رات کے لیے ایک نظم

نصیر احمد ناصر: اے رات!
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو
کسی دن چلیں گے کراچی

نصیر احمد ناصر: کسی دن چلیں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے
زندہ قبریں

نصیر احمد ناصر: ہم اپنے مُردوں کے انتظار میں کھدی ہوئی
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود
وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں

نصیر احمد ناصر: وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں
وزیر کوٹ ایک شخص تھا
شخصیت سے اٹا اٹ
سایوں، باتوں اور لفظوں سے بھرا ہوا
جو کسی کو خالی نہیں ہونے دیتا تھا
وزیر کوٹ ایک شخص تھا
شخصیت سے اٹا اٹ
سایوں، باتوں اور لفظوں سے بھرا ہوا
جو کسی کو خالی نہیں ہونے دیتا تھا
خام خیالی

نصیر احمد ناصر: جب میں نہیں ہوں گا
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی
کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

نصیر احمد ناصر:
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی
موت کو پڑھنا آسان نہیں

نصیر احمد ناصر: لفظوں اور منظروں کی خود کشی کے بعد
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
آبائی گھروں کے دکھ

نصیر احمد ناصر: آبائی گھر ایک سے ہوتے ہیں
ڈیوڑھیوں، دالانوں، برآمدوں، کمروں اور رسوئیوں میں بٹے ہوئے
لیکن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے
ڈیوڑھیوں، دالانوں، برآمدوں، کمروں اور رسوئیوں میں بٹے ہوئے
لیکن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے
لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

نصیر احمد ناصر: لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
پسپائی اور محبت کی آخری نظم

نصیر احمد ناصر: مکمل سپردگی سے پہلے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے
گوتم نے خود کشی کر لی ہے

نصیر احمد ناصر: تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
بچپن کی سماعتیں

نصیر احمد ناصر: بچپن کی سنی ہوئی آوازیں
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!
شاعری زمین کا پھول ہے

نصیر احمد ناصر: شاعری زمین کا پھول ہے
آسمانوں پر رہنے والے
شاعر نہیں ہوتے
آسمانوں پر رہنے والے
شاعر نہیں ہوتے
دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

نصیر احمد ناصر: سرحد کے اُس پار سے آنے والے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے
سرمئی نیند کی بازگشت

نصیر احمد ناصر: رات کا سوناٹا ختم ہونے سے پہلے
مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے
مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے