Categories
شاعری

رات کے لیے ایک نظم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

رات کے لیے ایک نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

اے رات!
اے دو آبوں جیسی ٹھنڈی رات!!
تُو آسمان کی طرح گمبھیر ہے
تیری گپھاؤں میں چاند اور ستارے ہیں
تیرے جنگل اور بیلے نظموں کی طرح پُراسرار ہیں
تیری اترائیوں میں نیلی گھاس لہلہاتی ہے
اور ابھاروں جیسے درختوں کی گھنی شاخوں پر
گلابی پروں والے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں
تیری گھاٹیوں میں خواہشیں قیام کرتی ہیں،
نارنجی مشعلیں جلتی ہیں
تیرے نشیبوں میں سفید پھول کھلتے ہیں
اور تیرے پانیوں میں کنول تیرتے ہیں
تیرے جھینگروں کی آواز
مخمور نومی سماعتوں میں گونجتی ہے
تیری مقدس سرگوشیوں میں
کسی قدیم گیت کی لَے سنائی دیتی ہے
اور تیری گنگناہٹ
جیسے کائنات آخری ہچکی لے رہی ہو
اے رات!
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کسی دن چلیں گے کراچی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کسی دن چلیں گے کراچی

[/vc_column_text][vc_column_text]

کسی دن چلیں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے
جو بچپن میں گھر سے چلا تھا
کہ شپ یارڈ دیکھوں گا
بحری جہازوں میں دنیا کے چکر لگاؤں گا
پیسے بناؤں گا
لیکن فلیٹوں، پلازوں کی دنیا میں
بجری اٹھاتے اٹھاتے
کسی ریت کے ڈھیر میں کھو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کسی دن چلیں گے
سمندر کنارے
اُسے پھینکنے کے لیے
شہر کے زیرِ تعمیر سارے مکانوں کا کچرا
مِرے دل میں بھرتا چلا جا رہا ہے!

Image: Hanif Shehzad
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

زندہ قبریں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

زندہ قبریں

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم اندر ہی اندر
نامعلوم اترائیوں میں پھسلتے جا رہے ہیں
مسلسل فرد ریزی سے
ہمارے جسموں کے پہاڑ آدھے رہ گئے ہیں
اور روحیں چوتھائی سے بھی کم ۔۔۔۔۔

 

منافقت کے جراثیم
ہمارے تولیدی نظام میں سرایت کر چکے ہیں
ہم نسل در نسل سماجی بالشتیے پیدا کرتے ہیں
اور طویل قامتی کے لیے
درآمدی بیساکھیوں کا بیوہار
اور خوشامدی چُوزوں کی
جلد بڑھوتری کے لیے مقوی راتب بناتے ہیں

 

ہم اپنے مُردوں کے انتظار میں کھدی ہوئی
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود!!

Image Robert ParkeHarrison
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں
تو پھر وہ کیا ہے؟
کس اٹلس کا علاقہ ہے؟
کون سی نقطہ گاہ ہے؟
جہاں وہ دھرتی کا ابھار بن کر
حالتِ دوام میں لیٹا ہوا
زمانوں کا سکوت نظما رہا ہے

 

وزیر کوٹ، جہاں میں کئی بار گیا ہوں
اور پاپلر کی لمبی قطاروں کے درمیان
ایک مدبر سائے کے ساتھ سیر کرتے ہوئے
کتنی جگہوں اور نا جگہوں سے گزرا ہوں
جہاں کتابوں کے ڈھیر میں بچھے ہوئے
صوفوں پر
لوگوں کے بجائے لفظوں کو
آرام کرتے ہوئے دیکھا
اور بُھنے ہوئے پنیر اور چائے کی تواضع میں
دو چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو
آنے والوں کی محبت
اور خوشی سے لبریز پایا

 

وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں
وزیر کوٹ ایک شخص تھا
شخصیت سے اٹا اٹ
سایوں، باتوں اور لفظوں سے بھرا ہوا
جو کسی کو خالی نہیں ہونے دیتا تھا!

