Categories
نان فکشن

سر رچرڈ ایچرلے: پاک فضائیہ کا ایک ناقابلِ فراموش کردار

اپنی شاندار حسِ مزاح اور مرچ مسالے سے بھرپور زبان (فلاوری لینگوئج) کی وجہ سے پاک فضائیہ کے ا ولین افسروں اور جوانوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والےزندہ دل افسر، سر رچرڈ ایچرلے کی شخصیت کا ہر پہلو یادگار رہا جس پر پاک فضائیہ اُنہیں ہمیشہ یاد رکھے گی!

قیامِ پاکستان کے بعد تینوں مسلح افواج کی کمان انگریز کمانڈروں کو دینی پڑی کہ ہمارے پاس اعلیٰ کمان کا تجربہ رکھنے والے مسلمان، مقامی افسران نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک آرمی پر دو، پاک بحریہ پر ایک اور پاک فضائیہ پر چار انگریز کمانڈروں نے کمان کی۔فضائیہ اسی انفرادیت کی وجہ سے ذیادہ عرصے تک اُس مخلوط کلچر کی علمبردار رہی جس میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سامنے مذہب اور نسل کی وابستگیاں کوئی اہمیت نہ رکھتی تھیں۔اگرچہ پاک فضائیہ میں انگریز اور پولش افسران کی تعداد باقی دونوں افواج سے ذیادہ رہی اور ان میں ہر افسر اپنی ذات میں ایک انجمن تھا لیکن پاک فضائیہ کے دوسرے سربراہ، ائر وائس مارشل سر رچرڈ ایچرلے ایک انتہائی دلچسپ اور یادگار شخصیت کے طور پر پاکستانی تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔

رچرڈ لیولین روجر ایچرلے ۱۲ جنوری ۱۹۰۴ کو انگلستان کے شہر یارکؔ میں ایک فوجی افسر، میجر جنرل سر لیولین ایچرلے کے ہاں جڑواں پیدا ہونے والے دو بیٹوں میں سے ایک تھے۔اُن کی والدہ کا نام ایلینور فرانسس تھا جنہیں ’نَیلی‘ کے عرفی نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ایچرلے کا گھرانا قدیم فوجی روایات کا حامل تھا جس وجہ سے یہ دونوں جڑواں بھائی بھی فوجی ہی بنے۔ رچرڈ ایچرلے کے جڑواں بھائی ڈیوڈؔ بعد میں ائروائس مارشل سر ڈیوڈ ایچرلے کے نام سے معروف ہوئے اور ۱۹۵۱ میں بحیرۂ روم پر فلائینگ کے دوران مارے گئے۔

رچرڈ ایچرلے نے ۱۹۲۲ میں رائل ائرفورس کالج کرونویل میں شمولیت اختیار کی اور ۱۹۲۴ میں وہاں سے بطور پائلٹ فارغ التحصیل ہوئے۔اُن کی پہلی تعیناتی ۲۹، اسکواڈرن میں ہوئی جہاں اُنہوں نے ہوابازی کا مشہور انعام ’شنائیڈر ٹرافی‘ بھی جیتا اور انسٹرکٹر پائلٹ بھی رہے۔

دوسری جنگِ عظیم میں وہ ناروے، اسکاٹ لینڈ، لیبیا (صحرائے افریقہ) اور فرانس میں مختلف عہدوں پر فائز رہے اور فضائیہ کا تمغہ ’ائر فورس کراس‘ دو دفعہ حاصل کیا۔ جنگ کے بعد رائل ائر فورس کالج کرونویل کے کمانڈنٹ بنے اور ۱۹۴۹ میں انہیں رائل پاکستان ائر فورس (پاک فضائیہ) کا کمانڈر ان چیف منتخب کیا گیا۔ یہ عہدہ اب ’چیف آف ائر اسٹاف‘ کہلاتا ہے۔

پاک فضائیہ کے ابتدائی ایام میں اس کمزور سی فضائیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں سر رچرڈ ایچرلے کی خدمات نہ صرف قیمتی ہیں بلکہ مثالی بھی ہیں۔پھر ان کی حسِ مزاح، گفتگو میں ’پُھلجھڑیاں‘ چھوڑنے کی عادت جسے صرف فوجی کلچر ہی ’ہضم‘ کر سکتا ہے اور کسی حد تک شریر طبیعت نے ہماری فضائیہ کی تاریخ میں ایک دلچسپ باب کا اضافہ کیا اور وہ باب تھا، ’ایچرلےؔ کا زمانہ‘!

