[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][vc_column_text]
جہاں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہم
چلیں گے
طلسمی جہانوں کی جانب
ہوا سرسراتی ہوئی
پھول پتے اڑاتی ہوئی
گنگناتی ہوئی
ساتھ ہو گی
کبھی صبح ہو گی
کبھی رات ہو گی
قدیمی درختوں سے کہتا مِلے گا
” مِرے سست رفتار پانیوں میں زمانوں کی تیزی ہے
میرے کناروں پہ آباد خوشحال شہروں کے نیچے
عجب آب و گِل کے جہاں ہیں
مِری تہ میں صدیوں کے دکھ ہیں
کوئی مجھ میں اترے تو جانے
مجھے پار کر کے تو دیکھے ۔۔۔۔۔۔۔ ”
گھنے جنگلوں سے گزر کر
پہاڑوں کے اُس پار جائیں گے
درزوں، دراڑوں میں، غاروں میں جھانکیں گے
چلتے رہیں گے
جو شاداب سا راہ میں کھیت ہے
فصلِ تازہ سے لبریز ہے
اس کے نیچے
محبت کی کاریز ہے
جس کے دَم سے یہ ساری زمیں دل کی زرخیز ہے
تشنگی جسم کا بھید ہے، روح کا چھید ہے
فاصلہ ہے
یہاں سے وہاں تک بچھا ہے
خبر کیا کہاں تک بچھا ہے
کہیں ایک رستہ تِرے میرے قدموں کے نیچے چُھپا ہے
اسے طے کریں گے تو آگے بڑھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!
Image: Duy Huynh
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
