Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 9 دسمبر 1971- بُری خبریں

آج کپتان صاحب اپنے دفتر میں ہی رہے۔اُنہوں نے کوت والے کو باہر بھیج دیا۔میں بھی شام تک اُن کے ساتھ رہا۔لکھنے کاکافی سارا کام اُنہوں نے مُجھ سے کروایا۔ میرے کام سے بہت خوش ہوئے اور کہا کہ جنگ کے بعد وہ مُجھے لانگ کورس کے امتحان میں ضرور بٹھوائیں گے۔میں نے اُن کو بتایا کہ میں گھریلو حالات کی وجہ سے اگر ایف ۔اے کے دوران ہی فوج میں بھرتی نہ ہوتا تو بھائی اقبال مُجھے بھی پرائمری ماسٹر لگوانا چاہےتھے۔ کپتان صاحب اچھے موڈ میں تھے تو میں نے اُنہیں اپنی تازہ شاعری بھی سُنائی۔وہ کہتے تھے کہ میں عشقیہ شاعری کی بجائے نثر لکھا کروں، بہتر ہوگا ۔کیونکہ عشقیہ شاعری کا شوق سولجر کو بُزدل بنا دیتا ہے۔

 

میں نے اُن سے جنگ کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ ہر طرف سے بُری خبریں ہیں۔دُشمن کئی راستوں سے ڈھاکے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ہماری ائیرفورس ناکارہ ہوگئی ہے اور تیج گاوں کا ہوائی اڈہ تو دُشمن نے بالکل تباہ کردیا ہے اور ہماری نیوی کے دو جہاز بھی ڈبو دیئے گئے ہیں۔وہ اندرا گاندھی کو ننگی گالیاں دے رہے تھے۔ اُنہوں نے یحیی خاں اور ٹکِا خاں صاحب کو بھی گالیاں دیں لیکن بعد میں مُجھے کہا کہ کسی سے ان باتوں کا ذکر نہ کروں۔وہ کہہ رہے تھے کہ ان بنگالیوں کے ساتھ بہت ذیادتیاں ہوئی ہیں لیکن انہوں نے جس طرح دُشمن سے ساز باز کی ہے، ہم ان غداروں کو معاف نہیں کریں گے۔پھر وہ شیخ مُجیب کو بھی گالیاں دینے لگ گئے۔میں بہت پریشان سا ہوگیا کہ اگر جنگ لمبی ہو گئی تو نجانے کب دوبارہ گھروں کا دروازہ دیکھنا نصیب ہو گا۔

 

کھانے کے بعد کپتان صاحب تو کوئی انگریزی ناول پڑھنے لگ گئے اور میں نے جاکر وائرلیس آپریٹر کو کھانے کیلئے ریلیف دیا۔اسی دوران برگیڈ سے کپتان صاحب کیلئے وائرلیس آیا۔ اُنہوں نے بی ۔ایم سے انگریزی میں بات کی۔ میرا خیال ہے کہ 6 تاریخ والے حملے کے حوالے سے کوئی احکامات تھے۔

 

آج رات دیر تک جنگی جہازوں کی گرج اور دور سے”Ack-Ack” توپوں کی آوازیں آتی رہیں۔پٹرول پارٹی بتا رہی تھی کہ قریب کے کسی گاوں پر بھارتی مگ طیاروں نے بم گرائے ہیں اور کافی سارے دیہاتی مر گئے ہیں۔ پُنّوں آج میرے پاس آکر سویا۔مُجھے بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ آج اُس نے غسل خانے کے پاس ایک سانپ مارا ہے۔یہاں سانپ بہت ذیادہ ہیں۔ رات کو پُنوں کی ڈیوٹی بھی تھی۔

(لانگ کورس:افسر بننے کیلئے لازم تعلیمی قابلیت۔ریلیف:آرام،چھُٹی۔ Ack-Ack :طیارہ شکن)

ڈائری کے گزشتہ دن

 


Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 3 دسمبر 1971- اعلانِ جنگ

آج دن کا آغاز ہی شدید ہنگامے سے ہوا۔فارمیشنوں کو باقاعدہ جنگ کے آرڈر مل گئے ۔صبح کی فالنی کے بعد الفا،چارلی،ڈیلٹا اور ہیڈکوارٹر کمپنی کو ہندوستانی بارڈر کی طرف موو کر جانے کا حکم ملا۔ ہم یہاں درّانی صاحب کی کمان میں براوو کمپنی کے ساتھ رہیں گے اور رحیم پور گاوں ہولڈ کرنے کا حُکم ہے۔میں نے ایجوٹنٹ صاحب سے گزارش کی کہ پُنّوں کو یہیں رہنے دیں۔مُجھے گھر والوں نے سخت تاکید کررکھی ہے کہ اُسے اپنے ساتھ رکھوں اور اس کا خیال رکھوں کیونکہ وہ اس کم سِنی میں میرے ساتھ رہنے کے شوق میں ہی فوج میں بھرتی ہوا ہے۔
جانے والی پلٹونیں بہت خوش تھیں کہ اب انہیں بارڈر پہ دُشمن سے کُھل کے لڑنے کا موقع ملے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم بھی آس پاس کے دیہاتوں میں مُکتی باہنی سے بے ڈھنگی لڑائیاں لڑ لڑ کے اُکتا گئے ہیں۔ اُستاد نوبہارخان بہت خوش تھے،جاتے ہوئے مُجھے کہنے لگے “رِٹانی بابو، تُم مُفتی باہنی سے لڑو، ہم تو شاستری کو جنگ کا مزا چکھائے گا” حوالدار صاحب اب بھی شاستری کو دُشمن مُلک کا وزیر اعظم سمجھتے ہیں۔
رات کو راشن گارڈ کی ڈیوٹی تھی ۔سی ایچ ایم صاحب بتا رہے تھے کہ راشن کی بہت کمی ہے، خاص خیال رکھا جائے۔وہ بتا رہے تھے آج شام کوہماری ائر فورس نے دُشمن پر تباہ کُن فضائی حملے کئے ہیں اور دُشمن کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ اب جب بنگالی ہمارے ساتھ رہنا بھی نہیں چاہتے اور دُشمن کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ہمارے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں تو اس جنگ کے بعد یہ لوگ کس منہ سے ہمارے ساتھ رہیں گے؟ خیر، یہ جرنیلوں اور لیڈروں کے سوچنے کی باتیں ہیں۔
رات گئے تک ڈیوٹی پہ کھڑا رہا۔ سوچ سے سوچ کے سفر میں خیال آیا کہ اب تک گھر سے کوئی اچھی خبر آجانی چاہئے تھی۔ آخری خط ستمبر کے آخر پر،یا اکتوبر میں ملا تھا جس میں ریحانہ نے لکھا تھا : “تین ماہ بعد تُمہاری یہ شکائیت بھی ختم ہوجائے گی کہ ہمارا بیٹا آنگن میں اکیلا کیوں کھیلتا ہے؟ “میری خواہش ہے کہ اب کی بار اللہ ہمیں بیٹی دے۔میری خواہش ہے کہ میں بیٹی کا نام سلمیٰ رکھوں۔ مرحومہ بہن کی روح کو اس سے بہت سکون ملے گا۔
ہلکی ہلکی بارش ہوئی تو اِدھر اُدھر کے مینڈکوں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔بانسوں کے جنگل تو رات کو بہت بھیانک لگتے ہیں ۔ بنگالی لوگ انہیں مُولی بانس بھی کہتے ہیں۔