 

(وزیر آغا کی یاد میں)

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خام خیالی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خام خیالی

[/vc_column_text][vc_column_text]

جب میں نہیں ہوں گا
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی
بادل خالی خالی نظروں سے
زمین کی جانب دیکھیں گے
مینہ برسنا،
پھول کھلنا
اور تتلیاں اُڑنا بھول جائیں گی
گملوں میں پودے
کئی کئی دن پانی نہ ملنے پر
سوکھ جائیں گے
میز پر رکھا ہوا کھانا
میرے انتظار میں ٹھنڈا ہوتا رہے گا
نیم وا کھڑکیوں کے پردے
دھوپ، آندھی اور بارش میں
پھڑپھڑاتے
اور کمروں کے دروازے
بے مقصد کھلے اور بجتے رہیں گے
گھر میں فالتو بتیاں
جلتی رہیں گی
اور ہر ماہ
بجلی، گیس اور ٹیلیفون کے بلوں کی
آخری تاریخ گزر جایا کرے گی!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

زیادہ تر مار دیے گئے
تشدد کے بعد
کچھ بھون دیے گئے
آتشیں ہتھیاروں کے ساتھ
اور پھینک دیے گئے اجتماعی قبروں میں
کچھ کی آنکھوں پر
سیاہ پٹیاں بندھی ہوئی تھیں
وہ مرتے ہوئے خود کو بھی نہ دیکھ سکے
کچھ سرحدیں پار کرتے ہوئے
محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے
کچھ کھلے سمندروں میں
ڈوب گئے
اُن میں بچے بھی تھے
بوڑھے اور جوان مرد بھی
لڑکیاں اور عورتیں بھی
کسی کے ہاتھوں پہ لمس تھا
کسی کے ہونٹوں پہ پھول
کسی کی آنکھوں میں خواب
کسی کے سینے میں امید
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

موت کو پڑھنا آسان نہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

موت کو پڑھنا آسان نہیں!

[/vc_column_text][vc_column_text]

رات سورج سے پہلے جاگ اٹھی ہے
اور سلیپر پہنے
گھروں سے باہر نکل آئی ہے

 

سمندر کنارے پر پھیلتا جا رہا ہے
یہاں تک کہ اُس کی گہرائی کم ہوتے ہوتے
صفر اعشاریہ ننانوے ملی میٹر رہ گئی ہے
اور مچھلیاں اپنی مادر زاد برہنگی چھپانے کے لیے
لاشوں کی طرح اوپر تلے گر رہی ہیں
آبی اور زمینی مخلوق میں معانی کا فرق بھی نہیں رہا

 

وہ دیکھو متن اور حاشیے کے مابین
موت سایوں کی زبان میں لکھی ہوئی ہے
جسے سمجھنے کے لیے
ماقبل اور مابعد زمانوں کی تنہائی درکار ہے

 

لفظوں اور منظروں کی خود کشی کے بعد
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
خوبصورت آنکھوں والے چہروں پر سیاہ چشمے دیکھ کر
بادلوں کا ہنسنا بلکہ ٹھٹا لگانا قدرتی بات ہے

 

متن شناسی کے زعم میں مبتلا
پتلے کانوں والے نقاد
بوڑھے کچھووں کے راگ سُن سُن کر مدہوش ہو رہے ہیں
ایسے میں نظم لکھنا
اور موت کو پڑھنا آسان نہیں!

Image: Joan Miro
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آبائی گھروں کے دکھ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آبائی گھروں کے دکھ

[/vc_column_text][vc_column_text]

آبائی گھر ایک سے ہوتے ہیں
ڈیوڑھیوں، دالانوں، برآمدوں، کمروں اور رسوئیوں میں بٹے ہوئے
لیکن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے
آبائی گھروں میں
گِھسی ہوئی سرخ اینٹوں کے فرش
اور چُونا گچ نَم خوردہ دیواریں
بے تحاشا بڑھی ہوئی بیلیں
چھتوں پر اگی ہوئی لمبی گھاس
اور املی اور املتاس کے درخت
ایک دائمی سوگواریت لیے ہوئے
ایک ہی جانب خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں

 

