Categories
نان فکشن

سر رچرڈ ایچرلے: پاک فضائیہ کا ایک ناقابلِ فراموش کردار

اپنی شاندار حسِ مزاح اور مرچ مسالے سے بھرپور زبان (فلاوری لینگوئج) کی وجہ سے پاک فضائیہ کے ا ولین افسروں اور جوانوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والےزندہ دل افسر، سر رچرڈ ایچرلے کی شخصیت کا ہر پہلو یادگار رہا جس پر پاک فضائیہ اُنہیں ہمیشہ یاد رکھے گی!

قیامِ پاکستان کے بعد تینوں مسلح افواج کی کمان انگریز کمانڈروں کو دینی پڑی کہ ہمارے پاس اعلیٰ کمان کا تجربہ رکھنے والے مسلمان، مقامی افسران نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک آرمی پر دو، پاک بحریہ پر ایک اور پاک فضائیہ پر چار انگریز کمانڈروں نے کمان کی۔فضائیہ اسی انفرادیت کی وجہ سے ذیادہ عرصے تک اُس مخلوط کلچر کی علمبردار رہی جس میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سامنے مذہب اور نسل کی وابستگیاں کوئی اہمیت نہ رکھتی تھیں۔اگرچہ پاک فضائیہ میں انگریز اور پولش افسران کی تعداد باقی دونوں افواج سے ذیادہ رہی اور ان میں ہر افسر اپنی ذات میں ایک انجمن تھا لیکن پاک فضائیہ کے دوسرے سربراہ، ائر وائس مارشل سر رچرڈ ایچرلے ایک انتہائی دلچسپ اور یادگار شخصیت کے طور پر پاکستانی تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔

رچرڈ لیولین روجر ایچرلے ۱۲ جنوری ۱۹۰۴ کو انگلستان کے شہر یارکؔ میں ایک فوجی افسر، میجر جنرل سر لیولین ایچرلے کے ہاں جڑواں پیدا ہونے والے دو بیٹوں میں سے ایک تھے۔اُن کی والدہ کا نام ایلینور فرانسس تھا جنہیں ’نَیلی‘ کے عرفی نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ایچرلے کا گھرانا قدیم فوجی روایات کا حامل تھا جس وجہ سے یہ دونوں جڑواں بھائی بھی فوجی ہی بنے۔ رچرڈ ایچرلے کے جڑواں بھائی ڈیوڈؔ بعد میں ائروائس مارشل سر ڈیوڈ ایچرلے کے نام سے معروف ہوئے اور ۱۹۵۱ میں بحیرۂ روم پر فلائینگ کے دوران مارے گئے۔

رچرڈ ایچرلے نے ۱۹۲۲ میں رائل ائرفورس کالج کرونویل میں شمولیت اختیار کی اور ۱۹۲۴ میں وہاں سے بطور پائلٹ فارغ التحصیل ہوئے۔اُن کی پہلی تعیناتی ۲۹، اسکواڈرن میں ہوئی جہاں اُنہوں نے ہوابازی کا مشہور انعام ’شنائیڈر ٹرافی‘ بھی جیتا اور انسٹرکٹر پائلٹ بھی رہے۔

دوسری جنگِ عظیم میں وہ ناروے، اسکاٹ لینڈ، لیبیا (صحرائے افریقہ) اور فرانس میں مختلف عہدوں پر فائز رہے اور فضائیہ کا تمغہ ’ائر فورس کراس‘ دو دفعہ حاصل کیا۔ جنگ کے بعد رائل ائر فورس کالج کرونویل کے کمانڈنٹ بنے اور ۱۹۴۹ میں انہیں رائل پاکستان ائر فورس (پاک فضائیہ) کا کمانڈر ان چیف منتخب کیا گیا۔ یہ عہدہ اب ’چیف آف ائر اسٹاف‘ کہلاتا ہے۔

پاک فضائیہ کے ابتدائی ایام میں اس کمزور سی فضائیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں سر رچرڈ ایچرلے کی خدمات نہ صرف قیمتی ہیں بلکہ مثالی بھی ہیں۔پھر ان کی حسِ مزاح، گفتگو میں ’پُھلجھڑیاں‘ چھوڑنے کی عادت جسے صرف فوجی کلچر ہی ’ہضم‘ کر سکتا ہے اور کسی حد تک شریر طبیعت نے ہماری فضائیہ کی تاریخ میں ایک دلچسپ باب کا اضافہ کیا اور وہ باب تھا، ’ایچرلےؔ کا زمانہ‘!

ایچرلے کی شریر طبیعت کا اظہار اُن کی سروس کے آغاز میں ہی ہو گیا تھا۔ مثلاً جب کرونویل کالج سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر اُن کے تمام کورس کا گروپ فوٹو لیا جانے لگا تو ایچرلے نے ایک ’تخلیقی‘ سی شرارت کی۔ اُس زمانے میں گروپ فوٹو لینے کے لئے تمام گروپ کے تین فوٹو لئے جاتے تھے، یعنی ایک دائیں حصے سے، ایک بائیں حصے سے اور ایک درمیان سے۔ پھر ڈویلپ کرنے کے عمل میں انہیں کمال مہارت سے جوڑ کر ایک فوٹو بنا لیا جاتا تھا۔ جب ایچرلےؔ کے۱۹۲۲،۲۴ کورس کا گروپ فوٹو ڈویلپ ہو کر آیا تو اس کے افسرانِ بالا نے دیکھا کہ گروپ میں تین ’ایچرلے‘ کھڑے تھے۔ ایچرلےؔ کو لعن طعن تو ہوئی لیکن افسران یہ جان کر ہنسے بغیر نہ رہ سکے کہ جب دائیں جانب سے فوٹو کھنچ چکا تھا تو ایچرلے خموشی سے کھسک کر درمیان میں آگیا تھا اور پھر درمیانی حصے کا فوٹو کھنچ جانے کے بعد بائیں جانب کھسک گیا تھا جس سے اس گروپ فوٹو میں ’تین ایچرلے‘ محفوظ ہو گئے۔

