Categories
نان فکشن

سر رچرڈ ایچرلے: پاک فضائیہ کا ایک ناقابلِ فراموش کردار

اپنی شاندار حسِ مزاح اور مرچ مسالے سے بھرپور زبان (فلاوری لینگوئج) کی وجہ سے پاک فضائیہ کے ا ولین افسروں اور جوانوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والےزندہ دل افسر، سر رچرڈ ایچرلے کی شخصیت کا ہر پہلو یادگار رہا جس پر پاک فضائیہ اُنہیں ہمیشہ یاد رکھے گی!

قیامِ پاکستان کے بعد تینوں مسلح افواج کی کمان انگریز کمانڈروں کو دینی پڑی کہ ہمارے پاس اعلیٰ کمان کا تجربہ رکھنے والے مسلمان، مقامی افسران نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک آرمی پر دو، پاک بحریہ پر ایک اور پاک فضائیہ پر چار انگریز کمانڈروں نے کمان کی۔فضائیہ اسی انفرادیت کی وجہ سے ذیادہ عرصے تک اُس مخلوط کلچر کی علمبردار رہی جس میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سامنے مذہب اور نسل کی وابستگیاں کوئی اہمیت نہ رکھتی تھیں۔اگرچہ پاک فضائیہ میں انگریز اور پولش افسران کی تعداد باقی دونوں افواج سے ذیادہ رہی اور ان میں ہر افسر اپنی ذات میں ایک انجمن تھا لیکن پاک فضائیہ کے دوسرے سربراہ، ائر وائس مارشل سر رچرڈ ایچرلے ایک انتہائی دلچسپ اور یادگار شخصیت کے طور پر پاکستانی تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔

رچرڈ لیولین روجر ایچرلے ۱۲ جنوری ۱۹۰۴ کو انگلستان کے شہر یارکؔ میں ایک فوجی افسر، میجر جنرل سر لیولین ایچرلے کے ہاں جڑواں پیدا ہونے والے دو بیٹوں میں سے ایک تھے۔اُن کی والدہ کا نام ایلینور فرانسس تھا جنہیں ’نَیلی‘ کے عرفی نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ایچرلے کا گھرانا قدیم فوجی روایات کا حامل تھا جس وجہ سے یہ دونوں جڑواں بھائی بھی فوجی ہی بنے۔ رچرڈ ایچرلے کے جڑواں بھائی ڈیوڈؔ بعد میں ائروائس مارشل سر ڈیوڈ ایچرلے کے نام سے معروف ہوئے اور ۱۹۵۱ میں بحیرۂ روم پر فلائینگ کے دوران مارے گئے۔

رچرڈ ایچرلے نے ۱۹۲۲ میں رائل ائرفورس کالج کرونویل میں شمولیت اختیار کی اور ۱۹۲۴ میں وہاں سے بطور پائلٹ فارغ التحصیل ہوئے۔اُن کی پہلی تعیناتی ۲۹، اسکواڈرن میں ہوئی جہاں اُنہوں نے ہوابازی کا مشہور انعام ’شنائیڈر ٹرافی‘ بھی جیتا اور انسٹرکٹر پائلٹ بھی رہے۔

دوسری جنگِ عظیم میں وہ ناروے، اسکاٹ لینڈ، لیبیا (صحرائے افریقہ) اور فرانس میں مختلف عہدوں پر فائز رہے اور فضائیہ کا تمغہ ’ائر فورس کراس‘ دو دفعہ حاصل کیا۔ جنگ کے بعد رائل ائر فورس کالج کرونویل کے کمانڈنٹ بنے اور ۱۹۴۹ میں انہیں رائل پاکستان ائر فورس (پاک فضائیہ) کا کمانڈر ان چیف منتخب کیا گیا۔ یہ عہدہ اب ’چیف آف ائر اسٹاف‘ کہلاتا ہے۔

پاک فضائیہ کے ابتدائی ایام میں اس کمزور سی فضائیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں سر رچرڈ ایچرلے کی خدمات نہ صرف قیمتی ہیں بلکہ مثالی بھی ہیں۔پھر ان کی حسِ مزاح، گفتگو میں ’پُھلجھڑیاں‘ چھوڑنے کی عادت جسے صرف فوجی کلچر ہی ’ہضم‘ کر سکتا ہے اور کسی حد تک شریر طبیعت نے ہماری فضائیہ کی تاریخ میں ایک دلچسپ باب کا اضافہ کیا اور وہ باب تھا، ’ایچرلےؔ کا زمانہ‘!

ایچرلے کی شریر طبیعت کا اظہار اُن کی سروس کے آغاز میں ہی ہو گیا تھا۔ مثلاً جب کرونویل کالج سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر اُن کے تمام کورس کا گروپ فوٹو لیا جانے لگا تو ایچرلے نے ایک ’تخلیقی‘ سی شرارت کی۔ اُس زمانے میں گروپ فوٹو لینے کے لئے تمام گروپ کے تین فوٹو لئے جاتے تھے، یعنی ایک دائیں حصے سے، ایک بائیں حصے سے اور ایک درمیان سے۔ پھر ڈویلپ کرنے کے عمل میں انہیں کمال مہارت سے جوڑ کر ایک فوٹو بنا لیا جاتا تھا۔ جب ایچرلےؔ کے۱۹۲۲،۲۴ کورس کا گروپ فوٹو ڈویلپ ہو کر آیا تو اس کے افسرانِ بالا نے دیکھا کہ گروپ میں تین ’ایچرلے‘ کھڑے تھے۔ ایچرلےؔ کو لعن طعن تو ہوئی لیکن افسران یہ جان کر ہنسے بغیر نہ رہ سکے کہ جب دائیں جانب سے فوٹو کھنچ چکا تھا تو ایچرلے خموشی سے کھسک کر درمیان میں آگیا تھا اور پھر درمیانی حصے کا فوٹو کھنچ جانے کے بعد بائیں جانب کھسک گیا تھا جس سے اس گروپ فوٹو میں ’تین ایچرلے‘ محفوظ ہو گئے۔

