Categories
گفتگو

آزاد کشمیر کتنا آزاد ہے؟

[blockquote style=”3″]

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حوالے سے یہ دعویٰ عام ہے کہ یہاں ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مقابلے میں زیادہ سیاسی آزادی موجود ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ولا نے عارف جمال سے ایک انٹرویو کیا ہے جسے یہاں ترجمہ کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔ عارف جمال پاکستان اور اسلام پسندی کے ماہر ہیں۔ آپ نے امریکہ میں مقیم ہیں۔ عارف جمال “Call For Transnational Jihad: Lashkar-e-Taiba, 1985-2014.” سمیت کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

[/blockquote]

پاکستانی حکام ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں موجود نسبتاً زیادہ سیاسی آزادی کا اکثر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر گزشتہ چند ہفتوں سے تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ ہندوستانی حکام ریاست میں علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم کیے ہوئے ہے۔ برہان وانی کی ہلاکت سے اب تک وادی میں 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ برہان وانی کا تعلق 1990 سے برسرپیکار سب سے بڑے باغی گروہ حزب المجاہدین سے تھا۔

 

ہندوستان پاکستان پر اپنے زیرانتظام کشمیر میں باغیوں کو تربیت دینے اور انہیں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہندوستانی کشمیر میں بھیجنے کے الزامات عائد کرتا آیا ہے۔
ہندوستان پاکستان پر اپنے زیرانتظام کشمیر میں باغیوں کو تربیت دینے اور انہیں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہندوستانی کشمیر میں بھیجنے کے الزامات عائد کرتا آیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ ان الزامات سے انکار کیا گیا ہے۔ 1947 میں آزادی کے بعد سے اب تک دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کے مابین ہونے والی تین میں سے دو جنگیں کشمیر پر ہوئیں۔ دونوں ممالک ہی کشمیر کے کچھ حصے پر قابض ہیں اور دونوں ممالک پورے کشمیر پر اپنا حق جتاتے ہیں۔

 

ہندوستانی کشمیر کی ابتر صورت حال، پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی انتخابی مہم کا اہم موضوع رہی۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو اور تحریک انصاف کے عمران خان سمیت کئی ممتاز پاکستانی سیاستدانوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ ان رہنماوں نے اپنی تقاریر کے دوران تنازع کشمیر پر ہندوستانی حکومت کے طرزعمل اور ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں سیاسی آزادی کے فقدان پر شدید تنقید کی۔ پاکستانی جہادی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید نے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلح باغیوں کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔

 

امریکہ میں مقیم پاکستان اور اسلام پسندی کے ماہر عارف جمال کا ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ نئی دلی پر کمشیریوں کو سیاسی آزادی نہ دینے پر پاکستانی سیاستدانوں اور اسلام آباد کی تنقید غیر منصفانہ ہے، کیوں کہ پاکستان اپنے زیرانتظام کشمیر کا نظم و نسق بھی اسی جابرانہ انداز میں چلا رہا ہے۔ جمال کا کہنا تھا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی یونہی مذمت کی جانی چاہیئے۔

 

ڈی ڈبلیو: پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں انتخابات اور انتخابی عمل کس قدر آزاد اور منصفانہ ہے؟

 

اگرچہ پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں ایک “آزاد” حکومت موجود ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس پر پاکستانی فوج قابض ہے۔
عارف جمال: اگرچہ پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں ایک “آزاد” حکومت موجود ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس پر پاکستانی فوج قابض ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی حکومت اسلام آباد حکومت کی ہدایات کے مطابق چلائی جاتی ہے اور قانون ساز اسمبلی وہی قوانین بناتی ہے جو پاکستانی حکام کے لیے قابل قبول ہوں۔

 

“آزاد کشمیر” کے انتخابی کمیشن میں بھی وہی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں جو پاکستانی حکام کے لیے قابل قبول ہوں۔ کسی بھی ایسے سیاسی گروہ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی جو پاکستانی کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرے۔

 

اگرچہ پاکستانی قوانین کا اطلاق کشمیر کی سرزمین پر نہیں ہو تا لیکن پھر بھی اسلام آباد کی حکومت کشمیر کے معاملات میں مسلسل دخل اندازی کرتی رہتی ہے ۔ 1947 میں آزادی کے بعد ابتداء میں پاکستانی سیاسی جماعتوں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی بھی اجازت نہیں تھی۔ یہ صورتحال 1970 کی دہائی میں تبدیل ہوئی جب قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو کشمیر کی سیاست اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ نتیجتاً آج کشمیر کی چار بڑی سیاسی جماعتوں میں سے تین پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں کی ہی شاخیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ہر جماعت یہ ثابت کرنے کی کوشش کر تی ہے کہ وہ پاکستانی فوج اور سول انتظامیہ کی، دوسری جماعتوں سے بڑھ کر وفادار ہے۔