اسی لا اُبالی اور کھلنڈرے مزاج کی وجہ سے ایچرلےؔ نے نو عمری میں ہی ایک دفعہ اپنا ائر فورس کیرئیر قریب قریب ختم ہی کر لیا تھا۔ لیکن قدرت کو اُس کا ائر چیف بننا منظور تھا۔ نو جوان ایچرلےؔ ایک دفعہ جب سمندر پر پرواز کر رہا تھا تو اُسے رائل نیوی کا ایک بحری بیڑہ نظر آیا۔ اُس نے فوراً پہچان لیا کہ اس جہاز پر تو اُس کا ایک بہترین دوست بھی تعینات تھا۔ کھلنڈرے افسر ایچرلے کی طبیعت لہرائی اور دوست سے ملنے کی غرض سے اُس نے اپنا طیارہ اُسی بحری بیڑے کے عرشے پر بنے مختصر سے رن وے پر پٹخ دیا۔ طیارہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا حالانکہ جہاز کے ’برِج‘ سے اُسے بار بار ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ ایچرلےؔ بھی بخوبی جانتا تھا کہ فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا بحری بیڑے پر لینڈ کرنا فقط ایک حماقت ہے لیکن دوست سے ملاقات پر جو طبیعت لہرائی تھی، یہ کرتب بھی کر دیکھا۔ ایچرلے کو اس حرکت پر کورٹ مارشل اور سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا لیکن نوکری سے نکالے جانے سے بچ گیا۔

یہی شوخ، کھلنڈری طبیعت پاک فضائیہ کی کمان کے دوران، پختہ کار عمر میں ایک بھاری احساسِ ذمہ داری کے ساتھ یکجا ہو کر ایک ذمہ دارانہ حسِّ مزاح سے بدل گئی اگرچہ انہوں نے فضائیہ کی کمان سنبھالتے ہی اس کا ایک واضح اظہار کر دیا. اس زمانے میں فضائیہ کے سربراہ کو ائر افسر کمانڈنگ کہا جاتا تھا جبکہ آرمی کا سربراہ کمانڈر ان چیف کہلاتا تھا. اس سے فضائیہ کے سربراہ کو جونیئر ہونے کا یک گونہ احساس رہتا تھا. ایچرلے نے اس احساس کو شاید بالخصوص پسند نہ کیا اور ایک صبح جو طبیعت لہرائی، انہوں نے حکومت کو اطلاع دے دی کہ انہوں نے اپنا عہدہ کمانڈر ان چیف بنا دیا ہے. ان کی دیکھا دیکھی بحریہ کے سربراہ جے ڈبلیو جیفرڈ بھی فلیٹ افسر کمانڈنگ س کمانڈر ان چیف ہو گئے۔

آر پی اے ایف اسٹیشن ماڑی پور، کراچی (جو کہ اب پی اے ایف بیس مسرورؔ ہے) میں واقع ایچرلےؔ کے دفتر میں پاک فضائیہ کے افسران کو ڈانٹ ڈپٹ اور مسالہ دار زبان کے ساتھ بے ضرر انگریزی گالیوں کا ’پرساد‘ ملنا ایک ایسا معمول تھا جس سے نہ صرف فضائیہ کے افسروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر ہوتی بلکہ آفیسرز مَیسوں میں اس ڈانٹ ڈپٹ کو یاد کر کے ہمہ وقت قہقہے بھی گونجتے رہتے۔

فوجی زبان میں افسرِ بالا کی ڈانٹ کو ’رس بھری‘ اور ’راکٹ‘ (وغیرہ) کہا جاتا ہے۔ ایچرلےؔ کا رس بھری یا راکٹ دینے کا انداز نرالا تھا۔ائرمارشل ظفر احمد چوہدری صاحب سے روائت ہے کہ ایچرلے کی کمان کے زمانے میں آر پی اے ایف اسٹیشن میانوالی میں ایک گروپ کیپٹن صاحب سے لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے پر پھسل گیا اور طیارے کا کافی نقصان ہوا۔ پاک فضائیہ تب ایک غریب سی فوج تھی اور ایسا نقصان اُٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ اب جب انکوائری ہوئی تو اس میں رپورٹ لکھنے والے افسران کے لئے ایک اُلجھن یہ تھی کہ گروپ کیپٹن (مساوی آرمی کے فُل کرنیل کے) ایک سینئر آفیسر تھے اور تب پاک فضائیہ میں گنتی کے چند گروپ کیپٹن تھے۔ انکوائری میں اُن افسر صاحب کی غلطی کی بجائے جیونیئر افسروں نے رن وے پر پھسلن، نمی اور ٹائر کی خرابی کو واقعے کی وجہ قرار دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا، اور طیارہ دوبارہ اُڑنے کے قابل بنا دیا گیا۔جب یہ رپورٹ ایچرلے کے پاس پہنچی تو اُنہوں نے اس پر ایک دلچسپ نوٹ لکھا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا:

۱۔ یہ حادثہ فقط اس گروپ کیپٹن کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے اور جو لوگ سچ لکھنے سے جھجکتے ہیں، وہ مرد نہیں، زنخے ہیں!
۲۔ جب بھی یہ۔۔۔ کراچی آئے، مجھے بتایا جائے تاکہ میں بنفسِ نفیس اس کی۔۔۔ پر ایک لات رسید کر سکوں!
(خالی جگہوں میں ایچرلےؔ نے اپنی ’’فلاوری لینگوئج‘‘ کے ’پھول‘ بکھیرے تھے)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیر قوم کا ہو کر بھی ایچرلےؔ کو پاک فضائیہ کے وسائل کی کمی اور ملک و قوم کی غریبی کا احساس ہمہ وقت رہتا تھا اور وہ ’جرنیل‘ ہونے کے باوجود ’با وقار غریبی‘ (آنریبل پاورٹی) کے کلچر کو پاک فضائیہ میں فروغ دیتے رہے۔ جنرل ضیاؔ مرحوم کے ’وی آئی پی کلچر‘ سے پہلے تک ہماری فضائیہ کے ونگ کمانڈر اور گروپ کیپٹن تک کے عہدے کے افسر سائیکل اور موٹر سائیکل پر دفتر آنا اپنے کسرِ شان نہیں سمجھتے تھے۔ خیر، یہ جملۂ معترضہ تھا!

