کامیاب نظریہ ہے اور بہت سارے جدید برقیائی گیجٹس(electronic gadgets) کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

 

کوانٹم میکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ تہی فضا جیسی کوئی شئے نہیں ہے۔حتٰی کہ مکمل خلا بھی ذرات اور ضد ذرات کے ہیجان پذیر کہر سے بھری ہوئی ہے جو لپک کر وجود میں آتے ہیں اور پھر فوراً ہی واپس عدم میں کوچ کر جاتے ہیں۔ یہ مجازی ذرات، جیسا کہ ان کو کہا جاتا ہے، اتنی دیر زندہ نہیں رہتے کہ ہم بلاواسطہ ان کا مشاہدہ کر سکیں مگر ہم ان کے اثرات سے جانتے ہیں کہ یہ وجود رکھتے ہیں۔

 

لامکان اور لا زمان سے آیا زمان و مکان:

 

جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔
اضافیت کوانٹم میکانیات سے بہت مختلف ہے اور آج تک کوئی بھی ان دونوں کو ٹھیک سے متحد نہیں کر پایا۔تاہم کچھ نظریہ دان منتخب تقارب(chosen approximations) کی مدد سے کچھ خاص مسائل پر دونوں نظریات کو ملانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ طریق کار کیمبرج یونیورسٹی کے سٹیفن ہاکنگ(Stephen Hawking) نے ثقب اسودوں(black holes) کی وضاحت کے لیے استعمال کیا تھا۔

 

ایک چیز جس کا انہوں نے پتا چلایاہے یہ ہے کہ جب کوانٹم نظریے کو فضا پر چھوٹے پیمانے پر لاگو کیا جاتا ہے تو سپیس بذاتِ خود غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ کلی طور پر ہموار اور استوانہ رہنے کی بجائے زمان اور مکان غیر مستحکم ہو کر زمان و مکان کے بلبلوں کے کف(foam) جی شکل اختیار کر لیتا ہے جو وجود پاتے اور فنا ہو تے جاتے ہیں۔
باالفاظ دیگر، زمان و مکان کے بلبلے فی البدیہہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایری زونا سٹیت یونیورسٹی کے لارنس کراس کا کہنا ہے کہ اگر زمان اور مکان قدریائی(quantized) ہیں تو ان میں اتار چڑھاؤ(ٖfluctuations) آ سکتا ہے لہٰذا آپ جس طرح مجازی ذرات پیدا کرتے ہیں اسی طرح مجازی زمان و مکان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

 

مزید یہ کہ اگر یہ (زمان و مکان کے) بلبلے بن سکتے ہیں تو یہ یقیناً بنیں گے۔ تفت یونیورسٹی (tuft university) کے الیگزینڈر ویلنکو (Alexander Vilenkin) کا کہنا ہے کہ کوانٹم میکانیات میں اگر کوئی چیز مانع نہیں ہے تو وہ لازمی طور پر غیر صفری امکان کے ساتھ وقوع پذیر ہو گی۔

 

بلبلے سے بنی کائنات:

 

لہٰذا صرف ذرات یا ضد ذرات ہی نہیں بلکہ زمان و مکان کے بلبلے بھی عدم سے حیات و فنا پا سکتے ہیں۔ تاہم ابھی بھی زمان و مکان کے ایک صغاری بلبلے سے انتہائی وزنی کائنات، جو دس ارب کہکشاؤں کی رہائش گاہ ہے، تک جانا ایک بہت بڑی جِست ہے۔ یقیناً اگر ایک بلبلہ بنتا بھی ہے تو وہ پلک جھپکنے میں دوبارہ فنا نہیں ہو جائے گا؟

 

درحقیقت بلبلے کے لیے بقا حاصل کرنا ممکن ہے مگر اس کے لیے ہمیں کونی افراط (cosmic inflation) کی ضرورت ہے۔
بہت سارے طبیعیات دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کا آغاز انفجارِ عظیم (Big Bang) سے ہوا۔ پہلے پہل کائنات میں موجود تمام مادہ اور توانائی نا قابلِ تصور اصغر نقطے میں مرکوز تھا اور یہ (نقطہ) پھٹ گیا۔ اس کا پتہ بیسویں صدی کہ اس دریافت سے ہوا جو یہ بتاتی ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ اگر تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں تو کبھی وہ لازمی طور پر قریب ہوتی ہوں گی۔