ایچرلے کی شریر طبیعت کا اظہار اُن کی سروس کے آغاز میں ہی ہو گیا تھا۔ مثلاً جب کرونویل کالج سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر اُن کے تمام کورس کا گروپ فوٹو لیا جانے لگا تو ایچرلے نے ایک ’تخلیقی‘ سی شرارت کی۔ اُس زمانے میں گروپ فوٹو لینے کے لئے تمام گروپ کے تین فوٹو لئے جاتے تھے، یعنی ایک دائیں حصے سے، ایک بائیں حصے سے اور ایک درمیان سے۔ پھر ڈویلپ کرنے کے عمل میں انہیں کمال مہارت سے جوڑ کر ایک فوٹو بنا لیا جاتا تھا۔ جب ایچرلےؔ کے۱۹۲۲،۲۴ کورس کا گروپ فوٹو ڈویلپ ہو کر آیا تو اس کے افسرانِ بالا نے دیکھا کہ گروپ میں تین ’ایچرلے‘ کھڑے تھے۔ ایچرلےؔ کو لعن طعن تو ہوئی لیکن افسران یہ جان کر ہنسے بغیر نہ رہ سکے کہ جب دائیں جانب سے فوٹو کھنچ چکا تھا تو ایچرلے خموشی سے کھسک کر درمیان میں آگیا تھا اور پھر درمیانی حصے کا فوٹو کھنچ جانے کے بعد بائیں جانب کھسک گیا تھا جس سے اس گروپ فوٹو میں ’تین ایچرلے‘ محفوظ ہو گئے۔

اسی لا اُبالی اور کھلنڈرے مزاج کی وجہ سے ایچرلےؔ نے نو عمری میں ہی ایک دفعہ اپنا ائر فورس کیرئیر قریب قریب ختم ہی کر لیا تھا۔ لیکن قدرت کو اُس کا ائر چیف بننا منظور تھا۔ نو جوان ایچرلےؔ ایک دفعہ جب سمندر پر پرواز کر رہا تھا تو اُسے رائل نیوی کا ایک بحری بیڑہ نظر آیا۔ اُس نے فوراً پہچان لیا کہ اس جہاز پر تو اُس کا ایک بہترین دوست بھی تعینات تھا۔ کھلنڈرے افسر ایچرلے کی طبیعت لہرائی اور دوست سے ملنے کی غرض سے اُس نے اپنا طیارہ اُسی بحری بیڑے کے عرشے پر بنے مختصر سے رن وے پر پٹخ دیا۔ طیارہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا حالانکہ جہاز کے ’برِج‘ سے اُسے بار بار ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ ایچرلےؔ بھی بخوبی جانتا تھا کہ فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا بحری بیڑے پر لینڈ کرنا فقط ایک حماقت ہے لیکن دوست سے ملاقات پر جو طبیعت لہرائی تھی، یہ کرتب بھی کر دیکھا۔ ایچرلے کو اس حرکت پر کورٹ مارشل اور سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا لیکن نوکری سے نکالے جانے سے بچ گیا۔

یہی شوخ، کھلنڈری طبیعت پاک فضائیہ کی کمان کے دوران، پختہ کار عمر میں ایک بھاری احساسِ ذمہ داری کے ساتھ یکجا ہو کر ایک ذمہ دارانہ حسِّ مزاح سے بدل گئی اگرچہ انہوں نے فضائیہ کی کمان سنبھالتے ہی اس کا ایک واضح اظہار کر دیا. اس زمانے میں فضائیہ کے سربراہ کو ائر افسر کمانڈنگ کہا جاتا تھا جبکہ آرمی کا سربراہ کمانڈر ان چیف کہلاتا تھا. اس سے فضائیہ کے سربراہ کو جونیئر ہونے کا یک گونہ احساس رہتا تھا. ایچرلے نے اس احساس کو شاید بالخصوص پسند نہ کیا اور ایک صبح جو طبیعت لہرائی، انہوں نے حکومت کو اطلاع دے دی کہ انہوں نے اپنا عہدہ کمانڈر ان چیف بنا دیا ہے. ان کی دیکھا دیکھی بحریہ کے سربراہ جے ڈبلیو جیفرڈ بھی فلیٹ افسر کمانڈنگ س کمانڈر ان چیف ہو گئے۔