ایک دفعہ ایچرلے کو اپنی کمان کے زمانے میں پشاور کا دورہ کرنا تھا۔ سوال یہ تھا کہ وہاں کس جگہ قیام کیا جائے؟ پشاور میں اعلیٰ درجے کے ہوٹل تب بھی ضرور موجود تھے لیکن ایچرلے ؔ نے یہ تجویز رد کردی کہ پاک فضائیہ اُن کے، ہوٹل میں رہنے کے اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ ایچرلےؔ نے کمانڈر ان چیف ہونے کے باوصف پشاور میں مکین اپنے ماتحت گروپ کیپٹن اصغر خاں سے کہا کہ وہ ایک دو روز کے لئے اُنہیں اپنے پاس ٹھہرا لیں تو یہ معاملہ نپٹ سکتا ہے! اصغر خاں کو فضائیہ نے دو کمروں کا فلیٹ کرائے پر لے کر دے رکھا تھا( یا شائد ہوٹل کے کمرے تھے) لیکن خاتونِ خانہ اور بچوں کے زیرِ استعمال کمرے میں تو اٹیچ باتھ روم تھا، دوسرے کمرے کے ساتھ یہ سہولت نہ تھی، پھر بھی ایچرلےؔ نے اُس کمرے میں ٹھہرنے کی ہامی بھر لی۔
ایچرلےؔ کو جب کبھی کسی دورے پہ فضائیہ کے سفری طیارے پر مشرقی پاکستان جانا ہوتا تھا تو وہ اکثر رات کو طیارے کے کیبن میں ہی سو جاتے اور عملے کو تاکید کر دیتے کہ صبح مُنہ اندھیرے اُنہیں جگانے کی زحمت نہ دی جائے اور خاموشی سے پرواز کر جائیں۔ عملے کے افسروں اور جوانوں کو کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے آنا ہوتا تھا اور وہ انہیں زحمت دینے کے ہرگز قائل نہ تھے۔ ایک صبح طیارے کے کیبن میں سوئے ہوئے ایچرلے کی آنکھ کھلی تو کاک پٹ میں جا کر دیکھا کہ پائلٹ، اسکواڈرن لیڈر احمدؔ، پائلٹ سیٹ میں بیٹھے مزے سے شیو کرنے میں لگے ہیں! ایچرلےؔ نے اُنہیں اپنی ’فلاوری لینگوئج‘ کا ناشتہ کروایا اور بظاہر خود بھی اس صورتحال سے لُطف اندوز ہوتے ہوئے دوبارہ کیبن میں آ کر سو رہے۔ افسران ایچرلےؔ سے ڈرتے ضرور تھے لیکن اُن سے خوفزدہ نہ تھے اور اُن کے جانثار تھے! ایچرلےؔ ایک کھُلے ڈُلے کمانڈر تھے۔

ایچرلےؔ کی زُبان کی تُرشی فقط زبان کی حد تک تھی اور وہ نہایت خیال رکھنے والے ایک مہربان باپ جیسا پیکر تھے، حالانکہ اُنہوں نے عمر بھر شادی نہیں کی تاہم فضائیہ کے طیاروں اور جوانوں کو اپنی اولاد کی طرح پالا پوسا۔ انہی دنوں میں جب وہ چھٹیاں گزارنے انگلستان گئے تو اُنہوں نے وہاں ایک کار کرائے پر حاصل کی اور انگلستان کے طول و عرض میں واقع فضائیہ کے ہر اُس ادارے میں گئے جہاں رائل پاکستان ائر فورس کے افسر اور جوان زیرِ تربیت تھے۔ اُنہوں نے ہر ایک سے فرداً فرداً اُس کی تعلیمی تربیتی صورتحال کے بارے میں پوچھا اور تاکید کی کہ اپنے مُلک اور فضائیہ کی غریبی کو پیشِ نظر رکھیں اور محنت کریں، مبادا کہ ملک وقوم کا سرمایہ جو اُس کی بیرون مُلک تربیت پر خرچ ہو رہا ہے، ضائع جائے۔

فلائٹ لیفٹیننٹ اسٹیفن ٹرونکزنسکیؔ ہماری فضائیہ کے پولستانی نژاد پاکستانی افسر تھے۔ ایک دفعہ کوہاٹ سے ماڑی پور (کراچی) کی پرواز کے دوران وہ نیویگیشن کی غلطی سے کراچی کے بجائے مکران کے صحراؤں کی طرف نکل گئے۔ جہاز کا پٹرول ختم ہو گیا لیکن کراچی کہیں دکھائی نہ دیا لہٰذا ریت کے ٹیلوں میں ایمرجنسی لینڈ کرنا پڑا۔ یہاں سے اسٹیفنؔ نے مقامی لوگوں سے ایک اونٹ لیا اور بصد خرابی کراچی آ پہنچے۔ ایچرلےؔ نے انہیں حُکم دیا کہ فوراً ایک تربیتی طیارے میں پرواز کر جاؤ اور صحرا میں اپنے جہاز کی درست لوکیشن پتہ کر لاؤ تاکہ اسے وہاں سے واپس لایا جا سکے۔ اسٹیفنؔ نے دو ایک پروازوں کے بعد جب آکر منفی رپورٹ دی کہ صحرا میں جہاز کا اتہ پتہ نہیں مل رہا تو ایچرلےؔ نے معمول کی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمان سُنایا کہ پھر اُونٹ پر ہی جاؤ اور صحرا کا کونہ کونہ چھان مارو!!! یہ نُسخہ کارگر ثابت ہوا۔ اسٹیفنؔ نے منت سماجت کر کے آخری دفعہ طیارے پر جا کر تلاش کرنے کی اجازت لے لی اور اپنے جہاز کو تلاش کر کے ہی واپس لوٹے۔

ائر ہیڈ کوارٹرز ماڑی پور، ایچرلےؔ کے ہوتے ہوئے ایسے دلچسپ واقعات کا مسکن بنا رہتا تھا۔ فضائیہ کا سربراہ ہو کر بھی ایچرلےؔ کا ذوقِ پرواز ٹھنڈا نہ پڑا۔ وہ اکثر پرواز کرتے رہتے تھے۔ ایک ’فیوری‘ لڑاکا طیارہ ہمہ وقت اُن کے لئے تیار رہتا تھا۔ ایک صبح وہ جہاز میں سوار ہوئے اور چھے کارتوسوں سے بھرا ایک مخصوص پستول اُس کے انجن میں لگا کر فائر کیا جس کا مقصد انجن کو ’’اگنیشن‘‘ دینا ہوتا تھا۔ جب ایچرلےؔ یکے بعد دیگرے پانچ کارتوس فائر کر چکے اور انجن اسٹارٹ نہ ہوا تو نیچے اُتر کر اپنی ’تابکار‘ زبان کا رُوئے سُخن وہاں موجود تمام افسروں، جوانوں کی طرف کیا اور ایک سارجنٹ (حوالدار) کو حُکم دیا کہ وہ انجن کی خرابی کی جانچ کرے۔ سارجنٹ نے باقی ماندہ ایک ہی کارتوس انجن میں چلایا اور انجن اسٹارٹ ہو گیا تو اُس نے فاتحانہ ایچرلےؔ کی طرف دیکھا جس پر اُنہیں تاؤ آگیا، تُنک کر بولے:

“If you can start that damn aircraft, you go ahead and fly it too! I am going to my office!”
یہ بھی ہرگز نہیں کہ ایچرلےؔ اپنے ماتحتوں کے مرتبوں سے غافل ہوتے تھے۔ فوج کے کلچر میں کمانڈر ان چیف کی شخصیت جس پدری شفقت اور درشتی، سختی کا پیکر ہوا کرتی ہے، ایچرلےؔ اُس کی ایک متوازن مثال تھے۔

نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں ایک قومی دن کے موقعے پر کمانڈر ان چیف کے گھر پر شام کے کھانے کا اہتمام تھا جس میں پاک فضائیہ کے سینئیر افسران اور اُس دن کے فلائی پاسٹ میں حصہ لینے والے پائلٹ بھی مدعو تھے۔ جب کھانے کے بعد وزیرِ اعظم رُخصت ہوئے تو ایچرلےؔ نے حسبِ دستور اعلان کیا:
“This is when the lords and ladies leave!”