 

افراطی نظریہ یہ کہتا کہ انفجارِ عظیم کے فوری بعد کائنات بہ نسبت بعد میں آنے والے وقت کے بہت زیادہ تیزی سے پھیلی۔ اس انوکھے نظریے کو 1980 کی دہائی میں ایم آئی ٹی (MIT) کے ایلن گتھ (Alan Guth) نے پیش کیا اور سٹانفرڈ(Stanford) یونیورسٹی کے آندرے لندے(Andre Linde) نے مزید بہتر بنایا۔

 

مرکزی خیال یہ ہے کہ انفجارِ عظیم کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم دورانیے کے لیے قدریائی پیمانے(quantum sized) کا مکانی بلبلہ بہت تیزی سے پھیلا۔ بہت ہی کم وقت میں یہ نواتی جسامت (size of nucleus)سے ریت کے ذرے کے برابر پہنچ گیا۔بالآخر جب پھیلاؤ سست ہوا تو وہ قُوی میدان(force field) جس نے اس (پھیلاؤ) کو جنم دیا تھا مادہ اور توانائی میں منتقل ہو گیا جس سے آج کائنات بھری پڑی ہے۔ گُتھ افراط کو حتمی مفت ظہرانے کا نام دیتا ہے۔

 

عجیب و غریب تو یہ دکھتی ہے مگر افراط حقائق پر بہت خوبصورتی سے پورا اترتی ہے۔خاص طور پر یہ اس چیز کی وضاحت کرتی ہے کہ پس منظری کونی خِرد موجیں آسمان پر تقریباً مکمل یکساں کیوں ہیں۔ اگر کائنات اِس تیزی سے نہ پھیلی ہوتی تو یہ موجیں ٹکروں میں بٹی ہوتیں۔

 

کائنات ہموار ہے اور یہ کیوں اہم ہے:

 

افراط نے کونیات دانوں کو وہ وسیلہ بھی فراہم کیا ہے جو انہیں کائنات کی جیومیٹری کو سمجھنے کے لیے درکار تھا۔ یہ سامنے آیا ہے کہ یہ (افراط) اس بات کے ادراک کے لیے بہت اہم ہے کہ کیسے کائنات عدم سے وجود میں آئی۔
آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت ہمیں بتاتا ہے کہ زمان و مکان، جس میں ہم رہتے ہیں، تین مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ یہ ایک میز کی سطح کی طرح ہموار ہو سکتا ہے۔یہ ایک کرہ کی سطح کی طرح منحنی ہو سکتا ہے اس طرح کی اگر آپ ایک ہی سمت میں بہت دور تک چلتے ہیں تو واپس اسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں سے آپ نے چلنا شروع کیا تھا۔ متبادلاً زمان و مکان ایک پالان(saddle) کی مانند باہر کی جانب منحنا ہو سکتا ہے۔ تو پھر یہ(زمان و مکان) کیسا ہے۔
یہ جاننے کا ایک راستہ ہے۔ آپ کو اپنی سکول کی ریاضی کی جماعت سے یہ یاد ہو گا کہ کسی بھی مثلث میں تینوں زاویوں کا مجموعہ 1800 کے برابر ہوتا ہے۔درحقیقت آپ کے استاد نے ایک اہم نقطہ چھوڑ دیا تھا وہ یہ کہ ایسا صرف ہموار سطح کے لیے ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک غُبارے کی سطح پر مثلث بنائیں تو اس کے زاویوں کا مجموعہ 1800سے زیادہ ہو گا۔اس کے برعکس اگر آپ ایک پالان (saddle) جیسی سطح کے اوپر مثلث بنائیں تو اس کے زاویوں کا مجموعہ 1800 سے کم ہو گا۔

 