اسی لا اُبالی اور کھلنڈرے مزاج کی وجہ سے ایچرلےؔ نے نو عمری میں ہی ایک دفعہ اپنا ائر فورس کیرئیر قریب قریب ختم ہی کر لیا تھا۔ لیکن قدرت کو اُس کا ائر چیف بننا منظور تھا۔ نو جوان ایچرلےؔ ایک دفعہ جب سمندر پر پرواز کر رہا تھا تو اُسے رائل نیوی کا ایک بحری بیڑہ نظر آیا۔ اُس نے فوراً پہچان لیا کہ اس جہاز پر تو اُس کا ایک بہترین دوست بھی تعینات تھا۔ کھلنڈرے افسر ایچرلے کی طبیعت لہرائی اور دوست سے ملنے کی غرض سے اُس نے اپنا طیارہ اُسی بحری بیڑے کے عرشے پر بنے مختصر سے رن وے پر پٹخ دیا۔ طیارہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا حالانکہ جہاز کے ’برِج‘ سے اُسے بار بار ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ ایچرلےؔ بھی بخوبی جانتا تھا کہ فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا بحری بیڑے پر لینڈ کرنا فقط ایک حماقت ہے لیکن دوست سے ملاقات پر جو طبیعت لہرائی تھی، یہ کرتب بھی کر دیکھا۔ ایچرلے کو اس حرکت پر کورٹ مارشل اور سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا لیکن نوکری سے نکالے جانے سے بچ گیا۔

یہی شوخ، کھلنڈری طبیعت پاک فضائیہ کی کمان کے دوران، پختہ کار عمر میں ایک بھاری احساسِ ذمہ داری کے ساتھ یکجا ہو کر ایک ذمہ دارانہ حسِّ مزاح سے بدل گئی اگرچہ انہوں نے فضائیہ کی کمان سنبھالتے ہی اس کا ایک واضح اظہار کر دیا. اس زمانے میں فضائیہ کے سربراہ کو ائر افسر کمانڈنگ کہا جاتا تھا جبکہ آرمی کا سربراہ کمانڈر ان چیف کہلاتا تھا. اس سے فضائیہ کے سربراہ کو جونیئر ہونے کا یک گونہ احساس رہتا تھا. ایچرلے نے اس احساس کو شاید بالخصوص پسند نہ کیا اور ایک صبح جو طبیعت لہرائی، انہوں نے حکومت کو اطلاع دے دی کہ انہوں نے اپنا عہدہ کمانڈر ان چیف بنا دیا ہے. ان کی دیکھا دیکھی بحریہ کے سربراہ جے ڈبلیو جیفرڈ بھی فلیٹ افسر کمانڈنگ س کمانڈر ان چیف ہو گئے۔

آر پی اے ایف اسٹیشن ماڑی پور، کراچی (جو کہ اب پی اے ایف بیس مسرورؔ ہے) میں واقع ایچرلےؔ کے دفتر میں پاک فضائیہ کے افسران کو ڈانٹ ڈپٹ اور مسالہ دار زبان کے ساتھ بے ضرر انگریزی گالیوں کا ’پرساد‘ ملنا ایک ایسا معمول تھا جس سے نہ صرف فضائیہ کے افسروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر ہوتی بلکہ آفیسرز مَیسوں میں اس ڈانٹ ڈپٹ کو یاد کر کے ہمہ وقت قہقہے بھی گونجتے رہتے۔

فوجی زبان میں افسرِ بالا کی ڈانٹ کو ’رس بھری‘ اور ’راکٹ‘ (وغیرہ) کہا جاتا ہے۔ ایچرلےؔ کا رس بھری یا راکٹ دینے کا انداز نرالا تھا۔ائرمارشل ظفر احمد چوہدری صاحب سے روائت ہے کہ ایچرلے کی کمان کے زمانے میں آر پی اے ایف اسٹیشن میانوالی میں ایک گروپ کیپٹن صاحب سے لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے پر پھسل گیا اور طیارے کا کافی نقصان ہوا۔ پاک فضائیہ تب ایک غریب سی فوج تھی اور ایسا نقصان اُٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ اب جب انکوائری ہوئی تو اس میں رپورٹ لکھنے والے افسران کے لئے ایک اُلجھن یہ تھی کہ گروپ کیپٹن (مساوی آرمی کے فُل کرنیل کے) ایک سینئر آفیسر تھے اور تب پاک فضائیہ میں گنتی کے چند گروپ کیپٹن تھے۔ انکوائری میں اُن افسر صاحب کی غلطی کی بجائے جیونیئر افسروں نے رن وے پر پھسلن، نمی اور ٹائر کی خرابی کو واقعے کی وجہ قرار دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا، اور طیارہ دوبارہ اُڑنے کے قابل بنا دیا گیا۔جب یہ رپورٹ ایچرلے کے پاس پہنچی تو اُنہوں نے اس پر ایک دلچسپ نوٹ لکھا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا:

۱۔ یہ حادثہ فقط اس گروپ کیپٹن کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے اور جو لوگ سچ لکھنے سے جھجکتے ہیں، وہ مرد نہیں، زنخے ہیں!
۲۔ جب بھی یہ۔۔۔ کراچی آئے، مجھے بتایا جائے تاکہ میں بنفسِ نفیس اس کی۔۔۔ پر ایک لات رسید کر سکوں!
(خالی جگہوں میں ایچرلےؔ نے اپنی ’’فلاوری لینگوئج‘‘ کے ’پھول‘ بکھیرے تھے)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیر قوم کا ہو کر بھی ایچرلےؔ کو پاک فضائیہ کے وسائل کی کمی اور ملک و قوم کی غریبی کا احساس ہمہ وقت رہتا تھا اور وہ ’جرنیل‘ ہونے کے باوجود ’با وقار غریبی‘ (آنریبل پاورٹی) کے کلچر کو پاک فضائیہ میں فروغ دیتے رہے۔ جنرل ضیاؔ مرحوم کے ’وی آئی پی کلچر‘ سے پہلے تک ہماری فضائیہ کے ونگ کمانڈر اور گروپ کیپٹن تک کے عہدے کے افسر سائیکل اور موٹر سائیکل پر دفتر آنا اپنے کسرِ شان نہیں سمجھتے تھے۔ خیر، یہ جملۂ معترضہ تھا!