خواتین و حضرات جانے لگے۔ کچھ دیر بعد ایچرلےؔ نے دیکھا کہ فضائیہ کے افسران بدستور کھڑے گپیں ہانک رہے تھے، ایچرلے نے اُن میں سینئیر ترین، گروپ کیپٹن اصغر خان کو گھُور کر دیکھا اور فرمایا:
“Get lost!! Didn’t you hear me to tell you it’s time to leave?”

اس واقعے کے چند سال بعد جب اصغر خان ائر مارشل بن کر پاک فضائیہ کے کمانڈر ان چیف بنے تو اُنہیں برطانیہ کے دورے کا اتفاق ہوا۔ برطانوی فضائیہ کی فلائینگ ٹریننگ کمانڈ کے دورے کے لئےوہ جونہی وہاں پہنچے، وہاں کے کمان افسر نے آگے بڑ ھ کر اصغر خان کی کار کا دروازہ کھولا اور چھَن سے اپنی تلوار نکال کر انہیں ایک چست سا سلیوٹ کیا:
’’جنابِ والا! فلائینگ ٹریننگ کمانڈ،برائے معائنہ تیار!!‘‘
ایڑھیاں جوڑے، سامنے مؤدب کھڑا یہ افسر، ائر مارشل ایچرلے ؔ تھا!

برطانوی فضائیہ میں لَوٹنے کے بعد اُنہوں نے اس کمان کے علاوہ ایک گروپ کمان کیا، پھر کچھ عرصہ واشنگٹن میں ایک اسٹاف ڈیوٹی پر تعینات رہے اور بالآخر۱۹۵۹ میں بطور ائر مارشل، فضائیہ سے ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک طیارہ ساز کمپنی کے سیلز ڈائریکٹر بنے۔

۱۹۷۰ کی ایک شام وہ لندن میں پاک فضائیہ کے ائر اتاشی، گروپ کیپٹن اسلم ؔ کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ کر اندر آ دھمکے۔ گروپ کیپٹن نے اُٹھ کر استقبال کیا اور کہا آپ نے سیڑھیاں چڑھنے کی زحمت کیوں کی، مجھے حُکم دیتے، میں خود حاضر ہو جاتا ! ایچرلےؔ کا جواب یہ تھا کہ وہ پاک فضائیہ کے نہائیت عمدہ افسروں اور جوانوں کو آخری سلام کہنے آئے ہیں جن کے گروپ کیپٹن اسلمؔ نمائندے ہیں۔ یہ کہہ ایچرلےؔ نے تَن کر ایک چُست سلیوٹ کیا اور چند لمحوں کے بعد واپس چلے گئے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ایچرلےؔ نے ۱۸ اپریل ۱۹۷۰ کو آلڈرشاٹ میں ۶۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی آخری رسومات میں پاک فضائیہ سے وابستگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ایچرلےؔ نے پاک فضائیہ میں اپنی یادوں کی صورت میں جو میراث چھوڑی، وہ ایک مدت تک پیشہ ورانہ دیانت داری، اپنے پیشے سے بحدِ استواری وفادار رہنے اور مخلصانہ بنیادوں پر ماتحتوں اور افسرانِ بالا سے تعلق قائم رکھنے کے کلچر کے طور پر تابندہ رہی۔۔۔

حوالہ جات:
1. Mosaic of Memory, Air Marshal Zafar Ahmed Chowdhry
2. Air Pockets II, Wing Commander Zafar Iqbal
3. Untold Tale of the Pakistan Air Force, Air Commodore Kamal Ahmed.

Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی فوج اور بوم بوم

youth-yell-featuredیہ 1953 کی بات ہے۔ کچھ مذہبی تنظیموں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم (اقلیت) قرار دیا جائے۔ جب حکومت نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کردیا تو پنجاب میں فسادات شروع ہوگئے۔ پاکستان کی حکومت ان فسادات کو قابو کرنے میں ناکام رہی۔ حکومت نے حالات کو قابو کرنے ک یلئے فوج کو طلب کیا اور پنجاب میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔ پھر فوج حالات کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئی اوریہ پہلا موقع تھا جب پاکستانی فوج نے پاکستان کی سیاست میں ‘باضابطہ’ طور پر اپنا کردار ادا کیا اور شاید یہی وجہ تھی کہ فوج نے عوام (خاص کر پنجاب کے عوام) میں کافی مقبولیت حاصل کی۔

 

جن لوگوں کو کرکٹ اور سیاست میں دلچسپی ہے انہیں پتہ ہوگا کہ فوج کا کام دفاعی امور کو سنبھالنا اور ایک باؤلر کا کام رنز روک کر دوسرے ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ضرورت کے وقت ٹیم کا کپتان کسی بلے باز کو حالات کی نزاکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنے بھیج سکتا ہے
1996 میں پاکستان کرکٹ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہوا یوں کہ جب پاکستانی کرکٹ ٹیم چار ملکی ایک روزہ (ون ڈے انٹرنیشنل) ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے کینیا گئی تو اس وقت پاکستان ٹیم کے کپتان وسیم اکرم تھے جبکہ نائب کپتان سعید انور تھے۔ پاکستان جب اپنا دوسرا میچ کھیل رہا تھا تو وسیم اکرم ٹیم کا حصہ نہیں تھے (شاید وہ زخمی ہوگئے تھے) اور ٹیم کی قیادت سعید انور کر رہے تھے۔ وسیم اکرم کے نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو ایک باؤلر کی ضرورت تھی جس کے لیے ٹیم نے ایک نوجوان باؤلر شاہد آفریدی کو ٹیم کا حصہ بنایا، جنہوں نے کافی اچھی باؤلنگ کی (پہلے میچ میں آفریدی کو بیٹنگ کرنے کا موقع نہیں ملا)۔ اگلے میچ میں جب پاکستان پہلے بیٹنگ کررہا تھا تو 60 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو پہلی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر وہ ریکارڈ بنا جو ٹوٹ جانے کے باوجود بھی شاید ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شاہد آفریدی نے جو بطور باؤلر پاکستانی ٹیم میں منتخب ہوئے تھے، میدان میں اترتے ہی چھکوں کی بارش کردی۔ انہوں نے 37 گیندوں پر اس وقت کی تیز ترین سینچری اسکور کی اور اسی میچ کے بعد آفریدی نے پاکستانی عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔

 

یہ دونوں واقعات بہت ہی ملتے جلتے اور اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان واقعات سے نہ صرف بحیثیت قوم ہماری پسند، ناپسند کا پتہ چلتا ہے بلکہ یہ بات بھی پتہ چل جاتی ہے کہ ہماری یادداشت کتنی کمزور ہے۔ جن لوگوں کو کرکٹ اور سیاست میں دلچسپی ہے انہیں پتہ ہوگا کہ فوج کا کام دفاعی امور کو سنبھالنا اور ایک باؤلر کا کام رنز روک کر دوسرے ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ضرورت کے وقت ٹیم کا کپتان کسی بلے باز کو حالات کی نزاکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنے بھیج سکتا ہے (جیسا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں دن کے آخر میں ایک باؤلر کو بطورِ نائٹ واچ مین بھیجا جاتا ہے)۔

 

اسی طرح فوج کو جو ریاست کا بہت ہی اہم ادارہ ہے ضرورت پڑنے پر ملک کا کپتان (سربراہ) ‘نازک حالات’ میں اسے مدد کے لیے طلب کرسکتا ہے۔ لیکن اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایک باؤلر باؤلنگ پر توجہ ہی نہ دے اور بیٹنگ کی خواہش دل میں لیے میدان میں اترے اور اسی طرح فوج دفاعی امور کو چھوڑ کر دوسرے اداروں میں مداخلت کرنا شروع کردے۔

 

جس طرح شاہد آفریدی ہمیں میچ جیتنے کی امید دلا کر فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں اسی طرح پاکستانی جرنیل بھی آتے ہی سارے مسائل کو حل کرنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں
کرکٹ اور سیاست میں اہلیت کے کچھ معیارات طے کیے گئے ہیں اور ہر کھلاڑی اور ریاستی ستون کا کردار طے کر دیا گیا ہے۔ کرکٹ میں بہترین بلے باز کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے کچھ معیارات رکھے گئے ہیں۔ اگر دنیا کے بلے بازوں کی فہرستیں بنائی جائیں تو شاہد آفریدی کا نام صرف دو فہرستوں میں آتا ہے۔ وہ ہے سب سے زیادہ چھکے مارنے والوں کی فہرست اور سب سے تیز رفتاری سے اسکور کرنے والوں کی فہرست۔ لیکن بہترین بلے باز ہونے کے لیے نہ صرف ایک اچھی اوسط کا ہونا لازمی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کھلاڑی کتنے تسلسل سے اپنی کارکردگی دکھاتا ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ بوقتِ ضرورت (خاص کر ورلڈ کپ میں) وہ ٹیم کو کتنا فائدہ پہنچاتا ہے۔ آفریدی کی ایک روزہ بیٹنگ اوسط 23 ہے جو ایک بلے باز کے لیے نہایت ہی بُری ہے اور اس سے بھی بدتر ورلڈ کپ میں ہے۔ ورلڈ کپ کے 27 میچوں میں ان کی اوسط صرف 14 ہے اور ایک بھی سینچری شامل نہیں ہے۔ آفریدی کا شمار دنیا کے ‘خطرناک ترین’ بلے بازوں میں ہوتا ہے جو میچ کی کایہ کبھی بھی پلٹ سکتا ہے لیکن ایسی کارکردگی دکھانے کے لیے وہ برسوں لگا دیتے ہیں۔ اکثر مواقع پر جب وہ میچ جتا سکتے تھے وہ میچ وننگ کارکردگی نہیں دکھا سکے جو کرکٹ شائقین اور ان کے مداحین کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ بات ہے۔ مگر ہماری یادداشت اتنی کمزور ہے کہ پچھلے بیسیوں میچوں کی بری کارکردگی کو بُھلا کر ہر بار انہی سے امید لگا بیٹھتے ہیں اور وہ ہر بار ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

 

پاکستانی فوج کا شمار بھی دنیا کی ‘بہترین’ افواج میں ہوتا ہے (یہ جملہ میں اس لیے لکھ رہا ہوں تا کہ مجھ پر غدار ہونے کا الزام نہ لگے)۔ پاکستانی فوج نے ہمیشہ ہنگامی حالات میں پاکستانی شہریوں کی دل کھول کر مدد کی ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات، پاکستانی فوج نے ہر اس علاقہ میں امداد پہنچائی ہے جہاں دوسرے ادارے نہیں پہنچ پاتے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے بھی پاک فوج ہمیشہ تیار رہی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت 2004 میں عاشور کے جلوس پر حملہ ہونے کے بعد کوئٹہ میں لگایا گیا کرفیو ہے۔ اس وقت کے حالات کو صرف پاکستانی فوج ہی قابو کرسکتی تھی جو انہوں نے بخوبی انجام دیا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام فوج کی اتنی دلدادہ ہوگئی ہے کہ ہر مسئلے کے حل کے لیے فوج کو آواز دے دیتی ہے۔

 

سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔
ہماری پیاری فوج کبھی کبھی دعوت پر تو کبھی بن بھلائے مہمان کی طرح نازل ہوجاتی ہے۔ جس طرح شاہد آفریدی ہمیں میچ جیتنے کی امید دلا کر فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں اسی طرح پاکستانی جرنیل بھی آتے ہی سارے مسائل کو حل کرنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں جس کی مثال ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے آمرانہ ادوار میں دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستان سے پنگا لینے کے لیے آپریشن جبرالٹر کرنا، سیاست کے لیے مذہب کا بے جا استعمال (اسلامائزیشن) کرنا، افغانستان میں دخل اندازی کرنا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید دہشت پھیلانا، امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانا اور بلوچستان کے حالات کو مزید خراب کرنا۔ یہ ایسے ان گنت مسائل ہیں جو پاکستانی آمروں کی دین ہیں لیکن ہم بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں اور یہ سب باتیں بھول کر جمہوریت کو گالی گلوچ دیتے رہتے ہیں اور سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک ایسے ادارے سے آس لگائے بیٹھے ہیں جس کا کام سیاست کرنا ہے ہی نہیں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست دان اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر جتنا بھی برا ہو آپ اپنے مرض کے علاج کے لیے کبھی کسی اینجینئر یا پلمبر کے پاس نہیں جائیں گے، بلکہ کسی بہتر ڈاکٹر کی تلاش کریں گے کیونکہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اگر ہم نے مختلف آئینی اداروں اور مختلف کھلاڑیوں کے آئینی کردار اور کھیلنے کی صلاحیت کے برعکس ذمہ داریاں دینا جاری رکھا تو ہماری فوج اور کرکٹ کا وہی حال رہے گا جو اس وقت ہے۔
Categories
نان فکشن