تو یہ جاننے کے لیے کہ کیا کائنات واقعی ہموار ہے ہمیں ایک بہت بڑی مثلث کے زاویوں کا مجموعہ ماپنا ہو گا۔یہ وہ جگہ ہے جہاں پر افراط کردار ادا کرتی ہے۔ اس نے پس منظری کونی خرد موجوں کے سرد اور گرم ٹکروں کی اوسط جسامت معلوم کی۔ان ٹکروں کی پیمائش 2003 میں کی گئی اور اس سے ہیت دانوں کو مثلثٰں چنے میں مدد ملی۔ اس کے نتیجے میں اب ہم جانتے ہیں کہ پیمائش کے ممکنہ اکبر پیمانوں پر کائنات ہموار ہے۔

 

یہ ثابت ہوا ہے کہ ایک ہموار کائنات بہت اہم ہے کیوں کہ ایک ہموار کائنات ہی عدم سے دجود میں آ سکتی ہے۔
ستاروں اور کہکشاؤں سے لے کر اس روشنی تک جس سے ہم ان کو دیکھتے ہیں، ہر اس چیز کا کہیں نہ کہیں سے آغاز ہوا ہے جو وجود رکھتی ہے۔ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ کوانٹمی پیمانے پر ذرات وجود میں آتے رہتے ہیں۔لہٰذا ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ کائنات میں کچھ بچے کھچے (ذرات) موجود ہوں گے۔لیکن ستارے اور سیارے بنانے کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔تو کائنات نے اتنی زیادہ توانائی کہاں سے حاصل کی؟ شاید اسے یہ توانائی کہیں سے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا اس لیے ہے کیوں کہ کائنات میں موجود ہر جسم انجذاب(Gravity) پیدا کرتا ہے جس سے وہ دوسرے اجسام کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ اس توانائی کو متوازن کر دیتا ہے جس کی اسے شروع میں مادہ کو بنانے میں ضرورت پڑی تھی۔

 

یہ ایک پرانی طرز کے ترازو کی طرح ہے جس کے ایک طرف آپ کوئی بھاری وزن رکھتے ہیں جو دوسری طرف موجود وزن کے ساتھ توازن قائم کرتا ہے۔کائنات کے معاملے میں پیمانے کے ایک طرف مادہ پڑا ہوتا ہے جو دوسری طرف انجذاب سے توازن قائم کرتا ہے۔

 

ہموار کائنات کے لیے طبیعیات دانوں نے حساب لگایا ہے کہ مادہ کی توانائی انجذاب(جس کو کوئی جسم پیدا کرتا) کی توانائی کے برابر ہوتی ہے ۔ لیکن یہ صرف ہموار کائنات کے لیے صحیح ہے۔ اگر کائنات منحنی ہوتی تو یہ(توانائی کا) مجموعی ایک دوسرے کو ختم(cancel) نہ کرتے۔

 

کائنات یا کثیرنات؟ (Universe or Multiverse?)

 

اس نقطے پر کائنات بنانا قریب قریب سہل لگتا ہے۔کوانٹم میکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ عدم قدرتی طور پر غیر مستحکم ہے لہذٰا عدم سے وجود میں آنے والی جِست ناگزیر تھی۔ اور نتیجتاً زمان ومکان کا بلبلہ ایک بھاری صروف کائنات میں پھیل سکتا تھا، جس کے لیے افراط کا شکریہ۔ جیسا کہ کراس کا کہنا ہے کہ طبیعیات کے قوانین جن کو اب ہم جانتے ہیں اس بات کو نمایاں طور پر معقول بناتے ہیں کہ کائنات عدم سے وجود میں آئی—نہ مکان، نہ زمان، نہ ذرات—ایسی کسی بھی چیز سے نہیں جس کو اب ہم جانتے ہیں۔

 

تو ایسا صرف ایک ہی دفعہ کیوں ہوا؟ جب ایک بلبلہ عدم سے وجود میں آیا اور پھول کر ہماری کائنات میں بدل گیا تو باقی بلبلوں کو ایسا کرنے سے کس نے روکا؟

 

