Categories
شاعری

کہیں ایک رستہ مِلے گا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کہیں ایک رستہ مِلے گا

[/vc_column_text][vc_column_text]

کہیں ایک رستہ مِلے گا
جہاں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہم
چلیں گے
طلسمی جہانوں کی جانب
ہوا سرسراتی ہوئی
پھول پتے اڑاتی ہوئی
گنگناتی ہوئی
ساتھ ہو گی
کبھی صبح ہو گی
کبھی رات ہو گی

 

کہیں ایک دریا خموشی سے بہتا مِلے گا
قدیمی درختوں سے کہتا مِلے گا
” مِرے سست رفتار پانیوں میں زمانوں کی تیزی ہے
میرے کناروں پہ آباد خوشحال شہروں کے نیچے
عجب آب و گِل کے جہاں ہیں
مِری تہ میں صدیوں کے دکھ ہیں
کوئی مجھ میں اترے تو جانے
مجھے پار کر کے تو دیکھے ۔۔۔۔۔۔۔ ”

 

مگر ہم چلیں گے
گھنے جنگلوں سے گزر کر
پہاڑوں کے اُس پار جائیں گے
درزوں، دراڑوں میں، غاروں میں جھانکیں گے
چلتے رہیں گے
جو شاداب سا راہ میں کھیت ہے
فصلِ تازہ سے لبریز ہے
اس کے نیچے
محبت کی کاریز ہے
جس کے دَم سے یہ ساری زمیں دل کی زرخیز ہے
تشنگی جسم کا بھید ہے، روح کا چھید ہے
فاصلہ ہے
یہاں سے وہاں تک بچھا ہے
خبر کیا کہاں تک بچھا ہے
کہیں ایک رستہ تِرے میرے قدموں کے نیچے چُھپا ہے
اسے طے کریں گے تو آگے بڑھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کہیں ایک لمحہ ہے
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!

Image: Duy Huynh
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

قریبِ شب

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قریبِ شب

[/vc_column_text][vc_column_text]

رات قریب ہے
اور ابھی آدھا دن بھی نہیں گزرا
آدھی بالکونی پر دھوپ ہے
اور آدھی کھڑکی
چھاؤں سے ڈھکی ہوئی ہے

 

رات قریب ہے
اور ابھی آدھا خواب بھی تیار نہیں ہوا
حالانکہ پوری دنیا کے لوگ
جُٹے ہوئے ہیں کام میں
اور بُن رہے ہیں
اپنی اپنی آنکھوں میں
ایک جیسے خواب

 

رات قریب ہے
اور ابھی آدھی دنیا
رت جگے کی لذت سے
اور آدھی
نیند کی نعمت سے محروم ہے

 

رات قریب ہے
اور ابھی آدھا چاند
اور آدھے ستارے بھی روشن نہیں کیے جا سکے

 

رات قریب ہے
اور میں ابھی
آدھی نظم بھی نہیں لکھ سکا!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نظم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ لیتی ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نظم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ لیتی ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں اُسے نہیں ملتا
وہ مجھے ملنے آ جاتی ہے
اطلاع دیئے بغیر

 

میں اُسے نہیں سوچتا
وہ مجھے سوچتی رہتی ہے
اور دیکھ لیتی ہے مجھے
درختوں اور مکانوں کی آنکھوں سے

 

میں اُسے نہیں چُھوتا
مگر وہ بھگوئے رکھتی ہے مجھے
نادیدہ لمس کی بارشوں میں

 

میں اُسے نہیں لکھتا
وہ مجھے لکھتی رہتی ہے
اَن کہے، اَن سنے لفظوں میں
اور پڑھ لیتی ہے مجھے
دنیا کی کسی بھی زبان میں

 

میں کہیں بھی ہوں
وہ مجھے ڈھونڈ لیتی ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پانچواں مفرد

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پانچواں مفرد

[/vc_column_text][vc_column_text]

