Categories
نان فکشن

غالب اور موجودہ عہد

موجودہ عہد کیا ہے؟ اور غالب کون ہے؟ یہ دو بنیادی سوال ہیں جن کا جواب آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ غالب ایک اردو کا شاعر ہے جو اس عہد سے دو صدی قبل پیدا ہوا اور دیڑھ صدی قبل گزر گیا۔ اس نے اردو ،فارسی میں شاعری بھی کی اور خطوط بھی لکھے۔ کچھ اس کے علاوہ بھی کیا مثلاً پنج آہنگ ، مہر نیم روز،قادر نامہ اور دعائےصباح وغیرہ کتابیں لکھیں۔غالب کی شہرت ان کے اردو دیوان کے باعث ہے جس میں کل اٹھارہ سو اشعار ہیں یا اس سے کچھ کم زیادہ۔ بادی النظر میں غالب کا یہ ہی تعارف ہےاورموجودہ عہد سے مراد جس زمانے میں ہم سانس لے رہے ہیں اور زندہ ہیں یعنی زمانہ حال ہوگا۔ لیکن اصل میں جب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ موجودہ عہد واقعتا ً کیا ہے؟ اور اس کا بھرپور ادراک کیوں کر ممکن ہے؟تو ہماری نظر موجودہ دنیا کے مسائل کی طرف جاتی ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت جو سیاسی ،سماجی ، تکنیکی ،معاشی ، اقتصادی اورروحانی وغیرہ وغیرہ حالات ہیں ان حالات کا احاطہ کیے بنا موجودہ عہد کی کوئی واضح تصویر نہیں بنتی۔ جس طرح ہم اپنے ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کر کے ایک واضح تصویر بنا سکتے ہیں اور اس عہد کے کسی ایک پہلو پر اس مجموعی منظر نامے کے پیش نظر تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ اس طرح موجودہ عہد کی ایک مرتب شکل بنانا ممکن نہیں۔ موجوہ صورت حال چونکہ ایک بہتے ہوئے دریا کی مانند ہوتی ہے لہذا اس کی کسی ٹھوس شکل کا تعین ممکن نہیں۔ پھر بھی ہم مابعد جدید صورت حال کے پیش نظر اتنا تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ آج ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں وہ جدید دنیا کے رد عمل کا عہد ہے۔ ایسا عہد جس میں نئی زندگی کے تصورات پرانے ہو چکے ہیں اور کوئی چیز جو نئی سے نئی ہو حیران کن نہیں رہی ہے۔ تکنیک اور کائناتی توضیحات کے اس عہد میں علم کا کوئی جامد تصور نہیں رہاہے ،ہر وہ چیز جو انسان کے مشاہدے میں آتی ہے وہ عین علم ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک دھوبی، پارچہ باف، کرخندار،کسان، کھڑائی،بنائی کرنے والا مزدور اور نیو ٹرونس ،الیکٹرونس اور پروٹونس کے بارے میں بتانے والا شخص سب ایک برابر ہیں۔ علم اور بصیرت کے وہ تاریخی تصورات جس کی بنیاد پر ایک عالم اور جاہل میں فرق کیا جاتا تھااوروہ ہی بنادیں کسی شخص کا طرز زندگی طے کرتی تھیں وہ سب از کار رفتہ ہوچکیں۔لہذاموجودہ عہد میں معاشی استحکام سے انسان کا طرز زندگی اور معاشرت متعین ہوتا ہےاور معاشی استحکام کا علم سے کوئی راست تعلق نہیں۔ ایسے میں اردو زبان جو ہندوستان کے سب سے بڑے تعلیم معاون ادارے U.G.Cکی فہرست میں اٹھائیسویں نمبر پر آتی ہے اس زبان کے ایک شاعر کے فلسفیانہ مباحث کی معنویت کیا ہے؟اس پر غور کرنا ذرا مشکل کام ہے۔مشکل ان معنی میں کہ اگر غالب اتنا بڑا شاعر ہے کہ اس کا ثانی دنیا کی بڑی زبانوں کے پاس نہیں یا کم سے کم درجے میں وہ ہندوستان کا ہی سب سے بڑا شاعر ہے تو اس کا ادراک سوائے اردو والوں کے اوروں کو کیوں نہیں؟ اور اگر دنیا بھر میں غالب کے عاشقین موجود ہیں تو اردو کا گراف اتنا چھوٹا کیوں ہے؟

غالب کا فلسفہ شعر کیا تھا؟ یا وہ کتنا متاثر کن ہے؟ان دونوں باتوں سے قطع نظر غالب موجودہ صورت حال میں کہاں Existکرتے ہیں یہ جاننا زیادہ ضروری ہے۔ میرا مشاہدہ غالب کے تعلق سے یہ ہے کہ غالب ہمارے درمیان موجودہ عہد میں صرف اتنا ہی ہے جتنا وہ ہماری ڈسک پر موجود ہے اور یہ صرف غالب کا ہی المیہ نہیں بلکہ یہ دنیا کے ہر بڑے ادیب و شاعر کے ساتھ موجودہ عہد کا سلوک ہے۔ خواہ اسے مثبت سمجھا جائے یا منفی۔ ہمیں یہ بات اولین صورت میں سمجھنا ہوگی کہ غالب ہوں یا کوئی اور کسی فلسفی کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنا یہ موجودہ عہد کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ غالب کے وہ تمام اشعار جو نیٹ پر مختلف حالتوں میں پائے جاتے ہیں آڈیو اور ویڈیو کی یا پھر ٹیکسٹ کی کسی شکل میں اس کو ہی دنیا دیکھتی ہے اور اتنے ہی غالب کو وہ جانتی ہے اور انہیں بنیادوں پر غالب کا تعین ہوتا ہے۔ غالب کے وہ تمام شریک کار جن میں پبلو پکاسو، ولیم شیکسپیر، لیو ٹالسٹائی، مقبول فدا حسین، کارل ماکس، ربیندر ناتھ ٹیگور اور نوم چومسکی وغیرہ شامل ہیں ،ان کا تعین بھی یوٹیوب واچ اور گوگل ہٹس سے ہی طے ہوتا ہے۔ ایسے میں غالب کا فلسفہ شعر کیا ہے ؟اس سے کسی کو بحث نہیں اور غالب ہمارا کتنا بڑا شاعر ہے؟ یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے ،بلکہ غالب کے متعلقین کے لیے اب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غالب فرنٹ پر کتنا ہے؟ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں غالب اور اقبال دونوں ایک مقام پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ لہذا اب ہم دنیا کے ان تمام متلاشیوں کو کس طرح یہ سمجھا سکتے ہیں کہ غالب کے متعلقین میں گوگل نے خواہ اقبال اور سیر سید وغیر کو شامل رکھا ہو مگر غالب کا ان سے کسی نو ع کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ہے بھی تو صرف اس میڈیم کا جس میڈیم کی معنی کے جہان میں کوئی خاص اہمیت نہیں۔

غالب اردو کا بڑا شاعر تھا۔ لیکن آج وہ اردو کا سب سے زیادہ مشہور شاعر ہے۔ایسا مشہور کے گوگل نے 27 دسمبر 2017 میں اس کا 220واں یوم پیدائش منایا اور غالب کی تصویر گوگل کے فرنٹ پیج پر اس تعارف کے ساتھ لگائی کہ:

Google on Wednesday celebrated poet Mirza Ghalib’s 220th birth anniversary with a doodle. A poet in Urdu and Persian languages during the Mughal era, Ghalib became famous for his Urdu ghazals. His poems and ghazals have been translated and recited in many languages.