آر پی اے ایف اسٹیشن ماڑی پور، کراچی (جو کہ اب پی اے ایف بیس مسرورؔ ہے) میں واقع ایچرلےؔ کے دفتر میں پاک فضائیہ کے افسران کو ڈانٹ ڈپٹ اور مسالہ دار زبان کے ساتھ بے ضرر انگریزی گالیوں کا ’پرساد‘ ملنا ایک ایسا معمول تھا جس سے نہ صرف فضائیہ کے افسروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر ہوتی بلکہ آفیسرز مَیسوں میں اس ڈانٹ ڈپٹ کو یاد کر کے ہمہ وقت قہقہے بھی گونجتے رہتے۔

فوجی زبان میں افسرِ بالا کی ڈانٹ کو ’رس بھری‘ اور ’راکٹ‘ (وغیرہ) کہا جاتا ہے۔ ایچرلےؔ کا رس بھری یا راکٹ دینے کا انداز نرالا تھا۔ائرمارشل ظفر احمد چوہدری صاحب سے روائت ہے کہ ایچرلے کی کمان کے زمانے میں آر پی اے ایف اسٹیشن میانوالی میں ایک گروپ کیپٹن صاحب سے لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے پر پھسل گیا اور طیارے کا کافی نقصان ہوا۔ پاک فضائیہ تب ایک غریب سی فوج تھی اور ایسا نقصان اُٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ اب جب انکوائری ہوئی تو اس میں رپورٹ لکھنے والے افسران کے لئے ایک اُلجھن یہ تھی کہ گروپ کیپٹن (مساوی آرمی کے فُل کرنیل کے) ایک سینئر آفیسر تھے اور تب پاک فضائیہ میں گنتی کے چند گروپ کیپٹن تھے۔ انکوائری میں اُن افسر صاحب کی غلطی کی بجائے جیونیئر افسروں نے رن وے پر پھسلن، نمی اور ٹائر کی خرابی کو واقعے کی وجہ قرار دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا، اور طیارہ دوبارہ اُڑنے کے قابل بنا دیا گیا۔جب یہ رپورٹ ایچرلے کے پاس پہنچی تو اُنہوں نے اس پر ایک دلچسپ نوٹ لکھا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا:

۱۔ یہ حادثہ فقط اس گروپ کیپٹن کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے اور جو لوگ سچ لکھنے سے جھجکتے ہیں، وہ مرد نہیں، زنخے ہیں!
۲۔ جب بھی یہ۔۔۔ کراچی آئے، مجھے بتایا جائے تاکہ میں بنفسِ نفیس اس کی۔۔۔ پر ایک لات رسید کر سکوں!
(خالی جگہوں میں ایچرلےؔ نے اپنی ’’فلاوری لینگوئج‘‘ کے ’پھول‘ بکھیرے تھے)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیر قوم کا ہو کر بھی ایچرلےؔ کو پاک فضائیہ کے وسائل کی کمی اور ملک و قوم کی غریبی کا احساس ہمہ وقت رہتا تھا اور وہ ’جرنیل‘ ہونے کے باوجود ’با وقار غریبی‘ (آنریبل پاورٹی) کے کلچر کو پاک فضائیہ میں فروغ دیتے رہے۔ جنرل ضیاؔ مرحوم کے ’وی آئی پی کلچر‘ سے پہلے تک ہماری فضائیہ کے ونگ کمانڈر اور گروپ کیپٹن تک کے عہدے کے افسر سائیکل اور موٹر سائیکل پر دفتر آنا اپنے کسرِ شان نہیں سمجھتے تھے۔ خیر، یہ جملۂ معترضہ تھا!