خواب آنکھوں سے شروع ہوکر
پیروں کے تلووں پر ختم ہوجاتے ہیں
دریا پر پُل ابھی نہیں بنا
اور مٹی کو راستہ بننے میں
کئی صدیوں کا سفر درکار ہے
پانی اور ہوا کے ساتھ چلتے ہوئے
وقت مجھ سے آگے نکل جاتا ہے
اور میں۔۔۔۔۔ اس زمین کا تنہا مسافر
تم سے بہت پیچھے
بچی کھچی عمر کا توشہ سنبھالے
پھیلاؤ کی آخری حد سے
کائنات کے سمٹنے کا انتظار کرتا ہوں
رات کا سایہ دیئے کی لَو سے ڈر جاتا ہے
آسمان کا خیمہ بہت چھوٹا ہے
اور روشنی میرے دل سے کہیں زیادہ ۔۔۔۔۔
لیکن فاصلوں کے مدار
خوابوں کے دائروں سے بڑے نہیں ہوتے
الوہی موسموں میں
جب ستاروں کے پھول کھل رہے ہوں گے
اور سورج کی آگ پر تتلیاں منڈلائیں گی
تو تمہارے چہرے کا چاند
شامِ ابد کی شاخوں سے طلوع ہوگا
اگر تم میں انتظار کی شکتی ہوئی
تو میں عناصر کی نئی ترتیب کے ہمراہ
تمہیں ملنے آؤں گا!!

Image: Jon Jacobsen
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کئی دن سے آنکھوں میں آنسو نہیں تھے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کئی دن سے آنکھوں میں آنسو نہیں تھے

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہاں کوئی نم دار آنکھوں سے چِھن بھر بھی دیکھے
تو لگتا ہے بارش سی ہونے لگی ہے
گھنے بادلوں میں سمندر ہمکنے لگا ہے
مجھے تم بتاؤ
کہ چُپ چاپ جیون کی ہر سمت بہتے ہوئے پانیوں کو
کہاں تک چھپاؤں گا میں
اَن کہی داستانیں کہاں تک سناؤں گا میں
زندگی کے زمیں دوز رستوں پہ کب تک چلوں گا
ابد خیز خوابوں کو دیکھوں گا کب تک
تمہارے گھنے سبز نادیدہ باغوں کی چھاؤں میں کب تک جلوں گا
تمہاری محبت کے چہرے پہ آنکھیں نہیں ہیں
یہ صدیوں پرانے اندھیرے کے خستہ مکانوں کے پیچھے، درختوں کے نیچے
جہاں ہم ذرا دیر باتوں کے چھینٹے اُڑاتے ہوئے آ گئے ہیں
یہاں چند سائے ہمارے لیے روشنی لا رہے ہیں
پرندے ہمارے لیے گا رہے ہیں
یہ لمحے جو بوڑھے زمانوں کے بچے ہیں
چُھپ کر ہمیں دیکھنے آ گئے ہیں
مگر تم بتاؤ
کہ عمریں کہاں تک ہمارے لیے سانس لیتی رہیں گی
کسی دن کہیں گی
چلو اب بہت جی لیا ہے
ڈرائیور اٹھاؤ یہ سامان سارا
چلو پورٹیکو میں گاڑی کھڑی ہے
مجھے تم بتاؤ!
میں لفظوں کے کیپسول کھا کھا کے کب تک جیوں گا
یہ نظموں کا سیرپ بھی کب تک پیوں گا
یہ ملبوسِ انفاس کامل ہی اب پھٹ چکا ہے
اسے اور کتنا سیوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

Image: Tallulah Fontaine
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں سمجھتا تھا
کہ دنیا تمہارے بغیر چھوٹی سی ہے
تمہاری پروان چڑھتی زندگیوں کے درمیان
مجھے معلوم نہ تھا
کہ میں پانی کی طرح بہہ رہا ہوں
اور مٹی کی طرح اڑ رہا ہوں
اور کتنا زندہ ہوں
اور کتنا مر چکا ہوں
تم نے نہیں دیکھا
کہ سب کس طرح مجھ کو دیکھتے تھے
اور جانتے تھے
کہ میں یکتائی کی جنگ جیت نہیں سکتا
کیونکہ شاعری اور تم ایک ساتھ
میرے گوشت اور میری ہڈیوں کے گودے میں رچے بسے تھے
تم نے کبھی ان راستوں پر قدم نہیں رکھے
جن پر چلتے ہوئے
میرے پاؤں گِھس گئے
اور میں صفر اعشاریہ صفر ایک ملی میٹر سے
قامت کا مقابلہ ہار گیا
تم نے وہ آنسو بھی نہیں دیکھے
جو میری آنکھوں میں امنڈنے کے باوجود
تیزی سے یُوٹرن لے کر
دل کے اندر کی مٹی میں جذب ہوتے رہے
یہاں تک کہ اب وہاں
سیال دھاتوں اور گاڑھی کیچڑ کی دلدل نے
خون کی نالیوں کا راستہ روک لیا ہے
اپنی اپنی نیندوں کی آسودگیوں میں
تم نے خوابوں کی ان درزوں کو بھی نہیں دیکھا
جن سے گزرتے ہوئے
میرے جسم کی کھال اتر گئی
اور میری لہو ٹپکاتی ہوئی برہنہ پرچھائیں
بے وجودی کی تصویر بن گئی
اب میں زندگی کے کسی البم میں نظر نہیں آتا
اور گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی چیزوں کی طرح
ایک کونے میں پڑا سب کو دیکھتا رہتا ہوں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اندھیرے کا گیت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اندھیرے کا گیت