لہذااس سے دنیا کو معلوم ہوگیا کہ غالب کی اہمیت کیا ہے اور اس کا فلسفہ شعر کتنا عمیق ہے۔ کیا ہم تصور بھی کر سکتے ہیں کہ ہمارے دوسرے شعرا جنہیں ہم مختلف القاب و آداب سے یاد کرتے ہیں وہ اس عزت کے لائق ہیں۔ایسی صورت حال میں مرزا رفیع سودا، خان آرزو، میر تقی میر،مومن خاں مومن ،ناسخ اور مصطفی خاںشیفتہ وغیرہ غالب سے کہیں زیادہ معمولی اور غیر اہم شاعر قرار پاتے ہیں اور غالب اردو کا وہ واحد شاعر ٹھہرتا ہے جو آرٹ کی عالمی منڈی میں اپنا چھوٹا سا دیوان لیے کھڑاہے جس کےبائیں بازو پر انیس ہیں اوردائیں پرمحمد اقبال۔

یو ٹیوب کی ہسٹری بتاتی ہے کہ 29 نومبر 2016 کو ایک نوجوان کنیڈین سنگر جسٹن بیبر کے گانے let me love youکو اپلوڈ کیا گیا تھا ، جسے گزشتہ سوا سال میں ساڑے تریپن کروڑ لوگوں نے دیکھا اور ٹرینی ڈیڈین امیریکن سنگر نکی مناج کے Anacondaکو تین برس میں تقریبا چوہتر کروڑ لوگوں نے۔اس کے بالمقابل جوہن کیٹس کی لائف اینڈ لیگسی کو ایک برس میں بائیس ہزار سات سو لوگوں نے دیکھا۔بائیو گرافی آف لیو ٹالسٹائی کو اکیس ہزار سو لوگوں نے اور غالب پر گلزار کی بنائی فلم کی غزلوں کو جنہیں جگجیت سنگ نے گایا ہے اسےتین برس میں گیارہ لاکھ لوگوں نے سنا ہے اور اگر اس میں سے جگجیت سنگھ کو نکال دیا جائے تو دیوان غالب کے پہلے سیزن کو جسے بنانا پوئیڑی والوں نے اپلوڈ کیا ہے اس کی مختلف غزلوں کو ایک برس میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان دیکھا اور سنا گیا ہےاوراس سیزن میں ان کی صرف آٹھ سے دس غزلیں شامل ہیں۔ ہندوستانی گوگل کی 2017کی ہسٹری بتاتی ہے کہ غالب پوئیٹری ، غالب شاعری،صرف غالب،مرزا غالب شاعری،مرزا غالب شاعری ان ہندی اور مرزا غالب پوئیٹری کو ہر مہینے دس ہزار سے ایک لاکھ اور غالب شعر ،غالب شاعری کو ایک ہزار سے دس ہزار کے قریب سرچ کیا گیا۔جبکہ easycounter.comکے مطابق اگست2016 سے اب تک ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں سنی لیونی کو سوا بیس لاکھ مرتبہ سرچ کیا گیا ہے۔ جس میں صرف ہندوستانیوں نے گیارہ لاکھ مرتبہ سرچ کیا۔ اس ڈیٹا سے ہمیں اس بات کی ایک ہلکی سی جھلک نظر آجاتی ہے کہ ہمارا غالب رجحان کیا ہے۔

یہ بات ہر طور سچ ہے کہ اچھے اور سچے آرٹ کو پسند کرنے والے لوگ دنیا میں ہمیشہ سے کم ہی رہے ہیں ، مگر ہم آج جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس میں رونا کمی کا نہیں ہے بلکہ زیادتی کا ہے۔ دراصل اب ہمارے پاس اتنی مقدار میں اچھا اور سچا ادب موجود ہے کہ ہم کسی ایک پر مکمل طور پر ٹک ہی نہیں پاتے۔ کسی شاعر یا آرٹسٹ کی مشکل پسندی بھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ مشکل سے مشکل ترین چیزوں سے ہم گزشتہ صدی میں دوچار ہوئے ہیں۔ مثلاً غالب کا کوئی شعر خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مابعد جدید نظریہ سے زیادہ مشکل نہیں ہوسکتا۔ جس کے دونوں سرے کبھی قاری کے ہاتھ میں نہیں آتے۔ مثلاً غالب کا ایک شعر ہے کہ:

افسوس کہ دیداں کا کیا رزق فلک نے
جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت

اس شعر میں لفظ دیداں اور دنداں میں اختلاف ہے ،بعض نے اسے دیداں لکھا ہے اور بعض نے دنداں۔ اس سے معنی پر فرق تو بہر حال پڑتا ہے مگر مجموعی صورت وہی نکل کر آتی ہے۔یہ غالب کے ایسے کلام کی مثا ل ہے جو مابعد جدید کے بالمقابل مشکل کے قریب بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے علاوہ غالب کا یہ شعر کہ :

عروج نشہ واماندگی پیمانہ محمل تر
برنگ ریشہ تاک آبلے جاوے میں پنہاں ہیں

ایسا ہے کہ اگر سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی پر لطف تو ضرور معلوم ہوتا ہے۔ اس میں ویسی ثقالت نہیں جیسی پوسٹ ماڈن امیریکن رائٹر ڈونلڈ بارتھیم کی کہانی غبارہ میں ہے۔ اس کے علاوہ غالب کو سمجھنے کے چند اصولوں پر اگر غور کیا جائے تو وہ اپنے اکثر کلام میں مشکل نظر نہیں آئیں گے۔ مثلاً غالب اپنے عہد میں عام نہیں ہونا چاہتے اس لیے لفظ کو غیر مرتب انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے یہاں معنی کی تبدیلی کا نظام ذرا سی حرکت سے واقع ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عہد کے غریب الفاظ،روز مرہ اور محاورے کا استعمال کر کے شعر کو عام اور سادہ بیانیہ سے الگ کر دیتے ہیں جس سے سامنے کی بات میں بھی لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ رعایت لفظی اور تضاد کا استعمال بھی کثرت سے کرتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ اپنے اشعار میں ایسے وقفے تراشتے ہیں جس کی وجہ سے ایک مکمل بات بنانے میں پریشانی کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے سامنے تو یہ تمام پریشانیہ بھی نہیں ہیں کہ غالب کے بہت سے شارحین موجود ہیں جہاں کوئی شعر مشکل معلوم ہوا اور ہم نے کسی نہ کسی شارح کو دیکھ لیا۔ جن میں سے زیادہ تر شارحین نے تقریبا ً ایک ہی جیسی باتیں کی ہیں۔ مثلاً نظم طباطبائی، سہا مجددی ،عبدالباری آسی،شاداں بلگرامی،سید اولاد حسن، بیخود موہانی اورحسرت موہانی وغیرہ کی شرحیں تقریبا ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ کہیں کہیں کسی نے زیادہ باتیں کہیں اور کسی نے کم۔ اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں۔ البتہ شمس الرحمن فاروقی نے تفہیم غالب میں ہر شعر پر قدر تفصیل سے بحث کی ہے۔