آبائی گھروں کے اندر چیزیں بھی ایک سی ہوتی ہیں
پڑچھتیوں پر پیتل اور تانبے کے برتن
گرد جھاڑنے، قلعی کرنے والے ہاتھوں کا انتظار کرتے ہیں
چنیوٹ کا فرنیچر
اور گجرات کی پیالیاں اور چینکیں
خالی پڑی رہتی ہیں
کھونٹیوں پر لٹکے ہوئے کپڑے اور برساتیاں
اترنے کی منتظر رہتی ہیں
اور چہل قدمی کی چھڑیاں اور کھونڈیاں
سہارا لینے والے ہاتھوں کو ڈھونڈتی ہیں
فرہم کیے ہوئے شجرے،
بلیک اینڈ وائٹ اور سیپیا تصویریں
اور طاقوں میں رکھی ہوئی مقدس کتابیں
اور کامریڈی دور کا مارکسی ادب
سب کچھ اپنی اپنی جگہ پڑا ہوتا ہے

 

آبائی گھروں کے مکین بھی ایک سے ہوتے ہیں
بیرونی دروازوں پر نظریں جمائے، آخری نمبر کا چشمہ لگائے
بینائی سے تقریباْ محروم مائیں
اور رعشہ زدہ ہاتھوں والے باپ
اور اپنے تئیں کسی عظیم مقصد کے لیے جان دینے والوں کی بیوائیں
جو کبھی جوان اور پُر جوش رہی ہوں گی
آبائی گھروں میں لوگ نہیں ساعتیں اور صدیاں بیمار ہوتی ہیں
زمانے کھانستے ہیں
آبائی گھر لَوٹ آنے کے وعدوں پر
باوفا دیہاتی محبوبہ کی طرح سدا اعتبار کرتے ہیں
اور کبھی نہ آنے والوں کے لیے
دل اور دروازے کُھلے رکھتے ہیں

 

شاعروں کے لیے
آبائی گلیوں کی دوپہروں
اور پچھواڑے کے باغوں سے بڑا رومانس کیا ہو سکتا ہے
جہاں تتلیاں پروں کا توازن برقرار نہیں رکھ سکتیں
اور پھولوں اور پتوں پر کریش لینڈنگ کرتی ہیں
اور دھوپ اور بارش کے بغیر
قوسِ قزح جیسی ہنسی بکھرتی ہے
اور نسائم جیسی لڑکیاں سات رنگوں کی گنتی بھول جاتی ہیں
آبائی گھروں میں
وقت بوڑھا نہیں ہوتا
دراصل ہم بچے نہیں رہتے
اور کھلونوں کے بجائے اصلی کاریں چلانے لگتے ہیں
اور کبھی کبھی اصلی گنیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔

 

آبائی گھروں کو جانے والے راستے بھی ایک سے ہوتے ہیں
سنسان اور گرد آلود
مسافروں سے تہی
جن پر بگولے اڑتے ہیں
یا میت اٹھائے کبھی کبھی کوئی ایمبولینس گزرتی ہے
پھلاہی اور کیکروں سے ڈھکے آبائی قبرستان
تھوڑی دیر کے لیے آباد ہوتے ہیں
اور پھر دعاؤں اور باتوں کی بھن بھن میں
منظر تتر بتر ہو جاتا ہے
یہاں تک کہ موسم سے اکتائے ہوئے
بادل بھی کسی پہاڑی قصبے کی طرف چلے جاتے ہیں
آبائی راستوں کے دکھ نظمائے نہیں جا سکتے
انہیں یاد کرتے ہوئے رویا بھی نہیں جا سکتا
یہ صرف کسی اپنے جیسے کے ساتھ شیئر کیے جا سکتے ہیں

 

عمریں گزر جاتی ہیں
شہروں میں اور ملکوں میں
لکڑی کے صندوق اور پیٹیاں ہماری جان نہیں چھوڑتیں
گھروں میں کوئی جگہ نہ ہو
تو دلوں اور ذہنوں کے کباڑ خانوں میں رکھی رہتی ہیں
کبھی نہ کُھلنے کے لیے
اور پھر ایک دن ہم خود بند ہو جاتے ہیں
زمین پر آخری دن آنے سے پہلے ہمارے دن پورے ہو جاتے ہیں!!

 

(ابرار احمد کے لیے)

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

جب سب مرد و زن مار دیے گئے
اعضاء بکھرے ہوئے تھے
بے ترتیبی سے
ہاتھ بازوؤں سے الگ
اور پاؤں ٹانگوں سے
سر تن سے جدا
دل سینے سے
اور آنتیں پیٹ سے باہر
شرم گاہیں کُھلی ہوئی
اور ذکور کٹے ہوئے

 

جب سب مار دیے گئے
جسموں کے ٹکڑے اکٹھے کیے گئے
گنتی کے لیے
لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے!!