[/vc_column_text][vc_column_text]

اندھیرے کی بارش ہوتی ہے
اور ہم اپنے لئے
ایک روشن خواب کی پناہ مانگتے ہیں
اور نہیں جانتے
کہ مصور کے رنگوں میں اتر کر
رات نیلی کیوں ہو جاتی ہے

 

اندھیرا روشنی کی آہٹ پاتے ہی غائب ہو جاتا ہے
کونوں کھدروں اور سوراخوں میں گُھس جاتا ہے
بعض سوراخ تو روحوں کے آر پار ہوتے ہیں
جن میں سے گزر کر
اندھیرا دوسری جانب جا نکلتا ہے
کیا دوسری جانب بھی اندھیرا ہے
یا وہاں بھی اسی طرح
کسی بڑے چھید کی اتھاہ گہرائی میں
ایک روشنی کا گماں
دوسرے گمان میں گم ہوتا رہتا ہے
کیا وہاں بھی
ایک تاریکی دوسری تاریکی سے
اسی طرح لذت کشید کرتی ہے
جس طرح ہم
اپنی اداسی سے لطف اندوز ہوتے ہیں
اور خود لذتی میں سرشار رہتے ہیں
اور عظیم شاعری کے جال میں الجھ کر
لفظوں کی بچی کھچی پونجی بھی ضائع کر بیٹھتے ہیں

 

روحوں کے چھید
لمحہ بہ لمحہ بڑھتے رہتے ہیں
اور زندگی دن اور رات کے درمیان
رینگتے ، لہراتے سایوں کی طرح
ایک جانب سے دوسری جانب
دوسری سے تیسری ۔۔۔۔۔۔ تیسری سے چوتھی
چوتھی سے پانچویں اور پھر ۔۔۔۔۔۔ شش جہت
اور اسی طرح لامتناہی ابعاد میں
خاموشی سے گھٹنوں کے بل چلتی رہتی ہے
ایک بِل سے دوسرے بِل میں
کائنات کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف
یہاں تک کہ روحیں بلبلا اٹھتی ہیں

 

اور اُدھر خدا کے بے ستون آسمانی محلات میں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں!!

Image: Zdzislaw Beksinski
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پانی میں گم خواب

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پانی میں گم خواب

[/vc_column_text][vc_column_text]

خواب اور خواہش میں
فاصلہ نہیں ہوتا
عکس اور پانی کے
درمیان آنکھوں میں
آئینہ نہیں ہوتا
سوچ کی لکیروں سے
شکل کیا بناؤ گے
درد کی مثلّث میں
زاویہ نہیں ہوتا
بےشمار نسلوں کے
خواب ایک سے لیکن
نیند اور جَگراتا
ایک سا نہیں ہوتا

 

جوہری نظاموں میں
نام بھول جاتے ہیں
کوڈ یاد رہتے ہیں
ایٹمی دھماکوں سے
تاب کار نسلوں کے
خواب ٹوٹ جاتے ہیں
شہر ڈوب جاتے ہیں
مرکزے بکھرتے ہیں
دائرے سِمٹتے ہیں
رقص کے تماشے میں
ارض و شمس ہوتے ہیں
اور خدا نہیں ہوتا

 