موجودہ عہد میں غالب کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی لغت سے ہم Familiar نہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے عہد کی زبان کو جاننا ضروری ہو جاتا ہے۔ پھر اگر اس کے عہد کی لغت کو جان بھی لو تو معلوم ہوتا ہے کہ غالب نے اپنے زمانے کی لغت کے ساتھ اپنی شاعری میں بھرپور چھیڑ چھاڑ کی ہے۔کوئی لفظ غالب کے یہاں ایسا نہیں جو ایک نوع کی سحر انگیزی کو بننے کے لیے استعمال نہ کیا گیا ہو۔ ان کا سادہ سے سادہ شعر بھی ایسا ہے کہ جس میں ذرا سی کجی ضرور پائی جاتی ہے اور یہ کجی تب نظر آتی ہے جب ہم ان کے اشعار کی معنوی فضا پر غور کرتے ہیں۔ ایسی ژولیدہ معنوی فضا ہمیں غالب کے معاصرین کے یہاں نظر نہیں آتی ،لہذا ہم غالب کو مشکل پسندی کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں۔ غالب کےاردو معاصرین تو خیر اس ژولیدگی سے پاک ہیں ہی عربی، فارسی اور انگریزی کے شاعر بھی اس سے معری ہیں۔مثلا ً علامہ فضل حق خیرآبادی ، منشی ہرگوپال تفتہ، لورڈ بائرن،جوہن کیٹس ولیم ورڈزورتھ،سیموئل کولریج اور میتھیو آرنلڈ وغیرہ کی شاعری غالب کے مقابلے خاصی سلجھی ہوئی ہے۔ لہذا غالب کی ژولیدہ مزاجی نے اسے کم دوسروں کی سہل پسندی نے زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ ابھی کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ میں نے موجودہ عہد کے ایک شاعر اسعد محمد خاں کی ایک چھوٹی سی نظم “نےٹوہوسپی ٹالٹی” پڑھی تھی۔یقین جانیے کہ مجھے ذرا بھی سمجھ میں نہیں آئی۔ عین ممکن ہے کسی اور کو آجائے۔بس نظم کے حوالے سے میں اتنا محسوس کر سکا کہ شاعر صاحب نے تاریخ ،جغرافیہ اور تہذیب کا ایک مرقع تخلیق کیا ہے جو قاری کو اپنے ادراک کے لیے ایک خاص صورت حال کی جانب بلا رہا ہے۔ غالب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ اگر آپ غالب کو پڑھنے کے شوقین ہیں اور ان کا کچھ کلام حافظے میں محفوظ بھی ہے تو وہ ایک خاص صورت حال میں من و عن ویسا ہی کھلتا ہے جیسا کہ وہ ہے۔ علاوہ ازیں معنی میں شارحین کی طرح ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے ہی کام چلانا پڑتا ہے۔

غالب کے بہت سے قارئین ان کی زندگی اور شاعری کو ملا کر پڑھتے ہیں ،تاکہ غالب کی شاعری کوسمجھنے میں آسانی ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہ طریقہ اچھا ہو،مگر میرا خیال ہے کہ غالب کی زندگی ،ان کی شاعری کو سمجھانے کے لیے نا کافی ہے ، لہذا اگر ہم غالب کی حیات کو ان کی شاعری سے الگ کر کے پڑھیں تو وہ ایک موضوع کے طور پر الگ طرح کا مزا دیتی ہے اور ان کے خطوط بھی ایسے ہی ہیں جن کو باقاعدہ ایک موضوع کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔ غالب کےمزاج میں لطیف طنز اور لطیف مزاح پایا جاتا تھا۔ اس سے ان کی شخصیت کی زندہ دلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب بات ہے کہ غالب کی زندگی اور ان کی شاعری دونوں کو پڑھ جاو تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنے نقصانات اور اپنے زخموں پرہنستا اور مسکراتا ہے۔ جتنا گہرا غم ہوگا غالب اتنے ہی زیادہ پر مسرت نظر آئیں گے۔ لہذا یہ تضاد ان کی شاعری میں ہی نہیں بلکہ ان کی ذات میں گھلا ہوا تھا۔ ایسے شخص کی باتوں کو سمجھنے کے لیے کسی قاعدے کو وضع نہیں کیا جاسکتا اس کے سمجھنے کا راز ہی شخصیت کی بے قاعدگی میں مضمر ہے۔

Categories
شاعری

متاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلوم

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

بہ نالہ دل بستگی فراہم کر
متاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلوم

 

نظم

 

اسیری ۔۔۔قدغن و زنجیر، ضبط و جبرو رسن
اسیری۔۔۔زار و زبوں ہونے کی حالت، قدغن
اسیری ۔۔۔عاجزی، تسلیم، بندگی، تسلیم

 

رہائی ۔۔۔فیل ِ بے زنجیر (1)، دوڑ، بھاگ، فرار
رہائی۔۔۔چھوٹ، سبکدوشی، استخلاص،قرار
رہائی ۔۔۔مہلت و برخاست، بریت، اطلاق
ذرائع بندش و دار و رسن سے آزادی!!

 

مگر یہ ‘غل’ جوابھرتا ہے روز رات گئے (2)
(ہر ایک حلقۂ زنجیر کا فرستادہ)
مجھے یہ یاد دلاتا ہے تسمہ پا ہوں میں!

 

متاعِ خانۂ زنجیر اک صدا ہی تو ہے
صدا بھی ایسی کہ اکراہ و حبس بول اٹھیں
مگر یہ قرآتِ خاموش مرگ آسا ہے
شنیدنی ہے یہ بانگِ اسیرِ خود ترسی

 

میں سوچتا ہوں کہ اس میں نہیں کوئی مہلت
رہائی اس سے فقط مرگِ مفاجات میں ہے!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1۔’فیل ِ بے زنجیر’ اقبال سے ماخوذ
2۔ ‘غل’ ۔۔جب جنوں سے ہمیں توغل تھا ۔۔۔۔ اپنی زنجیر ِ پا ہی کا غل تھا (میرؔ )
Categories
شاعری

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
رو برو کوئی بُتِ آئنہ سیما نہ ہوا

 

نظم

 

سب کو مقبول ہے دعویٰ، مگر ‘سب’ کی تعریف؟
گنجلک ہے کہ یہ ‘ہر ایک’ بھی ہے، ‘کُل’ بھی ہے
اور ‘مقبول’ جو ‘مانا گیا’، پیارا، محبوب
جس کو اللہ، خدا، ہستئ مطلق سمجھیں
بس فقط ایک، فقط ایک، فقط ایک عدد!

 

“دعویٰ” اک لفظ ہے لیکن اسے سمجھے گا کون!
کیا یہ ‘عرضی’ نہیں یا ناصیہ فرسائی نہیں؟
کیا یہ ‘درخواست ‘ نہیں؟
‘استغاثہ’ بھی اسی لفظ کے معنی ہیں، جناب

 

اور ‘نالش’ بھی، اگر کورٹ، کچہری جائیں
دعویٰ فرعون کے لب پر تھا خدا ہونے کا !

 

کون کرتا ہے یہ ‘دعویٰ’، کہ خدا ‘یکتا’ ہے؟
کیا خدا خود ہی یہ کہتا ہے کہ “میں یکتا ہوں!”

 

خود بھی کہتا ہے، سبھی جانتے ہیں
برملا کہتا ہے، میں پہلا بھی ہوں، آخری بھی
احدویکتا ہوں۔۔۔ فقط ایک، وحید الدنیا
‘ شِرک ‘ سے باز رہو، سمجھو یہ میرا فرمان!

 

“رو برو” ؟ کیا مطلب؟
“سامنے” کوئی نہ ہوا ؟
“کوئی” جو ایک “بتِ آئینہ سیما “ تھا۔۔۔ کون؟
آئینہ جیسا کوئی بت؟
جو ہمہ وقت خود اپنا رخِ زیبا دیکھے
اپنے آئینے میں آئینہ پھر اپنا دیکھے

 

آئینہ؟ عالمِ ناسوت ہے کیا؟
آئینہ؟ عالمِ لاہوت ہے کیا؟

 

ہاں، یہی آئینہ ہے دیکھنے والے کے لیے
اس کی خود اپنی ہی تخلیق ہے، جس میں ہر جا
وہی یکتا ہے کہ جو آئینہ سیما بھی ہے
اور خود اپنا نظارہ بھی وہی کرتا ہے!
Categories
شاعری

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

ہم کہاں کے دانا تھا، کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا (غالبؔ )

 

شاعر کا سوال
یہ کیسی حجت و برہان ، کیا سوال و جواب
کہ آسمان میں تھگلی لگائے کیا کوئی
ہزار بار تو ہم پوچھ چکے ہیں پہلے
اگر یہ ضد ہے کہ اک بار پھر سوال کریں
تو آؤ پوچھ ہی لیتے ہیں آسمان سے ہم!

