Categories
نقطۂ نظر

میانداد اور آفریدی آمنے سامنے

محرم کے پہلےدس دنوں میں عام طور پر لوگ دوسری مصروفیات کو کم یا ترک کرکے مجالس، ماتمی جلوسوں میں شرکت اور واقعہ کربلا کا سوگ منا رہے ہوتے ہیں، ایسے میں سیاسی مصروفیات بھی بہت کم ہوجاتی ہیں۔ ایسا ہی اس سال بھی ہوا اور خاص کر6 محرم کے بعد سےسیاسی بیانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ اس اثنا میں پاکستانی میڈیا نے کرکٹ کے دو نامور پاکستانی کھلاڑیوں جاویدمیانداد اور شاہد آفریدی کےآپس میں الجھ جانے کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اس خبر کو شہ سرخی بنائے رکھا۔ میانداد اور آفریدی کے آمنے سامنے آنے کا پس منظر یہ تھا کہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران میڈیا کے نمائندوں نے شاہدآفریدی سے یہ سوال کیا کہ جاویدمیانداد کا کہنا ہے کہ آپ پیسوں کے لیے اپنا الوداعی میچ چاہتے ہیں جس پر شاہد آفریدی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “جاوید میانداد کو ساری زندگی پیسوں کا مسئلہ رہا ہے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے کرکٹر کو ایسی چھوٹی بات نہیں کرنی چاہیےتھی۔ یہی فرق عمران خان اور جاوید میانداد میں تھا”۔ شاہد آفریدی کے اس بیان کے بعد جاوید میانداد نے ایک نجی ٹی وی چینل پر شاہد آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے ان پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آفریدی اپنی بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ انہوں نے میچ نہیں بیچے۔

 

یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جاوید میانداد جو پاکستان کے بہت سینیر اور لیجنڈ کرکٹر ہیں اپنے سے بہت جونیر شاہدآفریدی کے بہت زیادہ خلاف کیوں ہیں۔
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جاوید میانداد جو پاکستان کے بہت سینیر اور لیجنڈ کرکٹر ہیں اپنے سے بہت جونیر شاہدآفریدی کے بہت زیادہ خلاف کیوں ہیں۔ مثلاً شاہد آفریدی نے بھارت میں ہونے والے 2016 کے ورلڈ کپ ٹی 20 میں کولکتہ میچ سے پہلے ایک پریس کانفرنس کی اورایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ہندوستان کے لوگوں سے ہمیں بہت پیار ملا ہے اور اتنا پیار تو ہمیں پاکستان میں بھی نہیں ملا جتنا یہاں ملا’۔ یہ ایک طرح کا سفارتی بیان تھا لیکن اس بیان پر انہیں پاکستان بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، ایسا نہیں کہ سب نے ان کی مخالفت کی ہو، لیکن سب سے زیادہ افسوس ناک تبصرہ پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ جاوید میانداد کا تھا جس میں انہوں نے شاہد آفریدی کے بیان کی مذمت کی تھی۔ انہوں ٹی وی شو میں بیٹھ کر شاہد آفریدی پر لعنت بھیجی۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہد آفریدی کے بیان سے انہیں ‘صدمہ اور تکلیف’ پہنچی ہے۔ سابق پاکستانی کپتان اور موجودہ سیاستدان عمران خان نےایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ جاوید میانداد کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے۔ جاوید میانداد ایک کرکٹر رہے ہیں سیاست دان نہیں لہذا ان کو شاہد آفریدی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بولنا چاہیے تھا۔

 

جاوید میانداد کے شاہد آفریدی پر میچ فکسنگ کے الزام کے بعد شاہدآفریدی نے جاوید میانداد کےبیان پر وکلا سے مشاورت کےبعد قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ آفریدی نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا کہ ‘جاوید میانداد کے ذاتی حملے کافی عرصہ برداشت کئے لیکن ہرکسی کے برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہے لیکن میانداد کے رویے پر ان کا ردعمل فطری تھا’۔ کرکٹ کے سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ شاہدآفریدی کو اپنی حیثیت بحال کرنے کےلیے لازمی عدالت میں جانا چاہیے۔ جاویدمیانداد اور شاہد آفریدی کے درمیان الفاظ کی جنگ کے دوران پی سی بی کے سابق چیئرمین جنرل توقیر ضیاء اور سابق کپتان وسیم اکرم نے دونوں کے درمیان مصحالت کرانے کی کوشش کی تھی۔ ان تمام حالات کے بعد جاوید میانداد کی طرف سے ایک بیان دیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘شاہدآفریدی میرےہاتھوں ہی پروان چڑھاہے، اس کے بیان نے میرادل بہت دکھایاہے، پھربھی بڑا ہونے کے ناطے میں نے شاہدآفریدی کو معاف کردیا ہے’۔