صد ہزار سالوں میں
ایک نور لمحے کا
ٹوٹ کر بکھر جانا
حادثہ تو ہوتا ہے
واقعہ نہیں ہوتا
ہسٹری تسلسُل ہے
ایک بار ٹوٹے تو
دُوربیں نگاہیں بھی
تھک کے ہار جاتی ہیں
گم شدہ زمینوں سے
منقطع زمانوں سے
رابطہ نہیں ہوتا

 

ننّھے مُنّے بچّوں کے
نَو بہار ہاتھوں میں
پھول کون دیکھے گا؟
آنے والی صدیوں میں
تیری میری آنکھوں کے
خواب کون دیکھے گا؟
زیرِ آب چیزوں کا
کچھ پتا نہیں ہوتا!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

دنیا چالاک لوگوں کے لیے بنی ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دنیا چالاک لوگوں کے لیے بنی ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

بچے معصومیت سے پوچھتے ہیں
مرنے کے بعد
جانوروں کی روحیں کہاں جاتی ہیں؟
کیا مچھلی کی روح
سمندر سے چلی جاتی ہے
اور پرندے
درختوں کی شاخوں کا روپ دھار لیتے ہیں؟
بچے خیال ساز ہوتے ہیں
نظریہ کار نہیں
وہ ارتقا اور تناسخ کا فلسفہ نہیں سمجھتے
وہ نہیں جانتے
کون کس جنم میں کیا تھا اور کیا ہو گا
انھیں کیا معلوم
کہ دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے
جن کی خوراک
معصوم روحیں ہوتی ہیں
وہ جانوروں کی ہوں یا انسانوں کی!!

Image: Do Ho Suh
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خوابوں کی افادیت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خوابوں کی افادیت

[/vc_column_text][vc_column_text]

خواب دیکھتے ہوئے
کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
مثلاً گدھے کی سواری
شیر کے ساتھ دوستی
پالتو میمل کے تھنوں سے براہِ راست دودھ پینا
چیونٹیوں کے بل میں گھس کر
ان کی جمع کی ہوئی خوراک چوری کر لانا
درخت کی چوٹی پر بیٹھ کر قیلولہ کرنا
مَرے بغیر اپنی قبر میں جا کر لیٹ جانا
نماز پڑھتے پڑھتے سو جانا
ساتھ لٹائے ہوئے کھلونوں کو
بچوں کی طرح ٹانگ مار کر
بیڈ سے نیچے گرا دینا
صدر مملکت کے پیٹ میں گد گدی کرنا
اور وزیر اعظم کے ساتھ گپیں لگاتے ہوئے
ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہے لگانا
اور وہ سب کچھ
جو بیداری کی حالت میں
عام طور پر نہیں کیا جا سکتا !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ونڈو شاپنگ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ونڈو شاپنگ

[/vc_column_text][vc_column_text]

کبھی کبھی جب میرا دل
تنہائی سے بھر جاتا ہے
تو مَیں دنیا، تیری جانب
کچھ بھی لینے چل پڑتا ہوں
تیرے بازار میں دنیا
ریستوران ہیں، اونچے اونچے ہیبت ناک پلازے ہیں
سہ جہتی فلموں والے سنیما گھر ہیں
شاپنگ مال ہیں
شاپنگ مال جہاں پر
ایک ہی چھت کے نیچے
شیلفوں، ریکوں میں ہر چیز قرینے سے رکھی ہے
ہاتھ بڑھاؤ، لے لو
جو چاہو، جتنا چاہو
رکھ لو مال ٹرالی میں
جتنا جیب اجازت دیتی ہو

 

دنیا، تیرے دل میں پتھر کی آنکھیں ہیں
جو ان شیشوں سے، شو کیسوں سے جھانکتی رہتی ہیں
جن میں مجھ جیسوں کے خواب رکھے ہیں
جینے مرنے کے اسباب رکھے ہیں
مُلکوں اور زمینوں کی ہر جنس پڑی ہے
افلاک، ستارے، مہتاب رکھے ہیں
تیرے ظرفاب میں دنیا
نیلی، پیلی، سرخ، سنہری
کتنے رنگوں کی اسماک سجی ہیں
کتنے سورج زیرِ آب رکھے ہیں
کچھ چیزوں پر سیل لگی ہے
کچھ کی قیمت پوری ہے
لیکن ہر خواہش کی تکمیل ادھوری ہے

 

