Categories
شاعری

لال پلکا

لال پلکا اُڑ کے آیا ہے
بہت ہی دور سے
پیغام لایا ہے
سرائے نور سے
غٹ غوں، غٹر غوں
کھول کر دیکھوں
لکھا ہے کیا خطِ تقدیر میں
کتنے یگوں کی قید ہے
کتنی رہائی ہے
مقدم کون سا دن،
کون سی لیلیٰ شبِ تاخیر ہے
غم کی خبر ہے یا خوشی کی
نقشِ حُب ہے یا دمِ تعزیر ہے۔۔۔۔۔۔
مہر کس نے ثبت کی ہے
کس کی خاتم کا نشاں ہے
کس طلائی ہاتھ کی تحریر ہے۔۔۔۔۔۔
حاشیے میں کیا رقم ہے
کیا نوشتہ ہے مِرا اس عالمِ تقصیر میں
زخمی پروں سے
ہشت منظر پار کرتا، راس چگتا
لال پلکا اڑ کے آیا ہے
بہت ہی دور سے۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
شاعری

کائنات کا آخری اداس گیت

مجھے دوستوں نے بالکل تنہا کر دیا ہے
وہ میرے لفظوں کو سانس بھی نہیں لینے دیتے
اور ان پر اپنی قبروں کی مٹی ڈال دیتے ہیں
اس کے باوجود ایک لفظ
کبھی کبھی اتنا پھیل جاتا ہے
کہ آنکھیں اُس کا نصف محیط بھی نہیں دیکھ سکتیں

دیکھو، میں ایک بار پھر تمھارے سامنے ہوں
ایک ازلی خواب نامہ رقم کرتے ہوئے
روشنی میرے ہاتھوں کی لکیروں میں
گرم گرم سیال لاوے کی طرح بہہ رہی ہے
اداسی ایک بار پھر میرے وجود سے گزر رہی ہے
اپنی لاکھوں سال پرانی گمبھیرتا کے ساتھ
لیکن اب میں کوئی نظم نہیں لکھوں گا

یہ جانتے ہوئے بھی
کہ ہر انتہا پر
ایک اور ابتدا جبڑے کھولے منتظر ہے
میں کسی کے نقشِ پا پر اپنی قبر نہیں بنا سکتا
کیا چلنے کے لیے راستہ بہت ضروری ہے؟
روشنی بل دار ہو کہ سیدھی
خلا کی بے لمس تاریکی تو دور نہیں کر سکتی!

دیکھو، میں یہاں لکیریں کھینچتے کھینچتے
دائروں کی ابدیت میں نابود ہو چکا ہوں
اور وہاں، تمھارے جسم کے ساحل پر
وقت کا بہاؤ
آہستہ آہستہ شانت ہوتا ہوا دم توڑ رہا ہے
قدموں کی رفتار تیز کرو
کائناتی کلاک سے باہر
ایک دائمی لمحے کی پکار
تمام بازگشتوں پر غالب آ رہی ہے
ابدی ترتیب سے بھٹکا ہوا وجود
اپنے خلیوں اور سالموں میں چھپا ہوا سچ تلاش کرتا ہے
کیا زندگی صرف اس لیے ہے
کہ ہم ایک بےمہلت رات کے انت پر
آنسوؤں کے چراغ روشن کریں
اور شہابِ ثاقب کی طرح جل بجھ کر
نامتناہی اندھیروں کے غبار میں گم ہو جائیں؟

ایک بےتھاہ کھائی ۔۔۔۔
اور سوالیہ ہُک سے لٹکی ہوئی کائنات
نادیدہ پانیوں پر تیرتی ہوئی
بہت سی لاکلامی، بہت سا کلام
الاپ ۔۔۔ اور معدوم ہو جانے کی اذیت
دُور ۔۔۔ کسی لامکاں کے بےجہت کبودی گوشے میں
کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے
پیانو کو چھیڑتا ہے
اور کہیں بہت قریب سے
ساکن اور بےآواز آسمانی گیت سنائی دے رہا ہے
تالمودی راستوں کے اطراف میں
صلیبی پھول کھل رہے ہیں

لفظوں اور خوابوں کی کلوننگ نہیں کی جا سکتی
روشنی، اجازت طلب کرنے کا وقت آ پہنچا ہے
الفراق! الفراق!!
اتنی بڑی عمارت سے
رخصت کرتے وقت
کیا تم مجھے گیٹ تک چھوڑنے بھی نہیں آؤ گی؟

Categories
شاعری

حطؔاب کہو، اب کیا بیچو گے؟

حطاب کہو، اب کیا بیچو گے ؟
جنگل تو سب شہر ہوئے ہیں
گلی گلی میں پائپ بچھے ہیں
دیواروں اور سڑکوں کی گنجلتا میں
حُسنِ سلوک اور حُسنِ طلب
متروک ثقافت کے قصے ہیں
بیچنے اور خریدنے والے
ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں
نام و نمود کی،اَصراف کی گہما گہمی میں
نامحدود ستائش کی خوش فہمی میں
حُسنِ گلو سوز بھی غازے کا،
حُسن افروزی کا محتاج ہوا ہے
کل جو نہیں تھا، آج ہوا ہے

حطاب کہو !
بے کاری کے دن کیسے کاٹو گے؟
کن پیڑوں پر وار کرو گے؟
تھک ہار کے کیا اپنے ہی سائے میں بیٹھو گے؟
شاخیں کاٹ کے جو ڈھیر لگایا تھا
اس پیشے میں جو دام اور نام کمایا تھا
کب تک اس پر گزران کرو گے
کب اور کہاں اپنے حصے کے اشجار لگاؤ گے؟
دیکھو بابا
یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو
بھوکے مر جاؤ گے!