 

جاوید میانداد کے اس بیان کے بعد شاہدآفریدی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ‘اپنے ملک کے لئے کھیلنا ان کے لئے اعزاز کی بات ہے وہ کبھی اپنے ملک کو نہیں بیچ سکتے۔ جاوید میانداد کے الزامات سے انہیں، ان کے گھر والوں اور پرستاروں کو تکلیف پہنچی ہے۔ ان کے دل میں جاویدمیانداد کی بہت عزت ہے، جاوید میانداد نے انہیں معاف کردیا ہے جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، لیکن اگر انہوں نے اپنا الزام واپس نہ لیا تو وہ اپنی حیثیت بحال کرانے کے لیے عدالت جائیں گے’۔ آفریدی کی طرف سے الزامات واپس لینے کے مطالبے پر جاوید میانداد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ابھی کسی معاملے پر تبصرہ کرنا نہیں چاہتا تاہم کسی سے ڈرنے والا نہیں اور اگر شاہد آفریدی کی جانب سے میچ فکسنگ الزامات پر نوٹس ملا تو اس کا ضرور جواب دوں گا۔ جبکہ ایک اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر ایک سروے میں ایک سوال پوچھا تھا کہ ‘کیا میانداد کی جانب سے آفریدی پرلگایا جانے والا میچ فکسنگ کا الزام درست ہے؟’۔ اس سروئے میں جواب ‘ہاں’ یا ‘نہیں’ میں دینا تھا، جس کے جواب لوگوں کی ایک معقول تعداد نے دیے۔ رزلٹ کے مطابق 71 فیصد لوگوں نے شاہد آفریدی کی حمایت کی اور ‘نہیں’ میں جواب دیا جبکہ 29 فیصد کا جواب جاویدمیانداد کے حق میں ‘ہاں’ تھا۔

 

جاوید میانداد کے اس بیان کے بعد شاہدآفریدی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ‘اپنے ملک کے لئے کھیلنا ان کے لئے اعزاز کی بات ہے وہ کبھی اپنے ملک کو نہیں بیچ سکتے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے اس سال ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے پہلے واضح طور پر کہا تھا کہ شاہد آفریدی کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صرف اس شرط پر سونپی گئی تھی کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔ جبکہ شاہد آفریدی نے بھی اس سال بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے ایک بیان میں اپنی کرکٹ جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کردی تھی۔ کرکٹ کے بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ شاہد آفریدی اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں مسلسل بیانات تبدیل کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ ان سے خوش نہیں ہے۔ ستمبر 2016کے بیچ میں پاکستانی میڈیا کے حوالے سے شاہد آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہنے کے لیے انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے خود کہا ہے جو بالکل غلط ہے۔

 

بقول شاہد آفریدی کہ ابھی ان کی کرکٹ ختم نہیں ہوئی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ان کےلیے کسی الوداعی تقریب کا انتظام نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ اگلے چند ماہ کے بعد کرکٹ بورڈ کو ان کی ضرورت ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شاید آفریدی ایک اچھا میچ کھیل کر ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی سوچنا چاہیے کہ شاہد آفریدی 98 بین الاقوامی ٹی ٹونٹی مقابلوں میں97 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور انہیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والا پہلا بولر بننے کے لیے صرف تین وکٹیں درکار ہیں، اگر شاہد آفریدی کا یہ ریکارڈ بنتا ہے تو یہ پاکستان کا بھی ریکارڈ ہوگا۔ کم از کم اس ریکارڈ کو حاصل کرنے کے لیے ہی حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شاہد آفریدی کو موقع دینا چاہیے تھا۔آخر میں دونوں مایہ ناز کھلاڑیوں جاوید میانداد اور شاہد آفریدی سے یہ درخواست ہے کہ اپنے آپس کے اختلافات کو ختم کریں، کیونکہ آپ دونوں جو اس وقت ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، اس سے صرف اور صرف پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے۔ لیکن اگر دونوں اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں تو عدالت کا رخ کریں اور میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کریں۔
Categories
نقطۂ نظر