 

آسمان کا جواب

 

تیز طبع تھا غالب، صاحبِ نظر بھی تھا
عارف و مفکر بھی، ہوش مند، دانا بھی
دور بین، دانشور، شوخ بھی، سیانا بھی
شاستری بھی، پنڈت بھی، فلسفی بھی ہاتف بھی
ہوش مند؟ سنجیدہ؟ معتدل؟ وہ سب کچھ تھا
آسمان میں تھگلی وہ لگا بھی سکتا تھا
ہاں، مگر ہنر مندی، داؤ گھات، کرتب، ڈھب
اس کی دسترس سے دور، غت رُبُود رہتے تھے
ہوشیاری، چالاکی، چالبازی، سازش کا
اس کی بے ریائی سے واسطہ نہ تھا کوئی!
مار کھا گیا سب سے، وہ انیلا، سادہ دل
اس میں دشمنی کیا تھی، آسمان کی، شاعر؟
بے تصنع، سادہ دل، وہ اگر سمجھتا ہے
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو!!

 

(اس نظم میں حسبِ ضرورت دو بحور کو بروئے کار لایا گیا)
Categories
شاعری

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

 

نظم

 

میں ایک ناخواندہ شخص
لایا گیا ہوں جکڑا ہوا سلاسل سے
اس عدالت میں۔۔۔
جس کا قانون، ضابطہ، دھرم شاستر
شرع و شریعت
مرے لیے حرف ِ معتبر ہے
مگر میں جاہل
گنوار، ان پڑھ
عدالتِ عالیہ کے دستور سے معّرا
جوابِ دعویٰ، بِنائے دعویٰ سے بے خبر
نیک و بد سے غافل کھڑا ہوا ہوں۔۔۔۔

 

میں ایک نا خواندہ شخص
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
یہ کس نے لکھی تھی، عالی منصب؟
کسی فرشتے نے؟ کب؟ کہاں؟۔۔۔
کوئی آدمی بھی تھا گواہِ حاضر؟
جواب کوئی تو ہو گا، لیکن
اباک، منہ بند تھا مّحرر ۔۔۔۔ سکوت ہی اس کافیصلہ تھا!

 

مگر میں جاہل، گنوار، ان پڑھ
دفاع کے اپنے سارے ہتھیار ڈال دیتا ہوں
صرف اتنا ہی پوچھتا ہوں
“مرا جو اقبالِ جرم خود آپ نے لکھا ہے
مجھے یقیں ہے، درست ہو گا
میں کتنے جنموں سے اپنے نا کردہ جرم سارے
قبول کرتا ہوا چلا آ رہا ہوں خود ہی
تو اَب بھلا اس جنم میں کیا اعتراض ہو گا !
مجھے بتائیں، مرا انگوٹھا کہاں لگے گا؟”
Categories
شاعری

کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”
گویا جبیں پہ سجدہ ءِ بت کا نشان نہیں!!

 

نظم

 

لمبی نہیں ہے سرنوشت، روداد عمر کی
قصّہ، کہانی، داستاں، نقشہ حیات کا
فہرست پاپ پُنیہ کے کرموں کی تا حیات
گویا ہو خود نوشت کوئی روزنامچہ!

 

اے منکر و نکیر، جو تم دیکھ رہے ہو
یہ ڈاری نہیں ہے مرے سہو و گناہ کی
خالی ہی اک ورق ہے، کوئی تذکرہ نہیں
میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں، لکھتا بھی تو کیا!

 

ہاں، سامنے زمیں پہ جو گہرے نشان ہیں
(شاید تم ان کو دیکھ نہیں پائے، فرشتو!)
یہ یادگار میرے ہی سجدوں کی ہے، حضور
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
اب بھی زبانِ حال سے کہتے ہیں داستان
اُن سجدوں کی جو کرتا رہا ہوں میں عمر بھر!
کافی نہیں ہے کیا مری سچی یہ سر نوشت؟
(اس نظم میں دو بحور کے امتزاج کا چلن روا رکھا گیا)
Categories
شاعری

کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتمل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!
رحمت کہ عذر خواہ لب ِ بے سوال ہے

 

نظم

 

(اس نظم میں دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

ہے یہ کمالِ فن کہ تجسس بھی ہے بہت
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!

 

یہ عذر خواہ لب کہ ہے ہشیار بھی بہت
اور چاہتا بھی ہے کہ وہ تاویل پا سکے
اور دیکھ سکے کون سا پردہ ہے درمیان
مخفی ہے جس کے پیچھے وہ آئینہ ٔ معاد
جو اس کو ‘انت کال’ سے آگاہ کر سکے
‘فرداودی کا تفرقہ’ یک دم مٹا سکے
کل کے طلوع ہونے سے کچھ قبل یہ جواب
گر اس کو مل سکے تو وہ ‘پرواز’ کے لیے
قدر وقضا کے ہاتھ میں اپنی عنان دے!!!

 

رحمت ہو مجھ پہ ،میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب کمال ہے!!
Categories
شاعری

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال
ہیں ورَق گردانی ٔ نیرنگِ یک بُت خانہ ہم

 

محفلیں: اجماع، تقریبیں،نشستیں، دعوتیں
عام مجمع؟ خاص مجلس؟ حلقہ ٔ احباب؟ جلسہ؟
کس جگہ پر؟
مندر و مسجد؟ کلیسا ؟
کوئی چوراہا؟ گلی؟ گھر؟ گھر کی بیٹھک؟
جی نہیں! جائے وقوعِ طائفہ باہر نہیں ہے۔۔۔
ذہن میں ہے!

 

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ “خیال”
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !

 

اور جب بھی
بے خطا، بے داغ، صالح، بھولا بھالا
شاعرِ محمود غالبؔ
واحد و یکتا خدا کی فردیت کو
سینکڑوں رنگوں میں ڈھلتے دیکھتا ہے
اور اس نیرنگی ٔ مشہود کو پہچانتا ہے
(تب یہی اک فکرِ فی نفسہ)
زاہدِ سالوس، جوئے باز اس کو
اس ‘ورق گرادنی ٔ نیرنگِ یک بت خانہ’ سے
محدوف کر دیتا ہے، یعنی
کثرت آرائی میں وحدت دیکھنے کی
اس کی عادت میں مخل ہوتا ہے ہر دم !
Categories
شاعری

کر گئی وابستہ ءِ تن میری عریانی مجھے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتمل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے
کر گئی وابستہ ءِ تن میری عریانی مجھے

 

نظم

 

بے لباسی من کی تھی یا تن کی؟، غالب، کچھ تو کہیئے
کیسی عریانی تھی یہ؟ سرمدؔ کی سی۔۔۔یا
‘نانگا سادھو’ کی جو اپنے
ننگے رہنے کو ’ریاضت‘، مانتا ہو؟

 

جسم تو آراستہ تھا آپ کا۔۔۔۔ پر
خوش لباسی سے مبّرا
جسم، کے اندر کہیں تھی
ایک انترآتما؟ سہمی ہوئی، ننگی بُچی سی؟

 

اور پھر وابستہءِ تن ہو کے خود کو ڈھانپنا
اس جوح، انتر آتماکی
اک نئے فاضل بدن میں
دخل یابی کی تمنا تھی بھلا کیا؟
مسئلہ آوا گون، ابداع یا کایا بدل کا
کیا کہیں تحت الشعوری رو میں بہتا
اور پھٹتا بلبلہ تھا
جس نے ایسے شعر کا چولا پہن کر
خود کو یوں ظاہر کیا تھا؟
جی نہیں یہ مانتا غالب، مبادا آپ پر بھی
بُدھّ کے رستے پہ چلنے کا کوئی الزام آئے!