ایک دفعہ ایچرلے کو اپنی کمان کے زمانے میں پشاور کا دورہ کرنا تھا۔ سوال یہ تھا کہ وہاں کس جگہ قیام کیا جائے؟ پشاور میں اعلیٰ درجے کے ہوٹل تب بھی ضرور موجود تھے لیکن ایچرلے ؔ نے یہ تجویز رد کردی کہ پاک فضائیہ اُن کے، ہوٹل میں رہنے کے اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ ایچرلےؔ نے کمانڈر ان چیف ہونے کے باوصف پشاور میں مکین اپنے ماتحت گروپ کیپٹن اصغر خاں سے کہا کہ وہ ایک دو روز کے لئے اُنہیں اپنے پاس ٹھہرا لیں تو یہ معاملہ نپٹ سکتا ہے! اصغر خاں کو فضائیہ نے دو کمروں کا فلیٹ کرائے پر لے کر دے رکھا تھا( یا شائد ہوٹل کے کمرے تھے) لیکن خاتونِ خانہ اور بچوں کے زیرِ استعمال کمرے میں تو اٹیچ باتھ روم تھا، دوسرے کمرے کے ساتھ یہ سہولت نہ تھی، پھر بھی ایچرلےؔ نے اُس کمرے میں ٹھہرنے کی ہامی بھر لی۔
ایچرلےؔ کو جب کبھی کسی دورے پہ فضائیہ کے سفری طیارے پر مشرقی پاکستان جانا ہوتا تھا تو وہ اکثر رات کو طیارے کے کیبن میں ہی سو جاتے اور عملے کو تاکید کر دیتے کہ صبح مُنہ اندھیرے اُنہیں جگانے کی زحمت نہ دی جائے اور خاموشی سے پرواز کر جائیں۔ عملے کے افسروں اور جوانوں کو کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے آنا ہوتا تھا اور وہ انہیں زحمت دینے کے ہرگز قائل نہ تھے۔ ایک صبح طیارے کے کیبن میں سوئے ہوئے ایچرلے کی آنکھ کھلی تو کاک پٹ میں جا کر دیکھا کہ پائلٹ، اسکواڈرن لیڈر احمدؔ، پائلٹ سیٹ میں بیٹھے مزے سے شیو کرنے میں لگے ہیں! ایچرلےؔ نے اُنہیں اپنی ’فلاوری لینگوئج‘ کا ناشتہ کروایا اور بظاہر خود بھی اس صورتحال سے لُطف اندوز ہوتے ہوئے دوبارہ کیبن میں آ کر سو رہے۔ افسران ایچرلےؔ سے ڈرتے ضرور تھے لیکن اُن سے خوفزدہ نہ تھے اور اُن کے جانثار تھے! ایچرلےؔ ایک کھُلے ڈُلے کمانڈر تھے۔

ایچرلےؔ کی زُبان کی تُرشی فقط زبان کی حد تک تھی اور وہ نہایت خیال رکھنے والے ایک مہربان باپ جیسا پیکر تھے، حالانکہ اُنہوں نے عمر بھر شادی نہیں کی تاہم فضائیہ کے طیاروں اور جوانوں کو اپنی اولاد کی طرح پالا پوسا۔ انہی دنوں میں جب وہ چھٹیاں گزارنے انگلستان گئے تو اُنہوں نے وہاں ایک کار کرائے پر حاصل کی اور انگلستان کے طول و عرض میں واقع فضائیہ کے ہر اُس ادارے میں گئے جہاں رائل پاکستان ائر فورس کے افسر اور جوان زیرِ تربیت تھے۔ اُنہوں نے ہر ایک سے فرداً فرداً اُس کی تعلیمی تربیتی صورتحال کے بارے میں پوچھا اور تاکید کی کہ اپنے مُلک اور فضائیہ کی غریبی کو پیشِ نظر رکھیں اور محنت کریں، مبادا کہ ملک وقوم کا سرمایہ جو اُس کی بیرون مُلک تربیت پر خرچ ہو رہا ہے، ضائع جائے۔

فلائٹ لیفٹیننٹ اسٹیفن ٹرونکزنسکیؔ ہماری فضائیہ کے پولستانی نژاد پاکستانی افسر تھے۔ ایک دفعہ کوہاٹ سے ماڑی پور (کراچی) کی پرواز کے دوران وہ نیویگیشن کی غلطی سے کراچی کے بجائے مکران کے صحراؤں کی طرف نکل گئے۔ جہاز کا پٹرول ختم ہو گیا لیکن کراچی کہیں دکھائی نہ دیا لہٰذا ریت کے ٹیلوں میں ایمرجنسی لینڈ کرنا پڑا۔ یہاں سے اسٹیفنؔ نے مقامی لوگوں سے ایک اونٹ لیا اور بصد خرابی کراچی آ پہنچے۔ ایچرلےؔ نے انہیں حُکم دیا کہ فوراً ایک تربیتی طیارے میں پرواز کر جاؤ اور صحرا میں اپنے جہاز کی درست لوکیشن پتہ کر لاؤ تاکہ اسے وہاں سے واپس لایا جا سکے۔ اسٹیفنؔ نے دو ایک پروازوں کے بعد جب آکر منفی رپورٹ دی کہ صحرا میں جہاز کا اتہ پتہ نہیں مل رہا تو ایچرلےؔ نے معمول کی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمان سُنایا کہ پھر اُونٹ پر ہی جاؤ اور صحرا کا کونہ کونہ چھان مارو!!! یہ نُسخہ کارگر ثابت ہوا۔ اسٹیفنؔ نے منت سماجت کر کے آخری دفعہ طیارے پر جا کر تلاش کرنے کی اجازت لے لی اور اپنے جہاز کو تلاش کر کے ہی واپس لوٹے۔