جب ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالے گئے

یہ اس سلسلے کا چوتھا مضمون ہے، اے وطن کے سجیلے جوانو کا پہلا ،دوسرا اور تیسرا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

 

پاکستان کے قیام کے بعد سے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان معاشی اور سیاسی عدم توازن کا مسئلہ موجود تھا اورمشرقی پاکستان میں برطانوی سامراج کی جگہ لینے والے پنجابی سامراج کی حکمرانی کے خلاف عوامی جذبات پائے جاتے تھے۔ ایوب خان کے بعد ایک اورفوجی آمریحییٰ خان نے ملک کی کمان سنبھالی تو بنگالی دانشوروںاورعوام میں پاکستان اورفوج مخالف جذبات عروج پر تھےیہی وجہ ہے کہ دسمبر 1970ء میں ہونے والے انتخابات میں چھے نکات کی بنیاد پر انتخابی مہم چلانے والی عوامی لیگ کو صوبائی اور قومی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل ہوئی۔ فوج اورمغربی پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ عوامی لیگ کو اقتدارمنتقل نہیں کرنا چاہتی تھی اورمجیب الرحمان اپنے موقف سے ہٹنے کو تیارنہ تھے۔ کسی غیرمعمولی صورت حال کیلئے فوج نے پہلے سے تیار ی کر رکھی تھی۔
فوجی آپریشن کی تیاری
انتخابات سے قبل عوامی لیگ کی کامیابی کی صورت میں افراتفری پھیلنے سے نمٹنے کیلئے جرنیلوں نے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کا آغازکررکھا تھا۔ لیفٹنٹ جنرل یعقوب علی خان کی ہدایت کے تحت آپریشن Blitz کی منصوبہ بندی دسمبر 1970 تک مکمل کی جا چکی تھی۔ منصوبے کے مطابق مارشل لاء کی خلاف ورزی، آزاد بنگلہ دیش کے قیام کی بات کرنے، یحییٰ خان کے LFO کی مخالفت کرنے یا عوامی لیگ کا اپنے مطالبات کی خاطر احتجاج کرنے کی صورت میں فوجی آپریشن شروع کیا جانا طے پایا۔ منصوبہے میں طے پایا تھا کہ چوبیس گھنٹوں کے اندرعوامی لیگ اور کمیونسٹ جماعتوں کے چنیدہ ارکان کو گرفتارکرکےامن وامان کی صورت حال پر قابو پالیا جائے گا۔
منصوبے کے مطابق مارشل لاء کی خلاف ورزی، آزاد بنگلہ دیش کے قیام کی بات کرنے، یحییٰ خان کے LFO کی مخالفت کرنے یا عوامی لیگ کا اپنے مطالبات کی خاطر احتجاج کرنے کی صورت میں فوجی آپریشن شروع کیا جانا طے پایا۔
فروری اورمارچ 1971ء تک یحییٰ خان اورعوامی لیگ کےمابین مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا اور فریقین اپنے موقف پرثابت قدم رہے، مذاکرات کے دوران مشرقی بنگال میں ہنگامہ آرائی اور مغربی پاکستان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری جاری رہا۔احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کی بہیمانہ کوششوں کے دوران پاکستانی فوج نےمارچ کے پہلےہفتے کے دوران ایک سو بہّتر (172) بنگالیوں کےمارےجانےکی تصدیق کی۔ حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر فوجی آپریشن کے لئے مزید فوجی دستےمارچ کے مہینے میں مغربی پاکستان سے ڈھاکہ پہنچے۔ روزانہ دس سے پندرہ پروازیں مغربی پاکستان سے فوجیوں کو لےکرڈھاکہ کے ہوائی اڈے پراترتیں۔ اسی دوران یعقوب علی خان نے فوجی آپریشن سے دستبرداری کا اعلان کیا اوراپنےعہدے سےاستعفیٰ دیدیاجن کے بعدمنصوبے کو حتمی شکل جنرل فرمان اور خادم راجہ نے دی۔اگرچہ اس فوجی آپریشن کی تیاری کافی عرصہ سے جاری تھی لیکن اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل گل حسن نےاس منصوبے سےمکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ مارچ کے آخری ہفتے تک تیس سے چالیس ہزار پاکستانی فوجی مشرقی پاکستان میں تعینات کیے جا چکے تھے۔ یعقوب خان کی جگہ جنرل ٹکا خان کو مشرقی پاکستان میں موجود فوج کا سربراہ تعینات کیا گیا۔ ٹکا خان نے سنہ 1958ء میں بلوچ سردارنوروزخان کی تائید سے شروع ہونے والی علیحدگی پسندمہم کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا تھا اوراس کو’بلوچستان کا قصائی‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔25مارچ کو باقاعدہ مذاکرات بےنتیجہ رہے تویحیی خان نےمغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کرنے والے ذوالفقارعلی بھٹو کی حمایت سے فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس رات جس لمحے یحییٰ خان کا طیارہ مغربی پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا، اسی وقت باقاعدہ آپریشن کا آغاز ہوگیا۔
آپریشن سرچ لائٹ
آپریشن شروع ہوتے ہی دھان منڈی میں واقع مجیب الرحمان کے گھر کو زیادہ مزاحمت کے بغیر ہی فتح کر لیا گیا البتہ بنگالی طلبہ کی مزاحمت کے باعث ڈھاکہ یونیورسٹی میدان ِ جنگ میں تبدیل ہو گیا۔یونیورسٹی کے اقبال ہال پر توپ کے گولے برسائے گئے جبکہ جگن ناتھ ہال میں موجود طلباء اوراساتذہ کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ صدیق سالک نےجب اگلے روزیونیورسٹی کا دورہ کیا تو وہاں گولہ باری کے باعث زمین میں شگاف پڑ چکے تھے۔ 25مارچ کو چٹا گانگ کی بندرگاہ پر بنگالی عوام نے ایک جہاز سے پاکستانی فوج کیلئے آنےوالے اسلحےکو اتارنےمیں مزاحمت کی تو فوج کی جانب سے جوابی کا رروائی میں پندرہ افراد مارے گئے۔