 

ہاں، مگر “در پردہ گرمِ دامن افشانی” تو خود کو
“ڈھانپ” کر رکھنے کا بھی
اور “کھول” کر رکھنے کا بھی ایسا عمل ہے
جس کو ہم “گنجینہِ معنی” کہیں تو کیا غلط ہے!
Categories
شاعری

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع
گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

 

(اس نظم میں دو بحور کا اشتمال روا رکھا گیا)

 

نظم

 

موسیقیت ‘صدا’ بھی ہے اور راگ رنگ بھی
یہ ‘کُن’ کی صوت بھی ہے اور سکراتِ مرگ بھی

 

یہ “وہ صدا” ہے جس کی سماعت ہے جاں فزا
لے، تال ، سُرکی نغمگی، لفظوں کا ہیر پھیر
‘کن رس’ ہے، روح و جوع کا شیریں ملاپ ہے
ہو مرثیہ کہ حمدکہ سوز و سلام و نعت
اس کی اساس ‘گت’ ہو کہ ‘استھائی’ ہو کہ ‘کھرج’
ہو ‘لے’ میں یا ‘ولمپت’ و ‘مَدھ’، میں کہ ‘تال’ میں
اصناف میں ہو ‘دادرا’، ‘ٹھُمری’، کہ اک ‘خیال’
سب “ایک” ہیں کہ ان کی صدا “صرف” ایک ہے!

 

جو بھی ہو، یہ ’صدا‘ تو ہے لفظوں کا شعشعہ
کانوں میں رس کو گھولتی، “رس کھان”۔۔۔۔ سحر کار
ایسی صدا تو جان کے ابقا کی ہے دلیل
پھر کیوں نکلنے لگتی ہے آناً دمِ سماع
یہ جان مرے تن کے وجودی حصار سے؟

 

شاعر کا یہ سوال تو سیدھا ہے، صاف ہے
اس کا جواب بھی کوئی ٹیڑھا نہیں، جناب
غالب “خوشی میں مرنے (1) کا مضمون باندھ کر
شاید یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ فرق ہی نہیں
شعر و سخن کے ۔۔۔۔ اور موسیقی کے درمیاں!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1۔ کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
Categories
شاعری

اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ ‘یا رب’ ہا

 

نظم

 

قوافی ’رب‘ و ’تب‘، ‘مطلب’، ردیف اک صوت، یعنی ‘ہا’
عجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا
کہ ’یا رب‘ اِسمِ واحد ۔۔۔ اور ‘ہا’ اس پر
(برائے ‘جمع’ کردن ریزہ ہائے عنفی و عطفی)
چلیں ، اک عام قاری سا سمجھ کر خود سے ہی پوچھیں
کہ کیا “ربّ ہا” غلط العام ہو گا یا کہ “یا ربّ ہا”؟
کہ دونوں ہی غلط ہوں گے؟

 

چلیں چھوڑیں کہ ہم سب جانتے ہیں۔۔۔۔
اُس زمانے میں روایت ہی نہیں تھی
دونوں جانب ‘واؤ’ کے دو حرف یا “واوَین” لکھ کر
لفظ یا ترکیب یا جملے کو قلعہ بند کرنے کی!
چلیں چھوڑیں کہ ‘یا ربّ’ کو
فقط ‘یک صوت’ ہی سمجھا گیا ہے، یک نعرہ
کلمہِ تشہد!
تو “یا ربّ ہا” کو بالّسان ہی سمجھیں!

 

چلیں پیچھے؟

 

“اسدؔ کوبت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے”
یقیناً ہے!
مگر اک ’آشنائی‘ تک ہی رہتا یہ تعلق تو۔۔۔۔
یقیناً مان جاتے ہم
مگر اس پر اضافہ۔۔۔ ‘درد’ کا؟
‘درد آشنائی’؟ اور بتوں سے؟
کون بہتر جانتا ہے ایک قاری سے
کہ سچ کیا ہے، دروغِ نا روا کیا ہے!

 

“غرض” کو بھی ذرا دیکھیں
“غرض” ۔۔۔۔ تخفیف ۔۔۔۔ “غرضیکہ” کے لیے، شاید؟
چلیں، تسلیم۔۔۔۔۔
پر یہ لفظ در آیا ہے گویا بے سبب، بے معنی و مطلب!
کہ اس سے پیشتر اک شائبہ تک بھی نہیں ملتا
کہ کوئی بحث جاری تھی اسدؔ کے بت پرستی سے تعلق کی
کہ ‘غرضیکہ’ کے لیے شاعر کو تکیے کی ضرورت ہو!
“غرض” کی کیا غرض تھی یاں؟
کہو، ’بھرتی‘ کہیں اس کو؟
کہ یہ فاضل تو لگتا ہے کسی آگاہ قاری کو!

 

غلط ہے “نالہ ناقوس” ۔۔۔۔۔۔شاعر کو کوئی کیسے یہ سمجھائے
کہ اک ناقوس(یا اک ’شنکھ) کی آواز ہوتی تھی
لانے کے لیے بھگتوں کو مندر میں
خوشی تھی اس میں۔۔۔۔
کوئی رونا دھونا، نالہ کش ہونا نہیں مطلوب تھا
ناقوس کی آواز سے۔۔۔۔ یعنی
لڑائی میں سپاہی اک اسی آواز کو سن کر
ہی دھاوا بولتے تھے اپنے دشمن پر!
پجاری بت کدے کابھی وہی پیغام دیتا ہے
(پرستش کرنے والوں کو)
کہ آؤ، وقت ہے اب آرتی کا اِس شوالے میں
یہی مُلّا کا فرضِ اوّلیں ہے اُس کی مسجد میں۔۔۔۔
نمازِ با جماعت کا بلاوا، یااذاں آہنگِ شیریں میں!
تو گویا ‘نالۂ ناقوس’ میں ‘نالہ’
فقط اک غیر طلبیدہ اضافہ ہے !

 

نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ ‘یا ربّ ہا’
چلیں، ‘یا ربّ’ سے ‘ہا’ کو تسمہ پا کرنے پہ لے دے ہو چکی
اب مدعا اس شعر کا دیکھیں!

 

بہت ہیں بت پرستی کے حوالے غالب دیندار میں، لیکن
بلاغت اور طلاقت کا یہ اک نادر نمونہ، بے بدل مصرع
یقیناً سب پہ حاوی ہے!

 

“نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔” کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
ہزاروں پردہ ہائے صوت میں مخفی، مگر ظاہر
وہی آواز “اللہ ایک ہے”،(دُوجا نہیں کوئی!)

 

تو یہ ناقوس ہو۔۔۔۔۔۔ آواز بھگتوں کو بلانے کی
نمازِ با جماعت کے لیے میٹھی اذاں ہو۔۔۔۔
ایک ہی آہنگ ہے
اللہ کی توحید کا، لوگو!

 

(غالب کی فارسی غزل سے ماخوذ)
Categories
شاعری

جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

ہے وہی بد مستیءِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ
جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

 

الفاظ کی فہرست

 

عذر خواہی: حیلہ جوئی، ادعا، کچھ لیپا پوتی
عذر : عذرِ لنگ بھی، تلبیس بھی، تحریف بھی، اور
عذر:کج فہمی، غلط تشریح، ژولیدہ جُگَت، جھوٹا بہانہ!

 

نظم

 

کیسی یہ
تلطیف ہے ؟ اس استعارے کا اشارہ کس طرف ہے؟
کیا ہے وہ ؟ (یا کون ہے؟) ’’ذرّہ‘‘ کہ جس کی
داستاں بد مستیوں کی ایسے دہرائی گئی ہے
جیسے ہر کوئی اسے پہچانتا ہو!

 

ذرّہ، یعنی رائی بھر اک جسمیہ،اک برقیہ، ریزہ، تراشہ
اربوں کھربوں کے تعدد میں فقط اکلوتا خلیہ
ذرّیت، احفاد، آل اولاد، وارث ۔۔۔۔
سلسلہ موروثیت، ابنِ فلاں، ابنِ فلاں
اک فرد، یعنی آب و خاک و ریح کا پُتلی تماشا!