تیری “سٹاپ اینڈ شاپ” میں دنیا
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ٹائم کیپسول

[blockquote style=”3″]

نصیر احمد ناصر کی یہ نظم اس سے قبل ‘ہم سب‘ پر بھی شائع ہو چکی ہے۔ نصیر احمد ناصر کی اجازت سے یہ نظم لالٹین پر شائع کی جا رہی ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ٹائم کیپسول

[/vc_column_text][vc_column_text]

مجھے دبا دو
کہیں زمیں میں
کسی پلازے کی بیسمنٹ میں
کسی عمارت کے قاعدے میں
سمندروں میں بہا دو مجھ کو
کبھی زمان و مکاں کے ملبے سے
کوئی آئندگاں کا باسی
مجھے نکالے گا
مجھ کو سمجھے گا سنگوارہ
قدیم وقتوں کی ڈھیر ساری
عجیب چیزوں کے ساتھ میں بھی پڑا مِلوں گا
میں ایک برتن ہوں
خود میں مدفون
داستانوں، کہانیوں سے بھرا ہُوا ہوں
میں اِس زمیں کی نشانیوں سے بھرا ہُوا ہوں!

Image: Viswan Vinod
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بابے کی ہٹی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بابے کی ہٹی

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں جب چھوٹا بچہ تھا
بابے کی ہٹی پر
ایک پڑوپی گندم سے
مٹھی بھر نُگدی اور مکھانے مِل جاتے تھے
خوشیاں اتنی سستی تھیں
یونہی پڑی ہوتی تھیں
غم بھی جانے انجانے کسی بہانے مِل جاتے تھے
بابے کی اولاد سیانی نکلی
دُور دساور سے مال کمایا
واپس آ کر
ہٹی سے اسٹور بنایا
خوشیوں اور غموں کو
قیمت کا ٹیگ لگایا
میں اور میرے بچے اب
کریڈٹ کارڈ سے شاپنگ کرتے ہیں!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!

[/vc_column_text][vc_column_text]

محبت بادلوں کی طرح آسمان سے برستی ہے
اور پانی کی طرح زمین پر بہتی ہے
اور ہوا کی طرح
چہروں اور بالوں کو چھوتی ہوئی
درختوں کے پتوں کو چھیڑتی ہوئی
کبھی نہ ختم ہونے والے راستوں نا راستوں پر
بے پا افشار چلتی رہتی ہے
محبت نفرت کا اینٹی سیرم ہے
کبھی نہ ایکسپائر ہونے والی ویکسین ہے
جو جسموں کی دبیز ترین تہوں سے گزر جاتی ہے
زمین محبت کی آخری پناہ گاہ ہے
یہاں اسے کوئی نہیں مار سکتا
تمام تر نفرتوں کے باوجود
یہاں وہ جنگلوں، پہاڑوں ندیوں، کھیتوں
اور کھیتوں میں کام کرنے والے
مردوں اور عورتوں کا روپ دھار لیتی ہے
پھولوں کے رنگوں
اور تتلیوں کے پروں میں کیمو فلاژ ہو جاتی ہے
اور کبھی کبھی تو شرارتی بچوں کی طرح
شہد کی مکھیوں
اور بھڑوں کے چھتوں میں جا گُھستی ہے
اور کبھی زیادہ غصے میں ہو
تو معصوم کیڑوں مکوڑوں کو پاؤں تلے مسل ڈالتی ہے
یا چیونٹیوں کے سوراخوں میں پانی بھر دیتی ہے
یا کھلونا مشین گن سے
نقلی فائرنگ کرتے ہوئے تڑ تڑ ہنستی ہے
محبت اس سے زیادہ کسی ذی حس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نظم خدا نہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نظم خدا نہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

نظم جنگل نہیں
لیکن درختوں اور سایوں سے بھری ہوتی ہے
نظم پرندہ نہیں
لیکن چہکاروں سے گونجتی رہتی ہے
نظم محبوبہ نہیں
لیکن محبوبہ جیسی دلربائی رکھتی ہے
نظم بادل نہیں، بارش نہیں
لیکن پَل بھر میں بگھو دیتی ہے
نظم انسان نہیں
لیکن دھڑکتی، سانس لیتی ہے
نظم خدا نہیں
لیکن ہر جگہ موجود ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]