آپریشن کا دائرہ محضں مزاحمت کاروں تک محدود نہ تھا بلکہ ہر بنگالی قوم پرست کو فوجی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔عوامی لیگ کی حمایت کرنے کی پاداش میں بنگالی اخبارات کے دفاتر پرحملےکیےگئے جن میں دی پیپل اور اتفاق اخبار شامل تھے۔ایک عینی شاہد کے مطابق اتفاق اخبار کے دفتر پر ٹینک سے حملہ کیا ،شدید گولہ باری کے نتیجے میں دودن تک اخباری کاغذ راکھ ہوتا رہا۔
پاکستانی فوجی بنگالی شہریوں کو قتل کرتے وقت انہیں’بنگلہ دیش پہنچانے‘کی خوش خبریاں اسی طرح سناتے رہے جیسے تقسیم ہندکے وقت ہندواورمسلمان بلوائی ایک دوسرے کو پاکستان اور ہندوستان کی راہ دکھاتے رہے۔
آپریشن کے دوران ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف اعدادوشمار سامنے آچکے ہیں ؛ڈھاکہ میں تعینات اس وقت کے امریکی کونسل جنرل کےاندازےکےمطابق آپریشن شروع ہونے کےایک ہفتے تک صرف ڈھاکہ میں چھے ہزارسےزائدلوگ مارےگئے۔ جنرل ٹکا خان نے حمود الرحمان کمیشن کو بتایا کہ اسکےاندازےکےمطابق آپریشن کے دوران پاکستانی افواج نے تیس ہزار سے زائد بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔بنگالی افسران اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مزاحمت کے پیش نظر آپریشن کےآغازپرہی بنگالی سپاہ اورپولیس اہلکاروں سےہتھیار واپس لینے کی کوشش کی گئی لیکن سترہ ہزارمیں سےصرف چارہزارافراد سے ہتھیار واپس لئے جاسکے۔
مجھے لوگ نہیں علاقہ چاہیے
مشرقی پاکستان میں شروع کیا جانے والا آپریشن اپنے بیشتر اہداف پورے نہ کر سکا۔چٹا گانگ ریڈیو سٹیشن پربروقت قبضہ نہ ہو سکا اوروہاں سےمیجرضیا الرحمان نے بنگلہ دیش کی آزادی کےاعلانات شروع کر دیے۔ چٹا گانگ کے حصول کیلئے پاکستانی فوج کو دومہینے لڑائی کرنی پڑی۔اس فوجی کارروائی کےدوران بنگالیوں کو فوج کی جانب سے نسلی تعصب کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ پاکستانی فوجی بنگالی شہریوں کو قتل کرتے وقت انہیں’بنگلہ دیش پہنچانے‘کی خوش خبریاں اسی طرح سناتے رہے جیسے تقسیم ہندکے وقت ہندواورمسلمان بلوائی ایک دوسرے کو پاکستان اور ہندوستان کی راہ دکھاتے رہے۔
پاکستانی فوج نے آپریشن کے حوالے سے آزاد ذرائع ابلاغ تک اطلاعات کی فراہمی کے عمل میں روکاوٹ ڈالنے کے لیے بھی طاقت کا استعمال کیا۔ 26 مارچ کو غیر ملکی صحافیوں پرInter-Continental Hotel سے نکلنے پر پابندی لگا دی گئی۔ جب ایک ضدی رپورٹر نے باہر نکلنے کی کوشش کی تو پہرے پر مامور سپاہی للکارا:’ہم تو اپنے ہم وطنوں کو نہیں بخش رہے، تمہیں مارنا تو کوئی مسئلہ نہیں، چپ کر کے اندر بیٹھے رہو‘۔ اس فوجی آپریشن اور بعد ازاں کھلی جنگ کے دوران غیر جانبدارانہ تجزیوں اور خبروں کے لیے بی بی سی یا دیگر عالمی ذرائع ابلاغ پر انحصار کرنا پڑا۔
پاکستانی فوج کے لیے بنگالیوں سے زیادہ سرزمین بنگال اہم تھی۔ ٹکا خان نے ماتحت افسران کو حکم دیا کہ ’مجھے لوگ نہیں، علاقہ چاہیے‘ اور میجر جنرل فرمان راؤ نے اپنی ڈائری میں لکھا: ہم مشرقی بنگال کی سبزسرزمین کو سرخ رنگ دیں گے۔”
لیفٹنٹ کرنل عزیز احمد نے بتایا کہ جنرل نیازی مئی کے مہینے میں ہماری یونٹ کے دور ے پرآیا اورہم سے دریافت کیا کہ ہم نے اب تک کتنے ہندوؤں کوکیفرکردارتک پہنچایا؟
لیفٹیننٹ کرنل منصور الحق نےمحمود الرحمان کمیشن کو بتایاکہ افسروں اور جوانوں میں بنگالیوں اور خاص طورپرہندوؤں کے بارےمیں نفرت کے جذبات پائے جاتے تھے۔ کمیشن کے سامنے انہوں نے اعتراف کیا کہ جوانوں کو زبانی ہدایات ملی تھیں کہ ہندوؤں کو صفحہ ہستی سےمٹا دیاجائےجس کے بعد صرف سلداندی کے علاقےمیں ہم نے چھےسولوگوں کوموت کے گھاٹ اتارا۔ قصبوں اوردیہاتوں پرقابو پانےکے دوران ہم نے سب کچھ جلا دیا۔ برگیڈیئرتسکین کے مطابق فوج کا ڈسپلن بالکل ختم ہو چکا تھا اورجوانوں نے قانون کواپنےہاتھ میں لیا ہوا تھا۔ لیفٹنٹ کرنل عزیز احمد نے بتایا کہ جنرل نیازی مئی کے مہینے میں ہماری یونٹ کے دور ےپرآیا اورہم سے دریافت کیا کہ ہم نے اب تک کتنے ہندوؤں کوکیفرکردارتک پہنچایا؟
تشدد اور بربریت کا یہ سلسلہ یک طرفہ نہیں تھا بلکہ بنگالی قوم پرستوں کی جانب سے بھی ظلم وبربریت کی انتہا کی گئی۔مختلف مقامات پر پاکستانی فوج کےاہلکاروں اورانکے خاندان کےافراد کومارا گیا اوراسکےعلاوہ بہاری مہاجرین کو خاص طورپرنشانہ بنایا گیا۔ بنگالی قوم پرستوں کی متشدد کاروائیوں کے دوران بوگرہ اورچٹا گانگ میں ہزاروں بہاریوں کو قتل کیا گیا۔
مغربی پاکستان میں اس دوران چین کی بنسی بجتی رہی اورحکومت کے زیراختیاراخبارات میں بنگال کی خونچکاں داستان کا ذکر موجود نہیں تھا۔ شعراء اورادیبوں میں ترقی پسند گروہ نےفوجی آپریشن کی شدید مخالفت کی اورعوامی لیگ سےوابستہ چند سیاسی ارکان کےعلاوہ سیاسی جماعتوں نے فوجی حکومت کےاس وحشیانہ اقدام پرچوں تک نہ کی۔ حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے مغربی پاکستان کی عوام کو حکومتی مشینری نے آپریشن کی تفصیلات سے بے خبر رکھا اورسرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر بنگالیوں کے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا۔پی ٹی وی پر اسلم اظہرکے زیرنگرانی ایک ڈاکومنٹری The Great Betrayal بنائی اورنشرکی گئی۔ اس دستاویزی فلم میں بنگالی علیحدگی پسندوں کی بہاری افراد پرمظالم کی تصاویراوراخباری فوٹیج موجود تھی۔