Categories
شاعری

خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے

دن چڑھے کے خواب
شام کی آنکھوں میں بہنے لگے ہیں
رات کناروں تک بھر گئی ہے
اور کسی بھی لمحے چھلک کر
کائنات سے باہر جا گرے گی
خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے
اور شاعروں کے پاس
اتنی روشنائی نہیں
کہ لوڈ شیڈنگ کی ماری ہوئی
دھرتی روشن کر سکیں
وہ محض نظمیں لکھ سکتے ہیں
یا زیادہ سے زیادہ
مرگِ خود پر
تعزیتی قرارداد پیش کر سکتے ہیں!

Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

نظم کا اعترافی بیان

میں رنگوں کی بھوکی ہوں
سرخ، بنفشی، نارنجی
اودے، پیلے، سبز، کبودی
سب رنگوں کو کھا جاتی ہوں
ست رنگی، ست خصمی کہلاتی ہوں!!

Categories
شاعری

فلیش بیک سے باہر

وہ تم تھے
جو زمان و مکاں کی حدیں توڑ کر
دینہ سے مِلنے آئے تھے
میں تو یونہی وہاں جا پہنچا تھا
ڈھلتی سہ پہر کے سرمئی سایوں کی طرح
ایک سے دوسری جگہ
دن گزاری کے لیے
کہ اچانک وقت میری گرفت میں آ گیا
ریلوے اسٹیشن سے باہر
ایک سفید سائے سے گلے مِلتے ہوئے
یوں لگا جیسے
دھوپ اور بارش کو ایک ساتھ چھو لیا ہو
جیسے دن کے تیسرے پہر کے مٹیالے پَن میں
چاندنی اوڑھ لی ہو

پتا نہیں تمہارے ہاتھ میں ٹائم مشین تھی یا کیا تھا
زمانے پیچھے کی طرف چل پڑے تھے
تم ننھے سے جیوڑے
ریل کی فولادی پٹڑی کے پاس
کوکتی، چھینکتی، ہانپتی، سانسوں کی دبیز بھاپ نکالتی
ریل گاڑی کو دیکھ رہے تھے
اور میں بستہ لیے
ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر
پرانے چوبی بینچ پہ بیٹھا
مال گاڑی کے ڈبے گن رہا تھا
کھاریاں اور دینہ ایک ہی محور پر گھوم رہے تھے
اور کسی کو خبر نہیں تھی
کہ وقت سے بھاگے ہوئے
ہم دونوں اُس وقت کہاں تھے

ہماری فینطاسیہ ایک، عینیت ایک تھی
لیکن زمانے اور قصبے الگ الگ
اور اب تو ملک بھی الگ الگ ہیں
اور دنیائیں بھی
تم شہرت کے بوجھ تلے دبے ہوئے
اور میں گمنامی کا مارا ہُوا
لیکن ہماری مونچھوں اور ہنسی کا رنگ ایک جیسا ہے
روشن سفید ۔۔۔۔۔۔۔

ماضی کی ایک تنگ گلی میں کھڑے
چم چم اور گلاب جامن کھاتے ہوئے
تم لوگوں سے یوں مِل رہے تھے
جیسے سب تمھارے ہم جوار و ہم جولی ہوں
اور گلی جیسے تمہارے ہی گھر کا حصہ ہو
بچپن کے گھر میں داخل ہونے کے لیے
جیسے تم میرے ہی منتظر تھے
اور جب میرا بازو پکڑے ہوئے
تم دروازے سے گزر رہے تھے
تو تمہارے پاؤں جیسے سدِ صوت کو پار کر رہے تھے
تمہاری خاموشی کی آواز گمبھیر ہو گئی تھی
اور نیم تاریک صحن میں
کسی بڑی عمر کی لڑکی کو نہ پا کر
جیسے تمہارے خوابوں کی گولک ٹوٹ گئی تھی
اور عمروں کی جمع ریزگاری
وہیں پڑی رہنے کے لیے بکھر گئی تھی
اور تمہاری آنکھوں میں
جہلم کا کوئی سیلابی ریلا امنڈ آیا تھا

فلمی لوگوں کو
یہی تو سہولت ہے
کہ جب چیزیں حد سے
اور جذبات بس سے باہر ہو جائیں
تو فوراً سین “کٹ” کر کے
اپنی مرضی کے مطابق دوبارہ شوٹ کر لیتے ہیں
دیکھتے ہی دیکھتے
تم نے اسکول میں داخلہ لیا
حاضری لگوائی
سبق یاد کیا
اور یک دم فلیش بیک سے نکل کر
اپنے نام سے منسوب کالرہ بلاک کے سامنے آ کھڑے ہوئے
دوسری ہجرت کے لیے

فلم بنتی رہی
فوٹو سیشن ہوتے رہے
اور میں فوکس سے باہر واحد تماشائی
منظر کے ایک سرے پر بیٹھا
تمھیں اساتذہ کے جھرمٹ میں
بچوں کی طرح
تاریخ اور جغرافیے کا رٹا لگاتے دیکھتا رہا
جانے کب تک زمانوں کا آموختہ آمیخت ہوتا رہا
جانے کب تک پنسل اور ربر سے
لکیریں بنتی اور مٹتی رہیں
یہاں تک کہ ایک بار پھر سین کٹ ہوا
اور تم گولی کی سی تیزی سے سرحد کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔۔۔۔

میں نے پہلی بار تمھیں جلدی میں دیکھا
ورنہ تم تو جہاں رکتے تھے
وہیں کے ہو جاتے تھے
جیسے ہر دل تمھارے آبائی وطن کا احاطہ ہو
وہ کیا تھا جو مجھے معلوم ہوتے ہوئے بھی معلوم نہیں تھا
جو تم جانتے ہوئے بھی بتانا نہیں چاہتے تھے
آنے میں اتنا ٹھہراؤ
کہ بار بار گلے ملتے تھے
اور گال سے گال مَس کرتے تھے
اور جانے میں اِتی عجلت
کہ سین او کے ہوئے بغیر پیک اپ کر دیا
ساگ اور مکئی کی روٹی
جس کی اشتہا
تمھاری غزلوں، نظموں اور تمھارے گیتوں سے ٹپکتی تھی
اور گڑ کی بھیلی
جسے چکھنے کے لیے
تم نے جنم جگ انتظار کیا
کھانے کی میز پر دھری رہ گئی

ناگاہ موبائل کی گھنٹی بجی
اور کہیں آدھے رستے کی دوری سے
کوئی الوداعی آواز سنائی دی
“ناصر صاحب، ناصر صاحب”
پتا نہیں وہ تم تھے
جو تھوڑی دیر پہلے پاکستان کے دینہ کے باسی تھے
یا ہندوستان کے شہری بالی وڈ کے گلزار ۔۔۔۔۔۔۔ !

(گلزار کے لیے)

Categories
نان فکشن

نانا نواسا اور کہانی

جب رات کو سونے سے پہلے میرا نواسا فوزان اصرار کرتا ہے کہ نانا ابو کہانی سنائیں اور کہانی بھی اپنے بچپن کی تو میں سوچتا ہوں نانا دادا لوگ بچوں کے لیے ہمیشہ داستانوی کردار کیوں ہوتے ہیں؟ کیا واقعی وہ زندگی کی کہانیوں کے ہیرو ہوتے ہیں یا محض بچوں کی فنطاسیہ کا کرشمہ یعنی سرابِ خیال یا ایسے علائم و تصورات جنہیں وہ حقیقی خیال کر لیتے ہیں؟ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے بچوں کے لیے وہ کسی دوردراز سیارے کی مخلوق ہوتے ہیں یا اَن دیکھے زمانوں کے کردار جنھیں بچے ہمیشہ کوئی کارنامہ سر انجام دیتے ہوئے دیکھنا یا سننا چاہتے ہیں۔

میں اپنے بچپن کے یاد رہ جانے والے تمام واقعات فوزان کو سنا چکا ہوں مگر وہ تو ہر شب میرے بچپن کی کوئی نہ کوئی کہانی سننا چاہتا ہے۔ گاؤں کے ایک متوسط زمیندار گھرانے کے بچے کے بچپن میں کیا ہو سکتا تھا! گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں دادیوں، ماسیوں، خالاؤں، چچیوں کی تیز نگاہوں سے بچ بچا کر مٹیوں سے اناج نکالنا اور ہٹی سے پُھلیاں، نگدی اور بتاشے لے کر کھانا، ویرانوں میں جن بھوت ڈھونڈنا، کھیتوں سے خربوزے چوری کرنا، رہٹوں اور ڈلیوں میں ننگا کھلا ہو کر نہانا، کوئلوں سے دیواروں پر تصویریں بنانا، پرندوں کے گھونسلوں سے انڈے اور بچے چوری کرنا، آنکھ مچولی کھیلنا اور کھیتوں میں اور ڈیروں اور خالی چھتوں پر ہونے والی نوعمر محبتوں کو چھپ چھپ کر دیکھنا۔ سردیوں کی لمبی راتوں میں چرخہ کاتتی عورتوں کے درمیان گھس کر بیٹھ جانا۔ نئی سہاگنوں کی سرگوشیوں اور حنائی مہک سے ایک انجانی سی لذت محسوس کرنا اور ان کے آس پاس پھرنا، یہ ساری باتیں آج کے بیکن ہاؤس، روٹس اور سٹی اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے ناقابلِ فہم ہیں مگر فوزان کو دلچسپ لگتی ہیں۔ عورتوں کے ذکر پر وہ بڑی معصومیت سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتا ہے جیسے اس طرح کہانی کا وہ حصہ اسے سنائی اور دکھائی نہ دے رہا ہو۔ ہمارے گاؤں میں سانپ بہت ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کبھی چھت کے شہتیروں اور کڑیوں سے سانپ لٹکا ہوتا تھا، کبھی رسوئی سے کوبرے کی پھنکار سنائی دیتی تھی، کبھی رات کو صحن میں چلتے ہوئے اچانک پاؤں کے نیچے سانپ آ جاتا تھا اور کبھی کسی پانی کی نالی میں اس کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔ نیولوں، سانپوں، کتوں اور سیہہ کی لڑائیاں بھی بہت دیکھیں۔ فوزان کو سانپوں، پرندوں اور دیگر جانوروں کے واقعات سننا بہت پسند ہے بشرطیکہ کہانی میں ان کی موت واقع نہ ہو۔