شاہد آفریدی کی بلے بازی کی فرضی روداد

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

زید حامد، جاوید چوہدری اور حسن نثار کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

youth-yell

آفریدی، احمد شہزاد کو بلا کر کہتے ہیں کہ یار، ذرا میری جرابیں لاؤ، میں دو جوڑے پہن کر بیٹنگ کروں گا۔ احمد شہزاد فوراً بھاگ کر ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی صلے کے طور پر احمد شہزاد کے ساتھ ایک سیلفی لیتے ہیں۔
شاہد آفریدی ڈریسنگ روم میں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کی ٹانگیں تیز تیز ہل رہی تھیں۔ آفریدی، احمد شہزاد کو بلا کر کہتے ہیں کہ یار، ذرا میری جرابیں لاؤ، میں دو جوڑے پہن کر بیٹنگ کروں گا۔ احمد شہزاد فوراً بھاگ کر ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی صلے کے طور پر احمد شہزاد کے ساتھ ایک سیلفی لیتے ہیں۔ کریز پر حفیظ اور عمر اکمل بیٹنگ کر رہے ہیں کہ تماشائیوں میں سے کوئی ڈیل سٹین کا نام لیتا ہے اور حفیظ فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں۔ اب آفریدی کی باری ہے۔ ڈریسنگ روم میں ایک سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ آفریدی جلدی سے اپنے سر سے دماغ اتار کر ہیلمٹ پہن لیتے ہیں۔ وہ جب باہر نکلنے لگتے ہیں تو کوچ وقار یونس انہیں کہتے ہیں “ٹیک یور ٹائم”۔ آفریدی اثبات میں سر ہلا کر کہتے ہیں: “وقار بھائی آپ فکر ہی نہ کریں”۔ مصباح الحق اپنی بھاری بھر کم آواز میں آفریدی کو سمجھاتے ہیں کہ ابھی بہت اوورز پڑے ہیں آرام سے کھیلنا۔ اس طرح فرداً فرداً تقریباً ہر اہم کھلاڑی، ٹیم مینجر اور ٹیم کا فزیو تھراپسٹ بھی آفریدی کو اپنے مشوروں سے نوازتا ہے۔ آفریدی سب کے مشورے سن کر ان پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ آفریدی فیلڈ کی جانب بڑھتے ہیں، پیچھے سے دبی دبی آواز میں ڈریسنگ روم سے کوئی بولتا ہے: “وی سال ہو گئے نے سمجھا سمجھا کے، اینوں عقل نئیں آئی” (بیس سال ہو گئے سمجھاتے ہوئے لیکن اسے عقل نہیں آئی)۔

 

آفریدی رسی عبور کر کے گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں کوچ اور کپتان، اور ان کا اپنا بیٹنگ پلان گھوم رہا ہوتا ہے۔ وہ کچھ بولرز کواحتیاط سے کھیلنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اننگز کے آغاز میں پل شاٹ نہ کھیلنے کا تہیہ کرتے ہیں، پہلی پندرہ بیس گیندیں سنگل ڈبل کرنے کا سوچتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی آفریدی گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں، اسٹیدیم، “بوم بوم” اور “لالہ لالہ” کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔ ہر کوئی آفریدی کو چھکا مارنے پر اکسا رہا ہوتا ہے۔ کوئی تماشائی کہتا ہے “لالہ اگر پٹھان کا خون ہے تو پہلی بال پر چھکا مارنا ہے”۔ کوئی اور منچلا چلاتا ہے، “بوم بوم بھائی، میں نے اپنے محلے میں شرط لگائی ہے کہ شاہد بھائی پہلی گیند پر ہی چھکا ماریں گے”، ایک نسوانی آواز آتی ہے، “شاہد بھائی آج آپ نے ہی جتانا ہے، عزت کا سوال ہے”۔ آفریدی دل میں کہتے ہیں میں تمہاری ناک نہیں کٹنے دوں گا (چاہے، پاکستان کی ناک کٹ جائے )۔۔۔۔۔ اور تمام منصوبہ بندیاں، تمام نصیحتیں آفریدی کریز پر پہنچنے سے پہلے ہی بھول چکے ہوتے ہیں۔

 