ائر ہیڈ کوارٹرز ماڑی پور، ایچرلےؔ کے ہوتے ہوئے ایسے دلچسپ واقعات کا مسکن بنا رہتا تھا۔ فضائیہ کا سربراہ ہو کر بھی ایچرلےؔ کا ذوقِ پرواز ٹھنڈا نہ پڑا۔ وہ اکثر پرواز کرتے رہتے تھے۔ ایک ’فیوری‘ لڑاکا طیارہ ہمہ وقت اُن کے لئے تیار رہتا تھا۔ ایک صبح وہ جہاز میں سوار ہوئے اور چھے کارتوسوں سے بھرا ایک مخصوص پستول اُس کے انجن میں لگا کر فائر کیا جس کا مقصد انجن کو ’’اگنیشن‘‘ دینا ہوتا تھا۔ جب ایچرلےؔ یکے بعد دیگرے پانچ کارتوس فائر کر چکے اور انجن اسٹارٹ نہ ہوا تو نیچے اُتر کر اپنی ’تابکار‘ زبان کا رُوئے سُخن وہاں موجود تمام افسروں، جوانوں کی طرف کیا اور ایک سارجنٹ (حوالدار) کو حُکم دیا کہ وہ انجن کی خرابی کی جانچ کرے۔ سارجنٹ نے باقی ماندہ ایک ہی کارتوس انجن میں چلایا اور انجن اسٹارٹ ہو گیا تو اُس نے فاتحانہ ایچرلےؔ کی طرف دیکھا جس پر اُنہیں تاؤ آگیا، تُنک کر بولے:

“If you can start that damn aircraft, you go ahead and fly it too! I am going to my office!”
یہ بھی ہرگز نہیں کہ ایچرلےؔ اپنے ماتحتوں کے مرتبوں سے غافل ہوتے تھے۔ فوج کے کلچر میں کمانڈر ان چیف کی شخصیت جس پدری شفقت اور درشتی، سختی کا پیکر ہوا کرتی ہے، ایچرلےؔ اُس کی ایک متوازن مثال تھے۔

نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں ایک قومی دن کے موقعے پر کمانڈر ان چیف کے گھر پر شام کے کھانے کا اہتمام تھا جس میں پاک فضائیہ کے سینئیر افسران اور اُس دن کے فلائی پاسٹ میں حصہ لینے والے پائلٹ بھی مدعو تھے۔ جب کھانے کے بعد وزیرِ اعظم رُخصت ہوئے تو ایچرلےؔ نے حسبِ دستور اعلان کیا:
“This is when the lords and ladies leave!”

خواتین و حضرات جانے لگے۔ کچھ دیر بعد ایچرلےؔ نے دیکھا کہ فضائیہ کے افسران بدستور کھڑے گپیں ہانک رہے تھے، ایچرلے نے اُن میں سینئیر ترین، گروپ کیپٹن اصغر خان کو گھُور کر دیکھا اور فرمایا:
“Get lost!! Didn’t you hear me to tell you it’s time to leave?”

اس واقعے کے چند سال بعد جب اصغر خان ائر مارشل بن کر پاک فضائیہ کے کمانڈر ان چیف بنے تو اُنہیں برطانیہ کے دورے کا اتفاق ہوا۔ برطانوی فضائیہ کی فلائینگ ٹریننگ کمانڈ کے دورے کے لئےوہ جونہی وہاں پہنچے، وہاں کے کمان افسر نے آگے بڑ ھ کر اصغر خان کی کار کا دروازہ کھولا اور چھَن سے اپنی تلوار نکال کر انہیں ایک چست سا سلیوٹ کیا:
’’جنابِ والا! فلائینگ ٹریننگ کمانڈ،برائے معائنہ تیار!!‘‘
ایڑھیاں جوڑے، سامنے مؤدب کھڑا یہ افسر، ائر مارشل ایچرلے ؔ تھا!

برطانوی فضائیہ میں لَوٹنے کے بعد اُنہوں نے اس کمان کے علاوہ ایک گروپ کمان کیا، پھر کچھ عرصہ واشنگٹن میں ایک اسٹاف ڈیوٹی پر تعینات رہے اور بالآخر۱۹۵۹ میں بطور ائر مارشل، فضائیہ سے ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک طیارہ ساز کمپنی کے سیلز ڈائریکٹر بنے۔

۱۹۷۰ کی ایک شام وہ لندن میں پاک فضائیہ کے ائر اتاشی، گروپ کیپٹن اسلم ؔ کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ کر اندر آ دھمکے۔ گروپ کیپٹن نے اُٹھ کر استقبال کیا اور کہا آپ نے سیڑھیاں چڑھنے کی زحمت کیوں کی، مجھے حُکم دیتے، میں خود حاضر ہو جاتا ! ایچرلےؔ کا جواب یہ تھا کہ وہ پاک فضائیہ کے نہائیت عمدہ افسروں اور جوانوں کو آخری سلام کہنے آئے ہیں جن کے گروپ کیپٹن اسلمؔ نمائندے ہیں۔ یہ کہہ ایچرلےؔ نے تَن کر ایک چُست سلیوٹ کیا اور چند لمحوں کے بعد واپس چلے گئے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ایچرلےؔ نے ۱۸ اپریل ۱۹۷۰ کو آلڈرشاٹ میں ۶۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی آخری رسومات میں پاک فضائیہ سے وابستگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ایچرلےؔ نے پاک فضائیہ میں اپنی یادوں کی صورت میں جو میراث چھوڑی، وہ ایک مدت تک پیشہ ورانہ دیانت داری، اپنے پیشے سے بحدِ استواری وفادار رہنے اور مخلصانہ بنیادوں پر ماتحتوں اور افسرانِ بالا سے تعلق قائم رکھنے کے کلچر کے طور پر تابندہ رہی۔۔۔

حوالہ جات:
1. Mosaic of Memory, Air Marshal Zafar Ahmed Chowdhry
2. Air Pockets II, Wing Commander Zafar Iqbal
3. Untold Tale of the Pakistan Air Force, Air Commodore Kamal Ahmed.

Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی فوج اور بوم بوم

youth-yell-featuredیہ 1953 کی بات ہے۔ کچھ مذہبی تنظیموں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم (اقلیت) قرار دیا جائے۔ جب حکومت نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کردیا تو پنجاب میں فسادات شروع ہوگئے۔ پاکستان کی حکومت ان فسادات کو قابو کرنے میں ناکام رہی۔ حکومت نے حالات کو قابو کرنے ک یلئے فوج کو طلب کیا اور پنجاب میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔ پھر فوج حالات کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئی اوریہ پہلا موقع تھا جب پاکستانی فوج نے پاکستان کی سیاست میں ‘باضابطہ’ طور پر اپنا کردار ادا کیا اور شاید یہی وجہ تھی کہ فوج نے عوام (خاص کر پنجاب کے عوام) میں کافی مقبولیت حاصل کی۔

 

جن لوگوں کو کرکٹ اور سیاست میں دلچسپی ہے انہیں پتہ ہوگا کہ فوج کا کام دفاعی امور کو سنبھالنا اور ایک باؤلر کا کام رنز روک کر دوسرے ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ضرورت کے وقت ٹیم کا کپتان کسی بلے باز کو حالات کی نزاکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنے بھیج سکتا ہے
1996 میں پاکستان کرکٹ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہوا یوں کہ جب پاکستانی کرکٹ ٹیم چار ملکی ایک روزہ (ون ڈے انٹرنیشنل) ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے کینیا گئی تو اس وقت پاکستان ٹیم کے کپتان وسیم اکرم تھے جبکہ نائب کپتان سعید انور تھے۔ پاکستان جب اپنا دوسرا میچ کھیل رہا تھا تو وسیم اکرم ٹیم کا حصہ نہیں تھے (شاید وہ زخمی ہوگئے تھے) اور ٹیم کی قیادت سعید انور کر رہے تھے۔ وسیم اکرم کے نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو ایک باؤلر کی ضرورت تھی جس کے لیے ٹیم نے ایک نوجوان باؤلر شاہد آفریدی کو ٹیم کا حصہ بنایا، جنہوں نے کافی اچھی باؤلنگ کی (پہلے میچ میں آفریدی کو بیٹنگ کرنے کا موقع نہیں ملا)۔ اگلے میچ میں جب پاکستان پہلے بیٹنگ کررہا تھا تو 60 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو پہلی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر وہ ریکارڈ بنا جو ٹوٹ جانے کے باوجود بھی شاید ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شاہد آفریدی نے جو بطور باؤلر پاکستانی ٹیم میں منتخب ہوئے تھے، میدان میں اترتے ہی چھکوں کی بارش کردی۔ انہوں نے 37 گیندوں پر اس وقت کی تیز ترین سینچری اسکور کی اور اسی میچ کے بعد آفریدی نے پاکستانی عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔

 

یہ دونوں واقعات بہت ہی ملتے جلتے اور اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان واقعات سے نہ صرف بحیثیت قوم ہماری پسند، ناپسند کا پتہ چلتا ہے بلکہ یہ بات بھی پتہ چل جاتی ہے کہ ہماری یادداشت کتنی کمزور ہے۔ جن لوگوں کو کرکٹ اور سیاست میں دلچسپی ہے انہیں پتہ ہوگا کہ فوج کا کام دفاعی امور کو سنبھالنا اور ایک باؤلر کا کام رنز روک کر دوسرے ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ضرورت کے وقت ٹیم کا کپتان کسی بلے باز کو حالات کی نزاکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنے بھیج سکتا ہے (جیسا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں دن کے آخر میں ایک باؤلر کو بطورِ نائٹ واچ مین بھیجا جاتا ہے)۔

 

اسی طرح فوج کو جو ریاست کا بہت ہی اہم ادارہ ہے ضرورت پڑنے پر ملک کا کپتان (سربراہ) ‘نازک حالات’ میں اسے مدد کے لیے طلب کرسکتا ہے۔ لیکن اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایک باؤلر باؤلنگ پر توجہ ہی نہ دے اور بیٹنگ کی خواہش دل میں لیے میدان میں اترے اور اسی طرح فوج دفاعی امور کو چھوڑ کر دوسرے اداروں میں مداخلت کرنا شروع کردے۔

 