ایک شب جب سنانے کے لیے کوئی واقعہ نہ رہا تو پوچھنے لگا کہ آپ کے نانا ابو تھے؟ میں نے کہا کہ ہاں تھے۔ تو پھر ان کے بچپن کی کہانی سنائیں۔ میں نے کہا کہ ان کا بچپن تو میں نے نہیں دیکھا، ہمیشہ انہیں بڑا ہی دیکھا۔ فوراً چالاکی سے بولا تو وہی نا، آپ تو تب بچے تھے نا، اپنے بچپن کے نانا کی کوئی اسٹوری سنائیں پلیز نانا ابو ورنہ میں آپ کو سونے نہیں دوں گا۔ اس نے نیند بھری آنکھوں سے دھمکی دی۔ میں نے بتایا کہ میرے نانا درویش منش تھے۔ ان کا گاؤں میرے ددھیال سے دو کوس کے فاصلے پر تھا۔ وہ پانچوں نمازیں مسجد میں جا کر ادا کرتے تھے۔ گھر میں گائے بھینس بھی تھی مگر انھوں نے اپنے شغل کے لیے چند ددھاری بکریاں پالی ہوئی تھیں جنھیں چرانے کے لیے قریبی جنگل میں لے جاتے تھے اور اس بہانے سارا سارا دن فطرت سے ہمکلام رہتے تھے۔ جب میں ننھیال میں ہوتا تھا تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک کنواں اور ایک کھیت میں سبزیاں “پالی” ہوئیں تھیں جن کی بالکل بچوں کی طرح دیکھ بھال کرتے تھے۔ میں نے پہلی بار بھنڈی توری کے پھول وہیں دیکھے۔ جتنا وقت گھر میں ہوتے کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے تھے۔ ان کی غذا سادہ اور سونے کے اوقات کم تھے۔

نانا جی کی باتوں سے
میں نے خاموشی سیکھی
اور خدا کی نظمائی ہوئی فطرت سے
آسمانی گیتوں کی بازگشت
جو زمین کی سب سے نچلی تہوں سے پھوٹ رہی تھی
ابھی کسی ارسطو اور کسی نیرودا کو
میں نہیں جانتا تھا
فقط نانا جی تھے اور میں تھا
اور اونچے نیچے کھیت تھے
اور ہوا تھی
اور بادل تھے
اور اچانک امنڈ آنے والی بارش تھی
اور ان سب کے درمیان خواہ مخواہ پھیلی ہوئی
ایک اَن مَنی سی تنہائی تھی

فوزان کے لیے علمِ موجودات سے متعلق یہ باتیں قدرے بوجھل تھیں کہنے لگا وہ تو ٹھیک ہے نانا ابو لیکن کہانی بھی شروع کریں نا ۔۔۔۔۔ اور میں نے کہانی شروع کی۔ میں تیسری جماعت میں تھا۔ کھیتوں پر ٹڈی دَل نے حملہ کر دیا تھا۔ ٹڈی کا آنا کال کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں اسپرے وغیرہ تو تھے نہیں۔ حکومت نے تمام اسکولوں کو حکم نامہ جاری کیا کہ بچوں کی پڑھائی موقوف کر کے انھیں ٹڈی مار مہم پر روانہ کیا جائے۔ ہمارے ایک یک چشم ماسٹر جی تھے بڑے ظالم۔ انہوں نے پانچ پانچ بچوں کی ٹولیاں بنائیں اور ڈنڈا لہراتے ہوئے فی بچہ پانچ پانچ سو ٹڈیاں مارنے کا حکم دے کر روانہ کر دیا۔ ہم کچھ ماسٹر جی کے ڈر سے اور کچھ جوش میں ٹڈیوں کے لشکر کو مارتے، کشتوں کے پشتے لگاتے چلے گئے۔ پتا ہی نہ چلا اور گاؤں سے بہت دور نکل آئے۔ اچانک احساس ہوا کہ ہم صرف دو ہیں، میں اور میرا ایک چچا زاد۔ باقی تینوں کسی اور طرف نکل گئے تھے۔ چلچلاتی دھوپ میں بھوک اور پیاس سے برا حال ہو رہا تھا۔ کپڑے اور جوتے بھی پھٹ چکے تھے۔ اچانک سامنے ننھیالی گاؤں نظر آیا۔ اور ہم اس طرف چل پڑے اور ننھیال پہنچ گئے۔ ہماری حالت دیکھ کر نانی اور نانا پریشان ہو گئے۔ پہلے پانی پلایا اور دیر تک دونوں پنکھا جھلتے رہے۔ پھر نانا ہمیں باری باری غسل خانے تک لے گئے اور گاؤں کے واحد کنویں سے لا کر ذخیرہ کیے ہوئے ٹھنڈے پانی سے نہلایا۔ اس دوران نانی نے کھانا تیار کر لیا۔ نانی کے بنائے ہوئے پراٹھوں، مکھن، لسی، اچار اور آم کے مربے کا وہ ذائقہ آج تک نہیں بھولا اور ہمیں کھاتے ہوئے دیکھ کر نانا کے چہرے پر جو شانتی تھی وہ زندگی میں پھر کہیں نہیں دیکھی۔ اسی نروان تا میں ہم خوابِ نوشیں میں چلے گئے۔ جاگے تو سہ پہر ڈھل چکی تھی۔ نانا نے ایک آدمی کے ساتھ ہمیں ہمارے گاؤں روانہ کیا۔