Image: Vann Nath
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پسپائی اور محبت کی آخری نظم

[blockquote style=”3″]

نصیر احمد ناصر کی یہ نظم اس سے قبل ‘ہم سب‘ پر بھی شائع ہو چکی ہے۔ نصیر احمد ناصر صاحب کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پسپائی اور محبت کی آخری نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

جب کشتیاں دریاؤں سے
اور کنارے پانیوں سے اوب جائیں
اور راستے بستیوں کے نواح سے گزرتے ہوئے
اچانک کسی ہائی وے کی زد میں آ کر کچلے جائیں
تو سمجھ لینا
زمین پر میرے اور محبت کے دن پورے ہو چکے ہیں
اور میں آخری معرکہ بھی ہار چکا ہوں
اور تمہاری بھیجی ہوئی دعاؤں کی کمک
اور محافظ تعویزوں سمیت مارے جانے سے پہلے
کسی تنگ نشیبی راستے میں
زخموں کی تاب لانے
اور تاب کار شعاعوں سے آکسیجن کشید کرنے کی
بے سود کوشش کر رہا ہوں
اور عین جنگاہ میں
تمہارے لیے لکھی ہوئی نظمیں
اور امن خوابوں سے بھری ہوئی ڈائریاں
ان درختوں کے ساتھ ہی کوئلہ بن چکی ہیں
جو شعاعی حملے سے پہلے
پھولوں سے لدے ہوئے تھے
اور جن کے نیچے میں آخری بار بیٹھا تھا
اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے بمشکل حلق سے اتارے تھے
اور پانی کے بچے کھچے چند قطروں سے ہونٹ تر کیے تھے

 

اور جب تم دیکھو
کہ وقت اچانک رک گیا ہے
اور شام کی اذانیں بلند ہونے سے پہلے دن طویل ہو گیا ہے
اور کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے
تمہیں ہر چیز بدلی ہوئی لگے
تو بے چین ہو کر مجھے یاد نہ کرنا
ورنہ وہ آسانی سے
تمہارے دل کے راستے سے مجھ تک پہنچ جائیں گے
اور میری موت کو
فتح کی نشانی کے طور پر حنوط کر لیں گے

 

اور جب میرے بجائے
قنطور یا جانور نما کوئی مخلوق
تمہارے فارم ہاؤس پر پہنچے
تو حیران مت ہونا
اور چپکے سے دروازہ کھول دینا
اور وہ استقبالی بوسے
جو تم نے میرے لیے پس انداز کررکھے ہیں
کسی خلائی بھیڑیے کے برقی ہونٹوں سے مَس کرتے ہوئے
رو مت پڑنا
ورنہ زمین پر ہمیشہ کے لیے دھوئیں کے بادل چھا جائیں گے

 

اور جب ہوا کا آخری جھونکا
پورٹیکو میں سے گزرتے ہوئے
سرگوشیوں میں میرا پیغام ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرے
تو اُس طرف مڑ کر مت دیکھنا
ورنہ وہ تمہاری روح کے کمزور ترین حصے سے واقف ہو جائیں گے
اور وہیں اپنے مشینی دانت گاڑ دیں گے
اور سنو!
مکمل سپردگی سے پہلے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے!!

Image: postalmuseum.si.edu
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گوتم نے خود کشی کر لی ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گوتم نے خود کشی کر لی ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

روش ندیم! تمھارے لیے آسانی سے ایک نظم لکھی جا سکتی ہے
اور تمہیں دیکھنے کے لیے محدب عدسے کی ضرورت نہیں
تم سے پہلے تمہاری عینک کے شیشے نظر آ جاتے ہیں
اور تمہاری آنکھیں
ہونٹوں سے زیادہ مسکراتی ہیں
تمہاری ما بعد جدیدی محبت قابلِ رشک ہے
تم کسی کو گھر نہیں بلاتے
اور منیلا کے بغیر کہیں نہیں جاتے
اور تربوز کا شیک پیتے ہوئے یوں شرماتے اور گبھراتے ہو
جیسے کوئی ” ترقی شدہ ” پینڈو پہلی بار رام رنگی پی رہا ہو