 

کیسی ہیں بدمستیاں یہ؟ جن کی خاطر
عذر خواہی اہم ہے اس کے لیے جو
جلوہ گر خود ہے زمیں تا آسماں ۔۔۔۔۔
جس کا ظہورہ قطعی، بیّن تو ہے پر اشہر و واضح نہیں ہے!
یہ سناتن، جاودانی، امر روپی دائمی اللہ ہے جو عذر خواہ ہے
اِس بشر، پل چھن کے باسی، آدمی کی
شیطنت کا، ناروا بد مستیوں کا!

 

کیوں بھلا؟ پوچھیں براہِ راست غالبؔ سے ہی
آخروجہ کیا تھی؟
اس لیے شاید کہ اس’بد مست‘ کا خالق وہی ہے
“جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے”
غفران کا عادی ہے جو۔۔
اور مغفرت جس کا طریقِ کار ہے۔۔۔۔
پر یہ بشارت
جانے کیوں گنجینہِ معنی کا مالک
غالبِ لفّاظ شاید دیتے دیتے رُک گیا ہے
Categories
شاعری

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مصرع

 

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام

 

نظم

 

آفرینش کب تھی غالب؟ عالمِ علوی میں کیا؟
یا کہیں باغِ جناں میں، آدم و حوّا کے بیچ؟
عالمِ لاہوت میں؟ یا عالمِ ناسوت میں؟
کیا کسی پرلوک میں یا اِس ہمارے لوک میں؟

 

اورپھر اجزائے ضربی؟ دیمقراسی سالمات؟
مادۃ العبدان۔۔۔۔ یا ذی روح اِنس و بشریت؟
عبدِ آب و گِل؟ جگت باسی منُش، بندہ، بشر؟
یا نباتاتی، خیابانی اپج، روئیدگی؟

 

کیوں زوال آمادہ ہیں یہ آفرینش کے نشاں؟
پوچھیے غالب سے اور پھر سوچئے خود بھی جناب
دائیں بائیں دیکھیے۔۔۔۔۔۔ اور غور سے پھر دیکھیے
ہے زوال آمادہ اِنس و بشریت صدیوں سے اب

 

پیش بینی “غالبِ خستہ” کا شیوہ تو نہ تھا
“شاعری جزویست از پیغمبری”، لیکن، یہ قول
منطبق اس پر بھی تھا جس نے کہا تھا شوق سے
“تھا طلسمِ قفلِ ابجد خانہِ مکتب مجھے!”
Categories
نان فکشن

بدن اور ملبوس ۔ بہم دگر متصادم (فارسی عروض اور اردو شاعری)

یہ قصہ حیدراآباد (دکن) میں میرے نو ماہ کے قیام (1964 تا 1965) کا ہے۔میں تھا تو ریسرچ اسکالر کے طور پر انڈین انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹدیز میں، لیکن میں سارا سارا دن کیمپس سے غیر حاضر رہتا اور اپنے ہم عمر دوستوں شاذ تمکنت، وحیداختر، مغنی تبسم وغیرہ کی سنگت میں رہتا۔ دس بارہ برس پہلے پنجاب یونیورسٹی سے اپنے ادیب فاضل کا کورس کرنے کے دنوں میں ہی میں نے “حدائق البلاغت” کو جیسے گھول کر پی لیا تھا اور عروض پر میری گرفت استادوں کی طرح تھی۔ ڈاکٹر محی الدین قادری زورسے بات چیت اور ان سے دکن کی شاعری پر عروض کے انضباط کے حوالے سے میں نے ایک بار پھر عربی فارسی عروض اور ہندوی جملوں کی ساخت میں ایک ایسی طوائف الملوکی کی سی حالت دیکھی، جو ہر مصرع کی تقطیع میں شکست ِ ناروا کی سی حالت پیدا کرتی تھی۔ میں نے اس بارے میں دو مضامین لکھے۔ ایک نشست میں کچھ دوستوں کو سنائے اور انہوں نے میری تائید بھی کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تاریخ کا وہ دھارا جو تین چار صدیوں تک ایک جانب بہہ چکا ہے، لوٹایا نہیں جا سکتا۔ امیر خسرو کے حوالے سے کئی اور باتیں ہوئیں اور تاریخ کی اس بے رحم روش پر کئی بار رونا بھی آیا، لیکن ہو بھی کیا سکتا تھا، اس لیے دل مسوس کر رہ گیا۔

 

راشد نے یہ تمیز روا رکھی ہے کہ اگر رن۔آن لائن کا چلن ضروری ہو گیا ہے تو گذشتہ سے پیوستہ سطر کو بیچ میں سے شروع کیا جائے۔
چونکہ میں ان دنوں اردو کی آزاد نظم میں طبع آزمائی کر رہا تھا اور ن۔م۔راشد، میرا جی کے علاوہ دیگر اردو شعرا کا بغور مطالعہ کر رہا تھا۔ ڈاکٹر زور کے توسط سے جامعہ عثمانیہ کے کتب خانے سے مجھے کتابیں مل سکتی تھیں، اس لیے میں نے اس موضوع پر اپنے نوٹس سے ایک پوری ڈائری بھر دی۔

 

ایک خاص موضوع جس پر میں نے عرق ریزی کی حد تک کام کیا ، وہ اردو میں صنف غزل کے منفی اثرات کی وجہ سے آزاد نظم (یعنی بلینک ورس۔۔فری ورس نہیں، جسے آج کل نثری نظم کہا جاتا ہے ) میں “رن ۔ آن” سطروں سے لا تعلقی کا رویّہ تھا۔ طوالت یا اختصار کی بنا پر سطور کی قطع برید بہت پرانی بات نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تصدق حسین خالدسے چل کر میرا جی اور ن۔م۔راشد تک پہنچ چکنے کے بعد تک، (بلکہ مجید امجد اور اختر الایمان تک) شیوہ یہ رہا کہ اگر ایک سطر بہت طویل ہو گئی ہے اور صفحے کی چوڑائی اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ شاعر اس کو قطع کیے بغیر لکھ سکے، تو رن۔آن لائنز کے قاعدے کواس شرط پر بروئے کار لایا جائے کہ باقی کا متن پیوستہ سطر کے وسط سے شروع کیا جائے۔ ایک مثال دے کر اپنی بات واضح کرتا ہوں۔

 

اے سمندر! پیکرِ شب، جسم، آوازیں
رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو
پتھروں پر سے گزرتے، رقص کی خاطر
اذاں دیتے گئے۔
(ن۔م۔راشد: “اے سمندر”)

 

یہ بحر رمل (فاعلاتن) کی تکرار ہے۔ غور فرمایئے: اے سمندر (فاعلاتن)، پیکر شب (فاعلاتن)، جسم آوا (فاعلاتن)۔۔۔۔ [یہاں اب “زیں” کو رن۔آن کر کے پیوستہ سطر کے “رگوں میں” سے ملا دیا گیا ہے] یعنی ۔۔زیں رگوں میں (فاعلاتن)، دوڑتا پھر (فاعلاتن)، تا لہو (فاعلن) ۔۔گویا سطر کی برید اس لیے کی گئی کہ چھ (6) فاعلاتن کے بعد ’فاعلن‘ کا اختتامیہ آیا ہے، (جو کہ غزل کا وزن عام طور پر نہیں ہے)۔ لیکن راشد نے یہ تمیز روا رکھی ہے کہ اگر رن۔آن لائن کا چلن ضروری ہو گیا ہے تو گذشتہ سے پیوستہ سطر کو بیچ میں سے شروع کیا جائے۔ اسی طرح : پتھروں پر (فاعلاتن)، سے گذرتے (فاعلاتن) رقص کی خا (فاعلاتن) ۔۔۔اب یہاں “طر”، جو “خاطر” کا اختتامیہ ہے، پیوستہ سطر کے پہلے لفظ سے منسلک ہونا ضروری ہو گیا ہے، اس لیے دوسرا ٹکڑا سطر کے عین درمیان میں سے شروع کیا گیا۔ تر اذاں دے (فاعلاتن)، تے گئے (فاعلن)۔

