Categories
شاعری

خودفریبی کے سرد خانے میں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خودفریبی کے سرد خانے میں

[/vc_column_text][vc_column_text]

دنیا خود فریبی کے سرد خانے میں رکھا ہوا
گلا سڑا آلو ہے
جسے کائنات سے باہر پھینکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں
تا کہ باقی ماندہ خدائی کو
پھپھوندی لگنے سے بچایا جا سکے

 

نظمیں لکھتے اور پڑھتے ہوئے
مجھے رونا نہیں آتا
ہنسنا بھی نہیں آتا
جیسے کیفیت لاتعین ہو جائے
مجھے نہیں پتا میں کیا کہنا چاہتا ہوں
لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں
کہ جب دروازے کُھلے ہوں
اور ہوا گزرتی ہو
اور چاند چمکتا ہو
اور سورج نکلتا ہو
اور بچے اسکول جاتے ہوئے
اپنی عمروں سے بڑے ہو رہے ہوں
اور معنی کا متن سے باہر
اور نقادوں کی فہم سے بالا ہونے کے باوجود
تخلیق کا عمل جاری ہو
تو کچھ نہ کچھ اچھا ضرور ہوتا ہے

 

یہ راز نہیں حقیقت ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے
جو اسے جلنے سے بچائے رکھتی ہے
ورنہ ہر شاعر اپنی ہی آگ میں جل جاتا ہے
خود شعلگی میں کوئی تھوڑا بہت بچ بھی جائے
تو اسے زمانے کی موت مار دیا جاتا ہے

 

شاعری اور موت کا سمبندھ بڑا پرانا ہے
اسی لیے میں اکثر کہتا ہوں
کہ کچن گارڈن میں سبزیاں اگا کر
زندہ رہنا
اور اپنے علاوہ سونڈیوں کا پیٹ بھرنا
بھوک ماری، گھن لگی دانش سے کہیں بہتر ہے

 

چیونٹیوں کے سامنے عظیم ہونے کے لیے
شاعری کی نہیں
ایک معمولی انسان بننے کی ضرورت ہے
جو زمین کے سینے پر گھاس کی طرح پھیل سکے
اور ہوا کی طرح چل سکے
میں نے اس بار جو مرچوں کے پودے لگائے ہیں
دیکھنا!
جلد ہی وہ ہری کچور نظموں سے بھر جائیں گے!!

 

(پروین طاہر کے لیے)

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اگر مجھے مرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

[blockquote style=”3″]

نصیر احمد ناصر کی یہ نظم اس سے قبل ‘ہم سب‘ پر بھی شائع ہو چکی ہے جسے نصیر احمد ناصر کی اجازت سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اگر مجھے مرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

[/vc_column_text][vc_column_text]

اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں مرنے سے انکار نہیں کروں گا
لیکن کوک کا ایک گلاس پینے کی مہلت طلب کروں گا
یہ جانتے ہوئے بھی
کہ اس کی رائلٹی یہودیوں کو جائے گی
کیونکہ میں تخمیری مشروب نہیں پیتا
چاہے وہ کسی مسلمان کے ہاتھ سے کیوں نہ پیش کیا گیا ہو!

 

اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں اس کے لیے بخوشی تیار ہو جاؤں گا
لیکن یہ ضرور پوچھوں گا
کہ فلسطین سے کشمیر تک
بوسنیا سے چیچنیا تک
اور عراق سے افغانستان تک
لاکھوں بے گناہوں کو
اور ان بچوں کو
جو ابھی ماؤں کے شکموں میں تھے
کس ضابطہ ء موت کے تحت مارا گیا
کیا ان کی موت کو مشیت ایزدی سمجھا جائے گا
کیا واقعی وہ اسی طرح مرنے کے لیے پیدا ہوئے تھے
کیا محبت اور موت کا بھی کوئی مذہب ہوتا ہے
اور کیا پیدا ہوئے بغیر بھی مرا جا سکتا ہے
مجھے امید ہے
کہ میرے ان سوالوں کو
اتنا معصوم اور سادہ نہیں سمجھا جائے گا
میں جانتا ہوں
ان کا جواب کسی کے پاس نہیں
مارنے والوں کے پاس بھی نہیں
پھر بھی میں اور کسی سے نہیں تو موت سے ضرور پوچھوں گا
کہ اَن جنے بچوں کو
کس خدائی قانون کی رو سے رحم بدر کیا گیا
اور بارودی سرنگیں
کس فرشتے کی ایجاد ہیں
اور وہ جنت کیسی ہو گی
جو خودکش دھماکوں کے بدلے میں ملتی ہے
اور کیا جہنم کے لیے
آسمان پر کوئی جگہ نہیں بچی تھی؟