کریز پر دوبارہ جاتے ہیں اور اگلی بال پر آوٹ ہو جاتے ہیں۔ آوٹ ہونے پر ان کی مایوسی اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے فرشتوں نے ایک سازش کے ذریعے ان کی قسمت میں ردوبدل کر کے انہیں آوٹ کروایا ہے۔
آفریدی کریز پر آتے ہیں تو عمر اکمل ان کے منہ کے اوپر گھس کر کہتا ہے، “شاہد بھائی، یہ باؤلر آپ کو گالی دے رہے تھا، اسے نہیں چھوڑنا”۔ آفریدی کا خون اور کھولنے لگتا ہے۔ سٹرائیک پر عمر اکمل ہوتے ہیں۔ عمر ایک چوکا لگاتے ہیں، سینہ مزید چوڑا کرتے ہیں، آفریدی کے اوپر چڑھ کر گلوز پر گلوز مارتے ہیں، پورے گراؤنڈ میں چاروں طرف فخریہ انداز میں دیکھتے ہیں، جیسے ایک گیند پر ایک ہزار رنز بنا لیے ہوں۔ کریز پر دوبارہ جاتے ہیں اور اگلی بال پر آوٹ ہو جاتے ہیں۔ آوٹ ہونے پر ان کی مایوسی اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے فرشتوں نے ایک سازش کے ذریعے ان کی قسمت میں ردوبدل کر کے انہیں آوٹ کروایا ہے۔ اگلے بلے باز شعیب ملک ہیں۔ ملک آفریدی کے قریب آتے ہیں تو آفریدی انہیں سمجھداری سے بلے بازی کا مشورہ دیتے ہیں (ملک دل ہی دل میں اس ستم ظریفانہ مشورے پر ہنستے ہیں)۔ ملک اپنی دوسری گیند پر خوب صورت چوکا لگاتے ہیں تو آفریدی انہیں کہتے ہیں، “ملک ہیلمٹ اتار”۔ شعیب ملک سوال کرتے ہیں، “کیوں لالہ کیا ہوا ہے؟” آفریدی جواب دیتے ہیں “اتنا پیارا چوکا مارا ہے میں تجھے شاباش دوں گا”۔ ملک ہنستے ہوئے کہتے ہیں، “لالہ جی ایسی باتیں آپ اپنے اشتہارات میں ہی کیا کریں۔” اگلی گیند پر شعیب ملک ایک اور چوکا لگاتے ہیں، آفریدی اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور شاباش دیتے ہیں۔ ملک کہتا ہے،”شاہد بھائی اتنا پیار تو کبھی ثانیہ نے بھی مجھے نہیں کیا جتنا آج آپ کو مجھ پر آ رہا ہے۔” آفریدی کہتا ہے “ملک میں تیرا بڑا بھائی ہوں، ثانیہ کون سی تیرا بڑا بھائی ہے؟” ملک فورا جواب دیتے ہیں، “لیکن لالہ وہ ڈانٹتی تو بڑے بھائی کی طرح ہی ہے”۔ آفریدی جواب میں ہنس کر کہتے ہیں اس کی بات مانا کر وہ دنیا میں ہر جگہ پرفارم کرتی ہے اور تو صرف ایشیا میں چلتا ہے۔” اس پر ملک آفریدی کو ایک گھوری دیتے ہیں۔

 

اب آفریدی سٹرائیک پر آتے ہیں۔ سٹیڈیم میں موجود تمام تماشائی اور ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے لاکھوں ناظرین متوجہ ہو جاتے۔ توقعات اور خدشات ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتے ہیں۔ گیند باز عرفان پٹھان ہیں۔ وہ آفریدی کو ایک باؤنسر کراتے ہیں جو آفریدی کے بلے پر نہیں آتا۔ آفریدی گیند چھوٹ جانے پر دو چار گالیاں اپنے آپ کو اور درجن بھر باولر کو دیتے ہیں۔ عرفان پٹھان کہتے ہیں “لالہ تیری بیٹنگ ختم ہو گئی ہے اب تمہاری کارکردگی پہلے جیسی نہیں ہے”۔ آفریدی جواب دیتے ہیں، “مجھے تم سے ایسی ہی گھٹیا بات کی توقع تھی”۔ عرفان دوبارہ اپنے رن اپ کی جانب چل پڑتے ہیں۔

 

کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔ وہ تماشائی جو آفریدی کو پہلی ہی گیند پر باؤلر کو اڑا دینے اور چھکے لگانے کی ترغیب دے رہے تھے اب مایوسی کے عالم میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس آفریدی کو بیس سال ہو گئے ہیں بیٹنگ کرنا نہیں آئی۔.
اگلی گیند آفریدی کے منہ کے سامنے پڑتی ہے۔ آفریدی اسے اٹھا کر باونڈری سے باہر تماشائیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ آفریدی کودتے پھاندتے شعیب ملک کے پاس جاتے ہیں اور اسے تیز تیز بول کر کچھ سمجھانے لگ جاتے ہیں۔ ملک ساری بات سنتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں،” جسے بیس سال میں کبھی کسی کی سمجھ نہیں آئی وہ بھی مجھے سمجھانے پر تُلا ہوا ہے”۔ آفریدی اب اگلی گیند کھیلنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اب لاکھوں تماشائی، ڈریسنگ روم میں موجود کھلاڑی، کپتان اور کوچز اسی خدشے کا شکار ہوتے ہیں کہ اب آفریدی کہیں گیند آسمان پر نہ چڑھا دے۔ عرفان پٹھان کو بھی خوب معلوم ہوتا ہے کہ اب آفریدی ایک اور چھکے کی کوشش کرے گا۔ عرفان پٹھان ایک نسبتاً آہستہ گیند کراتے ہیں آفریدی کا سر آسمان کی جانب ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری توانائی سے بلا گھما دیتے ہیں۔ گیند آسمانوں کی بلندیوں پر چڑھ جاتی ہے اس دوران آفریدی پہلے سے ہی اپنی قسمت بھانپ کر ڈریسنگ روم میں واپسی کے لیے قدم بڑھا دیتے ہیں۔ کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔ وہ تماشائی جو آفریدی کو پہلی ہی گیند پر باؤلر کو اڑا دینے اور چھکے لگانے کی ترغیب دے رہے تھے اب مایوسی کے عالم میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس آفریدی کو بیس سال ہو گئے ہیں بیٹنگ کرنا نہیں آئی۔

 

آوٹ ہو جانے کے بعد شاہد آفریدی کا پسندیدہ مشغلہ
آوٹ ہو جانے کے بعد شاہد آفریدی کا پسندیدہ مشغلہ
آفریدی، ڈریسنگ روم میں جا کر بیٹھتے ہیں۔ احمد شہزاد بھاگ کر ان کے لیے پانی لاتے ہیں۔ آفریدی پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔ سامنے ٹی وی پر محمد یوسف اور شعیب اختر براہ راست تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں، اور آفریدی کے آوٹ ہونے اور اس کے آوٹ ہونے کے انداز پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ آفریدی کے کان میں دو جملے پڑتے ہیں، یوسف کہہ رہے ہوتے ہیں “یہ تو ہے ہی ٹلہ” اور شعیب کہہ رہے ہوتے ہیں “اس کا دماغ جو ماشاللہ ہے، کوپتان۔۔۔۔۔” آفریدی غصے سے کہتے ہیں بند کرو یہ یاجوج ماجوج کے تبصرے۔۔۔۔۔ اتنے میں خشکی ختم کرنے کے مشہور برانڈ کا اشتہار چل پڑتا ہے جس میں آفریدی اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔ اور اس کے بعد ایک چیونگم کا جس میں وہ فن کو پھلاتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔اور پھر ایک ہاوسنگ سوسائٹی کا اور پھر ایک ہاضمے دار چورن کا اور پھر ایک کولا مشروب کا۔۔۔۔۔۔اور آفریدی اپنا غصہ کم کرنے کو گیند چبانا شروع کر دیتے ہیں۔

Image: Khaliq Khan

Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی فوج اور بوم بوم

youth-yell-featuredیہ 1953 کی بات ہے۔ کچھ مذہبی تنظیموں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم (اقلیت) قرار دیا جائے۔ جب حکومت نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کردیا تو پنجاب میں فسادات شروع ہوگئے۔ پاکستان کی حکومت ان فسادات کو قابو کرنے میں ناکام رہی۔ حکومت نے حالات کو قابو کرنے ک یلئے فوج کو طلب کیا اور پنجاب میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔ پھر فوج حالات کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئی اوریہ پہلا موقع تھا جب پاکستانی فوج نے پاکستان کی سیاست میں ‘باضابطہ’ طور پر اپنا کردار ادا کیا اور شاید یہی وجہ تھی کہ فوج نے عوام (خاص کر پنجاب کے عوام) میں کافی مقبولیت حاصل کی۔