لِنڈے اس کا سادہ مگر حیران کن جواب فراہم کرتا ہے۔وہ قیاس کرتا ہے کہ کائناتیں ہمیشہ سے وجود میں آ رہیں ہیں اور یہ عمل ہمیشہ جاری رہے گا۔ لِنڈے کا کہنا ہے کہ جب کوئی نئی کائنات پھولنا بند کر دیتی ہے تو بھی یہ ایسی سپیس میں گھری ہوتی ہے جو مسلسل پھول(inflate) رہی ہوتی ہے۔یہ پھولتی ہوئی کائنات مزید کائناتوں ،جن کے گرد پھیلنے کے لیے ابھی بھی سپیس موجود ہوتی ہے، کی افزائش کر سکتی ہے۔لہذٰا جب ایک دفعہ افراط شروع ہو تو اسے کائناتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ بنانا چاہیے۔لِنڈے اس کو دائمی افراط (eternal inflation)کا نام دیتا ہے۔ہو سکتا ہے ہماری کائنات ایک لامتناہی ساحل پر ریت کا ایک ذرہ ہو۔

 

ہو سکتا ہے وہ کائناتیں ہماری کائنات سے بالکل مختلف ہوں۔ممکن ہے پڑوس میں موجود کائنات کی ہماری کائنات کی طرح سپیس کی تین ابعاد – لمبائی، چوڑائی اور اونچائی – کی بجائے پانچ جہتیں ہوں۔ ثقل دس گنا زیادہ قوّی یا ہزار گنا نحیف ہو یا پھر ہو سکتا ہے وہ سِرے سے موجود ہی نہ ہو۔ہو سکتا ہے مادہ یکسر مختلف ذرات سے مل کر بنا ہو۔ لہذٰا یہاں کائناتوں کی ایک تنوع ہو سکتی ہے۔لِنڈے کہتا ہے کہ دائمی افراط نہ صرف ایک حتمی مفت ظہرانہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا ظہرانہ ہے جس پر کھانے کی تمام ممکنہ اقسام میسر ہیں۔

 

تاہم ابھی تک ہمارے پاس اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے کہ دوسری کائناتیں وجود رکھتی ہیں۔لیکن کسی بھی صورت میں یہ “لاشئے کے لیے شکریہ” کو ایک نیا مطلب فراہم کرتیں ہیں۔
Categories
نان فکشن

ماضی کے مسافر

ہمارے وہ قارئین جو بگ بینگ تھیوری سے واقفیت رکھتے ہیں، انہیں یہ مضمون کافی آسان اور معنی خیز معلوم ہوگا۔ لیکن اپنے نئے قارئین کو ہم پہلے بگ بینگ تھیوری سے مختصر سی واقف کروانا ضروری سمجھتے ہیں۔ 1915ء میں البرٹ آئن سٹائن نے کشش ثقل سے متعلق “عمومی نظریہ اضافیت” پیش کیا۔ اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک مسقتل شئے نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ کائنات میں ہونے والے عوامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اثرپذیر عمل کون و مکاں کی باہمی یکجائیت کا ہے۔ لہٰذا کائنات کی وہ تفسیر جو سر آئزک نیوٹن کے مستقل ریاضیاتی تصور زمان پر مبنی ہے، ایک نئی جہت اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ آئن سٹائن کے اس نظریہ کے فوراً بعد ہی اس نظریہ کے مضمرات پر بحث کا باب کھل گیا۔ فرائیڈمین نامی ایک ریاضی داں نے جلد ہی آئن سٹائن کی مساوات کو حل کیا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ یہ کائنات ایک خاص وقت سے پہلے معدوم تھی اور پھر عدم سے وجود پذیر ہوئی ہے۔ جس لمحے یہ کائنات وجود پذیر ہوئی ہے اسے سائنسدان بگ بینگ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یہ سوال اپنی جگہ ایک اہمیت کا حامل ہے۔ مگر سائنسدانوں کی اکثریت اس بارے میں یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ بگ بینگ ازخود وقت یا زمانے کا نقطہ آغاز ہے۔ لہٰذا یہ سوال لایعنی ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

 