 

اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں بچوں سے باتیں کرتے ہوئے مرنا پسند کروں گا
اور اگر موت کو کہیں اور جانے کی جلدی نہ ہوئی
تو اُسے ڈھیر ساری نظمیں سناؤں گا
شاید اُس کا دل پسیج جائے
اور وہ اس روز
میرے علاوہ باقی مرنے والوں کی جان لینا ملتوی کر دے
اور کراچی اور کوئٹہ جانا بھول جائے!

 

اگر مجھے مرنا پڑا
تو موت سے کچھ دیر خاموش رہنے کی درخواست کرتے ہوئے
اپنا پسندیدہ میوزک سنوں گا
اور ہمیشہ کی طرح
وائلن اور پیانو کی دھنوں پر امنڈ آنے والے
آنسو چھپانے کی کوشش ہرگز نہیں کروں گا
موت کی موجودگی میں تھوڑا رو لینا
اور پرانی یادوں کو تازہ کرنا
اور پاس بیٹھے ہوؤں سے
رسول حمزہ توف کی کوئی نظم سنانے کی فرمائش کرنا
کتنا رومانٹک لگے گا
اور دوستوں میں
انوار فطرت کا ہاتھ تھامنا مجھے سب سے اچھا لگتا ہے
سن رہے ہو انوار فطرت!
اگرچہ یہ سب کچھ اداس کر دینے کے لیے کافی ہو گا
لیکن میں مسکراتے ہوئے دھیرے دھیرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیر چھوڑیں ابھی سے اداس ہو کر
موت کا مزہ کرکرا کیوں کروں
ابھی تو ماں زندہ ہے
اور اس کے آنسو
میرے لیے کسی لائف سیونگ ڈرگ سے کم نہیں!

 

اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں ایک ہی بار مرنے کی خواہش کروں گا
زندگی میں بار بار مرنے کا تجربہ کئی بار ہوا
موت کے سمے اس تجربے کو دہرانا لا حاصل ہو گا
اسے میری آخری خواہش نہ سمجھا جائے
جو میں نے ابھی تک خود کو بھی نہیں بتائی، نہ بتاؤں گا
اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں موت کی ایکٹنگ نہیں کروں گا، سچ مچ مروں گا
اور ان لوگوں خصوصاْ ان شاعروں کی طرح
جو زندگی ہی میں اپنی تاریخ لکھوا لیتے ہیں
مر کر بھی زندہ نہیں رہوں گا
تاہم اگر، اے روح عصر، مجھ سے پوچھا گیا
تو میں تاریخ کے صفحات کے بجائے
اپنی نظموں میں، تمہارے ساتھ درگور ہونے کو ترجیح دوں گا!!

Image: Banksy
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ناؤ پانی کی موت سے ڈرتی ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ناؤ پانی کی موت سے ڈرتی ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

ناؤ کے لیے پانی ضروری ہے
وہ لکڑی کی ہو یا کاغذ کی
اسے بہنے کے لیے پانی چاہئیے
پانی اسے لذتِ سفر کی انتہاؤں تک لے جاتا ہے
نئے جزیروں، نئی آبناؤں کی سیر کراتا ہے
ناؤ پانی سے پیار کرتی ہے

 

ناؤ کو تیرتے رہنا اچھا لگتا ہے
وہ پانی کے پیٹ پر گدگدی کر کے خوش ہوتی ہے
اور لہریے بناتی ہوئی چلتی ہے
کنارہ اسے باندھے رکھتا ہے
کنارہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو
ناؤ کا دل اس میں نہیں لگتا
وہ اپنے مانجھی سے محبت کرتی ہے
اسے مچھلیوں کی باس
لہروں کا شور
اور ملاحوں کے گیت پسند ہیں

 

ناؤ منتظر رہتی ہے
نت نئے مسافروں کی
تا کہ انہیں اُس پار لے جائے
جہاں راستے قدموں کی راہ دیکھتے ہیں
اور پارینہ بارگاہوں کے دروازے
خوش اندام عورتوں کے لیے کھلے رہتے ہیں

 

ناؤ کے کان بڑے حساس ہوتے ہیں
وہ ہوا کی سرگوشیاں
اور مسافروں کی باتیں سن لیتی ہے
اور انہیں پانیوں تک پہنچا دیتی ہے
پانی بادلوں کو
اور بادل بارشوں کے ذریعے
ساری باتیں زمین کو بتا دیتے ہیں
زمین رازوں کا جنگل ہے
جس میں ہر روز چوری ہو جاتی ہے
انسان اپنے ہی رازوں کو
کاٹ کاٹ کر بیچتا رہتا ہے
حتیٰ کہ ایک دن زمین درختوں سے،
انسان رازوں سے
اور ناؤ مسافروں سے خالی ہو جاتی ہے!

Image: Rafal Olbinski
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا

[/vc_column_text][vc_column_text]

بیٹھے بٹھائے
بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں
اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے
بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں
بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتا ہوں
اور ہنسی کھیل میں
رونے لگتا ہوں
اور سمندر آنکھوں کی بجائے جیبوں میں بھر لیتا ہوں
جانتے بوجھتے
عورتوں سے سچی محبت کرنے لگتا ہوں
دوستوں کے ایک میسج پر
خوامخواہ دروازہ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں
دعوتوں میں
وقت سے پہلے پہنچ کر
میزبانوں کا استقبال کرتا ہوں
نئے کپڑوں پر سالن گرا دیتا ہوں
تصویریں بنواتے ہوئے
فوکس سے ہٹ کر ایک طرف بیٹھ رہتا ہوں
یا دوسروں کے لیے جگہ بناتے بناتے
خود فریم سے باہر ہو جاتا ہوں
دھکا پیل سے آگے بڑھنے کے بجائے
قطار میں اپنی باری کا انتطار کرتا ہوں
جو اکثر آئے بغیر گزر جاتی ہے
دورانِ گفتگو
مخاطب کا ایک لفظ سُن کر ساری بات سمجھ جاتا ہوں
اور بات پُوری ہونے سے پہلے بول پڑتا ہوں
چائے کی پیالی سامنے رکھ کر پینا
اور اپنی تعریف کرنے والے کی
تعریف کرنا بھول جاتا ہوں
اور تو اور شیو کرتے ہُوئے
نظم لکھنے لگتا ہوں!

Image: Teun Hocks
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گلوریا جینز میں شام

[blockquote style=”3″]

یہ نظم اس سے قبل معروف آن لائن رسالے ‘ہم سب‘ پر بھی شائع ہو چکی ہے، نصیر احمد ناصر کی اجازت سے اسے لالٹین پر بھی شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گلوریا جینز میں شام

[/vc_column_text][vc_column_text]

آج بہت دنوں بعد
گلوریا جینز میں کافی پیتے ہوئے
آخری سِپ کے ساتھ
شام کو بھی انڈیل لیا ہے منہ میں
معدہ چاکلیٹی تنہائی سے لبا لب ہو گیا ہے
اور تم کاغذی مَگ ہاتھ میں پکڑے
ہمیشہ کی طرح منہ کھولے، ساکت و صامت
ناگاہ ہونے والی اِس ملاقات میں
میری طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہی ہو
کہ آفرینش سے پہلے تھما ہُوا وقت
گلوریا جینز میں کیسے آ گیا ہے

 

جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا
شام اِسی طرح مٹ میلی تھی
تاریخ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی
زمین پر صرف جغرافیہ تھا
پرندوں اور جانوروں کا ترتیب دیا ہُوا
اور وقت سایوں کی طرح چلتا تھا
اور تم یونہی حیران و پریشان
میری طرف دیکھ رہی تھیں

 

تم نے کبھی خود کو باخبر نہیں رکھا
تمہیں نہیں معلوم کہ آج کل
میری دنیا چھوٹی سی ہے
عالمِ نبات و حشرات کی طرح
جس میں چیونٹیوں کی قطاریں ہیں
پرندوں کے گھونسلے ہیں
لچک دار پلاسٹک کے سانپ اور کیڑے مکوڑے ہیں
اور آئس ایج کے زمانے سے کھیلنے والا
ایک ننھا نواسا ہے
اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟
سائبر ایج کے بچے
کھلونوں سے نہیں زمانوں سے کھیلتے ہیں
اور کھیل ہی کھیل میں
تاریخ کا آغاز ہو جاتا ہے
اور خاتمہ بھی ۔۔۔۔
پانی پر تیرتے مکان اور آبی شاہراہیں
اور مصوروں اور مجسموں کے شہر
آباد ہوتے اور اجڑ جاتے ہیں
بادشاہوں کی میتوں کے ساتھ
ہزاروں مصاحبین زندہ دفن کر دیے جاتے ہیں
اور عہد بہ عہد صدیاں ویران ہو جاتی ہیں

 

تمہیں نہیں یاد کہ دوسری بار
میں نے تمہیں دشمن سرزمینوں کے عین وسط میں دیکھا تھا
زیرِ زمین سرنگوں میں
جھک کر چلتے ہوئے اور رینگتے ہوئے
اور غاروں کے اندر بنے ہوئے گھروں میں
جہاں سوراخوں اور چمنیوں سے تازہ ہوا آتی تھی
گہری نیند میں
خوابوں کو کیمو فلاژ کیے ہوئے
اور ہونٹوں کے بیچ مسکراہٹ کی لکیر کھنچی ہوئی
جیسے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہو
اب تو دنیا اتنے ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے
کہ اسے دِکھانے کے لیے
ہاتھوں کی لکیریں بھی ناکافی ہیں

 

اور اِس جگہ
جہاں اب شہر آباد ہے
اور ہم بیٹھے ہوئے ہیں گلوریا جینز میں
میں نے تمہیں آخری بار دیکھا تھا
یہاں چند گھر تھے،
ایک راستہ تھا، ایک موڑ تھا، جہاں میں کھڑا تھا
بدترین شکستوں اور ہزیمتوں کے ساتھ
گلیاں سنسان اور چھتیں خالی تھیں
درختوں اور مکانوں سے دھواں اٹھ رہا تھا
اور تمہاری صرف ایک جھلک تھی
دشمن نے دلوں اور ذہنوں کے سارے رابطے جام کر دیے تھے
پہاڑوں نے ہمیں پناہ نہیں دی تھی
اور بادل بے وقت برس رہے تھے

 

اور آج پھر ۔۔۔۔۔ یگوں بعد
ہم مِلے ہیں گلوریا جینز میں
اور ہمیشہ کی طرح تمہیں نہیں معلوم
کہ ہم ایک ہی ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہتے ہیں
ہماری کوئی تاریخ ہے نہ جغرافیہ
بس ایک سوک سینٹر ہے
اور ایک قبرستان
اور گلوریا جینز میں
وقت تھما نہیں، روشنی کی رفتار سے سڑپ رہا ہے!!

Image: Lauren Orscheln

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بوڑھوں کا گیت

[blockquote style=”3″]

یہ نظم اس سے قبل معروف آن لائن رسالے ‘ہم سب‘ پر بھی شائع ہو چکی ہے، نصیر احمد ناصر کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بوڑھوں کا گیت

[/vc_column_text][vc_column_text]

عورتو آؤ
ہم بوڑھے لوگوں سے محبت کرو
آؤ ہم سے محبت کرو
ہم تمہاری جوانی کا ابدی گیت ہیں
روشن دنوں کی دائمی دعا ہیں
ہم سے بہتر کوئی تمہاری ثنا نہیں کر سکتا
ہمارے سفید بالوں، پکی رنگت
اور جھریائے ہوئے چہروں پر نہ جاؤ
ہماری دل گرمی، دل گدازی دیکھو
ہم لفظوں کی پلپلاہٹ ہیں
تمہاری غیبی کہانیوں میں
بچ رہنے والے آخری حقیقی کردار
اور تمہاری زندگیوں کے سب سے خوبصورت کنائے ہیں!