 

ان شعرا نے رمل کے علاوہ ہزج (مفاعلین کی تکرار)، رجز (مستفعلن کی تکرار)، متدارک (فاعلن کی تکرار)، متدارک سالم (فعلن کی تکرار)، متقارب سالم (فعولن کی تکرار)، متقارب مقبوض (فعول فعلن) اور کامل (فاعلن کی تکرار) ۔۔۔یعنی لگ بھگ سبھی مروج بحور میں یہ چلن اختیار کیا۔

 

ڈاکٹر کالیداس گپتا رضا نے لکھا۔ “مجھے یقین ہے کہ فارسی عروض کی قربانی دئیے بغیر، اردو میں بلینک ورس کے لیے ‘رن آن لائنز’ کی یہ سہولیت، وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت تھی، جسے آپ نے پورا کیا ہے۔
راقم الحروف نے 1960ءکے لگ بھگ اس سے انحراف کیا تھا اور حیدر آباد میں قیام کے دوران تک لگ بھگ پچاس نظموں میں نثری جملے کی منطقی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے (سبھی متعلقات فعل کو ان کی صحیح جگہ پر مستعدی سے کھڑا رکھتے ہوئے)، رن ۔آن لائنز کو اس طور سے برید کیا تھا کہ نفس ِ مضمون گذشتہ سطر سے تجاوز کرتا ہوا، ما بعد سطر کے وسط یا آخر تک، اور بسا اوقات، ما بعد سطر سے بھی منسلک ہونے والی اگلی سطر تک flux and flow کے ناتے سے بہتا چلا جائے۔ اب یاد آتا ہے کہ حیدر آباد کا دقیانوسی ماحول اول تو آزاد نظم کو قبول کرنے کے لیے ہی تیار نہیں تھا، اس پر رن ۔آن لائن کی ‘زیادتی’؟ ظاہر ہے کہ محفلوں میں تو کم کم، مگر مشاعروں میں مجھے ہوُٹ بھی کیا گیا اور کوسا بھی گیا۔

 

اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حیدر آباد کے قیام کے بیس برسوں کے بعد جب ایک پراجیکٹ کے تحت میری تحریر کردہ ایک سو نظموں کا مجموعہ “دست برگ” چھپا تو اس پر ایک ذاتی خط میں ڈاکٹر کالیداس گپتا رضا نے لکھا۔ “مجھے یقین ہے کہ فارسی عروض کی قربانی دئیے بغیر، اردو میں بلینک ورس کے لیے ‘رن آن لائنز’ کی یہ سہولیت، وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت تھی، جسے آپ نے پورا کیا ہے۔ آنے والا مورخ جب اس کا لیکھا جوکھا کرے گا تو اردو کی آزاد نظم پر آپ کے اس احسان کو سراہا جائے گا۔” ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے کتاب کے “اختتامیہ” میں بھی یہ رائے ظاہر کی کہ اگر اس چلن پر اردو کی آزاد نظم چل سکی تو یہ قدم مستحن قرار پائے گا۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے پنے ایک مکتوب میں ایک نہایت دلچسپ انکشاف کیا۔ انہوں نے لکھا۔ “آپ کے کہنے پر میں نے ایک آدھ گھنٹہ اس بات پر صرف کیا کہ 1970 ءسے پہلے کی اپنی نظموں کو نکال کر آٹھویں یا نویں دہائی یا اس کے بعد میں لکھی گئی نظموں کے مد مقابل رکھ کر دیکھا تو واقعی یہ معلوم ہوا کہ میں نے بھی کوئی شعوری فیصلہ کیے بغیر (یعنی کلیتاً لا شعوری طور پر) اپنی نئی نظموں میں رن آن لاینز کا چلن اپنا لیا تھا، لیکن یہ بات مجھے آپ کے استفسار کے بعد معلوم ہوئی اب میں خود سے پوچھ رہا ہوں۔ ستیہ پال آنند صاحب کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے یا نہیں؟” میرے دیگر نظم گو دوستوں میں احمد ندیم قاسمی(مرحوم)، ضیا جالندھری(مرحوم)، بلراج کومل، نصیراحمد ناصر، علی محمد فرشی اور کئی دیگر احباب نے بھی اس رویے پر مجھ سے اتفاق کیا اور اپنی نظموں میں اس چلن پر صاد کیا۔

 

ماہنامہ “صریر” کراچی میں شامل ہوئے میرے ایک مضمون پر رد عمل کے طور پر ایک صاحب نے (نام بھول گیا ہوں، کیونکہ میں اپنی اس برس کی ڈائری سے یہاں نقل کر رہا ہوں) ماہنامہ “صریر”کے ہی فروری 2004 کے شمارے میں ان نکتوں کی شیرازہ بندی اان الفاظ میں کی۔ “ان تفصیلات پر بحث کے لیے کچھ اہم نکات کو دہرا دینا مناسب ہے [۱] مروج عام بحور جو سالم ارکان پر مشتمل ہوں آزاد موشح (ان کا مطلب تھا “آزاد نظم”) کی تخلیق کے لیے موزوں ہیں یا ایسی مزاحف بحریں جن کے دو ارکان کے درمیان تین متحرک حروف مل کی ایک یونٹ بنا دیں، بھی جائز و موزوں ہیں۔ [۲] آزاد نظم کے مصرع کو سطر کہنا چاہیے [۳] آزاد نظم کا کوئی مصرع خود کفیل نہیں ہونا چاہیے۔ اور [۴] صوتی اعتبار سے ما قبل مصرع کا اگلے مصرع میں انضمام ضروری ہے۔ “

 

آج بھی کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔
اس زمانے میں بھی اور آج بھی کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔اور نظم کی ‘سطر’ کو سطر ہی سمجھے، ‘مصرع’ نہیں۔ ان دو باتوں کو الگ الگ پلڑوں میں رکھ کر بھی تولنے کی اہلیت مجھ میں ہے۔

 

(الف) کیا مقفےٰ اور مسجع نظموں کی غنائیت اور نغمگی، حسن قافیہ کی سحر کاری اور بندش الفاظ نگینوں میں جڑی ہوئی شوکت و رعنائی اس صنف کو”آزاد نظم” یا “نظم معرا” سے ممتاز بناتی ہے؟

 

(ب) کیا غزل کے روایتی “فارمیٹ” سے مستعار اردو شاعروں کی یہ عادتِ ثانیہ کہ وہ نظم کی ‘سطر’ کو بھی ‘مصرع’ سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے سے وہ نظم کی آزادی، یعنی اس کے مضمون اور اس کے شعری اظہار کی لسّانی اور اسلوبیاتی تازہ کاری کی قربانی نہیں دیتے؟ اور

 

(ج) کیا مقفےٰ اور یکساں طوالت کی سطروں پر مشتمل پابند نظموں میں یا ان آزاد اور معرا نظموں میں جن میں ‘سطر’ مصرع کی صورت میں وارد ہوتی ہے، اور رن آن لائنز کا التزام اس لیے ممکن نہیں ہے کہ ‘سطر’ کے بیچ میں ایک جملے کے مکمل ہونے سے حسن شاعری کو ضرب پہنچتی ہے، ان امیجز images کی قربانی نہیں دینی پڑتی، جو رمز و ایمایت کی جمالیات سے عبارت ہوتے ہیں اور علامت و استعارہ کے حسین جھالروں والے پردے کے پیچھے سے نیمے دروں نیمے بروں حالت میں پوشیدہ یا آشکارہ ہوتے ہیں؟