 

جن لوگوں کو کرکٹ اور سیاست میں دلچسپی ہے انہیں پتہ ہوگا کہ فوج کا کام دفاعی امور کو سنبھالنا اور ایک باؤلر کا کام رنز روک کر دوسرے ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ضرورت کے وقت ٹیم کا کپتان کسی بلے باز کو حالات کی نزاکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنے بھیج سکتا ہے
1996 میں پاکستان کرکٹ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہوا یوں کہ جب پاکستانی کرکٹ ٹیم چار ملکی ایک روزہ (ون ڈے انٹرنیشنل) ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے کینیا گئی تو اس وقت پاکستان ٹیم کے کپتان وسیم اکرم تھے جبکہ نائب کپتان سعید انور تھے۔ پاکستان جب اپنا دوسرا میچ کھیل رہا تھا تو وسیم اکرم ٹیم کا حصہ نہیں تھے (شاید وہ زخمی ہوگئے تھے) اور ٹیم کی قیادت سعید انور کر رہے تھے۔ وسیم اکرم کے نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو ایک باؤلر کی ضرورت تھی جس کے لیے ٹیم نے ایک نوجوان باؤلر شاہد آفریدی کو ٹیم کا حصہ بنایا، جنہوں نے کافی اچھی باؤلنگ کی (پہلے میچ میں آفریدی کو بیٹنگ کرنے کا موقع نہیں ملا)۔ اگلے میچ میں جب پاکستان پہلے بیٹنگ کررہا تھا تو 60 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو پہلی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر وہ ریکارڈ بنا جو ٹوٹ جانے کے باوجود بھی شاید ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شاہد آفریدی نے جو بطور باؤلر پاکستانی ٹیم میں منتخب ہوئے تھے، میدان میں اترتے ہی چھکوں کی بارش کردی۔ انہوں نے 37 گیندوں پر اس وقت کی تیز ترین سینچری اسکور کی اور اسی میچ کے بعد آفریدی نے پاکستانی عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔

 

یہ دونوں واقعات بہت ہی ملتے جلتے اور اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان واقعات سے نہ صرف بحیثیت قوم ہماری پسند، ناپسند کا پتہ چلتا ہے بلکہ یہ بات بھی پتہ چل جاتی ہے کہ ہماری یادداشت کتنی کمزور ہے۔ جن لوگوں کو کرکٹ اور سیاست میں دلچسپی ہے انہیں پتہ ہوگا کہ فوج کا کام دفاعی امور کو سنبھالنا اور ایک باؤلر کا کام رنز روک کر دوسرے ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ضرورت کے وقت ٹیم کا کپتان کسی بلے باز کو حالات کی نزاکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنے بھیج سکتا ہے (جیسا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں دن کے آخر میں ایک باؤلر کو بطورِ نائٹ واچ مین بھیجا جاتا ہے)۔

 

اسی طرح فوج کو جو ریاست کا بہت ہی اہم ادارہ ہے ضرورت پڑنے پر ملک کا کپتان (سربراہ) ‘نازک حالات’ میں اسے مدد کے لیے طلب کرسکتا ہے۔ لیکن اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایک باؤلر باؤلنگ پر توجہ ہی نہ دے اور بیٹنگ کی خواہش دل میں لیے میدان میں اترے اور اسی طرح فوج دفاعی امور کو چھوڑ کر دوسرے اداروں میں مداخلت کرنا شروع کردے۔

 