ایک دفعہ ایچرلے کو اپنی کمان کے زمانے میں پشاور کا دورہ کرنا تھا۔ سوال یہ تھا کہ وہاں کس جگہ قیام کیا جائے؟ پشاور میں اعلیٰ درجے کے ہوٹل تب بھی ضرور موجود تھے لیکن ایچرلے ؔ نے یہ تجویز رد کردی کہ پاک فضائیہ اُن کے، ہوٹل میں رہنے کے اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ ایچرلےؔ نے کمانڈر ان چیف ہونے کے باوصف پشاور میں مکین اپنے ماتحت گروپ کیپٹن اصغر خاں سے کہا کہ وہ ایک دو روز کے لئے اُنہیں اپنے پاس ٹھہرا لیں تو یہ معاملہ نپٹ سکتا ہے! اصغر خاں کو فضائیہ نے دو کمروں کا فلیٹ کرائے پر لے کر دے رکھا تھا( یا شائد ہوٹل کے کمرے تھے) لیکن خاتونِ خانہ اور بچوں کے زیرِ استعمال کمرے میں تو اٹیچ باتھ روم تھا، دوسرے کمرے کے ساتھ یہ سہولت نہ تھی، پھر بھی ایچرلےؔ نے اُس کمرے میں ٹھہرنے کی ہامی بھر لی۔
ایچرلےؔ کو جب کبھی کسی دورے پہ فضائیہ کے سفری طیارے پر مشرقی پاکستان جانا ہوتا تھا تو وہ اکثر رات کو طیارے کے کیبن میں ہی سو جاتے اور عملے کو تاکید کر دیتے کہ صبح مُنہ اندھیرے اُنہیں جگانے کی زحمت نہ دی جائے اور خاموشی سے پرواز کر جائیں۔ عملے کے افسروں اور جوانوں کو کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے آنا ہوتا تھا اور وہ انہیں زحمت دینے کے ہرگز قائل نہ تھے۔ ایک صبح طیارے کے کیبن میں سوئے ہوئے ایچرلے کی آنکھ کھلی تو کاک پٹ میں جا کر دیکھا کہ پائلٹ، اسکواڈرن لیڈر احمدؔ، پائلٹ سیٹ میں بیٹھے مزے سے شیو کرنے میں لگے ہیں! ایچرلےؔ نے اُنہیں اپنی ’فلاوری لینگوئج‘ کا ناشتہ کروایا اور بظاہر خود بھی اس صورتحال سے لُطف اندوز ہوتے ہوئے دوبارہ کیبن میں آ کر سو رہے۔ افسران ایچرلےؔ سے ڈرتے ضرور تھے لیکن اُن سے خوفزدہ نہ تھے اور اُن کے جانثار تھے! ایچرلےؔ ایک کھُلے ڈُلے کمانڈر تھے۔

ایچرلےؔ کی زُبان کی تُرشی فقط زبان کی حد تک تھی اور وہ نہایت خیال رکھنے والے ایک مہربان باپ جیسا پیکر تھے، حالانکہ اُنہوں نے عمر بھر شادی نہیں کی تاہم فضائیہ کے طیاروں اور جوانوں کو اپنی اولاد کی طرح پالا پوسا۔ انہی دنوں میں جب وہ چھٹیاں گزارنے انگلستان گئے تو اُنہوں نے وہاں ایک کار کرائے پر حاصل کی اور انگلستان کے طول و عرض میں واقع فضائیہ کے ہر اُس ادارے میں گئے جہاں رائل پاکستان ائر فورس کے افسر اور جوان زیرِ تربیت تھے۔ اُنہوں نے ہر ایک سے فرداً فرداً اُس کی تعلیمی تربیتی صورتحال کے بارے میں پوچھا اور تاکید کی کہ اپنے مُلک اور فضائیہ کی غریبی کو پیشِ نظر رکھیں اور محنت کریں، مبادا کہ ملک وقوم کا سرمایہ جو اُس کی بیرون مُلک تربیت پر خرچ ہو رہا ہے، ضائع جائے۔