نومبر کے اواخر تک بھارتی فوج نے تراسی(83) ہزاربنگالیوں کوان کیمپوں میں تربیت دی تھی اوران میں سے پچاس ہزارسےزائد مشرقی بنگال میں تعینات کئے جا چکے تھے۔
بھارتی مداخلت
بھارتی صحافی پراوین سوامی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ یکم مئی 1971ء کو بھارتی فوج کے سربراہ نے مشرقی پاکستان پر حملے کا منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبے کو آپریشن جبرالٹر کی طرز پر تیار کیا گیا تھا اوراس کا نام آپریشن Instruction تجویز کیا گیا۔منصوبہ یہ تھاکہ تربیت یافتہ گوریلا افواج کی مدد سے اس علاقے میں انتشار پھیلایا جائے اوراس انتشار کا فائدہ اٹھا کررسمی جنگ کا میدان سجایا جائے۔ منصوبے کے تحت بنگالی گوریلا افواج کی تربیت کا ذمہ بھارتی فوج پرتھااوران گوریلوں کومشرقی پاکستان کے زمینی حقائق کی روشنی میں تربیت دینا اہم تھا۔ اس مقصد کیلئے سات تربیتی کیمپ تیار کئے گئے جن میں سےدومغربی بنگال، دومیگھالیا جبکہ ایک ایک کیمپ بہار، آسام اور تری پورہ میں موجود تھا۔ ہر کیمپ میں ایک ہزار رضاکاروں کی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ ان کیمپوں میں بھرتی کیلئے امیدواروں کی چھانٹی کا کام عوامی لیگ کے رہنماؤں کو سونپا گیا۔ ستمبر 1971ء تک ہرماہ ان کیمپوں سےبیس ہزارگوریلا سپاہی تیاری کے بعد سرحد کی دوسری جانب بھیجے جا رہے تھے۔ نومبر کے اواخر تک بھارتی فوج نے تراسی(83) ہزاربنگالیوں کوان کیمپوں میں تربیت دی تھی اوران میں سے پچاس ہزارسےزائد مشرقی بنگال میں تعینات کئے جا چکے تھے۔ اس کے علاوہ بھارت نے خصوصی کمانڈوز پرمشتمل یونٹ کو پاکستانی فوج کے خلاف غیر رسمی لڑائی کیلئے تعینات کیا ،اس یونٹ میں دو ہزارکے قریب کمانڈو شامل تھے۔
دسمبر کے وسط میں اندرا گاندھی نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا جس کو پاکستانی قیادت نے reciprocate کیا اورڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال دیے۔
جب پلٹن گراونڈ میں ہتھیار ڈالے گئے
تین دسمبر 1971ء کو پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے شمال میں واقع ہوائی اڈوں پر حملے کی کوشش کی لیکن پاکستانی ہوا بازوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بھارت کا ایک بھی جہاز تباہ کرنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ بھارت نے ملک کے دونوں حصوں کے خلاف جنگ شروع کی اور امریکی سرزنش کی وجہ سے مغربی پاکستان کو ایک حد سے زیادہ نقصان پہنچانے سے گریز کیا۔ مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی کی ناقص منصوبہ بندی اورمقامی آبادی کی شدید مخالفت کے باعث پاکستانی فوج کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ چھے سال پہلے چھڑنے والی جنگ میں پاک فضائیہ کی بدولت کچھ بچت ہو گئی تھی لیکن مشرقی پاکستان میں مٹھی بھر طیاروں کی موجودگی کے باوجود فضائیہ کا استعمال نہ کیا جا سکا۔ جنرل نیازی نے بھارتی مزاحمت روکنے کیلئے دس مقامات پر قلعہ بندی کا منصوبہ بنایا۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی سے نبٹنے کیلئے بیلجیم نےبھی ایسا ہی منصوبہ بنایا تھا،لیکن دونوں مواقع پر یہ دفاعی منصوبہ ناکام ٹھہرا۔ دسمبر کے وسط میں اندرا گاندھی نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا جس کو پاکستانی قیادت نے reciprocate کیا اورڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال دیے۔اگرچہ پاکستانی سپاہ بھارتی افواج کا مقابلہ نہیں کر پائیں لیکن آخری دم تک بنگالی اساتذہ اور دانشوروں کے خلاف مہم جاری رہی، پہلے سے تیار شدہ فہرست میں موجود افراد کو چن چن کر مارا گیا۔بنگال میں قتل وغارت پربنگلہ اوردو میں بہت سے ادب تخلیق کیا گیا، فیض صاحب کی ایک نظم سے ا قتباس قارئین کی نذر؛

 

چارہ گر ایسا نہ ہونے دے
کہیں سے لا کوئی سیلاب اشک
آب وضو
جس میں دھل جائیں تو شائد دھل سکے
میری آنکھوں، میری گرد آلود آنکھوں کا لہو
(جاری ہے)

[spacer color=”BCBCBC” icon=”fa-times” style=”2″]

کتابیات
اس مضمون کی تیاری کے دوران درج ذیل کتب سے مدد لی گئی ہے:

A History of the Pakistan Army: Wars and Insurrections, Brian Cloughley

Pakistan: Eye of the Storm,Owen Bennet Jones

The Separation of East Pakistan, Hassan Zaheer

Hamoodur Rehman Commission Report

India, Pakistan and the Secret Jihad:The Covert War in Kashmir, 1947,
Praveen Swami

Fighting to the End: The Pakistan Army’s way of war,C.Christine Fair

Crossed Swords: Pakistan, its army, and the wars within.Shuja Nawaz

Witness to Surrender,Siddiq Salik