جس طرح شاہد آفریدی ہمیں میچ جیتنے کی امید دلا کر فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں اسی طرح پاکستانی جرنیل بھی آتے ہی سارے مسائل کو حل کرنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں
کرکٹ اور سیاست میں اہلیت کے کچھ معیارات طے کیے گئے ہیں اور ہر کھلاڑی اور ریاستی ستون کا کردار طے کر دیا گیا ہے۔ کرکٹ میں بہترین بلے باز کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے کچھ معیارات رکھے گئے ہیں۔ اگر دنیا کے بلے بازوں کی فہرستیں بنائی جائیں تو شاہد آفریدی کا نام صرف دو فہرستوں میں آتا ہے۔ وہ ہے سب سے زیادہ چھکے مارنے والوں کی فہرست اور سب سے تیز رفتاری سے اسکور کرنے والوں کی فہرست۔ لیکن بہترین بلے باز ہونے کے لیے نہ صرف ایک اچھی اوسط کا ہونا لازمی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کھلاڑی کتنے تسلسل سے اپنی کارکردگی دکھاتا ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ بوقتِ ضرورت (خاص کر ورلڈ کپ میں) وہ ٹیم کو کتنا فائدہ پہنچاتا ہے۔ آفریدی کی ایک روزہ بیٹنگ اوسط 23 ہے جو ایک بلے باز کے لیے نہایت ہی بُری ہے اور اس سے بھی بدتر ورلڈ کپ میں ہے۔ ورلڈ کپ کے 27 میچوں میں ان کی اوسط صرف 14 ہے اور ایک بھی سینچری شامل نہیں ہے۔ آفریدی کا شمار دنیا کے ‘خطرناک ترین’ بلے بازوں میں ہوتا ہے جو میچ کی کایہ کبھی بھی پلٹ سکتا ہے لیکن ایسی کارکردگی دکھانے کے لیے وہ برسوں لگا دیتے ہیں۔ اکثر مواقع پر جب وہ میچ جتا سکتے تھے وہ میچ وننگ کارکردگی نہیں دکھا سکے جو کرکٹ شائقین اور ان کے مداحین کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ بات ہے۔ مگر ہماری یادداشت اتنی کمزور ہے کہ پچھلے بیسیوں میچوں کی بری کارکردگی کو بُھلا کر ہر بار انہی سے امید لگا بیٹھتے ہیں اور وہ ہر بار ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

 

پاکستانی فوج کا شمار بھی دنیا کی ‘بہترین’ افواج میں ہوتا ہے (یہ جملہ میں اس لیے لکھ رہا ہوں تا کہ مجھ پر غدار ہونے کا الزام نہ لگے)۔ پاکستانی فوج نے ہمیشہ ہنگامی حالات میں پاکستانی شہریوں کی دل کھول کر مدد کی ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات، پاکستانی فوج نے ہر اس علاقہ میں امداد پہنچائی ہے جہاں دوسرے ادارے نہیں پہنچ پاتے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے بھی پاک فوج ہمیشہ تیار رہی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت 2004 میں عاشور کے جلوس پر حملہ ہونے کے بعد کوئٹہ میں لگایا گیا کرفیو ہے۔ اس وقت کے حالات کو صرف پاکستانی فوج ہی قابو کرسکتی تھی جو انہوں نے بخوبی انجام دیا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام فوج کی اتنی دلدادہ ہوگئی ہے کہ ہر مسئلے کے حل کے لیے فوج کو آواز دے دیتی ہے۔

 

سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔
ہماری پیاری فوج کبھی کبھی دعوت پر تو کبھی بن بھلائے مہمان کی طرح نازل ہوجاتی ہے۔ جس طرح شاہد آفریدی ہمیں میچ جیتنے کی امید دلا کر فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں اسی طرح پاکستانی جرنیل بھی آتے ہی سارے مسائل کو حل کرنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں جس کی مثال ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے آمرانہ ادوار میں دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستان سے پنگا لینے کے لیے آپریشن جبرالٹر کرنا، سیاست کے لیے مذہب کا بے جا استعمال (اسلامائزیشن) کرنا، افغانستان میں دخل اندازی کرنا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید دہشت پھیلانا، امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانا اور بلوچستان کے حالات کو مزید خراب کرنا۔ یہ ایسے ان گنت مسائل ہیں جو پاکستانی آمروں کی دین ہیں لیکن ہم بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں اور یہ سب باتیں بھول کر جمہوریت کو گالی گلوچ دیتے رہتے ہیں اور سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک ایسے ادارے سے آس لگائے بیٹھے ہیں جس کا کام سیاست کرنا ہے ہی نہیں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست دان اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر جتنا بھی برا ہو آپ اپنے مرض کے علاج کے لیے کبھی کسی اینجینئر یا پلمبر کے پاس نہیں جائیں گے، بلکہ کسی بہتر ڈاکٹر کی تلاش کریں گے کیونکہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اگر ہم نے مختلف آئینی اداروں اور مختلف کھلاڑیوں کے آئینی کردار اور کھیلنے کی صلاحیت کے برعکس ذمہ داریاں دینا جاری رکھا تو ہماری فوج اور کرکٹ کا وہی حال رہے گا جو اس وقت ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