فلائٹ لیفٹیننٹ اسٹیفن ٹرونکزنسکیؔ ہماری فضائیہ کے پولستانی نژاد پاکستانی افسر تھے۔ ایک دفعہ کوہاٹ سے ماڑی پور (کراچی) کی پرواز کے دوران وہ نیویگیشن کی غلطی سے کراچی کے بجائے مکران کے صحراؤں کی طرف نکل گئے۔ جہاز کا پٹرول ختم ہو گیا لیکن کراچی کہیں دکھائی نہ دیا لہٰذا ریت کے ٹیلوں میں ایمرجنسی لینڈ کرنا پڑا۔ یہاں سے اسٹیفنؔ نے مقامی لوگوں سے ایک اونٹ لیا اور بصد خرابی کراچی آ پہنچے۔ ایچرلےؔ نے انہیں حُکم دیا کہ فوراً ایک تربیتی طیارے میں پرواز کر جاؤ اور صحرا میں اپنے جہاز کی درست لوکیشن پتہ کر لاؤ تاکہ اسے وہاں سے واپس لایا جا سکے۔ اسٹیفنؔ نے دو ایک پروازوں کے بعد جب آکر منفی رپورٹ دی کہ صحرا میں جہاز کا اتہ پتہ نہیں مل رہا تو ایچرلےؔ نے معمول کی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمان سُنایا کہ پھر اُونٹ پر ہی جاؤ اور صحرا کا کونہ کونہ چھان مارو!!! یہ نُسخہ کارگر ثابت ہوا۔ اسٹیفنؔ نے منت سماجت کر کے آخری دفعہ طیارے پر جا کر تلاش کرنے کی اجازت لے لی اور اپنے جہاز کو تلاش کر کے ہی واپس لوٹے۔

ائر ہیڈ کوارٹرز ماڑی پور، ایچرلےؔ کے ہوتے ہوئے ایسے دلچسپ واقعات کا مسکن بنا رہتا تھا۔ فضائیہ کا سربراہ ہو کر بھی ایچرلےؔ کا ذوقِ پرواز ٹھنڈا نہ پڑا۔ وہ اکثر پرواز کرتے رہتے تھے۔ ایک ’فیوری‘ لڑاکا طیارہ ہمہ وقت اُن کے لئے تیار رہتا تھا۔ ایک صبح وہ جہاز میں سوار ہوئے اور چھے کارتوسوں سے بھرا ایک مخصوص پستول اُس کے انجن میں لگا کر فائر کیا جس کا مقصد انجن کو ’’اگنیشن‘‘ دینا ہوتا تھا۔ جب ایچرلےؔ یکے بعد دیگرے پانچ کارتوس فائر کر چکے اور انجن اسٹارٹ نہ ہوا تو نیچے اُتر کر اپنی ’تابکار‘ زبان کا رُوئے سُخن وہاں موجود تمام افسروں، جوانوں کی طرف کیا اور ایک سارجنٹ (حوالدار) کو حُکم دیا کہ وہ انجن کی خرابی کی جانچ کرے۔ سارجنٹ نے باقی ماندہ ایک ہی کارتوس انجن میں چلایا اور انجن اسٹارٹ ہو گیا تو اُس نے فاتحانہ ایچرلےؔ کی طرف دیکھا جس پر اُنہیں تاؤ آگیا، تُنک کر بولے:

“If you can start that damn aircraft, you go ahead and fly it too! I am going to my office!”
یہ بھی ہرگز نہیں کہ ایچرلےؔ اپنے ماتحتوں کے مرتبوں سے غافل ہوتے تھے۔ فوج کے کلچر میں کمانڈر ان چیف کی شخصیت جس پدری شفقت اور درشتی، سختی کا پیکر ہوا کرتی ہے، ایچرلےؔ اُس کی ایک متوازن مثال تھے۔

نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں ایک قومی دن کے موقعے پر کمانڈر ان چیف کے گھر پر شام کے کھانے کا اہتمام تھا جس میں پاک فضائیہ کے سینئیر افسران اور اُس دن کے فلائی پاسٹ میں حصہ لینے والے پائلٹ بھی مدعو تھے۔ جب کھانے کے بعد وزیرِ اعظم رُخصت ہوئے تو ایچرلےؔ نے حسبِ دستور اعلان کیا:
“This is when the lords and ladies leave!”

خواتین و حضرات جانے لگے۔ کچھ دیر بعد ایچرلےؔ نے دیکھا کہ فضائیہ کے افسران بدستور کھڑے گپیں ہانک رہے تھے، ایچرلے نے اُن میں سینئیر ترین، گروپ کیپٹن اصغر خان کو گھُور کر دیکھا اور فرمایا:
“Get lost!! Didn’t you hear me to tell you it’s time to leave?”