 

عورتو آؤ، ہمارے پاس بیٹھو
ہم سے باتیں کرو
ہم تمہاری ناآسودہ محبتوں کا بھرم ہیں
ہم تمہاری سہیلیاں ہیں
ہم سے اپنا آپ نہ چھڑاؤ
آؤ ہمارے ساتھ پیدل چلو
ہماری قربت کو محسوس کرو
اور ہمارا ہاتھ تھامتے ہوئے ڈرو مت
ہمارا خاموش کہنہ لمس
تمہاری ہی خواہشوں کا خمیازہ ہے
ہماری انگلیاں جادو کی چھڑیاں ہیں
جو رنگ برنگے لباسوں کو پرندوں میں بدل سکتی ہیں
ہم نے زمانوں کے سرکس دیکھے ہیں
موت کے کنوؤں کے چکر لگائے ہیں
اور وقت کے شیروں کو سدھایا ہے
ہمارے سینوں کے راز کریدو
ہمارے ساتھ دُور کے اسفار پر نکلو
ہم آج بھی راستوں کے اطراف میں
پھول کھلا سکتے ہیں
فصلیں اور درخت اگا سکتے ہیں
کھنگریلے پتھروں پر بیٹھ کر
بادلوں اور ہواؤں سے باتیں کر سکتے ہیں
اور پَل کے پَل بارش لا سکتے ہیں!

 

نیک دل عورتو آؤ!
ہماری آنکھوں کے بے بہا پانیوں میں اترو
ہم سمندر ہیں
ہمارے ریتلے ساحلوں پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرو
دیکھو ہماری ریت کتنی نرم ہے
ہمارے جزیروں کی رات خالص ہے
اور صبح اجلی ہے
ہمارے وجود کے جنگلوں میں
برگدی معبد ہیں
مقدس روشنی ہے
نروان ہے
اس سے پہلے
کہ ہماری دھوپ چھاؤں معدوم ہو جائے
اور ہم عمروں کی طویل راہگزاروں پر
اٹھتے بیٹھتے، پاؤں گھسیٹتے
جیتے جاگتے پرچھائیوں میں ڈھل جائیں،
اپنے طلسم بند جسموں پر
ہماری فتح کے طول و ارض تسلیم کرو
ہم سے محبت کرو
ہماری تکریم کرو!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

مُفتِ خدا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

مُفتِ خدا

[/vc_column_text][vc_column_text]

خوابوں کی مُفت گاہ میں
نُظّار کا ہجوم ہے
تاریخ کے نام پر
قدیم جلوہ گاہوں،
نظریوں، عقیدوں اور فلسفوں کی
خرید و فروحت کُھلے بندوں جاری ہے
غلاموں اور کنیزوں کے ریوڑ ہانکے جا رہے ہیں
آقاؤں، پاشاؤں اور ملکاؤں کے ملبوساتی پیکر
ہر ٹی وی چینل کی اسکرین پر چمک رہے ہیں
قباچوں اور عباؤں کے درمیان
دلوں اور روحوں کی برہنگی پر کوئی قدغن نہیں
میں نہ ہوتے ہوئے بھی ہر کسی کو دکھائی دیتا ہوں
پورے لباس میں
میں چرا گاہوں کی گھاس ہوں
نہ بھیڑوں کی اون
میں ہوا کی طرح چلتا ہوں
اور خفیہ کیمروں کی زد میں آئے بغیر گزر جاتا ہوں
تارکول کی سڑکیں میرا کُھرکھوج محفوظ نہیں کرتیں
میرے فنگر پرنٹس وقت کی کسی دستاویز پر ثبت نہیں ہوتے
پھر بھی میرے ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں
میرے جسم کی دیوار
زمین و آسمان کی حدوں سے تجاوز سمجھ کر گرا دی گئی ہے
میری بھوک کاغذی ہے
جو لفظوں کو دیکھ کر چمک اٹھتی ہے
میں قطار میں کھڑا، مفتِ خدا
میری باری آتے آتے
شاعری کی کھرچن بھی ختم ہو جاتی ہے
مجھے کھانے کا ٹوکن نہیں ملتا
میں آخری خواب سے بھوکا لوٹ آتا ہوں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خدا نظموں کی کتاب ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خدا نظموں کی کتاب ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