آپریشن ضرب عضب اور تزویراتی گہرائی کے نظریات

پاک فوج نے طالبان دہشتگردوں کی بڑھتی ہو ئی کارروائیوں ، ہمسایہ ممالک بشمول چین ، ایران اور افغانستان کی شکایات اور امریکی حکومت کے بارہا مطالبے کے نتیجے میں 15جون کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیاتھا۔ پاکستان میں رجعت پسند مذہبی و سیاسی جماعتو ں نے حسبِ معمول آپریشن کی مخالفت کی تاہم قومی سطح کی مذہبی ، اقلیتی اور سیاسی جماعتوں نے اب تک آپریشن ضربِ عضب کی مکمل تائیداور حمایت کی ہے۔9اگست کو اسلام آباد میں وزیر اعظم کی طرف سے بلائی گئی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کی موجودگی میں پاک فوج نے شرکاء کو آپریشن ضرب عضب کے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر نے کا مژدہ سنایا، آپریشن کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کے ارادے کا اظہار بھی چند روز پیشتر کیا جا چکا ہے۔عسکری قیادت کے مطابق اب تک کی کارروائی میں ساڑھے پانچ سو سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور میران شاہ ، بویہ ، دیگان اور میر علی کے علاقے دہشت گردوں سے خالی کروا لیے گئے ہیں۔ آپریشن میں غیر ملکی دہشتگردوں کی ہلاکت اور گولہ بارود، خود کش جیکٹیں اور بارودی سرنگیں بنانے والی فیکٹریاں تباہ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں جو یقیناً پاک فوج کی بڑی کامیابی ہے۔
آپریشن سے متعلق پائے جانے والے ابہام اور آزادانہ ذرائع سے فوجی دعووں کی تصدیق کی سہولت نہ ہونے کے باعث یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ پاکستانی عسکری قیادت شایدابھی تک تزویراتی گہرائی کے نظریات اور اچھے برے طالبان کی تفریق کی قائل ہے۔
پاک فوج کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کے دعووں کے باوجود مختلف سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں حقانی نیٹ ورک کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ۔ذرائع ابلاغ کو دستیاب حساس معلومات کے مطابق آپریشن ضربِ عضب سے قبل حقانی نیٹ ورک کی قیادت کو شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے میں مدد فراہم کی گئی اور علاقے میں اس تنظیم کی تنصیبات کونشانہ نہیں بنایا گیا۔ آپریشن کے نتیجے میں ابھی تک طالبان کی اعلیٰ قیادت میں سے کسی کے ہلاک ہونے کی خبر موصول نہیں ہوئی جس سے عام پاکستانیوں کے ذہن میں خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔آپریشن سے متعلق پائے جانے والے ابہام اور آزادانہ ذرائع سے فوجی دعووں کی تصدیق کی سہولت نہ ہونے کے باعث یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ پاکستانی عسکری قیادت شایدابھی تک تزویراتی گہرائی کے نظریات اور اچھے برے طالبان کی تفریق کی قائل ہے۔
نوے کی دہائی میں تزویراتی گہرئی کے نقطہ نظر کے تحت اپنائی جانے والی افغان پالیسی سے پاکستان پہلے ہی شدت پسندی، فرقہ واریت اور جہادی دہشت گردی کا شکار ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج سب متفق ہیں کہ پاکستان کوسلامتی کے خطرات بیرونی نہیں اندرونی دشمنوں سے ہیں ۔ پاکستانی اسٹبلیشمنٹ کی سر پرستی میں افغان اور کشمیر جہاد کے لئے تشکیل پانے والے مسلح مذہبی جہادی گروہ پلٹ کر آج پاکستان کے لئے خطرہ بن چکے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کے بیشتر واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ فوج کے بنائے ہوئے ان گروہوں کی وحشت اور بربریت سے سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام پر امن شہری بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں اب تک پاکستان کو ہندوستان سے ہونے والی چھوٹی بڑی جنگوں سے زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ پاکستان کی بعض مذہبی سیاسی جماعتیں ان دہشتگردوں کیلئے ابھی تک نرم گوشہ رکھتی ہیں اور انہیں معصوم اور بے گناہ ثابت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں ۔ یہ جماعتیں شدت پسندی اور دہشت گردی کو امریکی ڈوروں حملوں کا ردعمل قرار دیتی ہیں۔
پاکستان کی سیا سی اور عسکری قیادت اگر دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو صحیح معنوں میں عسکری و فکری محاذدں پر شدت پسندوں کے خلاف جنگ کرناہو گی ۔
پاکستانی تعلیمی نصاب اور مذہبی لٹریچر سےنفرت انگیز مواد اور جہادی متن کا اخراج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ سب سے اہم محاذ ہے جس کی طرف اب تک کوئی توجہ نہیں دی گئی.
اچھے اور برے طالبان کی تفریق رد کرتے ہوئے پورے ملک میں آپریشن کے دائرے کو وسیع کرنا ہو گا اور شدت پسندی کی ترویج کا باعث بننے والے مدارس کو دہشتگردوں کی نرسری بننے سے روکنا ہو گا۔ اقلیتوں کے خلاف اشتعال پھیلانے والے افراد کو بلا تفریق انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا، دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دیناہو گی اور کالعدم جماعتوں کو نام بدل بدل کر کام کرنے سے روکنا ہو گا۔ پاکستانی تعلیمی نصاب اور مذہبی لٹریچر سے نفرت انگیز مواد اور جہادی متن کا اخراج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ سب سے اہم محاذ ہے جس کی طرف اب تک کوئی توجہ نہیں دی گئی، برداشت ، رواداری اورپر امن بقائے باہمی پر مبنی تعلیمی نصاب مرتب کئے بغیر شدت پسندوں کی حمایت میں کمی لانا ممکن نہیں۔ دیگرممالک میں عدم مداخلت پر مبنی خارجہ پالیسی کو رائج کرنا اور حکومت ، سول سوسائٹی اور عام شہریوں کے اشتراک سےتمام طبقات کی نمائندگی پر مبنی جمہوری نظام کا قیام ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی واحد امید ہے
Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 9 دسمبر 1971- بُری خبریں

آج کپتان صاحب اپنے دفتر میں ہی رہے۔اُنہوں نے کوت والے کو باہر بھیج دیا۔میں بھی شام تک اُن کے ساتھ رہا۔لکھنے کاکافی سارا کام اُنہوں نے مُجھ سے کروایا۔ میرے کام سے بہت خوش ہوئے اور کہا کہ جنگ کے بعد وہ مُجھے لانگ کورس کے امتحان میں ضرور بٹھوائیں گے۔میں نے اُن کو بتایا کہ میں گھریلو حالات کی وجہ سے اگر ایف ۔اے کے دوران ہی فوج میں بھرتی نہ ہوتا تو بھائی اقبال مُجھے بھی پرائمری ماسٹر لگوانا چاہےتھے۔ کپتان صاحب اچھے موڈ میں تھے تو میں نے اُنہیں اپنی تازہ شاعری بھی سُنائی۔وہ کہتے تھے کہ میں عشقیہ شاعری کی بجائے نثر لکھا کروں، بہتر ہوگا ۔کیونکہ عشقیہ شاعری کا شوق سولجر کو بُزدل بنا دیتا ہے۔

 