فوزان نے سوتے سوتے اگلا سوال داغ دیا۔ “آپ کی امی کے نانا ابو تھے؟” “امی ابو کی طرح ہر بچے کے نانا نانی اور دادا دادی ہوتے ہیں” میں نے اپنے تئیں اسے شافی جواب دیا۔ “اللہ میاں کے بھی؟” “اللہ میاں بچہ نہیں ہوتا” میں نے کہا۔ “تو پھر اللہ میاں کتنا بڑا ہوتا ہے؟” وہ مجھے لاجواب کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ دیکھو میری امی کے نانا بڑے بہادر تھے۔ وہ لوگ حقیقی ہیرو تھے۔ ان کی زندگیاں کسی مہم جوئی سے کم نہیں ہوتی تھیں۔ یہ سنتے ہی فوزان کی نیند سے بوجھل آنکھوں میں یکدم چمک آ گئی۔ میں اسے پھر کہانی کی طرف لے آیا۔

امی جی کے نانا کا گاؤں میرے ننھیالی گاؤں سے پانچ چھ کوس کے فاصلے پر تھا۔ ان کی نالا بھمبھر کے کنارے کچھ زمین تھی جہاں وہ ہر سال خربوزے کاشت کرتے تھے۔ وہ تہبند باندھتے تھے، قمیص کم ہی پہنتے تھے، کاندھے پر ایک چادر اور ہاتھ میں ڈانگ یا کلہاڑی ضرور رکھتے تھے۔ خربوزوں کے موسم میں ان کا معمول تھا کہ ہر چوتھے پانچویں روز چادر میں خربوزے بھر کر اپنی بیٹی یعنی میری نانی کو پیدل دینے جاتے تھے۔ وہ بعد دوپہر چلتے اور شام کے قریب بیٹی کے گھر پہنچتے، خربوزے چارپائی پر ڈھیر کرتے اور پانی کا ایک پیالہ پی کر واپس چل پڑتے۔ بیٹی کے گھر رکنا یا کھانا پینا معیوب سمجھتے تھے۔ ایک بار خربوزے دینے آئے تو شام ڈھل چکی تھی۔ اُن دنوں ایک بھیڑنی کے قصے بڑے مشہور تھے۔ رات کو کئی راہگیروں پر حملہ کر کے انھیں زخمی کر چکی تھی۔ اس لیے نانی نے کہا کہ رات کو نہ جائیں مبادہ بھیڑنی انھیں نقصان پہنچائے۔ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی اور کلہاڑی پر ان کے ہاتھوں کی گرفت سخت ہو گئی جیسے اندر ہی اندر انھوں نے کوئی فیصلہ کر لیا تھا۔ امی بتاتی تھیں کہ انھوں نے جلدی جلدی پانی پیا، اپنے ایک ہاتھ پر چادر کو مضبوطی سے لپیٹا، دوسرے ہاتھ میں کلہاڑی پکڑی اور تیزی سے واپس روانہ ہو گئے۔ راستے میں بھیڑنی نے سچ مچ ان پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے چادر والا ہاتھ آگے کیا۔ جونہی بھیڑنی نے اس پر اپنے دانت گاڑے دوسرے ہاتھ سے کلہاڑی کے زوردار وار سے اس کی گردن کاٹ دی۔ اگلے دن سارے علاقے میں ان کا یہ کارنامہ مشہور ہوگیا۔ میں نے فاتح نظروں سے فوزان کی طرف دیکھا جیسے بھیڑنی کو امی کے نانا نے نہیں میں نے مارا ہو، لیکن وہ نیند کی جھپکی میں تھا۔ اچھا ہی ہوا ورنہ وہ کلہاڑی اٹھتے ہی چیخ اٹھتا نانا ابو اسے مارنا نہیں اور ممکن ہے اس کی آواز سے امی کے نانا کا اٹھا ہوا ہاتھ رک جاتا اور بھیڑنی اصل میں تو نہیں کہانی میں انہیں زخمی کر دیتی۔