اس واقعے کے چند سال بعد جب اصغر خان ائر مارشل بن کر پاک فضائیہ کے کمانڈر ان چیف بنے تو اُنہیں برطانیہ کے دورے کا اتفاق ہوا۔ برطانوی فضائیہ کی فلائینگ ٹریننگ کمانڈ کے دورے کے لئےوہ جونہی وہاں پہنچے، وہاں کے کمان افسر نے آگے بڑ ھ کر اصغر خان کی کار کا دروازہ کھولا اور چھَن سے اپنی تلوار نکال کر انہیں ایک چست سا سلیوٹ کیا:
’’جنابِ والا! فلائینگ ٹریننگ کمانڈ،برائے معائنہ تیار!!‘‘
ایڑھیاں جوڑے، سامنے مؤدب کھڑا یہ افسر، ائر مارشل ایچرلے ؔ تھا!

برطانوی فضائیہ میں لَوٹنے کے بعد اُنہوں نے اس کمان کے علاوہ ایک گروپ کمان کیا، پھر کچھ عرصہ واشنگٹن میں ایک اسٹاف ڈیوٹی پر تعینات رہے اور بالآخر۱۹۵۹ میں بطور ائر مارشل، فضائیہ سے ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک طیارہ ساز کمپنی کے سیلز ڈائریکٹر بنے۔

۱۹۷۰ کی ایک شام وہ لندن میں پاک فضائیہ کے ائر اتاشی، گروپ کیپٹن اسلم ؔ کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ کر اندر آ دھمکے۔ گروپ کیپٹن نے اُٹھ کر استقبال کیا اور کہا آپ نے سیڑھیاں چڑھنے کی زحمت کیوں کی، مجھے حُکم دیتے، میں خود حاضر ہو جاتا ! ایچرلےؔ کا جواب یہ تھا کہ وہ پاک فضائیہ کے نہائیت عمدہ افسروں اور جوانوں کو آخری سلام کہنے آئے ہیں جن کے گروپ کیپٹن اسلمؔ نمائندے ہیں۔ یہ کہہ ایچرلےؔ نے تَن کر ایک چُست سلیوٹ کیا اور چند لمحوں کے بعد واپس چلے گئے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ایچرلےؔ نے ۱۸ اپریل ۱۹۷۰ کو آلڈرشاٹ میں ۶۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی آخری رسومات میں پاک فضائیہ سے وابستگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ایچرلےؔ نے پاک فضائیہ میں اپنی یادوں کی صورت میں جو میراث چھوڑی، وہ ایک مدت تک پیشہ ورانہ دیانت داری، اپنے پیشے سے بحدِ استواری وفادار رہنے اور مخلصانہ بنیادوں پر ماتحتوں اور افسرانِ بالا سے تعلق قائم رکھنے کے کلچر کے طور پر تابندہ رہی۔۔۔

حوالہ جات:
1. Mosaic of Memory, Air Marshal Zafar Ahmed Chowdhry
2. Air Pockets II, Wing Commander Zafar Iqbal
3. Untold Tale of the Pakistan Air Force, Air Commodore Kamal Ahmed.