دنیا کی مختلف تہذیبوں، مکاتب فکر اور مذاہب عالم میں ایک بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کائنات سے متعلق کوئی بھی نظریہ اور واقعات عالم کی کوئی بھی تشریح ایک عمومی تصور زمان سے خالی نہیں رہ سکتی۔
اس مرحلے پر کچھ باتوں کو ذہن نشین کر لینا ازحد ضروری ہے۔ وقت کی ساخت اور اس کے وجود سے متعلق کچھ نظریات ہمیشہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والی مختلف اقوام اور مذاہب میں موجود رہے ہیں۔کیا وقت ایک معروضی حقیقت ہے یا صرف ایک ذہنی کیفیت کا نام وقت ہے؟ اگر وقت ایک ذہنی کیفیت ہے تو کیا مختلف اشیاء اور انسانوں کے لئے وقت مختلف حیثیت رکھتا ہے؟ وقت کی یہ تفہییم انسانوں کے لئے دو طرح سے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے روزمرہ کے کاموں کی ترتیب اور سماجی تہواروں اور ثقافتی سرگرمیوں کو بروقت سرانجام دینے کے لئے وقت کے مختلف پیمانے بناتا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے دیہاتوں میں آج بھی بڑے بزرگ وقت کی تقسیم لمحوں، گھڑیوں، پہروں، مہینوں اور سالوں میں کرتے ہیں۔ موسموں کے لحاظ سے تہوار منعقد ہوتے ہیں جن میں بیساکھی کا تہوار دنیا بھر میں مقبول ہے۔ دوسرا پہلو جو وقت کی تفہیم سے متعلق ہے وہ وقت کا ایک عمومی یا کونیاتی تصور ہے جو دنیا کی مختلف تہذیبوں، مکاتب فکر اور مذاہب عالم میں ایک بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کائنات سے متعلق کوئی بھی نظریہ اور واقعات عالم کی کوئی بھی تشریح ایک عمومی تصور زمان سے خالی نہیں رہ سکتی۔

 

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یونانی فلاسفہ میں ہمیں ہر طرح کے نظریات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ فلاسفہ جیسے زینو اور پارمینڈیس حرکت کو فریب قرار دیتے تھے۔ اس کے برعکس دوسرے فلسفی جیسے ہیراقلیطس نے سکوت کو وہم اور حرکت کو اصل قرار دیا۔ اسی طرح مسلم مفکروں بالخصوص طوسی، ابن حزم اور عراقی و دیگر فلسفی تحریکیں یعنی اشاعرہ اور معتزلہ میں بھی زماں اور حرکت کے کچھ نظریات پائے جاتے تھے۔ اشاعرہ کے نزدیک وقت بھی مکاں کی طرح ناقابل تقسیم ایٹموں سے مل کر بنا ہے۔ جبکہ ابن حزم کے نزدیک زمان و مکاں مسلسل ہیں نہ کہ ایٹموں سے مرکب ہیں۔ مسلم فکر کے زوال کے بعد یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا تو تصور زمان و مکاں نے بھی نئی توجیہ حاصل کر لی۔ جب نیوٹن نے حرکت کے قوانین وضع کئے تو ان کے پس پردہ بھی وقت کا ایک تصور موجود تھا۔ نیوٹن کے مطابق وقت ایک مطلق اور خارجی شے ہے۔ وہ اپنی کتاب “پرنسپیا” میں رقمطراز ہے: ـ

 

“مطلق، حقیقی اور ریاضیاتی وقت کسی خارجی شے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فی نفسہ اور بذاتِ خود یکساں طور پر بہتا ہے۔ اضافی، ظاہری اور معمولی وقت حقیقی اور مطلق وقت کا ایک خارجی ناپ ہے جسے ہم روز مرہ کے کاروبار میں استعمال کرتے ہیں۔”

 

سائنس کا تصور زمان اگرچہ ازخود سائنس کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار اور اقوام کے تصورات کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کی بنیاد جیومیٹری اور ریاضیاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔
دنیا میں موجود تمام مکاتب فکر کی طرح سائنس نے بھی وقت کا ایک تصور قائم کر رکھا ہے۔ سائنس کا تصور زمان اگرچہ ازخود سائنس کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار اور اقوام کے تصورات کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کی بنیاد جیومیٹری اور ریاضیاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔ آئزک نیوٹن نے میکانیات سے متعلق اپنے مشہور قوانین کو جب ریاضیاتی بنیاد فراہم کی تو اس میں وقت کو جگہ یا مکاں سے الگ حیثیت عطا کی۔ اس کے مطابق وقت ایک مسلسل خط مستقیم کی طرح یک طرفہ مطلق حرکت کا نام ہے۔ اسی طرح مکاں اپنا ایک الگ وجود رکھتا ہے۔ مکاں اور زماں کا ایک دوسرے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شے مکاں میں حرکت کرے تو اس سے مطلق زماں کی رفتار پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس نظریے میں اہم بات یہ تھی کہ زماں میں حرکت صرف ایک سمت میں ہوگی۔ وقت کی ماضی سے مستقبل کی جانب ایک غیر متغیر رفتار سے حرکت کا نظریہ کلاسیکل تصور زماں کہلاتا ہے۔