میں نے اُن سے جنگ کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ ہر طرف سے بُری خبریں ہیں۔دُشمن کئی راستوں سے ڈھاکے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ہماری ائیرفورس ناکارہ ہوگئی ہے اور تیج گاوں کا ہوائی اڈہ تو دُشمن نے بالکل تباہ کردیا ہے اور ہماری نیوی کے دو جہاز بھی ڈبو دیئے گئے ہیں۔وہ اندرا گاندھی کو ننگی گالیاں دے رہے تھے۔ اُنہوں نے یحیی خاں اور ٹکِا خاں صاحب کو بھی گالیاں دیں لیکن بعد میں مُجھے کہا کہ کسی سے ان باتوں کا ذکر نہ کروں۔وہ کہہ رہے تھے کہ ان بنگالیوں کے ساتھ بہت ذیادتیاں ہوئی ہیں لیکن انہوں نے جس طرح دُشمن سے ساز باز کی ہے، ہم ان غداروں کو معاف نہیں کریں گے۔پھر وہ شیخ مُجیب کو بھی گالیاں دینے لگ گئے۔میں بہت پریشان سا ہوگیا کہ اگر جنگ لمبی ہو گئی تو نجانے کب دوبارہ گھروں کا دروازہ دیکھنا نصیب ہو گا۔

 

کھانے کے بعد کپتان صاحب تو کوئی انگریزی ناول پڑھنے لگ گئے اور میں نے جاکر وائرلیس آپریٹر کو کھانے کیلئے ریلیف دیا۔اسی دوران برگیڈ سے کپتان صاحب کیلئے وائرلیس آیا۔ اُنہوں نے بی ۔ایم سے انگریزی میں بات کی۔ میرا خیال ہے کہ 6 تاریخ والے حملے کے حوالے سے کوئی احکامات تھے۔

 

آج رات دیر تک جنگی جہازوں کی گرج اور دور سے”Ack-Ack” توپوں کی آوازیں آتی رہیں۔پٹرول پارٹی بتا رہی تھی کہ قریب کے کسی گاوں پر بھارتی مگ طیاروں نے بم گرائے ہیں اور کافی سارے دیہاتی مر گئے ہیں۔ پُنّوں آج میرے پاس آکر سویا۔مُجھے بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ آج اُس نے غسل خانے کے پاس ایک سانپ مارا ہے۔یہاں سانپ بہت ذیادہ ہیں۔ رات کو پُنوں کی ڈیوٹی بھی تھی۔

(لانگ کورس:افسر بننے کیلئے لازم تعلیمی قابلیت۔ریلیف:آرام،چھُٹی۔ Ack-Ack :طیارہ شکن)

ڈائری کے گزشتہ دن

 


Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 6 دسمبر 1971- چھاپہ اور تعاقب

فجر کی نماز کے لئے جاگا۔ابھی نماز کے لئے ہاتھ باندھے ہی تھے کہ کیمپ ایک زوردار دھماکے سے گونج اُٹھا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔ میں نماز توڑ کے بھاگا اور مارٹر والوں کی خندق میں کود گیا۔ دس پندرہ منٹ تک عجیب ہلچل رہی۔ تمام سنتری اندھیرے میں فائر کرنے لگے۔ پھر کیپٹن صاحب نےہولڈ آن کا حکم دیا تو فائر رُکے۔سورج اُبھرا تو مُجھے صورت حال کا ندازہ ہوا کہ فجر کے وقت مُکتی باہنی نے کیمپ پر راکٹ مارا تھا جس سے کوت، جو کہ اس سکول کی لائبریر ی بھی ہے، کی دیوار گر گئی اور راشن والا ڈمپ بھی جل گیا۔ لائبریری کی کتابوں نے جو آگ پکڑی تو راشن کی دالیں تک بُھون دیں لیکن شُکر ہے ایمونیشن کو جلدی سے نکال لیا گیا ورنہ تباہی ہوتی۔
آج ناشتہ بھی نہ کرسکے۔ ریکی پارٹی نےفوری طور پہ مُکتی والوں کے فرار کا راستہ چھان مارا لیکن بے سُود۔ کیمپ سے پچاس گز کے فاصلے پر ایک مسلح باغی مُردہ حالت میں پایا گیا جو کہ ہماری اندھیرے میں فائرنگ سے مرا تھا۔ نرسنگ اردلی جب اُس کا معائنہ کر رہا تھا تو میں نے بھی اسے دُور سے دیکھا۔ اس نے دھوتی باندھ رکھی تھی اور قمیص پر بھارتی فوج کے سپلائی اِشُو والا کیمو فلاج جیکٹ پہن رکھا تھا۔
سارا دن مصروف رہے۔ کوت کپتان صاحب کے دفتر میں، جو کہ دراصل ہیڈماسٹر آفس تھا، منتقل کرنے کا حکم ملا تو سارا اسلحہ اور ایمونیشن یہاں منتقل کردیا۔رات سونے سے پہلے گھر سے آنے والے خط کا جواب لکھا لیکن سنبھال کے رکھ دیا کیونکہ سُننے میں آیا ہے کہ خطوط پر سنسر لگ گیا ہے۔یوں بھی بڑی پکی خبر ہے کہ مغربی پاکستان سے ڈاک کا رابطہ ختم ہو گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خط وکتابت بند ہونے کے بعد مشرقی پاکستان ذیادہ ہی اجنبی سی دھرتی محسوس ہونے لگا ہے۔
برگیڈ سے وائرلیس آیا تھا کہ صوبیدار بختیار صاحب کے والد سی ایم ایچ ڈھاکے میں فوت ہوگئے ہیں۔میں نے صوبیدار صاحب کو بتایا جس پر شام کو کپتان صاحب سے بہت ڈانٹ پڑی کہ میں نے اُنکی اجازت کے بغیر صوبیدار صاحب کو کیوں خبر دی۔۔۔

(مارٹر: تین انچ دہانے کی چھوٹی توپ۔کوت:اسلحہ خانہ۔ریکی:دُشمن کے علاقے کاگشت اور جائزہ)

ڈائری کے گزشتہ دن