 

ڈی ڈبلیو: کیا پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی آزادی کے فقدان پر تنقید درست ہے، جبکہ آپ کے کہے کہ مطابق خود اس کے زیرانتظام کشمیر میں ایک جعلی سیاسی نظام موجود ہے؟

 

ہندوستان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہے۔
عارف جمال: میرا خیال ہے کہ ہندوستانی کشمیر میں بسنے والے لوگوں کو اتنی ہی سیاسی آزادی حاصل ہے جتنی بقیہ ہندوستان کے لوگوں کو میسر ہے۔ کشمیر ہندوستانی یونین کا آئینی حصہ ہے، اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کشمیریوں کو آئینی حقوق حاصل ہیں۔ بہت سے کشمیری کہیں گے کہ انہیں ہندوستانی آئین کی شق نمبر 370 کے تحت غیر کشمیریوں سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں اس آزادی کے خلاف ہیں اور آئین کی اس شق کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

 

ڈی ڈبلیو: ہندوستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ آپ ہندوستان کے اس دعوے کو کتنا درست سمجھتے ہیں؟

 

عارف جمال: ہندوستان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہے۔ زیادہ تر کشمیری جہادی تنظیموں کے تربیتی کیمپ پاکستان علاقوں یا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں واقع ہیں۔ کشمیر کا سب سے بڑا جہادی گروہ حزب المجاہدین، پاکستان کی جماعت اسلامی کا مسلح دھڑا ہے۔ اس تنظیم میں پاکستانی اور کشمیری مجاہدین دونوں شامل ہیں اور یہ تنظیم پورے پاکستان میں یوسف شاہ جو پیر سید صلاح الدین کے نام سے جانے جاتے ہیں کی سربراہی میں سرگرمِ عمل ہے۔ دیگر اسلامی گروہ جیسے جماعت الدعوۃ/لشکر طیبہ بھی پاکستان اور کشمیر دونوں جگہ پر فعال ہے۔

 

1990 کے اوائل میں، پاکستانی فوجی جرنیلوں نے جہاد کشمیر کو حریت کانفرنس کی صورت میں ایک سیاسی چہرہ دیا۔ اس تنظیم کے دفاتر پاکستانی شہر راولپنڈی میں ہیں، حالاں کہ اس کی چوٹی کی تمام قیادت ہندوستانی کشمیر میں ہے۔

 

جموں و کشمیر پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا تصور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی انتظامیہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔
ڈی ڈبلیو: بعض تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ دونوں طرف کے کشمیری ہندوستان اور پاکستان دونوں سے آزادی چاہتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر ایسی کوئی تحریک نظر نہیں آتی جیسے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں نظر آتی ہے؟

 

عارف جمال: یہ دعویٰ درست نہیں (کہ پاکستان میں ایسی کوئی تحریک نہیں)، بظاہر ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آزاد ریاست کے قیام کی حمایت بڑے پیمانے پر موجود نہیں۔ جموں و کشمیر کی سابقہ شاہی ریاست کے علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کے قیام کی خواہاں جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی بنیاد 1960 کی دہائی کے وسط میں رکھی گئی تھی لیکن پاکستانی افواج نے اسے طاقت کے زور پر بری طرح کچل دیا۔ تاہم 1980 کی دہائی میں اسلام آباد حکومت نے (ہندوستانی کشمیر میں) ایک علیحدگی پسند تحریک شروع کرانے کے لیے کچھ عرصہ جے کے ایل ایف کی حمایت اور سرپرستی کی، تاہم 1990 کی دہائی میں یہ حمایت بھی واپس لے لی گئی۔

 

جموں و کشمیر پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا تصور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی انتظامیہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انتخابات کے دوران ایک آزاد کشمیر کے حصول کے لیے جلسے جلوس نکالنے پر پابندی ہے۔ تاہم پاکستانی کشمیری اس سیاسی صورت حال اور اسلام آباد حکومت کے سلوک سے نالاں ہیں۔ اگر آزادی کی حامی جے کے ایل ایف جیسی جماعتوں کو زیادہ سیاسی آزادی میسر ہو تو پاکستان سے آزادی کے مطالبے میں شدت آ سکتی ہے۔