 

کلاسیکل تصور زماں کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے انٹروپی کے تصور سے واقفیت ضروری ہے۔انٹروپی دراصل اشیاء کی حرکت میں ایک فطری رجحان کا نام ہے۔ اشیاء کی حرکت اس طرح سے ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ نظم و ضبط کی کیفیت سے بدنظمی کی کیفیت میں ڈھل رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیاہی کا ایک قطرہ جب پانی کے گلاس میں ڈالا جاتا ہے تو وہ لازمی طور پر ایک قطرے کی منظم شکل سے پانی میں موجود مختلف مالیکیولز کی بے ہنگم اشکال میں ڈھل جاتا ہے۔اور یوں کچھ دیر بعد سارا پانی سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گلاس کا ٹوٹنا اور خوشبو کا پھیلنا بھی اسی حرکت کی مثالیں ہیں۔ اسی فطری رجحان کو انٹروپی کا نام دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم اسے ایک قانون کی حیثیت دے دیتے ہیں کہ فطرت میں اشیاء کی انٹروپی بڑھے گی۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سیاہی کا قطرہ اس وقت تک بدنظمی کی کیفیت سے نہیں گرزتا جب تک پانی کے مالیکیولز اسے بدنظمی کی کیفیات کے ایک وسیع میدان سے متعارف نہیں کرواتے۔ اب اگر یہی اصول پوری کائنات پر منطبق کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کائنات کی انٹروپی بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ کائنات پھیل ر ہی ہے اور اس پھیلاو کے نتیجے میں کائنات کی تمام اشیاء کو بدنظمی کی مزید کیفیات میسر ہو رہی ہیں۔ لہٰذا یہ سوال کہ ہم ہمیشہ ماضی سے مستقبل کی جانب کیسے حرکت کرتے ہیں، اب ایک معمہ نہیں رہا۔

 

روشنی کی یہی محدود رفتار ہے جو طبعی کائنات میں قانون علیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وگرنہ اگر روشنی بھی لامحدود رفتار رکھتی تو معلول اپنی علت سے قبل وجود پذیر ہو جاتا۔
اب تک ہم کلاسیکل تصور زماں کی سائنسی توجیہ پیش کر رہے تھے۔ جس میں وقت کی سمت ہمیشہ ماضی سے حال میں ہوتے ہوئے مستقبل کی جانب ہوتی ہے۔ اس تصور کے مطابق مستقبل ایک جامد اور ہمیشہ سے موجود شے ہے۔ یعنی اگر ہمیں ماضی اور حال کی حرکت کے تمام قوانین معلوم ہوجائیں تو ہم مستقبل کی بالکل صحیح پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ مستقبل ویسے ہی موجود اور ثابت ہے جیسے کہ ماضی۔ لہٰذا مستقبل لکھا جا چکا ہے اور یوں ساری کائنات ایک جبرمسلسل کے تحت مستقبل کی جانب رواں دواں ہے۔ ہمارا اگلا سوال قدرے عجیب ہے اور وہ یہ کہ کیا ہم وقت کی رفتار تیز کر کے جلد مستقبل میں جا سکتے ہیں؟ کیا انسان کسی طرح ماضی میں لوٹ سکتا ہے؟ کلاسیکل تصور زماں میں یہ سوال شاید مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن جدید سائنس میں انکا جواب ہاں میں ہے۔

 