میں سوچنے لگا کہ وہ لوگ واقعی بہادر تھے جو دوسروں کا سفر اور راستے محفوظ بنانے کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے تھے جبکہ ہم جیسے نظریاتی بزدل، قانون پسند پُرامن شریف شہری، معیشت، سماج اور صارفیت کے جبر میں جکڑے ہوئے اپنے جائز حقوق کا دفاع بھی نہیں کر سکتے۔ انسانی بھیڑیے اور بھیڑنیاں ہمیں نوچتی رہتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے وسوسوں اور سوچوں سے بے نیاز فوزان ہونٹوں پہ ایک ملکوتی مسکراہٹ لیے گہری نیند سو رہا تھا۔

Categories
شاعری

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے
اور پھیلتی چلی جاتی ہے
کبھی نہ ختم ہونے کے لیے
وہ کتنے خوش رہتے ہیں
جو بظاہر مِل کر بھی در اصل نہیں مِلتے
اور دلوں میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے
دل کا دل سے
روح کا روح سے
اور شریر کا شریر سے ملنا
یہ سب تنہا ہونے کے جتن ہیں
پتا نہیں
زندگی تنہائی کے بغیر ادھوری ہے
یا تنہائی زندگی کے بغیر
لیکن ہم جہاں جاتے ہیں
اپنی تنہائی ساتھ لے جاتے ہیں
اور جہاں ٹکتے ہیں
یہ ہمارے بیچ یا کہیں آس پاس
کنڈل مار کر بیٹھ جاتی ہے
گاہے زیادہ
گاہے کم ہونے سے
تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟
کبھی تم نے دیکھا ہے
خوابوں سے آگے کا منظر
جہاں چاند تاروں سے روٹھی ہوئی
رات اپنے برہنہ بدن پر
سیہ راکھ مل کر
الاؤ کے چاروں طرف ناچتی ہے!

کبھی تم نے جھانکا ہے
پلکوں کے پیچھے
تھکی نیلی آنکھوں کے اندر
جہاں آسمانوں کی ساری اداسی
خلا در خلا تیرتی ہے!

کبھی تم اک دن گزارا ہے
رستوں کے دونوں طرف ایستادہ
گھنے سبز پیڑوں کے نیچے
جہاں دھوپ اپنے لیے
راستہ ڈھونڈتی ہے!

کبھی تم نے پوچھا ہے
چلتے ہوئے راستے میں
کسی اجنبی سے
پتا اس کے گھر کا
ہوا جس کے قدموں کے مٹتے
نشاں چومتی ہے
نگر در نگر گھومتی ہے!
Categories
شاعری

ابعادیت

ابعادیت
ایک ہی جانب چلتے چلتے
کتنی عمریں بیت گئی ہیں
دس جہتوں میں کون چلے گا
بُھر بُھر کرتی جسم کی مٹی
اس آوے میں کون جلے گا
کوئی محدؔب کوئی مجوؔف
کس چہرے میں عکس ڈھلے گا
کھڑکی کے اُس پار کا منظر
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
اب اُس خواب کی چنتا کیسی
آنکھیں جس کو دیکھ چکی ہیں
اس جیون کا اقلیدس کیا
سانسیں جس کو ریکھ چکی ہیں

Image: Barbara Licha

Categories
شاعری

میں کیا اوڑھوں؟

[blockquote style=”3″]

عارفہ شہزاد کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
تم نے کیا پہنا ہوا ہے؟
اک بساند بھراقہقہہ؟
مت ہنسو
اجنبی قہقہے کراہنے لگتے ہیں
اس میں ایک کھوکھلے قہقہے کا سُر
سب سے اونچا ہے
ارادتا”لڑھکائے ہوئے قہقہے
سماعت کا راستہ نہیں بھولے
مگر بھول گئے ہیں
پچھلے برس
یا اس سے پچھلے برس۔۔۔
یاد نہیں کیا تھا
بس ایک ہیولی’
تھرتھراتا رہتا ہے
جاگتے رہتے ہیں ہونٹ
نہیں جاگتی مسکراہٹ
چھوٹی چھوٹی باتوں میں
کیا رکھا ہے؟
خوابوں کی کھرچن
ناخنوں میں پھانس بن کر چبھنے لگے
تو نیند کا ذائقہ بھول جاتا ہے
نیند میں دیکھے ہوئے خواب
ہر روز تکرار نہیں کرتے
کھلی آنکھ میں خواب دھرے رہو
اور کچھ مت دیکھو
سامنے کیا ہے؟
اردگرد کی دیواروں کا
اندازہ نہیں کیا جا سکتا
جب تک ان کے درمیان کے راستے پر
بار بار پاوں نہ دھرے جائیں
اندر کی آوازوں کو دبانے کے لیے
رات کی کھڑکی سے باہر
خلا میں قدم رکھ کر
ساکت کھڑے رہنا پڑتا ہے
تمہاری طرح۔۔۔!
تم جو چاہو کر سکتے ہو
تم جلتا دن اوڑھ سکتے ہو
میں کیا اوڑھوں؟

Image: Hayv Kahraman

Categories
شاعری

سرمائی بارش میں بحرِ ابدیت کی جانب

[blockquote style=”3″]