جس طرح شاہد آفریدی ہمیں میچ جیتنے کی امید دلا کر فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں اسی طرح پاکستانی جرنیل بھی آتے ہی سارے مسائل کو حل کرنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں
کرکٹ اور سیاست میں اہلیت کے کچھ معیارات طے کیے گئے ہیں اور ہر کھلاڑی اور ریاستی ستون کا کردار طے کر دیا گیا ہے۔ کرکٹ میں بہترین بلے باز کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے کچھ معیارات رکھے گئے ہیں۔ اگر دنیا کے بلے بازوں کی فہرستیں بنائی جائیں تو شاہد آفریدی کا نام صرف دو فہرستوں میں آتا ہے۔ وہ ہے سب سے زیادہ چھکے مارنے والوں کی فہرست اور سب سے تیز رفتاری سے اسکور کرنے والوں کی فہرست۔ لیکن بہترین بلے باز ہونے کے لیے نہ صرف ایک اچھی اوسط کا ہونا لازمی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کھلاڑی کتنے تسلسل سے اپنی کارکردگی دکھاتا ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ بوقتِ ضرورت (خاص کر ورلڈ کپ میں) وہ ٹیم کو کتنا فائدہ پہنچاتا ہے۔ آفریدی کی ایک روزہ بیٹنگ اوسط 23 ہے جو ایک بلے باز کے لیے نہایت ہی بُری ہے اور اس سے بھی بدتر ورلڈ کپ میں ہے۔ ورلڈ کپ کے 27 میچوں میں ان کی اوسط صرف 14 ہے اور ایک بھی سینچری شامل نہیں ہے۔ آفریدی کا شمار دنیا کے ‘خطرناک ترین’ بلے بازوں میں ہوتا ہے جو میچ کی کایہ کبھی بھی پلٹ سکتا ہے لیکن ایسی کارکردگی دکھانے کے لیے وہ برسوں لگا دیتے ہیں۔ اکثر مواقع پر جب وہ میچ جتا سکتے تھے وہ میچ وننگ کارکردگی نہیں دکھا سکے جو کرکٹ شائقین اور ان کے مداحین کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ بات ہے۔ مگر ہماری یادداشت اتنی کمزور ہے کہ پچھلے بیسیوں میچوں کی بری کارکردگی کو بُھلا کر ہر بار انہی سے امید لگا بیٹھتے ہیں اور وہ ہر بار ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

 

پاکستانی فوج کا شمار بھی دنیا کی ‘بہترین’ افواج میں ہوتا ہے (یہ جملہ میں اس لیے لکھ رہا ہوں تا کہ مجھ پر غدار ہونے کا الزام نہ لگے)۔ پاکستانی فوج نے ہمیشہ ہنگامی حالات میں پاکستانی شہریوں کی دل کھول کر مدد کی ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات، پاکستانی فوج نے ہر اس علاقہ میں امداد پہنچائی ہے جہاں دوسرے ادارے نہیں پہنچ پاتے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے بھی پاک فوج ہمیشہ تیار رہی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت 2004 میں عاشور کے جلوس پر حملہ ہونے کے بعد کوئٹہ میں لگایا گیا کرفیو ہے۔ اس وقت کے حالات کو صرف پاکستانی فوج ہی قابو کرسکتی تھی جو انہوں نے بخوبی انجام دیا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام فوج کی اتنی دلدادہ ہوگئی ہے کہ ہر مسئلے کے حل کے لیے فوج کو آواز دے دیتی ہے۔

 

سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔
ہماری پیاری فوج کبھی کبھی دعوت پر تو کبھی بن بھلائے مہمان کی طرح نازل ہوجاتی ہے۔ جس طرح شاہد آفریدی ہمیں میچ جیتنے کی امید دلا کر فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں اسی طرح پاکستانی جرنیل بھی آتے ہی سارے مسائل کو حل کرنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں جس کی مثال ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے آمرانہ ادوار میں دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستان سے پنگا لینے کے لیے آپریشن جبرالٹر کرنا، سیاست کے لیے مذہب کا بے جا استعمال (اسلامائزیشن) کرنا، افغانستان میں دخل اندازی کرنا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید دہشت پھیلانا، امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانا اور بلوچستان کے حالات کو مزید خراب کرنا۔ یہ ایسے ان گنت مسائل ہیں جو پاکستانی آمروں کی دین ہیں لیکن ہم بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں اور یہ سب باتیں بھول کر جمہوریت کو گالی گلوچ دیتے رہتے ہیں اور سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک ایسے ادارے سے آس لگائے بیٹھے ہیں جس کا کام سیاست کرنا ہے ہی نہیں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست دان اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر جتنا بھی برا ہو آپ اپنے مرض کے علاج کے لیے کبھی کسی اینجینئر یا پلمبر کے پاس نہیں جائیں گے، بلکہ کسی بہتر ڈاکٹر کی تلاش کریں گے کیونکہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اگر ہم نے مختلف آئینی اداروں اور مختلف کھلاڑیوں کے آئینی کردار اور کھیلنے کی صلاحیت کے برعکس ذمہ داریاں دینا جاری رکھا تو ہماری فوج اور کرکٹ کا وہی حال رہے گا جو اس وقت ہے۔