نظمیں لکھتے ہوئے
میں نے ان گنت کاغذی دیپ جلائے
جگنووں کو لفظوں کی مٹھیوں میں ادھ موا کر دیا
کئی چاند درختوں پر الٹے لٹکا دیے
اور رات بھی اتنی لکھی
کہ پہلی سے آخری سطر تک ہر نظم سیاہی میں لتھڑ گئی
لیکن میں کسی نظم میں ستارہ نہیں لکھ سکا
ستارے خدا کی ملکیت ہیں
اور خدا اپنی جائیداد کسی کو منتقل نہیں کرتا
زمین تو اسے مجبوراً انسان کے حوالے کرنا پڑی
ورنہ انسان جنت کو بھی خود کش دھماکے سے اڑا دیتا
خدا ان پڑھ ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے
خدا نظموں کی کتاب ہے
اور ہر علم کا منبع ہے
خدا نے مجھے کئی بار کہا
چھوڑو شاعری
اور کائنات کی دائمی خاموشی بن جاؤ
نہیں تو
زمین کے ایک حصے پر پھیلی ہوئی رات بن جاؤ
کم از کم نظم کو
اپنے اندر سے طلوع ہوتے تو دیکھ سکو گے
یوں تو خدا کو سب کچھ معلوم ہے
لیکن وہ ایک چھوٹی سی بات کیوں نہیں جانتا
کہ روشنی کے بھوکے لوگ
نظموں سے ستاروں بھری رات چوری کر لیتے ہیں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہم بارانی لوگ ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہم بارانی لوگ ہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم بارانی لوگ ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے اونچے نیچے کھیتوں، ڈِھلمِل موسموں
اور جھاڑیوں بھرے قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
اور جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں
وہ ہمیں تلف کرنے کے لیے
نت نئے اسپرے چھڑکتے ہیں
ہم پھر اگ آتے ہیں
ہم پر خس و خاشاک مارنے والے
کیمیاوی زہر اثر نہیں کرتے
ہم جہاں جاتے ہیں
اپنی مٹی، اپنی ہریالی ساتھ رکھتے ہیں

 

ہم بارانی لوگ ہیں
وہ نہیں جانتے
شہروں میں رہتے ہوئے بھی
ہماری آب و ہوا میں کیکر کے پھولوں کی خوشبو بسی ہوتی ہے
اور ہمارے سروں پر سدا شیشم کی چھاؤں رہتی ہے
ہم دھوپ اور تیز بارش سے نہیں ڈرتے
ہم ایک نہیں دو نہیں
ہماری پشت پر پورا دِہ ہوتا ہے
وہ کبھی نہیں جان پائیں گے
ہمارے دروازے اونچے، صحن کھلے، برآمدے لمبے
دل بڑے اور جسم کھردرے کیوں ہوتے ہیں
ہم آبادیوں میں گم ہوتے ہوئے راستے ہیں
اور شاملات کے رقبے ہیں
ان کے کمپیوٹر ہماری شناخت نہیں کر پائیں گے
ہم درختوں، چرا گاہوں اور جولائی کے بادلوں جیسے ہیں
ہمارا کُھرا پانے کے لیے
انہیں زمین و آسماں کی خانہ شماری کرنی پڑے گی

 

ہم بارانی لوگ ہیں
ہم جانتے ہیں
وہ ہمیں کاغذوں کی مار ماریں گے
رپٹوں اور مِسلوں میں گھسیٹیں گے
اور ہماری نامعلوم بے ضرر حرکات و سکنات پر ٹیکس لگا دیں گے
ہمیں دفتروں، تھانوں، کچہریوں کے پھیرے لگوا لگوا کر
ایک دن داخل دفتر کر دیں گے
لیکن وہ نہیں جانتے
ہم بارانی لوگ ہیں
اگنا اور پھیلنا ہماری مجبوری ہے
ہم ان کے روزنامچوں سے نکل کر
گھر گھر، گلی گلی، شہر شہر پھیل جائیں گے
فلک بوس عمارتوں کے لیے
ہموار کی گئی زمینوں پر
قبروں کی طرح اُگ آئیں گے!!