1915ء میں جرمنی کے مشہور سائنسدان آئن سٹائن نے ایک نظریہ عمومی اضافیت کے نام سے پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق نیوٹن کا تصور یعنی مطلق زمان و مکاں صرف اس صورت میں قابل قبول ہے جب مختلف مشاہدہ کرنے والے ایک ہی نظام میں موجود ہوں یا دو مختلف نظام ایک دوسرے کے لحاظ سے ایک خفیف اور مستقل رفتار سے چل رہے ہوں۔ ایسے نظام میں تمام مشاہدہ کرنے والے وقت کو ایک ہی شرح سے ماپ سکتے ہیں۔ لیکن نیوٹن کا یہ تصور اس وقت ناقابل قبول ہو جاتا ہے جب رفتار کی شرح بہت زیادہ ہو۔ کائنات میں روشنی کی رفتار سب سے زیادہ ہے۔ نیوٹن اور کلاسیکی طبیعات نے تو روشنی کو لامحدود رفتار عطا کر رکھی تھی لیکن آئن سٹائن کے مطابق روشنی بھی ایک محدود رفتار سے چلتی ہے۔ اس وقت تک کے تجربات کے مطابق یہ رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ زمین پر پائے جانے والی اشیاء یعنی ہوائی جہاز وغیرہ جو 500 میل فی سیکنڈ تک جا سکتے ہیں، روشنی کے مقابلے میں ان کی رفتار انتہائی کم ہے۔ لیکن تیز ترین ہونے کے باوجود روشنی ایک محدود رفتار کی حامل ہے۔ اور روشنی کی یہی محدود رفتار ہے جو طبعی کائنات میں قانون علیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وگرنہ اگر روشنی بھی لامحدود رفتار رکھتی تو معلول اپنی علت سے قبل وجود پذیر ہو جاتا۔ بہرحال آئن سٹائن نے نیوٹن کے مطلق زمان و مکاں کے تصور کو رد کر دیا۔ اور اب زمان و مکاں کی حیثیت اضافی ہوگئی۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہوگا کہ مختلف مشاہدہ کرنے والوں کا وقت ایک ذاتی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ ہر مشاہد کے لئے وقت ایک الگ شرح سے بدلے گا۔ کسی بھی دو واقعات کا درمیانی وقفہ مختلف افراد کے لئے ان کی رفتار کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔اسی طرح مکاں بھی محض نقطوں پر مشتمل شے نہیں بلکہ واقعات کی ایک ترتیب کا نام ہے جو مقام کے ساتھ ساتھ ایک خاص وقت میں موجود ہوتے ہیں۔ زمان و مکاں ایک ہی شے کے مختلف اجزاء قرار دئے جائیں گے۔ زمانے کی اس نئی تشریح نے کلاسیکی طبیعات کے تصورات میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ نظریہ اضافیت کی بنیاد پر ایسے ایسے نتائج سامنے آئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ انہی نتائج میں آغاز کائنات یعنی بگ بینگ کا نظریہ، سیاہ شگاف یا بلیک ہول کی دریافت، GPS کی ایجاد بھی شامل ہیں۔

 