 

ڈی ڈبلیو: کیا استصواب رائے کے ذریعے کشمیر کا تنازع حل کیا جا سکتا ہے؟

 

میرا نہیں خیال کے استصواب رائے یا ریفرنڈم کے ذریعے کشمیر کا تنازع حل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اسلام آباد حکومت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی خواہاں نہیں۔ پاکستان کی طاقتور فوج دفاع کے لیے خطیر رقم کا جواز رکھنے کے لیے اس تنازعے کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ یہ مسئلہ تبھی حل ہو سکے گا جب اسلام آباد میں ایک جمہور حکومت فوج کی مداخلت کے بغیر فیصلے کرنے کے قابل ہوگی۔
Categories
تبصرہ

فینٹم ؛ ایک ناکام پراپیگنڈا فلم

اگر فلم صرف ایک کام کرنے میں کامیاب رہی کہ اس نے بھارت کے مسلمانوں کے روایتی تصور کو بدلنے کی کوشش کی ہے کہ بھارت میں بسنے والے تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ یہی وہ لوگ ہیں جو لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں فلم فیٹم دیکھ لیتے تو شاید کبھی اس فلم پہ مقدمہ نہ کرتے ۔اگر ان کے وکیل نے یہ فلم دیکھی ہوتی تو وہ یہی رائے دیتا کہ حافظ جی جانے دو یہ تو اپنا ہی کام آسان کر رہی ہے
اگر حافظ سعید فلم فیٹم دیکھ لیتے تو شاید کبھی اس فلم پہ مقدمہ نہ کرتے ۔اگر ان کے وکیل نے یہ فلم دیکھی ہوتی تو وہ یہی رائے دیتا کہ حافظ جی جانے دو یہ تو اپنا ہی کام آسان کر رہی ہے ۔ان سب کو چھوڑئیے پاکستانی شام کے اخبار کے شو بز رپورٹرسے بھی اگر رائےلی جاتی تو وہ یہی کہتا کہ اس فلم پہ مقدمہ کر کے اسے اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے یہ تو شام کے اخبار میں ایک کالم سے زیادہ جگہ کی بھی حقدار نہیں ہے ۔
فلم کے پروڈیوسر ساجد نڈیا والا اور ہدایت کار کبیر خان نے کیا سوچ کریہ فلم بنائی یہ راز صرف وہی جانتے ہیں ۔اس سے قطع نظرافسوس یہ ہے کہ فلم کے سکرپٹ پہ نہ ہونے کے برابر کام کیا گیا ہے ۔کہانی میں ایسے ایسے جھول موجود ہیں جو دیکھنے والے کو بار بار تنگ کرتے ہیں ۔جیسے را چیف رائے(شبشاچی چکربارتی) کو ایک کل کے لونڈے کا لشکر طیبہ کے سربراہ کو پاکستان میں گھس کر مار نے پر اکسانا اورپھررا کے سربراہ کااس منصوبے کو اعلی حکام کے سامنے رکھ دینا بے حد بچگانہ معلوم ہوتا ہے۔ اعلی حکام کی جانب سے انکارپر وہ خود ہی اس مشن کو سرانجام دینے کے لیے ایک سابق فوجی دانیال خان کو تلاش کر لیتا ہے ۔یعنی فلم ہمیں یہ بتانے اور سمجھانے میں کامیاب رہتی ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را میں بھی ایسے روگ عناصر ہیں جو وہاں کی سیاسی قیادت کے قابو میں نہیں اور وہ خودفیصلہ کرتے ہیں کہ انڈیا کا وسیع تر قومی مفاد کیا ہے ۔چلیے اس سے یہ تو پتہ چلاکہ بھارت میں بھی ایک ایسا بیانیہ موجود ہے جس کے تحت یہ سمجھا جاتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں سیکیورٹی ادارے ہی ملک کے وسیع تر قومی مفاد کا تحفظ کر سکتے ہیں اور سیاستدان مصلحتوں کا شکار ہیں ۔ موددی سرکار کے ہوتے ہوئے ایسے بیانیے کا سامنے آنا بھی ایک اچھنبے کی بات ہے۔
ایف بی آئی اور سی آئی اے کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ ہیڈلی کو کس نے قتل کیا وہ اس کی قبر پہ فاتحہ خوانی کرکےفلم ہدایت کار کبیر خان کو شاباش دیتے ہیں کہ بھائی جان ہمیں اس قدر احمق دکھانے کا شکریہ