Image: Liu Jin’an
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اپالو اور اتھینا ۔۔۔۔۔ حالتِ التوا میں لکھی گئی نظم

[blockquote style=”3″]

نصیر احمد ناصر کی یہ نظم اس سے قبل ہم سب پر بھی شائع ہو چکی ہے جسے نصیر احمد ناصر کی اجازت سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اپالو اور اتھینا ۔۔۔۔۔ حالتِ التوا میں لکھی گئی نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

منظومہ!
میں نے تمہیں بارہا دیکھا ہے
بارگاہوں، خانقاہوں اور تاریخ کی رہداریوں سے گزرتے ہوئے
بیلوں، باروں، دو آبوں میں چلتے ہوئے
بظاہر تمہاری عمر میری عمر سے کم ہے
لیکن تمہاری محبت کے پاؤں
عمر رسیدہ زمانوں کی گرد سے اٹے ہوئے ہیں
اور تمہارا سینہ
دودھیا کائناتی روشنیوں سے بھرا ہوا ہے
جانے تم کن کہکشاؤں سے آتی ہو
کن ملکوں، اقلیموں سے گزرتی ہو
اور کن دارالخلافوں کی جانب رواں رہتی ہو
بدن کا لباس پہنے ہوئے تمہاری روح
جب میرے پانیوں میں اترتی ہے
تو دھوپ میں سکڑے سمٹے اور سوکھے ہوئے
سگریٹ کے دھویں جیسے
اِکا دُکا بادلوں کو بھی بھیگنا آ جاتا ہے
پیاس کا دریا ہونا کتنا بڑا پیراڈوکس ہے
یہ تو کوئی جل کھور مٹی کا کنارہ ہی بتا سکتا ہے
ہم کاغذی کشتیوں سے کھیلنے والے
بالٹی بھر پانی کو بھی سمندر سمجھ لیتے ہیں
اور اس تھوڑی دیر کی مِنی اوڈیسی میں
اپالو اور اتھینا بن جاتے ہیں!

 

ہمارا کوئی دریا ہے نہ سمندر
بادباں نہ مستول
ہم محبت کے ڈیلٹا ہیں
اور تیرنے کے بجائے ڈوبنا بلکہ دھنسنا پسند کرتے ہیں
اپنی ہی دلدلوں میں
یہاں تک کہ کوئی بازو ہمیں پکڑ کر کھینچ نہ لے
اور ہمارے کیچڑ سے بھرے جسموں کو
شاور کے نیچے کھڑا کر کے
دنیا کی ساری بارش ہمارے اوپر نہ انڈیل دے
یہی محبت ہے
کیچڑ کو اجلا کر دینا
مٹی اور پانی کو یک رنگ کر دینا
اور خوابی تھیلے میں گُھس کر سکون کی نیند سو جانا!

 

منظومہ!
ایک خواب سے دوسرے خواب میں جانا آسان نہیں ہوتا
جیسے ایک خلا سے دوسرے خلا میں
ایک آگ سے دوسری آگ میں
ایک پانی سے دوسرے پانی میں
ایک بدن سے دوسرے بدن میں
ایک عمر سے دوسری عمر میں
جانے کتنی عمریں اسی ادھیڑ بُن میں گزر جاتی ہیں
اور ہم ایک چھوٹی سی جست بھرتے ہوئے گبھراتے ہیں
آنکھ کھُل گئی تو کیا ہو گا؟
جس طرح پھول کا کِھلنا بہار کی علامت ہے
اس طرح آنکھ کا کُھل جانا ہی محبت ہے
بند آنکھوں سے مرا تو جا سکتا ہے
محبت نہیں کی جا سکتی
محبت موت کا التوا ہے!
محبت زندگی کا اجرا ہے!!

Image: Ravshaniya
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]