نصیر احمد ناصر کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
سرمائی بارش میں بحرِ ابدیت کی جانب
شاعر: نصیر احمد ناصر

سرمائی بارش کی آواز
زمانوں دُور لے جاتی ہے
آبائی راستوں سے گزرتے ہوئے
قدموں کی آواز سنائی نہیں دیتی
وقت زمین کو آگے کی طرف دھکیلتا رہتا ہے
لیکن مٹی اپنی جگہ نہیں چھوڑتی
ایک مکان سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے تک
ڈمپر اور مشینیں تھک جاتی ہیں
گزرے وقتوں کے خلا نہیں بھرتے
سفالینہ کا رنگ تہذیبوں کی طرح گہرا
اور صحنچی میں لگی اینٹوں سے زیادہ پختہ ہوتا ہے
درختوں اور فصلوں کی شاعری
صرف ہوا پڑھ سکتی ہے
جو دروازوں، دریچوں، درزوں
اور دلوں سے
دبے پاؤں گزرتی ہے
یا رنگین چونچوں اور پروں والے پرندے
جو رات کے گھنے جنگلوں میں
صبح دم چہچہانے کے لیے
دم سادھے پڑے رہتے ہیں
دن بھر دانہ چگتے، جفتی کرتے
اور گھونسلوں اور کھوڑوں میں انڈے سیتے ہیں
یا ارضیہ جیسی کوئی چیز
جو اندر ہی اندر سر سر کرتی
عمروں اور لفظوں کی خاموشی تک چاٹ جاتی ہے
اور بچے کمروں میں
اندھیرے کی لوری سن کر
جھوٹ موٹ آنکھیں بند کر لیتے ہیں
اور خدا اور باپ دونوں تنہا ہوتے ہیں
جو غیر مرئی اونگھ میں بھی جاگتے رہتے ہیں
دکھائی نہ دینے والے آنسوؤں کی چاپ
سنائی دیے بغیر آتی رہتی ہے
اور پانی بند کھڑکی کے شیشوں پر
بے آواز گرتا چلا جاتا ہے
اور بارش ہوتی رہتی ہے
دیر تک اور دور تک
اور ایک درد کا دریا
بحرِ ابدیت کی جانب بہتا رہتا ہے
اور زمانے گزرتے چلے جاتے ہیں
آتش دان کے پاس
جھولا کرسی (راکنگ چیئر) پر
کوئی جھولتے جھولتے سو جاتا ہے!
Categories
شاعری

دکھ گوتم سے بڑا ہے

دکھ گوتم سے بڑا ہے
دکھ برگد سے گھنا ہے
دھیان کی اوجھل تا میں
گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ کا انکھوا عورت کی کوکھ سے پھوٹتا ہے
وہ عورت ہی تھی
جس نے اسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا
اور وہ بھی
جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا
عورت تھی
اور حالتِ مرگ میں اسے
دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی ایک عورت تھی
وہ، کپل وستو کا شہزادہ
دو پہیوں پر چلتی بیل گاڑی
اور گاڑی وان کو دکھ سمجھتا رہا
اور بڑھاپے، بیماری اور موت پر
قابو پانے کی کوشش کرتا رہا
لیکن اتنا نہ جان سکا
کہ گیان دھیان انچاس دنوں کا نہیں
ساری عمر پر محیط ہوتا ہے
اور عرفان و آگہی کا دریا
حقیقی زندگی کے کناروں سے پھوٹتا ہے

گوتم نے غزہ نہیں دیکھا
وہ عراق، افغانستان اور شام نہیں گیا
اُس نے تو کراچی اور کوئٹہ بھی نہیں دیکھے
بوری بند لاشیں
اور خود کش دھماکوں میں اُڑتے ہوئے
انسانی اعضا نہیں دیکھے
بحرِ متوسط کے ساحل پر اوندھے پڑے ہوئے ایلان کردی
اور دریائے ناف کے کنارے
کیچڑ میں لت پت شو حیات کو نہیں دیکھا
افریقہ میں دودھ سے عاری ڈھلکی ہوئی سیاہ رنگ چھاتیاں
اور مرتے ہوئے آبنوسی ڈھانچے نہیں دیکھے
گوتم نے عظیم جنگیں
اور آبدوزوں میں مرنے والوں کی آبی قبریں نہیں دیکھیں

گوتم نے مارکسی ادب نہیں پڑھا
وہ پانچ اور سات ستارہ ہوٹلوں کا دربان بھی نہیں رہا
ورنہ نروان کے لیے کبھی فاقے نہ کرتا
آج گوتم اگر زندہ ہوتا
تو دکھ کا انتم سرا کھوجتے ہوئے
واڈکا پی کر
کسی غیر ملکی محبوبہ کے نیم برہنہ پہلو میں
شانتی کی نیند سو رہا ہوتا !!
Categories
شاعری