 

تمہاری نظمیں پڑھتے ہوئے
ٹشو پیپر بھیگ جانے کے ڈر سے
رویا نہیں جا سکتا
ہنسا بھی نہیں جا سکتا
کہیں دھیان کی گمبھیرتا نہ ٹوٹ جائے
جانے کیسے تم سدھارتھ کے ساتھ اونچی آواز میں باتیں کرتے
بلکہ ٹھٹھے لگاتے ہو
اور دہشت کے موسم میں نظمیں لکھتے ہو
اس موسم میں تو نظمیں نہیں لاشیں لکھی جاتی ہیں
اور نوحے پڑھے جاتے ہیں

 

منٹو کی عورتیں
تمہارے اتہاس کی سطریں ہیں
اور تمہارے دکھ کی انامیکا
گوتم کے قدموں سے بڑی ہے
آج گوتم کو اعلی ترین ڈگری
اور بہترین تجربے کے باوجود
نوکری کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی
تو اسے معلوم ہوتا کہ دکھ کیا ہے

 

روش ندیم!
تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
بے چارہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔
نروان پا چکا تھا ۔۔۔۔۔
خیر چھوڑو
ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے
کہیں اسے تجریدی مکھیاں اور تنقیدی ڈائنو سار نہ کھا جائیں
بھوکے پیٹ تو لیکچر بھی نہیں دیا جا سکتا!!

 

(روش ندیم کے لیے)

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بچپن کی سماعتیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بچپن کی سماعتیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

شکر دوپہروں میں
کوئلوں سے دیواروں پر
کھڑکیوں اور دروازوں کی شکلیں بناتے ہوئے
حملہ آور گالیوں کی طرح
اچانک امنڈ آنے والا
گلیوں کا سناٹا ہو
یا دالانوں میں گھسٹتی
ننگ دھڑنگ طفلانہ خاموشی ۔۔۔۔۔۔
نیم تاریک پساروں میں
دکھائی نہ دینے والے جسموں کی
دبی دبی ہنسی آلود باتیں ہوں
یا رسوئیوں اور برآمدوں میں چلتی پھرتی
نئی نئی سہاگنوں کی ذائقے دار سرگوشیاں ۔۔۔۔۔
اُڑتے ہوئے پرندوں کی
گھونسلوں میں رہ جانے والی پروازیں ہوں
یا آسمان کی گونجیلی نیلاہٹوں میں
بے آواز پروں کی
ہلکورے لیتی، لہریے بناتی
پھڑپھراہٹیں ۔۔۔۔۔
گِل خوروں کے رینگنے کی سرسراہٹ ہو
یا بارش میں نہاتے ہوئے
قدموں کی شپ شپ ۔۔۔۔۔۔
درختوں کی شاخیں کٹتے ہوئے
پتوں اور تتلیوں کی سسکیاں ہوں
یا جنگلوں، راستوں اور پہاڑی دروں سے گزرتی ہوئی
ہوا کی کلکاریاں ۔۔۔۔۔
سرحدوں کے آر پار بنے
اونچے بنکروں سے برستی تڑ تڑ گولیاں ہوں
یا نشیبی رات کا سینہ چیرتی
پہرے داروں کی سیٹیاں ۔۔۔۔۔۔۔
بچپن کی سنی ہوئی آوازیں
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!

Image: Dilip Oinam
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

شاعری زمین کا پھول ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شاعری زمین کا پھول ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعری زمین کا پھول ہے
آسمانوں پر رہنے والے
شاعر نہیں ہوتے
آسمانوں میں کیا ہے
نہ ہوا نہ مٹی
نہ دھوپ نہ پانی
آسمانوں کے پاس جو تھوڑی بہت خاک تھی
جب اسے گارا بنایا گیا
اور اس میں روح پھونکی گئی
تو اس پر محبت کے پھول
اور ذائقوں کے پھل آنے لگے
اور وہ بود و باش کے لیے زمین تلاش کرنے لگی
مٹی کو آخر کار مٹی میں پناہ ملتی ہے
آسمان اسے قبول نہیں کرتا
آسمان پر روحیں ہوتی ہیں
جسم نہیں
اور شاعری کے لیے
جسم ضروری ہے
شاعری فرشتوں پر نہیں انسانوں پر اترتی ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