 

ناظم حکمت نے طنزیہ لہجے میں پوچھا، “تو کیا ہندوستان کی اتنی قدیم تہذیب اور لٹریچر میں شاعری کا اپنا کوئی عروض نہیں ہے جو آپ اردو والوں کو ایک بدیسی زبان کے عروض پر انحصار کرنا پڑا ہے؟”
آخری بات فارسی عروض کے بارے میں ہے جو اردو کے گلے میں ایک مردہ قادوس Albatross کی شکل میں لٹک رہا ہے۔ (استعارے کو سمجھنے کے لیے کالریج کی نظم The Ancient Mariner دیکھنی پڑے گی)۔۔۔مجھ جیسے کم فہم اردو دان کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ صوتی محاکات کے حوالے سے یہ عروض اردو کی جملہ سازی کے لیے ناقص ترین ہے۔ کیونکہ عربی اور فارسی کی نسبت اردو کی جملہ سازی واحد و یگانہ ہے۔ غالب کے صرف ایک مصرعے کی تقطیع سے اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے

 

سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ۔۔۔
(فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلاتن فاعلن ۔ بحر رمل)

 

پہلے صوتی محاکات دیکھیں اور پھر تقطیع کا جوکھم اٹھائیں۔ “سب کہاں” (انحرافی استہفامیہ ) یعنی “سب نہیں”۔ “سب کہاں؟” (بشمولیت سوالیہ نشان )کے بعد اردو قواعد کی رو سے سکون، یعنی ساکن حرف کی علامت، جزم کا ہونا مسّلم ہے۔ اب تقطیع کرتے ہوئے مجھے بہت کوفت ہوئی۔ سب کہاں کچھ (فاعلاتن) یعنی (سب=فا کہاں = علا کچھ = تن) اگر نثر میں لکھا گیا ہوتا تو یہ جملہ یوں ہوتا، سب کہاں؟ کچھ۔۔۔ ‘کچھ’ ہندوی ہے اور صفت کے طور پر تعداد میں ‘چند’ کے معنی میں آتا ہے۔ “سب کہاں کچھ” کو ‘فاعلاتن’ کی ایک ہی بریکٹ میں اکٹھا کرنے سے ایک پیہم، لگاتار، دوڑ لگاتا ہوا جملہ، “سب کہاں کچھ؟” بن گیا ، اور “یعنی” سے “لا یعنی” ہو گیا۔ جملے کا باقی حصہ یہ ہے۔ “لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں”۔ اس جملے میں “لالہ و گل” کے بعد کا لفظ یعنی “میں” گرائمر کی زبان میں، ہمیشہ (ظرف مکان ہو، یا ظرف زمان)، مفعول فیہ کے بعد آتا ہے۔ یعنی “میں” کا تعلق مابعد کے لفظ سے نہیں، بلکہ ما قبل کے لفظ سے ہے۔ گویا “لالہ و گل میں” ایک قابل فہم جزو ہے، نہ کہ “میں نمایاں” جو کہ لا یعنی ہے۔ لیکن، اب پھر ایک بار تقطیع کریں۔ لالہ و گل (فاعلاتن) میں نمایاں (فاعلاتن) ہو گئیں (فاعلن)۔۔۔ گویا جس بدعت کا ڈر تھا، وہی ہوئی۔ عروض کے اعتبار سے ہم نے مفعول فیہ کے بعد آنے والے اور اس سے منسلک لفظ “میں” کو اس سے اگلے لفظ کے گلے میں باندھ دیا۔ عروض کی ضرورت تو پوری ہو گئی لیکن جملے کا خون ناحق ہو گیا اور اس قتل عمد کی ذمہ داری ان سب پر ہے جنہوں نے ہندوی چھند اور پِنگل سے منہ موڑکر فارسی عروض کواپنایا۔

 

ایک سچا واقعہ یاد آتا ہے جولندن میں محترمہ زہرہ نگاہ کے گھر میں بیٹھے ہوئے فیض احمد فیض سے سنا، (اور شاید مرحوم فیض نے کہیں لکھا بھی ہے) کہ ترقی پسند مصنفین کی ایک کانفرنس میں جب فیض ترکی کے شہرہ آفاق شاعر ناظم حکمت سے ملے تو باتوں باتوں میں (ترکی زبان پر فارسی کا اثر دیکھتے ہوئے)، بزعم خود فیض نے کہا کہ اردو شاعری فارسی عروض کے مطابق لکھی جاتی ہے تو ناظم حکمت نے طنزیہ لہجے میں پوچھا، “تو کیا ہندوستان کی اتنی قدیم تہذیب اور لٹریچر میں شاعری کا اپنا کوئی عروض نہیں ہے جو آپ اردو والوں کو ایک بدیسی زبان کے عروض پر انحصار کرنا پڑا ہے؟” یہ سوال سن کر فیض کی جو حالت ہوئی ہو گی وہ مجھ پر عیاں ہے۔
Categories
شاعری

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

اس سلسلے کی مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
شعر

 

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

 

نظم

 

’دونوں جہان‘ کیا ہیں؟ یہاں کے کہ وہاں کے؟
دنیا و مافیہا ہیں کہ محسوس و لا محسوس؟
فطری ہیں کہ خاکی ہیں؟ کہ ایتھر (ether) ہیں کہ صوری؟

 

کیا زیرِ فلک سمک ہے یعنی کوئی پاتال؟
یہ ’دونوں جہاں‘ ہیں بھی کہاں؟ دیکھنا یہ ہے
شاعر کے تصّور میں کہیں
ان کا مکاں اور زماں
حاضر و موجود بھی
اور مخفی و پنہاں بھی ہے اس اپنے جہاں سے؟

 

‘سمجھے’ سے کیا مقصود ہے؟
اک صاف، سیدھی بات؟
یا صرف ’شُبہ‘؟ صرف ’تاثر‘؟
’وہ‘ کون ہے جو ’جمع‘ کے صیغے میں ہے مرقوم؟
کیا ایک ہے؟
یا ایک سے زائد ہے وہ موصوف؟
(اللہ! مجھے بخش!)
غالب تو سخنور ہے، سمجھتا ہے سخن میں
(خالق کے لیے ’جمع‘ کا صیغہ نہیں ہوتا!)
شاید سمجھنے سے ہی کھلے ’سمجھے‘ کا عقدہ!
دہلی کے گلی کوچوں کی ’ٹکسالی‘ زباں میں
”وہ سمجھے ہے“ شاید ہو یہ جملے کا مخفف
اک گردشِ معکوس ہے ”سمجھے“ کی حقیقت !
کیا واقعی یہ صیغہ واحد میں ہے، اللہ!
“گنجینہِ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے!”

 

اب آئیں، ذرا دیکھ لیں دو سادہ سے الفاظ
جانچیں تو ذرا ”شرم“ یا ”تکرار“ کی قیمت!

 

شاعر کہ اک مسکین طبع شخص تھا اور بس
تھا عجز کی اک مورتی یہ بے ریا انسان
یا ضبط و متانت کی تھا تفسیر سرا سر
اللہ سے خیرات کا طالب یہ بھکاری
اس وقت تو خاموش رہا، سِمٹا ہوا سا
ہاں چار عناصر کا دھڑکتا ہوا یہ بُت
اللہ کا ہی روپ تھا یہ بھولتا کیسے!

 

وہ چاہتا تو اپنا سرِ عجز جھکاتا
پھر سجدے میں گرتا
تعظیم سے پھر کہتا، “یہ کافی نہیں، مولا
دونوں جہاں؟ ہاں، مگر یہ خاک بصری تو
مجھ آدمِ خاکی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے
کچھ ”نور“ کا عنصر بھی مجھے دیں، مرے معبود!”

 

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!”

 

(اس نظم میں دو بحور کا اشتراک و اشتمال روا رکھا گیا)