Categories
نقطۂ نظر

بڈھ بیر حملہ، ذمہ دار کون؟

فوجی چوکیوں سے گزرتے عام آدمی کوجامہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے مگر تربیت یافتہ مسلح دہشت گرد نگرانی پر کھڑے سپاہیوں کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونک کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں۔
چند روز قبل پشاور شہر سے ملحق بڈھ بیر میں واقع پاک فضائیہ کے بیس کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ آئی ایس پی آر کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں فوجیوں اور عام شہریوں سمیت تیس سے زائدافراد ہلاک ہوئے تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تعداد کا پتہ نہیں چل سکا ۔جس طرح دوسرے عسکری مقامات جیسے مہران بیس،جی ایچ کیو ،آرمی پبلک سکول،پشاورائیرپورٹ وغیرہ پر ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی مکمل تعداد سے آج تک عوام بے خبر ہیں۔ بڈھ بیر میں واقع پاک فضائیہ کے بیس کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ نہیں اور شائد آخری بھی نہ ہو اس سے قبل پشاور ائیر پورٹ،بے نظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ کراچی ،مہران بیس کراچی،جی ایچ کیوراولپنڈی،آرمی پبلک سکول پشاور سمیت بیسیوں عسکری تنصیبات اور حساس اداروں پر حملے ہوچکے ہیں ،جس میں ابھی تک سینکڑوں افرادناکردہ گناہوں کی پاداش میں ابدی نیند سوگئے ہیں۔
بڈھ بیر حملے کے بعد پاکستان کا موقف
بڈھ بیر کے ائیر بیس پر حملے کے صرف چند گھنٹوں بعد آئی ایس پی آر کا بیان سامنے آیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افعانستا ن میں کی گئی جب کہ دہشت گردوں کو مقامی آبادی کی حمایت اورمدد حاصل تھی ۔شکر ہے اس بات کا تو پتہ چل ہی گیا کہ بڈھ بیر ائیر بیس پر حملہ کرنے والے “نامعلوم دہشت گرد”نہیں بلکہ معلوم دہشت گردہیں جنہوں نے “نامعلوم مقام “کی بجائے معلوم جگہ یعنی افعانستان سے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی ۔لیکن چند بنیادی سوالات ہنوز جواب طلب ہیں ۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ سیکیورٹی ادارے ،خفیہ ایجنسیزاور حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے محض بیرونی مداخلت کا شوشہ چھوڑ کر اصل مسائل پر سے عوام کی توجہ ہٹا رہی ہے
چند بنیادی سوالات
پہلا سوال یہ ہے کہ اگر اس حملے کی منصوبہ بندی افعانستان میں ہوئی تھی تو دہشت گرد افعانستان سے روانہ ہوکرپاک افعان سرحد عبور کرکے قبائلی علاقوں میں سے ہوتے ہوئے بڈھ بیر کس طرح پہنچے؟ وہ بھاری بھر کم اسلحہ جو اس حملے میں استعمال ہوا کس طرح یہاں تک پہنچایا گیا؟ کیا بڈھ بیر کے آس پاس کوئی فوجی یا پولیس چوکی موجود نہیں تھی ؟ اتنے ہتھیاروں اور بارودی مواد کے ساتھ دہشت گرد وں کا اس علاقے تک پہنچنا بہت کچھ سوچنے پر مجبورکرتا ہے ۔کیونکہ فوجی چوکیوں کے قریب سے گزرتے وقت جن اذیتوں سے عام آدمی گزرتاہے وہ کسی بھی عام شہری سے پوشیدہ نہیں۔ فوجی چوکیوں سے گزرتے عام آدمی کوجامہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے مگر تربیت یافتہ مسلح دہشت گرد نگرانی پر کھڑے سپاہیوں کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونک کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں۔
دوسرااور زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ افعانستان میں بڈھ بیر پر حملے کی منصوبہ بندی کے بعد وہ لوگ مقامی سہولت کاروں کی مدد سے پاکستان میں اتنی بڑی کارروائی کرنے کو پہنچ گئے لیکن سول و فوجی انٹیلی جنس ادارے بے خبر رہے۔ ایسے حملے چند دن یا ایک ہفتے کی تیاری سے نہیں کیے جا سکتے ان کے لیے طویل منصوبہ بندی اور بھاری وسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔ دہشت گرد مہینوں افعانستان میں بیٹھ کر پشاور میں واقع بڈھ بیر کے ہوائی بیس پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے رہے اور ان کے سہولت کار پاکستان میں انہیں معلومات فراہم کرتے رہے لیکن ہمارے ادارے بے خبر رہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان، یہاں کی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور عوام میں واضح تبدیلی آچکی ہے۔ اب لوگ خوف کے عالم سے نکل کرآزادی سے بات کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بولنے کی جرات کررہے ہیں جو کہ ایک مثبت تبدیلی کا مظہر ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ بڈھ بیرائیربیس پر حملے کے صرف چند گھنٹوں بعد آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جرنیل عاصم سلیم باجوہ کا بیان سامنے آیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افعانستان میں ہوئی تھی جان کی آمان ہو تو کیا ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ حملے کے بعد اس قدر جلد کس طرح سے یہ تعین کر لیا گیا کہ یہ حملہ افغانستان سے آنے والوں نے کیا ہے؟ حملے سے قبل تو اس کی ذراسی بوبھی کسی مقتدر ادارے کو محسوس نہ ہوئی لیکن حملے کے چند ساعت بعد کیا آسمانی طاقتوں یا فرشتوں نے بتایا کہ اس حملے کی منصوبہ افعانستان میں ہوئی تھی؟کہیں ایسا تو نہیں کہ سیکیورٹی ادارے ،خفیہ ایجنسیزاور حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے محض بیرونی مداخلت کا شوشہ چھوڑ کر اصل مسائل پر سے عوام کی توجہ ہٹا رہی ہے؟