دوسرا بڑا جھول اس وقت نظر آتا ہے جب دانیال خان (سیف علی خان)بڑی آسانی سے لشکر طیبہ کے سب سے اہم اور خفیہ ایجنٹ کو آسانی سے تلاش کر کے گیس دھماکے میں مار دیتا ہے ۔اس حرکت پہ نہ تو ایم آئی سکس کے کان کھڑے ہوتے ہیں نہ لشکر اور نہ آئی ایس آئی کے ۔پھر یہی ایجنٹ امریکی جیل میں پہنچ جاتا ہے جہاں بمبئی دھماکوں کا مجرم” ہیڈلی” قید ہے ۔ دانیال اپنے ساتھ زہر بھی جیل میں لے جاتا ہے ۔را کی ایک مددگار کے تعاون سے جیل میں رقم بھی منتقل کروا لیتا ہے اور پھر بڑی آسانی سے پائپ پہ چڑھ کے ہیڈلی کے شاور میں وہ زہررکھ دیتا ہے ۔امریکی حکام ہیڈلی کی موت کی وجہ دل کا دورہ پڑنا خیال کرتے ہیں اور اسے بنا پوسٹ مارٹم کیے دفن کر دیتے ہیں ۔ایف بی آئی اور سی آئی اے کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ ہیڈلی کو کس نے قتل کیا وہ اس کی قبر پہ فاتحہ خوانی کرکےفلم ہدایت کار کبیر خان کو شاباش دیتے ہیں کہ بھائی جان ہمیں اس قدر احمق دکھانے کا شکریہ ۔ہیڈلی کی موت پر بھی آئی ایس آئی خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔
فلم میں بھارتی فوج کو اپنے ہی سپاہیوں کے ساتھ ناانصافی کرتے دکھایا گیا ہے ۔ہیرو دانیال خان کے پس منظر کے مطابق اس کےفوج سے نکالے جانے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے گولہ باری کے دوران بہتر گھنٹے بنا کچھ کھائے پیے لڑ نے کی وجہ سے نڈھال دانیا ل خان اور اس کے ساتھی کمک پہنچانے میں ناکام رہتے ہیں ۔ ریڈیوسگنل ڈاون ہونے کی وجہ سے پیغام بھیجنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ مجبورا ہیرو اپنے سپاہیوں کو چھوڑ کر خودمورچے سے نکلتا ہے۔ابھی وہ مورچے سے تھوڑی دور ہی جاپاتا ہے کہ ایک گولہ مورچے کو تباہ کردیتا ہے، اس دھماکے کے نتیجے میں ہیرو دانیال خان بے ہوش ہوجاتا ہے۔ ہیرو کے مطابق اسے فوج سے ذلیل کر کے اس لیے نکال دیا گیاکیوں کہ فوج کے خیال میں وہ اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر بھاگ رہا تھا۔گویا بھارتی فوج کے اندر اس قدر اہلیت بھی نہیں ہے کہ وہ سچ کو پرکھ سکتی اور اپنے سپاہی کو انصاف فراہم کر سکتی ۔ یہاں اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا کہ کس طرح یہ سپاہی دوسری بار دھوکہ کھانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے اور را کے چیف کے کہنے پر اس مشن کی حامی بھر لیتا ہے ۔ دانیال خان کا باپ بھی ہندوستانی فوج کا سابق افسر ہے اور بیٹے کی ‘بزدلی’ کہ وجہ سے اس سے بات نہیں کرتا ۔ لیکن فلم کے اختتام تک ناظر کو پتا نہیں چلتا کہ باپ کو بیٹے کی بہادری کے بارے میں پتا چلا یا نہیں اور کیا اس نے بیٹے کو معاف کیا یا نہیں؟
جوکوئی بھی فینٹم دیکھے گا اس کے ذہن میں یہ تاثر کہیں نہ کہیں ضرور موجود رہے گا کہ این جی اوز کی کترینہ کیف جیسی خوبرو دوشیزائیں انسانیت کی خدمت کے جذبے سے نہیں بلکہ را، موساد، سی آئی اے اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ کے طور پہ کام کر رہی ہیں
فلم میں این جی اوز کو بھی بلا وجہ گھیسٹا گیا ہے ۔اس سلسلے میں ڈاکٹرز ود آوٹ باڈرز (Doctors Without Borders)نے فلم پہ مقدمہ بھی کیا ۔این جی او نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی کا نام فلم میں گم راہ کن انداز میں استعمال کیا گیا ہے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے عملے کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ پاکستان میں اسامہ بن لادن کاپتہ چلانے کے لیے مبینہ طور پرسی آئی اے کی طرف سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو استعمال کیا گیا۔جس کے بعد پاکستان میں پولیو مہم کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں ۔ پاکستان میں آئے روزدائیں بازو کی جماعتیں این جی اوز کے کردار پہ اعتراضات اٹھاتی رہتی ہیں اور ان کے کارکنوں کو اکثر غیر ملکی ایجنٹ تصور کیا جاتا ہے ۔فلم نےدائیں بازو کی جماعتوں کے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے ۔ جوکوئی بھی فینٹم دیکھے گا اس کے ذہن میں یہ تاثر کہیں نہ کہیں ضرور موجود رہے گا کہ این جی اوز کی کترینہ کیف جیسی خوبرو دوشیزائیں انسانیت کی خدمت کے جذبے سے نہیں بلکہ را، موساد، سی آئی اے اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ کے طور پہ کام کر رہی ہیں ۔یہاں ہمیں کبیر خان کو پھر دادا دینی چاہیے کہ اس نے بڑی خوبصورتی سے موجودہ ہندوستانی سرکار کے نظریات کو فروغ دیا ہے۔
فلم کے پلاٹ کو ہالی ووڈ کی سنسنی خیز فلم “سیریانہ ” کے سے انداز میں ہائپرلنک تکنیک سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے ۔ہندوستان ٹائمز نے فلم کے ریویو میں لکھا کہ کتیرینہ اور سیف کی اداکاری مرجانے کی حد تک بور ہے اور اس راءے سے فلم دیکھنے والا کوئی بھی فرد انکار نہیں کر سکتا۔فلم میں امینہ بائی کا کردار جو لشکر کے بڑے دہشت گرد (لکھوی)کو مارنے کے لیے دانیا ل اور مستری کی مدد کرتا ہے اس کے کرادار کی کایا کلپ دھکے سے فلم میں ڈالی گئی ہے۔ پلاٹ کے بہت سے کھلے سرے دھکے سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے گئے ہیں جہاں مصنف کو مشکل پیش آئی اس نے اس کا آسان حل ایک نئے کردار کے معتارف کرا کے ڈھونڈ لیا اور پھر اس کے لیے ایک ایسا پس منظر بھی گھڑ لیا جس کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں تھی ۔جیسے دانیال کے بیروت جانے کی وجہ شاید یہی تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح آئی ایس آئی کی آنکھوں میں آ جائے اور را اس سے ہاتھ کھینچ لے ، اسی طرح شام میں ہونے والی مڈبھیڑ سے ہیرو اور ہیروین کے درمیان محبت کروائی جا سکے جو روایتی بالی وڈ فارمولہ تکنیک ہے۔
فلم صرف ایک کام کرنے میں کامیاب رہی کہ اس نے بھارت کے مسلمانوں کے روایتی تصور کو بدلنے کی کوشش کی ہے کہ بھارت میں بسنے والے تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ یہی وہ لوگ ہیں جو لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں
اگر حافظ سعید فلم پر مقدمہ نہ کرتے تو شاید دو سے تین شوز کے بعد فلم ڈبے میں بند کر دی جاتی ہے ۔دنیا بھر میں چار ہزارسے زائد سکرینو ں پہ ریلز ہونے کے باوجود بھی فلم کوئی خاطر خواہ کاروبار نہیں کر سکی ۔بھارت کے بڑے بڑے اخبارات اور میڈیا گروپس اپنے اپنے ریویو میں فلم کو تین اعشاریہ دو سے زیادہ ریٹنگ نہیں دی ۔فلم صرف ایک کام کرنے میں کامیاب رہی کہ اس نے بھارت کے مسلمانوں کے روایتی تصور کو بدلنے کی کوشش کی ہے کہ بھارت میں بسنے والے تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ یہی وہ لوگ ہیں جو لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں ۔اس کی وجہ شاید بمبئی حملوں کے بعد مسلمانوں پر اٹھنے والے سوالات ہیں ۔فلم کی موسیقی میں سوائے اس کے کہ ایک گانا افغان جلیبی اسرار اور اختر چنال نے گایا ہے لیکن یہ گیت بھی ناظرین کی توجہ ھاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
(لکھاری عامر رضا ایک فری لانس ڈرامہ نویس اور صحافی ہے ۔وہ جیوٹی وی کے لیے ورلڈ سینما کے پروپیگنڈا اور عالمی تعلقات پہ پروگرام‘‘ تھرٹی فائیو ایم ایم ایٹ وار ’’بھی تحریر کر چکے ہیں )۔