دیہاتیوں کا گیت

دیہاتیوں کا گیت
ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہمارے خوابوں کے پیٹ کبھی نہیں بھرتے
چاہے ہم زندگی بھر نیند پھانکتے رہیں
شہروں میں تنہا ہوتے ہوئے بھی خوش رہنا
ہمارا المیہ نہیں جینیاتی مجبوری ہے
ہم ملاقاتوں کے اتنے حریص ہوتے ہیں
کہ ملنے والوں کی آنکھیں بھی
بسکٹوں کی طرح چائے میں ڈبو ڈبو کر ہپ کر جاتے ہیں
درخت اور جھاڑیاں
ہمارے جسموں پر اگی ہوئی
اور فصلی بوٹیاں
دور دور تک ہمارے اندر پھیلی ہوتی ہیں
اور آکاس بیلیں
ہماری روحوں سے لپٹی
ہماری ہریالی پر پلتی رہتی ہیں

ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم ہر حال میں زندہ رہتے ہیں
اور موت کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے
خدا کو عینی گواہ بنا لیتے ہیں
اور عمر بھر ضمانتوں پر ہوتے ہیں
اور گھروں کے دروازے اونچے رکھتے ہیں
تا کہ ہوا سیدھی گزر سکے
اور ہسپتالوں میں جانے سے گبھراتے ہیں
اور میتیں سرد خانوں کے بجائے
برآمدوں اور دالانوں میں رکھتے ہیں
اور ہماری عورتیں
محرابوں اور ستونوں کے ساتھ لگ کر آنسو بہاتی ہیں
اور ناشتوں میں انڈوں اور پراٹھوں کے انبار لگا دیتی ہیں
اور مرنے والوں کی یادیں
ابھاروں کی طرح سینوں سے لگا کر رکھتی ہیں

ہم دیہاتی لوگ ہیں
جہاں ہم ہیں
وہاں آسمان کم اور زمین زیادہ ہے
کھیت، پگڈنڈیاں اور راستے ہیں
ٹبے، کھائیاں، پڑیاں اور ٹھیکریاں ہیں
کیکروں، پھلاہیوں اور بیریوں کی چھدری چھاؤں میں
سمٹ کر سوئی ہوئی دوپہریں ہیں
دائمی انتظار میں حنوط کی ہوئی ملگجی شامیں ہیں
اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیے مارتا بچا کھچا وقت ہے
ہم دیہاتی لوگ ہیں
شام و پگاہ کا تصور ہم سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا
رات اگر آنکھوں سے دیکھی جا سکتی
تو ہم سے بینا کون ہے
یہ تو دلوں، دروازوں، دریچوں اور گلیوں سے گزرتی ہے
اور اساروں پساروں میں پھیل جاتی ہے
اور دن اگر طلوع ہوا ہو
تو ہم عینک کے بغیر بھی اسے دیکھ لیتے ہیں

ہم دیہاتی لوگ ہیں
گاؤں کی دھول اور درختوں کی چھال
ہر جگہ ہمارے ساتھ رہتی ہے
مٹی کا قرض یک مشت ادا ہوتا ہے
اسے قسطوں میں نہیں اتارا جا سکتا
یہ وہ کھاتہ ہے
جس میں جانے کتنے قرنوں کے ڈپازٹس ہیں
صدیوں کے واؤچر ہیں
تہذیبوں کے ورثے ہیں
کتبے اور نسب نامے ہیں
زمان و مکاں کا جمع خرچ ہے
تاریخ کے پنے ہیں، مزروعوں کے رجسٹر ہیں
خاندانوں کے خسرے ہیں، کھیوٹ اور کھتونیاں ہیں
مواضع اور پٹوار خانے ہیں
جسموں، روحوں، رشتوں، خوابوں اور یادوں کے بٹوارے ہیں

ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم جانتے ہیں
دھرتی ہم سے اور کچھ نہیں
ہمارے کالبوت واپس مانگتی ہے!

Image: Jitish Kallat

Categories
شاعری

قبریں

قبریں
قبریں ہی قبریں ہیں
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں

تازہ، پھولوں سے اٹی
بوسیدہ، گھاس اُگی
کچی، پختہ
نام آور، بے کتبہ
ہر نوع کی، ہر قامت کی
نو گز کی، بالشت سی
دبلی پتلی، فربہ، ڈھڈو
نو پیدا، ننھی منی، بوڑھی بُوبک
سیدھی، ٹیڑھی، کبڑی، ہموار، مسطح
بے دیپ، اندھیری، شب گوں
روشن اور کشادہ
زندہ، مردہ
لاوارث، پوشیدہ
مغوی، قاتل، ریپ ہوئی، مقتولی
عالی شان مزاروں والی اور معمولی
ہر جانب قبریں ہیں

سڑکوں پر فراٹے بھرتی
دفتروں اور گھروں میں
بازاروں، ریستورانوں اور پلازوں میں
ہر جانب قبریں ہیں
دیمک کھائے کہنہ رشتوں کی چُپ اوڑھے
بارش میں بھیگتی، دھوپ میں جلتی،
رات میں ڈوبی
مرگیلی آوازوں اور جنازوں کی بھیڑ لگائے
آیتوں اور دعاؤں کی تقدیس جگائے
اپنے اپنے مردے اٹھائے
مفرد اور مجموعی،
ہر جانب قبریں ہی قبریں ہیں!!