سری نگر روڈ، محض ایک شاہراہ نہیں
ازل اور ابد کے درمیان چکراتی، لہراتی ہوئی نظم ہے
جو کہیں دل سے شروع ہو کر
صدیوں اور زمانوں کے سنگِ میل طے کرتی
وقت کی سرحدی چوکیوں سے گزرتی
دل ہی کے کسی منطقے پر ختم ہو جاتی ہے
دل، جس میں جانے کتنے جہلم، کتنے نیلم بہتے ہیں
کتنے ڈل اور کتنے سرینگر ہیں
لیکن دل سے باہر
دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے
جہاں حدیں اور فاصلے نظموں سے نہیں
جھیلوں اور دریاؤں کے پانی سے ناپے جاتے ہیں

 

سرحد کے اُس پار سے آنے والے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے
خوشبوؤں، گیتوں اور کہانیوں کو
روک لگ چکی ہے
اور نظم
مٹی اور کنکریٹ کے پشتوں کے سامنے بے بس پانی کی طرح
ڈھیر ہوتی جا رہی ہے
اور جہلم
اب ایک بل کھاتی پتلی ریت کی لکیر کے سوا کچھ نہیں

 

دل کے مرتفع سلسلوں سے نکلتی ہوئی
ایک بے نام سڑک میری طرف بھی آتی ہے
جس پر کوئی سنگ میل نصب نہیں
کوئی چیک پوسٹ، کوئی ناکا نہیں
جس کے سنگ
کوئی جہلم، کوئی نیلم نہیں
بس محبت کی ایک دکھائی نہ دینے والی کاریز ہے!

 

( یامین کے لیے )

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

سرمئی نیند کی بازگشت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

سرمئی نیند کی بازگشت

[/vc_column_text][vc_column_text]

اداسی مجھے تخلیق کرتی ہے
ہر روز ایک نئی نظم میں
میں جنگلوں اور پہاڑوں کے گیت سنتا ہوں
اور زمانوں کی قدامت میں گونجتا ہوں
میں بے گزر، دراز راستوں کا راگ ہوں
اور ہوا کے قدموں کی سُر ملی صدا
میں راتوں کا آرکسٹرا ہوں
اور دنوں کے البم میں محٖفوظ کیا ہوا نغمہِ ساز
میں زندگی کے شور میں سنائی نہیں دوں گا

 

دنیا سماعت کا دھوکا ہے
صرف ایک دھماکے کی مار
جہاں محبت کی آواز
ہوا کی سرگوشیوں کے سنگ
آبادیوں کے آس پاس بھٹکتی رہتی ہے
اور گھروں اور دلوں میں داخل ہونے سے گھبراتی ہے
اور جہاں بوڑھی آتمائیں
جوان جسموں کے اندر بھنگڑا ڈالتی ہیں

 

اے خاموش سمفنی کے خدا !
بادلوں کے پروں کی سرسراہٹیں
صرف مجھے کیوں سنائی دیتی ہیں؟
بچے اپنے اپنے کمروں میں سکون کی نیند سو رہے ہیں
اور باہر بارش
کوئی نئی دُھن ترکیب دینے میں مصروف ہے
دروازے اندر سے بند ہیں
اور کھڑکیاں ٹیرس کی طرف منہ کھولے ہوئے بیٹھی ہیں
اور میں ٹیبل لیمپ کی محدود روشنی میں سوچ رہا ہوں
کہ کچھ کتابیں پڑھے بغیر ختم کیوں ہو جاتی ہیں
اورجو شب گزار
صبح کا سورج
اور شام کا ستارہ نہیں بن سکتے
وہ کہاں طلوع ہوتے ہیں ؟

 

رات کا سوناٹا ختم ہونے سے پہلے
مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے
جہاں کسی آنکھ، کسی صبح کے آثار نہیں
بس سرمئی نیند ہے
لاشوں اور مچھلیوں کی طرح
ایک دوسری کے اوپر ڈھیر کی ہوئی
مسلسل نیند ۔۔۔۔۔۔
مجھے اس نیند کی بازگشت سنائی دے رہی ہے!!

Image: Rithika_Merchant
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]