افعانستان کا ردِ عمل
بڈھ بیر حملے کے فوراََ بعد جونہی پاکستان نے اس حملے کی منصوبہ بندی کا الزام افعانستان میں مقیم طالبان کو ٹھہرایا تو افعان حکومت نے فوراََ جوابی وارکرکے ان الزامات کی تردید کردی۔ ماضی کے تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر افعانستان میں کچھ ہوجائے تو افعان حکومت اپنی ناکامی کوچھپانے کے لئے اس کاالزام پاکستان پر عائد کرتی ہے۔ اسی طرھ پاکستان ہر خرابی ،ناکامی یا تباہی کی ذمہ داری یہود وہنود ،را ،موساد،سی آئی اے ،بھارت امریکہ یا پھر افعانستان پر ڈال کر اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالتا آیا ہے۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ افغانستان میں مقیم طالبان پاکستان میں جبکہ پاکستان میں موجود طالبان افغانستان میں حملے کررہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ یہی حملے ہیں۔
دونوں ممالک کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہورہی ہے
بنیادی اورسب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سرزمین ’’تزویراتی گہرائی ‘‘کے نام پر افعانستان کے خلاف اور افعانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوتی رہی ہے؟ پاکستان کے مقتدر اداروں کی کئی برسوں سے یہ پالیسی رہی کہ وہ اپنے مفادات کی خاطر اچھے اور برے طالبان کی تفریق کرتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق اچھے طالبان وہ تھے جو افعانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس برے طالبان وہ تھے جو پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں مصروف تھے۔ دوسرے اور آسان لفظوں میں پاکستان کے سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کے نظریے کے مطابق افعان طالبان اچھے جبکہ تحریکِ طالبان پاکستان برے طالبان پر مشتمل تھی ۔
ماضی میں پاکستانی ادارے حقانی نیٹ ورک کی مدد بھی کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ برس کے دوران پاکستان کے مقتدر اداروں اور کسی حدتک سویلین حکمرانوں کے ذہنوں میں واضح تبدیلی آچکی ہے اب کہیں اچھے یا برے طالبان یا “تزویراتی گہرائی” کی گونج سنائی نہیں دے رہی ہے ۔قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن زوروشور سے جاری ہے ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان ،یہاں کی حکومت،سیکیورٹی اداروں اور عوام میں واضح تبدیلی آچکی ہے۔اب لوگ خوف کے عالم سے نکل کر آزادی سے بات کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بولنے کی جرات کررہے ہیں جو کہ ایک مثبت تبدیلی کا مظہر ہے ۔
دوسری طرف افغان حکومت کی پالیسی واضح نہیں ۔2009ء کے دوران مالاکنڈ اور سوات میں فوجی آپریشن کے بعد طالبان قیادت یہاں سے بھاگ کر افغان صوبے کنڑ اور نورستان میں روپوش ہوگئی جو وہاں بیٹھ کر پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ دیر ،چترال اور باجوڑ میں پاکستانی چیک پوسٹوں پر کئی خون ریز حملوں کی منصوبہ بندی کنڑ اور نورستان میں ہوئی ،اور حملہ آورتباہ کن حملوں کے بعد دوبارہ افعانستان چلے گئے ۔افغان حکومت اور افغان سیکیورٹی اداروں نے ان حملوں کو روکنے پاپھر پاکستان کے مطلوبہ دہشت گردوں کو حوالے کرنے کے لئے ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔
وقت کی ضرورت
آج سب سے زیادہ ضرورت افعانستان اور پاکستان کی جانب سے دہشت گردی پر مشترکہ موقف اور حکمت عملی اپنانے کی ہے۔ دونوں ممالک کواپنی اندرونی کمزوریوں پر نظر ڈالنا ہوگی اور سیکیورٹی اداروں میں تعاون بڑھانا ہو گا۔ جو تخریب کاری یا دہشت گردی دونوں ممالک میں ہورہی ہے اس کے تدارک کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرناہوگا۔ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے دونوں ممالک کے درمیان دوریاں بڑھیں گی جس کا براہِ راست فائدہ طالبان دہشت گردوں کو ہوگا ۔ دونوں ممالک کی منتخب حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کے مابین اعتماد بحال کرنے اورسرحد پار حملوں کی روک تھام کے بغیر یہ معاملہ حل نہیں ہو سکے گا۔