زمان و مکاں ایک قسم کی لچکدار چادر کی طرح ہیں جس میں اگر کوئی بھاری جسم ڈال دیا جائے تو اس میں ایک جھول پیدا ہوتا ہے۔
طے زمانی یعنی Time Travel کی اصطلاح نے بھی سائنس میں پہلی دفعہ آئن سٹائن کے نظریات کی وجہ سے مستند حیثیت اختیار کی ہے۔اس سے پہلے سائنس فکشن میں ایسی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ یاد رہے مشرقی روایات بالخصوص متصوفانہ نظریات میں بھی ایسے تصورات پائے جاتے تھے کہ جن کے مطابق کوئی ذی روح کسی بھی زمانے یا مقام پر منتقل ہوسکتا تھا۔ لیکن اب یہ باتیں محض افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ نظریہ اضافیت کے مطابق زمان و مکاں ایک اکائی ہیں۔ جس طرح ہم ایک مقام الف سے دوسرے مقام ب تک آگے جاسکتے ہیں اور پھر واپس ب سے الف تک لوٹ سکتے ہیں اسی طرح وقت میں بھی ایسی حرکت ممکن ہے۔ کیونکہ وقت بھی مقام ہی کی طرح ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک کا دورانیہ ہے اور اسے بھی واپس لایا جاسکتا ہے۔ زمان و مکاں ایک قسم کی لچکدار چادر کی طرح ہیں جس میں اگر کوئی بھاری جسم ڈال دیا جائے تو اس میں ایک جھول پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس چادر کو گول کر کے اس کے مختلف کناروں کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں۔ زمان و مکاں کی یہ چادر بھی لپیٹی جا سکتی ہے اور یوں ہم زمانے میں واپس اسی لمحے اور مقام پر لوٹ جائیں گے جہاں سے ہم چلنا شروع ہوئے تھے۔ لیکن اس طرح بہت سے تناقضات اور مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر زید ماضی میں چلا جائے اور اپنے دادا کو اس کی ہونے والی بیوی سے ملنے ہی نہ دے تو اس کے دادا اور دادی کی شادی ممکن نہیں رہے گی۔ اور اگر انہوں نے شادی نہیں کی تو پھر زید کیسے پیدا ہو گیا؟ اور اگر زید پیدا نہیں ہوا تو ماضی میں کیسے چلا گیا؟ یقینی طور پر آپ اس مثال سے الجھ گئے ہوں گے۔ ایسی اور بھی الجھنیں ہیں جو آئن سٹائن کے نظریات کا خاصہ ہیں۔ ان الجھنوں کو حل کرتے کرتے سائنسدانوں نے بہت سے دیگر نظریات کو جنم دیا ہے جن میں سے کثرت کائنات کا نظریہ قابل ذکر ہے جسے ہم لالٹین میگزین میں گزشتہ تحریر میں بتا چکے ہیں۔ یعنی زید ماضی میں جاتے ہوئے ایک الگ اور نئی کائنات میں جا نکلے گا۔ اسی طرح ایک اور نطریہ جو اس وقت بہت مقبول ہے یہ کہ ہم ماضی میں سفر کر تو سکتے ہیں لیکن ماضی کے واقعات پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہو پائے گا۔ اسی طرح مسقبل میں سفر بھی ممکن ہے۔

 

اس کا ایک طریقہ یہ کہ اپنی رفتار کو تیز کر دیں۔ زمانے کے بہاو کی شرح کا انحصار کسی بھی شے کی رفتار پر ہے۔ رفتار کی تیزی سے وقت آہستہ بہتا ہے۔ اور یوں ایک مسافر جو کسی خلائی سفر پر انتائی تیزرفتاری سے گامزن ہے وہ زمین پر موجود افراد کی نسبت زمانے میں آہستہ حرکت کرے گا۔ جب وہ زمین پر واپس آئے گا تو یہاں کئی صدیاں بیت چکی ہوں گی۔ گویا وہ مستقبل میں جا پہنچا ہے۔اسی طرح گریوٹی بھی وقت کے بہاو کو بدل سکتی ہے۔ 2014ء میں بننے والی ہالی ووڈ کی مشہور فلم Interstellar میں ایسے ہی کچھ مناظر دکھائے گئے تھے جب بلیک ہول کے قریب جانے والے خلائی طیارے کے لئے وقت انتہائی سست ہو گیا اور زمین پر موجود لوگ بوڑھے ہوگئے لیکن خلانودر ابھی جوان ہی رہے۔ اس کے علاوہ ایک ٹائم مشین جو وقت میں سفر کے کام آسکتی ہے ورم ہول Worm Hole کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ ایک قسم کا شگاف ہے جو کائنات کے ایک حصے کو کسی دوسرے حصے سے جوڑتا ہے۔ لیکن ایسے ورم ہول کو آسمانوں میں ڈھونڈنا اور اس قدر رفتار حاصل کرنا ابھی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج کل سائنسدان دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری CERN جو کہ جنیوا میں بنائی گئی ہے، میں کچھ تجربات کر رہے ہیں جس میں شاید ایسے ورم ہول یا بلیک ہول تیار کر لئے جائیں جن میں ایٹمی ذروں کو ماضی میں بھیجا جا سکے۔ اس نوعیت کے کچھ تجربات اس وقت تک کئے جا چکے ہیں۔ لیکن کیا انسان کبھی ایسی مشین تیار کر سکے گا جو اسے ماضی یا مستقبل میں فوری طور پر پہنچا سکے؟ اور اگر ایسا کبھی ممکن ہو گیا تو ہمارا تخیل اس بارے میں کیا تصویر بنائے گا؟ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا یا پھر شاید ہمیں اس کے لئے واپس ماضی کی طرف لوٹ کر جانا پڑے!